Fizza Batool Urdu Novels

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool – Episode 8

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool
Written by Peerzada M Mohin
محبت ایسا دریا ہے از فضہ بتول – قسط نمبر 8

–**–**–

“لاہور آؤگی مجھ سے ملنے¿” اس نے چند لمحوں بعد مدھم آواز میں پوچھا. بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے وہ بے اختیار ہنس پڑی.
“ابھی آپ خود تو لاہور پہنچے نہیں اور مجھے انوائیٹ کر رہے ہیں.” اس نے ذرا سا رخ موڑ کر اسکی طرف دیکھا. ولید نے اسکے دونوں ہاتھ تھام لیئے.
“وہاں پہنچ کر انوائیٹ کرونگا تو آؤگی¿”
“پتہ نہیں.” اس نے شانے اچکائے.
“اچھا سنو چھوڑو پڑھائی, میرے ساتھ ہی چلو.” ولید نے ذرا سا جھک کر اسکی آنکھوں میں جھانکا تو وہ پلکیں جھکا گئی. “نکاح تو ہمارا ویسے بھی ہوچکا ہے اب یہ مہندی بارات وغیرہ کے جھنجھٹ میں پڑنے کا کیا فائدہ.”
“کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ.” وہ جھینپ گئی.
“آئم سیریس.”
“میری پڑھائی کا کیا ہوگا.”
“وہاں مائیگریشن کروالیں گے ناں.” اسکے پاس تو جیسے ہر بات کا جواب تھا.
“اور گھر والوں سے کیا کہیں گے¿”
“گھر والوں کو نہیں بتائینگے ناں چپکے سے بھاگ چلتے ہیں.” وہ رازدارانہ انداز میں بولا. ابیہا نے پوری آنکھیں کھول کر اسکی طرف دیکھا. ولید کی آنکھوں میں شرارت تھی.
“میرا ہاتھ چھوڑیں میں نے نیچے جانا ہے” اس نے اسکی نرم گرفت سے اپنے ہاتھ چھڑوائے.”سب ناشتے پہ ویٹ کررہے ہیں.”
“اور میں جو دو سال تمہارا ویٹ کرتا رہوں گا.” ولید نے اصرار کیا.
“ولید.”
“ولی… ولی کہتے ہیں مجھے سب.”
“وہ تو پیار سے کہتے ہیں ناں.”
“تو کیا تم مجھ سے پیار نہیں کرتیں¿”
“نو” نفی میں سر ہلا کر اسکی سائیڈ سے ہو کر آگے بڑھی. ولید نے سرعت سے اسکا بازو تھام کر اسے اپنے مقابل کیا.
“تم مجھ سے پیار نہیں کرتی¿” اس نے جھک کر اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھا. وہ پزل سی ہوگئی.
“بازو چھوڑیں.”
“پہلے میری بات کا جواب دو.” وہ سابقہ لہجے میں بولا تھا.
“اچھا کرتی ہوں پیار آپ سے. اب میرا بازو چھوڑیں.” اس نے بالآخر ہتھیار ڈالے. ولید کے ہونٹوں پہ بڑی بھرپور سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی.
“پھر چلوناں میرے ساتھ.” اس نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا.
“ولید.” اس نے اسے شاکی نظروں سے گھورا.
“ولی.” ولید نے اسے گھورا.
“اوکے.. ولی… پلیز چلیں ناشتے پہ سب ہمارا ویٹ کر رہے ہیں.”
“اف فوہ… اوکے بابا جاؤ تم میں آتا ہوں.” ولید نے جھنجھلا کر اسکا بازو چھوڑ دیا. وہ تیزی سے دروازے کیطرف جھپٹی.
“اے سنو” ولید نے اسے عقب سے پکارا تو وہ رک کر پلٹی.
“ایک الوداعی hug تو بنتا ہے ناں.” وہ شرارت آمیز لہجے میں بولا تھا. ابیہا نے اسے گھورا. ولید نے مسکرا کر اپنے بازو وا کر دیئے تھے. ابیہا کو لگا جیسے وقت رخصت آگیا ہے.. وہ بے اختیار بھاگ کر اسکے کھلے بازوؤں میں سما گئی تھی.
——————-
تجھ سے لفظوں کا نہیں روح کا رشتہ ہے میرا
تو میری سانس میں تحلیل ہے خوشبو کیطرح
——————–
اور پھر وہ چلا گیا تھا. ائیر پورٹ پہ امی ابو دادو اور عامر بھی آئے تھے. جاتے سمے اس نے ابیہا کا ہاتھ تھام کر اسکی جانب مسکرا کر دیکھا تھا. وہ بھی جواباً مسکرائی تھی. وہ کچھ کہے بناء جانے کیلیئے پلٹ گیا تھا. وہ اسے دیکھے گئی تھی یہاں تک کہ آنکھوں میں جمع ہوتے پانی نے اسکے وجود کو دھندلا دیا تھا. دل میں سوگوار سی اداسی ڈیرے جمانے لگی تھی. گھر آکر بھی وہ وقفے وقفے سے چھپ چھپ کر آنسو بہاتی رہی تھی. دوپہر کے کھانے کے بعد وہ لوگ ابھی قیلولہ کرنے اپنے اپنے کمروں میں بھی نہ گئے تھے کہ نبیلہ چچی, زاھدہ ممانی اور رضیہ تائی آدھمکی تھیں. رسمی گفتگو کے بعد رضیہ تائی جوکہ خاندان بھر میں تدبر والی خاتون سمجھی جاتی تھیں امی سے مخاطب ہوئیں.
“پھر کیا سوچا ہے تم نے عابدہ¿”
“کس بارے میں آپا” امی نے حیرت سے پوچھا. رضیہ تائی دراصل ابو کے تایازاد کزن کی بیوی تھیں. ابو اور پھپھو صرف دو ہی بہن بھائی تھے مگر خاندانی بانڈنگ اتنی مضبوط تھی کہ کزنز کو بھی بہن بھائیوں کا درجہ ہی دیا جاتا تھا.
“زبیر اور نیہا کے رشتے کے متعلق بھئی. تم نے اپنی لڑکی بیاہنی ہے یا نہیں.” رضیہ تائی نے کہا. دادو اور امی نے بےاختیار ایک دوسرے کیجانب دیکھا.
“ظاہر سی بات ہے بیاہنی ہے رضیہ یہ تو کس قسم کا سوال کر رہی ہے. نیہا اور زبیر کا رشتہ تو کافی عرصے سے پکا ہے.” امی کی بجائے دادو نے جواب دیا.
“مگر سعیدہ آپا تو کوئی اور ہی کہانی سناتی ہیں خالہ بی.” زاھدہ ممانی نے بھی گفتگو میں حصہ لیا. یہ محترمہ امی کے بڑے بھائی کی بیوی تھیں اور انکو سارے خاندان کے متعلق ایک ایک بات کی رپورٹ رکھنے کی عادت تھی.
“کیسی کہانی¿” دادو نے ماتھے پہ بل ڈال کر پوچھا. ابیہا اور نیہا اپنے کمرے کے دروازے پہ آکھڑی ہوئیں.
“وہ کہتی ہیں کہ اس نے ابیہا کیلیئے بہت مشکلوں سے خاندان میں رشتہ ڈھونڈا تھا مگر تم لوگوں نے نہ صرف رشتے سے انکار کیا بلکہ نیہا اور زبیر کی منگنی بھی توڑ کر اسے ذلیل کر کے اپنے گھر سے نکال دیا تھا.” رضیہ تائی نے بالکل چغلخور عورتوں کے سے انداز میں آواز ذرا دھیمی کرکے رازدارانہ انداز میں پھپھو کے خوبصورت انکشافات ان سب تک پہنچائے.
“توبہ استغفار..آپا کیسی جھوٹی ہیں. یہ امی بیٹھی ہیں ان سے پوچھ لیں سب کچھ. میں نے کچھ کہا تو بری کہلاؤں گی.” امی نے تو جیسے کانوں کو ہاتھ لگادیئے تھے.
“اے بی بی سعیدہ جمیلہ کی نند کے بیٹے کا رشتہ لیکر آئی تھی آبی کیلیئے. وہ لڑکا صرف دس جماعتیں پاس تھا اور کام کاج بھی کچھ نہیں کرتا تھا اور تمہیں پتہ ہے کہ جمیلہ کی نند گاؤں میں رہتی ہے اب ہم بھلا کیوں اپنی نازوں پلی بچی کو گاؤں میں ان پڑھ جاہل لوگوں میں بیاہ دیتے. تم خود سوچو ذرا.” دادو کا تو جیسے دل ہی جل کر رہ گیا تھا.”اور جہاں تک بات ہے نیہا کے رشتے کی تو زبیر نے خود منگنی توڑی تھی لیکن دو ہی دن بعد سعیدہ اور وہ خود آئے تھے اور رشتہ دوبارہ جوڑ لیا تھا. یہ نہیں بتایا تمہیں سعیدہ نے¿’
“اگر رشتہ جوڑ لیا تھا تو پھر آبی کے نکاح میں کیوں نہیں بیٹھی وہ¿” رضیہ تائی نے پوچھا. ابیہا نے نیہا کیطرف دیکھا. اسکا چہرا بالکل سپاٹ تھا.
“یہ اسی سے پوچھو.” دادو نے بیزاری سے ہاتھ ہلا کر کہا.
“دیکھیں خالہ بی سعیدہ تو خاندان بھر میں کہتی پھر رہی ہے کہ کاظم نے رشتہ توڑ کر اسے اور زبیر کو دھکے مار مار کر گھر سے نکال دیا تھا اور وہ یہ بھی کہتی ہے کہ نیہا نے کال کرکے زبیر کی منتیں کی تھیں اور اس سے وعدہ کیا تھا کہ آبی کی شادی جہاں وہ کہیں گے وہیں ہوگی اسی لیئے وہ اور زبیر دوبارہ رشتہ جوڑنے آئے تھے مگر تم لوگ حامی بھر کر مکر گئے اور آبی کا نکاح طے کردیا.” رضیہ تائی بولیں
“توبہ توبہ آپا کو مرنا نہیں یاد اپنے سگے بھائی پہ الزام لگارہی ہیں کاظم صاحب بھلا کیوں انہیں دھکے ماریں گے. اور جہاں تک بات ہے نیہا کے کال کرنیکی تو یہ سچ ہے مگر ہم نے کوئی حامی نہیں بھری تھی جمیلہ کی نند کے لڑکے کے رشتے کیلیئے کیونکہ کاظم صاحب کسی طور بھی آبی کو کسی کم پڑھے لکھے لڑکے سےبیاہنے پہ راضی نہیں تھے. آپا بلاوجہ جھوٹ بول رہی ہیں انہوں نے بیکار میں ابیہا کے رشتے کو اپنی انا کا مسئلہ بنایا ہواہے.” امی نے کہا. ابیہا اضطراری انداز میں اپنی انگلیاں مروڑنے لگی.
“دیکھ رضیہ آبی ہماری بچی ہے اسکا اچھا برا ہم سے بہتر تو کوئی نہیں سمجھ سکتا ناں. سعیدہ اور زبیر کون ہوتے ہیں ہم پہ دباؤ ڈالنے والے کہ ابیہا کی شادی ہوگی تو وہ نیہا کو بیاہیں گے. اب اگر میں تیری بیٹی کے رشتے میں ٹانگ اڑاوں تو تجھے اچھے لگے گا کیا. سعیدہ ایک رشتہ لائی تھی ہمیں مناسب نہیں لگا سو انکار کردیا اسمیں اتنا واویلا کرنیکی کیا ضرورت ہے.تو خود بتا لڑکیوں کے سو رشتے آتے ہیں کیا ہر رشتے کیلیئے ہاں کردی جاتی ہے.” دادو نے سبھاؤ سے بات کی. تینوں خواتین نے بھی قائل ہوجانیوالے انداز میں گردن ہلائی.
“اے بھابھی یہ آبی کا اتنا اچھا رشتہ اچانک سے کیسے مل گیا¿” نبیلہ چچی نے سن گن لینے کے سے انداز میں پوچھا.
“آبی کی یونیورسٹی کی سہیلی اپنے بھائی کیلیئے رشتہ لائی تھی لڑکا ہمیں اچھا لگا سو ہم نے رشتہ دیدیا.” امی نے مختصراً بتایا.
“اچھا مگر آپا تو کچھ اور ہی بتا رہی تھیں.” زاھدہ ممانی نے معنی خیزی سی نظریں گھما کر کہا.
“کیا کہا آپا نے¿” امی نی تیوری چڑھا کر پوچھا.
“بھئی میں نے تو جو ان سے سنا وہی بتا دیتی ہوں. وہ کہتی ہیں کہ آبی آدھی آدھی رات تک انجان مردوں کیساتھ گھومتی تھی اور زبیر نے اسے خود کسی مرد کیساتھ گاڑی میں دیکھا تھا. اور ولید کو بھی آبی نے خود پھنسایا ہے” زاھدہ ممانی گل افشانیاں کررہی تھیں. ابیہا کو نجانے کیوں ڈھیروں غصہ آنے لگا تھا.
“استغفراللہ! آپا کے اپنے منہ کے آگے بھی بیٹیاں ہیں. میری معصوم بچی پہ تہمتیں لگاتے انکا دل نہ کانپا. اور اب میں آپکو سچ بتاتی ہوں. زبیر کی اسی قسم کی بکواس پہ کاظم صاحب کو غصہ آیا تھا اور انہوں نے اسے جھاڑ دیا تھا. اور حد تو یہ ہے کہ آپا نے ہم سب کے سامنے اٹھ کر آبی کے منہ پہ طمانچہ مار دیا تھا. تو کیا اس بات پہ کاظم صاحب آپا کو پھولوں کے ہار پہناتے.” امی شدید غصے کے عالم میں قدرے اونچا اونچا بولے جارہے تھیں.
“ہائے توبہ ایسا تو نہیں کرنا چاہیئے تھا سعیدہ کو.” رضیہ تائی نے دہل جانے کی ایکٹنگ کی.
“زبیر میری معصوم بچی پہ تہمتیں لگاتا پھرتا ہے اسے شرم نہیں آتی آبی اسکی بہنوں جیسی ہے اور یہ جو آپا آبی کے دیر سے گھر آنے کی بات کررہی ہیں ناں تو یہ ہماری اجازت سے اپنی سہیلی کے گھر میلاد پہ گئی تھی.” امی تیز تیز بولتی جارہی تھیں.
“ہائے سعیدہ آپا کا تو لگتا ہے میٹر ہی بالکل گھوم گیا ہے.” زاھدہ ممانی بولیں.
“آبی کے نکاح میں بھی نہ بیٹھیں آپا کتنی ہماری سبکی ہوئی انکو ذرا بھی احساس نہ ہوا اس بات کا. دنیاداری کو ہی آجاتیں.” امی بولیں
“ہاں یہ تو ہے سعیدہ نے یہ بہت غلط کیا ہے. لیکن اب آگے کیا کرنا ہے¿” رضیہ تائی نے پوچھا.
“جتنی ہماری سبکی ہوگئی ہے ناں اسکے بعد تو میرا آپا کی شکل دیکھنے کو بھی دل نہیں کرتا.” امی نے صاف صاف کہا.
“لیکن بھابھی کوئی حل بھی تو نکالنا ہے ناں اس مسئلے کا یوں تو رشتے نہیں توڑے جاسکتے.” زاھدہ ممانی نے رسان سے کہا.
“کاظم صاحب کی مرضی پہ منحصر ہے اور ویسے بھی میری نیہا کو کوئی لڑکوں کی کمی تھوڑی ہے.” امی تفاخر سے بولیں.
“ہاں یہ تو ہے لیکن بھابھی یہ آبی کی سسرال تو بڑی ماڈرن اور امیر ہے اور لڑکا بھی لاکھوں میں ایک ہے بھلا انہوں نے آبی کو کیسے پسند کرلیا.” نبیلہ چچی کا انداز کریدنے والا تھا.
“میری بچی کی قسمت ہے بھئی ہے یہ. سارا خاندان اسکو دھتکارتا تھا اب اللہ نے اسکا اتنی اچھی جگہ نصیب جوڑا ہے تو پورے خاندان کو جلن ہونے لگ گئی ہے. اور یہ سعیدہ آپا کو زیادہ تکلیف اسلیئے ہورہی ہے کہ انکا زبیر ولید کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے. آخری بار آپا آبی کے نکاح سے چند دن قبل آئی تھیں ہماری طرف تب ولید اور اسکی ماں بھی آئے بیٹھے تھے. آپا اور زبیر ان دونوں کے آگے سخت کم اعتمادی کا شکار ہورہے تھے.اب آپا کا حسد ہی بول رہا ہے اور اسی حاسد کیوجہ سے وہ میری بچی کے نکاح میں نہیں بیٹھیں. وہ آخری بار کہہ کر گئی تھیں کی آبی کو کوئی بیاہنے نہ آئے گا اب اسکا اتنی اچھی جگہ نکاح ہوجانا انکو برداشت نہیں ہورہا. اللہ بڑا کارساز ہے میری صابر بچی کے نصیب میں شہزادہ لکھا ہوا تھا اس نے” امی بولتے بولتے جذباتی ہوگئی تھیں. انکا گلا رندھ گیا تھا. وہ تینوں خواتین کھسیانی سی نظر آنے لگی تھیں کیونکہ ابیہا کو ریجیکٹ کرنیوالوں میں وہ بھی شامل تھیں.
“ہاں ماشاءاللہ آبی کی قسمت بہت اچھی ہے. اللہ سلامت رکھے.” رضیہ تائی مسکرا کر بولیں. زاھدہ ممانی اور نبیلہ چچی نے فوراً آمین کی تانیں اڑائی تھیں.
“اچھا تو پھر میں سعیدہ سے بات کرتی ہوں کہتی ہوں اس سے کہ یہ غلط طریقہ ہے.” رضیہ تائی نے چند ثانیے بعد کہا.
“جس طرح کی بکواس وہ ادھر ادھر کرتی پھر رہی ہے ناں میری بچی کے حوالے سے سچ پوچھو تو میرا اس سے تجدید تعلقات کا کوئی ارادہ نہیں بن رہا.” دادو ناگواری سے بولیں. نیہا کے چہرے پہ عجیب سے تاثرات ابھرے تھے.
“ہاں بالکل. میری نیہا کو رشتوں کی کمی نہیں ہے.” امی بھی قطیعت سے بولیں.
“اس طرح نہیں ہوتا بھابھی یوں نہیں رشتے ختم ہوجاتے. نیہا زبیر کی دلہن ہی بنے گی.” رضیہ تائی نے کہا.
“نہیں آپا میں نیہا کیلیئے شاکرہ آپا کو ہاں کہہ چکا ہوں.” ابو بولتے ہوئے اندر داخل ہوئے تھے. وہ سب انکی طرف متوجہ ہوگئے.
“لیکن کاظم اپنی بہن سے ناطہ توڑ لو گے کیا ہمیشہ کیلیئے” رضیہ تائی ہے ابو سے پوچھا
“میری آبی کی کردار کشی کرنیوالوں کی میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں. اور جو میری بچی کی خوشی میں شریک نہیں ہوئے ان سے مجھے کوئی رشتہ رکھنا ہی نہیں. شاکرہ آپا کا احمد ماشاءاللہ پڑھا لکھا برسرروزگار لڑکا ہے زبیر سے ہزارہا درجےبہتر ہے.” ابو کا لہجہ قطعی تھا وہ صوفے پہ بیٹھ چکے تھے. نیہا پلٹ کر کمرے کے اندر چلی گئی.
“ہاں احمد لڑکا تو بہت اچھا ہے. چلو بھیا جو تمہاری بچی کا نصیب. اب ہمیں اجازت دو.” رضیہ تائی کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں. امی اور دادو کا منہ ہنوز بنا ہی رہا تھا. انکے جانے کے بعد ابو امی اور دادو کو بتانے لگے کہ شاکرہ بھابھی اتوار کو رسم کرنے کیلیئے آئینگی. جبکہ امی اور دادو تو اس وقت صرف پھپھو کی شان میں قصیدے پڑھنا چاہتی تھیں.
—————–
“بہت معصوم حسرت ہے بتاؤ کیا کِیا جائے
مجھے تم سے محبت ہے بتاؤ کیا کِیا جائے” موبائل کی اسکرین پہ جگمگاتے الفاظ دیکھ کر اسکے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھر گئی.
“پہنچ گئے آپ.” اسنےجوابی میسیج ٹائپ کرکے بھیجا.
“کب کا… تم کیا کر رہی ہو.” اسکا جوابی میسیج بھی فوراً سے آگیا تھا.
“کچھ بھی نہیں. آپ کیسے ہیں¿”
“تم بن اداس اور بالکل ادھورا.” آگے رونے والی شکل بھی تھی. ابیہا مسکرانے لگی. دوسرے بستر پہ بیٹھی نیہا کی عجیب سی نظریں اسکے چہرے پہ تھیں.
“اسکائپ پہ آؤ.” ولید کا اگلا میسیج بھی فوراً ہی آیا تھا. اسنے اوکے کا میسج کرکے موبائل میں ہی اسکائپ پہ لاگ ان کیا اور ہاتھوں سے بال سنوار کر دوپٹہ شانوں پہ سیٹ کرکے سیدھی ہو بیٹھی. چند ہی منٹ بعد وہ اسکے سامنے تھا
ہمیشہ کیطرح فریش اور دل موہ لینے والی مسکراہٹ کے ساتھ.
“ہائے.” اس نے اسے ہاتھ ہلایا.
“ہائے.” اس نے بھی مسکرا کر ہاتھ ہلا دیا. نیہا نے ذرا سا اچک کر موبائل کی اسکرین پہ نظر ڈالنا چاہی.
“کیسی ہو وائفی¿”
“بالکل ٹھیک. کیا کر رہے تھے آپ.”
“تمہیںً یاد کر رہا تھا اور روحینہ نے نکاح کی پکچرز بھیجی ہیںً وہ دیکھ رہا تھا. ہماری ایک تصویر بہت اچھی آئی ہےمیں تمہیں بھیجونگا.” ولید کی آواز نیہا کی سماعتوں تک بھی بخوبی پہنچ رہی تھی. اس نے موبائل بائیں ہاتھ میں پکڑ کر دائیں ہاتھ سے بیڈ سائیڈ ٹیبل سے ہینڈز فری اٹھائے.
“آپکو کوئی کام وام نہیں ہوتا.” ہینڈ فری سیٹ کرکے اسنے پوچھا.
“کام تو آپکی سوچ سے بھی زیادہ ہوتا ہے مگر بقول شاعر کچھ عشق کیا کچھ کام کیا.” وہ ہلکا سا گنگنایا تھا. ابیہا ہنسنے لگی. نیہا برا سا منہ بنا کر اٹھ کے کمرے سے باہر چلی گئی.
“اوہو یہ تو فیض صاحب تھے جو عشق کیساتھ ساتھ کام بھی کرلیتے تھے زیادہ تر تو عاشق غالب کیطرح نکمے ہی ہوتے ہیں.” وہ شرارتاً بولی
“ہاہ… تم کیا جانووائفی… عشق کیسی قاتل شے ہے.. خدا کی قسم کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنے لگا ہوں میں.” وہ ٹھنڈی آہ بھر کر بولا. وہ جزبز سی ہوگئی.
“ولید ایک بات بتاؤں”
“جی جناب.”
“نیہا کی منگنی ٹوٹ گئی.”
“اوہ… لیکن کیوں¿” ولید کو دلی دکھ ہوا تھا. جواباً ابیہا نے اسے ساری بات من و عن بتا دی.
“افسوس کی بات ہے.” ولید نےنفی میں سر ہلایا.
“ہاں ناں.نیہا اتنی دکھی ہے.”
“کم آن مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ تم نے یہ سب مجھے تب کیوں نہیں بتایا جب میں ادھر تھا.”
“تب بتا دیتی تو کیا ہوتا.”
“اس اسٹوپڈ زبیر کو میں بہت اچھا سبق سکھاتا.وہ کون ہوتا ہے میری بیوی کے کردار پہ بات کرنے والا. How dare he.” ولید کو سچ مچ غصہ آگیا تھا.
“ولید کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ.”
“تو اور کیا کہوں.”
“وہ میری پھپھو کے بیٹے ہیں بہت قابل احترام ہیں میرے لیئے.” اسکا لہجہ اچھا نہیں تھا.
“واٹ پھپھو کا لڑکا ہے تو کیا اسکے پاس تمہارے کردار پہ کیچڑ اچھالنے کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.”
“یہ ہماری فیملی کا مسئلہ ہے.”
“ایکسکیوز می میں تمہارا بوائے فرینڈ نہیں شوہرہوں. میری اور تمہاری زندگی بالکل بھی الگ نہیں ہے.اور تمہاری طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے یہ میں برداشت نہیں کرسکتا” ولید کا لہجہ غصیلہ تھا.
“آپ اتنے chauvinistic ہونگے میں نے سوچابھی نہیں تھا.”
“جسٹ شٹ اپ بیا.. تم مجھے ایک بات بتا بھی رہی ہو اور یہ بھی ایکسپیکٹ کر رہی ہو کہ میں اس بات پہ کمنٹ بھی نہ کروں. واٹ از دس” ولید کے چہرے پہ ناگواری کے تاثرات تھے.
“غلطی ہوگئی آپ سے شیئر کرلیا.” اسکا موڈ بھی سخت آف ہو چکا تھا.
“آئی تھنک آئی بیٹر لیو. اللہ حافظ.” وہ کہہ کر فوراً سے سائن آؤٹ کر گیا تھا. ابیہا نے تاریک اسکرین کو گھورا اور پھر جھنجھلا کر موبائل تکیے پہ پٹخا. بلاوجہ جھگڑا ہوگیا تھا. اسنے کچھ دیر بعد ولید کا نمبر ملایا آگے سے جلد ہی کال اٹینڈ کرلی گئی تھی.
“ہیلو” ولید کی خفا سی آواز سنائی دی.
“آپ خفا ہیں.”
“پتہ نہیں.”
“مجھے غصہ آگیا تھا.”
“مجھے بھی غصہ آگیا تھا.”
“تو اب غصہ اتر گیا ہے میرا” وہ نرم لہجے میں بولی.
“میرا بھی.” وہ بھی جواباً نرم لہجے میں بولا تھا.
“آئم سوری.”
“آئی لو یو.” اسکا جواب بالکل الٹا تھا.
“سچی¿” وہ مسکرا رہی تھی.
“بالکل سچی…”
“آئی ہیٹ یو.” وہ شرارت سے بولی.
“آئی ول کِل یو.” اسکی دھمکی میں بھی محبت کی آمیزش تھی. جواباً وہ ہنس دی تھی.
“ہمیشہ ہنستی رہا کرو تمہاری ہنسی بہت پیاری ہے” ولید کا لہجہ اسکی سچائیوں کی گواہی دے رہا تھا.وہ کچھ نہ بولی.
“اچھا بتاؤ اب نیہا کی شادی کا کیا ہوگا¿” ولید نے پوچھا

“ہونا کیا ہے. ابو نے شاکرہ آنٹی کے بیٹے سے نیہا کا رشتہ طے کردیا ہے.” اس نے اسے بتایا.
“یہ شاکرہ آنٹی کون ہیں¿”
ابو کی دورپار کی کزن ہیں. انکے بس ایک ہی بیٹے ہیں احمد بھائی. انجنیئر ہیں بہت اچھی جاب کرتے ہیں. اوور آل وہ لوگ بہت اچھے اور تعلیمیافتہ ہیں.”
“گڈ یار پھر تو اچھا ہے کہ نیہا کا رشتہ وہیں ہی ہو.” ولید بولا.
“جی.ابو نے تو فیصلہ سنادیا ہے آج کہ نیہا کہ شادی وہیں ہوگی. اتوار کو شاکرہ آنٹی رسم کرنے آئینگی.”
“گڈ. اچھا مجھے بہت نیند آرہی ہے. اللہ حافظ.”
“اوکے اللہ حافظ” وہ بولی. دوسری جانب سے سلسلہ منقطع ہونے پر اسنے موبائل سائیڈ ٹیبل پہ رکھدیا اور لیٹ گئی.
——————-
“ہائے ابیہا” وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کیطرف جارہی تھی جب روحینہ نے اسے پکارا تھا. وہ رک کر پلٹی. وہ کچھ ہی فاصلے پہ کھڑی تھی. سادہ سی سیاہ شلوار قمیض پہنے دوپٹہ سینے پہ پھیلائے اور بالوں کو اونچی پونی میں باندھے عام سے حلئیے میں.
“ہائے کیسی ہیں آپ”, وہ مسکرائی.
” میں ٹھیک ہوں.” نجانے کیون آج اسے روحینہ کی مسکراہٹ میں پھیکا پن نظر آیا تھا. کچھ دیر وہ دونوں ہی خاموش کھڑی رہی تھیں جیسے بات کرنیکو دونوں ہی الفاظ ڈھونڈ رہی تھیں.
“میری کلاس ہے.” ابیہا بولی.
“ہوں میری بھی. اوکے سی یو.” روحینہ اپنی وہی پھیکی سی سوگوار سی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجائے بولی تھی.
“اوکے.” وہ بھی کہہ کر پلٹی. وہ دونوں سست قدموں سے پلٹ کر اپنے اپنے ڈیپارٹمنٹس کیجانب چل دی تھیں. دونوں کے دلوں میں عجب سی افسردگی اتر آئی تھی.
—————
“ہیلو”
“اسلام علیکم ولی بھیا!”
“وعلیکم سلام روحی کیسی ہو¿”
“ٹھیک ہوں. آپ کیسے ہیں¿”
“الحمدللہ. ممی کیسی ہیں¿”
“ٹھیک ہیں آپکو یاد کر رہی تھیں.”
“ہوں. اگر جاگ رہی ہیں تو میری بات کروادو.”
“نہیں سوگئی ہیں.”
“اوکے.”
“ولی بھیا آپ مجھ سے خفا ہیں¿” روحینہ نے جھجھکتے ہوئے پوچھا.
“میں تم سے خفا نہیں ہوسکتا روحی یہ میری مجبوری ہے.” ولید ٹھنڈی سانس بھر کر بولا تھا. روحینہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے.
“آئم سوری ولی بھیا.”
“کم آن روحی یہ فارمیلیٹیز غیروں میں ہوتی ہیں اور ہم تو صرف بہن بھائی ہی نہیں بلکہ بیسٹ فرینڈز بھی ہیں.”
“ولی بھیا. میں اتنی شرمندہ ہوں کہ آج یونیورسٹی میں ابیہا سے بات کرنیکی بھی ہمت نہیں ہوئی.” اسکے آنسو گالوں پہ پھسل رہے تھے.
“یہ تم دونوں دوستوں کا معاملہ ہے میں بیچ میں نہیں بولوں گا.”
“میں آپکی سب باتوں کو سوچتی رہتی ہوں. اور ولی بھیا مجھے آپکی ہر ہر بات سچ لگتی ہے.” وہ ندامت سے بھرے لہجے میں بولی.
“ہوں. تو پھر اب رونے کا سین کب تک جاری رکھنا ہے¿”
“ولی بھیا میں بہت شرمندہ ہوں ابیہا سے.”
“دیکھو روحی خاموشی محبت کیلیئے سم قاتل کا کام کرتی ہے. بس مجھے مزید کچھ نہیں کہنا اس سلسلے میں.”
“جی آپ ٹھیک کہتے ہیں.”
“چلو اب آنسو صاف کرو.” ولید نے حکم جاری کیا تو اسنے جلدی سے اپنے آنسو پونچھ ڈالے.
“اب سوجاؤ صبح یونیورسٹی بھی جانا ہے تم نے.”
“اوکے ولی بھیا. گڈ نائٹ.”
“گڈ نائٹ اور ممی کو میرا سلام دینا. اللہ حافظ.”
“اللہ حافظ” دوسری جانب سے سلسلہ منقطع ہونے پر اسنے موبائل سائیڈ ٹیبل پہ رکھدیا. اسکا دل کافی ہلکا پھلکا ہوگیا تھا.
—————–
“کیسی ہو ابیہا¿” اگلے روز یونیورسٹی میں وہ ابیہا کے سامنے تھی.
“جی میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں.” وہ ہمیشہ کیطرح مسکرا کر بولی تھی.
“ہوں پڑھائی کیسی چل رہی ہے تمہاری” روحینہ خود کو نارمل ظاہر کرنیکی کی کوشش کرتے ہوئے بولی.
“اچھی چل رہی ہے آئیں کیفیٹیریا میں چلتے ہیں.” ابیہا نے کہہ کر قدم کیفیٹیریا کیجانب بڑھائے تو وہ بھی اسکی ہمقدم ہوگئی. وہ دونوں کیفیٹیریا میں آکر اپنی مخصوص دورافتادہ میز پہ براجمان ہوگئیں.
“بریانی کھانے کا دل کر رہا ہے” ابیہا بولی. روحینہ نے اسکی طرف دیکھا. وہ ہلکا سا مسکرا رہی تھی. گال کا بھنور نمایاں ہورہا تھا.
“ہاں دل تو میرا بھی چاہ رہا ہے.” وہ بولی.
“اپکا ہی کہنا ہے کہ کیفیٹیریا آکر کچھ نہ کھانا بڑی غیر فطری سی بات ہے سو آپ بیٹھیں میں ابھی آتی ہوں.” وہ کہہ کر اٹھ کے کاؤنٹر کیجانب بڑھ گئی. روحینہ اسے دیکھتی رہی. اسے ابیہا کی اتنی اچھی فطرت پہ بہت پیار آیا تھا. چند لمحوں بعد وہ بھاپ اڑاتی بریانی کی پلیٹیں اور کوک کی بوتلیں لئے چلی آئی تھی.
“ولید سے بات ہوئی آپکی¿” اس نے بیٹھتے ہوئے پوچھا.
“ہاں کل بات ہوئی تھی رات کو. تمہاری بات ہوتی ہے ان سے¿” روحینہ نے پوچھا.
“ہاں ہوتی ہے. مگر وہ کہہ رہے تھے کہ کچھ دن تک وہ بزی ہوجائینگے پھر روز بات نہیں کر سکیں گے.” ابیہا نے انہماک سے بریانی کھاتے ہوئے جواب دیا.
“ہوں. ولی بھیا تم سے بہت پیار کرتے ہیں.” روحینہ کی بات پہ وہ جھینپ کر مسکرائی تھی.
“بریانی کھائیں ٹھنڈی ہوجائیگی.” اسنے بات بدلی. روحینہ نے پلیٹ اپنے سامنے سیدھی کی.
“تم مجھ سے خفا نہیں ہو”
“نہیں.”
“کیوں¿” روحینہ نے پوچھا اسنے اب تک چمچ نہیں اٹھایا تھا.
“کیونکہ میں آپ سے بہت پیارکرتی ہوں” ابیہا نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھکر پرخلوص لہجے میں کہا تھا. روحینہ کی آنکھوں میں یکدم جیسے سیلاب امڈ آیا تھا.
“میں بھی تم سے بہت پیار کرتی ہوں.لیکن انسان ہوں ناں اور انسان پہ حسد کے جذبات بہت جلد غالب آجاتے ہیں.” اسنے بہتے آنسوؤں کیساتھ اعتراف کیا تھا. ابیہا نے ہاتھ بڑھا کر اسکے آنسو پونچھے.
“مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں روحینہ اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ میں ولید کی بیوی بننے سے پہلے بھی آپکی دوست تھی اور اب بھی آپکی دوست ہی ہوں. ہمارا آپس کا رشتہ کبھی نہیں بدل سکتا.” وہ آج بہت اعتماد سے بول رہی تھی.
“تم بہت اچھی ہو. میرے بھائی کی چوائس بہترین ہے.” روحینہ نے نم آنکھوں سے مسکرا کر کہا تھا. ابیہا بھی مسکرانے لگی تھی.
“چلیں اب بریانی کھائیں.” اسنے اسکی توجہ بریانی کی پلیٹ کیجانب مبذول کروائی تھی. کچھ دیر بعد وہ خوش گپیوں میں مصروف بریانی پہ ہاتھ صاف کر رہی تھیں.
—————–
وہ یونیورسٹی سے گھر آکر نماز پڑھ کر کھانا کھا کے سوگئی. جب آنکھ کھلی تب شام ہوچکی تھی اس نے جلدی جلدی اٹھ کر مغرب کی نماز ادا کی اور جب وہ نماز ادا کرکے اپنے کمرے سے باہر نکلی تب باہر صحن میں پھپھو زبیر بھائی اور رضیہ تائی امی ابو دادو کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے. نیہا ایک جانب کھڑی تھی وہ بھی اسکے ساتھ جا کھڑی ہوئی. پھپھو کہہ رہی تھیں. “میں سب باتیں بھلا کر آگئی ہوں تو تم بھی بھول جاؤ میرے بھائی.” ابیہا نے نیہا کیطرف دیکھا. وہ لب بھینچے کھڑی تھی.
“آپا میں شاکرہ آپا کو زبان دے چکا ہوں. اور آپ نے جس طرح میری بچی کے کردار پہ کیچڑ اچھالی ہے اسکے بعد میرے دل میں آپ اور زبیر کیلیئے بالکل بھی وسعت پیدا نہیں ہو سکتی.” ابو کا لہجہ اکھڑا اکھڑا سا تھا.
“اے کاظم بس اب چھوڑو ناں گزری باتوں کو.” رضیہ تائی بولیں.
“دیکھو میرے بھائی تمہاری یہ بچی ہے فساد کی جڑ اسکی وجہ سے ہم دونوں بہن بھائی آپس میں لڑے. یہ لڑکی نکاح سے پہلے ولید کے ساتھ گھومتی پھرتی تھی پوچھو اس سے ذرا نہیں پھرتی تھی یہ اسکی گاڑی میں.” پھپھو نے ایک مہلک تیر پھینکا تھا. امی ابو دادو سب اسکی طرف متوجہ ہوگئے تھے.
“میں نے خود دیکھا تھا ولید اور ابیہا کو اکٹھے گاڑی میں. اس سے پوچھو کیا یہ اسکے ساتھ ایک دن گھر تک نہیں آئی تھی رات کو¿” زبیر بھائی نے بھی فوراً جلتی پہ تیل کا کام کیا تھا. ابیہا کے ہاتھ کپکپانے لگے.
“آبی یہ زبیر کیا کہہ رہا ہے.” امی نے کڑک لہجے میں اس سے دریافت کیا.
“جج.. جی وہ امی جی… وہ میلاد کے دن واپسی پہ ڈراپ کیا تھا مجھے ولید نے.” اس نے اٹک اٹک کر بتایا. چند لمحوں کو تو تمام نفوس پہ ایک سکوت طاری ہوگیا تھا.
“اور تو نے ہمیں بتایا تک نہیں.” امی کا لہجہ سخت ترین تھا. اسکی رہی سہی جان بھی نکلنے لگی.
“وہ ڈرائیور نہیں تھا امی جی تو..” وہ مزید کچھ نہ بول سکی آواز حلق میں پھنس گئی تھی. پھپھو فاتحانہ انداز میں سب کی طرفدیکھ رہی تھیں.
“چلتی ہوں اب شادی کی تاریخ لینے ہی آؤنگی.” پھپھو کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں. ان سب کے جاتے ہی امی اسکی طرف متوجہ ہوگئیں.
“تو نے ہمیں کسی کو منہ دکھانے کا نہیں چھوڑا بیغیرت. اب یہ تیری پھپھو پورے خاندان میں کہتی پھریں گی کہ جو وہ کہتی تھی وہی سچ تھا ابیہا ہے ہی بدکردار ” امی اب غصے میں بول رہی تھیں. وہ سر جھکائے کھڑی تھی.
“اس سب کے باوجود بھی میں نیہا کا رشتہ زبیر کیساتھ کرنے کو تیار نہیں ہوں. میری آبی کے کردار پہ جتنی انگلیاں آپا نے اٹھائی ہیں اسکے بعد میرا ظرف تو اتنا بڑا نہیں ہے” ابو سرد لہجے میں بولے تھے.
“آبی آبی آبی بھاڑ میں گئی آبی. اس ایک منحوس کی خاطر ہم سب کو پھانسی دیدیں ناں آپ.” نیہا اچانک تڑخ کر بولی تھی. ابیہا نے بے یقینی سے اسکی طرف دیکھا.
“نیہا.” امی نے اسے گھرکا.
“امی پلیز. اس آبی کی خاطر کیا کیا کرینگے ابو آپ. سارے خاندان سے تو دشمنی مول لے ہی چکے ہیں. اور کیا کرینگے آپ. جس طرح کی چھوٹ آپ نے اسکو دی تھی اسکے بعد ہماری خاندان بھر میں کیسی بدنامی ہوئی ہے آپکو یہ سب نظر کیوں نہیں آتا ابو. اسکے نکاح والے روز جس طرح ولید اسکا ہاتھ پکڑ کر اسٹیج تک لایا تھا تب خاندان میں کیا کیا باتیں نہیں بنی تھیں اور نکاح کے بعد سے جس طرح یہ ولید کے ساتھ کھلے عام سارا شہر گھومتی پھرتی رہی یہ سب کیا ہماری خاندانی اقدار ہیں.” وہ اونچا اونچا بول رہی تھی.
“ولید آبی کا شوہر ہے.” ابو بولے.
“پلیز ابو.” وہ ہاتھ اٹھا کر انتہائی ناگواری سے بولی.”میں صرف اور صرف زبیر سے ہی شادی کرونگی مجھے اس ابیہا نامے سے کوئی دلچسپی نہیں. میری خوشی کا بھی کچھ خیال کرلیں آپ میں بھی آپکی ہی بیٹی ہوں.”
“جو تمہاری بہن کو بدکردار گردانتے ہیں ان کیساتھ تم زندگی کیسے گزاروگی نیہا.” ابو کے لہجے میں حیرت تھی.
“تو کیا غلط ہے اسمیں ابیہا شادی سے پہلے ولید کیساتھ پھرتی تھی اسنے ولید کو پھنسا کر اس سے نکاح کیا ہے تو پھر ابیہا کو باکردار تو کوئی کہے گا بھی نہیں. اور ابو جی صاف سی بات ہے میں زبیر کے علاوہ اور کسی سے شادی نہیں کرونگی. یہ میرا آخری فیصلہ ہے” وہ قطیعت سے کہہ کر مڑ کے گھر کے اندر چلی گئی.
“بس کردے تو بھی کاظم. جب ایک بیٹی کی شادی اسکی پسند سے کی ہے تو دوسری کیساتھ زیادتی نہ کر. ” دادو بولیں
“ہاں زبیر دیکھا بھالا لڑکا ہے. بس شادی کی تارکخ طے کردیں.” امی بھی ہاتھ اٹھا کر بولیں. “اور تو کیوں کھڑی ہے ادھر چل اندر جا.شکل گم کر اپنی” امی نے اسے گھرکا تو وہ پلٹ کر اپنے کمرے میں چلی آئی جہاں نیہا موجود تھی.
“تم نے تو کہا تھا کہ زبیر بھائی کی تمہاری لائف میں اب کوئی جگہ نہیں ہے.” وہ دکھ سے بولی.
“ہاں کہا تھا مگر تب میں غصے میں تھی. سچ تو یہ ہے کہ میں نے زبیر کے علاوہ اور کسی کے خواب اپنی آنکھوں میں نہیں سجائے اور جب تم لو میرج کرسکتی ہو تو میں کیوں نہیں.” نیہا بالکل بدلی ہوئی نظر آرہی تھی.
“میرا نکاح سے قبل ولید سے کوئی لنک نہیں تھا آپی.” وہ از حد دکھ سے بولی.
“کم آن یہ جھوٹ کے پلندے کسی اور کو سنانا.” نیہا ہاتھ جھٹک کر بولی تھی. وہ دکھ بھری نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی تھی.
——————
رات کا ایک بجنے کو آگیا تھا مگر اسکے آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہ لے رہے تھے. وہ. آج اپنے اور نیہا کے مشترکہ کمرے میں سونے کی بجائے ڈرائنگ روم میں آگئی تھی اور کسی نے اس سے بات بھی نہ کی تھی. وہ رو رو کر بے حال ہوچکی تھی جب موبائل کی وائبریشن پہ چونکی. اسنے موبائل اٹھا کر دیکھا. “ولید کالنگ” اسکرین پہ جگمھا رہا تھا. اسنے کال اٹینڈ کرکے موبائل کان سے لگایا.
“اسلام علیکم! کہاں ہو لڑکی¿” ولید کی فریش سی آواز اسکی سماعتوں میں اتری تو اسکے آنسوؤں میں روانی آگئی.
“ولید وہ.” اسکی آواز حلق میں گھٹ سی گئی تھی.
“بیا.. تم رو رہی ہو¿” وہ پریشان سا پوچھ رہا تھا.
“نہیں..” وہ روتے ہوئے بولی.
“کیا ہوا ہے¿”
“ولید” وہ اب بہت شدت سے رونے لگی تھی.
“بیا بتاؤ ناں کیا ہوا ہے. ابو تو ٹھیک ہیں ناں.” وہ سخت پریشان ہوگیا تھا.
“جی.” وہ اپنے آنسوؤں پہ قابو پانے میں ناکام ہورہی تھی.
“دادو امی نیہا عامر سب ٹھیک ہیں ناں¿”
“جی.”
“پھر کیوں رو رہی ہو¿”
“ولید” وہ ہچکیوں کے درمیان بولی.
‘,بیا پلیز یار میں اتنی دور ہوں کہ فوراً سے آبھی نہیں سکتا پلیز مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے.” اسکی پریشانی حد سے سوا ہو گئی تھی.
“ولید.” اس نے پھر روتے ہوئے تان لگائی.
“ولید کی جان لوگی کیا¿ روئے چلے جارہی ہو. آخر بتاؤ بھی تو کچھ.” ولید کے لہجے میں بیک وقت محبت اور جھنجھلاہٹ تھی.
“مجھ سے کوئی پیار نہیں کرتا.” وہ اٹک اٹک کر بولی.
“میں مر گیا ہوں کیا.” وہ جھنجھلایا.
“اللہ نہ کرے.” وہ دہل گئی.
“آئی لو یو ناں یار.میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے پلیز مت روؤ.” وہ جیسے منتوں پہ اتر آیا تھا. اس نے بمشکل اپنے آنسوؤں پہ قابو پایا تھا.
“کیا ہوا ہے¿” ولید نے چند لمحوں بعد نرم لہجے میں پوچھا.جواباً اسنے اٹک اٹک کر سب اسے بتادیا.
“اچھا.. دیکھو بیا اس دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں. انسان کو خود کو اتنا اسٹرونگ بنانا چاہیئے کہ کوئی اسکے کردار پہ انگلی نہ اٹھا سکے. میں تمہیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ خود کو مضبوط بناؤ. اور جتنا میرے سامنے بولتی ہوناں لوگوں کو بھی ویسے ہی جواب دیا کرو” بات کے اختتام پہ اسکا لہجہ شرارت آمیز ہوگیا تھا.
“آپکے سامنے اسلیئے بولتی ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ میری ہر بات کو ویلیو دیتے ہیں.” وہ روئے روئے لہجے میں بولی تھی.
“آف کورس میری جان مگر میں ہر وقت تمہیں ڈیفنڈ کرنے کیلیئے وہاں موجود نہیں رہ سکتا. سو تم خود کو مضبوط بناؤ اور ہاں ایک سمپل سا طریقہ ہے کہ تم زبیر اور اپنی پھپھو کیساتھ بس لئے دیئے کا انداز رکھو. اور اگر زیادہ مشکل ہے ادھر رہنا تو میرے پاس آجاؤ.” وہ ہرگز بھی سنجیدہ موڈ میں نہیں تھا.
“میں سونے لگی ہوں” وہ اکتا کر بولی.
“جھوٹ مت بولو میں جانتا ہوں کہ تم گریہ و زاری کی قسط نمبر دو شروع کرنا چاہتی ہو.”,
” نہیں”
“ابیہا آنسو صاف کرو.” اسکا لہجہ سخت تھا. ابیہا نے بے اختیار ہتھیلی کی پشت سے اپنی گالیں صاف کیں.
“اب رو تو نہیں رہی¿”
“نہیں”
“آر یو شیور¿”
“جی.”.
“گڈ. چلو اب میری بات سنو. دیکھو بیا. یہ جو زندگی ہے ناں اسکے زیادہ تر پہلو منفی ہی ہوتے ہیں. مگر کامیاب وہی ہوتے ہیں جو منفی میں سے بھی مثبت تلاش کرلیں اگر منفی سوچوگی تو ہر محبت میں تمہیں کھوٹ نظر آئے گا. اسلیئے بی پازیٹو. انڈر اسٹینڈ.” وہ مدھم مگر انتہائی نرم لہجے میں بولتا گیا اور غیر محسوس طور پہ ابیہا کے دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگا تھا. “جہا ں تک نیہا کی بات ہے تو اسکی جب تک شادی نہیں ہوجاتی تم اسکی خوشی میں خوش رہو. جب وہ اس گھر سے چلی جائیگی پھر اسکے پاس کہاں اتنا وقت رہے گا کہ تمہارے متعلق باتیں کرتی پھرے.”وہ چند لمحوں کیلیئے چپ ہو گیا.” میں اور تقریر کروں کیا¿”اسکا جملہ سنجیدہ تھا مگر اسے بے اختیار ہنسی آگئی تھی.
“شکر ہے تم ہنسی تو. خیر اب سوجاؤ. مجھے بھی بہت نیند آرہی ہے.”
“اوکے اپنا خیال رکھئے گا.” اسکے دل پہ چھائی اداسی چھٹ گئی تھی.”تم بھی اپنا خیال رکھنا اور ہمیشہ یاد رکھنا کہ ولید حسن تم سے بہت بہت محبت کرتا ہے اور یہ محبت تمہارے لمبے بالوں یا ڈمپل کیوجہ سے نہیں بلکہ تمہارے کردار کی پاکیزگی کی وجہ سے ہے.” وہ نیند سے بوجھل لہجے میں بول رھا تھا. اسکی سماعتوں میں امرت اتار رہا تھا.
“سوجاؤ.اللہ حافظ” چند ثانیے بعد اسکی بھرائی ہوئی سی آواز سنائی دی تھی.
“اللہ حافظ.” وہ بھی جواباً بولی تھی. سلسلہ منقطع ہوجانے پہ اسنے موبائل رکھدیا اور آرام سے لیٹ کر آنکھیں موند لیں. چاہے جانے کا احساس بڑا ساحر ہوتا ہے ہر غم ہر تکلیف پہ یہ لطیف سا احساس حاوی ہوجاتا ہے… ابیہا بھی اپنے محبوب شوہر کے محبت بھرے الفاظ کے جادو کے زیر اثر سپنوں کی وادی میں اتر گئی تھی.
———————–
نیہا کی شادی کی تاریخ طے ہوچکی تھی. دسمبر کی 22تاریخ کو اسے دلہن بن کر پیا دیس سدھار جانا تھا. نومبر بھی آدھا گزر چکا تھا. اور آج سردیوں کی پہلی جھڑی لگ گئی تھی. صبح سے کبھی تیز اور کبھی ہلکی ہوتی بارش نے ہر سو جل تھل کردیا تھا اور مری میں ہونیوالی برفباری کے باعث جڑواں شہروں میں شدید سردی نے ڈیرے جما لئے تھے. وہ آج یونیورسٹی نہ گئی تھی ابو بھی دکان پہ نہ گیے تھے. سبھی سستی سے کمبلوں میں گھسے بیٹھے تھے صبح سے شام ہوئی اور شام سے رات. وہ نو بجے کا وقت دیکھ کر لاؤنج میں آبیٹھی اور ٹی وی آن کرلیا. نکاح کے بعد سے نو بجے کا خبرنامہ دیکھنا اسنے اپنا معمول بنا لیا تھا. نیوز چینل لگاتے ہی اوہ رک گئی تھی. ٹی وی اسکرین پہ بڑا سا ٹکر چل رہا تھا.”لاہور میں دھماکہ” نیوز کاسٹر چیخ رہی تھی. “ناظرین آپکو بتاتے چلیں کہ لاہور میں سرور روڈ پہ آرمی کی گشتی لاری پہ خودکش بم حملہ ہوا ہے. ابتدائی رہورٹ کے مطابق لاری میں چھ فوجی سوار تھے جن میں سے کسی کے بھی جانبر ہونے کی خبر تا حال ہمیں موصول نہیں ہوئی.” ابیہا کو لگا وقت تھم گیا ہے.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: