Fizza Batool Urdu Novels

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool – Episode 7

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool
Written by Peerzada M Mohin
محبت ایسا دریا ہے از فضہ بتول – قسط نمبر 7

–**–**–

ابیہا مسکرا دی. ولید کیساتھ وہ نامحسوس طور پہ بے تکلف ہوتی جارہی تھی اور یہ نکاح کے مقدس اور مضبوط بندھن کا اثر تھا.
“آئس کریم کھاؤگی¿” ولید نے چند لمحوں بعد پوچھا.
“نہیں مجھے آئس کریم نہیں اچھی لگتی.” اس نے نفی میں سر ہلایا.
“But I love ice cream.”
“اچھا تو پھر آئس کریم ہی کھا لیتے ہیں.” اس نے معصومیت سے کہا.
“اوہو میری جان اتنی تابعداری بھی اچھی نہیں ہوتی. شوہر کے سامنے تھوڑے نخرے بھی دکھانے چاہیئں” وہ محظوظ ہونے والی مسکراہٹ کیساتھ بولا.
“مطلب اگر آپکو آئس کریم کھانی ہے مگر میرا دل پیزا کھانے کو چاہ رہا ہے تو میں آپکو فورس کروں کہ ہر صورت میں پیزا ہٹ ہی چلیں¿” اس نے معصومیت سے پلکیں پٹپٹاتے ہوئے پوچھا تھا مگر آنکھوں میں شرارت تھی.
“بالکل وائفی پیزاہٹ ہی چلیں گے.” ولید نے تابعداری سے کہتے ہوئے اگلے موڑ پہ گاڑی گھما کر پیزاہٹ جانیوالے راستے پہ ڈال دی.
“یار ایک بات بتاؤ. یہ تمہاری پھپھو اور زبیر ہمارے نکاح میں کیوں نہیں آئے¿” ولید نے چند ثانیے بعد سنجیدہ لہجے میں پوچھا.
“وہ پھپھو کی طبیعت نہیں ٹھیک تھی تو زبیر بھائی انکے پاس تھے ہاسپٹل میں. پھپھو کا بی پی شوٹ کر جاتا ہے اکثر.” اس نے کمزور سے لہجے میں جھوٹ بولا تھا.
“اچھا اچھا. اللہ صحت دے انہیں.” ولید نے سر ہلا کر نہایت سنجیدہ لہجے میں کہا تھا حالانکہ ابیہا کے لہجے سے وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ اس سے کچھ چھپا رہی تھی مگر اس نے اس وقت زیادہ اصرار کرنا مناسب نہ سمجھا. بقیہ راستہ خاموشی سے کٹا تھا. پیزاہٹ کی پارکنگ میں گاڑی پارک کرکے وہ دونوں اندر آبیٹھے. ولید نے بیرے کو آرڈر نوٹ کروایا اور اپنے موبائل میں مصروف ہوگیا.
“یہ دیکھو. یہ دو ماہ پہلے کی پکچر ہے. تب ہم وزیرستان میں تھے.” ولید نے موبائل کی اسکرین اسکے سامنے کی. اس تصویر میں ولید کے ہمراہ دو اور فوجی بھی تھے. وہ تینوں آرمی کے فل یونیفارم میں تھے اور ان تینوں کے چہروں پہ گرد جمی ہوئی تھی بال الجھے ہوئے تھے مگر وہ مسکرا رہے تھے مسرور نظر آرہے تھے.
“وہاں کے حالات بہت خراب تھے مگر ہم نے ان لمحات کو بھی اپنے پاس محفوظ کرلیا تھا.”, وہ ایک ایک تصویر آگے کرتی جارہی تھی اور ولید جیسے ماضی کے ان لمحات میں کھو ساگیا تھا… وہ لمحات جب اسکے شب و روز سنسناتی گولیوں اور بموں کی گھن گھرج کے درمیان گزرتے تھے.
” میں نے اپنے چھ انتہائی قریبی دوستوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے گولیوں سے چھلنی ہوتے دیکھا ہے کتنے ہی ساتھیوں کی کٹی پھٹی لاشیوں کو اپنے ہاتھوں سے سمیٹا ہے …. ہاہ… بیا وطن کی محبت پاگل کردیتی ہے مگر یہ پاگل پن ہوش مندی سے کہیں افضل ہوتا ہے.” وہ nostalgic سے انداز میں بول رہا تھا. سیاہ آنکھوں کے گوشوں میں نمی جھلکنے لگی تھی. ابیہا نے موبائل اسکے ہاتھ پہ رکھا تو وہ چونک کر مسکرا دیا.
“میں پاکستان سے شدید محبت کا دعویٰ تو نہیں کرتی لیکن.. مجھے لگتا ہے کہ مٹی کی محبت ہمارے خمیر میں شامل ہے. جب جب وقت کی پکار پڑتی ہے تو ہم سب کے اندر کا سویا ہوا محب وطن انسان چاق و چوبند ہوکر وطن کیخاطر کٹ مرنے کو تیار ہوجاتا ہے.” وہ مدھم لہجے میں بولی تھی.
“اگر میں شہید ہوگیا بیا.. تو کیا تم دوسری شادی کرلوگی¿” ولید کا سوال بڑا اچانک سا تھا. ابیہا کا دل ایک لمحے کو تو دھک سے رہ گیا تھا. اس نے بےاختیار ولید کے میز پہ دھرے ہاتھ پہ اپنے دونوں ہاتھ رکھے.
“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ولید.¿”.
” آئم سیریس ابیہا… شہادت میرا سب سے بڑا خواب ہے. کیا تم میرے اس خواب میں میری شریک نہیں بنوگی¿” وہ مضبوط لہجے میں پوچھ رہا تھا. ابیہا نے تھوک نگلتے ہوئے ولید کے چہرے کیجانب دیکھا. وہ چہرہ اس لمحے اسکے محبتیں نچھاور کرنیوالے شوہر کا نہیں بلکہ ایک فرض شناس اور جذبہ قربانی سے سرشار فوجی کا تھا.
“ابیہا! تم ایک بہادر فوجی کی بیوی ہو اور تمہیں ہر لمحہ وطن کی مٹی پر اپنے سہاگ کو قربان کرنے کیلیئے تیار رہنا ہے.” اسنے اسکے ہاتھ نہ تھامے تھے وہ اسی طرح سنجیدہ اور مضبوط لہجے میں بول رہا تھا. ابیہا نے سر جھکا لیا. تبھی ویٹر آکر میز پہ انکا آرڈر سجانے لگا. اسکے جانے کے بعد جب ابیہا نے سر اٹھایا تو اسکی آنکھوں میں نمی کی چمک تھی.
“آپ میرے حوصلے کو کبھی پست نہیں پائیں گے ولید.. یہ ایک بہادر فوجی کی بیوی کا وعدہ ہے اور اگر آپ شہید ہوگئے تو میں کبھی دوسری شادی نہیں کرونگی کیونکہ شہید تو زندہ ہوتا ہے ناں.” مضبوط مگر بھرائے ہوئے لہجے میں بولتے بولتے لفظ شہید پہ آکر اسکے آنسو پلکوں کے بند توڑ کر گالوں پہ بہہ نکلے تھے. ولید نے اسکے آنسو اپنی انگلیوں کی پوروں پہ سمیٹے اور اسکے دونوں ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھام لئے.
“تھینک یو ابیہا.” وہ مدھم آواز میں بولا تھا. چند ثانیے وہ دونوں نم آنکھوں سے اک دوسرے کیطرف تکتے رہے تھے.
“چلو تمہارا پیزا ٹھنڈا ہورہا ہے. اور یہ سارا تم نے فنش کرنا ہے.” وہ موڈ کو خوشگوار بناتے ہوئے مسکرا کر بولا تو وہ بھی مسکرا دی.
“میرے لئے ایک سلائس کافی ہے باقی آپ فنش کرینگے.آخر کو بہادر فوجی جو ہوئے.” وہ مزے سے بولی.
“فوجی ہوں پہلوان نہیں.” وہ برجستہ بولا تھا. وہ ہنستے ہوئے چھری سے پیزا کا سلائس الگ کرنے لگی.
—————-
جھیل کے لہریں لیتے نیلے پانیوں پہ زندگی کیطرح ہچکولے کھاتی کشتیاں سست روی سے کنارے کیجانب رواں دواں تھیں. اور دور مارگلہ کی پہاڑیوں کی چوٹیوں پہ سرمئی بادلوں کے پرے کے پرے اڑ رہے تھے. ڈھلتے ہوئے دن کے نسبتاً نرم مزاج سورج کی چمکیلی شعاعوں میں جھیل کا پانی چمک رہا تھا. ابیہا نے ریلنگ پہ دونوں ہاتھ جما کر ذرا سا اونچا ہوکر جھک کے نیچے بہتے پانیوں کو پرشوق نظروں سے دیکھا. وہ دونوں پیزاہٹ سے نکل کر لیک ویو پوائنٹ چلے آئے تھے.
“پانی سے ڈرتی ہو¿” ولید اسکے برابر ہی ریلنگ سے ٹیک لگائے کھڑا تھا
“اونہوں. بالکل بھی نہیں” اس نے نفی میں سر ہلایا اور کارنس پہ پاؤں جماکر ذرا اور نیچے جھکی.
“گر جاؤگی” ولید نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر تنبیہہ کی.
” اور گر کر ڈوب جاؤنگی کیونکہ مجھے تیرنا نہیں آتا.” وہ ہنس کے بولی.
“مجھے تو تیرنا آتا ہے ناں تو پھر تم کیسے ڈوب سکتی ہو.” ولید نے اسے بازو سے تھام کر تمیز سے کھڑے رہنے پہ مجبور کیا تھا.
“ٹھیک ہے پھر میں چھلانگ لگا دیتی ہوں آپ مجھے بچالیجیئے گا.” وہ بہت ایکسائیٹد اور خوش نظر آرہی تھی
“میں خود ہی نہ اٹھا کر تمہیں جھیل میں پھینک دوں. بہت شوق ہورہا ہے ناں ڈوبنے کا.” وہ ذرا سا غصہ دکھا کر بولا.
“اچھا چلیں ناں بوٹنگ کرتے ہیں.” اس نے فرمائشی انداز میں کہا.
“یار بالکل موڈ نہیں ہے.”
“پلیز ناں ولید…” وہ لجاجت آمیز انداز میں بولی.
“نو.” ولید نے نفی میں سر ہلایا.
“آپ فوجی ہوکر پانی سے ڈرتے ہیں” وہ کمر پہ دونوں ہاتھ ٹکائے بالکل لڑاکا بیویوں کے سے انداز میں اسے گھور رہی تھی.
“ڈرتا ورتا نہیں ہوں میں. بس اس وقت بوٹنگ کا موڈ نہیں.”
“آئم شیور آپ ڈرتے ہیں” اس نے قطیعت سے کہا.
“اوکے چلو.لیکن اگر کشتی پہ بیٹھ کر تم نے رونا شروع کیا ناں تو میں واقعی تمہیں اٹھا کر پانی میں پھینک دونگا.” ولید اسے وارننگ دے کر اسکا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگا. وہ دونوں اس طرف نیچے کچے میں اتر آئے جہاں جھیل کنارے مختلف النوع کشتاں کھڑی رہتی تھیں اور سیاح انہیں کرائے پہ حاصل کرکے جھیل کا چکر لگاتے تھے. ولید نے ایک موٹر بوٹ حاصل کی اسکے مالک کو اپنا شناخت نامہ دکھا کر یہ یقین دلایا کہ وہ موٹر بوٹ بہترین طور پہ ڈرائیو کرسکتا ہے. مالک یہ جان کر کہ وہ فوجی ہے کافی مرعوب نظر آنے لگا تھا. وہ دونوں لائف جیکٹس پہن کر موٹر بوٹ میں آبیٹھے. ولید نے اسٹیرنگ سنبھال لیا جبکہ وہ اسکے عقب میں بیٹھ گئی. اور جلدی جلدی آیت الکرسی پڑھ کر اپنے اور ولید کے اوپر پھونک ماری.
“دیکھیں بہت تیز مت چلائیے گا.” اس نے جلدی سے کہا تب تک ولید بوٹ کو پانی میں اتار کر اسکا انجن اسٹارٹ کرچکا تھا.
“ڈرپوک” وہ بآواز بلند بولا تھا.
“جی نہیں.’, وہ جواباً بولی. موٹر بوٹ مناسب رفتار سے چلتی رہی لیکن جھیل کے وسط میں پہنچ کر ولید نے اچانک اسکی رفتار بڑھادی تھی. اسنے تو گھبرا کر اسکی کمر تھام لی. بوٹ طوفانی رفتار سے پانی کی بوچھاڑیں اڑاتی جھیل کا چکر لگا رہی تھی اور ابیہا کی بے ساختہ سی چیخیں ولید کو قہقہے لگانے پہ مجبور کررہی تھیں.
” کتنا ڈرتی ہوتم.” وہ موٹر بوٹ کے شور کے باعث گلا پھاڑ کر بولا تھا
“اف پلیز ولید.. رفتار کم کریں.” اسنے جھلا کر اسکی پشت پہ مکا رسید کیا تھا. ولید نے ہنستے ہوئے بوٹ کو زاویہ قائمہ کی شکل میں جھکا کر واپسی کیلیئے موڑا تھا ابیہا کے منہ سے ڈری ڈری سے چیخیں نکل گئیں. ولید محظوظ ہوا تھا. اللہ اللہ کرکے کنارے پہنچے ولید نے اسے ہاتھ پکڑ کر بوٹ سے اتارا وہ دونوں تقریباً بھیگ گئے تھے ولید نے لائف جیکٹس بوٹ کے مالک کے حوالے کیں اور دام چکا کر اسکی طرف پلٹ آیا.
“جی تو جناب اب بتائیں کہ کون ڈرتا ہے پانی سے¿” وہ بہت ہی دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ پوچھ رہا تھا.
“اف میرے تو پاؤں ابھی تک کانپ رہے ہیں.” وہ پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان بولی.
“اچھا چلو چل کر کہیں بیٹھتے ہیں.” ولید نے نرم لہجے میں کہہ کر اسکا ہاتھ تھاما. وہ دونوں چلتے ہوئے پھر سے پتھریلی طویل روش تک آئے اور روش کے کنارے کنارے لگے بینچوں میں سے ایک پے بیٹھ گئے.
“اگر میرا ہارٹ فیل ہوجاتا تو.” وہ کچھ لمحوں بعد اپنا تنفس بحال کرکے بولی
“ہوا تو نہیں ناں”
“ہو بھی سکتا تھا.”
“جو بات ہوئی ہی نہیں اسکے بارے میں سوچنا فضول.” وہ لاپرواہی سے بولا.
“کتنے برے ہیں آپ.” وہ بے اختیار ہی بولی. ولید ہنسنے لگا.
“اچھا اب مجھے گھر ڈراپ کردیں شام ہونیوالی ہے ” وہ جلدی سے بولی.
“بیا… اتنی جلدی یار…” وہ منہ بنا کر بولا.
“ولید امی بہت خفا ہونگی. پلیز اٹھیں” وہ اٹھ کھڑی ہوئی. تو وہ بھی کسلمندی سے اٹھا.
“یار دو دن بعد میں جارہا ہوں اور ان دو دنوں میں میں زیادہ سے زیادہ وقت تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں.’اسنے اسے کندھوں سے تھام کر اسکا رخ اپنی جانب موڑا تھا اردگرد سیر و تفریح کیلیئے آئے ہوئے بے فکرے لوگوں میں سے کچھ نے معنی خیز نظروں سے ان دونوں کیجانب دیکھا تھا
” ابھی تو دو دن باقی ہیں. فی الحال چلیں” اس نے اسکے ہاتھ اپنے کندھوں سے ہٹائے اور واپسی کیلیئے قدم بڑھا دیئے. ولید ٹھنڈی سانس بھرتا اسکے پیچھے ہولیا.
————————
رات کو نماز عشاء سے فارغ ہوکر اس نے اپنے بیڈ پہ بیٹھ کر ولید کا دیا ہوا تحفہ کھولا. وہ ایک مشہور ترین برانڈ کا مہنگا ترین پن پیک لش لش کرتا موبائل تھا.
“واؤ کتنا پیارا موبائل ہے. ولید بڑا دیالو ہے بھئی.” نیہا اسی لمحے کمرے آئی تھی اور آتے ہی اسکی نظر موبائل پہ پڑی تھی. ابیہا نے موبائل کو آن کیا.
“دکھاؤ”, نیہا نے وہ اسکے ہاتھ سے لے لیا.
‘اف کتنا smooth touch ہے.” وہ اسکی ایپس چیک کرتے ہوئے بولی.
“اسمیں سم بھی ہے ابیہا.” نیہا نے اسے بتایا.
“ہوں ولید کی ہی ہوگی.” اس نے جواب دیا.
“اسمیں ولید کا نمبر بھی سیو ہے.” نیہا نے اگلی اطلاع دی تھی.
“اسے کال کرتے ہیں.” نیہا اسکے سامنے ہی بیٹھ گئی.
“نہیں یار رات کے بارہ بج گئے ہیں وہ سوگئے ہونگے”
“تو جاگ جائے ناں. ذرا تنگ کرنے میں کیا حرج ہے.” نیہا ایکسائیٹڈ سی تھی.
“نہیں بس.”اس نے موبائل اسکے ہاتھ سے لینا چاہا نیہا نے ہاتھ پیچھے کرلیا اسی چھینا چھپٹی میں ولید کو کال مل گئی تھی. جب موبائل ابیہا کے ہاتھ میں آیا تب تک ولید کال اٹینڈ بھی کرچکا تھا..
“اف یہ کیا کردیا تم نے.” وہ گھبرا کے بولی.
“بات کرلو ناں” نیہا نے اسے گھورا.
“کیا کروں.” وہ سخت ہونق ہورہی تھی نیہا کا دل چاہا سر پیٹ لے.. ابیہا کا…
اسنے اسکا موبائل والا ہاتھ پکڑ اسکے کر کان سے لگادیا.
‘ہیلو یار بولو بھی.”دوسری جانب ولید بول رہا تھا.
“جی.. ولید وہ میں ابیہا.” وہ اٹکتے ہوئے بولی. نیہا نفی میں سر ہلاتے ہوئے اٹھ کر اپنے بستر کی طرف بڑھ گئی
“جی جی آئی نو. یہ نمبر جو آپکے پاس ہے یہ میں نے اسپیشل آپکے لئے ہی نکلوایا تھا.”
“اچھا.”
“موبائل پسند آیا.”
“جی لیکن آپ نے کیوں تکلف کیا میں ابو سے کہہ دیتی وہ لے دیتے مجھے موبائل.” اسکی بات پہ اپنا بستر درست کرتی نیہا نے اسے ایسے گھورا جیسے اسکی عقل پہ ماتم کر رہی ہو.
“تم میری بیوی ہو. میری ذمے داری ہو. تمہاری تمام ضروریات کا خیال رکھنا بھی اب میرا کام ہے ابو کا نہیں.” اسکا لہجہ نرم تھا
“تھینک یو.” وہ مدھم لہجے میں بولی.
“کم آن یار یہ فارمیلیٹیز غیروں میں ہوتی ہیں. اینڈ بائے داوے میں بہت گہری نیند سورہا تھا.”
” اوہ آئم سوری”وہ ندامت بھرے لہجے میں بولی.
“اوں ہوں.. ایسے تو معافی نہیں ملے گی آپکو”
“پھر” وہ پزل سی ہوگئی. نیہا اب اپنے بستر پہ دراز ہوگئی تھی.
“صبح میں ڈرائیور کو بھیج دونگا. آپکو ادھر آکر مجھ سے ایکسکیوز کرنا پڑے گا. تب معافی ملے گی.” وہ بڑے دلکش لہجے میں بول رہا تھا.
” مگر صبح تو منڈے ہے.. میں نے یونیورسٹی جانا ہے.”
“تو چھٹی کرلینا ناں” نیہا نے اپنی آنکھوں سے بازو ہٹا کر کہا .” یہ کس نیک انسان کی آواز تھی¿” ولید کی قابل رشک سماعت تک نیہا کا جملہ پہنچ گیا تھا.
“جی وہ نیہا ایویں ہی بول رہی ہے.”
“ایویں تو نہیں بول رہی اتنی اچھی بات کہہ رہی ہے. میری بہن کو میری طرف سے تھینک یو بول دو.”
“خود ہی بول دیں.” اس نے کہہ کر موبائل نیہا کی جانب بڑھایا. نیہا نے موبائل اسکے ہاتھ سے تھام کر کان سے لگایا.
“جی اسلام علیکم ولید بھائی… جی جی… ہاہاہاہا….. میں بھی یہی کہہ رہی تھی اس سے کہ ایک دن کی چھٹی سے کوئی مصیبت نہیں آجاتی… جی ٹھیک ہے ناں…. پرسوں.. ہاں بیسٹ ہے . کہاں پر…. فارم ہاؤس واؤ… مجھے تو بڑا شوق ہے فارم ہاؤس دیکھنے کا… چلیں ٹھیک ہے. اوکے بائے.” ہنس ہنس کے باتیں کرکے نیہا نے موبائل واپس اسکی جانب بڑھا دیا. اس نے موبائل تھام کر کان سے لگایا.
“جی.”
“میری بہن تم سے زیادہ اچھی ہے.” وہ اسے چھیڑ رہا تھا.
“اسمیں تو کوئی شک نہیں.” وہ سنجیدگی سے بولی.
“اچھا خیر ہم نے یہ ڈیسائیڈ کیا ہے کہ پرسوں شام کو فارم ہاؤس میں ایک اچھی سی پارٹی کرینگے ہم سب.” ولید نے اسے اطلاع دی.
“ہوں گڈ”
“اچھا یار صبح نو بجے ڈرائیور آپکو لینے پہنچ جائیگا سو تیار رہیئے گا. اور امی ابو سے میں خود اجازت لے لوں گا. بائے بائے. آئی ہیٹ یو.” ولید نے شوخ انداز میں کہہ کر کال بند کردی.
“آئی ہیٹ یو ٹو” اسنے فوراً سے میسیج ٹائپ کرکے اسکے نمبر پہ بھیج دیا.
“چڑیل” اسکا جوابی پیغام بھی فوراً سے پیشتر آیا تھا.
“گڈ نائٹ” اسنے میسیج کیا.
“گڈ نائٹ وائفی. لو یو سو مچ.” اس کا جوابی پیغام اسے مسکرانے پہ مجبور کرگیا تھا. اسنے اٹھ کر کمرے کی بتی بجھائی اور بستر پہ لیٹ گئی.
—————–
وہ ابھی ابھی ولید کے گھر پہنچی تھی. شکیلہ بیگم سے ملاقات ہوئی جو آفس جانے کیلیئے تیار تھیں. اس سے سرسری سا مل کر انہوں نے اسے بتایا کہ ولید اور روحینہ اپنے اپنے کمرے میں ہیں. وہ اوپری منزل کے زینے طے کر نے لگی ابھی وہ آخری سیڑھی پہ پہنچی ہی تھی کہ سامنے سے تیز رفتاری سے آتے ولید سے ٹکراتے ٹکراتے بچی.
“آپ کبھی بھی دیکھ کر نہیں چلتے کیا” وہ سخت جھنجھلائے ہوئے انداز میں بولی.
“تو آپ اچانک سے سامنے کیوں آجاتی ہیں وائفی” وہ اسکا راستہ روکے کھڑا تھا.
“اچھا ہٹیں میں نے روحینہ سے ملنا ہے.”
“اوہوں” اس نے نفی میں سر ہلایا.
“میں آنٹی کو آواز دونگی.”اسنے اسے دھمکانا چاہا. مگر وہ ہنسنے لگا.
” ضرور دو آواز. بلکہ مل کر آواز دیتے ہیں. ممی…..”ابیہا نے جلدی سے اسکے منہ پہ ہاتھ جماکر اسکی بلند پکار کا گلا گھونٹا.
“کیا ہوا بلانے دو ناں ممی کو” وہ اسکا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹا کر ہنستے ہوئے بولا وہ برا سا منہ بنائے ہوئے اسکی سائیڈ سے نکل کر اوپری منزل پہ آگئ. اور روحینہ کے کمرے کیجانب بڑھی.ولید نے تیزی سے پلٹ کر سرعت سے اسکا ہاتھ تھام لیان
“آپ نے مجھ سے ایکسکیوز کرنا تھا میڈم”
“آئم سوری.” وہ لٹھ مار انداز میں بولی
“اس طرح ایکسکیوز کرتے ہیں شوہر سے.” اس نے ناک بھوں چڑھا کر پوچھا. ابیہا نے اسکی طرف دیکھا.
“اوکے. پلیز مجھے معاف کردیجیئے سرتاج.” وہ شرارتی انداز میں اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر بولی. گال کا بھنور گہرا ہوگیا تھا آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی. ولید نے دو قدم کا فاصلہ طے کرکے اسکے دونوں ہاتھ تھام کر اپنے سینے سے لگالئے تھے. وہ پلکیں جھکا گئی. دفعتاً بائیں بازو والے کمرے سے نائٹ ڈریس میں ملبوس جماہیاں روکتی شزاء باہر نکلی تھی ان دونوں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا. شزاء کی معنی خیز سی نظریں ان دونوں پہ تھیں. ولید نے بڑے غیر محسوس انداز میں اسکے ہاتھ چھوڑ دیئے.

“اسلام علیکم بھابھی!” وہ جلدی سے آگے بڑھی اسکا ارادہ تو معانقہ کرنیکا تھا مگر شزاء نے صرف ہاتھ ملانے پہ ہی اکتفاء کیا تھا.
“ہائے! تم صبح صبح کہاں سے آگئی.” وہ نخریلے سے انداز میں پوچھنے لگی.
“میں نے بلوایا ہے بھابھی.” جواب ولید کیطرف سے آیا تھا.
“آئی سی. ویسے ابیہا تم یہ ہر وقت ٹینٹ اوڑھ کر کیوں پھرتی ہو. ایٹ لیسٹ گھر کے اندر تو اسے اتار دیا کرو.” شزاء نے ناقدانہ نظروں سے سرتاپا اسکا جائزہ لیتے ہوئے اسکی بڑی سی چادر پہ چوٹ کی تھی. ابیہا نے نروس سی ہوکر ولید کیجانب دیکھا جو بڑے بے تعلقانہ انداز میں دوسری طرف دیکھ رہا تھا.
“اینی وے لنچ کرکے ہی جانا اب. ایک تو پتہ نہیں یہ صدیقہ کہاں مرگئی ہے.. صدیقہ…صدیقہ میری بیڈ ٹی کہاں ہے” وہ کہتی ہوئی سیڑھیوں کیجانب بڑھ گئی. ولید پلٹ کر اپنے کمرے میں چلا گیا. ابیہا کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے. وہ ولید کے کمرے تک آئی. اور دروازے میں ہی رک گئی.
“مجھے واپس جانا ہے” وہ اس سےمخاطب ہوئی جو وارڈراب کھولے کھڑا تھا.
“کیوں” ولید نے پلٹ کے اسکی طرف دیکھا. وہ سر جھکائے اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی.
“بس میں نے گھر جانا ہے.”
ولید چلتا ہوا اسکے پاس آیا اور اسکے ہاتھ تھام کر اسے اندر لایا.
“یہ جو شزاء بھابھی جیسے لوگ ہوتے ہیں ناں انکی فضول باتوں کو دل پہ نہیں لیتے.” وہ نرم لہجے میں بولا تھا.ابیہا کی پلکوں سے دو آنسو ٹوٹ کر گرے.
“آپ نے انہیں کچھ کہا بھی نہیں.” اس نے بھیگی پلکیں اٹھا کر اسکی جانب دیکھا.
“ابیہا میں ہر وقت تمہارے بی ہاف پر لوگوں کو منہ توڑ جواب دینے کیلیئے تمہارے ساتھ موجود نہیں رہ سکتا. تمہیں خود کو اسٹرونگ بنانا ہوگا.اس قسم کے دل شکن رویے تمہیں میرے خاندان میں قدم قدم پہ ملیں گے. اب یہ تم ہر منحصر ہے کہ تم سب کو کیسے ٹیکل کرتی ہو. میں تو ہر وقت یہاں نہیں ہوتا.” وہ ملائم لہجے میں بول رہا تھا. ابیہا نے سر جھکا لیا.
“میں اسٹرونگ نہیں ہوں… میں نے بچپن سے صرف تنقید کا سامنا کیا ہے… مجھے خود کو ڈیفینڈ کرنا نہیں آتا.” وہ رکے رکے لہجے میں بولی.
“تو سیکھو… یہ دنیا دبنے والوں کو اپنے قدموں تلے روند دیتی ہے مگر جو اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تن جاتے ہیں انکی یہ بہت عزت کرتی ہے.”
“ولید پلیز مجھے گھر چھوڑ آئیں.” وہ رو پڑی تھی. ولید نے نرمی سے اسے بانہوں میں بھر لیا.
“میرے سامنے بہالو جتنے آنسو بہانے ہیں. مگر میرے لاہور جانے کے بعد تم نہیں روؤگی” وہ اسکا سر سہلاتے ہوئے محبت سے کہہ رہا تھا. ابیہا کے آنسو اسکی شرٹ بھگوتے رہے.
“اچھا بس اب چپ… بہت زیادہ رونے سے نظر کمزور ہوجاتی ہے اور تم عینک میں بالکل اچھی نہیں لگوگی” وہ اسے کندھوں سے تھام کر خود سے الگ کرتے ہوئے شرارت آمیز لہجے میں بولا تو وہ گیلے چہرے کیساتھ بےساختہ ہنس پڑی. وہ دھوپ چھاؤن سامنظر ولید نے بڑی دلچسپی سے دیکھا تھا.
“میں تیار ہوجاؤں پھر باہر چلتے ہیں. میں نے سوچا آج ذرا لگے ہاتھوں مری گھوم آتے ہیں” وہ کہتے ہوئے وارڈراب کیجانب بڑھ گیا.
“مری..”وہ از حد حیرت سے بولی.
” جی مری..” ولید کا مختصر سا جواب تھا.
“اتنی دور…”
“صرف ایک گھنٹے کی ڈرائیو ہے محترمہ… یہ شرٹ کیسی ہے” ولید نے نارمل سے اندازمیں کہتے ہوئے ہینگ کی ہوئی بلیک ڈریس شرٹ اسکے سامنے لہرائی.
“اچھی ہے.” وہ بولی. وہ سر ہلاتا ہوا واش روم میں گھس گیا.
وہ پلٹ کر کمرے سے باہر آئے اور کچھ جھجھکتے ہوئے روحینہ کے کمرے کے دروازے پہ دستک دی. چند لمحوں بعد روحینہ نے دروازہ کھولا تھا. وہ یونیورسٹی جانے کیلیئے تیار نظر آرہی تھی.
“اسلام علیکم!” ابییا گرمجوشی سے اس سے گلے ملی تھی.
“وعلیکم سلام” تم صبح صبح کدھر.” روحینہ کے انداز میں ازلی گرمجوشی مفقود تھی.
“جی ولید نے ڈرائیور بھیج کر بلوا لیا. آپ یونیورسٹی جارہی ہیں کیا” اس نے بے تکلفی سے اسکے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا.
“ہاں بس نکلنے ہی لگی ہوں بہت ضروری پریزینٹیشن ہے آج. تم لنچ کرکے ہی جانا اب.. اللہ حافظ.” وہ اپنا بیگ اور موبائل اٹھا کر کمرے سے نکل گئی تھی. ابیہا کچھ ناسمجھی کے عالم میں کمرے میں کھڑی رہ گئی تھی.
———————
اونچے اونچے گل پوش پہاڑوں کی چوٹیوں پہ سنہری دھوپ بکھری ہوئی تھی. چیڑ کے درختوں کی قطاریں کی قطاریں جیسے آسمان کو چھو رہی تھیں. خزاں کی آمد آمد تھی اور درختوں سے جھڑے سنہرے پتے سبز گھاس پہ بکھرے پڑے تھے. بڑی خوشگوار سی خنکی نے مری کی خوبصورت فضا میں بسیرا کر رکھا تھا. وہ دونوں ایک سرسبز چٹان پہ قدرے اونچائی تک پہنچ کر تھک کے ایک نسبتاً سپاٹ جگہ پر ایک گھنے درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے. ابیہا نے اپنی سیاہ چادر کو پیشانی تک کھینچا اور اپنے سامنے گھاس پہ نیم دراز ولید کیطرف دیکھا. وہ سر کے نیچے ہاتھوں کا تکیہ بنائے نیلے افق پہ نظریں گاڑے ہوئے تھا. سیاہ ڈریس شرٹ کیساتھ اس نے جینز کی پینٹ پہن رکھی تھی. شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک موڑ رکھی تھیں اور کالر کے پہلے دو بٹن کھلے ہوئے تھے. اسکی سفید رنگت پہ ہلکی سی سرخی دوڑ گئی تھی اور پسینے میں بھیگے بال پیشانی پہ چپکے ہوئے تھے. سیاہ آنکھوں میں نیلے آسمان کا عکس تھا ہونٹ بھنچے ہوئے تھے اور داڑھی بڑھی ہوئی تھی… بلاشبہ ولید حسن قدرت کی صناعی کا ایک بہترین شاہکار تھا. وہ بے خود سی اسے تکتی گئی. ولید نے اسکی نظروں کا رتکاز محسوس کرکے نظروں کا زاویہ تبدیل کرکے اسکی طرف دیکھا
“کیا ہوا” وہ مسکرایا.
“کچھ نہیں.” وہ نظریں جھکا گئی. اپنی نظروں کی چوری پکڑی جانے پہ اسکے گالوں پہ حیا آمیز سرخی پھیل گئی تھی.
“کیا سوچ رہی ہو¿” وہ نرم لہجے میں پوچھ رہا تھا.
“آپ پرسوں چلے جائینگے” اس نے اداسی سے کہا
“جانا تو ضروری ہے مگر میں تم سے رابطے میں رہونگا”
“روز کال کرینگے¿”
“نہیں.. روز تو ممکن نہہں ہوسکے گا. مگر جب وقت ملے گا اور حالات موافق ہونگے تو میں تم سے ضرور بات کرونگا.” ولید نے سنجیدگی سے کہا تھا. اسی لمحے ہوا کے جھونکے سے ان پہ سایہ فگن درخت سے خزاں رسیدہ پتے جھڑنے لگے. ایک سنہرا پتا ابیہا کی گود میں آگرا تھا. ابیہا نے اسے ہاتھ میں پکڑا. اسے یوں لگا جیسے یہ رنگ اڑا پتا اسکی زندگی میں آنیوالی خزاں کی نوید تھا.
“بہار کی مدت قلیل بھی ہو پھر بھی اسکا احساس اور خوشبو سارا سال ہمارے ساتھ رہتی ہے” ولید نے وہ پتا اسکے ہاتھ سے لیکر ہوا میں اچھال دیا. ابیہا نے اسکی طرف دیکھا.
“آپ نے مجھ سے نکاح کیوں کیا¿”.
” کیونکہ میں تم سے محبت کرتا ہوں.”.
“محبت کیوں کرتے ہیں¿”
“کیونکہ تم مجھے اچھی لگتی ہو.”
“اچھی کیوں لگتی ہوں¿”
“کیونکہ تم بہت اچھی ہو”
“اچھی کیسے ہوں¿”
“یہ جو تمہاری حیا اور پاکیزگی ہے ناں.. یہ بہت انمول ہے” ولید کا لہجہ بہت سنجیدہ تھا. ابیہا کو اس جواب کی توقع نہ تھی. وہ سمجھ رہی تھی کہ شاید وہ اسکے بالوں یا ڈمپل کو محبت کی وجہ بتائے گا کیونکہ اسے ہمیشہ سے یہی لگتا تھا کہ اسمیں بس یہی دو چیزیں حسن کے مروجہ معیار پہ پوری اترتی تھی. مگر ولید کے جواب پہ وہ حیران سی ہوگئی تھی.
وہ کچھ نہ کہہ سکی. ولید گہہری سانس لیکر اٹھ بیٹھا. وہ سر جھکا کر گھاس نوچنے لگی. چند لمحے خاموشی کی نذر ہوگئے. ہوا کی سرسراہٹ اور پرندوں کی چہچہاہٹ نے ماحول پہ ایک عجیب سا سحر طاری کردیا تھا.
“بیا… کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو¿” ولید نے اچانک ہی پوچھا تھا. ابیہا نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا. اسکی سیاہ آنکھوں میں اظہار سننے کی تمنا تھی. اسنے نگاہیں جھکا لیں
“بیا..” اس نے پھر اسے پکارا. ابیہا نے مدھم سی مسکراہٹ ہونٹوں میں دبائے اپنے شوہر کے شانے سے سر ٹکا دیا. بڑا خوبصورت سا اظہار تھا. ولید نے اسکا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر اپنا سر اسکے سر سے ٹکا دیا. ہوا کا تیز جھونکا آیا تھا اور ان دونوں پہ خزاں رسیدہ پتوں کی بارش سی ہونے لگی تھی.
——————
فارم ہاؤس میں ایک چھوٹی سی فیملی گیٹ ٹو گیدر کا سماں تھا. فضا میں باربی کیو اور مختلف پرفیومز کی ملی جلی خوشبوئیں چکراتی پھر رہی تھیں. امی ابو دادو اور شکیلہ بیگم ایک جانب رکھے صوفوں پہ بیٹھے ہوئے تھے. ڈیک پر ہلکا سا میوزک چل رہا تھا. ایک جانب باربی کیو کا انتظام کیا گیا تھا اور سکندر ولید اور عامر وہیں مصروف تھے. ابیہا اور نیہا فارم ہاؤس کا ایک چکر کاٹ کے آئی تھیں. جبکہ روحینہ اور شزاء قدرے دور چند کمروں پہ مبنی رہائشی حصے میں تھیں.
“ابیہا جائیے بیٹا شزاء اور روحی کو بلا لائیں انکو کہیں کہ سب کے ساتھ آکر بیٹھیں.” شکیلہ بیگم نے اسے دیکھتے ہی کہا تھا تو وہ سر ہلاتی رہائشی عمارت کیجانب بڑھی. دو کمرے چوکیدار کے تصرف میں تھے جبکہ ایک بڑا اور لگڏری انداز میں سجا ہوا کمرہ شکیلہ بیگم اور انکے بچوں کیلیئے مختص تھا. ابیہا نے اسی کمرے کے دروازے کا ہینڈل گھمایا اور اندر داخل ہوئی. روحینہ اور شزاء بیٹھی باتیں کر رہی تھیں. اسکی آمد پہ اسکی جانب متوجہ ہوگئیں. شزاء نے آج سرمئی رنگ کے لوز ٹراؤزر کیساتھ سرمئی ہی بغیر آستینوں والی شرٹ پہن رکھی تھی بالوں کو اسٹریٹ کرکے دائیں شانے پہ ڈالا ہوا تھا جبکہ بالکل ہلکا ہلکا میک اپ بھی کر رکھا تھا. جبکہ روحینہ نے ٹائیٹ جینز کے ساتھ اسٹائلش سی سفید کرتا اسٹائل شرٹ پہن رکھی تھی دوپٹہ ندارد تھا لمبے بالوں کی ڈھیلی سی چوٹی آگے ڈال رکھی تھی اور اسنے ہلکا ہلکا اور نہ نظر آنے والا میک اپ کر رکھا تھا.
“ارے آپ لوگ ادھر کیوں بیٹھے تھے. چلئے ناں باہر سب بہت انجوائے کر رہے ہیں.” وہ بے تکلفی سے بولی تھی.
“ہم یہیں ٹھیک ہیں.” شزاء نے تکلف آمیز انداز میں جواب دیا تھا.
“آپ تو چلیں ناں روحینہ. مجھے آپکے بناء بالکل مزا نہیں آتا.” اس نے بڑے مان بھرے انداز میں روحینہ کا ہاتھ تھام کر اسے اٹھانا چاہا تھا مگر روحینہ نے سختی سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا.
“پلیز ابیہا… تم پہ یہ امیچیور حرکتیں بالکل سوٹ نہیں کرتیں.” وہ سرد مہری سے بولی تھی.
“بالکل جیسی ہو ناں ویسی ہی رہو اپنی اوقات مت بھولا کرو. تم ولید کی بیوی ضرور ہو مگر ولید کے گھر کی عورتوں کی برابری کبھی نہیں کر سکتی. ناؤ پلیز لیو.” شزاء کا انداز بہت اہانت آمیز تھا. ابیہا نے ڈبڈبائی آنکھوں سے روحینہ کیطرف دیکھا جو اس وقت کتنی اجنبی سی نظر آرہی تھی.
“جاؤ پلیز” وہ بھی ہاتھ ہلا کر جان چھڑوانے والے انداز میں بولی. وہ شاکڈ سی چلتی کمرے سے باہر آئی اور اپنے پیچھے دروازہ بند کرکے وہیں کھڑی ہوگئی. اسے ابتک یقین نہیں آرہا تھا کہ روحینہ جو اسکی بہترین دوست تھی وہ اسطرح بدل جائیگی.
“بیا…” ولید اسے پکارتا ہوا ادھر ہی آرہا تھا. اسنے جلدی سے آنکھیں صاف کیں.
“کیا ہوا¿” وہ اسکے عین سامنے آکر رک گیا.
“کچھ نہیں وہ روحینہ اور شزاء بھابھی آرہی ہیں کچھ دیر تک” وہ کہہ کر تیزی سے اسکی سائیڈ سے ہوکر چلی گئی تھی. ولید کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا.
“یہاں کیوں بیٹھے ہو آپ لوگ. اگر آہی گئے تو سب کے ساتھ بیٹھو. یہ کتنی بداخلاقی ہے کہ مہمان باہر بیٹھے ہیں اور میزبان نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی ہوئی ہے.” اس نے اندار آتے ہی ان دونوں کو لتاڑا تھا.
“تم ہوناں میزبان. ہماری کیا ضرورت وہاں بھلا.” شزاء نے طنز کیا تھا.
“اٹھو روحی.” ولید نے روحینہ کو مخاطب کیا.
“پلیز ولی بھیا… اپنے اس جاہل سسرال کے سامنے حاضری لگوانے پہ مجھے مجبور مت کریں. جائیں اور خود جاکر کمپنی دیں.” روحینہ کے تیور و انداز آج بالکل بدلے ہوئے تھے. ولید نے ایک گہری نظر ان دونوں پہ ڈالی اور “اوکے” کہہ کر کمرے سے باہر نکل آیا تھا. یہاں اب باربی کیو اختتامی مراحل میں داخل ہوچکا تھا. وہ ایک جانب گھاس پہ بیٹھ کر اپنی جیب سے نائن ایم ایم کا پستول نکالکر اسکا دستہ زمین پہ مارنے لگا. کسی بھی سوچ یا ٹینشن میں اضطراری انداز میں یہ اسکا gesture ہوا کرتا تھا کہ جو بھی چیز اسکے ہاتھ میں ہوتی اسے زمین یا میز پہ ہولے ہولے مارنے لگتا تھا. کچھ ہی فاصلے پہ ابیہا شکیلہ بیگم کیساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی. آج اس نے ہلکے سبز رنگ کی کھلی سی شلوار کیساتھ گہری نیلی شارٹ شرٹ پہن رکھی تھی. آج اسنے بڑی سی چادر کی بجائے سر پہ اسکن کلر کا اسٹالر لپیٹ رکھا تھا. اور سوٹ کا ہمرنگ بڑا سا دوپٹہ اچھی طرح سینے پہ پھیلا کر شانوں پہ پن اپ کر رکھا تھا. وہ بلاشبہ بہت اچھی لگ رہی تھی. شکیلہ بیگم سے باتیں کرتے وقت ہلکا ہلکا مسکرا رہی تھی. گال کا بھنور بڑا گہرا ہورہا تھا. مگر اتنے فاصلے سے بھی ولید اسکی آنکھوں میں چھپے ملال کو بڑی اچھی طرح سمجھ رہا تھا.
————————-
رات کے ڈیڑھ بجے ولید نے روحینہ کے کمرے کے دروازے پہ ہلکی سی دستک دی اور پھر ہینڈل گھما کر اندر داخل ہوا. اس وقت گھر کے تمام نفوس اپنے اپنے کمروں میں سوچکے تھے. روحینہ بھی شب خوابی کے لباس میں آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بال سلجھا رہی تھی. اس نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا.
“آئیے ولی بھیا. کوئی کام تھا کیا¿” اسنے مسکرا کر پوچھا.
“نہیں تم سے ملنے آیا ہوں.” ولید نے جواباً مسکرا کر کہا. روحینہ نے اپنے بال پونی میں باندھے اور برش ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھ کر پلٹی.
“تو صبح مل لیتے”
“صبح وقت کم ہے. میں نے سوچا ابھی ہی مل لوں.” ولید نے کہتے ہوئے اسکے سر کو نرمی سے تھپتھپایا تھا. “میری پیاری بہنا اگر اپنے بھیا کیطرف سے دل میں کوئی خفگی ہے تو اسے ختم کرڈالو کیونکہ تمہارا یہ بھائی تو اندھیری رات کا مسافر ہے نجانے واپس لوٹے بھی یا نہیں.” بولتےبولتے ولید کا لہجہ بھیگ گیا تھا. روحینہ بھی “ولی بھیا” کہہ کر اسکے سینے پہ سر رکھ کر رونے لگی. ولید نے اپنی ننھی سی بہن آنسوؤں کو اپنے دل پہ گرتے محسوس کیا تھا. اسکی سیاہ آنکھوں سے بھی دو آنسو ٹوٹ کر گرے تھے.
“میں جانتا ہوں تم مجھ سے خفا ہو مگر اپنوں سے خفگی چھپائی تو نہیں جاتی ناں میری گڑیا. اپنوں سے تو شکوے کئیے جاتے ہیں.” وہ محبت سے بول رہا تھا. روحینہ نے سر اٹھا کر بھیگی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا.
“میں آپ سے خفا نہیں ہوں مگر مجھے آپکی اس دن کی باتوں نے بہت ہرٹ کیا تھا. آپ نے اس طرح فوراً سے ابیہا سے ہم سب کا مقابلہ کرکے اسے بہترین قرار دیدیا تھا. مجھے بہت دکھ ہوا تھا.” وہ ولید سے زیادہ دیر تک اپنے دل کی کوئی بھی بات چھپا نہیں سکتی تھی.
“وہ سب تو میرے خیالات تھے ناں روحی… صرف مجھ سے خفا ہوتی ناں تم… اپنی دوست کیساتھ رویہ بدل لیا تم نے.” ولید اب سنجیدہ نظر آرہا تھا.
“اسنے مجھ سے میرے ولی بھیا چھین لئے ہیں.”
“روحی تم اسکو مجھ سے زیادہ بہتر طور جانتی ہو. کیا تمہیں لگتا ہے کہ وہ کسی کو کسی سے چھین سکتی ہے¿ اور روحی میری اس روز کی کوئی بات بھی اگر غلط ہے تو پوائنٹ آؤٹ کرو. تم جانتی ہو مجھے اچھی طرح جانتی ہو.. میں نے کبھی ٹین ایج میں بھی فلرٹ کرنیکی روش نہیں اپنائی تھی کیونکہ مجھے یہ سب اور ایسی لڑکیاں کبھی ایٹریکٹ نہیں کی. میرا آئیڈل ابیہا جیسی با کردار لڑکی ہی تھی.”
“لیکن کیا میں علیشا شزاء بھابھی بدکردار ہیں.” روحینہ نے اسکی بات کاٹی.
“نو.. لیکن کیا حیا کے پیمانوں پہ تم تینوں پوری اترتی ہو روحی… کبھی سوچا ہے کہ جب بناء دوپٹے اور آستینوں کے لباس پہن کر ایک گیٹ ٹو گیدر میں جب تم لوگ آتی ہو تو وہاں موجود ہر نامحرم مرد کی نظریں تم لوگوں کا طواف کرتی ہیں. وہ توصیفی نظریں نہیں ہوتیں روحی.. وہ شیطان کی نظریں ہوتی ہیں کیونکہ جب کوئی عورت بے پردہ گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اسکے ساتھ ساتھ ہوتا ہے اسے نامحرموں کیلیئے اٹریکٹو بناتا ہے…. روحی…. تم نے ایک لمحے میں ابیہا کو تو ریجیکٹ کرکے اسکی عزت نفس کو مجروح کردیا مگر کیا یہ سب تمہیں اللہ کی نظر میں سرخرو کردے گا.. میری باتیں تمہیں تلخ ضرور لگیں گی مگر یہی سچ ہے. اور ہاں ابیہا کو پہنچنے والے ہر دکھ کا مداوا تو میری محبت کردیگی مگر تمہاری دوستی کا کیا ہوگا روحی… تم ایک مخلص دوست کو کھوکر خالی ہاتھ ہی رہ جاؤگی.” ولید کا لہجہ بہت نرم تھا. اور وہ اپنی بات مکمل کرکے وہاں رکا نہیں تھا بلکہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکل گیا تھا. روحینہ کی سبز آنکھوں میں شام اتر آئی تھی.
——————-
ولید نے دیوار گیر گھڑی پہ نظر ڈالی اور اپنے بھیگے بال تولئے سے رگڑتا ہوا آئینے کے سامنے آکھڑا. اسکی فلائیٹ نو بجے کی تھی اور اس وقت ساڑھے چھ بج چکے تھے. گزشتہ رات اس نے ابیہا سے وعدہ لیا تھا کہ وہ ائیرپورٹ ضرور آئیگی اور اس وقت روانگی کیلیئے تیار ہوتے ہوئے بھی اسکا دھیان بار بار ابیہا کیطرف چلا جاتا تھا. بال بنا کر اسنے خود پہ پرفیوم اسپرے کیا جوتے پہنے اور اپنا چھوٹا سا سفری بیگ بیڈ پہ رکھا. اور وارڈروب کیطرف بڑھ گیا. اسمیں سے اپنے کچھ ضروری کپڑے نکال کر بیڈ پہ ڈھیر کر دیئے. لاہور میں اسکا قیام آرمی میس میں ہی ہونا تھا اسلیئے وہ ساتھ مختصر ترین اور اشد ضروری سامان ہی لیکر جارہا تھا. وہ شرٹس تہہ کرکے بیگ میں رکھنے لگا جب دروازے پہ ہلکی سی دستک ہوئی.
“آجاؤ.” وہ مصروف سے انداز میں بولا.
“اسلام علیکم!” ابیہا کی مترنم سی آواز پہ وہ بے اختیار چونک کر مڑا.
آف وائیٹ سلک کی گھیردار شلوار پہ آف وائیٹ ہی شارٹ شرٹ پہنے سر پہ آف وائیٹ حجاب لپیٹے اور سوٹ کا میچنگ ستاروں سے بھرا. آف وائٹ بڑا سا دوپٹہ شانوں پہ پھیلائے وہ بہت فریش اور کھلی کھلی سی لگ رہی تھی.
“وعلیکم اسلام! واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز یار.” وہ چمکتی مسکراہٹ کیساتھ بولتا اسکے مقابل آکھڑا ہوا. ابیہا کے ہونٹوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ تھی. اور آنکھوں میں الوہی سی چمک.
“آپکی پیکنگ ہوگئی.”
“بس آل موسٹ ہوگئی ہے. تم یہ بتاؤ انکل آنٹی بھی آئے ہیں.”
“نہیں وہ ڈائیریکٹ ائیرپورٹ آئینگے. مجھے تو روحینہ نے گاڑی بھیج کر بلوالیا.”
“روحی دنیا کی بیسٹ سسٹر ہے.” ولید ہنسا تھا.
“میں آپکی پیکنگ کردیتی ہوں.” وہ کہتی ہوئی بیڈ کیطرف بڑھی اور اسکی شرٹ اٹھا کر تہہ کرنے لگی ولید چلتا ہوا اسکے پاس آرکا. اور اسے پیکنگ دیکھتا رہا. اس وقت وہ ایک پرفیکٹ بیوی لگ رہی تھی.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: