Fizza Batool Urdu Novels

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool – Episode 9

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool
Written by Peerzada M Mohin
محبت ایسا دریا ہے از فضہ بتول – قسط نمبر 9

–**–**–

“دھماکے کے بعد رینجرز نے علاقے کو اپنے حصار میں لے لیا اور اس وقت بم ڈسپوزل اسکواڈ جائے وقوعہ کا جائزہ لے رہا ہے. ذرائع کے مطابق لاشوں کو سی ایم ایچ شفٹ کردیا گیا ہے. اس وقت ہمارے نمائندے سہیل مجید ہمارے ساتھ موجود ہیں ان سے اس حادثے کے متعلق مزید معلوم حاصل کرتے ہیں. جی سہیل بتائیے گا یہ دھماکہ کیسے ہوا اور کتنے افراد کے جان بحق ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں.” نیوز کاسٹر روانی سے بولتی جارہی تھی. اسکرین اب دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی اور ایک جانب جائے وقوعہ پہ مائیک ہاتھ میں لئیے کھڑا نمائندہ نظر آنے لگا تھا. وہ نیوز کاسٹر کا سوال سن کر مائیک میں بولنے لگا.”جی اس وقت میں سرور روڈ پہ موجود ہوں لیکن دھماکے کی جگہ یہاں سے قدرے فاصلے پر ہے. فی الحال رینجرز نے جائے وقوعہ کا گھیراؤ کر رکھا ہے اور میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت نہیں مل رہی. لیکن کچھ دیر قبل ہماری اس علاقے کے ایس ایچ او سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے وقت اس روڈ پہ آس پاس کوئی خاص ٹریفک نہ تھی اسلیئے یہ بات کافی حد تک واضح نظر آرہی ہے کہ دہشت گردوں کا ہدف آرمی لاری ہی تھی. جی اوور ٹو نیوز روم.” نمائندے کا چہرہ نظر آنا بند ہوگیا تھا اور اب پوری اسکرین پہ نیوز روم میں بیٹھی نیوز کاسٹر ہی نظر آرہی تھی. وہ بولنے لگی. “شکریہ سہیل ناظرین ہمارے نمائندے سہیل مجید ہمیں اپڈیٹ کر رہےتھے. جن ویورز نے ہمیں ابھی ابھی جوائن کیا ہے انکو ایکبار پھر بتاتے چلیں کہ لاہورمیں سرور روڈ پہ کینٹ ایریا کے قریب آرمی کی گشتی لاری پہ دہشتگردوں کا خودکش حملہ ہوا ہے…”
ابیہا سن سی بیٹھی ٹی-وی اسکرین پہ نظریں جمائے ہوئے تھی. ٹی-وی کا والیوم بہت اونچا تھا جسے سن کر آہستہ آہستہ سبھی اپنے اپنے کمروں سے باہر نکل آئے تھے.
“اے آبی ولید کا پتہ کر کدھر ہے وہ” امی نے پریشانی کے عالم میں اس سے کہا تھا. عامر بھاگ کر اندر کمرے سے اسکا موبائل اٹھا لایا اور اسے دیا. ابیہا نے کانپتے ہاتھوں سے ولید کا نمبر ملا کر موبائل کان سے لگایا. “آپکا مطلوبہ نمبر اس وقت بند ہے برائے مہربانی کچھ دیر بعد کوشش کیجیئے.” دوسری جانب سے مشینی آواز کا بے تاثر سا پیغام چلنے لگا تھا. اس نے موبائل کان سے ہٹا کر واٹس ایپ کھولا. ولید آخری باری واٹس ایپ پر کل رات بارہ بجے آن لائن ہوا تھا.اسنے فیسبک چیک کیا وہاں بھی وہ انیس گھنٹے قبل آن لائن ہوا تھا.
“کیا ہوا” امی نے پھر پوچھا.
“انکا نمبر بند ہے” اسے اپنی آواز کسی گہری کھائی سے آتی سنائی دی.
“ہائے اللّہ.” امی نے دہل کر سینے پہ ہاتھ رکھا.
“روحینہ سے پوچھ.” دادو جلدی سے بولیں. اسی لمحے ابیہا کے موبائل پہ روحینہ کی کال آنے لگی. اس نے کال پک کرکے موبائل کان سے لگایا.
“ہیلو روحینہ.”
“ہاں ابیہا تم نے ٹی وی دیکھا.” دوسری جانب سے روحینہ کی پریشان سی آواز سنائی دی.
“جی..” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی
“یار سکندر بھائی نے پنڈی جی ایچ کیو رابطہ کیا ہے مگر وہ کہہ رہے ہیں کہ فی الحال لاہور سے کوئی کنفرم خبر نہیں آئی جب بھی کوئی نیوز آئیگی وہ بتادینگے. یار ابھی دیکھو نیوز میں بتا رہے ہیں کہ لاہور کے موبائہ سگنلز بھی بند کردیئے ہیں. اب کیسے رابطہ ہوگا.” روحینہ روہانسی ہورہی تھی. ابیہا کی نظریں ٹی وی اسکرین کہ جانب اٹھیں جس پہ ٹکر چل رہا تھا کہ اس حادثے کے باعث لاہور اور اسکے مضافات میں موبائل سگنلز بند کردیئے گئے ہیں.
“سمجھ نہیں آرہا کیا کریں اتنی تیز بارش بھی ہورہی ہے. ممی کا بی پی بھی شدید لو ہوگیا ہے.”
“آپ حوصلہ کریں اور آنٹی کا خیال رکھیں” وہ جب بولی تو اسکا لہجہ اطمینان دلانے والا تھا.
“تم بھی اپنا خیال رکھنا یار.” روحینہ بولی اورابیہا نے اللہ حافظ کہہ کر سلسلہ منقطع کردیا.
“کیا کہہ رہی ہیں روحینہ آپی.” عامر نے اسکا شانہ ہلایا. اسنے مختصراً سب بات اسے بتا دی.
“ہائے اللہ میرے بچے کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا.” امی نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا.
“صبر کریں بیگم” ابو مضبوط لہجے میں بولے. کمرے میں موجود تمام نفوس ٹی وی اسکرین پہ نظریں جمائے ہوئے تھے. باہر بارش مدھم سی جلترنگ بجاتی تیزی سے جاری تھی. دو گھنٹے گزر جانے کے بعد رینجرز نے بلآخر میڈیا کو جائے وقوعہ پہ جانے کی اجازت دیدی تھی اور اب اسکرین پہ تباہ حال آرمی کی لاری کا منظر دکھایا جا رہا تھا اور ساتھ ساتھ نمائندہ بھی چیخ رہا تھا.”جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آرمی کی یہ لاری مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے. امدادی ٹیمیں اور بم ڈسپوزل اسکواڈ اپنا کام کرکے جاچکے ہیں. ابھی کچھ دیر تک وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جائے وقوعہ کا دورہ کرینگے. اور کچھ اہم کاروائیوں کے بعد لاری میں سوار فوجیوں کےناموں کی لسٹ جاری کردی جائیگی.”ابیہا اٹھ کر صحن میں نکل آئی اسکا دل جیسے بند ہورہا تھا. بارش کی بوندیں بناء شور کیئے تیزی سے گر رہی تھیں اور صحن کا سارا فرش جل تھل تھا. “بیا اگر میں شہید ہوگیا تو کیا تم دوسری شادی کرلوگی” اسکے آس پاس ایک مانوس سی سرگوشی گونجی تھی. ابیہا نے ایک قدم آگے بڑھایا بارش کا ٹھنڈا یخ پانی اسکے ننگے پیروں کو بھگونے لگا.
“میں تمہیں بہت چاہتا ہوں بیا بہت زیادہ.” اسنے آنکھیں بند کرکے چہرہ آسمان کیجانب اٹھالیا. برستی بوندیں اسکے چہرے کو بھگونے لگی تھیں.
“آبی جلدی آؤ. فوجیوں کے نام بتا رہے ہیں.” عامر کی تیز پکار پہ وہ بے طرح چونکی اور پھر بجلی کی سی سرعت سے بھاگتی ہوئی کمرے میں آئی. ٹی وی پہ ناموں کی لسٹ کے ٹکر چل رہے تھے اور نیوز کاسٹر بھی چیخ رہی تھی.
“میجر عمر عظیم, لیفٹیننٹ شبیر احسن, کیپٹن احمد علی, کیپٹن زبیر اسلم, لیفٹیننٹ زوہیب چغتائی اور کیپٹن ولید حسن.” ابیہا کا دل ڈوبنے لگا.
ہائے اللہ میرا بچہ.”امی رونے لگیں
“ذرائع کے مطابق ان چھ میں سے چار کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ بقیہ دو شدید زخمی ہیں. کچھ دیر تک شہداء کے متعلق آئی ایس پی آر کیجانب سے پریس ریلیز جاری کردی جائیگی سی ایم ایچ کے قریب سیکیورٹی بہت سخت ہے اور میڈیا کو ہاسپٹل کے اندر جانے کی اجازت نہ ملنے کے باعث فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ ان بتائے گئے ناموں میں سے کون کون شہید ہو چکے ہیں.”نیوز کاسٹر بتارہی تھی.
” ہائے میری بچی کا کیا ہوگا اب.”امی روتے روتے بولیں.
“صبر کریں بیگم اگر وہ شہید بھی ہوگیا ہے تو یہ بھی ہمارے لئے سعادت کی بات ہے. اور آبی کیلیئے فخر کی بات ہوگی کہ اسکا شوہر وطن کیخاطر شہید ہوگیا.” ابو کا لہجہ بہت مضبوط تھا. امی اور دادو اک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگیں. نیہا ایک جانب چپ چاپ سی بیٹھی تھی.
“بیٹھ جاؤ ناں آبی.” عامر نے نرم لہجے میں اسے مخاطب کیا مگر وہ بیٹھنے کی بجائے اپنے کمرے میں چلی آئی تھی. وضو کرکے اسنے جائے نماز بچھائی اور عشاء کی نماز کی نیت باندھ لی. رب کے روبرو حاضر ہوتے ہی اسکے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور وہ نماز کے دوران ہچکیوں سے روتی رہی. سلام پھیر کر اسنے دعا کیلیئے ہاتھ اٹھائے تو ولید کا ہنستا مسکراتا چہرا اسکے آنکھوں کے سامنے آگیا یہ خیال اسکے دل کو چیرنے لگا کہ شاید اب وہ کبھی یہ چہرا نہ دیکھ سکے گی وہ سجدے میں گر کر تڑپ تڑپ کے رو دی. “یا اللہ! مجھے ثابت قدم رکھ… مجھے مضبوط بنادے… مجھے صبر عطا فرمادے..” وہ ہچکیوں کے درمیان بس یہی الفاظ دہرائے جارہی تھی. اسکا وجود جھٹکوں کی زد میں تھا. کچھ لمحوں بعد اسنے نوافل کی نیت باندھ لی. نجانے کتنا وقت گزر گیا تھا. خالق کے سامنے جھک جانے سے اسکے بیقرار دل کو قرار آنے لگا تھا. دور دور سے فجر کی اذانوں کی آوازیں آنے لگیں تو اسنے سلام پھیرلیا. دفعتاً عامر دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا وہ اسکی جانب متوجہ ہوگئی. “آبی آبی… ابھی بھی آئی ایس پی آر نے پریس ریلیز جاری کی ہے.. ولید بھائی زندہ ہیں.. مگر بہت زخمی ہیں.. انہوان نے اپنے میجر کی جان بچائی ہے اور لاہور کے موبائل سگنلز بھی کھل گئے ہیں. سکندر بھائی اور ابو دو گھنٹے بعد لاہور جارہے ہیں.” عامر نے پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان اسے ساری بات بتادی تھی اور پھر جلدی سے واپس چلا گیا تھا. لاؤنج سے نیوز کاسٹر کے چیخ چیخ کر بولنے کی آوازیں آرہی تھیں. ولید نے اپنے میجر کی جان بچانے کی خاطر خود کو موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا.
ابیہا کی سماعتوں تک کچھ بھی نہ پہنچ رہا تھا.وہ نہیں سننا چاہتی تھی کہ ولید کتنا زخمی ہے اسکے بچنے کی امید ہے بھی یا نہیں. اسکا دل بس اسکی زندگی کی نوید پاکر “فبای الاء زبکما تکذبن” کا ورد کررہا تھا. اس نے نماز فجر کی نیت باندھ لی. اب اسے ربِ کائنات سے اپنے شوہر کی زندگی اور صحت کی دعا مانگنی تھی.
————————
اس کمانڈ کے میجر, میجر عمر عظیم کو صبح تک ہوش آیا تھا اور نیوز چینلز کے نمائندوں نے سی ایم ایچ کیطرف دوڑ لگا دی تھی. میجر صاحب کی حالت خطرے سے بالکل باہر تھی لہٰذا آرمی نے میڈیا کو ان سے بات کرنیکی اجازت دیدی تھی. انکی زبانی تمام تر واقعہ میڈیا تک پہنچا تھا. دراصل کینٹ ایریا کے قرب و جوار میں کسی خود کش حملے کے متعلق حساس اداروں نے کافی روز سے آگاہ کرکھا تھا. گزشتہ چار دن سے رات کے وقت پانچ جوانوں کی یہ کمان میجر عمر کی کمانڈ میں علاقے کا گشت کرتی تھی. گزشتہ رات وہ لوگ گشت لگا کر واپس جارہے تھے کہ عین سڑک کے بیچوں بیچ کھڑے ایک آدمی کی وجہ سے لاری روک دینا پڑی. وہ آدمی دوڑ کر لاری کے قریب آیا ہی تھا کہ ولید نے ایک ہاتھ سے لاری کادروازہ دھاڑ سے کھولا اور میجر صاحب کا ہاتھ پکڑ کر لاری سے باہر چھلانگ لگائی. دوسری جانب سے کیپٹن زبیر بھی لاری سے کودا اور اسنے اس آدمی کو دبوچا ہی تھا کہ اسنے خود کو دھماکے سے اڑا لیا. ولید میجر صاحب کو بازوؤں میں دبوچ کر سڑک کے کنارے پہ کود گیا تھا اور وہ دونوں اوپر نیچے گرے تھے. جو آخری چیز میجر کو یاد تھی وہ یہ تھی کی انکا وجود ولید کے نیچے دبا ہواتھا اور ولید کا پورا وجود تیزی سے خون سے تر ہوتا جارہا تھا. دھوئیں کثافت اور شدت کی آگ لگنے کے باعث وہ بیہوش ہوگئے تھے اور اب تمام رات انڈر آبزرویشن رہنے کے بعد وہ خود کو کافی بہتر محسوس کررہے تھے. وہ ولید کے شکر گزار تھے جس نے انکی ڈھال بن کر ہر زخم اپنے وجود پہ کھایا تھا. یہ خبر آتے ہی میڈیا پہ ولید کی شان میں قصیدے پڑھے جانے لگے تھے. صدر و وزیر اعظم نے بھی اسکو خراج تحسین پیش کیا تھا.
ادھر ولید کی حالت بہت تشویش ناک تھی. ڈاکٹرز کچھ خاص پرامید نہ تھے. ابو اور سکندر نے لاہور جاتے ہی اسکو اسلام آباد شفٹ کروانا چاہا مگر فی الحال اسکی حالت نقل و حرکت کے قابل نہ تھی ڈاکٹرز نے اگلے چوبیس گھنٹے اسکیلیئے سخت تشویشناک قرار دیدیئے تھے. شکیلہ بیگم کو غش پہ غش آرہے تھے. دادو کا بی پی شوٹ کرگیا تھا جبکہ امی کو تیز بخار نے آلیا تھا. گھر میں مہمانوں کا تانتا بندھ گیا اور ابیہا اور نیہا امی اور دادو کی تیمارداری اور مہمانوں کی مہمانداری کے درمیان گھن چکر بن کر رہ گئی تھیں. ابیہا تو اپنا غم کسی سے کہہ بھی نہ سکتی تھی. اور اوپر سے خاندان والوں کی عجیب عجیب باتیں.. اسے سمجھ نہ آتی کہ یہ لوگ اسکا غم بانٹنے آتے ہیں یا بڑھانے… وہ چلتے پھرتے ولید کی صحت و زندگی کی دعائیں کررہی تھی. وہ چوبیس گھنٹے اسنے جیسے کانٹوں پہ چل کر گزارے تھے. دعائیں مانگ مانگ کر اسکا حلق سوکھ گیا تھا. خدا خدا کرکے ستائیس گھنٹوں بعد ولید کو چند منٹوں کیلیئے ہوش آیا تھا اور ڈاکٹرز کی امید پھر سے جاگ گئی تھی. ٹی وی پر اس خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر چلایا گیا تھا اور پھر شام تک سکندر نے ولید کو ائیر ایمبولنس کے ذریعے سے اسلام آباد سی ایم ایچ منتقل کروالیا تھا.
—————-
ولید کے جسم پہ لاتعداد زخم تھے جن سے بہت سا خون ضائع ہوچکا تھا. معجزاتی طور پر اسکے جسم کی کوئی ہڈی متاثر نہ ہوئی تھی مگر پنڈلیوں کا گوشت بری طرح جھلس گیا تھا.جسم میں کانچ کے ٹکڑے پیوست ہوگئی تھے جنکو ابتدائی طور پر ہی نکال لیا گیا تھا. اسکے علاوہ بھی جسم کی کھال کافی جل گئی تھی. خون بہت زیادہ ضائع ہونے کے باعث فی الحال اسکی سرجری کومؤخر کیا گیا تھا اسے زیادہ تر سکون آوز ادویات کے زیر اثر رکھا جاتا تھا کیونکہ ہوش میں آنے کے بعد زخموں کی تکلیف اسکیلیئے ناقابل برداشت ہوجاتی تھی. وہ جب پہلی بار روحینہ کے ہمراہ آئی سی یو میں داخل ہوئی تھی تو سفید پٹیوں میں ڈھکا وہ وجود اور زخم زخم وہ چہرا اسکی پہچان میں نہ آیا تھا.. اسکے وجود پہ لاتعداد نلکیاں اور سوئیاں پیوست تھیں. بائیں ہتھیلی کی پشت پہ پیوست ڈرپ کے ذریعے قطرہ قطرہ خون اسکے جسم میں منتقل ہورہا تھا. جبکہ ہارٹ ریٹ مانیٹر پہ ابھرتی چلتی غیر متوازی لکیریں اسکے دل کی دھڑکنوں کے متوازن ہونے کا ثبوت دے رہی تھیں. وہ لرزتے قدموں کیساتھ چلتی اسکے بیڈ کے قریب آئی. اسکے چہرے پہ لگے آکسیجن ماسک پہ ابھرتی اور معدوم ہوتی دھند اسکی چلتی سانسوں کا پتہ دے رہی تھی. اسکے گالوں پہ گہرے زخم تھے پیشانی سفید پٹی میں جکڑی ہوئی تھی. ابیہا کے ہونٹ کپکپانے لگے آنکھوں میں دھند اترنے لگی. تبھی روحینہ نے اسکے شانے پہ ہاتھ رکھا اور اسکا ہاتھ تھام کر آئی سی یو سے باہر آئی تھی. ڈاکٹرز رات کے وقت کسی بھی گھروالے کو مریض کے پاس رکنے کی اجازت نہ دیتے تھے سو وہ سب گھر چلے آئے تھے. رات گئے تک وہ رب کے حضور سجدہ ریز ولید کی صحت کیلیئے فریاد کرتی رہی تھی. اگلے روز صبح صبح روحینہ چلی آئی تھی. امی اور دادو اسکے ساتھ ہاسپٹل جانے کو تیارہوگئیں. انکے جانے کے بعد وہ چپ چاپ نیہا کیساتھ گھر کے کام کاج نمٹاتی رہی. دوپہر کے وقت امی اور دادو واپس لوٹیں تو روحینہ نے اسے ساتھ چلنے کو کہا. اسنے ابوکو کال کرکے ان سے اجازت لی اور اسکے ساتھ ہاسپٹل چلی آئی.لیکن یہاں آتے ہی نجانے کیوں اسکا دل ڈوبنے لگا تھا. آئی سی یو کیطرف بڑھتے قدم ڈگمگانے لگے تھے. روحینہ اسے آئی سی یو کے پاس چھوڑ کر ڈاکٹر سے بات کرنے کا کہہ کر چلی گئی. وہ سست روی سے چلتی اندر داخل ہوئی. اور اسکے بستر کے قریب آرکی. آج بھی اسکے چہرے پہ آکسیجن ماسک لگا ہوا تھا اور اسکی آنکھیں بند تھیں. ابیہا نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا. ولید کی بند آنکھوں کے نیچے ہلکی سی جنبش ہوئی تھی اور پھر اسنے دھیرے دھیرے آنکھیں کھول دیں. وہ سیاہ آنکھیں جن میں دل موہ لینے والی چمک ہواکرتی تھی اس وقت بالکل ویران سی لگ رہی تھیں.ابیہا کی آنکھوں میں آنسو آگئے.
“ولید” وہ ذرا سا جھکی. ولید نے پلکیں جھپکیں. آسکیجن ماسک میں چھپے ہونٹ ذرا سا پھیلے تھے… اس تکلیف کے عالم میں بھی اسے دیکھ کر وہ مسکرانا نہ بھولا تھا.
“آپ ٹھیک ہیں¿” اس نے اسکے بال سہلائے تھے. ولید نے اپنی آنکھوں کو زور سے بند کرکے کھولا تھا.ایسے جیسے وہ اسے یقین دلا رہا تھا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے.
“آپ تو ایک بہادر فوجی ہیں ناں.” وہ نم آنکھوں سے مسکرا کر بولی تھی مگر اس مسکراہٹ میں بھی کرب تھا. ولید کے لب مسکرائے تھے گالوں کے زخموں میں شدید تکلیف ہونے لگی تھی مگر سیاہ آنکھوں میں چمک لہرائی تھی.
“جلدی سے بستر چھوڑ دیں. یہ خدمت کروانے کا اچھا بہانہ ڈھونڈا ہے آپ نے.” وہ ابیہا کاظم نجانے کیسے اتنی مضبوط ہوگئی تھی کہ اس کرب کے عالم میں بھی ہلکی پھلکی گفتگو کر رہی تھی. دفعتاً ایک نرس کمرے میں داخل ہوئی.
“اسلام علیکم سر ہاؤ آر یو¿” اس نے ولید کی ڈرپ چیک کرتے ہوئے پروفیشنل لہجے میں پوچھا. ولید نے ہاتھ کے اشارے سے اپنے منہ سے آکسیجن ماسک اتارنے کا کہا. نرس نے نرمی سے آکسیجن ماسک اسکے منہ سے الگ کیا. ولید نے ایک گہری سانس بھری.
“سسٹر… میری وائف… مجھے.. ڈانٹ رہی.. ہیں..” وہ رک رک کر انتہائی مدھم لہجے میں بولا تھا. بولنے سے گالوں کے زخم شدت سے دکھنے لگے تھے.
“اسکا مطلب ہے کہ آپ پہ آپکی وائف کی ڈانٹ کا بہت پازیٹو اثر ہوتا ہے. میم اب سے آپ ہر روز آکر انکو ڈانٹ پلایا کریں تاکہ یہ فوراً سے بستر چھوڑ دیں.” نرس نے ولید کے ہاتھ سے ڈرپ الگ کرتے ہوئے خوشگوار لہجے میں کہا.
“بالکل بستر تو انکو اب فوراً چھوڑنا پڑیگا” ابیہا کے لہجے میں استحقاق تھا. ولید ہلکا سا مسکرایا تھا.
“اوکے میم آپ اپنے ہزبینڈ کو اپنی نگرانی میں رکھیں اور خیال کیجیئے گا کہ یہ زیادہ باتیں نہ کریں.” نرس ہدایت جاری کرکے چلی گئی تھی.
“بیا.” ولید کیلیئے بولنا بہت تکلیف دہ عمل تھا مگر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اسکے سامنے ہوتی اور وہ اسے نہ پکارتا. ابیہا اسکے سرہانے جھکی.
“آپکو پتہ ہے آج کل ٹی وی پہ ہر وقت آپکی بہادری کا تذکرہ کیا جاتا ہے. مشہور ہوگئے ہیں آپ.” اس نے مدھم آواز میں کہا تھا. قریب سے دیکھنے پہ اسے اندازہ ہوا تھا کہ ولید کے ہونٹوں اور ٹھوڑی پہ بھی ہلکے ہلکے زخم تھے جن کے گرد کھرنڈ جم رہی تھی.
“بہادر… فوجی… ہوں ناں..” وہ رک رک کر بولا تھا. ابیہا کی آنکھیں بھرانے لگیں.
“جلدی سے ٹھیک ہوجائیں پلیز” اسنے اسکی آنکھوں کو اپنی ہتھیلی سے ڈھک دیا تھا مبادا وہ اسکے آنسو نہ دیکھ لیتا.
“جیسا… حکم.. وائفی..” وہ زخم زخم چہرے کیساتھ مسکرایا تھا. ابیہا نے رخ موڑ کر اپنی آنکھیں صاف کیں.
“میں کل آؤنگی. آپ سو جائیں” وہ کہہ کر تیز قدموں سے چلتی آئی سی یو سے باہر نکل آئی تھی. اسکی آنکھیں تیزی سے برس رہی تھیں. جان سے عزیز انسان کو اس قدر تکلیف میں دیکھنا اسے کرب سے بے حال کئے دے رہا تھا. وہ کوریڈور میں ہی ایک بنچ پہ بیٹھ کر آنسو بہانے لگی.
———————
سرجری کے ذریعے سے ولید کے کولہوں سے گوشت کاٹ کر اسکی پنڈلیوں پہ ٹرانس پلانٹ کیا گیا تھا. اس تمام عرصے میں وہ سب اکثر وقت ہاسپٹل میں ہی گزارتے تھے. پندرہ سے بیس دنوں کے بعد ولید کی حالت کچھ بہتر ہوگئی تھی. اور اسے پرائیویٹ روم میں شفٹ کردیا گیا تھا مگر اسکے مکمل ٹھیک ہونے میں ابھی نجانے کتنا وقت لگنا تھا. ان تمام دنوں میں وہ اور روحینہ بمشکل چار سے پانچ بار یونیورسٹی جاسکی تھیں. آج وہ دونوں یونیورسٹی سے نکلی تو روحینہ نے اسے اپنے ساتھ ہاسپٹل چلنے کا کہا تو وہ ابو کو کال کرکے ان سے اجازت لیکر اسکے ساتھ چلی آئی. ولید کے کمرے میں اس وقت ایک آن ڈیوٹی نرس موجود تھی اور ولید نیم غنودگی میں تھا. وہ دونوں وہیں بیٹھ گئیں. روحینہ نے نرس سے ولید کی کنڈیشن کے متعلق استفسار کیا نرس نے اسے بتایا کہ تین سے چار دنوں تک ولید کو ہاسپٹل سے چھٹی مل جائیگی. انکی باتوں کی آوازوں سے ولید کی آنکھ کھل گئی تھی. نرس اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئی. روحینہ اٹھ کر ولید کے بستر کے پاس گئی. “ولی بھیا.” اسنے اپنے پیارے بھائی کی پیشانی پہ پیار کیا تھا.
“کیسے ہیں آپ¿”
“ٹھیک ہوں. ممی کہاں ہیں” آج ولید کو بولنے میں اتنی تکلیف محسوس نہ ہورہی تھی.
“میں اور ابیہا تو یونیورسٹی سے آئے ہیں. ممی شام میں آئینگی” روحینہ ے اسے بتایا.
“مجھے بھوک لگی ہے یار.” ولید نے کہا اور پھر اسکے ہاتھ کا سہارا لیکر اٹھ بیٹھا. ابیہا ایک جانب صوفے پہ بیٹھی ہوئی تھی.
“کیا کھائینگے¿” روحینہ نے اسکے پیچھے تکیہ درست کیا.
“کچھ اچھا سا یار یہ پھیکے سوپ پی پی کر تنگ آگیا ہوں.” وہ بیزار سا نظر آرہا تھا.
“پیزا منگوالوں¿”
“ہاں منگوا لو کچھ تو منہ کا ذائقہ بدلے گا” وہ بولا.
“اچھا میں آتی ہوں” روحینہ کہہ کر اپنا موبائل اٹھا کر کمرے سے نکل گئی. ولید نے ابیہا کیطرف دیکھا. جو ہمیشہ کیطرح سیاہ چادر کے حصار میں تھی.
“بیا! ایک گلاس پانی پلوادوگی” اس نے اسے مخاطب کیا. جبکہ پانی تو اسکے سرہانے ہی پڑا تھا. ابیہا نے فوراً سے اٹھ کر پانی کا گلاس بھرا اور اسکی طرف بڑھایا. ولید کے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں پٹیوں میں قید تھیں اسنے اپنے ہاتھ اسکے سامنے لہرادیئے.
“تم پلا دو ناں میرے ہاتھوں میں درد ہوتا ہے” وہ از حد معصومیت سے بولا تھا. ابیہا نے گلاس اسکے ہونٹوں سے لگا دیا. وہ گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگا. “بس” اسنے ہاتھ اٹھا کر کہا تو ابیہا نے گلاس پھر سے سائیڈ ٹیبل پہ رکھا اور پلٹی مگر ولید نے اسکی کلائی کو نرمی سے اپنی گرفت میں لے لیا تھا.
“ادھر بیٹھو.میں جی بھر کر تمہیں دیکھ تو لوں.” وہ محبتوں سے چور لہجے میں بولا تو وہ سمٹی سمٹائی سی اسکے سامنے بیٹھ گئی. ولید کی والہانہ نظریں اسکے چہرے کا طواف کر رہی تھیں. اور اسے نجانے کیوں بیحد شرم آرہی تھی.
“پتہ ہے بیا جب مجھے لگا تھا کہ موت میرے بالکل قریب آگئی ہے تو میری آنکھوں میں صرف ایک چہرا ابھرا تھا.” ولید نے نرم لہجے میں کہا.
“کس کا” ابیہا نے تجسسس آمیز لہجے میں پوچھا.
“وہ چہرا تمہارا تھا بیا.” اس نے اسکا چہرا اپنے ہاتھوں میں بھر کر بھرائے ہوئے لہجے میں کہا تھا سیاہ آنکھوں میں نمی کی چمک لہرائی تھی. ابیہا کی آنکھوں سے آنسوؤں کا ریلا بہہ نکلا تھا. “ولی.” وہ بے اختیار اسکے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگا کر رو پڑی تھی. ولید نے دھیرے سے اسکا سر سہلایا. “مت روؤ بیا.” وہ پیار سے بولا تھا. ابیہا نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ولید کی آنکھوں میں بھی نمی تھی.
“کیوں روتی ہو. میں ہوں ناں تمہارے ساتھ دیکھو تمہاری محبت نے مجھے اس دنیا سے جانے بھی نہیں دیا. تمہارے بغیر وہاں بھی نہیں رہ سکوں گا.” اسکے لہجے میں شرارت سی تھی. اسکے دونوں ہاتھوں کو اسنے مضبوطی سے اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام رکھے تھے. دفعتاً روحینہ اندر داخل ہوئی.
“آہم.. پیزا آنیوالا ہے لیکن مجھے کچھ کباب میں ہڈی والی فیلنگ آرہی ہے..” روحینہ شوخی سے بولی. ابیہا نے بےاختیار ولید کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ چھڑوائے. ولید ہنسنے لگا تھا.
“کباب میں ہڈی ہی ہو تم” وہ چڑانے والے انداز میں بولا تھا. ابیہا جھینپ کراسکے پاس سے اٹھ گئی.
“اوہو ابیہا مت شرماؤ لڑکی.” روحینہ ہنس رہی تھی. ابیہا کا چہرا سرخ ہوگیا تھا. وہ دونوں اب ہنس ہنس کر اسے چھیڑنے لگے تھے.

وہ ہاسپٹل سے گھر پہنچی تو لاؤنج میں امی دادو اور نیہا موجود کسی مسئلے پر زور و شور سے بحث کر رہی تھیں. وہ بآواز بلند سلام کرتی وہیں ایک صوفے پہ بیٹھ گئی.
“بس امی اب مزید بحث نہ کریں.” نیہا سخت اکتائی ہوئی نظر آرہی تھی.
“کیا ہوا امی¿” ابییا نے چادر اتار کر تہہ کرتے ہوئے امی سے دریافت کیا.
“کچھ نہیں ہوا. تمہیں گھر کے معاملات میں انٹرسٹ لینے کوئی ضرورت نہیں.” نیہا چمک کر بولی.
“کیوں کیا میں اس گھر میں نہیں رہتی.” اسے بھی غصہ آگیا.
“تم ولید کی بیوی ہو. اسلیئے اب تمہارا اس گھر پہ کوئی حق نہیں.” نیہا کا لہجہ و انداز طعنے دینے کا سا تھا.
“چپ کر نیہا.” امی نے اسے گھرکا اور ابیہا سے مخاطب ہوئیں. “تمہاری پھپھو آئی تھیں. نیہا کو شادی کی شاپنگ کیلیئے ساتھ لیکر جانا چاہتی تھیں”
“تو تم گئی کیوں نہیں¿” اس نے نیہا سے پوچھا.
“تمہارے ہوتے ہوئے میں کیسے کہیں جاسکتی ہوں پہلے تمہارے سیر سپاٹے تو ختم ہوجائیں.” نیہا کا لہجہ اچھا نہیں تھا. ابیہا اسکے غصے کی وجہ سمجھنے سے قاصر تھی.
“میں نے آپا کو کہا ہے کہ پہلے ولید مکمل طور پر صحتیاب ہوجائے پھر ہم نیہا اور زبیر کی شادی کا سوچیں گے اسطرح سے تو مناسب ہی نہیں لگتا.” امی نے اسے بتایا.
“ہاں.. اور وہ اگر زندگی بھر بستر پہ پڑا رہے تو میری شادی ہی نہ ہوگی.” نیہا کی اس بات پہ اسکا دل ڈوب کر ابھرا تھا.
“ایسے تو نہ کہو آپی” وہ بے اختیار بولی.
“تو اور کیا کہوں ہاں… ہمیشہ تمہاری وجہ سے میری زندگی کی خوشیاں چھن جاتی ہیں. اور امی ابو کو تو تمہارے علاوہ کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا.” نیہا ہاتھ نچا کر بولی.
“میں نے کیا کِیا ہے جو تم اتنی باتیں سنا رہی ہو” وہ بھی چڑ گئی.
“ہاں ہاں تم تو بڑی معصوم ہو ناں.”
“بس کردو تم دونوں. تمہارے ابو آئینگے تو وہی فیصلہ کرینگے کہ کیا کرنا ہے.” امی نے ہاتھ اٹھا کر قطیعت سے کہا تو نیہا برا سا منہ بنائے وہاں سے اٹھ گئی. پھر شام کو ابو آئے تو یہ معاملہ انکے آگے پیش کیا گیا. ابو بھی امی کی رائے سے متفق تھے مگر نیہا کی بد لحاظی اور قینچی کیطرح چلتی زبان کے آگے انہیں ہار ماننا ہی پڑی تھی. نیہا کی شادی مقررہ تاریخ پہ ہی ہونا قرار پائی تھی. شکیلہ بیگم کو فون کرکے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے مبارکباد دینے کیساتھ کیساتھ یہ بھی جتادیا کہ انکا بیٹا بستر پہ پڑا ہے اور ان لوگوں کو خوشیاں منانے کی سوجھ رہی ہے.
چار روز بعد ولید کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا. اسکے زخم ابھی مکمل طور پہ نہ بھرے تھے اور ڈاکٹرز نے اسے کم سے کم بھی ڈیڑھ ماہ تک مکمل آرام کا مشورہ دیا تھا. وہ بہت کمزور ہوگیا تھا. چہرے کی رنگت سنولا گئی تھی آنکھیں اندر کو دھنس گئی تھیں اور وہ برسوں کا بیمار معلوم ہوتا تھا. شکیلہ بیگم تو دن رات اسکی تیمارداریوں میں لگ گئی تھیں. دوسری جانب ابیہا کے گھر میں نیہا کی شادی کی تیاریاں عروج پہ تھیں جن کے باعث ابیہا کیلیئے گھر سے نکلنا تو دور کی بات ولید فون کرکے اسکا حال احوال دریافت کرنا بھی مشکل ہوگیا تھا. یونیورسٹی سے بھی چھٹی کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ سمسٹر ختم ہورہا تھا اور اسکی آگے ہی اتنی چھٹیاں ہوچکی تھیں کہ وہ بس دھڑا دھڑ اپنے لیکچرز مکمل کرنے میں مصروف تھی. روحینہ سے بھی بس ہیلو ہائے ہی ہو پاتی تھی. شادی سے ایک ہفتہ قبل امی اور ابو ولید کے گھر جاکر کارڈ دے آئے. اور وہاں سے واپسی پہ امی کا موڈ خاصا خراب تھا. ابو بھی کچھ چپ چپ سے تھے. نیہا نے پوچھ ہی لیا تو امی جو آگے ہی بھری بیٹھی تھیں پھٹ پڑیں.
“ارے وہ ولید کی پھپھی کی لڑکی سخت بد تمیز ہے جاتے ہی ہمیں پڑگئی کہ آپ لوگ کتنے خودغرض ہیں کہ ایک داماد بستر پہ پڑا ہے اور دوسری بیٹی کی شادی کر رہے ہیں. اور غضب یہ کہ اسکی اس بکواس پہ نہ شکیلہ بہن کچھ بولیں نہ ولید اور سکندر.” امی کی بات پہ نیہا کے ہونٹوں پہ ایک محظوظ ہونیوالی مسکراہٹ پھیل گئی تھی.
“وہ تو ہے ہی بہت تیز لڑکی. ویسے ولید کی طبیعت کیسی ہے اب¿ نیہا نے پوچھا
” ٹھیک ٹھاک ہے. جب ہم گئے تبھی اسی علیشا کیساتھ کہیں باہر سے آیا تھا.” امی اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولیں.
“اور شکیلہ آنٹی کا رویہ کیسا تھا¿” نیہا نے ہی پوچھا
“بس اجنبی سا انداز تھا انکا لیئے دیئے سا.” امی سخت کبیدہ خاطر نظر آرہی تھیں.
نیہا نے معنی خیز نظروں سے ابیہا کیطرف دیکھا.
“ویسے امی یہ اونچے گھرانوں کے لڑکے قابل اعتبار نہیں ہوتے. انکے دل فٹبال کیطرح ادھر سے ادھر اچھلتے پھرتے ہیں” نیہا نے خصوصیت سے اسے ہی سنایا تھا امی نے اسکی بات سے اتفاق کیا تھا اس وقت وہ ولید کے مکمل خلاف نظر آرہی تھیں. ابیہا اٹھ کر اپنے کمرے میں آئی. اسے یکدم یاد آیا تھا کہ کئی روز سے ولید نے اس سے کوئی رابطہ نہ کیا تھا ورنہ وہ ایسا تو نہ تھا وہ تو لاہور میں انتہائی مصروفیات میں سے بھی اسکیلیئے چند لمحے کشید کرہی لیتا تھا. اسنے موبائل اٹھا کر اسکا نمبر ملایا دوسری جانب سے کال کاٹ دی گئی تھی اور ساتھ ہی میسیج آیا تھا “آئم بزی” پیغام کا انداز ہی اتنا ریزروڈ تھا کہ اسکا دل بجھ کے رہ گیا تھا. اس نے کچھ دیر بعد پھر کال ملائی. اس کا جواب پھر وہی تھی. اس نے بار بار کال ملانی شروع کردی بلآخر اسنے کال پک کی تھی اور اسکی جھنجھلائی ہوئی آواز سنائی دی تھی. “کیا ہے?”
“آپ کہاں بزی ہیں.”
“بس ہوں بزی ہوں. بولا ہے ناں تمہیں تو کیوں بار بار کال کررہی ہو.” اسکا لہجہ اکھڑا اکھڑا سا تھا.
“ولید..” وہ ہکا بکا سی بولی.
“پلیز بعد میں بات کرونگا میں تم سے.بائے.” اسنے کہہ کر سلسلہ منقطع کر دیا تھا. ابیہا موبائل ہاتھ میں پکڑے گم صم سی بیٹھی رہ گئی تھی. اسنے تمام رات انتظار کیا تھا مگر ولید نے دوبارہ رابطہ نہیں کیا تھا. اس دن کے بعد ابیہا میں ہمت نہ پڑی تھی کہ اس سے رابطہ کرتی. پھر دن پر لگا کر اڑ گئے اور دسمبر کی چھٹیاں ہوتے ہی نیہا کی شادی کے فنکشن شروع ہوگئے. مایوں کی رسم والے دن اسنے روحینہ کو میسیج کرکے آنے کا کہا تھا مگر وہ نہ آئی تھی اگلے روز مہندی کی رسم تھی اس نے امی کو کہا کہ شکیلہ بیگم کو فون کرکے ایکبار یاددہانی کروادیں مگر امی نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ اگر انہوں نے آنا ہوگا تو آجائینگی. وہ شام تک شدت سے انتظا کرتی رہی. پھر فنکشن شروع ہونے سے قبل اسنے روحینہ کو کال کی تھی. اس نے فوراً ہی کال پک کرلی تھی.
“آپ آئی نہیں ابھی تک” اسنے کہا.
“کہاں¿” روحینہ کے لہجے میں لا علمی تھی.
“نیہا کی مہندی ہے آج روحینہ.” وہ دکھی دل کیساتھ بولی تھی.
“اوہ گاڈ… ولی بھیا آج نیہا کی مہندی ہے.” روحینہ نے ولید کو بتایا جو شاید اسکے آس پاس ہی موجود تھا.
“اچھا اچھا. علیشا کدھر ہے.” ولید کی آواز اسے واضح طور پہ سنائی دے رہی تھی.
“گیسٹ روم میں ہوگی. ہاں ابیہا سوری یار مجھے بالکل یاد نہیں رہا. اب اس وقت ہم لوگ مووی دیکھنے جارہے ہیں. نیہا کو میری طرف سے بہت مبارک دینا اور ہاں کل بارات میں میں ضرور آؤنگی.بائے” سلسلہ منقطع ہوگیا تھا ابیہا دکھی دل کیساتھ واش روم میں آئی اور بہت سے آنسو بہا ڈالے. امی نے باہر سے دروازہ دھڑدھڑایا تو وہ منہ دھو کر باہر نکلی. تمام فنکشن میں خاندان اور محلے کی خواتین اس سے اسکے سسرال والوں کے نہ آنے کی وجہ دریافت کرتی رہیں اور وہ دل ہی دل میں شرمندہ ہوتی بہانے بناتی رہی. رات کو جب سب سوگئے تو وہ شدید ٹھنڈ کے باوجود صحن میں تخت پہ آبیٹھی اور ولید کا نمبر ملایا. تیسری بیل پہ اسکی نیند میں ڈوبی “ہیلو” سنائی دی تھی.
“ولید میں ابیہا بول رہی ہوں.” وہ آہستہ آوازمیں بات کر رہی تھی.
“ہوں.. کیسی ہو¿”
“میں ٹھیک. آپ کیسے ہیں¿”
“فائن.. خیریت ہے اتنی رات کو کیوں فون کیا ہے¿”
“آپ اتنے دنوں سے مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہے¿” اسکے لبوں سے شکوہ پھسل گیا تھا.
“تم بھی تو نہیں کر رہی.” سنجیدہ سی آواز و لہجہ.
“میں نے آپکو اس روز کتنی کالز کی تھیں اور آپ نے آگے سے کتنا روڈلی بات کی تھی.” شکوہ در شکوہ
“میں اتنے دنوں سے تمہاری راہ دیکھتا ہوں مگر تم نہیں آتی.”
“میں کیسے آؤں. نیہا کی شادی کے فنکشنشز چل رہے ہیں”
“ہاں جانتا ہوں. تمہاری بہن کی شادی ہورہی ہے.” ولید کے لہجے میں طنز کی آمیزش تھی.
“آپ لوگ آج کیوں نہیں آئے¿”
“مجھ میں کہیں آنے جانے کی بالکل ہمت نہیں ہے.”
“مووی دیکھنے جانے کی ہمت تو تھی آپ میں.” وہ طعنہ دئیے بناء نہ رہ سکی تھی.
“واٹ تم مجھے طعنہ دے رہی ہو.”
“جی.”
“پلیز ابیہا. میرا دماغ مت کھاؤ آدھی رات کو.”
“ولید.” وہ دکھ سے بولی
“بولو.” اسکا لہجہ اکھڑا اکھڑا سا تھا. ابیہا کی آنکھوں سے ایک آنسو گرا.
“ولید آپ..” اسکی آواز حلق میں گھٹ کے رہ گئی تھی. دوسری جانب سے ولید کی گہری سانس بھرنے کی آواز سنائی دی تھی.
“روؤ نہیں.” اسکا لہجہ سخت تھا. اور ابیہا کو تو ویسے ہی رونے کا بہانہ چاہیئے تھا. وہ گھٹی گھٹی سسکیوں سے رونے لگی اور اٹھ کر ڈرائنگ روم میں آبیٹھی مبادا گھر والے نہ جاگ جائیں.
“ابیہا..” ولید کی سنجیدہ سی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی تو اسکی سسکیوں میں شدت آگئی.
“بیا… پلیز..” اسکا لہجہ نرم پڑ گیا تھا.
“آئی لو یو وائفی. کیا مجھے تم سے خفا ہونے کا حق نہیں ہے¿” ولید کا لہجہ محبتوں سے چور ہوگیا تھا. ابیہا کے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے.
“بیا… مت روؤ پلیز.. دیکھو اگر تم فوراً چپ نہ ہوئی تو میں اسی وقت تمہارے گھر آجاؤنگا.” ولید کی دھمکی کارگر رہی تھی ابیہا کی سسکیاں تھم گئیں.
“مجھ سے ملنے کب آؤگی¿” چند ثانیے بعد اس نے پوچھا.
“میں نہیں آؤنگی.” وہ روئے روئے لہجے میں بولی.
“کیوں¿”
“آپ لوگ آج کیوں نہیں آئے ولید. مجھے اتنی باتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے.” اسکے آنسو پھر سے بہنے لگے تھے.
“آئم سوری بیا. ممی کا موڈ آف ہے نیہا کی شادی کیوجہ سے وہ ماں ہیں اسلیئے انہیں اپنی اولاد سب سے زیادہ عزیز ہے.”
“تو امی ابو کو بھی تو اپنی اولاد ہی عزیز ہے تبھی شادی کررہے ہیں نیہا کی.”
“آئی کین انڈراسٹینڈ بیا. لیکن ممی کو نہیں سمجھا سکتا میں. بٹ کل ہم لوگ آئینگے. دس از آ پرامس”
“وعدہ توڑا تو¿”
“تو جو سزا دوگی مجھے منظور.”
“ولید مجھے لگتا ہے آپ مجھ سے دور جارہے ہیں بہت دور..” وہ خوفزدہ سے لہجے میں بولی تھی.
“مجھے بھی یہی لگتا ہے بیا جیسے تم مجھ سے صدیوں کے فاصلے پہ کھڑی ہو اور میں چاہ کر بھی تمہیں پا نہیں سکتا..” ولید کے لہجے میں بھی عجیب سی اذیت تھی.ابیہا نجانے کیوں پھر سے رونے لگی تھی.
“ہاہ… بیا.. میری جان.. پلیز نہیں.. ” اسکے لہجے میں درد تھا.
“ولید آپ مجھے چھوڑ دینگے کیا¿” وہ بہت ان سیکیور محسوس کر رہی تھی.
“تم میری بیوی ہو بیا.. اتنا کمزور رشتہ تو نہیں ہے ہمارا.” وہ جیسے تڑپ کے رہ گیا تھا.
“مجھے لگتا ہے جیسے..”
“بیا” ولید نے اسکی بات کاٹی.”میری بات سنو تم میری بیوی ہو میری ہو صرف میری ہو بس. اب مزید کچھ مت کہنا اور آنسو بھی صاف کرو.” ابکی بار اسکے لہجے میں ذرا سختی در آئی تھی. ابیہا نے اپنے آنسو پونچھے.
“چلو اب سوجاؤ. کل ملاقات ہوگی ٹھیک ہے¿”
“جی” وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی.
“میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں بیا. تم تو میری زندگی ہو. پلیز رویا مت کرو. تمہارے آنسو مجھے بہت تکلیف دیتے ہیں. آئی لو یو سو مچ.” اسکا لہجہ محبتوں سے چور تھا.
“گڈ نائٹ” وہ بولی تھی.
“گڈ نائٹ” دوسری جانب سے کہا گیا تھا. سلسلہ منقطع کرکے وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں آئی سردی سے اسکی ٹانگیں جم گئی تھیں جیسے. وہ اپنے کمبل میں گھس گئی. ولید سے بات کرنے کے بعد بھی اسکا دل ہرگز مطمئن نہ ہوا تھا. وہ جب تک جاگتی رہی تھی آنسو بہاتی رہی تھی.
——————
اگلے روز نیہا کی بارات کا فنکشن تھا. اور اس روز ولید وعدے کےمطابق شکیلہ بیگم روحینہ شزاء اور سکندر کو لے آیا تھا ان سب کے ساتھ ایک بن بلائی مہمان بھی تھی.. علیشا. ہمیشہ کیطرح سلیولیس میکسی پہنے لمبے بال کھولے ہلکے پھلکے میک اپ میں بے حد حسین. روحینہ نے آج البتہ لال رنگ کا لمبا فراک پہن رکھا تھا بڑا سا دوپٹہ اچھی طرح سینے پہ پھیلایا ہوا تھا اور بالوں کی فرینچ چوٹی بنا رکھی تھی. اس سادہ لک میں وہ بہت پاکیزہ نظر آرہی تھی. شزاء نے بھی آج پوری آستینوں اور دوپٹے سمیت کھلی شلوار اور شارٹ شرٹ پہن رکھی تھی. آج ان سب کا موڈ بھی اچھا تھا خاص طور پر شزاء سب سے بہت اچھی طرح ملی تھی. ابیہا آف وائیٹ غرارہ اور پرپل شرٹ میں ملبوس تھی اور اسنے سر پہ آف وائیٹ حجاب لپیٹ رکھا تھا سوٹ کا دوپٹہ سینے پہ پھیلایا ہوا تھا ہلکے سے میک اپ کیساتھ وہ بہت اچھی لگ رہی تھی. ولید اسے دیکھ کر بھر پور انداز میں مسکرایا تھا. پھرنکاح اور کھانے کے بعد دلہن بن کر قیامت ڈھاتی نیہا کو اسٹیج پہ لا کر بٹھایا گیا تو ہی ابیہا کو ذرا فراغت ملی. اسنے ولید کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں وہ ہال کے کونے میں علیشا کیساتھ کھڑا ہنس ہنس کر باتیں کررہا تھا. ابیہا انہیں دیکھتی رہی اور پھر بقیہ تقریباً تمام فنکشن میں ہی ولید اور علیشا ساتھ ساتھ رہے تھے ولید نے ابیہا سے بات کرنیکی کوشش بھی نہ کی تھی. نیہا کی رخصتی کے بعد وہ پھپھو کیطرف ہی چلی گئی. کافی دیر وہیں بیٹھنے کے بعد وہ گھر آئی تھی اور پھر جب رات گئے اسے بستر پہ لیٹنا نصیب ہوا تو آنکھوں کے سامنے ولید اور علیشا کے ہنستے مسکراتے چہرے گھوم گئے تھے. اسنے موبائل اٹھا کر چیک کیا ولید کا کوئی میسیج یا کال نہیں تھی. ابیہا نے موبائل رکھدیا. اسے اپنی محبت کھو جاتی ہوئی محسوس ہونے لگی تھی. اگلے روز ولیمے میں نیہا کا روپ ہی نرالا تھا. رائل بلیو میکسی میں وہ حور لگ رہی تھی. ابیہا سیاہ رنگ کے لمبے فراک میں سیاہ حجاب چہرے کے گرد لپیٹے سیاہ دوپٹہ سینے پہ پھیلائے میک اپ سے مبرا چہرا لیئے بہت سوگوار سی نظر آرہی تھی. لوگ سمجھ رہے تھے کہ وہ بہن کے رخصت ہو جانے کی وجہ سے ملول ہے مگر اسکے دل کا حال تو بس اسکا رب ہی جانتا تھا. اس روز بھی ولید کی ساری فیملی کیساتھ علیشا بھی چلی آئی تھی اور ولید سارے فنکشن میں اسی کیساتھ ساتھ رہا تھا. اس روز ولیمے کے فنکشن کے اختتام پر ابیہا کاظم نے اپنی محبت کے کھوجانے کا یقین کرلیا تھا. اسنے دل سے اپنی شکست تسلیم کرلی تھی.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: