Muhabbat Or Sakoon Novel By Usama Ansari – Episode 1

0
محبت اور سکون از اسامہ انصاری – قسط نمبر 1

–**–**–

زندگی کیا ہے؟ یہ ہے جہاں اب ہم ہیں یا وہ ہیں جہاں ہم بعد میں ہونگے. کتنا ضروری سمجھتے ہیں نا لوگ کہ ہماری زندگی میں بھی ایک حسینہ ہو. چاہے ان کی قدر کریں یا نہ کریں وہ لوگ بس وہ یہ چاہتے ہیں کہ حسینہ ہو.اب حسینہ مل بھی جائے اس کا شروع شروع میں خیال رکھیں گے وہ بھی ان کا خیال رکھیں گی وقت گزرتا رہے گا باتیں ہوتی رہیں گی اور جب شادی کا پوچھا جائے گا تو جواب ہوگا رک جاؤ ابھی میں جاب ڈھونڈھ رہا ہوں اور حسینہ جی کہیں گی کہ بس دعا کرو گھر والے مان جائیں آپکو تو پتہ ہی ہے میرے بابا کی کتنی عزت ہے ہمارے علاقے میں. اب بندہ پوچھے جب محبت کرنے لگی تھی تب بابا کی عزت نہیں کرتے تھے لوگ یا جب سے تم نے محبت کی ہے بابا کی عزت بڑھ گئی ہے. پھر ایک اور جواب ملتا ہے “محبت کونسا بتا کر ہوتی ہے ایک عزت دیتا ہے دوسرے کو وہ عزت راس آتی ہے اور محبت ہوجاتی ہے”
مجھے نفرت ہے ایسی محبت سے جو صرف اس بات کو دیکھ کہ کی جائے کہ وہ شخص تمھاری عزت کرتا ہے صرف تمھاری عزت کرتا ہے.چاہے تمھاری پیٹھ پیچھے تم پر ہنستا ہو وہ کہ دیکھو بیوقوف بنارہا ہوں میں اس لڑکی کو.وہ تمھاری فیملی کی عزت نہیں کرتا جس کے لیے تم یہ کہتی ہو کہ میرے بابا کی عزت ہے علاقے میں ارے وہ کیا عزت رکھے گا جو عزت کرے ہی نا! خیر ہم کسی کی معاملے میں کیوں پڑیں ہم ایک کو سمجھائیں کہ عزت اس طرح کرو تو سو لوگ ہمیں صرف یہ بتانیں کھڑے ہوتیں ہیں کہ بھائی عزت کرنے میں رکھا ہی کیا ہے جب تک اگلا شخص پاگل بن رہا ہے اسے پاگل بناؤ. تالاب میں جو پانی ہوتا ہے نا! وہ اس وقت تک بادشاہ ہوتا ہے جب تک اس کے اندر مچھلیاں نہ چھوڑی جائیں اور جب اس کے اندر مچھلیاں چھوڑ دیں جاتی ہیں تو وہ سارا تالاب گندا کردیتی ہیں اب جس پانی کی عزت تھی جس پانی کو غرور تھا کہ میں صاف ہوں وہ دنیا سے نظریں چھپا لیتا ہے وہ خود کو صاف کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا. اس لیے دیکھنے والے یہ نہیں کہتے کہ اس تالاب کا پانی اچھا ہے بلکہ وہ یہ کہتے ہیں دیکھو اس تالاب میں مچھلیاں کتنی پیاری ہیں. اس لیے آپ کسی کو کچھ نہ سمجھاؤ جو کوئی جو کچھ کرتا ہے اسے کرنے دو بس آپ یہ دیکھو کہ وہ کب تک کوئی کام کرسکتا ہے. غلط انسان ایک نہ ایک دن پکڑا ہی جائے گا چاہے وہ کتنا ہی اچھا دکھتا ہو. لیکن کبھی کبھی کچھ خاص لوگوں کو اللّٰه پاک کی طرف سے کچھ خاص تحفہ ملتا ہے جسے “دوست” کہا جاتا ہے یہ ماں باپ کے بعد وہ خاص نعمت ہے جو انسان کو خاک سے آسمان اور آسمان سے خاک پہ لاتے ہیں لیکن جیسے بھی ہوتے ہیں جب تک ساتھ رہتے ہیں زندگی اچھی رہتی ہے. اگر میرے دوستوں کی بات کی جائے تو میں ان کے لیے یہ ہی کہوں گا “تم پنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے” یہ کہانی ایک ایسے انسان کی ہے جسے کبھی پتا ہی نہیں تھا کہ سکون کیا ہے؟ سكون كسے کہتے ہیں؟ سكون کیسے ہوتا ہے؟ ایک امیر زادہ لڑکا جسے دولت اور شہرت پر ناز ہے. جس کے تین دوست ہیں جو دھوکے کو محبت سمجھتا ہے جس جی عمر ابھی بیس بھی نہیں لیکن محبت کا پوچھ لو تو جناب کہتے ہیں
“تم محبت کی بات کرتے ہو”
“ہم تو کئی محبتوں سے بات کرتیں ہیں”
ایک ایسا لڑکا جو گانا بجانا پارٹیاں لوگوں کو تنگ کرنا
ایسی چیزوں میں سکون حاصل کرتا ہو تو سوچو جب وہ
اپنا ماتھا اس رب کے آگے جھکائے گا
آنکھوں میں آنسوں ہونگے
دل میں خوفِ خدا
اور لب پر ایک ہی دعا
میں بھولنا چاہتا ہوں
اس وقت جو سکون کو وہ محسوس کررہا ہوگا اس حقیقی سکون کہتے ہیں. وہ کہتے ہیں نا
“بیشک دلوں کا اطمینان اللّٰه کے ذکر میں ہے”
لوگ حقیقی کو سمجھنے کے لیے مجازی سے دل لگاتے ہیں
اور جب دل ٹوٹ جاتا ہے تو کہتے ہیں مجھے مکافات کا انتظار ہے لیکن طلب پھر اسی شخص کی ہوتی ہے اور عاؤں میں اسے مانگتے بھی ہیں اور جب یقین ہوجائے کہ اب وہ نہیں ملے گا تو دعا کرتے ہیں اور معافیاں مانگتے ہیں جب انہیں عبادت میں سکون ملنے لگے تو وہ پھر کسی اور کا دعا میں اظہار کرتے ہیں..
علی رات 2 بجے کسی لڑکی کے ساتھ بات کررہا تھا کہ اچانک اس کو کسی نمبر سے فون آیا اس نے کال اٹھائی تو وہ کسی لڑکی کی آواز تھی جو علی کو یہ کہہ رہی تھی “علی تم نے یہ اچھا نہیں کیا تم نے میرے جذبات کے ساتھ کھیلا ہے میں نے تم سے سچی محبت کی تھی اور تم نے میرے دل کو توڑا ہے تم کبھی خوش نہیں رہو گے. تمھیں اپنی دولت اور شہرت پر بہت غرور ہے نا! تم دیکھنا جس دن تمھیں کسی سے سچی محبت ہوگی نا! تب تمھیں پتا چلے گا کہ تم نے کسے کھویا ہے اور کسے پایا ہے. علی خدا کا واسطہ عورتوں کی عزت کرو تم بھی کسی رانی کے بیٹے ہو. تم بھی کسی شہزادی کے بھائی ہو. تم بھی کسی رحمت کے باپ بنوں گے ایسے کسی کے جذبات سے نہیں کھیلتے. میری تمام باتیں یاد رکھنا وہ رب تمھیں برباد کردے گا” علی یہ باتیں سن کر ہنس پڑا اور زور زور سے قہقہے لگانے لگا اور کہا دعا جو خدا تمھارا ہے وہی میرا ہے تم اس سے جو مانگو وہ تمھیں دے گا اور جو میں مانگو گا وہ مجھے دے گا. دعا نے کہا ” علی دیتا تو سب کو ہے لیکن لوگ برباد کردیتے ہیں اس کی دی ہوئی چیز کو لوگ قدر نہیں کرتے مجھے جو چیز ملی تھی میں اس کی قدر کرتی رہی لیکن اس انسان نے مجھے کھلونا سمجھ کر کھیلنا شروع کردیا. خیر اپنا خیال رکھنا اور آئندہ کسی کے جذبات سے نہ کھیلنا” علی نے کہا “دفعہ ہوجاؤ اب دوبارہ فون نہ کرنا مجھے یہ کہہ کر کال بند کردی. علی پھر اسی لڑکی سے باتیں کرنے لگ گیا اور اسے کہنے لگا کہ ہماری شادی بہت دھوم دھام سے ہوگی ہم اتنا سونا دیں گے گاڑی میں گھوما کرو گی اپ اور وہ کہتے ہیں نا کہ کچھ لڑکیاں بھی لالچی ہوتی ہیں جو انسان سے نہیں اس کے پیسوں سے پیار کرتی ہیں. یہ لڑکی بھی انہیں لڑکیوں میں سے ایک تھی جو علی سے صرف اس لیے پیار کرتی تھی کہ وہ پیسوں والا تھا لیکن اس لڑکی کو یہ نہیں پتا تھا جس لڑکے سے وہ بات کرتی ہے اس لڑکے نے کئی لڑکیوں کو شادی کے جھوٹے لارے لگائے ہوئے ہیں. علی اس سے بات کررہا تھا کہ فجر کی آذان کی آواز اس کے کانوں میں آئی اور اس نے لڑکی کو کہا کہ میں نماز پڑھ لوں کل بات ہوگی اب یہ کہہ کر اس نے موبائل بند کیا اور سوگیا بغیر نماز پڑھے اسے یہ نہیں پتا تھا کہ اللّٰه پاک نے اسے ڈھیلا چھوڑا ہوا ہے جب وہ رسی کو مضبوط کردے گا تو علی جیسے کافی لڑکے رو رو کر مسجد میں بھاگیں گے. علی صبح 9 بجے اٹھ کر آیا تو اس کی ماں نے کہا بیٹا! نماز پڑھ لی تھی فجر کی؟ علی نے کہا جی میں پڑھ کر سوگیا تھا ماں یہ سن کر بہت خوش ہوئی اور اس کے باپ سے کہا دیکھو میرا بیٹا کتنا نیک ہے. علی نے کہا ناشتہ لگا دو میں یونیورسٹی جاؤنگا لیٹ ہورہا ہوں ناشتہ کرنے کے بعد وہ یونیورسٹی کے لیے تیار ہونے لگ گیا اور تیار ہو کر اس نے اپنے دوست کو فون کیا اور کہا میں آرہا ہوں پھر کہیں فلم دیکھنے جائیں گے. اس نے کہا تو آجا بھائی ہم انتظار کررہے ہیں. علی یونیورسٹی گیا اور کلاس روم میں جانے کی بجائے کنٹین پر بیٹھ گیا جہاں لڑکیاں اس کے پاس آکر بیٹھ گئیں اور ان سے باتیں کرنے لگ گیا اتنی دیر میں اس کے دوست آگئے اور کہا: بھائی کیسا ہے تو؟ علی نے کہا مزے میں ہوں تم سناؤ انہوں نے کہا ہم بھی ٹھیک ہیں. ویسے تو علی یونیورسٹی میں کافی لڑکوں اور لڑکیوں سے دوستی رکھتا تھا لیکن اس کے 3 دوست ایسے تھے جو علی کو اپنی جان سے ذیادہ مانتے تھے لیکن علی بدتمیز تھا وہ ان تینوں کو بھی دوسرے دوستوں کی طرح سمجھتا تھا اس کے دوستوں میں نعمان، رحمان اور اعظم تھے جو علی کو خاص سمجھتے تھے اور علی کی ہر بات سے واقف تھے وہ تینوں پڑھنے والے بچے تھے اور ہر امتحان میں اچھے نمبر لیتے تھے وہ تینوں بھی علی کی طرح پیسوں والے تھے لیکن علی کی طرح بالکل نہیں تھے. وہ علی کیساتھ فلم دیکھنے چلے گئے اور اس کے ساتھ ہی تھے وہ چاروں دوست علی کی جیپ میں بیٹھے تھے کہ کسی سائیکل والے نے ان کی جیپ میں سائیکل ماردی کیونکہ علی نے جیپ غلط جگہ کھڑی کی تھی علی نے جیپ سے اتر کر اس شخص کو گریبان سے پکڑ لیا وہ کوئی بزرگ تھا اور حلیے سے کسی مسجد کا امام لگتا تھا علی نے اس بزرگ کے منہ پر تھپڑ ماردیا اس بات پر باقی تینوں نے علی کو دھکا دیا اور کہا شرم کر دیکھ تو وہ تجھ سے کتنے بڑے ہیں علی نے ان سے بھی بدتمیزی کی اور انہیں وہاں چھوڑ کر چلا گیا ان تینوں نے بزرگ سے معاگی مانگی اور کہا ہمارا دوست بہت بدتمیز ہے ہم اتنے سالوں سے اس کے ساتھ ہیں لیکن کبھی اس کی حرکتوں سے اسے باز نہیں کرواسکے اس بات پر بزرگ نے کہا “بیٹا وہ لڑکا ابھی رب سے غافل ہے اسے ابھی اپنی شہرت دولت پر ناز ہے جس دن وہ رب کی پکڑ میں آگیا تب اسے پتا چلے گا کہ وہ پیدا کیوں ہوا ہے؟
———————-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: