Fizza Batool Urdu Novels

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool – Episode 4

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool
Written by Peerzada M Mohin
محبت ایسا دریا ہے از فضہ بتول – قسط نمبر 4

–**–**–

اس نے روحینہ سے ابیہا کی بابت دریافت کیا تو وہ بولی “میں نے صبح اسکے گھر کال کی تھی اسکی امی سے بات ہوئی تھی انھوں نے کہا کہ وہ بیمار ہے.” روحینہ نے اسے بتایا. اور ولید کو نجانے کیوں سارے رنگ پھیکے لگنے لگے تھے. بارات روانہ ہوکر ہوٹل پہنچی.. شزاء اور سکندر کے نکاح کا فریضہ انجام پایا.. کھانا کھلا اور پھر کرسی بٹھائی کی رسم شروع ہوئی. الغرض سارا فنکشن گزرتا گیا مگر ولید کا ذہن ابیہا میں ہی اٹکا رہا تھا. وہ روحینہ اور علیشا کے اصرار پہ رسموں میں حصہ تو لے رہا تھا مگر اسکا دل عجیب سی اداسی کے گھیرے میں تھا. بہرحال رات دس بجے فنکشن ختم ہوا اور شزاء رخصت ہوکر انکے گھر آگئی. شکیلہ بیگم نے بہو کا شاندار استقبال کیا تھا. اور پھر کچھ رسموں کے بعد دلہن کو اسکے کمرے میں پہنچا دیا گیا. کچھ دیر بعد سب مہمان بھی ایک اک کرکے اپنے اپنے گھروں کو سدھار گئے. گھر پہ مکمل سکوت طاری ہوگیا تھا. ولید کچھ دیر اپنے کمرے میں ٹہلتا رہا پھر روحینہ کے کمرے میں چلا آیا. وہ اپنی جیولری اتار رہی تھی. علیشا بھی آج رات یہیں رک گئی تھی اور اس وقت بستر کے کنارے پہ ٹکی اپنے پاؤں دباتے ہوئے روحینہ سے باتیں کر رہی تھی.
“ارے ولید تم سوئے نہیں¿” علیشا نے اسے آتے دیکھ کر پوچھا.
“بس نیند نہیں آرہی تھی. ” ولید کہتا ہوا صوفے پہ بیٹھ گیا.
“چلیں اچھا ہے آپ آگئے ہم نے چائے بنوائی ہے سچی بڑی تھکن محسوس ہورہی ہے.” روحینہ بولی.
“میں چینج کرلوں ذرا” علیشا کہہ کر ڈریسنگ روم کیجانب بڑھ گئی. روحینہ اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کیطرف بڑھی.
“یار یہ تمہاری فرینڈ کیساتھ کوئی ایشو ہے¿” ولید نے اسے مخاطب کرکے پوچھا.
“کس کے ساتھ ماریہ کیساتھ.. ہاں وہ کافی چپکو اور چھچھوری سی ہے.” روحینہ جیولری ڈریسنگ ٹیبل کے دراز میں رکھتے ہوئے بولی.
” نہیں یار میں اسکی بات کررہا ہوں… وہ جو چھوٹی سی ہے.. انڈر کانفیڈنٹ سی..” وہ جان بوجھ کر اسکا نام نہیں لے رہا تھا.
“ابیہا کی بات کررہے ہیں¿” روحینہ نے اپنے بالوں کو جوڑے کی شکل میں لپیٹ کر کیچر لگاتے ہوئے پوچھا. ولید نے سر کو اثباتی جنبش دی.
“پتہ نہیں مگر مجھے لگتا ہے کہ کوئی ایشو ضرور ہے.کیونکہ آج اسکی امی کا لہجہ بہت کھردرا اور سخت سا تھا. اور پھر سوچنے کی بات ہے کہ ایکدم سے ابیہا اتنی بیمار کیسے ہوگئی.” روحینہ بولتے ہوئے بیڈ کے کنارے ٹک گئی.
“تمہارا کیا خیال ہے کیا ایشو ہو سکتا ہے¿” ولید نے استفسار کیا.
“اسکی فیملی کافی تنگ نظر سی ہے اسی سے ریلیٹڈ کوئی مسئلہ بنا دیا ہوگا اسکی کسی پھپھو یا خالہ نے.” روحینہ عام سے لہجے میں بول رہی تھی. ولید سر ہلا کر اٹھ کھڑا ہوا.
“بیٹھیں ناں چائے تو پی لیں.”
“نہیں میرا موڈ نہیں. تم لوگ پئیو. گڈ نائٹ” وہ پھیکی سی مسکراہٹ کیساتھ کہہ کر اسکے کمرے سے باہر آگیا تھا. اسکا دل عجیب سی اداسی محسوس کرنے لگا تھا. مگر ایک امید سی تھی اسے کہ شاید وہ کل ولیمے کے فنکشن میں آجائیگی اور وہ اس سے اسکی پریشانی کا سبب پوچھ کے گا. اس امید کا دامن تھامے وہ تھوڑا ریلیکس ہوگیا تھا.
——————-
اگلے روز پیر کا دن تھا. وہ صبح یونیورسٹی چلی آئی. پھر کلاسز لیتے ہوئے وقت گزرنے کا پتہ بھی نہ چلا. گھر واپس آکر اس نے کپڑے بدل کر نماز ظہر ادا کی. پھر کچن میں پڑے دوپہر کے کھانے کے گندے برتن دھوئے اور اپنا لیپ ٹاپ اٹھا ئے باہر صحن میں تخت پہ آبیٹھی. صبح سے اب تک لاشعوری طور پہ وہ کئی بار روحینہ کے بھائی کے ولیمے کے فنکشن کے متعلق سوچتی رہی تھی روحینہ نے اسے کتنے اصرار سے بلایا تھا. وہ ملول سی سوچے گئی. گھر میں سب قیلولہ کرنے کے عادی تھی سو وہ شام تک پڑھتی بھی رہی اور بور بھی ہوتی رہی. پھر مغرب کی نماز کے بعد اس نے امی اور دادو کو چائےبنا کر دی اور کچن میں آکر رات کے کھانے کی تیاری کرنے لگی. نیہا اسے کچن میں دیکھ کر ریلیکس سے انداز میں ٹی وی دیکھنے لگی تھی. اس نے سب سے پہلے عامر کا پسندیدہ شیر خرما بنا کر ٹھنڈا ہونے کیلئیے فریج میں رکھ دیا. پھر خوب دل لگا کر دال چاول بنائے کیونکہ رات میں گھر کے تمام نفوس ہلکا پھلکا کھانا ہی پسند کرتے تھے. ابو کے آتے ہی اس نے کھانا لگا دیا. سب خوش نظر آرہے تھے کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا. امی اور دادو کے رویوں پہ چھائی خفگی بالکل اڑنچھو ہوگئی تھی جیسے. ابیہا کو احساس ہونے لگا کہ اس نے واقعی گھر کے کاموں میں دلچسپی لینا چھوڑدی تھی جوکہ اصولاً غلط تھا. ایک خاندان میں رہتے ہوئے اگر کوئی ایک فرد اپنی الگ دنیا بسا لے تو اسکے حوالے سے اسکے بہت اپنے بھی عجیب سی غلط فہمیوں کا شکار ہونے لگتے ہیں ابیہا کو بھی یہی محسوس ہورہا تھا کہ عدم توجہی کے باعث اسنے اپنے پیاروں کو اپنے متعلق مشکوک کردیا ہے. سو اسنے سوچ لیا تھا کہ اب سے وہ اپنی فیملی کو نظرانداز نہ کریگی.
ابو اسکے ہاتھ کے ذائقے کی تعریف کر رہے تھے جبکہ امی اور دادو اسے مزید بہتر کوکنگ کرنے کے حوالے سے ہدایات دے رہی تھیں. ابیہا کو اپنی محنت رائیگاں جاتی محسوس نہ ہورہی تھی. وہ مطمئن ہوگئی تھی.
———————
ولیمے کا شاندار فنکشن آرمی میس میں جاری و ساری تھا. ہر سو رنگ و نور کی برسات تھی. شزاء اور سکندر اسٹیج پہ بیٹھے مسکرا رہے تھے. ان دونوں کا کپل بہت خوبصورت تھا اور وہاں موجود سب ہی نفوس اس پیارے سے جوڑے کی تعریف میں رطب اللسان تھے. ولید نے اسٹیج سے اترتے ہوئے پورے ہال کا ایک طائرانہ جائزہ لیا. روحینہ ہال کے آخری کونے میں اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں کھڑی تھی. وہ بے اختیار اسی طرف چلا آیا.
” روحی. بات سننا” اسنے روحینہ کو پکارا تو وہ اپنی سہیلیوں سے معذرت کرتی اسکے سامنے آکھڑی ہوئی.
“آج تو ہر لڑکی کی زبان پہ میرے بھیا کی تعریفیں ہیں” روحینہ چھوٹتے ہی بولی. سیاہ ڈنر سوٹ میں ولید کی شخصیت اچھی طرح نکھر آئی تھی اور وہ بہت وجیہہ نظر آرہا تھا.
“کم آن” وہ منہ بنا کر بولا.
“آئم سیریس بھیا. میری سب سہیلیوں کو تو آپ پہ کرش ہورہا ہے.” وہ شوخی سے بولی.
“انسان بنو.” ولید نے اسے گھور کے دیکھا.
“غصہ کیوں کررہے ہیں.اچھا مجھے کیوں بلایا ہے”.
” تمہاری فرینڈ نہیں آئی¿” اس نے لاپرواہ بنتے ہوئے پوچھا.
“آئی ہوتی تو نظر آجاتی ولی بھیا. اور آپ نے کیا صرف اتنی سی بات پوچھنے کیلئیے مجھے بلایا ہے¿” روحینہ نے مشکوک نظروں سے اسے گھورا.
” نہیں وہ سکندر بھائی کہہ رہے ہیں کہ انکے پاس آکر بیٹھو.” وہ جھوٹ بہرحال نہیں بولا تھا کیونکہ سکندر واقعی یہ بات کافی بار کہہ چکا تھا مگر روحینہ کو اپنی سہیلیوں سے گپیں لگانے سے ہی فرصت نہیں تھی.
“اچھا جاتی ہوں” وہ کہہ کر عجلت میں اسٹیج کیجانب بڑھ گئی. ولید وہاں سے ہٹ کر ہال سے باہر نکل آیا اور داخلی سیڑھیوں کے قریب رک گیا. گلاس وال کے باہر رات کا اندھیرا دھرتی پہ اپنے پنجے گاڑ چکا تھا.
“آپکے نامعقول موبائل نے میری پیشانی کا جو حال کیا ہے…” ایک چڑچڑی سی آواز اسکی سماعتوں میں ابھری تھی اسنے بے اختیار ہی پیچھے مڑ کر دیکھا. وہاں کوئی نہ تھا. گلاس ڈور کے اس پار ہال میں سب مگن اور خوش باش نظر آرہے تھے. یہ ایک ایلیٹ کلاس کی گیدرنگ تھی… اور یہاں کی ایک ایک چیز سے امارت کے رنگ جھلک رہے تھے. ماڈرن لڑکیاں زیادہ تر بغیر آستینوں والے لمبے ٹخنوں کو چھوتے فراک پہنے میک اپ سے لیس چہروں کے اطراف میں جدید طرز کے کٹے بال ڈالے ادھر سے ادھر گھوم رہی تھیں. وہ سب طرحدار تھی. پر کشش تھیں… ولید پلٹ کر ایک ایک قدم اٹھاتا سیڑھیاں طے کرنے لگا. اسکے دل میں ایک عکس تھا ایک سادہ سی لڑکی کا.. جسکے پاس نہ حسن تھا نہ ادائیں تھیں وہ عام سے عام تھی.. مگر خاص الخاص.. اسکی خصوصیت اسکی حیا تھی وہ حیا جو ان سب حسین لڑکیوں میں مفقود تھی.. حیا…جو انمول ہوتی ہے.. حیا جو مرد کیلئیے خوب مگر عورت کیلئے خوب تر ہے.. وہ حیا ابیہا کاظم کی خصوصیت تھی ایسی خصوصیت جس نے ولید حسن کے دل کو چھوا تھا. مگر وہ اس کیفیت کو سمجھنے سے قاصر تھا اسکے دل میں ایک گھٹن سی بھرنے لگی تھی. وہ بقیہ کے تمام فنکشن میں بالکل بھی انجوائے نہ کر سکا تھا. گھر آکر اس نے سیدھا اپنے کمرے کا رخ کیا. اسکا الجھا ہوا ذہن اس وقت تنہائی کا متقاضی تھا. اسنے اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی کوٹ اتار کر بیڈ پہ اچھالا. ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے بیڈ کے کنارے ٹک کر جوتے اترنے لگا
“کیوں آخر کیوں نہیں آئی وہ. ” وہ بڑبڑا رہا تھا. “آخر کیا مسئلہ ہوسکتا ہے” جوتے اتار کر اسنے ٹائی ایک جھٹکے سے اتار پھینکی.”ایٹ لیسٹ اسے وجہ تو بتادینی چائیے تھی میں دو دن سے اتنا پریشان ہوں” وہ اب سوچتے ہوئت کف اور کالر کے بٹن کھول کر بیڈ گر گیا. اسکی نظریں چھت پہ تھیں.
“مگر میں کیوں پریشان ہوں. اور اتنا پریشان ہوں کہ اپنے بھائی کی شادی کے فنکشنز بھی انجوائے نہ کرسکا. کیوں..” وہ الجھ گیا. “آخر اس نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ وہ اس دن اتنی پریشانی کے عالم میں گھر کیوں چلی گئی تھی.” اسکا دل کسی ضدی بچے کیطرح بولا. “مگر وہ مجھے کیوں بتاتی.. اور میں اسکے متعلق اتنا کیوں سوچ رہا ہوں” اسکے ذہن نے یکدم سوال کیا تھا. وقت بھی جیسے تھم گیا تھا. “میں کیوں اسکے نہ آنے کیوجہ سے اتنی بے چینی محسوس کررہا ہوں. کیا میں اسے مس کرتا ہوں.” ذہن نے دل سے سوال کیا تھا. جواب ہاں میں آیا تھا.اسکے دل کی گھٹن بڑھنے لگی. “کیا مجھے اس سے محبت ہوگئی ہے¿” ذہن نے بہت محتاط انداز میں سوال کیا تھا. اور دل نے شدومد سے اقرار میں جواب دیا تھا. ولید بےتحاشا اٹھ بیٹھا. “ابیہا سے محبت. ” وہ خود سے بولا. دل کی دھڑکنوں کو جیسے قرار آنے لگا تھا. “ابیہا… سے.. محبت”وہ رک رک کر بولا اور پھر بےاختیار ہی کھل کر مسکرادیا تھا. ذہن پہ چھائی ساری گھٹن جیسے ہوا میں تحلیل ہوگئی تھی. محبت نامی سرطان اسکی رگوں میں اتر گیا تھا.. اس احساس میں کیسی چاشنی تھی درد تھا راحت تھی.. ” ابیہا… اونہوں… بیا… ولی کی بیا..” وہ خود سے بولا تھا. اسکا دل عجب سرخوشی کے عالم میں جھومنے لگا تھا. وہ اٹھ کر گنگناتا ہوا کپڑے بدلنے کیلئے ڈریسنگ روم کیطرف بڑھ گیا.
——————-
فون کی بیل مسلسل بج رہی تھی. ابیہا نے ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا.
“ہیلو”. وہ ماؤتھ پیس میں بولی
” ہیلو ابیہا.”دوسری جانب سے روحینہ کی آواز سنائی دی تھی.
“جی میں بول رہی ہوں آپ کیسی ہیں.”
“مت بولو تم مجھ سے شادی میں کیوں نہیں آئی پتہ ہے کتنا مس کیا میں نے تمہیں.”
“مجھے بخار ہوگیا تھا. آئم سوری” وہ مدھم لہجے میں بولی
“اور اس دن مہندی کے روز کیا ہوا تھا¿ تمہاری پھپھو نے کیا کہا تھا¿”
“کچھ نہیں آپ کل یونیورسٹی آئینگی¿” وہ بات ٹال گئی
“ہاں کل سے آؤنگی. آل ریڈی بہت چھٹیاں ہوگئیں ہیں. تم جارہی ہو¿”
“جی جارہی ہوں. آپکے بھائی بھابھی خوش ہیں”
” ہاں ماشاءاللہ بہت خوش ہیں. ان فیکٹ پرسوں دونوں دوبئی جارہے ہیں گھومنے پھرنے پھر وہاں سے عمرہ کرنے جائینگے.”
“گڈ بہت اچھی بات ہے.”
” اچھا سنو ولید بھیا بھی تمہارا پوچھ رہے تھے.” روحینہ کی بات پہ اسکا دل عجیب سے انداز میں دھڑکا تھا
“اچھا” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی
“ہاں یار انکو ٹینشن تھی کہ کہیں تمہارے گھر میں کوئی مسئلہ نہ ہوگیا ہو. اس دن تم گئی بھی تو کتنی پریشانی میں تھی ”
“جی بس کل یونیورسٹی میں ملاقات ہوتی ہے.” اسنے کال بند کرنے کی جلدی تھی مبادا قیلولہ کرتے ہوئے گھر والے جاگ نہ جائیں.
“اوکے اپنا خیال رکھنا. اللّہ حافظ.”
“اللّہ حافظ”
اس نے ریسیور کریڈل پہ رکھا اور باہر صحن میں تخت پہ آکر بیٹھ گئی. گھر میں ہو کا عالم تھا. وہ بھی لیپ ٹاپ پرے کرکے لیٹ گئی. “ولید بھیا بھی تمہارا پوچھ رہے تھے” روحینہ کا یہ جملہ جیسے اسکی سماعتوں میں رس گھول رہا تھا. اسکا دل خوشگوار انداز میں دھڑک رہا تھا. وہ ہینڈسم سا انسان اس سے اتنا کنسرنڈ تھا کہ اسکی عدم موجودگی اسکو محسوس ہوتی تھی. یہ خیال ہی کتنا خوش کن تھا. ابیہا کے لب آپوں آپ ہی مسکرانے لگے.
———————
“آئی سی.. لیکن یار جب تمہارے ابو تمہاری حمایت میں ہیں تو انھوں نے تمہیں بارات اور ولیمے میں کیوں نہیں آنے دیا تھا¿” اسکی ساری کتھا سن کر روحینہ نے پوچھا.
“شاید انھیں لگتا ہو کہ خاندان سے الگ ہو کر چلنے کی کوشش کرینگے تو مشکل ہوجائیگی.” اس نے بودی سی دلیل پیش کی.
“اچھا چھوڑو بریانی کھاؤ” روحینہ نے اسکی توجہ بریانی کی طرف مبذول کروائی. اس وقت صبح کے دس بجے کا عمل تھا اور وہ دونوں اپنی اپنی کلاسز بنک کرکے کیفیٹیریا میں بیٹھی ہوئی تھیں.
“یار سکندر بھائی کی مہندی کی پکچرز بہت زبردست آئی ہیں. اور تم تو اتنی فوٹوجینک ہو. بہت پیاری پکچرز آئی ہیں تمہاری. یہ دیکھو” روحینہ نے بولتے ہوئی اپنے موبائل کی اسکرین اسکے سامنے کی. وہ واقعی تصویر میں بہت اچھی نظر آرہی تھی.
“ولی بھیا نے کل ڈیجیٹل کیمرہ سے تصویریں لیپ ٹاپ میں شفٹ کیں وہ بھی کہہ رہے تھے کہ تمہاری دوست کی پکچرز بہت اچھی آئی ہیں.” روحینہ نے بریانی کا چمچ منہ میں ڈالتے ہوئے بتایا. ابیہا کے دل نے بےاختیار ایک دھڑکن مس کی تھی.
“بس اب ممی کا ارادہ ہے کہ جلد ہی ولید بھیا کی بھی شادی کردی جائے. ویسے ممی کو انکے لئیے علیشا پسند ہے. علیشا یاد ہی ناں تمہیں.. میری پھپھو کی بیٹی جسکی بلیوآئیز ہیں” روحینہ بریانی کیساتھ انصاف کرتے ہوئی بول رہی تھین ابیہا کو وہ خوبصورت سی لڑکی یاد تھی اور وہ بھلائے جانے کے لائق بھی نہ تھی… اس نے سر اثبات میں ہلا دیا. دل میں بے نام سی اداسی اترنے لگی.
“لیکن فائنل فیصلہ تو ولی بھیا کا ہوگا. ممی بچوں پہ اپنی پسند امپوز کرنے کی قائل نہیں ہیں. سکندر بھائی کو بھی انھوں نے اپنی پسند کے انتخاب کا پورا پورا حق دیا تھا.”
“ہوں.” اس نے ٹھنڈی بریانی کا ایک چمچ منہ میں رکھا.
“ویسے میں نے سرسری سا ایکبار ولی بھیا سے انکی پسند کے متعلق پوچھا تھا مگر انھوں نے کہا تھا کہ انھیں کوئی لڑکی پسند نہیں. اسلئیے میرا ذاتی خیال ہے کہ انکو علیشا کے ساتھ شادی پہ کوئی اعتراض نہیں ہوگا.” روحینہ بولتی جارہی تھی. ابیہا کا انٹرسٹ بریانی سے بالکل ہی ختم ہوگیا تھا.
“اب تو انکی چھٹیاں بھی چند دن کی ہی رہ گئی ہیں. ممی کا ارادہ ہے کہ جانے سے قبل انکی اور علیشا کی منگنی کردی جائے. شاید ایک دو دن تک وہ ولی بھیا سے انکی رضامندی دریافت بھی کرلیں.” روحینہ بریانی ختم کرچکنے کے بعد اب کوک کیطرف متوجہ ہوگئی تھی. ابیہا صرف سر ہلا کر رہ گئی تھی.
———————–
شام کو پھپھو بمعہ زبیر بھائی چلی آئی تھیں. آج انکا موڈ خوشگوار تھا ابیہا کے سلام کے جواب میں انھوں نے مسکرا کر اسکے سر پہ ہاتھ پھیر کر “جیتی رہ میری بچی” کا اضافہ کیا تھا. ابیہا انکے لئے چائے بنانے کچن میں چلی آئی.
“امی جی بہت ہی اچھا رشتہ لیکر آئی ہوں اپنی آبی کیلئے ” پھپھو کی چہکتی آواز پہ اسکا دل ڈوب کے ابھرا تھا. وہ سراپا سماعت بن گئی.
“کیسا رشتہ¿” دادو کی آواز سنائی دی.
“جمیلہ کی نند کا بیٹا ہے.” جمیلہ’ پھپھو کی بڑی نند کا نام تھا.”دس جماعتیں پاس ہے. گوجر خان میں رہتے ہیں بڑے امیر ہیں. اپنی زمینیں ہیں. یہ بڑی حویلی ہے پیسے کی ریل پیل ہے.” پھپھو کی آواز میں موجود ایکسائیٹ منٹ ابیہا کو کچن میں بھی محسوس ہو رہی تھی.
“تو آپا لڑکا کرتا کیا ہے¿” امی نے پوچھا.
“بس زمینوں کی دیکھ بھال کر لیتا ہے اور ویسے اسے کام کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے اکلوتا لڑکا ہے ساری زمینوں کا اکیلا وارث.” پھپھو بولیں. ابیہا لرزتے ہاتھوں سے چائے کا پانی چولہے پہ رکھنے لگی.
“مگر آپا لڑکے کی تعلیم کم ہے.” امی نے اعتراض اٹھایا.
“ارے لڑکوں کی تعلیم نہیں جیب دیکھی جاتی ہے.” پھپھو بولیں. پانی ابلنے لگا تھا وہ کپکپاتے ہاتھوں سے پتی ڈالنے لگی.
“مگر آپا میری آبی ایم اے کر رہی ہے. اور وہ لڑکا صرف دسویں پاس. جوڑ تو نہیں بنتا.” امی کے انداز میں ہچکچاہٹ تھی.
“اے بھابی بیکار کے اعتراض کیوں اٹھا رہی ہو. کھاتا پیتا گھرانہ ہے لڑکا اکلوتا ہے آبی راج کریگی. تعلیم کا اچار ڈالنا ہوتا ہے کیا¿ اور آبی نے کیا شوہر سے مثنوی لکھوانی ہے.” پھپھو جھنجھلا گئی تھیں. ابیہا ابلتے ہوئے قہوے میں دودھ ڈالنے لگی.
“آپا کم پڑھے لکھے انسان کیساتھ میری بچی کا گزارا ممکن نہیں ہے کیونکہ میری بچی ایک باشعور لڑکی ہے.” ابو بھی اپنے کمرے سے اٹھ کر لاؤنج میں آگئے تھے. چائے ابلنے لگی تھی. ابیہا کپوں میں چائے نکالنے لگی.
“ایک تیری بچی با شعور ہے اور باقی سب بے شعور واہ میرے بھائی خوب بات کہی تم نے.” پھپھو چمک کے بولی. ابیہا نے چائے اور لوازمات ٹرالی میں سیٹ کئے اور ٹرالی گھسیٹتی ہوئی لاؤنج میں لے آئی.
“آپا پڑھے لکھے اور ان پڑھ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے.” ابو تحمل سے بات کر رہے تھے
“امی جی آپ بھی تو کچھ بولیں ناں. اتنا اچھا رشتہ ہے. عیش کریگی آبی اور ان لوگوں کو ایک عام شکل صورت کی لڑکی ہی چاہئیے اسلئیے آبی کو فوراً سے پسند بھی کرلیں گے وہ لوگ.” پھپھو کی بات پہ اسے ہمیشہ کیطرح دکھ ہوا تھا.
“اے سعیدہ کیا کمی ہے آبی کی شکل صورت میں¿” دادو نے ماتھے پہ بل ڈال کر پوچھا.
“انجان تو نہ بنیں امی. آبی کی کم صورتی کے باعث ہی خاندان بھر میں کوئی لڑکا اسے بیاہنے کو تیار نہیں میرا عدیل بھی ابیہا کا تک نام سننے کو تیار نہیں ورنہ میں ہی اسے اپنی بہو بنا لیتی.” پھپھو نے اپنے سب سے چھوٹے اور ابیہا کے ہم عمر بیٹے کا تذکرہ کیا تھا. وہ چپ چاپ ایک طرف کھڑی تھی. نیہا بھی چپ تھی.
“آپا آپکے عدیل کو آبی کا رشتہ میں کبھی دیتا بھی نہیں اچھا کیا جو وہ خود ہی نہیں مانا.” ابو نے سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے چائے کا کپ اٹھا لیا.
“کیوں کیا برائی ہے میرے عدیل میں¿” پھپھو تپ گئیں.
“پانچ جماعتیں تک تو پڑھی نہیں ہوئیں عدیل نے آپا میری آبی تو ماشاء اللہ سے اتنی لائق ہے” امی فوراً سے بولیں.
“لائقی کو کیا شہد لگا کر چاٹنا ہے. شکل تو کسی کام کی نہیں آپکی لائق بچی کی. اتنی اکڑ کس بات پہ دکھا رہی ہو بھابی. ذرا اپنے گھر کے حالات اور اپنی بچی کی شکل بھی غور سے دیکھو.” پھپھو کے الفاظ کسی کند ہتھیار سے بھی تیز تھے.
“آپا صاف سی بات ہے میرا ابھی آبی کی شادی کا کوئی ارادہ نہیں اور کسی کم پڑھے لکھے لڑکے سے میں اپنی بچی کو ہرگز نہیں بیاہوں گا میری بچی کا مزاج الگ ہے وہ جاہلوں کیساتھ گزارا نہیں کر سکتی.” ابو نے صاف صاف بات کی. پھپھو تو شدید بھڑک اٹھی تھیں.
“تم صاف بات کررہے ہو تو میں بھی صاف بات کرتی ہوں بھیا میرے زبیر کو آبی کا لڑکوں کیساتھ پڑھنا اور گھومنا پھرنا بالکل نہیں پسند. اور اسنے صاف کہہ دیا ہے کہ ماموں کو کہیں آبی کو شریف لڑکیوں کیطرح گھر بٹھائیں اور سال ڈیڑھ میں رخصت کریں.” پھپھو نے ہاتھ نچا کر کہا تھا. ابیہا نے دیکھا زبیر بھائی ہمیشہ کیطرح سر جھکائے بیٹھے تھے.
“کیا مطلب ہے آپکا آپا. میری آبی شریف لڑکی نہیں ہے کیا. آپ میرے سامنے بیٹھ کر میری بچی کے کردار پہ کیچڑ اچھال رہی ہیں.” ابو غصے سے دھاڑے تھے.
“چللاؤ مت بھائی میرے.اسمیں کیچڑ اچھالنے والی کیا بات ہے. زبیر نے خود دیکھا ہے آبی کو کسی مرد کیساتھ گاڑی میں.” پھپھو نے پرسکون انداز میں کہا تھا.
“خدا کا خوف کرو آپا. آپکو اس دن بھی بتایا تھا کہ وہ آبی کی دوست نے گاڑی بھجوائی تھی.” امی تیز لہجے میں بولیں. پھپھو نے لاپرواہی سے شانے جھٹکے.
“بھئی صاف سی بات ہے میرے زبیر کی غیرت کو تو یہ بات ہی گوارا نہیں کہ اسکی ہونیوالی سالی انجان لڑکوں کیساتھ پڑھے اور سہیلیوں کے گھر جائے.” پھپھو کا لہجہ کاٹ دار تھا.
“زبیر کو جو اعتراضات ہیں وہ اپنے منہ سے کہے ناں آپ کیوں اسکی ترجمان بنی ہوئی ہیں. بولو برخوردار کیا مسئلہ ہے تمہیں.” ابو نے ناگواری سے کہا.
“دیکھیں ماموں جی میں بڑا اصولی سا بندہ ہوں.مجھے لڑکیوں کو بے مہار آزادی دینا بالکل بھی پسند نہیں. نیہا بھی تو گھر پہ رہتی ہے. تو ابیہا کو پڑھانا کیوں اتنا ضروری ہے¿ اس نے کونسا علامہ اقبال بن جانا ہے لکھ پڑھ کے. بس اسکو گھر بٹھائیں اور امی جو رشتہ بتا رہی ہیں اس پہ ہاں کریں” زبیر بھائی نے بھی اپنے مخصوص پنچابی ٹچ والے لہجے میں کہا تھا. ابیہا نے دکھ بھری نگاہوں سے انکی طرف دیکھا.
“برخوردار میں ابیہا کا باپ ہوں جو مجھے مناسب لگے گا وہی کرونگا. تم اپنی ماہرانہ رائے اپنے پاس ہی رکھو.” ابو اس پہ برس پڑے.
“تو ٹھیک ہے پھر میں بھی نیہا کیساتھ شادی نہیں کرسکتا.” وہ قطیعت سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا. اسکے ساتھ ہی پھپھو بھی جانے کو تیار نظر آنے لگیں.
“مگر زبیر آپ آبی کی غلطی کی سزا مجھے کیوں دے رہے ہیں.” نیہا بے تانی سے اٹھ کھڑی ہوئی.
“اپنی بہن کو سمجھا لو کہ سدھر جائے ورنہ نتائج تمہیں ہی بھگتنے پڑیں گے.” زبیر سخت لہجے میں بولا.
“ابیہا کہہ دو کہ تم آئندہ یونیورسٹی نہیں جاؤگی. کہہ دو ناں” نیہا نے ابیہا کا بازو پکڑ کر منت کرنے کے انداز میں کہا.
“نیہا یہ کیا پاگل پن ہے.” ابو درشتی سے بولے.
“سعیدہ تو ہی زبیر کو سمجھا اسطرح کھڑے کھڑے رشتے ختم نہیں ہوتے.” دادو نے پھپھو کو مخاطب کیا جو اکھڑی اکھڑی سی کھڑی تھیں.
“میرا بچہ بالکل صیحیح کہہ رہا ہے. اور کاظم میرے لائے ہوئے رشتے پہ جب تو راضی ہو جائے ناں تو مجھے آگاہ کردینا میں اور زبیر آجائیں گے. چل زبیر.” پھپھو نے بے رخی سے کہا.
“نہیں پھپھو پلیز زبیر. آبی وہی کریگی جو آپ کہہ رہی ہیں پلیز ایسا مت کریں” نیہا نے روتے ہوئے کہا.
“نیہا چپ کر جاؤ. آپا یہ میرا گھر ہے یہاں کے اصول بھی میں طے کرونگا آپ یا آپکا بیٹا نہیں اور دوسری بات تم بھی سن لو برخوردار میری اولاد کے مختار بننے کی کوشش ترک کردو اور اچھی طرح سوچ لو کیونکہ نیہا کیساتھ شادی کی صورت میں بھی میں تمہیں اپنے گھر کے معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دونگا. زیادہ بہتر ہوگا کہ تم ابھی کوئی درست فیصلہ کرلو اور پھر اس پہ قائم بھی رہو.” ابو مضبوط لہجے میں کہہ رہے تھے. “اور جہاں تک بات ہے رشتہ توڑنے کی تو اچھا ہے کہ یہ رشتہ ٹوٹ ہی جائے کیونکہ ایسے خود غرض رشتوں کا ٹوٹ جانا ہی بہتر ہوتا ہے. میری نیہا کیلئے اللہ بہت اچھا رشتہ بھیج دیگا. اب آپ لوگ جاسکتے ہیں.” ابو اپنی بات مکمل کر چکے تھے.
“ہاں ہاں جارہے ہیں. اور ہم بھی دیکھیں گے کہ. کونسے شہزادے آئیں گے تمہاری بیٹیوں کیلئیے اور اس کم شکل کو تو تا قیامت گھر کی دہلیز پہ ہی بٹھا ئے رکھوگے ان شاء اللہ چل زبیر.” پھپھو زہراگل کر تن فن کرتی چلی گئی تھیں. انکے جاتے ہی ابو بھی لمبے لمبے ڈگ بھرتے اپنے کمرے میں چلے گئے.
نیہا زور زور سے روتے ہوئے صوفے پہ بیٹھ گئی. “تو مر جا آبی تو مر جا.” وہ مسلسل یہی کہہ رہی تھی. ابیہا اپنی جگہ چور بن گئی تھی.
“مجھے پہلے ہی پتہ تھا کہ یہ جو کاظم صاحب کو ماڈرن بننے کا بھوت سوار ہے یہ ہم سب کو لے ڈوبے گا.” امی پر سوچ انداز میں بولیں.
“کیا غلط کہا پھپھو نے. ہمارے خاندان میں کب کوئی لڑکی یونیورسٹی گئی کب کسی لڑکی کو سہیلی کے ڈرائیور گھر لینے آتے رہے.” نیہا روتے ہوئے بولی.
“میں تو ڈرائیور کیساتھ بھیجنے کے حق میں ہی نہیں تھی تب تم سب نے ہی بڑی حمایت کی تھی. اب بھگتو.” امی بیزاری سے بولیں.
“ہائے میری زندگی بتاہ کردی تونے آبی.” نیہا چہکوں پہکوں روتے ہوئے دہائی دینے والے انداز میں بولی. ابیہا کو یکدم ڈھیروں غصہ آگیا تھا.
“زبیر بھائی سے شادی کر کے جتنی تمہاری زندگی برباد ہونی تھی ناں اب کم از کم اس سے تو کم ہی برباد ہوگی” وہ تڑخ کے بولی تھی.
“ارے مر جا تو منحوس. بہن کا رشتہ ٹوٹنے پہ ایسی بکواس کر رہی ہے.” دادو الٹا اسی پہ برس پڑیں.
“تو اور کیا کہوں دادو. زبیر بھائی اور پھپھو ہمارے لئے مستقل مصیبت ہی تو تھے اچھا ہوا جان چھوٹی. اور زبیر بھائی کونسا کہیں کے شہزادے تھے کہ تم یوں ٹسوے بہا رہی ہو.” وہ غصیلے انداز میں بولتی گئی.
“میں تمہیں مار دوں گی.” نیہا چیل کیطرح اس پہ جھپٹی اور اسکے بال کھینچ کر زور زور کے تھپڑ اسے رسید کردیئے. یہ حملہ اتنا اچانک تھا کہ وہ اپنا دفاع بھی نہ کرسکی تھی. اسی لمحے عامر نے اٹھ کر تیزی سے نیہا کو الگ ہٹایا. بہرحال اس سولہ سترہ سالہ لڑکے میں اتنی طاقت تھی کہ نیہا بے بس سی ہو کر بیٹھ گئی.
“پاگل تو نہیں ہو گئی ہو آپی تم. آبی کا اسمیں کیا قصور پھپھو تو ہیں ہی ڈرامہ کوئین” عامر درشتی سے بولا.
” عامر تو چپ کر.”امی نے اسے آنکھیں دکھائیں.
“میں غلط تو نہیں کہہ رہا امی. پھپھو کو ہر روز ایک نیا ڈرامہ کرنیکی کی عادت ہے.اچھا ہوا منگنی ٹوٹ گئی ورنہ اگر آپی کی زبیر بھائی کیساتھ شادی ہوجاتی تو ہمارا تو جینا مرنا محال ہوجاتا.” عامر نے اکتاہٹ بھرے انداز میں کہا تھا.
“امی دیکھ رہی ہیں آپ یہ سب میری خوشیوں کے دشمن ہیں.” نیہا اب پھر سے اونچا اونچا رونے لگی تھی. ابیہا شکستہ قدموں سے چلتی اپنے کمرے میں چلی آئی. نیہا کے ناخنوں نے اسکے گالوں پہ ہلکی ہلکی خراشیں چھوڑی تھیں.مگر جو کھرونچیں دل پہ پڑی تھیں انکا بھرنا شاید ممکن نہ تھا.
———————-
“ابیہا کہاں تھی تم تین دن سے” وہ یونیورسٹی میں ایک دور افتادہ گوشے میں گھاس پہ بیٹھے ہوئی تھی جب روحینہ اسے دیکھ کر تیزی سے اسکے پاس آئی تھی. ابیہا نے گھاس نوچنے کا شغل روک کر ایک لمحہ کو سر اٹھا کے اسکی طرف دیکھا اور پھر دوبارہ سے سر جھکا کر اپنے کام میں مشغول ہوگئی. روحینہ بھی اسکے پاس بیٹھ گئی.
“کیا ہوا ہے کہاں تھی¿ تمہارے گھر کال بھی کی تھی میں نے پتہ نہیں کس نے فون اٹھایا تھا میں کہا میں روحینہ بول رہی ہوں تو آگے سے فون ہی بند کردیا. خیریت تو ہے ناں سب¿” روحینہ متفکر سی پوچھ رہی تھی ابیہا کچھ نہ بولی البتہ اسکی آنکھوں سے آنسو قطرہ قطرہ بہنے لگے تھے
“ابیہا کیوں رو رہی ہو¿ بتاؤ ناں میری جان کیا ہوا ہے مجھے نہیں بتاؤگی¿” روحینہ نے محبت سے پر لہجے میں کہا تھا ابیہا ہمدردی پاکر پھوٹ پھوٹ کےرودی روحینہ نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور اسکے سر پہ ہاتھ پھیرنے لگی ابیہا کی ہچکیاں ذرا تھمیں تو وہ الگ ہوئی.
“آنسو صاف کرو اور بتاؤ کیا ہوا ہے” روحینہ نے نرم لہجے میں کہا. تو وہ اٹک اٹک کر اسے تین دن پہلے کی باتیں بتانے لگی. “اور اس دن کے بعد سے عامر اور ابو کے علاوہ گھر میں کوئی مجھ سے بات تک نہیں کر رہا. نیہا ہر وقت منہ بنائے بیٹھی رہتی ہے مجھے دیکھتے ہی زور زور سے بولنے لگ جاتی ہے امی اور دادو بھی اسکے رونے سے متاثر ہو گئی ہیں اور انہیں بھی لگنے لگا ہے کہ غلطی ساری میری ہی ہے نہ میں یونیورسٹی جاتی نہ پھپھو ناراض ہوتیں.” وہ بولتے بولتے پھر رونے لگی.
“واٹ دا ہیل یار. میری ایسی نامعقول پھپھو ہوتیں ناں میں قسم سے انکا بائیکاٹ کردیتی. اور کیا دنیا میں لڑکے ختم ہوگئے ہیں یا نیہا کیلئے اور کوئی رشتہ نہ آئیگا کبھی جو اتنا بیکار کا ہنگامہ کری ایٹ کیا ہوا ہے.” روحینہ ناگواری سے بولی.
“ہمارے یہاں خاندان میں رشتہ کرنے کو پریفر کرتے ہیں. میرا تو کبھی کسی نے خاندان سے رشتہ مانگا ہی نہیں. نیہا کا ہی مانگتے تھے سب اور نیہا زبیر بھائی کو پسند کرتی ہے وہ انکے علاوہ اور کسی کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتی اسی لئے روتی ہے بیچاری” وہ سوگوار انداز میں کہہ رہی تھی.
“کیا بیچاری. وہ پاگل ہے کیا جو اسے اتنی سے بات سمجھ نہیں آرہی کہ اسکے سوکالڈ منگیتر کا مین کنسرن صرف اور صرف تم سب پہ اپنا حکم چلانا ہے. اور تم دباؤ میں آکر اپنی تعلیم بالکل نہ چھوڑنا. اور کسی دباؤ میں آکر کسی کم پڑھے لکھے انسان سے شادی نہ کرلینا یہ جو کم پڑھے لکھے مرد ہوتے ہیں ناں یہ پڑھی لکھی عورت کے سامنے شدید احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں اور اس احساس کمتری کو کم کرنے کیلئے وہ عورت کو جوتے کی نوک پہ رکھنے والی پالیسی پہ عمل پیرا ہوجاتے ہیں. تم بس اپنی تعلیم پہ توجہ دو. نیہا جیسی لڑکیوں کی سوچ کا دائرہ ہی صرف شادی کرنے اور شوہر کے تلوے چاٹنے تک محدود ہوتا ہے.” روحینہ اسے سمجھا رہی تھی. ابیہا نے کچھ سمجھتے ہوئے کچھ نہ سمجھتے ہوئے سر ہلا دیا.
———————-
پچھلے تیں دنوں سے وہ صرف اس آس پہ روحینہ کا ڈرائیور بنا ہوا تھا کہ شاید یونیورسٹی کے باہر ابیہا دکھائی دے جائے. مگر متواتر تین دنوں سے تو اسے مایوسی کا منہ ہی دیکھنا پڑ رہا تھا. روحینہ کے مطابق ابیہا یونیورسٹی ہی نہ آرہی تھی. آج وہ دوپہر میں ایک بجنے سے ذرا پہلے ہی یونیورسٹی کے گیٹ پہ پہنچ گیا تھا. اسکی نظریں بیتابی سے یونیورسٹی کے گیٹ پہ جمی ہوئی تھیں. چند ثانیے بعد روحینہ کے ہمراہ وہ گیٹ سے نکلتی دکھائی دی تھی. ولید کے اردگرد جیسے سنہری دھوپ بکھر گئی. وہ بیتابی سے گاڑی سے اتر کر آگے بڑھا پھر ہچکچا کر قدم روک لئے. وہ ہمیشہ کیطرح سیاہ چادر میں لپٹی ہوئی تھی. ولید گاڑی کے پاس کھڑا اسے تکے جارہا تھا. اسے جیسے گرد و پیش کی خبر نہ رہی تھی. روحینہ اسے کچھ کہہ رہی تھی اور وہ سر جھکائے سن رہی تھی اسکے چہرے پہ پھیلی سوگواری ولید نے اتنے فاصلے سے بھی دیکھ لی تھی. وہ بیچینی سے کبھی گاڑی کے بونٹ پہ ہاتھ رکھتا تو کبھی گاڑی سے پشت ٹیک لیتا اسکا رواں رواں دعا کررہا تھا کہ وہ روحینہ کیساتھ ادھر چلی آئے. مگر وہ روحینہ سے بات کرکے مڑ کر یونیورسٹی کے اندر چلی گئی تھی اور روحینہ دور سے ہی ولید کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتی تیزی سے ادھر چلی آئی. “ہائے بھیا جانی” وہ کہتی ہوئی فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئی. ولید نے ایک مایوس نگاہ یونیورسٹی کے گیٹ پہ ڈالی اور پلٹ کر ڈرائیونگ سیٹ پہ آ بیٹھا. اور گاڑی اسٹارٹ کردی.
“کیسا رہا دن” اس نے گاڑی خالی روڈ پہ دوڑاتے ہوئے روحینہ کو مخاطب کیا.
“بزی بزی. بس تھوڑی دیر پہلے ہی ذرا فرصت ملی تھی تو میں اور ابیہا باتیں کرنے بیٹھ گئے.” روحینہ جواباً بولی.”اتنے دنوں بعد وہ آئی ڈھیروں باتیں تھی کرنے کو.”
“ہوں کیوں نہیں آرہی تھی وہ¿” ولید نے پوچھا.
“بس مسئلوں میں گھری ہوئی تھی بیچاری ” روحینہ ٹھنڈی سانس بھر کر بولی.
“کیوں کیا ہوا¿” ولید کی ساری دلچسپی ابیہا سے متعلق باتوں کیطرف تھی.
“یا ر ولی بھیا میں نے آپکو بتایا تھا ناں کہ اسکی بڑی بہن اسکی پھپھو کے بیٹے سے انگیجڈ ہے تو وہ لوگ منگنی توڑ کے چلے گئے اور وجہ یہ تھی کہ ابیہا یونیورسٹی کیوں جاتی ہے. یو نو وہی ٹیپیکل سوچ کہ لڑکوں کیساتھ کیوں پڑھتی ہے.” روحینہ ناک چڑھا کر بولی.
“لیکن یہ کوئی ایسا ایشو تو نہیں کہ منگنی ہی توڑ دی جائے اور پھر ابیہا کی بہن تو یونیورسٹی نہیں جاتی ناں” ولید بولا.
“بس جی اسکی پھپھو کے غیرتمند بیٹے کو یہ گوارا نہیں کہ اسکی ہونیوالی سالی لڑکوں کیساتھ پڑھے اور سہیلیوں کے گھر آئے جائے.” روحینہ کی اطلاع پہ ولید کو شدید غصہ آیا تھا اسکا دل چاہا کہ جاکر اس اسٹوپڈ سے انسان کے منہ پہ تھپڑ رسید کردے. “ایکچوئیلی اس دن سکندر بھائی کی مہندی سے وہ اسی لئے چلی گئی تھی کیونکہ گھر پہ اسکی پھپھو اور کزن آئے بیٹھے تھے انھوں نے اسے ہماری گاڑی میں دیکھ لیا تھا. بس تبھی سے ایشو بنا ہوا تھا. تین دن پہلے وہ ابیہا کیلئے کوئی پروپوزل لیکر آئی تھیں لڑکے کی تعلیم بہت کم تھی سو اسکے ابو نے انکار کردیا بس یہ بات برداشت نہ ہوئی اور نیہا سے منگنی توڑ گئے.” روحینہ اور بھی کچھ کہہ رہی تھی مگر ولید کا دھیان صرف ایک لفظ “پروپوزل” میں اٹک گیا تھا. ابیہا کا کسی اور سے منسوب ہوجانا اسے ہرگز گوارا نہ تھا. اس نے تہیہ کرلیا کہ وہ آج ہی ممی سے بات کریگا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: