Fizza Batool Urdu Novels

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool – Episode 5

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool
Written by Peerzada M Mohin
محبت ایسا دریا ہے از فضہ بتول – قسط نمبر 5

–**–**–

گھر والوں نے ابیہا کا جیسے مکمل سوشل بائیکاٹ کر رکھا تھا. ابو اور عامر کی علاوہ کوئی بھی اس سے بات نہ کر رہا تھا. اس نے یونیورسٹی سے گھر آکر کپڑے تبدیل کئے منہ ہاتھ دھویا اپنے لئے روٹی بنا کر کھانا کھایا اور صحن میں تخت پہ آبیٹھی. اسے اپنی زندگی سے بیزاری ہورہی تھی. گھر والوں کا یہ رویہ وہ مزید کتنے دن برداشت کرسکتی تھی آخر میں اسے ہی ہتھیار ڈالنے پڑتے. وہ سوچ سوچ کر الجھتی رہی دوپہر شام میں ڈھلی تو اطلاعی گھنٹی کی تیز آواز پہ وہ کسلمندی سے اٹھی اور پاؤں میں چپلیں ڈال کر دوپٹہ نماز کے انداز میں لپیٹتی گیٹ تک آئی.
“کون ہے” اس نے بلند آواز میں پوچھا.
“دروازہ کھولو” یہ پھپھو کی آواز تھی. اس نے گیٹ کھول دیا پھپھو اور زبیر اندر آئے اور اسکے سلام کا جواب دیئے بناء اندر چلے گئے. وہ تذبذب کے عالم میں گیٹ بند کرکے سستی سے قدم اٹھاتی لاؤنج میں داخل ہوئی. جہاں پھپھو اور زبیر بھائی کے گرد گھر کے سبھی افراد جمع تھے. وہ دروازے میں ہی جم گئی.
“ارے بھابی میں تو اپنے بچے کی خوشی کی خاطر چلی آئی اور سچ پوچھو تو نیہا مجھے خود بھی بہت عزیزہے” پھپھو نیہا کو اپنے ساتھ چپکائے کہہ رہی تھیں. امی اور دادو کے چہرے بھی کھلے پڑے تھے. نیہا رونے لگی.
“ارے میری بچی تو کیوں روتی ہے. میں آگئی ہوں ناں بس کر میری شہزادی.” پھپھو اسکی کمر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے پچکار رہی تھیں.
“بس آپا آپ آگئیں سچ میں دل کا بوجھ ہلکا ہوگیا. آجکل لڑکیوں کے رشتے کہاں ملتے ہیں. مجھے تو فکر کھائے جارہی تھی آپ کا احسان رہے گا ہم پہ. جا آبی پھپھو اور بھائی کیلئے چائے لا.” امی پھپھو کے آگے بچھی جا رہی تھیں.
“اسکے ہاتھ کی چائے میں نہیں پیئوں گی.” پھپھو کی آواز پہ اسکے کچن کیجانب بڑھتے قدم رک گئے.
“میں چائے بناتی ہوں پھپھو.” نیہا جھٹ سے کہہ کر کچن کیطرف بڑھ گئی.
“رشتے نہیںً ملتے آجکل لڑکیوں کے اسی لئے تو آبی کیلئے رشتہ لیکر آئی تھی میں بھابی مجھے بھی بچیوں کی فکر ہے مگر تم لوگوں نے میرے خلوص پہ شک کیا.اب آ تو میں گئی ہوں مگر اس لڑکی سے میری ناراضی برقرار ہے اور میرا زبیر بھی سخت خفا ہے اس سے.” پھپھو جیسے راجہ اندر بنی بیٹھی تھیں.
“ارے نہیں آپا آپکے خلوص پہ کسی کو شک نہیں بس کاظم صاحب کو کون سمجھائے. اے آبی چل پھپھو اور بھائی سے معافی مانگ.” امی کا اگر اس وقت بس چلتا تو پھپھو کے قدموں تلے چاند ستارے ڈھیر کردیتیں ابیہا کی انا تو بہت چھوٹی سی چیز تھی.
یہ متوسط طبقے کے ماں باپ بھی عجیب ہوتے ہیں بیٹیوں کے مستقبل کی طرف سے فکر مند اور خوفزدہ. بیٹیوں کو بیاہنے کیلئے کم ظرف لوگوں کے قدموں میں بھی جھک جاتے ہیں اور اپنی بیٹیوں کو بھی یہی تلقین کرتے ہیں اور اگر جو کوئی بیٹی ایسا کرنے سے انکار کرے تو وہ ان کیلئے ایک مستقل خطرہ بن جاتی ہے ایسا خطرہ جو کہیں اس طبقے کی صدیوں پرانی غیر منصفانہ روایات کی زنجیر کو توڑ ہی نہ ڈالیں. لہٰذا وہ اس خطرے کا سر کچلنے کیلئے زبان کے تیر چلاتے ہیں اپنا والدین ہونے کے حق کا بےجا استعمال کرتے ہیں مذہب کا سہارا لیتے ہیں.
ابیہا جانتی تھی کہ اب معافی مانگے بناء کوئی چارہ نہیں. سو وہ اپنی عزت نفس پہ پاؤں رکھ کر پھپھو کے سامنے آکھڑی ہوئی.” مجھے معاف کردیں پھپھو. آئم سوری زبیر بھائی.” اسکی آواز میں آنسوؤں کی آمیزش تھی.
صدیوں پرانی روایتیں ایکبار پھر جیت گئی تھیں. اور ان روایات کے علمبرداروں کے ہونٹوں پہ آسودہ مسکراہٹ پھیل گئی تھی.
“ٹھیک ہے بھئی.”پھپھو نے ہاتھ اٹھا کر کہا. وہ ملول سی چلتی اپنے کمرے میں چلی آئی. پھپھو اب پھر سے اپنے لائے گئے رشتے کی خصوصیات گنوانے لگی تھیں. امی اور دادو نے آج کوئی اعتراض نہیں کیا تھا. کچھ دیر بعد ابو دکان سے واپس آئے تو امی نے انہیں بھی الگ لیجاکر سختی سے منع کردیا کہ اب کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے پھپھو کا موڈ خراب ہو. ابو بھی مصلحت کے آگے خاموش ہوگئے تھے. پھپھو کا اصرار تھا ایکبار اس رشتے کو بلا کر دیکھ تو لیا جائے. ابو کے کچھ بھی کہنے سے قبل ہی دادو نے حامی بھر لی تھی. نیہا کا واویلا کام آگیا تھا اب کسی میں اتنی ہمت نہ رہی تھی کہ وہ پھپھو یا زبیر کی کسی بات سے انکار کرتا.
——————-
” ممی! مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے.” رات کے کھانے کے بعد وہ شکیلہ بیگم کے کمرے میں چلا آیا تھا. وہ حسب عادت کوئی کتاب لئیے بیٹھی تھیں اسکی آمد پہ انھوں نے عینک کے اوپر سے اسے دیکھتے ہوئے سر کو ہلکی سی جنبش دیکر اسے گویا بات کرنیکی اجازت دی تھی. وہ بیڈ کے پائینتی ٹکتے ہوئے بولا”ممی مجھے ایک لڑکی پسند ہے”
“یہ تو بہت اچھی بات ہے لیکن آپ نے اس روز کیوں نہیں بتایا تھا.” شکیلہ بیگم کی نظریں کتاب پہ تھیں اور لہجے میں لاپرواہی تھی.
“تب پسند نہیں تھی. اب پسند ہے”
“اچھا. کون ہے وہ¿’
” ابیہا” ولید کے منہ سے نکلنے والے اس ایک لفظ کا شکیلہ بیگم پہ گہرا اثر ہوا تھا انھوں نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا.
“کون وہ روحی کی دوست¿” انھوں نے تصدیق چاہی.
“جی” ولید نے سر ہلایا. شکیلہ بیگم نے کتاب سائیڈ ٹیبل پہ رکھی اور عینک اتار کر مکمل طور پہ اسکی طرف متوجہ ہوگئیں.
“آر یو سیریس ولی¿” انھیں جیسے یقین نہ آرہا تھا.
“ممی میرے کسی جملے یا میرے چہرے کے تاثرات میں کہیں آپکو کوئی غیر سنجیدگی کا عنصر نظر آیا ہے¿” اسنے الٹا ان سے پوچھا تھا.شکیلہ بیگم لاجواب سی ہوگئیں.
“نہیں بیٹا مگر… مجھے بہت حیرت ہوئی ہے… ابیہا..”
“کیا آپ بھی class distinction کی قائل ہیں ممی” اس نے انکی بات کاٹ کر پوچھا.
“ہرگز نہیں بیٹا مگر ابیہا.” وہ سوچ میں پڑ گئیں.
“آپ اسے پسند نہیں کرتیں¿” اس نے ٹٹولنے والی نظروں سے انکے چہرے کے تاثرات کو جانچنے کی کوشش کی.
“نو نومائے چائلڈ. آئی لائیک ہر. وہ بہت اچھی لڑکی ہے. لیکن بیٹا کیا اسمیں وہ سب خصوصیات ہیں جو آپ اپنے لائف پارٹنر میں دیکھنا چاہتے ہیں¿” انکو اپنے بیٹے کی perfectionist طبیعت کا مکمل طور پہ اندازہ تھا اسی لئے انکی تشویش بجا تھی.
“ممی میرے نزدیک حیا وہ خوبی ہے جو مرد و عورت دونوں کو منفرد بناتی ہے. اور عورت کیلئے تو حیا خوب تر ہے. ابیہا ایک حیادار لڑکی ہے اور میں ایک حیادار لائف پارٹنر چاہتا ہوں. باقی سب خصوصیات حیا کے آگے ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں” وہ سنجیدہ اور مضبوط لہجے میں بول رہا تھا. شکیلہ بیگم نے قائل ہوجانیوالے انداز میں سر ہلایا.
“آپکی سوچ بہت اچھی ہے ولید. اور میں تو اپنے بچوں کی خوشی میں خوش ہوں.”
“ممی میں چاہتا ہوں کہ میرے لاہور جانے سے قبل ہی نکاح ہوجائے.”
“بیٹا ضروری تو نہیں ہے کہ ابیہا کے والدین آپکا رشتہ قبول کر ہی لیں.” شکیلہ بیگم اسکی عجلت پہ مسکرائی تھیں.
“ممی میں pessimistic بالکل نہیں ہوں.” وہ بھی جواباً مسکرایا تھا.سیاہ آنکھیں چمکنے لگی تھیں.”آپ کل ہی ابیہا کے گھر جائیے.”
“ٹھیک ہے بیٹا جی. میں صبح روحی سے بات کرکے ڈیسائیڈ کرلیتی ہوں. اب آپ جا کر سوجائیے.”
“اوکے ممی گڈ نائٹ” وہ حسب عادت انکے ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگاتے ہوئے بولا تھا.
“جیتے رہئیے. گڈ نائٹ” انھوں نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا. وہ کمرے سے چلا گیا تو انھوں نے پھر سے کتاب اٹھا لی.
—————–
“اوہ رئیلی..” روحینہ تو انکی بات سن کر جیسے اچھل ہی پڑی تھی. شکیلہ بیگم نے سر کو اثباتی جنبش دی.
“اوہ گاڈ! آئم سو ہیپی.. ممی بس ہم آج ہی ابیہا کے گھر جائینگے.” وہ تو ولید سے بھی زیادہ اتاولی ہورہی تھی.
“بیٹا بغیر اطلاع کے جانا غیر مناسب ہوگا آپ اسے کال کرکے ٹائم طے کرلیجئے.” شکیلہ بیگم اپنے کپ میں چائے انڈیلتے ہوئے بولیں. اس وقت ناشتے کی میز پہ وہ دونوں ہی موجود تھیں. ولید ابھی جاگنگ کرکے نا لوٹا تھا.
“کم آن ممی ہم کوئی یورپ میں نہیں رہتے کہ کسی کے گھر جانے سے قبل اطلاع دینا ضروری امر ہو. یہ پاکستان ہے اور یہاں اچانک کسی کے گھر چلے جانے کو سرپرائز کہتے ہیں.” روحینہ بریڈ کے سلائس پہ جیم لگاتے ہوئے مزے سے بولی.
“آپ دونوں بہن بھائی تو ہتھیلی پہ سرسوں جمانا چاہتے ہو. میں سوچ رہی تھی کہ ایکبار سکندر اور شزاء سے بھی مشورہ کرلیا جائے.” شکیلہ بیگم ہچکچاہٹ کا شکار تھیں.
“ممی! سکندر بھائی کا رشتہ طے کرتے وقت تو آپ نے ولی بھیا سے مشورہ نہیں لیا تھا. تو اب آپکو مشورے کرنے کیوں یاد آرہے ہیں¿ کیا آپکی اس ہچکچاہٹ کی وجہ ابیہا اور ہمارا کلاس ڈفرنس تو نہیں ہے¿” روحینہ نے سنجیدگی سے ماں کیجانب دیکھا تھا.
“نہیں بیٹا ایسی کوئی بات نہیں. بس مجھے خدشہ سا ہے کہ نجانے وہ لڑکی ہمارے گھر میں ایڈجسٹ کر پائے گی یا نہیں” انھوں نے بیٹی کے سامنے اپنے خدشے کا اظہار کیا تھا.
“ممی ایڈجسٹ منٹ کہیں بھی مشکل نہیں ہوتی اگر ماحول سازگار ملے.” ولید بولتا ہوا ڈائننگ روم میں داخل ہوا تھا. وہ دونوں اسکی طرف متوجہ ہوگئیں. وہ سیاہ ٹریک سوٹ میں ملبوس تھا اور اسکے چہرے پہ پسینے کے ننھے ننھے قطرات چمک رہے تھے. شاید وہ ابھی ابھی جاگنگ کرنے لوٹا تھا.
“آپکی بات بجا ہے بیٹا مگر..”
“مگر کیا ممی. اگر آپ رضامند نہیں ہیں تو صاف بتا دیجئیے ناں.” وہ ایک کرسی گھسیٹ کر بیٹھتا ہوا بولا.
“نہیں بیٹا مجھے آپکی خوشی عزیز ہے. ٹھیک ہے ہم آج ہی ابیہا کے گھر جائینگے.” انھوں نے تمام خدشات جھٹک کر روحینہ کو مخاطب کیا تھا.
“ٹھیک ہے ممی. پھر آج یونیورسٹی سے چھٹی¿”
“آپکی مرضی ہے بھئی. اچھا میں آفس چلتی ہوں شام پانچ بجے تک تیار رہئے گا. اللہ حافظ” شکیلہ بیگم بولتے ہوئے اٹھیں. ان دونوں نے بھی جواباً “اللہ حافظ” کا نعرہ لگایا تھا. شکیلہ بیگم کے جانے کے بعد روحینہ ولید کیجانب متوجہ ہوئی.
“کتنے بے ایمان ہیں آپ ولی بھیا. میری فرینڈ پہ کرش ہوگیا آپکو اور مجھے ہی نہیں بتایا.” اس نے چمچ اٹھا کر اسکے ہاتھ کی پشت پہ مارا تھا.
“اف تشدد مت کرو جنگلی بلی. اور اطلاعاً عرض ہے کہ میں اپنے دل کی ہر خوشی سب سے پہلے ممی سے شیئر کرتا ہوں.” وہ اسے چڑانے والے انداز میں بولا تھا.
“بس ٹھیک ہے اب میں بھی گن گن کر بدلے لوں گی.” روحینہ دھمکی آمیز انداز میں بولی. جواباً ولید نے اسکے سر پہ ہلکی سی چپت لگائی تھی.
“ویسے آپکو ابیہا پہ کرش کیسے ہوگیا ولی بھیا¿” روحینہ شرارت کے موڈ میں تھی.
“کرش نہیں محبت.” ولید نے تصحیح کی. “اگر کرش ہوتا تو اسکی مدت چند دن ہی ہوتی. میں ابیہا کیساتھ ساری زندگی گزارنا چاہتا ہوں.” اس نے کپ میں چائے انڈیلتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیا تھا.
“اور اگر اسکے پیرنٹس نے انکار کردیا تو¿”
“تو تم کس مرض کی دوا ہو¿”
“اوہ یعنی کہ میرے کندھے پہ رکھ کر بندوق چلانے کا ارادہ ہے میرے پیارے بھیا کا.”
“جی بالکل.” ولید نے سعادتمندی سے کہا.
“خیر.. ابیہا کو اپنی بھابھی بنانے کیلئے میں ہر ممکن کوشش کر لونگی کیونکہ وہ میری سب سے پیاری سہیلی ہے.”
“شکریہ.”ولید مسکرایا.
” خالی خولی شکریہ نہیں ٹریٹ دینی ہوگی.”
“شیور. پہلے کچھ بات تو بنے پھر جہاں کہوگی ٹریٹ دونگا. لیکن شرط یہ ہے کہ وہ بھی ساتھ ہوگی”
“Exactly. وہ تو ساتھ ہوگی ہی.”
“بس پھر ڈن”
“اوکے. چلیں اب ناشتہ کرلیں. آج بڑے مزیدار پراٹھے بنوائے ہیں ممی نے. لیجئے.” روحینہ نے اسکی توجہ ناشتے کی جانب مبذول کروادی.
——————
روحینہ آج یونیورسٹی نہیں آئی تھی وہ سارا دن بور ہوتی رہی. اسے اس سے بہت سی باتیں کرنا تھیں. اسکی غیر حاضری کے باعث وہ بوجھل دل لئے گھر واپس آئی تھی. اور نماز ظہر ادا کرکے کھانا کھایا اور پڑھنے کی بجائے سوگئی.اسکی آنکھ کسی کے جگانے پہ کھلی تھی. اس نے بمشکل آنکھیں کھولیں. نیہا اسکے سر پہ کھڑی تھی.
“کیا ہوا¿” اس نے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا.
“تمہاری دوست آئی ہوئی ہے بمعہ اپنی والدہ کے” نیہا کی اطلاع پہ وہ اٹھ بیٹھی.
“کون روحینہ¿”
“ہاں اپنی والدہ محترمہ کیساتھ آئی تھی کچھ دیر پہلے. اب نجانے ڈرائنگ روم میں کیا کھچڑی پک رہی ہے. دادو نے مجھے بھی وہاں آنے سے منع کردیا ہے” نیہا کہتے ہوئے اپنے بستر پہ بیٹھ گئی.
“اچھا.” وہ کچھ حیران سی ہوتی بیڈ سے اتری اور پاؤن میں چپلیں ڈال کر غسل خانے کیطرف بڑھ گئی منہ ہاتھ دھو کر اس نے کمرے میں آکر دوپٹہ نماز کے انداز میں سر پہ لپیٹا اور صحن میں نکل آئی. ڈرائٰنگ روم کیطرف سے باتوں کی آوازیں آرہی تھیں. وہ ہچکچاتی ہوئی اندر داخل ہوئی. سامنے بڑے صوفے پہ دادو کیساتھ شکیلہ بیگم اور روحینہ بیٹھی مسکرا کر باتیں کر رہی تھیں دائیں جانب والی دیوار کیساتھ رکھے صوفوں پہ ابو اور امی براجمان تھے. درمیان میں رکھی میز پہ پر تکلف سی چائے کے لوازمات چنے ہوئے تھے. کمرے کا ماحول بہت خوشگوار لگ رہا تھا.
“اسلام علیکم!” وہ قدرے بلند آواز میں بولی. سبھی اسکی جانب متوجہ ہوگئے تھے.
“وعلیکم سلام! ابھی ہم آپکا ہی ہوچھ رہے تھے بیٹا” شکیلہ بیگم نے جس والہانہ انداز میں اسے گلے لگاتے ہوئے کہا تھا.ابیہا حیران ہوئے بناء نہ رہ سکی تھی. انھوں نے اسے اپنے اور روحینہ کے درمیان ہی بٹھا لیا تھا
“کیسی ہیں بیٹا آپ¿” وہ اس سے محبت بھرے انداز میں پوچھ رہی تھیں.
“جی ٹھیک ہوں آنٹی. آپ کا کیا حال ہے” وہ مدھم آواز میں بولی. سب کے رویے میں کچھ نیا پن سا اسے محسوس ہورہا تھا.
“اللہ کا کرم ہے بیٹا. اچھا بھائی صاحب اب آپ نے ہمیں مایوس نہیں کرنا.” شکیلہ بیگم ابو سے مخاطب ہوئیں.
“آپ آج یونیورسٹی کیوں نہیں آئی تھیں” اس نے چپکے سے روحینہ سے سرگوشی کی.
“بس.” روحینہ نے مسکرا کر شانے اچکائے.
“بالکل انکل ہم انکار سننے نہیں آئے.” روحینہ نے ابو سے کہا جن کے چہرے پہ خوشی پھوٹی پڑ رہی تھی.
“بیٹا ہم سوچ کر جواب دینگے.” ابو نے مشفقانہ انداز میں کہا تھا. مگر انکے چہرے کے تاثرات چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ وہ جی جان سے راضی ہیں.
“ممی ولی بھیا آگئے ہیں” روحینہ نے اپنا وائبریٹ کرتا موبائل چیک کرکے شکیلہ بیگم کو مخاطب کیا.
“ارے تو بیٹا اسے اندر بلا لو.” امی نے فوراً سے کہا.”جائیں کاظم صاحب بچے کو اندر لے آئیں.”امی کے ٹہوکے پہ ابو اٹھ کر کمرے سے باہر چلے گئے. ابیہا ولید کا سامنا کرنے کے خیال سے نروس ہونے لگی تھی.
“ابیہا تم چائے نہیں پیتی¿” روحینہ نے چائے کی پیالی اٹھاتے ہوئے بولی.
“نہیں مجھے پسند نہیں.” وہ جواباً بولی. شکیلہ بیگم دھیرے دھیرے دادو سے باتیں کررہی تھیں. اسی لمحے ابو ولید کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئے تھے. ہلکے اخروٹی رنگ کے شلوار قمیض میں اسکا دراز قد نمایاں ہورہا تھا. ایک ہاتھ میں گاڑی کی چابی اور دوسرے میں موبائل پکڑے وہ مسکراتا ہوا ابو سے کچھ کہتا ہوا کمرے میں آیا تھا. ابیہا نروس سی ہونے لگی. اس نے باری باری دادو اور امی کے آگے تعظیماً جھک کر سلام کیا تھا. امی اور دادو تو نہال ہی ہوگئیں تھیں. اسکے سر پہ ہاتھ پھیر کر بہت سی دعائیں دے ڈالی تھیں. چند رسمی جملوں کے تبادلے کے بعد وہ عین ابیہا کے سامنے والے صوفے پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے بیٹھ گیا تھا.
“ابیہا ولید کو چائے دو.” امی کی ہدایت پہ اسکے ہاتھوں پیروں کے طوطے اڑ کر نجانے کہاں سے کہاں جا پہنچے تھے. وہ لرزتے قدموں سے اٹھی اور میز کی قریب دوزانو بیٹھ کر کانپتے ہاتھوں سے تھرماس سے پیالی میں چائے نکالنے لگی. اور چینی ڈالے بناء ہی اٹھ کر پیالی ولید کی جانب بڑھادی.
“ایک چمچ چینی.” وہ پیالی تھامنے کی بجائے مسکرا کر بولا تھا. ابیہا سخت نروس ہوتی پلٹی اور پیالی میں ایک چمچ چینی ڈال کر پیالی پھر سے اسکی جانب بڑھائی.
“شکریہ.” اسنے مسکرا کر کہہ کے پیالی تھام لی تھی. ابیہا پلٹ کر روحینہ کے برابر جابیٹھی.
“اچھا تو بیٹا آپ لاہور میں پوسٹڈ ہو¿” ابو نے ولید کو مخاطب کیا.
“جی انکل چھٹیوں کے بعد لاہور کو جوائن کرنا ہے.” اس نے چائے کا ایک سپ لیکر جواب دیا.
“اچھا اچھا. ویسے لاہور کے حالات بھی اب پہلے جیسے نہیں رہے دہشتگردی کے کافی واقعات ہونے لگ گئے ہیں.” ابو نے کیا.
“جی انکل لیکن جلد حالات سنبھل جائینگے. آپ جانتے ہی ہونگے کہ آپریشن رد الفساد پنجاب بھر میں شروع ہو چکا ہے.” اس نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا.
“بس بیٹا اللہ ہمارے ملک کو اپنے حفظ و امان میں رکھے.” دادوہ جلدی سے بولیں مبادا ابو کوئی سیاسی بحث ہی نہ چھڑ جائے.
“آمین.” ولید نے سر ہلایا.
“اس سے پہلے آپ کی پوسٹنگ کہاں تھی بیٹا¿” ابو نے پوچھا.
“وزیرستان میں انکل. وہاں میں نے اپنے بڑے قریبی دوست کھوئے ہیں. انکل جنگ کا نام سننا الگ بات ہے جنگ کے میدان میں دشمن کیخلاف لڑنا بہت الگ بات ہے. انسان کسی بے وقعت شے کیطرح کٹتے مرتے ہیں. کتنا ہی خون بہتا تب کہیں جاکر دھرتی پہ امن کا قیام ممکن ہوتا ہے.” ولید کے چہرے پہ عزم تھا درد تھا.. نجانے کتنے تاثرات اسکے چہرے پہ مدغم ہورہے تھے.
“ٹھیک کہتے ہیں آپ بیٹا. ہماری پاک فوج کی ان بے پناہ قربانیوں کے باعث ہی ہم اپنے گھروں میں سکون کی نیند سوتے ہیں.” ابو نے کہا تھا.
“بالکل اللہ ہماری فوج کے جوانوں کو سلامت رکھے ” دادو کے کہنے پہ سب نے ہی آمین بولا تھا.
“اچھا انکل اب اجازت.” ولید چائے کی پیالی میز پہ رکھتے ہوئے بولا.
“نہیں نہیں کھانا کھا کر جائیے گا ناں.” امی فوراً سے بولیں.
“اگلی بار کھانا بھی کھاؤں گا آنٹی. آگر آپ دوبارہ بلائیں گی تو.” ولید کا لہجہ اتنا سعادتمندانہ تھا کہ امی اور ابو تو فدا ہی ہوگئی تھے.
“ضرور بیٹا آپکا اپنا ہی گھر ہے” امی پر شفقت انداز میں بولی تھیں. ولید کے اٹھتے ہی سب اٹھ کھڑے ہوئے. رسمی جملوں کا تبادلہ کرتے ہوئے وہ سب صحن میں آئے. ابیہا روحینہ کے بالکل ساتھ ساتھ تھی.
“اچھا اماں جی اب آپ نے ہمارے گھر ضرور آنا ہے” شکیلہ بیگم نے دادو سے گلے ملتے ہوئے کہا تھا.
“ضرور بیٹا. آپکے آنے سے ہمیںً بہت خوشی ہوئی ہے ” دادو بھی خوشدلی سے بولی تھیں.
شکیلہ بیگم امی سے بھی گلے ملیں اور انھیں بھی اپنے گھر آنے کی تاکید کی تھی. ابو ولید کے ساتھ چند قدم آگے تھے.
“آنٹی پلیز سوچنے میں زیادہ وقت مت لیجئے گا.” روحینہ نے امی سے گلے ہوئے مدھم آواز میں کہا تھا.
“بس بیٹا یہ تو نصیبوں کے کھیل ہوتے ہیں.” امی نے پر شفقت انداز میں کہا تھا.
“اچھا بیٹا اپنا خیال رکھئے گا” شکیلہ بیگم نے ابیہا کو گلے لگا کر گال پہ پیار کیا اور اپنے پاؤچ سے پانچ ہزار کا نوٹ نکال کراسکی ہتھیلی میں تھمایا. وہ ہچکچائی تھی.
“ارے بہن اسکی کوئی ضرورت نہیں” امی جلدی سے بولی تھیں.
“دیکھئیے آپ منع مت کجئیے یہ میری خوشی ہے.” شکیلہ بیگم نے کہا تھا. امی مسکرا کر رہ گئیں.
“کل ملیں گے یونیورسٹی میں.” روحینہ اسکا ہاتھ دبا کر بولی تھی پھر وہ سب گھر گا گیٹ پار کرگئے. ولید نے جانے سے قبل پلٹ کر اسے اللہ حافظ بولا تھا اور وہ تو اتنی نروس ہوئی تھی کہ جواب بھی نہ دے سکی تھی. امی اور ابو ان سب کے ساتھ ہی گیٹ سے باہر نکل گئے. جبکہ دادو صحن میں تخت پہ بیٹھ گئیں. وہ ڈرائنگ روم سے چائے کے برتن سمیٹ کر کچن میں لے آئی. پانچ ہزار کا نوٹ کیبنٹ میں پتی کے ڈے کے اوپر رکھا ور پلٹ کر کھڑکی سے جھانکا.
“دادو روٹیاں بناؤں¿” اس نے دادو سے پوچھا.
“ہاں بنا لے اور مجھے دودھ کیساتھ روٹی دینا. یہ موا سالن تو ہضم ہی نہیں ہوتا رات کو.” دادو نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا تھا. اس نے پلٹ کر فریج سے گوندھا ہوا آٹا نکال کر کاؤنٹر پہ رکھا اور دوپٹہ اتار کر قمیض کی آستینیں کہنیوں تک موڑنے لگی. اسی لمحے صحن کیجانب سے امی اور ابو کی آوازیں آنے لگیں.
“لڑکا تو بہت اچھا ہے.” امی کی آواز سے خوشی جھلک رہی تھی. پیڑے بناتے ہوئے ابیہا متجسس ہوگئی.
“ہاں واقعی بہت تمیزدار اور بااخلاق بچہ ہے.” ابو نے بھی امی کی بات کی تائید کی.
“لوگ بھی بہت اچھے اور شریف لگتے ہیں. کیوں امی جان¿” امی نے دادو کو بھی شامل گفتگو کیا.
“ہاں لوگ تو واقعی بہت سلجھے ہوئے اور شریف لگتے ہیں.” دادو نے بھی امی کی ہاں میں ہاں ملائی.ابیہا نے توا چولہے پہ رکھا.
“میرے خیال میں تو فوراً ہاں کردینی چاہیئے.” ابو کی آواز سنائی دی.
“لیکن آپا والے رشتے کا کیا کرنا ہے¿” امی متذبذب تھیں.
“وہ رشتہ تو ابھی آیا ہی نہیں.اور سچ پوچھیں تو مجھے وہ رشتہ پسند ہی نہیں. ولید ایک بہترین لڑکا ہے. ہمیں سوچنے پہ زیادہ وقت صرف نہیں کرنا چاہیئے.” ابو کا لہجہ مضبوط تھا توے پہ روٹی ڈالتے ہوئے ابیہا کا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا. ولید حسن کا رشتہ.. اسکیلئے… یہ تو کسی خوشنما خواب سی کیفیت تھی.
“ہاں کہتے تو تم ٹھیک ہو کاظم ہم غریبوں کے گھر بیٹھے بٹھائے اتنا اچھا رشتہ آگیا ہے ہمیں بس اللہ پہ بھروسہ کرکے ہاں کردینی چاہیئے.” دادو بھی ابو کی ہم خیال ہوگئیں تھیں.
“لیکن آپا بہت واویلا کرینگی.” امی بولیں
“میں اپنی اولاد کی زندگی کے متعلق فیصلے کرنے کیلئے آپا کا پابند نہیں ہوں. میں نے کہہ دیا ہے ابیہا کی شادی ولید سے ہی ہوگی بس.” ابو نے قطیعت سے کہا تھا ابیہا کا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا.
“یہ کیا کہہ رہے ہیں ابو آپ. آپ نے کل ہی تو پھپھو سے حامی بھری تھی” نیہا ساری باتیں سن کر صحن میں چلی آئی تھی.
“میں نے حامی نہیں بھری تھی. صرف اس وقت چپ ہوگیا تھا تمہارے بیکار کے واویلے کیوجہ سے لیکن اپنی آبی کی زندگی کا فیصلہ میں نے کر لیا ہے. آپا کو میں خود سمجھا لوں گا.” ابو کا لہجہ سخت تھا. نیہا کچھ کہہ نہ سکی تھی. امی اور دادو ولید کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگی تھیں جبکہ وہ تو کچھ بھی سن نہ پا رہی تھی. وہ ایک خواب جسکو پلکوں پہ سجانے سے بھی وہ ڈرتی تھی وہ خوشگوار سپنا یوں پورا ہونے جارہا تھا.. ولید حسن.. وہ شہزادوں کی سی آن بان والا انسان اسکا نصیب بننے کو تھا.. اسے اپنی خوش بختی پہ یقین نہ آرہا تھا. وہ جیسے اس لمحہ ہواؤں میں رقصاں تھی.
———————-
رومانوی ادب میں ہمیشہ ہجر کی شب کی طوالت کا رونا رویا جاتا ہے. ولید حسن نے بھی شعراء حضرات کے نالہ و بکا اور ناول نگاروں کی آہ و فغاں کو بارہا پڑھ رکھا تھا مگر ان شعراء اور ناول نگار حضرات کے ‘درد’ کا اصل اندازہ اسے آج ہورہا تھا. جب وہ بیقراری سے اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا اور رات تھی کہ ڈھلنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی. اگرچہ ابیہا کے گھر والوں کا رویہ مایوس کن نہ تھا مگر اسکے دل کو کسی طور قرار نہ تھا. جب تک فائنل رضامندی نہ آجاتی اسکے بیچین دل کو قرار نہ آنا تھا.
جبکہ دوسری جانب ابیہا بے حد مسرور و شادمان تھی عشاء کی نماز پڑھ کر اس نے اپنے رب کا بہت بہت شکر ادا کیا.نیند تو اسے بھی نہ آرہی تھی مگر خوشی اور حیرت کے مارے. اسے یقین ہی نہ آرہا تھا کہ وہ شہزادوں جیسا شخص اس جیسی عام سی لڑکی کا نصیب بننے جارہا تھا. مگر ساتھ ہی ساتھ اسکے دل میں ایک انجانا سا وسوسہ تھا کہ نجانے اس سے شادی ولید حسن کی اپنی خواہش تھی یا روحینہ اور شکیلہ بیگم کی… لیکن روحینہ کے مطابق انکے گھر میں سب کو اپنی پسند سے شادی کرنے کی آزادی تھی… اور اگر ایسا ہی تھا تو ولید حسن نے اسے کیوں چنا تھا.. یہ خیال بار بار اسکے خوشنما خوابوں کو ڈسٹرب کر رہا تھا.
—————-
“میری ہونے والی بھابی نمبر دو کیسی ہو تم¿” روحینہ نے اس سے گلے ملتے ہوئے شوخی سے کہا تھا. ابیہا جھینپ گئی
“آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں تھا کہ..” وہ بولتے بولتے رک گئی. گالوں پہ حیا کی سرخی پھیل گئی تھی. روحینہ مسکرانے لگی.
“ولی بھیا نے مجھے بھی نہیں بتایا تھا یار. اچانک ہی سرپرائز دیا انھوں نے. لہٰذا میں نے سوچا کہ تمہیں بھی سرپرائز ہی دیا جائے.” وہ دونوں کیفیٹیریا میں اپنی مخصوص دورافتادہ میز پہ آمنے سامنے بیٹھی ہوئی تھیں. “ویسے تمہارے امی ابو کا کیا stance ہے¿ مان جائینگے ناں وہ¿”
“جی” وہ سر جھکا کر مدھم لہجے میں بولی.
“گڈ.. ولی بھیا بہت خوش ہونگے. قسم سے مارے ٹینشن کے انکی تو کل سے بھوک ہی اڑی ہوئی ہے.” روحینہ کی اطلاع پہ ابیہا عجیب سے احساسات میں گھرنے لگی. اسی لمحے روحینہ کا موبائل بجنے لگا اس نےکال اٹینڈ کرکے موبائل کان سے لگایا دوسری جانب ولید تھا. اور وہ اسے خوشی سے بتا رہا تھا کہ ابیہا کے والد نے کال کرکے رضامندی کا اظہار کیا ہے اور ممی نے آج شام کی چائے پہ ان سب کو مدعو بھی کرلیا ہے.
“واؤ گریٹ نیوز. بہت بہت مبارک ہو.” روحینہ کی آنکھیں چمکنے لگیں.
“تمہیں بھی مبارک ہو.. اچھا سنو. وہ تمہارے ساتھ ہے ابھی¿”
“جی جی میرے سامنے بیٹھی ہے بات کرواؤں¿” روحینہ نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھتے ہوئے ولید سے پوچھا. ابیہا استفہامیہ انداز میں اسے دیکھنے لگی.
“نیکی اور پوچھ ہوچھ.” وہ شوخ لہجے میں بولا. روحینہ نے موبائل ابیہا کی جانب بڑھایا.”ولی بھیا تم سے بات کرنا چاہتے ہیں.”اس نے کہا تو ابیہا نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا.
“کم آن.. اب تو تمہارے ابو نے بھی اس رشتے کے حق میں رضامندی دیدی ہے.” روحینہ نے زبردستی موبائل اسکو تھمایا اور اٹھ کھڑی ہوئی.
“میں ذرا آتی ہوں تم آرام سے بات کرلو.” وہ کہہ کر تیز تیز قدموں سے چلتی کیفیٹیریا سے باہر چلی گئی تھی ابیہا نے جھجھکتے ہوئی موبائل کان سے لگایا.
“ہیلو.” وہ پھنسی پھنسی آواز میں بولی.
“اسلام علیکم!” دوسری جانب سے ولید کی انتہائی فریش آواز سنائی دی تھی.
“وعلیکم سلام!” وہ کنفیوزڈ سی میز کی سطح ناخن سے کھرچنے لگی.
“کیسی ہیں آپ¿”
“ٹھیک ہوں”
“میرا حال نہیں پوچھیں گی¿”
“جی.. کیا حال ہے آپکا.¿”
“ہاہ.. کیا حال سناؤں دل بیتاب کا.” وہ جواباً ٹھنڈی سانس بھر کر بولا. ابیہا کی ہتھیلیوں پہ پسینہ اترنے لگا.
“جوک اپارٹ.. میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں ابیہا کہ کیا آپ میری شریک زندگی بننے پر دل سے رضامند ہیں¿” چند ثانیے بعد اسکی سنجیدہ سی آواز اسکی سماعتوں میں اتری تھی.

“جی” وہ بمشکل بولی.
“آر یو شیور”
“جی”
“یہی سوال میں آپ سے فیس ٹو فیس پوچھوں تو آپ برا تو نہیں مانیں گی¿”
“فیس ٹو فیس کیوں¿” وہ گھبرا گئی.
“آپکی آنکھوں میں لکھا سچ پڑھنا چاہتا ہوں.” اسکا لہجہ بہت دلنشین تھا.
“میں سچ ہی بول رہی ہوں.”
“تو یہی سچ میرے روبرو بھی بول دیجیئے گا.” وہ مُصر ہوا.
“ابو کی رضا میں ہی میری رضا ہے.” وہ جلدی سے بولی.
“ہوں تو گویا آپکے ابو میرے علاوہ بھی کسی سے آپکی شادی کروادیں تو آپ خوشی خوشی راضی ہوجائینگی¿”
“نہیں.” وہ بے ساختہ بول اٹھی اور پھر اپنا نچلا ہونٹ دونتوں تلے دبا لیا. جواباً ولید کی ہلکی سی ہنسی کی آواز سنائی دی تھی.
“چلیں اپنا خیال رکھئیے گا. اللہ حافظ.” ولید کو جواب مل گیا تھا سو اس نے آسودہ سے انداز میں کہہ کر سلسلہ منقطع کردیا تھا.ابیہا نے موبائل ٹیبل پہ رکھدیا اور ہولے سے مسکرانے لگی. تمام وسوسے بھک سے اڑ گئے تھے اور اسکے اردگرد جیسے بہار کے رنگ بکھر گئے تھے.
——————-
وہ گھر پہنچی تو لاؤنج سے باتوں کی آوازیں آرہی تھیں وہ پھپھو کی آواز پہچان گئی تھی سو سست قدموں سے چلتی اندر آئی. پھپھو اور زبیر بھائی آئے ہوئے تھے. اس نےبلند آواز میں سلام کیا.
“وعلیکم سلام! بھئی تم تو سنا ہے بہت بڑی لوگ ہوگئی ہو. اتنے اونچے گھر سے رشتہ جو آگیا تمہارے لئیے.” پھپھو طنزیہ لہجے میں میں بولیں. اس نے پزل سی ہوکر امی کیطرف دیکھا انھوں نے اسے آنکھ کے اشارے سے اپنے کمرے میں جانے کا کہا. تو وہ حیران سی ہوتی اپنے کمرے میں چلی آئی. اور جب تک وہ فریش ہوکر کپڑے تبدیل کرکے دوبارہ لاؤنج میں آئی تب تک پھپھو اور زبیر بھائی جا چکے تھے. امی اور دادو کی غصیلی نظریں نیہا پہ تھیں جو کچن کے دروازے میں کھڑی تھی.
“تجھ سے ذرا صبر نہیں ہوتا. ہر بات جھٹ سے زبیر کے کان میں کیوں ڈال دیتی ہے” دادو نے غصیلی آواز میں نیہا کو مخاطب کیا. ابیہا صوفے پہ بیٹھ گئی.
“چاند چڑھتا ہے تو ساری دنیا دیکھتی ہے دادو.” نیہا جواباً ڈھٹائی سے گویا ہوئی.
“اے بات پکی کرکے سارے خاندان میں مٹھائی بھجواتے تو پتہ چل جاتا سب کو. تو نے کیوں قبل از وقت آپا کو بتادیا جانتی تو ہے تو انکے مزاج کو.”امی سخت کبیدہ خاطر نظر آرہی تھیں.
” تو ایسی کونسی آفت آگئی اگر انہیں بتا دیا”نیہا ہاتھ نچا کر بولی. ابیہا نا سمجھی کے عالم میں ایک اک کا منہ تاک رہی تھی. جھبی ابو لاؤنج میں داخل ہوئے انکو خلاف معمول اتنی جلدی گھر میں دیکھ کر سبھی حیران ہوئے تھے. ابیہا بھاگ کر انکے لئے پانی کا گلاس بھر لائی.
“کیا ہوا سب اتنے چپ کیوں ہو¿” ابو نے پانی کا ایک گھونٹ بھر کے پوچھا.
” اپنی لاڈلی سے پوچھیں.” امی تنک کر بولیں. ابو نے ابیہا کی جانب دیکھا اور وہ جلدی سے بولی”مجھے کچھ نہیں معلوم ابو جی میں تو ابھی کچھ دیر پہلے ہی آئی ہوں. ہاں پھپھو آئی ہوئی تھیں تب.”
“آپا کچھ کہہ گئیں کیا¿” ابو نے لاپرواہی سے پوچھا.
” کہنا کیا تھا خوب صلواتیں سنا کر گئیں ہیں.” امی نے کہا.
“صلواتیں کیوں¿” ابو نے پوچھا.
“یہی کہ انکا بتایا ہوا رشتہ ہم نے دیکھا بھی نہیں اور آبی کا رشتہ ولید کیساتھ طے کردیا.” امی نے نیہا کے گھورتے ہوئے بتایا.
” مگر ْآپا کو ولید کے متعلق کس نے بتایا¿”
“آپکی اس چہیتی نے.” امی نے نیہا کو خشمگین نگاہوں سے گھورتے ہوئے کہا تھا.
“نیہا نے.” ابو نے حیرت سے کہا پھر نیہا سے مخاطب ہو کر نرم لہجے میں بولے.”نیہا یہ میں کیا سن رہا ہوں آپ نے پھپھو کو اپنے گھر کی اتنی پرسنل بات کیوں بتائی¿”.
“ابو جی پھپھو کچھ غلط نہیں کہہ رہی تھیں. آپ نے انکے لائے ہوئے رشتے کو زبان دی تھی اور اب جب وہ ان لوگوں کو فائنل رضامندی دے چکی ہیں تو آپ اپنی زبان سے پھر رہے ہیں.” نیہا اس وقت بالکل پھپھو کی زبان بول رہی تھی.
“آپا ان لوگوں کو فائنل رضامندی کیسے دی سکتی ہیں نہ انھوں نے ابیہا کو دیکھا نہ ہمارے گھر آئے¿” ابو کو قدرے حیرت ہوئی تھی.
“ابو جی زبیر کہہ رہے تھے کہ ان لوگوں کو پھپھو کی بات پہ آنکھیں بند کرکے یقین ہے اسلئیے انہیں لڑکی دیکھنے کا بھی کوئی ایشو نہیں.” نیہا نے بتایا
“چلو لڑکی نہ بھی دیکھتے مگر میں ابیہا کا باپ ہوں مجھ سے ملے بغیر کیسے وہ لوگ فیصلہ کرسکتے ہیں اور آپا کون ہوتی ہیں میری بیٹی کا رشتہ خود ہی طے کرنے والی.” ابو کو ڈھیروں غصہ آگیا تھا.
“آپ نے ہی تو پھپھو کو کہا تھا کہ رشتہ دیکھ لیں.”
“میں نہیں امی نے کہا تھا میں رشتہ دیکھنے کے بھی حق میں نہیں ہوں اور فرض کرو کہ وہ رشتہ دیکھ بھی لیا جائے تو ہم پابند تو نہیں ہیں کہ وہیں آبی کی شادی کریں. میں نے تو نہ آپا کو کوئی زبان دی تھی اور نہ ہی انکو یہ اجازت دی تھی کہ میری بچی کا رشتہ مجھ سے پوچھے بناء ہی طے کردیں.” ابو کا لہجہ حددرجہ غصیلہ تھا.
“اب تو وہ زبان دے چکی ہیں ابو اب آپکو انکے کہے کا مان رکھنا ہی ہوگا.” نیہا نے قطیعت سے کہا تھا.
“آپا کی زبان بول رہی ہے یہ منحوس وہ بھی کہہ کے گئیں ہیں کہ آبی کا رشتہ ہر صورت میں وہیں ہوگا جہاں وہ طے کرچکی ہیں.” امی بھی غصیلے لہجے میں بولیں.
“آپا اور انکا بتایا ہوا رشتہ گئے بھاڑ میں. بیگم! شکیلہ آپا نے ہمیں آج شام کی چائے پہ بلایا ہے. آپ اور امی پانچ بجے تک تیار رہیئے گا. ابیہا کی شادی ولید سے ہی ہوگی. اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے.” ابو قطیعت سے کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے
“مگر ابو پھپھو انکو زبان دے چکی ہیں. آپکو سوچنا پڑیگا آخر کو یہ آپکی بہن کے سسرال کا معاملہ ہے ” نیہا نے انہیں ایموشنلی بلیک میل کرنا چاہا تھا.
“سعیدہ کی سسرال کاہے کو ہوگئی. وہ تو اسکی نند کی بھی نند کا بیٹا ہے ” دادو نے دوبدو جواب دیا تھا. ابیہا پریشان صورت لئے ایک جانب کھڑی تھی.
“نیہا.. آخری بار سن لو. تمہیں ان سب باتوں سے کوئی سروکار نہیں رکھنا چاہیئے اور اگر تم نے دوبارہ یہاں کی باتیں آپا تک پہنچائیں تو میں زبیر کیساتھ تمہارا رشتہ توڑ کر تمہاری شادی شاکرہ آپا کے بیٹے سے کردونگا وہ ویسے بھی کب سے تمہارا رشتہ مانگ رہی ہیں اور انکا بیٹا بھی زبیر سے ہزار درجے بہتر ہے. اور بیگم آپ لوگ تیار رہیئے گا میں ذرا باقر صاحب کو گاڑی کا کہہ آؤں اور آپا سے بھی دوٹوک بات کر ہی لوں آج. اللہ حافظ.” ابو اپنے مخصوص مہذب لہجے میں اپنی بات مکمل کر کے چلے گئے تھے انکے جاتے ہی نیہا امی کے پاس آبیٹھی.
“امی ایسی بھی کیا جلدی ہے آبی کا رشتہ وہاں طے کرنیکی.” اس نے امی سے کہا.
“تجھے کیا مسئلہ ہے.¿” امی جیسے عاجز آکر بولیں.
“آپکو کیا جلدی ہے.”
“نیہا انسان بن جا. تیرے ابو کیا کہہ کے گئے ہیں ابھی سنا نہیں تو نے” دادو نے اسے گھرکا.
“ایکبار پھپھو والا رشتہ دیکھ ہی لیں آخر دیکھنے میں کیا حرج ہے.”
“تیرے ابو کہہ گئے ہیں کہ آبی کی شادی ولید سے ہی ہوگی اور صیحیح بھی ہے.ولید جیسا لڑکا تو چراغ لیکر بھی ڈھانڈا جائے تو نہیں ملے گا.” امی نے کہا.
“ہاں ہاں سب جانتی ہوں میں اس میسنی نے کیا چکر چلایا ہے.” نیہا نے ابیہا کو کھاجانے والی نظروں سے گھورا.”لیکن آپ بھی سن لیں امی پھپھو صرف اس شرط پہ میری اور زبیر کی منگنی برقرار رکھنے پہ رضامند ہوئی تھیں کہ ابیہا کا رشتہ انکی مرضی کی جگہ پہ ہوگا.”نیہا نے ان سب کے سروں پہ جیسے بم پھوڑا تھا. امی نے ایک زوردار دھپ اسکے شانے پہ رسید کی.
“کیسی بہن ہے تو منحوس اپنی خوشی کیلئے چھوٹی بہن کی زندگی پہ شرطیں لگا لیں تو نے. تجھ جیسی بہن تو خدا دشمنوں کو بھی نہ دے. ہائے نیہا میں نے کونسا گناہ کیا تھا کہ تو میرے گھر پیدا ہوگئی.” امی زور زور سے رونے لگی تھیں. ابیہا کی آنکھوں میں بھی آنسو چمکنے لگے.
“میں نے ابیہا کی بہتری سوچ کر ہی زبیر سے وعدہ کیا تھا. آبی وہاں خوش ہی رہےگی اتنا برا بھی نہیں ہے وہ لڑکا.” نیہا سفاکی کی آخری حدوں پہ تھی.
“بکواس بند کر آبی کی شادی ولید سے ہی ہوگی بس.” دادو گرج کر بولیں.
“اگر آبی کی شادی ولید سے ہوئی تو میری منگنی ٹوٹ جائیگی پانچ ماہ بعد شادی ہے میری. میں نے زبیر سے وعدہ کیا تھا کہ ابیہا کی شادی پھپھو کی مرضی سے ہی ہوگی.” نیہا چلا کے بولی.
“یہ تیرا مسئلہ ہے تو نے وعدہ کیا تھا ہم نے نہیں. اور اچھا ہے تیری شادی شاکرہ آپا کے بیٹے سے ہی ہو شاکرہ آپا میں سعیدہ آپا جیسی فضول عادتیں نہیں پائی جاتیں.” امی نے آنسو صاف کرتے ہوئے بے مروتی سے کہا.
“امی… میں صرف زبیر سے شادی کرونگی.”
“تو میں تیری خواہش کی خاطر اپنی دوسری بچی کی قربانی نہیں دے سکتی.” امی نے ٹکا سا جواب دیا.
“جہنم میں جائے ابیہا.” نیہا چلائی.
“بکواس بند کر.” امی نے گھما کے چانٹا اسے رسید کیا تھا.
“بہو اٹھ میرا سفید جوڑا استری کردے شام کو آبی کی بات پکی کرنے بھی جانا ہے.” دادو نے رکھائی سے نیہا کیطرف دیکھ کر امی سے کہا. امی اٹھ کر کمرے میں چلی گئیں. ابیہا باہر صحن میں تخت پہ آبیٹھی. آنسو قطرہ قطرہ اسکے گال بھگونے لگے تھے.
———————
امی ابو اور دادو کے جانے کے بعد بھی نیہا اسے ولید کیساتھ شادی سے انکار کرنے پہ مجبور کرنے کی کوشش کرتی رہی تھی کوئی اور وقت ہوتا تو نیہا کی خوشی کی خاطر وہ مان بھی جاتی مگر آج اس نے اپنی ماں جائی کا جو خودغرض روپ دیکھا تھا اسکے بعد سے وہ اسے کسی قسم کی فیور دینے کو تیار نہ تھی. اسنے نیہا کو صاف جواب دیدیا تھا. پھر امی ابو اور دادو کی واپسی پہ اسے خوشیوں کی نوید ملی تھی. ولید کی چھٹیاں محض نو دن کی رہ گئیں تھیں اسلیئے اسکا اصرار تھا کہ اسکے جانے سے قبل نکاح ہوجائے. اور ابو جو آل ریڈی پھپھو اور نیہا کیوجہ سے ابیہا کے مستقبل کیطرف سے فکر مند اور ان سیکیور تھے فوراً سے پانج دن بعد کی نکاح کی تاریخ طے کر آئے تھے. عامر نے سنا تو خوشی سے بھنگڑے ڈالنے لگا اسے اپنے خاندان کے اجڈ گنوار لڑکے ہرگز پسند نہ تھے اور وہ اکثر اس بات کا اظہار بھی کردیتا تھا.ولید کی تعلیمتافتہ فیملی اور سب سے بڑھ کر ولید کی اپنی ویل ایجوکیٹڈ پرسنالٹی اسے بہت اچھی لگی تھی اور وہ دل سے اپنی بہن کیلیئے خوش تھا. ابیہا بھی بہت خوش تھی. لیکن نیہا یہ خبر سن کر اپنے کمرے میں بند ہوگئی. اگلے روز امی نے سارے خاندان میں عامر کے ہاتھ مٹھائی بھجوادی تھی اور شام تک گھر میں مہمانوں کا تانتا بندھ گیا تھا. جو جو ولید اور اسکی فیملی کی حیثیت کے متعلق سنتا گیا وہ مرعوب ہوتا گیا اور جب امی نے سب کو ولید کی تصویر دکھائی تو سب ہی عورتوں نے دانتوں تلے انگلیاں دبالی تھیں آرمی کے فل یونیفارم میں آنکھوں پہ سیاہ سن گلاسز لگائے مسکراتے ہوئے ولید کی یہ تصویر کچھ ایسی ہی دل موہ لینے والی تھی. امی نے اسپیشل مٹھائی پھپھو کے گھر بھی بھجوائی تھی مگر انہوں نے نہ صرف مٹھائی لینے سے انکار کردیا تھا بلکہ ابیہا کے نکاح کا بھی بائیکاٹ کردیا تھا. نیہا الگ منہ بنائے بیٹھی. اسی روز شام کو شکیلہ بیگم نے امی کو فون کرکے ابیہا کو نکاح کا جوڑا خریدنے کیلیئے ساتھ لے جانے کی اجازت طلب کی تو امی اور دادو نے بخوشی اجازت دیدی. سو طے یہ ہوا کہ یونیورسٹی سے واپسی پہ ولید اور شکیلہ بیگم اسے اور روحینہ کو پک کرینگے اور پھر وہ لوگ سیدھے شاپنگ کیلیئے چلے جائینگے. نیہا نے سنا تو خوب منہ بنایا.
“ہونہہ اب یہ چونچلے بھی ہونگے. نکاح کا جوڑا اس محترمہ کی پسند سے ایسے خریدنے چلے ہیں جیسے یہ کہیں کی شہزادی ہے.” وہ جلے بھنے انداز میں بولی تھی.
“کیوں ایسی باتیں کرتی ہے نیہا چھوٹی بہن ہے تیری. اور میری آبی میں کیا کمی ہے.”امی جھٹ سے بولیں
” ہاں ہاں قلوپطرہ ہے ناں آپکی آبی تبھی تو سارے خاندان میں سے کسی نے اسے منہ تک نہ لگایا. سب میرا رشتہ مانگتے ہیں”وہ پر غرور انداز میں بولی تھی ابیہا دکھی سے انداز میں بہن کیطرف دیکھتی رہ گئی.
“خاندان بھر کا کوئی ایک لڑکا بھی ولید جیسا نہیں ہے میری آبی کی قسمت تو ماشاءاللہ بہت ہی اچھی ہے.” امی نے پر شفقت انداز میں اسکی طرف دیکھا..
“ہاں ہاں بڑے لعل و جواہرات جڑے ہوئے ہیں ولید میں دیکھ لیں گے ہم بھی. اور امی جی اس طرح کے نصیب ناں لڑکیاں اپنے ہاتھوں سے جوڑتی ہیں. دو دن یہ سہیلی کے گھر گئی اور اتنا اونچا پورا مرد پھنسا لیا بھئی ہمیں تو ایسی چالاکیاں نہیں آتیں” نیہا زہریلے لہجے میں بولتی گئی.
“امی آنٹی کو منع کردیں میں نہیں جاؤنگی شاپنگ کیلیئے.” ابیہا بہتے آنسوؤں کیساتھ کہتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی.
“شرم کر کچھ نیہا تیری چھوٹی بہن ہے اور تو اسکی خوشی میں خوش ہونے کی بجائے کیوں اسکا دل دکھاتی ہے. اللہ جانے کس پہ چلی گئی ہے یہ لڑکی.” دادو نے بآواز بلند نیہا کو کوسا.
“ارے جانا کس پہ ہے بالکل اپنی پھپھی پہ گئی ہے. بالکل ان جیسا مزاج پایا ہے اس منحوس نے اللہ جھوٹ نہ بلوائے سعیدہ آپا بھی کبھی کسی کی خوشی میں خوش نہیں ہوتیں ہر وقت رنگ میں بھنگ ڈالنے کو ہی تیار رہتی ہیں.” امی چمک کر بولیں تھیں. دادو بے اختیار لاجواب سی ہوگئیں. امی اٹھ کر کمرے میں آئیں جہاں وہ گھٹنوں میں سر دیئے آنسو بہا رہی تھی..
“چل چپ کرجا میری بچی. دفع کر تو نیہا کو. وہ تیری ہونے والی سسرال ہے بیٹا اب تجھے انکی خوشیوں کی فکر کرنی چاہیئے. چل میری بچی تو دل برا نہ کر.” امی نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے محبت سے کہا تو اس نے آنسو پونچھ کر ہولے سے سر ہلا دیا.
——————–
اگلے روز روحینہ کو یونیورسٹی میں نہ پاکر اسے کافی حیرت ہوئی تھی. سارا وقت اسکا ذہن الجھا رہا ایک بجے یونیورسٹی سے باہر نکلی تو اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے اسکا منتظر کھڑا ولید تیر کیطرح چلتا اسکی طرف آیا تھا. وہ اسے اچانک سامنے پاکر گھبراہٹ اور حیرت کی ملی جلی فیلنگز کا شکار ہوگئی.
“مجھے ممی نے بھیجا ہے آپکو پک کرنے کیلیئے. وہ آفس میں ہیں ہم انکو راستے سے پک کرلیں گے.” ولید نے وضاحتی انداز میں کہا تھا. ابیہا ہچکچاتی ہوئی اسکے ساتھ ساتھ چلتی گاڑی تک آئی اور پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی. ولید نے تب تک ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی .
“کیا آپ مجھے اب بھی ڈرائیور ہی سمجھنے پہ مُصر ہیں محترمہ¿” اس نے پیچھے مڑ کر اس سے پوچھا
“جی نہیں.” اس نے نفی میں سر ہلایا.
“تو پھر آپ آگے کیوں نہیں بیٹھیں¿”
“کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ابھی آگے بیٹھنے کا حق میرے پاس نہیں.” وہ مضبوط لہجے میں بولی. ولید کی آنکھوں میں ستائش نظر آئی اور پھر اس نے پلٹ کر گاڑی اسٹارٹ کردی.
“روحینہ کہاں ہیں¿” اس نے جھجھکتے ہوئے پوچھا
“اسکو فلو اور ٹمپریچر تھا.”
“ہوں.” ابیہا سر ہلا کر کھڑکی سے باہر گزرتے مناظر دیکھنے لگی. گاڑی مناسب رفتار سے دوڑتی ہوئی حسن انٹرپرائزرز کی شاندار عمارت کے سامنے رکی یہ بزنس ولید کے والد نے شروع کیا تھا اور انکی وفات کے بعد سے شکیلہ بیگم اسکو کامیابی کیساتھ چلا رہی تھیں سکندر نے بھی انکے ساتھ بزنس چلانے کو ہی ترجیح دی تھی.ولید نے شکیلہ بیگم کو کال کی اور چند منٹوں کے بعد ہی وہ آگئی تھیں.
“اندر آجاتے ناں بیٹا. ابیہا کا تعارف بھی ہوجاتا سب سے ” انھوں نے گاڑی میں بیٹھتے ہی کہا.
“نکاح کے بعد تعارف بھی کروادیجیئے گا ممی فی الحال تو شی از ناٹ مائی وائف کہ میں سب سے انکو متعارف کرواؤں.” ولید نے سنجیدہ سے لہجے میں کہتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کی. ابیہا کی نظر بے اختیار ہی عقب نما آئینے میں نظر آتی اسکی نظروں سے ٹکرائی تھی. ولید کی آنکھوں میں احترام تھا وہ بےاختیار نظریں جھکا گئی.
“اسلام علیکم آنٹی!” وہ جلدی سے بولی.
“وعلیکم سلام بیٹا جیتی رہیئے.” شکیلہ بیگم نے رخ موڑ کر اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا. اسکے بعد سارا رستہ شکیلہ بیگم اس سے اسکی پسند نا پسند اور آج کل کے ان فیشن کپڑوں کے ڈیزائنز کے متعلق بتاتی رہی تھیں. سب سے پہلے وہ لوگ جناح سپر مارکیٹ آئے جہاں شکیلہ بیگم اسے ایک مہنگی ترین بوتیک میں لے آئی تھیں. وہاں شاید شکیلہ بیگم اور روحینہ کا اکثر آنا جانا تھا اسی لئے تو ریسیپشن پہ بیٹھی خوشگفتار لڑکی سے لیکر مینیجر تک سب ہی انکے آگے بچھے چلے جارہے تھے. کچھ ہی دیر میں اسکی آنکھیں چندھیا گئی تھیں. تمام ملبوسات بہت میعاری اور خوبصورت تھے. اور ان پہ لگے پرائس ٹیگز دیکھ کر تو اسے ہارٹ اٹیک آتے آتے رہ گئے تھے. شکیلہ بیگم نے تو جوڑے کی پسند بالکل ولید اور اس پہ چھوڑ دی تھی اور خود ایک جانب صوفے پہ بیٹھ گئیں. ولید ابیہا کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا. ایک جگہ وہ رک گئی وہ لباس اتنا ہی اچھا تھا کہ وہ اسے دیکھتی رہ گئی. ولید نے سلیز مین سے وہ لباس دکھانے کو کہا. آف وہائٹ رنگ کا سلک کا غرارہ اور آف وہائت شرٹ جس پہ سلور باریک سا کام بنا ہوا تھا. اور سلور ستاروں سے بھرا آف وائیٹ دوپٹہ. ابیہا نے اس دوپٹے کو بے اختیار اپنی سیاہ چادر کے اوپر سے ہی سر پہ اوڑھا تھا اور قد آدم آئینے میں خود کو دیکھا اسکے عقب میں کھڑے ولید کے ہونٹوں پہ بڑی بھرپور سی مسکراہٹ جھلکی تھی. اسی لمحے شکیلہ بیگم بھی اٹھ کر انکی طرف آگئیں.”ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہیں بیٹا.”انھوں محبت سے کہا. اور پھر وہ ڈریس خریدنے کے بعد میچنگ جوتا خریدا گیا. ہائی ہیل اسٹائلش سا وہ جوتا ابیہا نے تو آج تک صرف ٹی وی پہ ماڈلز کوہی پہنے دیکھا تھا. جوتے کی خریداری کے بعد شکیلہ بیگم کو جیولر کے پاس جانے کا خیال آیا مگر ولید نے ابیہا کے چہرے پہ پھیلی تھکن کے پیش نظر فوراً سے کچھ کھا پی لینے کا آئیڈیا دیا اور وہ لوگ ایک مہنگے سے ریسٹورنٹ میں آبیٹھے. شکیلہ بیگم اپنے موبائل میں مصروف تھیں ولید بھی بیرے کو کھانے کا آرڈر دے کر اپنے موبائل میں مگن ہوگیا. ابیہا کو ان دونوں کے درمیان اپنا آپ احمق لگنے لگا تھا کچھ دیر بعد ویٹر آکر انکا آرڈر میز پہ سجا گیا..”یہاں تو سگنل ہی نہیں آرہے. بیٹا آپ لوگ شروع کرو میں ایک ضروری کال کرکے آتی ہوں.”شکیلہ بیگم کہتی ہوئی اٹھ کر ڈائننگ ہال سے باہر نکل گئیں.
“آپ کھانا شروع کریں ممی ابھی آجاتی ہیں.” ولید نے اسکی توجہ بھاپ اڑاتی بریانی کی پلیٹ کیجانب مبذول کروائی.وہ چاولوں میں چمچ چلانے لگی. ولید انتہائی انہماک سے اٹالین پاستا کھانے میں مصروف تھا. ابیہا کی نظریں ایک لمحہ کو اسکے چہرے پہ الجھی تھیں. اسکے چہرے کا ایک ایک نقش جیسے قدرت نے فرصت سے بنایا تھا. یونانی دیوتاؤں جیسا وہ چہرا کسی بھی لڑکی کا خواب ہوسکتا تھا. اسکی سفید رنگت پہ ہلکی ہلکی بڑھی ہوئی شیو بہت بھلی لگ رہی تھی فوجی کٹ بال ماتھے پہ گر رہے تھے. ولید حسن بلاشبہ خطرناک حد تک پر کشش تھا.
“کیا ہوا¿ آپکو بریانی پسند نہیں آئی کیا¿” اسکی نظروں کا ارتکاز محسوس کر کے اسنے فورک ہاتھ سے رکھ کر اس سےپوچھا.
“نہیں ایسی بات نہیں ہے.”وہ فوراً نظریں جھکا گئی..
“پھر کیسی بات ہے¿” ولید نے مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا کر پوچھا. ابیہا کچھ نہ بولی.
“آپ ہر وقت اتنی گھبرائی ہوئی کیوں رہتی ہیں¿” ولید نے بے اختیار ہی پوچھا.ابیہا نے پلکیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا. وہ سنجیدہ تھا.
“جی پتہ نہیں” وہ معصومیت سے بولی. اس سمے ولید کو وہ بے حد اچھی لگی تھی.
“ہر بات پتہ نہیں.. کچھ پتہ بھی ہوتا ہے آپکو¿” وہ توجہ اور دلچسپی سے اس سے مخاطب تھا.
“جی… پتہ نہیں.” وہ کنفیوز سی ہوتی نظریں جھکا گئی. ولید بے اختیار کھل کر ہنسا.
“ڈو یو نو آئی لو یو¿” اس نے مسکراتی نگاہوں سے بغور اسکے چہرے کیجانب دیکھتے ہوئے ہوچھا تھا. ابیہا کا چہرا گلابی ہونے لگا.
“جی.. پتہ ہے..” وہ کپکپاتی ہوئی آواز میں بمشکل بولی تھی. ولید کا قہقہہ بے ساختہ سا تھا..”مگر یہ تو میں نے آپکو ابھی بتایا ہے پھر آپکو پہلے سے کیسے پتہ.” وہ اب اسے کنفیوز کررہا تھا اور وہ تو تھی ہی صدا کی کنفیوز مخلوق..
“آپکو پتہ ہے میرا فیورٹ کلر آف وائیٹ ہے.” ولید نے چند لمحوں بعد موضوع بدلتے ہوئے کہا.
“اچھا.”
“آپکا بھی فیورٹ ہے کیا¿”
“مجھے سب رنگ اچھی لگتے ہیں.” اس نے سادگی سے جواب دیا.
“آپ پر بھی سب رنگ اچھے لگتے ہیں.” وہ برجستگی سے بولا تھا. ابیہا کا دل حیرت و مسرت کے بیچ ڈولنے لگا تھا بھلا وہ بھی کسی کو خوبصورت لگ سکتی ہے. اسکا دماغ تسلیم نہ کر پارہا تھا. تبھی شکیلہ بیگم چلی آئین باقی کا کھانا ہلکی پھلکی گپ شپ کیساتھ کھایا گیا تھا واپسی پہ ولید اور شکیلہ بیگم اسے چھوڑنے آئے تو اندر بھی آگئے. ابھی سب بیٹھے ہی تھے کہ دفعتاً پھپھو اور زبیر بھائی چلے آئے. آئے تو وہ جھگڑا کرنے ہی تھے مگر شکیلہ بیگم اور ولید کو دیکھ کر چپ کر گئے تھے. امی نے دونون کا تعارف شکیلہ بیگم سے کروایا تو وہ اپنے مخصوص مہذب انداز میں پھپھو سے ملی تھیں ولید کا رویہ زبیر کیساتھ بہت احترام اور تعظیم لئے ہوا تھا.وہ سب ڈرائنگ روم میں ہی بیٹھ گئے. ابیہا نے اپنے کمرے میں آکر چادر اتار کر دوپٹہ اوڑھا اور کچن میں جاکر چائے بنائی. فریج سے شامی کباب نکال کر جھٹ پٹ تل لیئے. ایک پلیٹ میں نفیس سے بسکٹ سیٹ کیئے اور ٹرالی سیٹ کرکے ڈرائنگ روم میں لے آئی جہاں اب نیہا بھی موجود تھی اور ہنس ہنس کر سب سے گپ شپ کر رہی تھی. ابیہا نے سب کو چائے پیش کی اور وہ اس بات کا اندازہ کئے بناء نہ رہ سکی تھی کہ پھپھو اور زبیر بھائی ولید اور شکیلہ بیگم کے آگے سخت احساس کمتری کا شکار ہورہے تھے.وہ صحن میں آکر تخت پہ بیٹھ گئی. چند ثانیے بعد ولید ڈرائنگ روم سے باہر آتا دکھائی دیا تھا وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی.
“ہاتھ دھونے ہیں” اس نے جلدی سے کہا ابیہا نے صحن کے ایک کونے میں لگے واش بیسن کیجانب اشارہ کیا اور خود جلدی سے اندر سے تولیہ لے آئی. ولید واش بیسن پہ جھکا منہ پہ پانی کے چھینٹے مار رہا تھا وہ اس سے ذرا فاصلے پہ کھڑی ہوگئی. ولید نل بند کرکے اسکی طرف مڑا اسکی ٹھوڑی سے پانی قطرہ قطرہ ٹپک رہا تھا اور سیاہ آنکھوں میں ہلکی سی سرخی دوڑ گئی تھی. ابیہا نے جلدی سے تولیہ اسکی جانب بڑھا دیا.
“تھینک یو.” اس نے مسکرا کر تولیہ تھام لیا.
“ویسے یہ گرین دوپٹہ گوکہ اس سوٹ کیساتھ میچ نہیں کر رہا مگر آپ پہ بہت اچھا لگ رہا ہے.” ہاتھ پونچھتے ہوئے وہ عام سے انداز میں بولا تھا. ابیہا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا کر ہلکا سا مسکرائی. ولید نے دلچسپی سے اسکی طرف دیکھا. “آئی لائیک یور ڈمپل.” وہ تولیہ اسکے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا تھا. اسی لمحے نیہا ڈرائنگ روم سے باہر آئی اور رک گئی. اسکی نظر ان دونوں پہ تھی. تولیے کا ایک سرا ابیہا کے ہاتھ میں تھا جبکہ دوسرا ولید کے. اور دونوں ایک دوسرے کیجانب دیکھ کر مسکرا رہے تھے شاندار سے ولید کی آنکھوں میں صرف ابیہا کا عکس تھا. بڑا پیارا منظر تھا. مگر نیہا کو ایک آنکھ نہ بھایا تھا. ایک لمحے کا فسوں تھا اگلے ہی لمحے ولید تولیہ اسے تھما کر پلٹا اور نیہا کیجانب ایک مسکراہٹ اچھال کر ڈرائنگ روم کیطرف چلا گیا تھا. ابیہا پلٹ کر مسکراتی ہوئی کمرے میں چلی گئی تھی. نیہا وہیں تخت پہ بیٹھ گئی. اسے ابیہا سے جلن سے محسوس ہونے لگی تھی.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: