Fizza Batool Urdu Novels

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool – Last Episode 10

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool
Written by Peerzada M Mohin
محبت ایسا دریا ہے از فضہ بتول – آخری قسط نمبر 10

–**–**–

“شکر ہے نیہا اپنے گھر کی ہوگئی.” امی نے دادو سے کہا.
“ہاں شکر ہے اللہ کا. اس لڑکی کا مسئلہ تو حل ہوا.” دادو نے بھی امی کی ہاں میں ہاں ملائی.
“بس اب ابیہا رہ گئی ہے لیکن اسکی طرف سے تو میں بڑی مطمئن ہوں. ولید اچھا لڑکا ہے.” امی صوفے پہ پاؤں سمیٹ کر بیٹھی تھیں. دادو بھی کاؤچ پہ کمبل اوڑھے نیم دراز تھیں جبکہ ابیہا کچن میں چائے بنا رہی تھی.
“اے بہو یہ ولید کیساتھ وہی لڑکی نہیں تھی جو اسکی پھپھی کی لڑکی ہے¿” دادو کو اچانک یاد آیا.
“ہاں امی جی. بڑی تیز لڑکی ہے جب ہم نیہا کی شادی کا کارڈ دینے گئے تھے تب بھی اسی نے بڑی بکواس کی تھی.” امی کو تو علیشا اسی روز سے زہر لگتی تھی.
“تیز تو بہت لگتی ہی ہے وہ اور کپڑے کیسے برے پہنتی ہے. دوپٹہ تو شاید اسنے کبھی خریدا ہی نہیں.” دادو نے بھی رائے زنی کی تھی.. علیشا پہ. ابیہا چائے کپوں میں نکالنے لگی.
“ہاں اور امی جی میں نے ایک بات نوٹ کی ہے کہ ولید کل بھی اور آج بھی سارے فنکشن میں اسی کیساتھ ساتھ رہا آبی کیساتھ تو اسنے شاید سلام دعا بھی نہیں کی.” امی نے پر سوچ انداز میں کہا. ابیہا ٹرے اٹھائے لاؤنج میں آئی اور امی اور دادو کو چائے سرو کرنے لگی.
“ہاں بہو میں نے بھی یہ بات محسوس کی کہ ولید کا سارا دھیان اسی کی طرف تھا. اپنی بیوی کو تو اسنے نظر بھر کے دیکھا بھی نہیں حالانکہ کل اور آج آبی کتنی پیاری لگ رہی تھی.” دادو نے چائے کا مگ لیتے ہوئے فکر مندی سے کہا. ابیہا نے امی کو کپ تھمایا اور ٹرے میز پہ رکھ کر اپنا مگ اٹھا کر دادو کے برابر ہی بیٹھ گئی.
“اے آبی تیری بات ہوئی تھی ولید سے آج¿” امی نے اسے مخاطب کیا. ابیہا نے نفی میں گردن ہلادی.
“مجھے تو فکر ہورہی ہے آجکل کے لڑکوں کا کیا پتہ کب بدل جائیں. اور یہ ہماری بچی تو ہے ہی صدا کی احمق.” امی اب فکر مند نظر آنے لگی تھیں.
“میں نے کیا حماقت کی ہے امی.” وہ چڑ کے بولی.
“تجھے میاں کو قابو میں کرنا ہی نہیں آیا. تیری موجودگی میں تیرا میاں کسی اور لڑکی کے اردگرد منڈلاتا رہا اور تو کچھ نہ کرسکی.” امی اب اس پہ غصہ نکال رہی تھیں.
“تو کیا کرتی میں. اگر ایک بندہ مجھ سے بات ہی نہیں کرنا چاہتا تو میں زبردستی کیسے کرتی.” وہ بے بسی سے بولی.
“شوہروں پہ حق جتایا جاتا ہے میری بچی انہیں یوں بے لگام نہیں چھوڑا جاتا. اگر وہ علیشا کے آگے پیچھے گھوم رہا تھا تو تو اسکے ساتھ ساتھ رہتی ہر جگہ علیشا خود ہی اسکا پیچھا چھوڑ دیتی. تو نے اپنی جگہ خالی کی تو وہ تیری جگہ آگئی.”
“امی وہ میری جگہ نہیں آئی وہ کزن ہے ولید کی. کزنوں میں دوستی تو ہوتی ہی ہے.” اسکا لہجہ کمزور تھا.
“اے پاگلے یہ کیسی دوستی ہے کہ تیرا شوہر تیری طرف دیکھے بھی نہ دوست کیوجہ سے. کیسی بیوقوف ہے تو آبی. جیسے ولید تیرے پہ فدا تھا کوئی اور لڑکی ہوتی تو اسے اپنی انگلیوں پہ نچا کے رکھتی مگر تو نے تو اسے خود سے بیزار کردیا ہے.” دادو نے اسکے شانے پہ ہلکی سی دھپ لگائی.
“تو میں کیا کروں میں انکے پیچھے پھرتی رہوں کیا.” اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے.
“پیچھے پھرنے والی کیا بات ہے اسمیں وہ تیرا شوہر ہے سب سے زیادہ اس پہ تیرا حق ہے. تو کیوں دوسری عورت کو یہ موقع دی رہی ہے کہ وہ تیرے شوہر پہ قبضہ کرلے.” امی نے اسے سمجھانا چاہا.
“مگر امی ولید کہتے تھے کہ انکی زندگی میں میرے علاوہ کبھی کوئی لڑکی نہیں آئی.” وہ معصومیت سے بولی.
“او مردوں کے یہ سب ڈرامے ہوتے ہیں. تو پاگل ان باتوں پہ یقین کرتی ہے. محبت ایک طرف ہوتی ہے ملکیت ایک طرف. ولید تیرا شوہر ہے تو تجھے اس پہ اپنا حق جتانا چاہیئے تاکہ اسے پتہ چلے کہ وہ ادھر ادھر کی لڑکیوں میں تانکا جھانکی کرنے کیلیئے آزاد نہیں ہے. تھوڑا عقل کو ہاتھ مار ابھی تیرا صرف نکاح ہوا ہے اور خالی نکاح ختم کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا مردوں کیلیئے.” امی کی بات پہ اسکا دل ڈوب کے ابھرا تھا. اسکے بعد امی اور دادو بہت دیر تک اسے شوہر کو قابو میں رکھنے کے متعلق ٹپس دیتی رہی تھیں اور وہ چپ چاپ سنتی رہی تھی.
——————
نیہا مکلاوے کی رسم کیلیئے اگلے روز صبح آئی تھی. دوپہر تک تو زبیر بھائی بھی یہیں رکے پھر وہ شام کو آنے کا کہہ کر چلے گئے تو وہ سب لاؤنج میں آبیٹھے. ابو کچھ دیر کو دکان پہ چلے گئے تھے اور عامر بھی دوستوں کیساتھ کرکٹ کھیلنے نکل گیا تھا. نیہا کافی خوش باش نظر آرہی تھی. کچھ دیر تو نیہا زبیر کی تعریفوں کے پل باندھتی رہی پھر گفتگو کا رخ ولید کی فیملی کیطرف مڑ گیا اور پھر سے ولید کا علیشا کیطرف جھکاؤ اور ابیہا کی بیوقوفی موضوع بحث بن گئی. ابیہا اکتا کر اٹھ کے اپنے کمرے میں آگئی کچھ دیر بعد نیہا اسکے پیچھے چلی آئی.
“ادھر کیوں بیٹھی ہو” وہ اسکے سامنے ہی بیٹھ گئی.
“ایسے ہی” وہ منہ لٹکا کر بولی.
“ولید کیوجہ سے پریشان ہوناں.” نیہا کا لہجہ نرم تھا. ابیہا نے سر اثبات میں ہلادیا.
“یار آبی یہ مرد ناں دنیا کی سب سے زیادہ ناقابل اعتبار مخلوق ہیں. انکی کسی بات پہ یقین نہیں کرنا چاہیئے. اور یہ امیر لڑکے تو ہوتے ہی کلی کلی منڈلانے والے بھنورے ہیں.” نیہا بولی.
“مگر ولید تو کہتے تھے کہ انکو مجھ سے بہت محبت ہے اور میرے علاوہ وہ کسی سے محبت نہیں کرسکتے.” ابیہا کی آنکھوں میں نمی تھی.
“ہونہہ مرد کی محبت اور موسم کی بارش میں کوئی فرق نہیں ہوتا. مرد پہ محبت کیفیت کیطرح طاری ہوتی ہے.. عارضی اور ناپائیدار.” نیہا کے لہجے میں تلخی تھی.
“کیا زبیر بھائی کی محبت بھی عارضی تھی¿” وہ جیسے ڈوب رہی تھی.
“تو زبیر کیا فرشتے ہیں. یہ شادی کے بعد جو ہر لڑکی خوش نظر آتی ہے ناں یہ خوشی نہیں بھرم ہوتا ہے جو اسے قائم رکھنا ہوتا ہے.” نیہا کے چہرے سے مسکراہٹ کا پردہ ہٹ گیا تھا اور وہ بیزار نظر آرہی تھی.
“تو کیا ولید بھی.” ابیہا کی آواز ڈوب گئی تھی..
“تو ولید کونسا آسمان سے اترا ہوا ہے. ہیٹ آف دی مومنٹ میں اسنے تم سے نکاح تو کرلیا تھا مگر اسے بعد میں احساس ہوگیا ہوگا کہ تم اسکے اسٹینڈرڈ کی نہیں ہو سو وہ اپنی طرحداز کزن کیطرف متوجہ ہوگیا.” نیہا کا تجزیہ اسے درست مگر بہت بے رحم لگا تھا.
“اب کیا ہوگا آپی.” اسکی آواز کپکپا رہی تھی.
“تم ولید سے ڈائیریکٹ بات کرو کہ یہ کیا ڈرامہ لگایا ہوا ہے اسنے.”
“مگر وہ تو میری کال پک نہیں کرتے.” اسکا دل تیز تیز دھڑکنے لگا تھا.
“تو گھر جاؤ اسکے اور سیدھی بات کرو اس سے کہ بھئی تمہارا کیا مسئلہ ہے. تم نے میرے ساتھ شادی کرنی ہے یا نہیں فیصلہ کرو.” نیہا نے کہا. ابیہا نے دھیرے سے سر ہلادیا.
“دیکھو ابیہا شادی کے بعد بھی وہ یہی ڈرامے کرتا رہے تمہارے ساتھ اس سے بہتر ہے کہ ابھی کوئی فیصلہ ہوجائے. ابھی وقت تمہارے ہاتھ میں ہے تم باؤنڈ نہیں ہوئی مگر شادی کے بعد لڑکی تو نہ آگے کی رہتی ہے نہ پیچھے کی.” نیہا کی باتیں اسے ٹھیک لگ رہی تھیں. اسنے ولید سے بات کرنیکا فیصلہ کرلیا تھا.
—————-
اگلے روز وہ یونیورسٹی سے روحینہ کیساتھ اسکی طرف چلی آئی. امی کو اسنے بتادیا تھا کہ اسے یونیورسٹی میں دیر ہوجائیگی. ولید گھر پہ ہی تھا. روحینہ فریش ہونے اپنے کمرے میں چلی گئی تو وہ ولید کے کمرے کے دروازے تک آئی. کچھ جھجھکتے ہوئے اسنے دروازے پہ دستک دی. “یس” اندر سے ولید کی آواز آئی تھی. وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی. ولید صوفے پہ بیٹھا ہوا تھا جبکہ علیشا فلور کشن پہ بیٹھی اس سے باتیں کررہی تھی. اسکی آمد پہ دونوں اسکی جانب متوجہ ہوگئے اور ابیہا جو گزشتہ رات سے ولید سے بات کرنیکی ہمت جمع کررہی تھی اس وقت نجانے کیسے اتنی باہمت ہوگئی تھی کہ سخت لہجے میں علیشا سے بولی. “آپ ذرا باہر جائیے مجھے ولید سے کچھ ضروری بات کرنی ہے.”
علیشا نے ایک نظر ولید کیطرف دیکھا اور لاپرواہی سے شانے اچکا کر اوکے کہتی کمرے سے چلی گئی.
“یہ کیا بدتمیزی ہے ابیہا.” ولید بولا.
“مجھے تمیز مت سکھائیں ولید. کیونکہ اس سبق کی سب سے زیادہ ضرورت آپکو ہے.”, اسکا لہجہ تلخ تھا
” بڑی تپی ہوئی ہو. خیریت ہے” وہ ہلکے پھلکے لہجے میں بولا.
“علیشا یہاں کیوں بیٹھی ہوئی تھی.” اسکا لہجہ جرح کرنیوالا تھا.
“باتیں کر رہے تھے ہم.” اسنے لاپرواہی سے جواب دیا.
“ایسی کونسی باتیں ہیں آپ دونوں کی جو ختم ہی ہونے پہ نہیں آتیں.”
“ہیں کچھ باتیں. تم بیٹھوناں.”
“مجھے نہیں بیٹھنا.” وہ بلند آواز میں بولی.
“مت بیٹھو مگر اپنی آواز آہستہ رکھو.” اسکے چہرے پہ سنجیدگی در آئی تھی.
“کیوں میں اپنی آواز آہستہ کیوں رکھوں. آپ خاموشی سے یہاں بیٹھ کر اپنی کزن کیساتھ رومانس کرتے رہیں اور میں اپنی آواز آہستہ رکھوں.” ابیہا کی آواز بلند ہوگئی تھی. ولید ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا.
“واٹ.. یہ کیا کہہ رہی ہو تم”
“وہی کہہ رہی ہوں جو سچ ہے. آپ مجھے دھوکہ دے رہے ہیں. علیشا کیساتھ چکر چلا رہے ہیں.” وہ چلائی تھی.
“انف ابیہا.” وہ چند قدموں کا فاصلہ طے کرکے اسکے مقابل آکھڑا ہوا. “وہ بات مت کرو جو تم جانتی ہی نہیں ہو.”
“میں سب جانتی ہوں. آپ جھوٹے ہیں. مجھ سے محبت کے جھوٹے وعدے کرتے رہے ہیں آپ اور.. اور اب آپکو پچھتاوا ہورہا ہے کہ آپ نے مجھ جیسی فضول سی لڑکی کیساتھ نکاح کیوں کرلیا.” اسکی آنکھوں میں آنسو اور لہجے میں غصہ تھا.
“تمہیں کیا لگتا ہے میں اٹھارہ سال کا ایک ناپختہ ذہن والا لڑکا ہوں جو آئے دن اپنی پسند بدلتا رہے گا. تم میری بیوی ہو گرل فرینڈ نہیں..”
“آپ جیسے امیر لوگوں کیلیئے نکاح کی کیا ویلیو.” وہ اسکی بات کاٹ کر بولی.
“واٹ ڈو یو مین ابیہا. یہ تم کس قسم کی فضول باتیں کر رہی ہو.” وہ حیرت سے بولا تھا.
“اگر آپکو علیشا سے شادی کرنی ہے تو کرلیں اور دیدیں مجھے طلاق.”
“جسٹ شٹ اپ.. ” وہ غصے سے چلا اٹھا تھا. “طلاق کا مطلب سمجھتی ہو تم. ہاں. زندگی مذاق ہے کیا تمہارے لیئے.” اسنے اسے شانوں سے تھام کر جارحانہ انداز میں پوچھا تھا.
“بے وفائی سے بہتر ہے طلاق.” اسکے آنسو بہہ نکلے تھے. ولید نے اسے جھنجھوڑ ڈالا.
“پاگل تو نہیں ہو گئی ہو تم.” اسکے ہاتھوں کی سخت گرفت اسکی بازوؤں کو تکلیف دے رہی تھی. “ابیہا پلیز سٹاپ دس.. ہمارا رشتہ بہت پیارا ہے پلیز ڈونٹ سپائل اٹ پلیز.” وہ سخت ذہنی الجھاؤ کا شکار لگنے لگا تھا.
“میں نہیں آپ سپائل کر رہے ہیں اس رشتے کو. دھوکہ دے رہے ہیں آپ مجھے اس علیشا کیلیئے.” وہ آج کچھ سمجھنے نہیں آئی تھی صرف سمجھانے آئی تھی.
“مت نام لو اسکا بار بار اگر اسنے سن لیا تو کتنا دکھ ہوگا اسے.”
“اسکے دکھ کی بہت فکر ہے آپکو اور میرا کیا.. میرے دکھ کی کوئی پرواہ نہیں ہے آپکو. میں جو آپکی اس بے اعتنائی کی وجہ سے پل پل مر رہی ہوں میری کوئی ویلیو نہیں.” وہ خود کو اسکی سخت گرفت سے چھڑوا کے چلائی.
“بیا…” ولید کا لہجہ تنبیہہ کرنےوالا تھا.
“آپ فیصلہ کریں ولید. میں کوئی کھلونا نہیں ہوں. انسان ہوں. رحم کریں مجھ پر.” وہ قطیعت سے بولی.
“تم میری بیوی ہو.” ولید کا لہجہ سخت اور سنجیدہ تھا.
“بیوی ہوں تو بیوی سمجھئیے ناں مجھے. گرل فرینڈ نہیں.” اسکا لہجہ سنگلاخ تھا.
“اوکے اب میں تمہیں بیوی ہی سمجھوں گا.” ولید کا لہجہ سنگلاخ تھا اور چہرے پہ سختی تھی. ابیہا واپس جانے کیلیئے پلٹی.
“اب سے میں تمہیں بیوی سمجھوں گا ابیہا کاظم لیکن پھر تم شکوہ مت کرنا مجھ سے..” ولید کی سنجیدہ آواز عقب سے ابھری تھی ابیہا نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا وہ لب بھینچے ماتھے پہ بل ڈالے اسکی طرف دیکھ رہا تھا. اسے نجانے کیوں اسکی سرد نگاہی سے خوف سا محسوس ہواتھا. وہ لرزتے قدموں سے چلتی اسکے کمرے سے باہر آگئی تھی.
—————–
دسبر کی چھٹیاں ختم ہوتے ہی اسکے پہلے سمسٹر کے امتحان شروع ہوگئے تھے وہ ذہن سے سب باتیں جھٹک کر پڑھائی میں لگ گئی. ولید نے اس روز کے بعد سے مکمل خاموشی اختیار کرلی تھی روحینہ کی زبانی اسے معلوم ہواتھا کہ علیشا اپنے گھر جاچکی ہے اور اب بہت کم کم چکر لگاتی ہے. ولیدکو بھی یکم فروری کو لاہور چلے جانا تھا. پندرہ جنوری کو وہ آخری پیپر دیکر گھر لوٹی تو امی کی زبانی معلوم ہوا کی شکیلہ بیگم نے آج کال کرکے کہا ہے کہ وہ شام میں آئینگی. ابیہا نے صرف اچھا کہہ دیا تھا. مگر اسکا ذہن الجھ گیا تھا کہیں ولید نے انہیں اسکی شکایت نہ لگادی ہو اور وہ امی ابو سے اسکی شکایت کرنے آرہی ہوں. وہ سوچ سوچ کر الجھتی رہی مگر شکیلہ بیگم کی ولید کیساتھ آمد کے نے تو اس پہ جیسے ایٹم بم گرادیا تھا. وہ تو اسکی رخصتی کی تاریخ لینے آئی تھیں. انکا کہنا تھا کہ ولید کو ابیہا کے پڑھنے پہ کوئی اعتراض نہیں مگر اب وہ رخصتی کروانا چاہتا ہے. ابیہا نے پزل سی ہوکر ولید کیطرف دیکھا جو خوش اخلاقی کا پیکر نظر آرہا تھا اس وقت.
“لیکن بہن اتنی جلدی ہم تیاری کیسے کرینگے.” امی ہچکچائیں.
“ہمیں کچھ نہیں چاہیئے بہن. بس میری بہو مجھے دیدیں.” شکیلہ بیگم مسکرا کر بولیں
“آنٹی میں سمجھتا ہوں کہ نکاح کے بعد میاں بیوی کو ایکساتھ رہنا چاہیئے ورنہ اختلافات بڑھتے ہیں. ویسے بھی میں فروری میں لاہور چلا جاؤں گا پھر ابیہا یہاں رہے یا وہاں اٹس اپ ٹو ہر.” ولید سبھاؤ سے بولا.
“دیکھیں کیا حرج ہے اسمیں. ابیہا ولید کی بیوی ہے.” شکیلہ بیگم بولیں. امی ابو نے سر ہلایا.
“ٹھیک ہے بہن. آپکی بہو ہے جب چاہیں لے جائیں.” ابو مسکرا کر بولے تھے. ابیہا نے ولید کیطرف دیکھا وہ محظوظ ہونیوالے انداز میں مسکرا کر اسکی طرف دیکھ رہا تھا. وہ اٹھ کر کچن میں چلی آئی اور آنسو بہانے لگی.
“یہ ساون بھادوں کا سین رخصتی کے وقت کر لینا.” ولید کی آواز پہ وہ بے طرح چونکی تھی.
“مجھے آپ سے بات نہیں کرنی.” وہ دوپٹے کے پلو سے آنسو پونچھتے ہوئے بولی.
“اب تو ساری زندگی مجھ سے ہی بات کرنی پڑیگی تمہیں” وہ کاؤنٹر سے ٹیک لگا کر بولا.
“آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ.” وہ پھر سے رو پڑی.
“بیوی سمجھ رہا ہوں تمہیں اور بیوی کو تو شوہر کے گھر پہ ہی رہنا چاہیئے.” ولید کے چہرے پہ دل جلانے والی مسکراہٹ تھی.
“یہ صرف ضد کا بندھن ہوگا میں جانتی ہوں.” وہ بہتے آنسوؤں کیساتھ بولی.
“جب جانتی ہو تو روک کر دکھا دو. ابیہا کاظم تمہاری زندگی میں اب سے وہی ہوگا جو ولید حسن چاہے گا. میں بتاؤں گا تمہیں کہ شک کا کیا انجام ہوتا ہے.” وہ اسکے سامنے رک کر ایک ایک لفظ رک رک کر ادا کر کے لمبے لمبے ڈگ بھرتا کچن سے چلا گیا تھا. ابیہا وہیں جامد رہ گئی.
———————
رات کا آخری پہر چل رہا تھا مگر ابیہا کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان تک نہ تھا. اسکے دھیان کا محور وہ شخص تھا جس سے کہنے کو تو اسکا سب سے گہرا رشتہ تھا لیکن در حقیقت یہ رشتہ کتنا کمزور سا تھا. اسے ہرگز بھی سمجھ میں نہ آرہی تھی کہ وہ کیا کرے کس طرح اس صورتحال کو ہینڈل کرے. امی نے تو اسکی بات ہی نہیں سنی تھیں انکا صاف جواب تھا کہ باقی کی پڑھائیاں اپنے شوہر کے گھر جاکر کرنا. وہ سوچ سوچ کر پاگل ہونیوالی ہوگئی تھی. مگر کوئی راستہ سجھائی نہ دے رہا تھا. اسکی شادی کی تاریخ ٹھیک ایک ہفتے بعد کی طے ہوئی تھی اور اسے لگ رہا تھا کہ وہ ڈپریشن کیوجہ سے جلد ہی پاگل ہوجائیگی. نیہا کو زبیر اور پھپھو بالکل بھی میکے نہ آنے دیتے تھے اور اسکے وہ فینٹسی ورلڈ کا وڏن بالکل بکھر کر رہ گیا تھا. ابیہا کو اپنا مستقبل بھی نیہا کے جیسا ہی نظر آنے لگا تھا.

“آبی” وہ اپنے کمرے میں کتابوں کے ریک میں رکھی کتابوں کی ترتیب صیحیح کر رہی تھی جب امی کی تیز پکار پہ اس نے “جی امی” کی لمبی ہانک لگائی پھر ہاتھ جھاڑتی ہوئی تیزی سے لاؤنج میں آئی اور پھر اسکی اسپیڈ کو بے اختیار ہی بریک لگے تھے. کیونکہ سامنے ہی صوفے پہ ولید ٹانگ پہ ٹانگ رکھے براجمان تھا.
“اس… اسلام علیکم!” وہ بوکھلائے ہوئے لہجے میں بولی.
“وعلیکم السلام!” ایک سرسری سی نظر اس پہ ڈال کر وہ پھر سے امی کیجانب متوجہ ہوگیا. “آنٹی آجکل تو سب کچھ ریڈی میڈ ہے. بس جیب میں پیسہ ہونا چاہیئے.”
“ہاں بیٹا کہتے تو تم ٹھیک ہو لیکن بیٹی والوں کی تیاری بھی تو زیادہ ہوتی ہے.” امی نے تفکر آمیز انداز میں کہا تھا.
“آنٹی مجھے تو مستقلاً ادھر رہنا ہی نہیں ہے. اور میرا ارادہ ہے کہ ابیہا کو بھی اپنے ساتھ ہی لیکر جاؤں گا. تو اب دوسرے شہروں میں سامان اٹھائے اٹھائے پھرنا تو ممکن نہیں ہوتا.” ولید نے لاپرواہی سے جواباً کہا. ابیہا کچن میں چلی آئی اور چولہے پہ چائے کا پانی چڑھایا.
“وہ تو تمہاری بات ٹھیک ہے بیٹا مگر بیٹی کو خالی ہاتھ بھی تو رخصت نہیں کیا جاسکتا.”
“کم آن آنٹی میں ان فرسودہ روایات کو بالکل بھی پسند نہیں کرتا. اصولاً تو نکاح کے بعد ابیہا میری ذمے داری ہے لہٰذا اسکو جو بھی چاہیئے ہوگا وہ میں خود دلوادونگا.آپ بالکل ٹینشن نہ لیں. بس ابیہا کو بلوادیں تاکہ ہم نکلیں پھر.” ابیہا تک اسکی آواز واضح طور پر پہنچ رہی تھی. وہ کچن کے دروازے پہ نمودار ہوئی.
“آبی جا بیٹا کپڑے بدل لے. ولید کیساتھ شاپنگ پہ جانا ہے تو نے.” امی کی ہدایت پہ اسکے اندر غصے کا ابال سا اٹھا تھا.
“میں…” اس نے اعتراض اٹھانا چاہا مگر امی کی گھوری پہ مڑ کر کچن میں آئی اور چولہا بند کرکے واپس اپنے کمرے میں چلی آئی. کپڑے تبدیل کرکے بالوں کو جوڑے میں لپیٹا اور سیاہ چادر اوڑھ کر لاؤنج میں نکل آئی. ولید اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا.
“اچھا آنٹی پھر واپسی شام تک ہوگی کیونکہ راستے سے ہمیں ممی اور روحی کو پک کرنا ہے اور ممی کا ارادہ ہے کہ آج ساری امپورٹنٹ شاپنگ کرلیں. اسلیئے دیر ہوگئی تو پریشان مت ہوئیے گا.” ولید نے امی کو اطمینان دلوانے کے انداز میں کہا تھا. ابیہا دل ہی دل میں جل کر راکھ ہو رہی تھی.
“ٹھیک ہے بیٹا. جیتے رہو.” امی نے پر شفقت انداز میں اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا. پھر وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے گھر سے باہر نکل آئے.
—————-
“ایسی سوگوار شکل کیوں بنارکھی ہے¿” گاڑی سڑک پے فراٹے بھر رہی تھی جب ولید نے اسے مخاطب کیا تھا. وہ کچھ نہ بولی. بس اپنی انگلیاں مروڑتی رہی.
“ان بیچاری انگلیوں پہ رحم کرو.. ابھی تمہاری کافی پڑھائی باقی ہے.” وہ ہلکا سا ہنسا تھا ابیہا نے گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا. اسکے گال کا زخم بہت حد تک مندمل ہوچکا تھا.
“ایسے کیوں گھور رہی ہو.مانا کہ میں بہت ہینڈسم ہوں لیکن تمہارا تو شوہر ہوں. تم نے تو ساری عمر مجھے ہی دیکھنا ہے.” اسکے ہونٹوں پہ چڑانے والی مسکراہٹ تھی. ابیہا گردن موڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی.
“چپ کا روزہ رکھ کر آئی ہو کیا¿” ولید نے پھر اسے چھیڑا. وہ تب بھی کچھ نہ بولی.
“مرضی تمہاری بھئی نہ بولو. میں میوزک سے دل بہلا لوں گا.” ولید نے لاپرواہی سے کہہ کر کیسٹ پلیئر آن کردیا. ساحر علی بگا کی فریش سی آواز گاڑی میں گونجنے لگی.
ساکوں ڈھول مناوڑاں اے
بھانویں سِر دی بازی لگ جاوے
ولید نے والیوم تیز کردیا. گاڑی جیسے وائبریٹ کرنے لگی تھی.ابیہا نے گہری سانس بھری.
مٹھرے بول جے بول دویں تے
سوہنڑیئے تیرا جاندا کی اے
ولید اب گانے کے بول ساتھ ساتھ دہرانے لگا تھا. اسکی فریش اور شوخ سی آواز اچھی خاصی سریلی تھی. ابیہا کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا.
توں ہے جندڑی ناں وے کریئے
ایہہ ڈھولا فیر جی نوں جی اے
دل توں لے کے جان تلک ایہہ
جو کج وی اے تیرے لئی اے
ولید کی آواز گلوکار کی آواز سے ہم آہنگ ہورہی تھی. ابیہا کی ہتھیلیوں میں پسینہ اترنے لگا.
اساں نئیں ازمانوڑاں اے
چل نئیں ازمانوڑاں اے
بھانویں سِر دی بازی لگ جاوے
آئمہ بیگ کی پیاری سی آواز اور سرائیکی کے میٹھے میٹھے بول عجیب سا فسوں قائم کر رہے تھے. ابیہا نے گھبرا کر والیوم کم کردیا.
“کیا ہوا¿” ولید نے پوچھا.
“میرا بہری ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے.” وہ چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولی.
“دل بہرا نہیں ہونا چاہیئے بندے کا. کانوں کے بہرے ہونے سے کچھ نہیں ہوتا” اسکا لہجہ طنزیہ تھا. ابیہا گردن موڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی. ولید نے ہاتھ بڑھا کر والیوم بڑھادیا.
“تینو سوہنڑیا میری سوں اے
میرے نال دغا نئیں کرنا
مغنیہ کی آواز گاڑی میں گونجی تھی. ابیہا کی پلکوں پہ نمی اترنے لگی.
شالا یار نصیب نہ ہووے
جنے پیار وفا نئیں کرنا
ولید کی آواز گلوکار سے بلند ہوکر ابیہا کی سماعتوں میں اتر رہی تھی. اسکے دل پہ محبت آنسو بن کر گرنے لگی.
ست بسم اللّہ کر کے ڈھولا
میں ہن عشق قضا نئیں کرنا
گانے کے بولی جیسے محبت کی پکار تھے.. ابیہا نے ولید سے چھپتے ہوئے اپنی آنکھیں بے دردی سے مسل ڈالیں.
تیرے نال نبھاوڑاں اے
اساں عشق نبھاوڑاں اے
بھانویں سِر دی بازی لگ جاوے
ولید نے ہاتھ بڑھا کر کیسٹ پلیئر آف کردیا. مگر بقیہ کا تمام رستہ اسکے لبوں پر یہی بول رہے تھے.
—————–
شام ہوتے ہی محلے کی لڑکیاں انکے گھر میں جمع ہوکر ڈھولک لے کے بیٹھ گئیں. اچھی خاصی رونق لگ گئی تھی. امی نے ابو کو پھپھو کے گھر سے نیہا کو لیکر آنے کیلیئے بھیجا تھا. ابیہا بھی لاؤنج میں لڑکیوں سے ذرا پرے ہو کر بیٹھی ہوئی تھی. آج سارا دن وہ روحینہ اور شکیلہ بیگم کیساتھ شاپنگ بہت انجوائے کرتی اگر ولید ساتھ نہ ہوتا. اسکی مسلسل taunt کرنیوالی مسکراہٹ نے اسکی ساری خوشی کو غارت کردیا تھا. اس نے روحینہ کو الگ لیجاکر بول دیا تھا کہ اسکی باقی کی شاپنگ وہ لوگ اپنی مرضی سے ہی کرلیں کیونکہ اسکا روز روز گھر سے نکلنا ممکن نہیں ہے. گھر پہ امی جیسے گھن چکر بنی ہوئی تھیں. گھر کے کام تو جیسے تیسے ابیہا سنبھال ہی لیتی مگر شاپنگ کیلیئے امی کو نیہا کیساتھ کی ضرورت تھی.
ابو دو گھنٹے بعد لوٹے تھے. امی کے استفسار پہ انہوں نے بتایا کہ پھپھو اور زبیر نیہا کو شادی سے دو دن قبل ہی بھیجنے پہ بمشکل رضا مند ہوئے ہیں. امی دل مسوس کے رہ گئی تھی. جبکہ ابیہا کا دل بھی بجھ گیا تھا. ہزار اختلافات کے باوجود وہ اس گھر میں اپنے یہ چند دن اپنی ماں جائی کی سنگت میں گزارنا چاہتی تھی. مگر زندگی میں جو ہم چاہتے ہیں ہمیشہ پورا تو نہیں ہوتا. ابو کا اترا ہوا چہرا بتا رہا تھا کہ وہ نیہا کی شادی شدہ زندگی کیطرف سے غیر مطمئن ہوگئے تھے. مگر اب وہ بے بس تھے. وقت ہاتھ سےنکل چکا تھا.
——————–
مایوں والے روز سادہ سے پیلے لباس میں میک اپ سے مبرا چہرا لیئے وہ پیلے دوپٹے کی اوٹ میں چہرا چھپائے محلے کی خواتین کے جھرمٹ میں بیٹھی ہوئی تھی. اس سادہ سے روپ میں بھی اسکا چہرا جیسے دمک رہا تھا. باوجود اسکے کہ اسکا دل بے چین تھا مگر اسکے چہرے پہ بہت روپ آگیا تھا. امی نے تو کئی بار اسکی نظر اتاری تھی. ابٹن کی رسم شروع ہونے کے کچھ دیر بعد ہی پھپھو اور زبیر بھائی کے ہمراہ نیہا بھی چلی آئی تھی. اور وہ دونوں بہنیں جب گلے ملیں تو دونوں کی آنکھیں برس پڑی تھیں. پھپھو نے اسے شادی تک یہیں رکنے کی اجازت بھی دیدی تھی.
ابٹن کی رسم بہت خوش اسلوبی سے انجام پائی اور رات گئے وہ دونوں بہنیں اپنے کمرے میں آمنے سامنے آبیٹھیں.
“تم خوش نہیں ہو آپی¿” ابیہا نے اپنی بہن کے حسین چہرے پہ چھائی سوگواریت کو دل سے محسوس کیا تھا.
“پتہ نہیں یہ خوشی کیا ہوتی ہے آبی.” نیہا گہری سانس بھر کر بولی. “پتہ ہے آبی مجھے تم پہ بہت رشک آتا ہے.. تم کتنی لکی ہو اتنی امیر سسرال مل رہی ہے تمہیں.. دولت کی ریل پیل میں عیش کروگی… ہونہہ اور ایک میں ہوں.. ایک ایک پیسے کو ترس رہی ہوں.. حالانکہ میں یہ سب deserve نہیں کرتی تھی. مگر مجھے اللّہ نے ہمیشہ مشکلات ہی دی ہیں… اور تم.. ہمیشہ آرام و سکون سے رہی.” نیہا کی آواز مدھم تھی. اور لہجے میں ناکامیوں اور نارسائیوں کا کرب..
ابیہا نے زخمی نظروں سے اپنی بہن کیطرف دیکھا. بچپن سے لیکر آج تک جتنی نارسائیاں اسکے حصے میں آئی تھیں ان سب کے زخم کھل گئے تھے جیسے… خون رسنے لگا تھا.
“یہی تو سوچ کا تضاد ہے آپی.. ہر انسان کو بس اپنا دکھ دکھ لگتا ہے اور باقی سب کا دکھ ایک مذاق. خود کو ایک خراش پہنچے تو واویلا.. دوسروں کی چاہے روح چھلنی ہوجائے کوئی پرواہ نہیں.. حالانکہ دوسرے بھی کوئی پھولوں پہ چل کر زندگی کی منزلیں طے نہیں کررہے ہوتے مگر ہمیں تو صرف اپنی آبلہ پائی نظر آتی ہے.. مولانا رومی کہتے ہیں کہ تمہارا بہت سا دکھ صرف تمہارا ہی انتخاب ہے. اگر تم آج دکھی ہو کرب میں ہو تو یہ تمہارا انتخاب ہے آپی.. اسمیں تم کسی کو دوش نہیں دے سکتی. اس کانٹوں بھرے راستے کا انتخاب تم نے خود کیا تھا. اس ایک محبت کو پانے کیلیئے تم نے کتنے ہی محبت بھرے دلوں کو توڑا تھا. اور تم آج بھی اسی اسٹیٹ میں ہو.. مظلومیت اوڑھے. سب کچھ تم نے اپنی مرضی سے کرلیا اور اب اللّہ کو الزام دے رہی ہو.. آپی تم نے ہمیشہ غلط سوچا.. دولت کے پہاڑ خوشی کیوجہ نہیں ہوتے.. حقیقی مسرت صرف خلوص سے ملتی ہے اور خلوص انمول ہوتا ہے.” وہ جب بولی تو اسکا لہجہ زخم زخم تھا. نیہا سر اٹھائے کسی ساحر زدہ کیطرح اسے سن رہی تھی.. دونوں کی آنکھوں برس رہی تھیں… دونوں اس برسات سے بے پرواہ تھیں. “میری دعا ہے کہ تمہیں حقیقی خلوص نصیب ہو آپی.. لیکن ایک بات یاد رکھنا. زندگی کی راہوں میں کانٹے ہر پاؤں کیلیئے ہوتے ہیں چاہے وہ پاؤں تمہارے ہوں چاہے میرے.. زخموں سے کوئی بھی دل خالی نہیں ہوتا.. اور خوشیوں کے جھولے میں جھول کر کسی کی بھی زندگی بسر نہیں ہورہی ہوتی.” وہ اپنی بات مکمل کرکے بستر سے اتر کر شکست خوردہ قدموں چلتی کمرے سے نکل گئی تھی. نیہا خالی ہاتھ بیٹھی رہ گئی تھی.
——————–
مہندی کا فنکشن فارم ہاؤس میں ہونا تھا. یہ روحینہ اور سکندر کا آئیڈیا تھا کہ ابیہا اور ولید کا نکاح تو ہو ہی چکا ہے اسلیئے دونوں کی رسم حنا الگ الگ کرنیکی بجائے ایکساتھ ہی کردی جائے. امی ابو وغیرہ کو بھی کوئی اعتراض نہ ہوا تھا. فنکشن شام سات بجے شروع ہونا تھا اور اس وقت مغرب کی اذانوں کا وقت ہورہا تھا. ابیہا, روحینہ اور نیہا کے ہمراہ فارم ہاؤس کے بڑے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی. پیلے اور سبز غرارہ شرٹ میں پھولوں کے زیور سے سجی لمبی چوٹی کو گجروں سے سجائے دوپٹہ سر پہ سیٹ کیئے بناء میک اپ کے بھی وہ دمک رہی تھی. اسکا دل شدت سے دھڑک رہا تھا. ولید نے کئی روز سے اس سے بات نہ کی تھی. اور ابیہا کو اسکی خاموشی سے اب خوف آنے لگا تھا. کچھ دیر بعد علیشا بھی وہیں چلی آئی. اس نے اس بلا کی سردی میں بھی بغیر آستین پیلے رنگ کی میکسی پہن رکھی تھی. لمبے بال پشت پہ بکھرے ہوئے تھے اور ہلکے ہلکے میک اپ نے اسکے حسن کو دو آتشہ کردیا تھا. وہ بھی وہیں براجمان ہوگئ. وہ سب خوش گپیاں کررہی تھیں لیکن اسکا دماغ جیسے سن ہورہا تھا. کچھ وقت اور گزرا تو شزاء نے آکر مہمانوں کی آمد کہ اطلاع دی. علیشا کو اسکےپاس چھوڑ کر باقی سب لڑکیاں مہمانوں کے استقبال کیلیئے چلی گئی تھیں.
“یو آر لکنگ سو پریٹی.” علیشا نے مسکرا کر اسے مخاطب کیا تو وہ کھل کر مسکرا بھی نہ سکی تھی.
“ویسے تم بہت لکی ہو یار اتنا اچھا ہزبینڈ ملا ہے تمہیں. ولید بہت اچھا انسان ہے.” علیشا سنجیدہ نظر آرہی تھی. ابیہا کو لگا وہ اسکا مضحکہ اڑا رہی تھی. “اور تمہارے لیئے تو وہ بالکل کریزی ہے. اس سے کوئی بھی بات کرو وہ گھما پھرا کر بیا پہ لے ہی آتا ہے.” وہ ہلکا سا ہنسی تھی. ابیہا کو تذلیل کا احساس ہوا.
“اتنا ہمدرد انسان ہے وہ. مجھے تو تمہاری قسمت پہ رشک آتا ہے. تمہیں پتہ ہے میں اپنے ایک کلاس فیلو ظہیر کو پسند کرتی تھی وہ اتنا امیر نہیں ہے اسلیئے ممی اور بھائی نہیں مان رہے تھے. میں نے ولید کو اعتماد میں لیا تو اسنے سب سے پہلے ظہیر کے متعلق مکمل چھان بین کروائی. اور جب اسے اطمینان بخش معلومات حاصل ہوگئیں تو پھر ہم نے مل بیٹھ کر یہ ڈیسائید کرنا شروع کیا کہ ممی اور بھائی کو کیسے منانا ہے. ظہیر کے پاس اچھی جاب نہیں تھی ولی نے اسکو اپنے ایک دوست کے آفس میں کافی اچھی جاب دلوائی. اور پھر ممی اور بھائی کو رضامند کروانے میں بھی سارا ہاتھ اسی کا ہے.بیلیو می میں تو اسکی احسان مند ہوں.” جیسے جیسے علیشا بولتی جارہی تھی ابیہا کا دل ڈوبتا جارہا تھا. “انشاء اللّہ تم دونوں کی شادی کے بعد میرا اور ظہیر کا نکاح ہوگا.” علیشا مسکرائی تھی اور ابیہا تو شرمندگی کے سمندر میں غوطہ زن تھی. اسنے ولید پہ شک کرکے جو بیوقوفی کرڈالی تھی نجانے اب اسکا کیا انجام ہونا تھا. اسکا دل لرزنے لگا تھا.
———————-
مہندی کا فنکش اپنے عروج پہ تھا. رسم حنا ادا کی جا چکی تھی اور اب ولید کے کزنز ڈانس کی تیاریوں میں تھے. ابیہا اور ولید پیلے پھولوں سے سجے جھولے پہ برابر سےبراجمان تھے. ولید سادہ سی سفید شلوار قمیص میں بکھرے بالوں اور بڑھی ہوئی شیو کیساتھ بے حد شاندار لگ رہا تھا. جبکہ ابیہا کا چہرا پیلے دوپٹے کے گھونگھٹ کی اوٹ میں تھا.
ایک جانب ڈانس فلور بنایا گیا تھا جس پہ اس وقت ولید کے کزنز بھنگڑا ڈال رہے تھے اور لڑکیاں انکے گرد کھڑی ہوٹنگ کررہی تھیں. تیز میوزک اور ان سب منچلوں کے شور کی آواز کے باعث کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی.
“ولید.” اسنے ہمت کرکے اسے پکارا. وہ شور کے باعث یا تو سن نہ سکا تھا یا پھر سن کر بھی اگنور کرگیا تھا.
“آئیں ناں ولی بھیا.” روحینہ آکر اسے کھینچ کر لے گئی. ابیہا گھونگھٹ میں چھپی آنسو بہاتی رہی. ڈانس کے بعد ولید کو مائیک تھما دیا گیا اور سب لڑکے لڑکیاں اسے گانا سنانے پہ مجبور کرنے لگے. روحینہ اور علیشا ابیہا کا ہاتھ تھام کر اسے بھی ڈانس فلور پہ لے آئیں اور ولید کے برابر کھڑا کردیا. ابیہا گھبرائی ہوئی اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی. بقیہ تمام لوگ ڈانس فلور سے اتر گئے. ولید کے کزن شاھد نے گیٹار سنبھال لیا اور ولید مائیک میں گانے لگا.
آنکھوں کو آنکھوں نے جو سپنا دکھایا ہے
دیکھو کہیں ٹوٹ جائے نہ
اتنے زمانوں میں جو لوٹ کر آیا ہے
پھر کہیں روٹھ جائے نہ.
اسکی آواز میں بہت لوچ تھی.. درد تھا.. سارے مجمع پہ سکوت سا طاری ہوگیا تھا.
چہرے تمہارے پہ جو رنگ ہے بہار کا
پچھلی بہاروں میں نہ تھا
لہجے میں بولنے لگا ہے جو خمار سا
کل تک باتوں میں نہ تھا
وہ گاتے گاتے اسکے گرد ہی چل رہا تھا. ابیہا ان الفاظ کے اثر میں کھونے لگی.
پل دو پل دل ملنے کی بات ہے
راستے نکل آئینگے
وہ ایک لحظہ کو اسکے عقب میں رکا تھا. ابیہا کا دل دھڑکنے لگا.. وہ اسے ہی تو کہہ رہا تھا یہ سب..
بیتی ہوئی باتوں کا غبار دھل جائے گا
فاصلے سمٹ جائینگے
اسنے اسکا ہاتھ تھام مصرع مکمل کرکے اسکا ہاتھ چھوڑدیا تھا. ابیہا کے رگ جاں میں تقویت دوڑ گئ..وہ اسکا اپنا تھا.. اسکا محرم…
آنکھوں کو آنکھوں نے جو سپنا دکھایا ہے
دیکھو کہیں ٹوٹ جائے نہ
اتنے زمانوں میں جو لوٹ کر آیا ہے
پھر کہیں روٹھ جائے نہ
اب وہ پھر سے استائی دہراتا ہوا ڈانس فلور سے نیچے اتر گیا تھا. گانے کے احتتام پہ سب نے خوب تالیاں بجائی تھیں جبکہ ابیہا کا دل مزید بیچین ہوگیا تھا.
——————–
روایتی سرخ عروسی لباس میں مکمل دلہن بنی ابیہا کا روپ تو مانو آج چاند کو بھی شرما رہا تھا. اسنے آج بھی دوپٹہ سینے پہ پھیلا کر سر پہ سیٹ کروایا تھا بیوٹیشن نے کافی نخرے کئے تھے کہ اسطرح شرٹ پہ بنا کام چھپ جائیگا مگر وہ اپنی بات پہ ہی قائم رہی تھی. امی اور دادو نے اسکی خوب بلائیں لے ڈالی تھیں. وہ اس وقت برائیڈل روم میں اپنی کزنز کے جھرمٹ میں سر جھکائے بیٹھی تھی. گزشتہ رات اسنے اپنے بابل کے آنگن کے کونے کونے میں بکھری اپنی بچپن کی یادوں کو قطرہ قطرہ سمیٹا تھا.. امی کی گود میں سر رکھ کر انکی خوشبو کو جی بھر کے اپنی سانسوں میں اتارا تھا. اسکے دل میں ولید کی جانب سے ایک انجانا سا ڈر تھا نجانے وہ اسکو معاف بھی کریگا یا نہیں.. وہ بس اللّہ پہ بھروسا کئیے ہوئے تھی.
بارات آئی.. اور پھر کھانے کے بعد اسے اسٹیج پہ لاکر بٹھا دیا گیا. اس وقت اسکا چہرا سرخ جالی دار گھونگھٹ کی اوٹ میں تھا. نیہا اور اسکی خالہ زاد ثمینہ اسکے دائیں بائیں بیٹھ گئیں جبکہ باقی کزنز نے بھی اسٹیج کا گھیراؤ کرلیا. اپنے ڈھیر سارے کزنز کے نرغے میں چلتا ولید اسٹیج پہ آیا تو کرسی بٹھائی کی رسم شروع ہوئی.ابیہا نے کنکھیوں سے اپنے شریک حیات کیجانب دیکھا. آف وائیٹ شیروانی میں وہ کسی مغلیہ شہزادے کیطرح شاندار نظر آرہا تھا. اسکی آنکھوں میں چمک تھی اور چہرے پہ دل موہ لینے والی مسکراہٹ..
ابیہا کی کزنز خوب تاک تاک کر حملے کرہی تھیں تو ولید کی کزنز بھی کسی سے کم نہ تھیں. اور تو اور ولید خود بھی خوب زبانی وار کررہا تھا. بہرحال ایک طویل بحث کے بعد ولید کو ہی ہتھیار ڈالنے پڑے تھے اور بھاری نیگ کی ادائیگی کے بعد اسے اپنی زوجہ کے برابر بیٹھنے کی اجازت ملی تھی. ابیہا کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا.. ولید سب سے بہت باتیں کر رہا تھا.. ہنس رہا تھا.. مگر اپنے پہلو میں بیٹھی ابیہا کو اسنے مخاطب تک نہ کیا تھا.
بہرحال فنکشن کے اختتام پہ رخصتی کے وقت روایتی سا سماں بندھ گیا تھا اور روتی ہوئی ابیہا اپنے پیاروں سے گلے مل کر سب کو روتا چھوڑ کر اپنے پیا دیس سدھار گئی تھی.
—————-
رات کے بارہ بجے کا عمل تھا. کمرے کی فضا تازہ گلابوں کی مہک سے بوجھل سی ہورہی تھی. وہ کافی دیر سے اس جہازی سائز بیڈ پہ بیٹھی دھڑکتے دل کیساتھ وہ الفاظ ترتیب دینے کی کوشش کر رہی تھی جن سے اس نے ولید سے معافی مانگنی تھی. بارہ بج کر پانچ منٹ پر دروازہ کھلا تو وہ سر جھکا کر اور بالکل الرٹ ہوکے بیٹھ گئی. جلدی جلدی دل ہی دل میں درود شریف پڑھ لیا. ولید مناسب قدم اٹھاتا اسکے مقابل آبیٹھا. ابیہا کے مہندی رچے ہاتھ سرد پڑنے لگے.
“اسلام علیکم!” ولید کی دلکش آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی تو اس نے بمشکل سر کو موہوم سی جنبش دی. زبان تو جیسے گنگ ہی ہوگئی تھی.
“کیسی ہو¿” اسکا لہجہ و انداز بہت ہلکا پھلکا تھا.
“ٹھیک” وہ بشکل بولی.
“بہت اچھی لگ رہی ہو.” ولید نے اسکا سرد ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا. ابیہا نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا. ولید کا یہ نارمل سا رویہ اسکیلیئے حیران کن تھا. ولید نے جیب میں سے ایک مخملیں ڈبیہ نکالی اور اسے کھول کر اسمیں سے ایک طلائی چین نکالی جس کےبیچوں بیچ WALEED کے حروف کندہ تھے.
“پہنادوں¿” اس نے اس سے اجازت چاہی تو وہ کچھ بھی نہ بول سکی. ولید اٹھ کر اسکے برابر آبیٹھا اور نرمی سے اسے چین پہنانے لگا. ابیہا اسکا قرب پاکر بے حد کنفیوز ہونے لگی تھی.
‘اچھی ہے ناں¿” ولید نے چین کا لاک لگا کر مسکرا کے پوچھا. ابیہا نے سر جھکا کر اپنی سانسوں سے قریب ولید کے نام کو چمکتے دیکھا.
“صرف اپنا نام اسلیئے لکھوایا ہے تاکہ تمہاری سانسوں کے قریب بھی بس میں رہوں.” ولید نے فوراً وضاحت دی تھی. ابیہا نے اسکی جانب دیکھا. سیاہ آنکھوں میں صرف محبت تھی.
” آپ.. مجھ سے خفا نہیں ہیں.” اس نے ہمت کرکے پوچھا. ولید نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا.
“میں تم سے خفا نہیں ہوسکتا بیا.. ہاں مگر مجھے افسوس ہوا تھا تمہاری سوچ پہ.. لیکن بعد میں جب میں نے غیر جانبداری سے سوچا تو مجھے تم حق پہ لگیں. اور تبھی میں نے یہ ڈیسائیڈ کیا تھا کہ تمہیں وہ مقام ملنا چاہیئے جو ایک بیوی ہونے کے ناطے تمہارا حق ہے. بیا مجھے لگتا ہے کہ میں تم سے کتنی بھی محبت کرلوں مگر تم تب تک ان سیکیور رہوگی جب تک تمہیں میرا ساتھ میسر نہیں ہوگا.. اور اب میں جب تک ممکن ہوسکا تمہیں اپنے ساتھ ہی رکھوں گا. میں تمہیں اپنے ساتھ لاہور لیجانے کے سب انتظامات مکمل کر چکا ہوں. تمہاری یونیورسٹی سے مائیگریشن بھی آسانی سے ہوجائیگی. باقی کی تعلیم تم وہیں مکمل کروگی” وہ سنجیدہ لہنے میں بول رہا تھا. ابیہا کا دل ہلکا پھلکا ہونے لگا.
“ولید پتہ نہیں کیوں میں آپ پہ شک کرنے لگی تھی.. شاید اسکی وجہ میری بچپن کی ذہنی گرہ ہے.. میں نے کبھی خود کو قابل محبت و توجہ سجھا ہی نہیں. مجھے آپکی محبت پہ مسرت تو ہوتی تھی لیکن اعتبار نہیں تھا… تبھی تو جب امی دادو اور نیہا نے میرے سامنے شک کا آئینہ رکھا تو میں فوراً اس میں نظر آتے عکس پہ ایمان لے آئی تھی.” وہ اسکے سامنے اپنی کمزوری کا اعتراف کر رہی تھی. ولید نے شہادت کی انگلی سے اسکے ماتھے پہ سجی بندیا کو چھوا.
“آئی نو.. لیکن بیا.. میں تمہاری صورت سے نہیں تمہارے کردار کی پاکیزگی سے محبت کرتا ہوں. میرے نزدیک جس عورت میں حیا ہو وہ بیسٹ ہوتی ہے.. کیونکہ حیا ایک انمول خوبی ہے.” اسکا لہجہ یقین دلانے والا تھا. ابیہا کو یقین آنے لگا تھا. “میں تمہیں اسی لئے ساتھ لیجانا چاہتا ہوں تاکہ ہم ایک دوسرے پہ ٹرسٹ ڈویلپ کرسکیں. ایک دوسرے کو سمجھ سکیں.”
“آپ بہت اچھے ہیں.” وہ بے اختیار بولی تھی. ولید دھیرے سے ہنسا.
“اور تم بالکل چڑیل ہو.” وہ اسے چھیڑ رہا تھا. وہ مسکرادی. گال کا بھنور گہرا ہوا تھا. ولید نے انگشت شہادت سے اس بھنور کو محسوس کیا تھا.
“میں تمہیں بہت چاہتا ہوں بیا.. بہت زیادہ…” اسکی آواز بوجھل سی تھی. ابیہا نظریں جھکا گئی.
“جب تک سانسیں ہیں ولید حسن تمہارا ساتھ دیگا ابیہا.. ہاں مگر جب سانسیں ہی نہ رہیں..” ابیہا نے اسکے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا. “تب بھی آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گے.” اسکا لہجہ مضبوط تھا. ولید نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں لے لیا.
—————–
محبت ایسا دریا ہے
کہ بارش روٹھ بھی جائے
تو پانی کم نہیں ہوتا
———————
وہ گنگناتے ہوئے ڈائننگ ٹیبل پہ پر تکلف سی چائے کے لوازمات سجارہی تھی. شام کے سات بجنے والے تھے اور ولید بس گھر پہنچنے والا تھا. چائے کے لوازمات سیٹ کرکے وہ اپنے کمرے میں آئی اور آئینے کے سامنے آرکی. سبز رنگ کے سادہ سے شلوار قمیص میں وہ بہت نکھری نکھری سی نظر آرہی تھی. سادہ سا چہرہ دمک رہا تھا. اور لائٹ براؤن آنکھوں میں دائمی خوشیوں کا عکس تھا. اسنے اپنے لمبے بالوں کو کیچر سے آزاد کرکے پشت پہ کھلا چھوڑدیا اور ڈریسنگ ٹیبل سے گہرے سرخ رنگ کی لپ اسٹک اٹھا کر ہونٹوں پہ سجالی. پھر گھوم گھوم کر اپنا جائزہ لینے لگی. بظاہر کوئی تبدیلی نہ تھی مگر اپنے وجود میں سانس لیتی ایک نئی زندگی کا احساس اسے مسلسل مسکرانے پہ مجبور کررہا تھا. دفعتاً مین ڈور کھلنے کی آواز آئی اور پھر چند ہی ثانیے بعد فل آرمی یونیفارم میں تھکا ہارا سا ولید کمرے میں داخل ہوا تھا.
“اسلام علیکم!” اس نے پلٹ کر ایک چمکتی مسکراہٹ کیساتھ اسکا استقبال کیا تھا.
“وعلیکم السلام وائفی کیا حال ہے” اس کے چہرے سے ساری تھکن غاٰئب ہوگئی تھی.
“بالکل ٹھیک.” وہ مسکرا کر بولی. ولید نے آگے بڑھ کر اسے بانہوں میں بھر لیا تھا.
“یونیورسٹی سے کب آئی¿” وہ اس سے پوچھ رہا تھا
“دو بجے.” ابیہا نے اسکی بانہوں کے نرم حصار سے نکلتے ہوئے جواب دیا.
“کیسی لگ رہی ہوں¿” یہ اسکا روز کا سوال ہوتا تھا.
“بالکل وہ چڑیل لگ رہی ہو جو ابھی ابھی کسی انسان کا خون پی کر آئی ہو.” اسکا جواب بھی ہمیشہ یہی ہوتا تھا.
“آپکا خون ہی نہ پی لوں میں” اسنے اسکے شانے پہ دھپ لگائی. ولید نے اپنے ہولسٹر سے ریوالور نکال کر اسے تھمایا.
“بندہ حاضر ہے.” وہ سر خم کرکے شوخی سے بولا تو اسنے ہنستے ہوئے ریوالور ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھدیا.
“جلدی سے فریش ہو جائیں. چائے آپکے انتظار میں ٹھنڈی ہورہی ہے.”
“اوکے. اچھا بیا کل یونیورسٹی ذرا لیٹ چلی جانا صبح نو بجے تمہاری ڈاکٹر کیساتھ اپائنٹمنٹ ہے ڈرائیور بالکل وقت پر آجائیگا. آئم سوری کل تم اکیلی چلی جانا بٹ انشاء اللّہ نیکسٹ ٹائم میں تمہارے ساتھ چلوں گا.” اسنے اسکے بال سہلا کر پیار سے کہا تو وہ سر ہلا کر کمرے کے دروازے کیجانب بڑھی.
” ویسے آپ یونیفارم میں بہت ہینڈسم لگتے ہیں ولی.” وہ جاتے جاتے پلٹ کر بولی تو ولید دو قدم کا فاصلہ طے کرکے اسکے سامنے آرکا.
“اور تم اس ریڈ لپ اسٹک میں بہت ہاٹ لگتی ہو.” اپنی کیپ اسکے سر پر پہنا کر اسنے بائیں آنکھ دبا کر شرارت سے کہا تھا.
“فریش ہوجائیں جاکر.” اسنے اسے ہلکا سا دھکیلا تو وہ ہنستا ہوا باتھ روم کیجانب بڑھ گیا. ابیہا نے آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پہ نگاہ ڈالی.. وہ خاکی کیپ اسکا فخر تھی.. وہ مسکرادی.
گزشتہ چھ ماہ میں ولید کی محبت نے اسے سرتاپا بدل دیا تھا. اسکی ساری نارسائیاں اور مایوسیاں ختم ہوگئی تھیں. وہ ایک بااعتماد لڑکی بن گئی تھی.. ولید کی محبت ایک ایسا دریا تھی جس کو کسی برسات کی حاجت نہ تھی.. یہ دریا تو ہر پل جل تھل رہتا تھا.. اور اس بے پایاں محبت کے ذخیرے نے ابیہا کاظم کی روح تک کو سیراب کرڈالا تھا. ولید حسن اسکی خوش بختی تھا.. اسکی روح کا ساتھی تھا.. ابیہا نے اس خاکی کیپ کو اپنے سر سے اتار کر سینے سے بھینچا اور دل سے مسکرادی.

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: