Fizza Batool Urdu Novels

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool – Episode 6

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool
Written by Peerzada M Mohin
محبت ایسا دریا ہے از فضہ بتول – قسط نمبر 6

–**–**–

کاظم صاحب نے ابیہا کے نکاح کی تقریب کیلیئے کمرشل مارکیٹ میں ایک مناسب سا شادی ہال بک کروالیا تھا. گوکہ شکیلہ بیگم نے تو گھر پہ ہی نکاح کرنیکی تجویز دی تھی مگر اصل مسئلہ تھا کاظم صاحب کے اپنے خاندان کا. نکاح میں ہر ہر قریبی رشتے دار کے گھر کے سربراہ کو مدعو کرنا تو ناگزیر تھا. نہ نہ کرتے بھی 60 مہمانوں کے ناموں کی لسٹ تیار تھی اور اتنے سارے لوگوں کیلیئے گھر پہ انتظام کرنا قریب قریب ناممکن ہی تھا سو انہیں بہتر یہی لگا کہ ہال مخصوص کروا لیا جائے.
نکاح ہفتے کے روز تھا مگر دادو اور امی نے بدھ کے دن سے ہی ابیہا کو یونیورسٹی جانے سے روک دیا تھا. دادو کے مطابق جو لڑکیاں ہر وقت گھر سے باہر رہتی تھیں ان پہ دلہناپے کا روپ نہیں آتا. محلے کی لڑکیاں سر شام ہی اکٹھا ہوکر ڈھولکی بجانے لگتیں. گھر میں خوشیوں کا سماں تھا. نکاح سے ایک روز قبل روحینہ بذات خود نکاح کا جوڑا اور باقی ضروری چیزیں ڈراپ کرنے آئی تھی اور اس روز امی اور دادو نے اسے بھی ابیہا سے نہ ملنے دیا تھا انھوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ سسرال والوں کو اب دلہن کا چہرا نکاح والے روز ہی دیکھنے کو ملے گا. روحینہ نے اس بات کو خوب انجوائے کیا تھا. اسکے جانے کے بعد نکاح کا سامان دیکھا گیا جو کہ اس قدر شاندار تھا کہ سب کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں. نکاح کے جوڑے کیساتھ سونے کا ایک قدرے ہلکا مگر جوڑے سے بالکل میچنگ سیٹ تھا. اسکے علاوہ باقی سب گھر والوں کیلیئے بھی تحائف بھجوائے گئے تھے. امی اور دادو تو شکیلہ بیگم کی فراخدلی پہ نہال ہی ہوگئیں تھیں.
پھر نکاح کا دن آپہنچا. محلے کی پارلر والی ریحانہ باجی نے گھر آکر اسکو تیار کردیا تھا اور اب وہ مکمل تیار آئینے کے سامنے کھڑی تھی. آف وائیٹ غرارہ شرٹ میں اسکا نازک سا سراپا بہت جچ رہا تھا. سونے کے سیٹ کا نازک سا گلوبند اسکی اٹھی ہوئی گردن کی زینت بنا ہوا تھا. کانوں میں سونے کے لمبے آویزے جھول رہے تھے. اور پیشانی پہ ننھی سی طلائی بندیا جگر جگر کر رہی تھی. نفاست سے کئے گئے میک اپ نے اسکے سادہ سے نقوش کو بہت دلکش بنا دیا تھا. اسکے لمبے بالوں کا زبردست جوڑا بنا کر ریحانہ باجی نے اسکی ھدایت پہ سلور ستاروں بھرے دوپٹے کا ایک پلو سینے پہ پھیلا کر شانے پہ سیٹ کردیا تھا جبکہ دوسرا پلو سر پہ سیٹ کیا تھا. مہندی رچے ہاتھوں میں کانچ کی سلور چوڑیاں بھری ہوئی تھیں. وہ بلاشبہ بیحد جاذب توجہ اور دلکش نظر آرہی تھی. امی نے تو فوراً اسکی نظر اتاری تھی. دادو نے بھی اسکی بلائیں لے ڈالی تھیں. گہرے براؤن رنگ کے قدرے سادہ سے لمبے فراک اور چوڑی دار پاجامے میں لمبے بال پشت پہ کھولے ہوئے بناء کسی میک اپ کے کچھ اکتائی ہوئی سی نیہا بھی ہمیشہ کی طرح بیحد حسین نظر آرہی تھی مگر اسنے ایکبار بھی ابیہا سے بات نہ کی تھی بس چپ چاپ تیار ہوکر بیٹھ گئی تھی کسی کام کو بھی ہاتھ نہ لگایا تھا. نکاح کا وقت بعد نماز مغرب تھا ابو اور عامر تو صبح سے ہی انتظامات کا جائزہ لینے کو ہال کے کئی چکر لگا آئے تھے. عصر کے بعد ذرا دن ڈھلا تو ابو نے گاڑی آجانے کی اطلاع دی اور امی نے اسے سیاہ چادر اوڑھائی اور وہ سب گاڑی میں بیٹھ کر ہال کیطرف روانہ ہوگئے. وہاں پہنچ کر اسے برائیڈل روم میں بٹھا کر امی نے دادو کو بھی اسی کے پاس رہنے کی تلقین کی اور خود مہمانوں کو ریسیو کرنے ہال میں چلی گئیں. نہ نہ کرتے بھی کافی مہمان اکٹھا ہوگئے تھے. نکاح ویسے تو مردوں کا فنکشن گردانا جاتا ہے مگر اسکو کیا کیا جائے کہ ہمارے معاشرے میں جس گھر سے ایک فرد کو مدعو کیا جائے وہاں سے ایک کیساتھ ایک تو مفت میں آجاتا ہے سو یہی کچھ یہاں بھی ہورہا تھا اور اب اس جم غفیر کو دیکھ کر کاظم صاحب دل ہی دل میں شکر ادا کررہے تھے کہ انھوں نے ہال میں بکنگ کروائی تھی. خاندان سے سبھی قریبی لوگ آئے تھے مگر پھپھو نے نہ آنا تھا نہ وہ آئیں. اور یہ ایک ایسی انہونی تھی جس نے خاندان بھر کو باتیں بنانے کا بہترین موقع فراہم کردیا تھا. “چھوٹی کے نکاح میں بڑی کی سسرال نہیں آئی.. کوئی تو مسئلہ ہوا ہوگا. ورنہ سعیدہ آپا تو خاندان کی ہر تقریب میں موجود ہوتی ہیں.” کم و بیش سبھی عورتیں اسی قسم کی کھسر پھسر کر رہی تھیں دو ایک نے تو امی سے پھپھو کی بابت پوچھ بھی لیا اور امی بیچاری شرمندہ سی ہوتیں بس ٹال ہی گئی تھیں. بارات بالکل مقررہ وقت کیمطابق پہنچی تھی. شکیلہ بیگم نے اپنے خاندان میں سے صرف چند مرد حضرات کو دعوت دی تھی جبکہ قریبی لوگوں میں صرف ولید کی پھپھو کی ساری فیملی مدعو تھی سکندر اور شزاء بھی اپنا ہنی مون ٹرپ کینسل کرکے فنکش میں شرکت کیلیئے آگئے تھے. بہرحال بارات صرف پندرہ لوگوں پہ مشتمل تھی اور استقبال کرنے والے ساٹھ سے بھی زیادہ… ولید کے خاندان پہ ابیہا کے خاندان والوں کا پہلا امپریشن ہی اچھا نہیں گیا تھا. دوسری جانب روحینہ اور ولید کی پھپھو زاد علیشا کو دیکھ کر تو ابیہا کے خاندان کی عورتیں نے دانتوں تلے انگلیاں دبا لی تھیں. روحینہ سفید رنگ کی کافی ہیوی سی میکسی میں ملبوس تھی میکسی کی آستینیں پوری تھیں مگر دوپٹہ ندارد تھا اسنے بالکل ہلکا سا میک اپ کررکھا تھا اور نازک سی جیولری پہنے اس نے اپنے ڈائی کئے ہوئے اور لیئرز میں کٹے کمر تک آتے بالوں کو کرلی کروایا ہوا تھا وہ بالکل کسی چینی کی گڑیا کی مانند لگ رہی تھی جبکہ علیشا نے سفید رنگ کی ستاروں بھری میکسی پہن رکھی تھی جس کی آستینیں ندارد تھیں اور دوپٹہ…. بھلا سلیولیس پہ دوپٹے کا کیا کام. اسنے بھی کم و بیش روحینہ سے ملتا جلتا میک اپ ہی کررکھا تھا اور لئیرز میں کٹے کمر سے کچھ اوپر تک آتے بالوں کو گڑیوں کیطرح کرلی کروایا ہوا تھا. وہ ایک بے انتہا خوبصورت لڑکی تھی اور اس پر مستزاد اسکی ادائیں اور نزاکت. شزاء نے سلور کلر کی میکسی پہن رکھی تھی اور اسکی میکسی کا گلا پیچھے سے کافی گہرا تھا جس میں سے اسکی دودھیا کمر جھلک رہی تھی اور باقی تیاری اسکی بھی روحینہ اور علیشا سے کم نہ تھی. شکیلہ بیگم سفید رنگ کی سمپل سی ساڑھی میں ملبوس انتہائی سوبر سے انداز میں تیار ہوئی تھیں جبکہ ولید کی پھپھو نے ہلکے نیلے رنگ کا سادہ سا شلوار قمیص پہن رکھا تھا مگر ان دونوں خواتیں کے کانوں اور گلے میں پڑے ننھے ننھے ہیرے جگر جگر کر رہے تھے اور انہیں سب سے ممتاز دکھا رہے تھے. ابیہا کے خاندان کی بات کی جائے تو متوسط طبقے کی شادی شدہ خواتیں کیطرح میرڈ خواتیں نے اپنے اپنے جہیز یا بری کے جوڑے پہن رکھے تھے اور میکے اور سسرال کا سارا زیور پہن لینے کی فکر میں ہلکان ہوتی وہ خواتین درحقیقت اس سادہ تقریب کیمطابق تیار نہ ہوئی تھیں. کنواری لڑکیاں بھی چم چماتے ملبوسات پہنے جھلملاتے دوپٹے سروں پہ لئے اور شوخ رنگ لپ اسٹکس لگائے ہوئے متوسط طبقے کے اعلٰی ترین علمبردار لگ رہی تھیں. دوپٹے کے بغیر آنیوالی ولید کے خاندان کی یہ دو لڑکیاں جن میں سے ایک اسکی سگی بہن تھی ابیہا کے خاندان کی عورتوں کیلیئے تو کسی شاک سے کم نہ تھیں. رہی سہی کسر آف وائیٹ شلوار قمیض اور سیاہ ویسٹ کوٹ میں ملبوس ولید کی شاندار شخصیت نے پوری کردی اور وہاں موجود ایک ایک شخص کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ یہ سراسر لو میرج ہے ورنہ کہاں ابیہا اور کہاں یہ شاندار اور امارت چھلکاتے لوگ.
“اف یہ ابیہا کا دولہا ہے.. اوہ اتنا خوبصورت..”
“اف یہ تو ہیرو لگتا ہے”
“مامی بتا رہی تھیں کہ فوجی ہے.”
“ابیہا کی قسمت تو بڑی شاندار ہے.”
“ارے پکی لو میرج ہے ورنہ کہاں ابیہا اور کہاں یہ ٹام کروز.”
ابیہا کی کنواری کزنز میں اسی قسم کی چہ میگوئیں ہورہی تھیں.
———————
“ابیہا کاظم بنت محمد کاظم ملک آپکو ولیدحسن ولد حسن احمد خان بعوض حق مہر پچیس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کے نکاح میں دیا جاتا ہے. کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے.” قاضی صاحب اس سے مخاطب تھے. ابیہا نے اپنے ٹھنڈے یخ ہاتھ میں دبے امی کے ہاتھ کو اور مضبوطی سے تھام لیا اور کپکپاتی آواز میں بولی”جی قبول ہے” ان الفاظ کی ادائیگی کیساتھ ہی آنسو کسی ریلے کی صورت اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے. قاضی صاحب نے یہی سوال دوبار پھر دہرایا اور اس نے بہتے آنسوؤں کیساتھ “قبول ہے” کا عندیہ دیا تھا. ابو نے نکاح کا رجسٹر اسکے سامنے کرکے اسے پین تھمایا. اسنے کانپتے ہاتھوں کیساتھ دستخط کئے ابو نے نم آنکھوں کیساتھ اسکے سر پہ ہاتھ رکھا اور قاضی صاحب اور گواہان کے ہمراہ چلے گئے. انکے جاتے ہی ابیہا امی کے گلے لگ کر بے طرح رو پڑی تھی اور امی جو صبح سے ہی نجانے کتنی بار چپکے چپکے آنسو بہاتی رہی تھیں اب تو انکے ضبط کے بندھن بالکل ہی ٹوٹ گئے. ایک روایتی سامنظر بن گیا تھا. چھوٹے سے برائیڈل روم میں موجود سبھی عورتوں کی آنکھیں نم تھیں. شکیلہ بیگم نے امی کو ابیہا سے الگ کیا اور انہیں دلاسا دینے لگیں جبکہ روحینہ اسکے پاس بیٹھ کر اسے چپ کروانے لگی کچھ دیر تک یہ رونے کا سلسلہ چلا پھر عامر نے آکر نکاح مکمل ہوجانے کی اطلاع دیتے ہوئے ابیہا کے سر پہ ہاتھ رکھا تو وہ اسکا ہاتھ تھام کر پھر سسکنے لگی تھی. عامر اسکے پاس بیٹھ کر اسے چپ کروانے لگا.”چپ کرجاؤ آبی ورنہ میک اپ خراب ہوجائیگا.”وہ مدھم آواز میں کہہ رہا تھا. ابیہا نے اسے گھور کے دیکھا.”ولید بھائی اتنے شاندار لگ رہے ہیں ناں قسم سے انکو دیکھ کر سارا رونا بھول جاؤگی.”وہ اب اسے چھیڑ رہا تھا. “فضول باتیں مت کرو”, وہ روٹھے روٹھے انداز میں بولی.”سچی کہہ رہا ہوں اور مجھے پتہ ہے تم کیوں رو رہی ہو. مگر تم فکر نہ کرو مینو میں بریانی بھی ہے ابھی کھانا لگ جائےگا تب تم کھا لینا” عامر کی شرارتی سے بات پہ وہ بے اختیار ہنس دی. “پٹوگے تم مجھ سے میں کیا بریانی کیلیئے رو رہی ہوں”, اس نے اسے گھور کے دیکھا. ” تو اور کہا ہمارے لیئے رو رہی ہو. نہ جی ہم سے تو اتنی محبت نہیں تمہیں چڑیل. اصل میں تو تمہارے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہیں اتنا ہینڈسم دولہا جو ملا ہے.” وہ آہستہ آواز میں بول رہا تھا. ابیہا نے اسکے شانے پہ ایک دھپ لگائی وہ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا. “چلیں آنٹی کھانا لگ گیا ہے آئیں روحینہ آپی.” عامر نے شکیلہ بیگم اور روحینہ کو مطلع کیا تو وہ دونوں اسکے ہمراہ باہر نکل گئیں. کچھ لمحوں بعد ویٹر انکے سامنے بھی کھانے کی میز سجا گئے دادو کو کھانا سرو کرنے کے بعد امی نے پلیٹ میں بریانی نکالی اور اپنے ہاتھوں سے اسے کھلانے لگیں. امی کی اس والہانہ چاہت پہ اسکا دل سرشار ہوگیا تھا. اسے آج اندازہ ہواتھا کہ اسے ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ کرنیوالی اسکی ماں در حقیقت اس سے کتنی محبت کرتی تھی. کھانا کھانے کے بعد امی اور دادو اٹھ کے چلی گئیں اور اسی لمحے روحینہ اور علیشا آدھمکیں. “بس تیاری پکڑ لو ابھی تمہاری کزنز اور نیہا آتی ہیں پھر اسٹیج پہ لیکر جائینگے تمہیں.” روحینہ نے آتے ہی اسے بتایا. وہ کچھ نہ بولی.
“بہت مبارک ہو آپکو اب آپ مسز ولید حسن بن گئیں ہیں.” علیشا نے مسکرا کر کہا تھا. وہ بس مسکرا کے رہ گئ.
“ولی از لکنگ سو ہینڈسم یار میں نے تو اسے آج دیکھا ناں تو آئی واز ونڈر سٹرک.. ہی واز لائیک کیا ہوا عشی. اور میں نے کہا یار آئی جسٹ مسڈ یو. مجھے پہلے کیوں نہیں پتہ لگا کہ تم اتنے ہینڈسم ہو.” علیشا آدھی انگریزی آدھی اردو میں تیز تیز بولتی روحینہ سے مخاطب تھی ابیہا بےاختیار ہی اسکی طرف دیکھنے لگی. “ولی ہنسنے لگ گیا کہتا ہے بس بی بی اب میں اپنے تمام جملہ حقوق ابیہا کے نام لکھوا چکا ہوں.” علیشا کی بات کے اختتام پہ روحینہ کا قہقہہ بلند ہوا تھا. علیشا بھی نزاکت سے ہنس رہی تھی.
“ولی بھیا بہت خوش ہیں” روحینہ بولی.
“کچھ زیادہ ہی. بائے داوے ابیہا یو آر لکنگ سو پریٹی یار اس سے پہلے میں نے آپکو دو بار دیکھا تھا مگر آج تو آپ بہت ڈفرنٹ سی لگ رہی ہو.” علیشا نے اسے کہا اور ساتھ ہی روحینہ کیطرف متوجہ ہوگئی.”یار اس بیچاری کی آنکھوں میں ابھی تک آنسو ہیں اور ادھر ولی کی خوشی کا کوئی عالم نہیں قاضی صاحب پوچھ رہے ہیں آپکو نکاح قبول ہے اور ولی کی پوری بتیسی باہر.”علیشا کی اطلاع پہ وہ بھی اپنی بےاختیار سی ہنسی کو روک نہ سکی تھی. اسی لمحے امی کے ہمراہ نیہا اور ابیہا کی کزنز آگئیں. امی نے روایت کیمطابق سرخ رنگ کا ایک زرتار دوپٹہ ابیہا کو گھونگھٹ کیطرح اوڑھا دیا اور پھر ابیہا کو ہال میں لایا گیا. نیہا اور روحینہ نے اسے دائیں بائین سے تھاما تھا باقی سب لڑکیاں بھی ساتھ ساتھ تھیں. سب سے آگے آگے مووی میکر چل رہا تھا. یہ مووی میکر جسکا نام مون تھا ولید کا ذاتی دوست تھا. ہال میں موجود تمام حاضرین کی نگاہیں ابیہا پہ تھیں جسکا چہرا گھونگھٹ کی اوٹ میں تھا. اور وہ سہج سہج کر قدم اٹھا رہی تھی. اسٹیج کے قریب پہنچ کر جیسے ہی اس نے اسٹیپ پہ قدم رکھا ولید جلدی سے اٹھ کر آگے بٹھا اور ذرا سا جھک کر اپنا ہاتھ اسکی جانب بڑھا دیا. روحینہ,شزاء اور علیشا نے خوب ہوٹنگ کی تھی جبکہ ابیہا کے خاندان میں کھسر پھسر ہونے لگی تھی. اس نے گھونگھٹ کی اوٹ سے اپنے شریک زندگی کی پھیلی ہوئی ہتھیلی کیطرف دیکھا پھر جھجھکتے ہوئے اپنا حنائی ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھما دیا. اسٹیج کی قریب اچھا خاصا رش لگ گیا تھا. اور شزاء, علیشا اور روحینہ کی ہوٹنگ. وہ نروس سی ہوتی ولید کے ہاتھ میں ہاتھ تھمائے اسٹیج پہ آئی. مون کی ہدایت پہ وہ دونوں کچھ دیر ہاتھ میں ہاتھ دئیے کھڑے رہے پھر اسکی ھدایت پہ وہ دونوں بیٹھ گئے. سب سے پہلے شکیلہ بیگم اسٹیج پہ آئیں اور ابیہا کو پیار کرکے اسکی کلائی میں ایک بریسلٹ پہنایا پھر انہوں نے ایک مخملیں ڈبیا ولید کو تھمائی اور ولید نے اس میں سے ہیرے کی ایک انگوٹھی نکال کر ابیہا کے بائیں ہاتھ کی تیسری انگی میں پہنائی تھی. روحینہ اور علیشا بھی اسٹیج پہ چڑھ آئی تھیں.
“ممی پلیز یہ گھونگھٹ تو ہٹوادیں ناں.” روحینہ بولی.
“ہاں مامی اتنی پیاری لگ رہی ہے ابیہا اس گھونگھٹ کیوجہ سے سارا چارم خراب ہوگیا ہے.” علیشا نے بھی تائید کی.
“بیٹا یہ انکی کوئی رسم ہوگی کہیں انکی والدہ برا نہ مان جائیں.” شکیلہ بیگم بولیں. ابیہا کا دل گھبرانے لگا اتنے میک اپ کیساتھ سارے ہال کے سامنے کھلے منہ بیٹھنے کا خیال ہی اسے پریشان کرنے کو کافی تھا.
“یونہی ٹھیک ہے ناں” ولید جلدی سے بول اٹھا.
“کتنے مولوی ہوتم” علیشا نے اسے گھورا.
“میری بیگم صاحبہ اسی طرح کمفرٹیبل فیل کرتی ہیں.” ولید بولا.
“تم خود ہی بہت شاونسٹک ہو.” علیشا ناک چڑھا کر بولی
“تمہاری طرح تو نہیں ہوں ناں پورا ہال الوؤں کیطرح محترمہ کو گھور رہا ہے” ولید نے اسکے عریاں بازوؤں پہ چوٹ کی تھی. جواباً وہ کھکھلا کے ہنسنے لگی تھی.
“ولی”شکیلہ بیگم نے ولید کو گھرکا تو وہ کندھے اچکا کر رہ گیا.
کچھ دیر بعد مووی بننے کا سلسلہ شروع ہوگیا. ابیہا کے رشتےداروں کی ایک فوج تھی جو باری باری سے آکر اسٹیج پہ ابیہا اور ولید کیساتھ بیٹھتے دونوں کو سلامی دیتے اور چلتے بنتے. ذرا دیر کو یہ سلسلہ تھما تو ولید نے دھیرے سے اسے ٹہوکا دیا.
“اتنی چپ کیوں ہو¿”
“کیا بولوں.” وہ مدھم آواز میں بولی.
“مبارک ہی دیدو.”
“جی مبارک ہو آپکو.”
“آپکو بھی مبارک ہو جناب. ویسے تم کیسی لگ رہی ہو بیا¿ تمہارا چہرا دیکھنا ہے مجھے.”
“تصویریں دیکھ لیجیئے گا روحینہ کے پاس.
” اونہوں تصویر نہیں رئیل میں.” وہ مُصر ہوا تبھی ابیہا کی دور پار کی خالہ اسٹیج پہ تشریف لے آئیں اور گفتگو کا سلسلہ رک گیا. انھوں نے ابیہا اور ولید کو سلامی دی اور اسٹیج سے اتر گئیں.
“ویسے یہ دولہا بننا تو بڑے فائدے کا کام ہے بیٹھے بیٹھے اتنے پیسے اکٹھے ہوجاتے ہیں.”ولید مدھم آواز میں بولا تھا. وہ بے اختیار ہنس پڑی.
” تو آپ دو شادیاں کیجیئے گا.” اس نے آہستگی سے جواب دیا.
“صرف دو… میں نے تو چار کا پلان کیا ہوا ہے.” وہ شرارتی انداز میں بولا. ابیہا صرف ہنس کہ رہ گئی. مہمانوں کے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا. روحینہ اور علیشا ان دونوں کو پکچرز بنوانے کیلیئے برائیڈل روم میں لے آئیں.
“میں مون کو بلاتی ہوں. بٹ ابیہا کیا تم ودآؤٹ گھونگھٹ پکچرز بنوالوگی¿” روحینہ نے اسکا گھوگھٹ اتارتے ہوئی پوچھا. ابیہا نے ولید کیطرف دیکھا اور وہ جلدی سے بول پڑا. “یار کیمرہ لے آؤ ناں ممی سے اور تم خود بنالو پکچرز”
“ہاں ہاں مولانا صاحب کی بات مان لو روحی.” علیشا شرارت سے بولی. وہ دونوں روم سے چلی گئیں. ولید متبسم نظروں سے ابیہا کیطرف دیکھ رہا تھا. جس کا روپ ہی آج نرالا تھا.
“یو آر لکنگ سو بیوٹی فل بیا” وہ اسے کندھوں سے تھام کر بولا تھا. ابیہا نظریں جھکا کر رہ گئی.
“آئی لو یو بیا.. تم سوچ بھی نہیں سکتیں کہ میں تمہیں کتنا چاہتا ہوں.” وہ ایک جذب کے عالم میں کہہ رہا تھا. اور ابیہا کے دل کی سر زمین پہ ولید کی محبت ہلکی پھوار کی مانند کن من برسنے لگی تھی.
“تم بہت خوبصورت ہو بیا.” ولید نے اسکا چہرا دونوں ہاتھوں میں تھام کر کہا تھا. ابیہا کو لگا وہ واقعی بہت حسین ہے… ولید کے ہونٹوں نے نرمی سے اسکی پلکوں کو چھوا تھا وہ بے طرح شرما کر رخ موڑ گئی تھی. تبھی روحینہ اور علیشا ناک کرکے اندر آگئیں. کیمرہ روحینہ کے ہاتھ میں تھا. “چلیں جی ریڈی.” وہ کیمرہ سیٹ کرتے ہوئے بولی.
“کندھے پہ ہاتھ تو رکھ لو تمہاری ہی بیوی ہے.” علیشا جلدی سے بولی. ولید نے ہنس کر ابیہا کے شانے پہ بازو پھیلایا تھا.
“سمائل کرو ابیہا یار” روحینہ بولی.
“تھوڑا سا ہنس لو وائفی.” ولید نے مدھم سرگوشی کی تھی ابیہا نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ولید کے ہونٹوں پہ مدھم سی مسکراہٹ تھی اوہ وہ سر جھکائے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا. ایک مدھم سی مسکان نے ابیہا کے ہونٹوں کو چھوا تھا اور کیمرے کی آنکھ نے یہ پیارا سا منظر جھٹ سے محفوظ کرلیا تھا.

رات کے دو بجے وہ عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر صحن میں تخت پہ آبیٹھی. اکتوبر کا اختتامی ہفتہ چل رہا تھا اور رات کے وقت فضا میں بڑی خوشگوار خنکی پھیل جاتی تھی. ابیہا کا دل بے حد مسرور تھا. ولید کی محبت نے اسکی روح کو سرشار سا کردیا تھا. وہ شاندار سا انسان جب اسکے ہمراہ کھڑا تھا تو سب دیکھنے والوں کی آنکھوں میں کیسا رشک تھا.. ستائش تھی.. حسد تھا.. حسرت تھی.. ابیہا کاظم کو اپنی خوش بختی پہ یقین نہ آرہا تھا. اسکا رواں رواں اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا. وہ وہیں تخت پہ نیم دراز ہوکر اپنی انگلی میں پڑی انگوٹھی کو محبت سے تکنے لگی.
“اب تم کیا میرے ساتھ ایک کمرے میں سونا بھی اپنی شان کیخلاف سمجھتی ہو.” نیہا کی طنزیہ سی آواز پہ اسنے چونک کر گردن گھمائی پھر اٹھ بیٹھی.
“نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں. میں ایسے ہی ادھر لیٹ گئی تھی. نیند نہیں آرہی ناں.” وہ مسکرا کر بولی. نیہا اسکے ساتھ ہی بیٹھ گئی.
“ہوں اب بھلا نیند کیوں آئے گی.” اسکے لہجے میں طنز تھا یا تلخی وہ اندازہ نہ کر پائی تھی. “ویسے سارا خاندان باتیں بنا رہا تھا.”
“کیوں باتیں کیوں بنارہا تھا¿” اس نے حیرانگی سے پوچھا.
“کیا بچوں جیسی باتیں کرتی ہو ابیہا. جس قسم کے کپڑے تمہاری نند اور جیٹھانی صاحبہ پہنے ہوئے تھیں. اور وہ جو ولید کی کزن تھی اس نے تو خیر اگلی پچھلی حدیں ہی توڑ دی تھیں. اس سب کے بعد باتیں نہیں بنیں گی تو اور کیا ہوگا.” اسکے تجزیئے پہ ابیہا نے سر جھکا لیا. بات تو سچ تھی.
“اور پھر ولید کو ایٹ لیسٹ تمہارا ہاتھ پکڑ کر تمہیں اسٹیج پہ نہیں لانا چاہیئے تھا. ہماری فیملی میں اس قسم کی اوچھی حرکتوں کو پسند نہیں کیا جاتا.”
“انکی اور ہماری فیملی کے ماحول میں زمین و آسمان کا فرق ہے آپی.” وہ کمزور لہجے میں بولی.
“ٹھیک ہے یار لیکن اتنا تو پتہ ہونا چاہیئے ناں کہ نکاح کا فنکشن ہے کم سے کم گلے میں ہی دوپٹہ ڈال لیتیں. نکاح کے وقت تمہاری ساس صاحبہ کی ساڑھی کا چھوٹا سا پلو سر تک نہیں پہنچ پارہا تھا اور نند صاحبہ نے تو خیر دوپٹے کا جھنجھٹ ہی نہیں پالا تھا. اور وہ تمہاری جیٹھانی.. ایک تو اسکی میکسی کا پیچھے کا گلا اتنا گہرا تھا اس پر ستم یہ کہ اس نے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا یعنی کہ سارے زمانے کو کھلی کھلی دعوت نظارہ… اور وہ علیشا توبہ استغفار. اتنی تیز لڑکی ہے.” نیہا نے بولتے بولتے کانوں کو ہاتھ لگائے.”تمہیں پتہ ہے جب بارات آئی تھی تو بالکل ولید کے بازو سے لگ کر آکھڑی ہوئی تھی. اتنی اوچھی لڑکی میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھی.” ابیہا کو بھی علیشا کی بولڈ نیس کچھ خاص پسند نہ آئی تھی. سو وہ نیہا کی کسی بات کی نفی نہ کرسکتی تھی.
“سارا خاندان باتیں بنا رہا تھا کہ ابیہا کی لو میرج ہے. اور صاف ظاہر بھی تھا. تمہیں تو سارے خاندان میں کوئی پسند نہیں کرتا. سب کو حیرت تھی کہ اتنے امیر لوگ اتنا شانداز لڑکا ابیہا کو کیسے مل گیا. اور یار بات تو سچ ہی ہے. ولید نے تمہیں خود ہی پسند کیا ہے ورنہ اسکی امی کا دماغ تو نہیں خراب تھا کہ تمہیں اپنی بہو بناتیں.” نیہا کی باتیں اسکے دل پہ برچھی کی طرح وار کر رہی تھیں.
“پھپھو اور زبیر بھائی کیوں نہیں آئے تم نے زبیربھائی سے پوچھا نہیں¿” چند ثانیے کی خاموشی کے بعد اسنے نیہا کو مخاطب کیا.
“پوچھا تھا.” نیہا نے مرے مرے لہجے میں جواب دیا.
“کیا کہا انھوں نے¿”
“کہنا کیا ہے. وہی پرانے راگ کہ ہماری ناک کٹ گئی برادری میں وغیرہ وغیرہ.. ان مردوں کی ناک ناں بہت لمبی ہوتی ہے بات بات پہ کٹ جاتی ہے.. ہونہہ.” نیہا نے نخوت سے کہا
“اب کیا ہوگا¿” وہ متفکر سی پوچھنے لگی.
“شاکرہ آنٹی کے بیٹے سے میری شادی ہوگی اور کیا ہونا ہے” نیہا سر جھٹک کر بولی.
“میں خود زبیر بھائی سے بات کرونگی”
“دفع کرو. تمہاری تو وہ شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے. اور پھر جتنی ذلت آج کے فنکشن میں میں نے زبیر اور پھپھو کے نہ آنے کیوجہ سے سارے خاندان کے سامنے اٹھائی ہے ناں اسکے بعد میں نے سوچ لیا ہے کہ زبیر نامی انسان کیلیئے اب میری زندگی کے سب دروازے بند ہوگئے ہیں.” نیہا کا لہجہ قطعی تھا.
“میری وجہ سے تمہاری زندگی کی سب خوشیاں چھن گئیں.” وہ ملول ہوگئی
“یار جو بھی ہوا.. لیکن میں نے تو زبیر سے ایک ہی بات کی کہ آپکا ایشو ابیہا کیساتھ تھا ناں تو آپ نے ہر بات کی سزا مجھے کیوں دی. تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا اپنی بہن کو سمجھا لو ورنہ نتائج تمہی کو بھگتنے پڑیں گے. اور یار دیکھو پھپھو اور زبیر کو تم سے مسائل تھے میں تو یونیورسٹی نہیں جاتی میں تو لڑکوں سے نہیں ملتی مگر انہوں نے سزا مجھے دی. اتنے دنوں سے میں سولی پہ لٹکی ہوئی ہوں.ہر لمحہ مجھے ایک بات کا دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں زبیر مجھ سے منہ نہ موڑلیں. میرا تو کوئی قصور نہیں میں تو گھر کی چاردیواری میں شریفانہ زندگی گزار رہی ہوں بالکل زبیر کی پسند کے سانچے میں ڈھل گئی ہوں مگر انہوں نے کیا کِیا. آج سارے فنکشن میں ہر ہر رشتے دار نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا منگیتر کہاں ہے. تمہاری ساس کیوں نہیں آئیں. میرا دل کررہا تھا کہ زمین پھٹے تو میں اسمیں سما جاؤں. کیا محبت اسطرح نبھائی جاتی ہے.” نیہا کی آواز مدھم تھی اور اسکی خوبصورت آنکھوں سے آنسو قطرہ قطرہ نکل کر اسکے گال بھگو رہے تھے. لاؤنج سے آتی ملگجی سی روشنی میں وہ دونوں بہنیں بھیگے گال لیئے اک دوسرے کے روبرو بیٹھی تھیں. اور ان آنسوؤں میں نجانے غلط فہمیاں دھل رہی تھیں یا بڑھ رہی تھیں.
“میں نے ہر ہر بات پر پھپھو اور زبیر کا ساتھ دیا شاید کہ انہیں میرے خلوص کا یقین آجائے. مگر…” نیہا دونوں ہاتھوں میں چہرا چھپا کر سسکنے لگی تھی. ابیہا نے دکھ بھری نگاہ سے اپنی ماں جائی کیطرف دیکھا. ہر کسی کو اپنے اپنے دکھ رلاتے ہیں.. اپنے گناہ اور غلطیاں کسی کو نہیں رلاتی… اس نے اپنی بہن کو گلے سے لگا لیا. وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی تھی. ابیہا آنسو بہاتے ہوئے اسکی پشت پہ ہاتھ پھیرنے لگی تھی. “چپ کرجاؤ آپی. میں تمہارا دکھ سمجھ سکتی ہوں.”
“تم کیسے سمجھ سکتی ہو.. تمہاری لائف تو سیٹ ہے ہمیشہ سے بیسٹ لائف گزارتی رہی تم تعلیم بھی حاصل کررہی ہو تمہاری خاطر ابو نے سارے خاندان سے بغاوت مول لے لی اتنا شاندار لائف پارٹنر بھی مل گیا. مسائل تو میری زندگی میں ہیں. تعلیم میری مکمل نہیں گھر کے کام کاج کر کر کے ہاتھ گھس گئے ایک مرد کو پوجا تو وہ بھی از حد ہرجائی نکلا.” نیہا اس سے الگ ہو کر تیز لہجے میں بولتی گئی.
“ہم مڈل کلاس لڑکیاں بھی عجیب ہوتی ہیں. ہمارے دکھ بھی عجیب ہوتے ہیں اور خوشیاں بھی. مستقبل کی طرف سے ان سیکیورٹی تو ہم ماں کے پیٹ سے ساتھ لاتی ہیں. اور بچپن سے ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ایک شوہر نامی مخلوق ہماری زندگیوں کے ہر دکھ درد ہر رسائی نارسائی اور ہر تشنہ کام آرزو کا ازالہ کردیگی… اور ہم اس آس کا دامن تھامے دو دو ٹکے کے مردوں کے قدموں میں اپنا آپ رول دیتی ہیں. آپی اگر ہم مرد کی بجائے رب پہ بھروسہ کرلیں تو یہ مایوسیاں اور ناکامیاں ختم ہوجائیں. مگر رب پہ بھروسہ تو ہماری تربیت کا حصہ ہی نہیں ہوتا.” ابیہا مدھم آواز میں بول رہی تھی. اور اسکے آنسو ایک تواتر سے بہتے چلے جارہے تھے.
“یہ فلسفے تم بول سکتی ہو کیونکہ تمہاری زندگی بہترین ہے مگر میرا دل ان فلسفوں سے نہیں بہل سکتا.” نیہا نے کندھے اچکا کر کہا اور اٹھ کر گھر کے اندر چلی گئی تھی. دھندلی سی روشنی میں ابیہا کا وجود تنہا رہ گیا تھا.
——————–
“اف کن پینڈو اور جاہلوں میں رشتہ کردیا ولی کا آپ نے آنٹی.” شزاء نے ناک چڑھا کر کہا. وہ سب ابھی گھر پہنچے تھے ولید کو ایک ضروری ای میل کرنا تھی سو وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا. جبکہ باقی سب سٹنگ روم میں براجمان تھے.
“میں نے نہیں کیا. یہ ولی کی اپنی پسند ہے.” شکیلہ بیگم نے اپنے کانوں سے ننھے ننھے ہیرے کے ٹاپس اتارتے ہوئے جواب دیا.
“سیریسلی ممی! انتہا کی جاہل فیملی ہے ولی کی عقل پہ بھی پتھر ہی پڑگئے ہیں.” سکندر نے کہا
“ابیہا اچھی لڑکی ہے.” روحینہ بولی.
“کم آن روحی! وہ لڑکی کہیں سے بھی ولی کے قابل نہیں لگتی. اور اچھی لڑکی سے کیا مراد ہے تمہاری . کیا دنیا میں اسکے علاوہ کوئی اور اچھی لڑکی نہیں ہے¿” شزاء نے نخوت سے کہا.
“بیٹا میں تو بچوں کی آزادی کی قائل ہوں جہاں ولید نے کہا وہاں کروادیا انکا نکاح.باقی کی زندگی تو انہوں نے ہی گزارنی ہے سو وہی جانیں.” شکیلہ بیگم کے لہجے میں لاہرواہی تھی.
” بٹ ممی ابیہا کے خاندان کو تو ہم اپنے حلقئہ احباب میں متعارف تک نہیں کرواسکتے اور اسپیشلی وہ لڑکی.. اسکا تو بالکل بھی ولی کیساتھ کوئی جوڑ نہیں بنتا.” سکندر بولا.
“تو اور کیا. اتنے میک اپ جیولری اور زبردست ڈریس کیساتھ تو کوئی بھی لڑکی اچھی لگنے لگ جاتی ہے. شکل سے ہی وہ اتنی دبو سی لگتی ہے ایسے گھونگھٹ نکال کر بیٹھی ہوئی تھی کہ پتہ نہیں سب کے سب اسے کھا جائینگے. اوپر سے اتنی پینڈو فیملی.. مائی گاڈ.. مجھے تو یہ سوچ سوچ کر ہی وحشت ہو رہی ہے کہ اب ان لوگوں کا ہمارے گھر بھی آنا جانا رہے گا.” شزاء نے نخوت سے کہا تھا.
“ایکسکیوزمی شزاء بھابھی… یہ صرف آپکا نہیں میرا بھی گھر ہے. اور میری بیوی کا بھی.” ولید اچانک ہی بولتا ہوا اندر آیا تھا. وہ شزاء کی گفتگو کا ایک ایک حرف سن چکا تھا.
“سو” شزاء نے لاپرواہی سے شانے اچکائے.
“سو یہ کہ میری بیوی کے متعلق زہر افشانیاں کرنا بند کردیں.” وہ چبا چبا کر بولا.
” واٹ دا ہیل.. آسمان سے اتری حور پری ہے کیا تمہاری بیوی.” شزاء تپ گئی تھی.
” جی بالکل.. جنت کی حور ہے وہ میری لیئے.” وہ ایک بازو کمر کے پیچھے باندھے تن کر کھڑا تھا.
” واؤ واٹ آ جوک مڈل کلاس کی ایک عام سی شکل و صورت والی لڑکی نے کیپٹن ولید حسن کو اسطرح الو بنایا ہے کہ تمہیں وہ جنت کی حور لگنے لگی ہے واہ…” شزاء کا انداز مضحکہ اڑانے والا تھا.
“مڈل کلاس کی وہ عام سی شکل و صورت والی لڑکی حیا اور پاکیزگی میں بہت سوں سے ہزار ہا درجے بہتر ہے.”
” ارے جاؤ یہ شرم و حیا کے ڈھکوسلے ان مڈل کلاس لڑکیوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتے ہیں امیر لڑکوں کو پھانسنے کیلیئے.”شزاء نے حقارت آمیز انداز میں کہا.
“بھابھی پلیز.” ولید نے ضبط سے کہا.
” کس قسم کی حیا کی بات کرتے ہو تم.. اگر ابیہا باحیا ہے تو کیا ہم بے حیا ہیں..¿” شزاء بولی.
“اس بات کا جواب آپکو معلوم ہونا چاہیئے. اور آپکا لباس ہی سب کچھ بتانے کو کافی ہے.” ولید کا لہجہ طنزیہ تھا.
“اوہ شٹ اپ… میں کیا پہنتی ہوں یہ میرا پرسنل میٹر ہے اور حیا تو دل میں ہوتی ہے.” وہ منہ بنا کر بولی.
“سوری ٹو سے بھابی لیکن حیا کے یہ اسٹینڈرڈز آپ نے خود بنائے ہیں اللہ نے نہیں.”
“ولید…” شکیلہ بیگم نے اسے ڈپٹا.
“ایک سیکنڈ ممی..” اس نے ہاتھ اٹھا کر انہیں خاموش کروایا. “بھابھی ماڈرن ازم کے نام پہ دوپٹہ اتار کے الماری میں رکھ دینا اور خود کو عریاں کرکے یہ کہنا کہ حیا تو دل میں ہوتی ہے. تو بھابی میں ایسی منافقت کو نہیں مانتا.” ولید کا لہجہ تلخ تھا.
“جسٹ شٹ اپ.. تم اس جاہل اور گھونگھٹ میں چھپی ہوئی لڑکی کی خاطر میری انسلٹ کررہے ہو. شزاء سکندر کی..میں یہ سب برداشت نہیں کرسکتی.” شزاء پاؤں پٹختی ہوئی کمرے سے چلی گئی تھی.
“شیم آن یو ولید… وہ تمہاری بڑی بھابھی ہے کچھ تو تمیز ہونی چاہیئے تمہیں یا نئی نویلی بیوی نے سب کچھ بھلا دیا. اور ممی شزاء کیساتھ اسنے جو بکواس کی ہے ناں اسکی معافی اسے مانگنی پڑیگی.” سکندر انگلی اٹھا کر وارننگ جاری کرتا ہوا کمرے سے نکل گیا تھا.
“کیا ضرورت تھی آپکو شزاء سے جھگڑا کرنیکی.” شکیلہ بیگم بولیں.
“میں نے جھگڑا نہیں کرنا تھا مگر انکی باتیں ہی ایسی تھیں.” ولید غصے سے بولا.
“آپکو برداشت کرنا چاہیئے تھا.”
“میں اپنی بیوی کے متعلق کوئی فضول بات نہیں سن سکتا” وہ ہاتھ اٹھا کر قطیعت سے بولا.
“رہنے دیں ممی انکے اسٹینڈرڈز اب بہت ہائی ہوگئے ہیں.. ایک باحیا بیوی جو مل گئی ہے انہیں.ہونہہ.” اس سارے عرصے میں خاموش بیٹھی روحینہ یکدم بول اٹھی تھی اسنے لفظ ‘باحیا’ کو کافی چبا چبا کر ادا کیا تھا اور پھر وہ وہاں رکی نہیں تھی. اسکےجاتے ہی ولید نے عجیب سی نظروں سے شکیلہ بیگم کیطرف دیکھا.
“ہمارے گھر کا اپنا ماحول ہے ولید ہم جاہل عورتوں کیطرح چادر میں لپٹ کر گھر کی چار دیواری میں قید ہوکر زندگی نہیں گزار سکتیں. افسوس کہ آپکے الفاظ کی تلخی نے آج سب کے دل توڑ دیئے ہیں.” شکیلہ بیگم نے ملامتی انداز میں کہا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتی کمرے سے چلی گئیں.
چند گھنٹے قبل اک نئے رشتے میں بندھنے والے ولید نے اپنے خون کے رشتوں کا ایک بالکل نیا اور عجیب ترین روپ دیکھا تھا. وہ کمرے کے وسط میں بالکل تنہا کھڑا رہ گیا تھا.
—————————-
اگلے روز اتوار کا دن تھا. نیہا نے صبح صبح واشنگ مشین لگالی وہ بھی اسکی مدد کرنے لگی. صحن میں ایک جانب واشنگ مشین چل رہی تھی تو ایک جانب میلے کپڑوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا. ابیہا واشنگ مشین سے کپڑے نکالی جاتی اور نیہا واش بیسن پہ کھڑی تنھارتی جاتی عامر کو دھلے کپڑے سوکھنے کیلیئے چھت پہ پھیلانے پہ معمور کیا گیا تھا بڑے دنوں بعد ان تینوں کی ہنسی اس چھوٹے سے آنگن میں گونج رہی تھی. امی اور دادو بھی صحن میں تخت پہ آبیٹھیں. دفعتاً اطلاعی گھنٹی بجی تو عامر نے دوڑ کر گیٹ کھولا. ابیہا اور نیہا ایک دوسرے پر پانی کے چھینٹے اڑاتی ہنستی جارہی تھیں جبھی عامر نے نعرہ لگایا.”ولید بھائی” اور یکلخت ان دونوں کی قل قل کرتی ہنسی میں بریک لگ گئی. ولید بے تکلفی سے گیٹ پار کرکے اندر آیا. نیہا تو جھپاک سے کمرے میں بھاگ گئی جبکہ وہ تو واش بیسن کے پاس بالکل کسی شہید کے مجسمے کیطرح ساکت کھڑی رہ گئی تھی. سیاہ کاٹن کی شلوار قمیض پہ دوپٹہ ندارد تھا بالول کی لمبی چوٹی کو مروڑ کر جوڑے کی شکل میں لپیٹا ہواتھا بالوں کی لٹیں چہرے کے اطراف جھول رہی تھیں اور قمیض کے گیلے دامن سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے.
ولید عامر سے گلے مل کر چلتا ہوا صحن میں آیا. امی اور دادو سے سلام کرکے وہ وہیں تخت ہہ بیٹھ گیا.
“ارے بیٹا ادھر کہاں بیٹھ گئے ادھر تو ان لڑکیوں نے کپڑوں کا پھیلاوا پھیلا رکھا ہے چلو چل کر ڈرائنگ روم میں بیٹھو.” امی نے جلدی سے کہا مگر وہ تو مزے وہیں براجمان گردن موڑے بڑی دلچسپی سے اپنی نئی نویلی بیوی کی ہئیت کذائی کا جائزہ لے رہا تھا. تبھی نیہا اندر سے برآمد ہوئی انہی کپڑوں پہ بڑا سا سیاہ دوپٹہ نماز کے انداز میں لپیٹے ہوئے.
“اسلام علیکم! وہ مؤدب سے اندازمیں بولی ورنہ سچ تو یہ ہے کہ ابیہا کی ہونق شکل دیکھ کر اسے شدت سے ہنسی آرہی تھی.
” وعلیکم سلام بہنا”, ولید نے اٹھ کر اسکے سر پہ ہاتھ رکھا تھا.
“آبی جا چائے بنا.” امی نے اسے گھرکا تو اسکا سکتہ ٹوٹا اور وہ اندر بھاگ گئی ولید کی پرشوق نظروں نے اسکا پیچھا کیا تھا.
“آنٹی میں ابیہا کیلیئے ایک تحفہ لایا تھا اگر آپکی اجازت ہو تو میں اسے دیدوں¿” ولید نے امی سے ہوچھا.
“ارے بیٹا اب تو تمہاری بیوی ہے. تمہارا حق پہلے ہے” امی نے کہا. ولید مسکرایا.
“عامر یار میری گاڑی میں ایک گفٹ پیک رکھا ہے وہ لے آؤ.” اس نے عامر کو گاڑی کی چابی تھماتے ہوئے ھدایت جاری کی تو وہ “جی بھائی جان” کہتا ہوا بھاگ کر گیٹ پار کرگیا.
“ولید بھائی آپ پلیز اندر چل کر بیٹھیں. یہاں سے مجھے صفائی بھی کرنی ہے” نیہا نے ولید سے کہا
“اوکے مگر میں ڈرائنگ روم میں نہیں بیٹھوں گا آنٹی کیونکہ اب میں مہمان نہیں ہوں.” اس نے اپنائیت بھرے لہجے میں امی کو مخاطب کیا تو وہ تو نہال ہی ہوگئیں تھیں.
“ہاں ہاں اب تو تم میرے بیٹے ہو. نیہا یہ پھیلاوا سمیٹ سارا باقی کپڑے کل دھولینا. آؤ بیٹا.” امی نیہا کو ھدایت دیکر ولید اور دادو سمیت اندر چلی گئیں تھیں. کچھ دیر بعد وہ سب لاؤنج میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے. چائے کا دور چل رہا تھا. ولید نے ابیہا کو امی کے سامنے ہی تحفہ تھمایا تھا جوکہ اسنے کھولے بناء ہی اپنے کمرے میں رکھدیا تھا.
“آنٹی میں ابیہا کو کچھ دیر کیلیئے اپنےساتھ باہر لیجاؤں¿” چائے ختم کرکے پیالی میز پہ رکھتے ہوئے ولید نے امی سے ہوچھا.
“تمہاری بیوی ہے بیٹا شوق سے لیجاؤ مگر شام سے پہلے واپس چھوڑ جانا کیونکہ پھر اسکے ابو..” امی نے قصداً جملہ ادھورا چھوڑا.
“آپ فکر مت کریں آنٹی.اور ویسے یہاں آنے سے قبل میں انکل کی دکان پہ گیا تھا کافی دیر انکے پاس بیٹھا رہا تھا اور ابیہا کو اپنے ساتھ باہر لیجانے کی اجازت ان سے میں نے لے لی تھی” ولید نے اطلاع دی.
“ٹھیک ہے بیٹا.” امی مسکرائیں.
“چلیں ابیہا” ولید نے اسکی طرف دیکھا.
“کپڑے تو بدل لو.” نیہا نے مدھم مگر کڑے لہجے میں اس سے کہا .
“جی میں ابھی آتی ہوں.” وہ نروس سے انداز میں کہہ کر اٹھ کے اپنے کمرے میں چلی گئی. الماری میں ہینگ کئے ہوئے کپڑوں میں سے نیہا کا ایک سادہ سا سبز رنگ کا لمبا فراک نکال کر پہنا. اس فراک کی آستینیں پوری اور چوڑی دار تھیں. اس نے ہمرنگ بڑا سا دوپٹہ سر پہ لپیٹ کر سینے اور پشت پہ پھیلا کر شانے پہ پن اپ کرلیا. آنکھوں میں کاجل ڈالا. اور پاؤں میں کتھئی رنگ کی دو پٹی چپل پہن کر کمرے سے باہر آگئی.
“چلیں.” امی سے باتیں کرتا ولید اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا. اس نے اثبات میں سر ہلایا. ولید امی اور دادو کو اللہ حافظ کہنے لگا. نیہا اٹھ کر اسکے پاس آئی. “ذرا سا میک اپ تو کرلیتی اتنی پھیکی سی لگ رہی ہو.” وہ اسکے قریب ہوتے ہوئے کڑک لہجے میں بولی.
“ایسے ہی ٹھیک ہے.” وہ منمنائی. ولید امی دادو اور عامر کو الوداع کر کے اسکی طرف مڑا. “چلیں”, وہ ایکبار پھر بولا اور وہ دونوں آگے پیچھے چلتے کمرے سے باہر نکل گئے.
————-
” جب میں نے تمہیں پہلی بار اپنے گھر میں دیکھا تھا تو پتہ ہے مجھے کیا لگا تھا.” گاڑی سڑک پہ رواں دواں تھی جب ولید نے اسے مخاطب کیا.
“کیا” اس نےپرشوق لہجے میں پوچھا.
“مجھے لگا تھا کہ ہمارے گھر میں کوئی چڑیل آگئی ہے” وہ شرارت بھرے انداز میں بولا تو اسکا منہ بن گیا.
“چڑیل کیوں”.
” تمہارے بال جو اتنے لمبے ہیں اور اتنے لمبے بال تو چڑیلوں کے ہی ہوتے ہیں.”وہ ہنوز شرارتی سے اندازمیں بولا تو وہ ہنس دی.
“میں بال کٹوا دیتی ہوں.”
“نو…نیور.” ولید نے نفی میں سر ہلایا.
“آپ خود ہی تو کہہ رہے ہیں کہ چڑیلوں کے ایسے بال ہوتے ہیں.”
“بالکل. مگر مجھے یہ چڑیل بہت پیاری لگتی ہے” وہ بایاں ہاتھ اسٹیرنگ سے ہٹا کر اسکے سر پہ ہلکی سی چپت لگا کر محبت بھرے انداز میں بولا تھا. ابیہا مسکرا دی.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: