Muhabbat Or Sakoon Novel By Usama Ansari – Episode 2

0
محبت اور سکون از اسامہ انصاری – قسط نمبر 2

–**–**–

علی وہاں سے گھر آگیا اور غصّے میں اپنے کمرے میں چلا گیا اتنے دیر میں اس کی ماں کی آواز آئی “علی کھانا لگانے لگی ہوں جلدی آجاؤ” ماں کی آواز سن کر علی نے چِلا کر کہا ” میں نہیں آؤنگا خود کھا لو” علی کی ماں نے جب یہ رویہ دیکھا تو انہیں بالکل افسوس نہ ہوا کیونکہ یہ علی کا روز کا کام تھا. علی کی فیملی میں 4 لوگ تھے ایک اس کے والد صاحب جو انڈسٹریل تھے اس کی ماں اور اس کی ایک بہن جو علی کی ہم عمر ہی تھی اس کے ماں باپ نیک انسان تھے جنہوں نے اپنی زندگی اللّٰه کے لیے وقف کردی تھی علی کہ بہن بھی علی کی طرح ہی تھی جس طرح کی صحبت علی کی تھی وہ بھی اسی مزاج کی مالکن تھی. علی رات کو لڑکیوں سے بات کررہا تھا کہ اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکا. علی نے پوچھا کون! آواز آئی اوئے دروازہ کھول رمشاء ہوں. علی کی بہن کا نام تھا. علی نے دروازہ کھولا اور پوچھا کیا کام ہے اس نے کہا میں نے آج تجھے کسی بزرگ کو مارتے ہوئے دیکھا اگر یہ بابا دیکھ لیتے پتا ہے نا کیا حال کرتے تیرا. علی نے کہا غلطی اس کی تھی اور ساری بات بتائی یہ بات سن کر دونوں ہنسنے لگ گئے اور رمشاء نے کہا ٹھیک کیا تو نے ایسا ہی ہونا چاہیے تھا اس بڈھے کیساتھ اور سنا کس سے بات کررہا ہے. علی نے کہا تیری بھابھیوں سے کر رہا ہوں. رمشاء نے کہا چل ٹھیک ہے کر لے تو بات میں چلی. علی ان سے باتیں کرنے میں مصروف ہوگیا اور روز کی طرح نماز کا کہہ کر سوگیا. جب وہ صبح یونیورسٹی گیا تو وہ تینوں دوست اس سے ناراض تھے. اس نے بھی کسی سے بات نہیں کی اور منہ پھیر کر دوسرے لڑکوں کے پاس چلا گیا اور وہاں جاکر سگریٹ پینا شروع کردی.( سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے) علی نے ان کڑکوں کل والا واقع بتایا ان لڑکوں میں سے ایک نے ہاکی پکڑی اور ان تینوں کو مارنے چلا گیا جیسے ہی اس نے نعمان کو مارنے کے کیے ہاکی اٹھائی تو اعظم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا تو یہ دیکھ کے جس کو تو مارنے لگا ہے وہ ہمارا دوست ہے اور اس سے ہاکی چھین کر پھینک دی. اعظم کی جسامت بھاری تھی اور وہ پاک فوج میں جانے کا عزم رکھتا تھا. علی وہاں آیا اور کہا بھائیوں ہمارٹ ساتھ یہاں تک ہی تھا اب ہم دوست نہیں ہیں. انہوں نے کہا تو غصے میں ہے جب ہوش میں آجائے تب بات کریں گے علی نے کہا میں ہوش میں ہی ہوں. انہوں نے کہا ٹھیک ہے اور وہ چلے گئے. ان تینوں کو علی کی فکر رہتی تھی کیونکہ وہ جن لڑکوں کے ساتھ تھا وہ اچھے نہیں تھے اور ان کی صحبت بھی بہت بری تھی وہ ہر قسم کا نشہ کرتے تھے. ایک دن وہ کلاس لے رہے تھے کہ ان کی کلاس میں ایک لڑکی آئی جس نے نقاب کیا ہوا تھا. جیسے ہی وہ کلاس میں داخل ہوئی علی اور اس کے ساتھ والوں نے ہوٹنگ کرنا شروع کردی. وہ گھبرا گئی اور ٹیچر کو اپنا تعارف کروایا. اس لڑکی کا نام ارم تھا. جو نہایت سادہ مزاج لڑکی تھی. دیکھنے وہ شریف خاندان کی معلوم ہوتی تھی. علی آخری بینچ پر بیٹھا تھا اور اونچی آواز میں کہا” سوہنیوں ادھر آ کر بیٹھ جاؤ” اور ہنسنے لگ گئے اعظم کو یہ بات ناگوار گزری اور کہا علی شرم کر نئی لڑکی ہے. علی نے کہا تجھے کیا مسئلہ ہے تیری بہن ہے کیا. اعظم کو اس کی بات پر اتنا ذیادہ غصہ آیا وہ علی کو مارنے کھڑا ہونا لگا تو نعمان نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا بھائی غصہ نہ کر ان بزرگ کی بات یاد ہے نا تجھے! چھوڑ اسے اپنا کام کرتے ہیں اور وہ لڑکی اعظم کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی علی نے کہا اعظم یہاں سے اٹھ ہمیں نظر نہیں آرہی. اعظم نے کہا دفعہ ہو تو. علی نے جیسا ہی یہ سنا وہ اٹھ کر آیا اور اعظم کو تھپڑ مارا علی کے پیچھے اس کے دوست بھی آگئے اور مار پیٹ شروع کردی جیسے ہی اعظم نے ان میں سے ایک پر ہاتھ اٹھایا باقی بھاگ گئے. نعمان نے علی سے کہا یہ دوست ہیں تیرے؟ جو ایک تھپڑ کی آواز سن کر بھاگ گئے. علی بھی وہاں سے چلا گیا یونیورسٹی کے بعد وہ کلاس سے نکلے اعظم نے ارم کو آواز دی اور کہا “آپی بات سنیں! میرے پاس ہر چیز ہے ہر خوشی ہے ہر قسم کا سکون ہے لیکن ایک بہن کی کمی ہے اگر برا نا مانو تو میری بہن بنوں گی؟ ارم نے کہا ” اعظم بھائی میرا بھی یہاں آنے سے پہلے کوئی بھائی نہیں تھا اب تین بھائی ہیں.” وہ تینوں یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور کہا اب کے بعد آپ کو جہاں بھی جب بھی ہماری ضرورت ہو ہم آپ کے کیے جان تک دیں گے. ارم بہت خوش ہوئی اور جانے لگی نعمان ارم کے آگے چلنے لگا اعظم اور رحمان ارم کے دائیں بائیں چلنے لگے ارم بہت خوش ہوئی. گھر جا کر علی نے پھر غصہ کیا اور اپنی ماں کے ساتھ بدتمیزی کی اس کی ماں نے کہا بیٹا اللّٰه سے ڈر. علی نے کہا آپ دعا کریں اپنے خدا سے میری موت کی اور میں دعا مانگتا ہوں اپنی زندگی کی دیکھیں گے کہ کس کی قبول ہوگی اس کی ماں نے کہا”
بیٹا کس غلط فہمی میں جی رہا ہے تو میری اولاد ہے میں کیوں بددعا دوں تجھے ایک بات دھیان میں رکھ لے ماں کی دعائیں عرش ہلا دہتی ہیں” علی ہنسا اور چلا گیا. ایک دن ارم اور وہ تینوں دوست کلاس روم میں بیٹھے تھے تو اعظم نے کہا! آپی آپ نقاب کیوں نہیں ہٹاتی اپنا؟ ارم نے کہا میرے ماں باپ کے بعد میرا چہرہ جو دیکھے گا وہ میرا شوہر ہوگا. وہ تینوں کو بہت خوشی ہوئی اور اعظم نے کہا ہم کبھی آپ کو اس بات کا نہیں کہیں گے کہ آپ اپنا نقاب ہٹاؤ لیکن اگر آپ اس بات سے ڈرتی ہو کہ کوئی یونیورسٹی میں آپ کو چھیڑے گا تو اس بات کی فکر نہ کرو جب تک آپ کے بھائی ہیں وہ کبھی آپ کو کچھ نہیں ہونے دیں گے. ارم نے کہا اللّٰه آپ تینوں کو لمبی عمر دے.
علی اب تو پہلے سے بھی بہت بدل گیا تھا. اس نے دوستوں کے ساتھ نشہ کرنا شروع کردیا تھا. ایک دن وہ تینوں دوست یونیورسٹی کے گیٹ کے پاس کھڑے تھی کہ علی کی والدہ وہاں آگئیں. وہ ان تینوں کو دیکھ کر گاڑی سے اتری اور کہا کہ بیٹوں یہاں کیوں کھڑے ہو اور علی کہاں ہے؟ ان تینوں نے اپنا سر نیچا کر لیا اور رحمان نے کہا ماں جی! ہماری لڑائی ہوگئی اور علی اب ہم سے نہیں ملتا. علی کی والدہ نے کہا اب وہ کہاں ہے؟ انہوں نے علی کو بچانے کی خاطر کہا وہ کلاس لے رہا ہے وہ نہیں آسکتا. اس کی والدہ نے کہا ٹھیک ہے. وہ جانے ہی لگی تھی کہ اتنی دیر میں علی نشے کی حالت میں اپنی جیپ میں تیز رفتار سے یونیورسٹی کی طرف آرہا تھا. علی کی جیپ کی رفتار اتنی تیز تھی کہ اس کی ماں کا ایکسیڈینٹ ہوگیا اور علی کو کوئی ہوش نہیں کہ کیا ہوا ہے. ان تینوم دوست نے علی کی ماں کی کار میں بٹھایا اور فورًا ہسپتال لے گئے. انہیں خون کی ضرورت تھی اعظم نے اپنا خون دیا اتنی دیر میں علی کے والد اور آپی وہاں آگئے. اعظم نے سارا وقعہ بتایا تو علی کی بہن نے علی کی حمایت کرتے ہوئے کہا علی نہیں ہوگا کوئی اور ہوگا. علی جب ہسپتال پہنچا تو ان تینوں کو وہاں دیکھ کر غصے میں آگیا اور کہا یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے دفعہ ہو جاؤ. وہ وہاں سء چپ کرکے آگئے. کچھ دنوں تک وہ تینوں یونیورسٹی نہیں گئے. علی کی والدہ پہلے سے کافی بہتر ہوگئی تھی اور علی سے بات تک نہیں کرتی تھی اور علی کو اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی. دو ماہ بعد اعظم اور دونوں دوست یونیورسٹی گئے تو ارم بہت خوش ہوئی. ارم نے اتنے دن غائب رہنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بات کو ٹال دیا. علی ایک دن سو رہا تھا کہ اچانک اس خواب آیا” کہ اٹھ جا بیٹا نماز کا وقت ہے نماز پڑھ لے”وہ غالباً كوئی بزرگ تھا جو علی کے خواب میں آیا تھا. علی اٹھا اور ٹہلنے لگ گیا. علی کو بہت بے چینی ہو رہی تھی کہ یہ کیا ہوا میرا ساتھ. علی کو روزانہ عجیب قسم کے خواب آنے لگے. علی نے اپنے دوستوں سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا پاگل ہوگیا تو. تو نے اتنے دنوں سے نشہ نہیں کیا یہ اس کا ہی اثر ہے. علی وہاں سے اٹھ کر آگیا. علی کلاس روم میں بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا کہ مریم اور اس کے تینوں دوست آگئے. اعظم نے جب علی کو دیکھا وہ بہت حیران ہوا اور اس کے پاس جاکر بیٹھ گیا. اعظم نے علی کو سلام کہا علی نے بھی جواب دیا اعظم نے اداسی کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کچھ مسئلہ نہیں ہے. یہ کہہ کر وہ چلا گیا. اعظم کو اس کی بہت فکر ہونے لگ گئی کہ ضرور اس کے ساتھ کچھ ہورہا ہے یہ بتا نہیں رہا. اعظم نے باقی دونوں کی بھی یہ بات بتائی وہ تینوں غصے میں ان نشہ آور لڑکوں کے پاس چلے گئے اور انہیں سختی سے منع کردیا آئندہ علی کے پاس مت جانا. علی کہ بہن اپنی سہیلیوں کے ساتھ بازار میں گھوم رہی تھی کہ کچھ لڑکے علی کی بہن کو تنگ کرنے لگے اس کی بہن نے کہا خبردار مجھے ہاتھ لگایا. میرے بھائی کو پتا لگ گیا تو وہ تمھیں چھوڑے گا نہیں. وہ ہنسنے لگ گئے اور کہا چل بلا اپنے بھائی کو. اس نے علی کو فون کیا تو علی کا نمبر بند جارہا تھا. اس نے اعظم کو فون کیا اور اسے ساری بات بتائی اعظم وہاں پہنچ گیا باقی دونوں دوستوں کے ساتھ. جب وہ وہاں گئے تو انہوں نے دیکھا کہ یہ وہی لڑکے ہیں جو علی کے دوست بنے ہوئے تھے وہ بھی اعظم کو دیکھ کر بھاگ گئے جب یہ بات علی کو پتا چلی تو وہ اعظم وغیرہ کے ساتھ ان لڑکوں سے لڑنے چلا گیا. وہ چاروں ان لڑکوں سے لڑ کر آگئے اور انہیں پولیس کے حوالے کر دیا. اس بات سے علی اور اس کی بہن اتنا شرمندہ ہوئے. کہ وہ ان سے معافیاں مانگنے لگ گئے. اب وہ دونوں بہن بھائی پہلے سے بہت بدل گئے تھے. علی نے اپنی ماں سے بھی معافی مانگی. اس کی ماں نے کہا اب میرا اچھا بیٹا بننا. علی کو ابھی وہ خواب آنا بند نہیں ہوئے تھی اس نے اعظم کو ساری بات بتائی. اعظم اسے اپنے ساتھ نماز پڑھنے مسجد میں لے گیا. علی نے وضو کیا اور نماز پڑھنے لگ گیا جیسے ہی اس نے اپنا ماتھا سجدہ کرنے کے لیے زمین پر رکھا. علی بیہوش ہوگیا. نماز ختم کرنے کے بعد اعظم نے اسے ہلایا تو وہ بیہوش تھا. اعظم نے اس کے منہ پر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں آگیا اور گھر چلا گیا. یونیورسٹی ختم ہونے والی تھی ان کا آخری مہینہ تھا. ایک دن ارم اپنا نقاب اتار کر حجاب میں یونیورسٹی آئی. جیسے ہی وہ گیٹ سے اندر داخل ہوئی. تو کوئی لڑکا یا لڑکے ایسی نہیں تھی جس نے ارم کی طرف نی دیکھا ہو. لڑکیاں اس بات سے جل رہی تھیں کہ ہمارے عاشق بھی اسے دیکھ رہے ہیں اور جو لڑکا اسے دیکھتا وہ یہ ہی کہتا! ماشاءاللّٰه . جب وہ کلاس روم میں داخل ہوئی تو علی اور وہ تینوں دیکھ کر حیران ہوگئے کہ یہ کون ہے؟ جب وہ اعظم کے پاس آئی اور کہا! بھائی بتاؤ کیسی لگ رہی ہوں نقاب کے بغیر؟ اعظم نے کہا ماشاءاللّٰه بہت پیاری لگ رہی ہو. علی نے ارم سے بھی معافی مانگی اپنی بدتمیزی کے لیے اور ارم نے اسے معاف کردیا. علی کو ارم بہت پسند آئی اور شاید وہ پہلی اور آخری لڑکی تھی جو علی کے دل میں گھس گئی تھی. علی نے اسی رات ہی باقی تمام لڑکیوں کو بلاک کردیا. اور اللّٰه سے معافی مانگ کر کہا کہ آج کے بعد کسی لڑکی کی تمنا نہیں کرونگا. بس ارم کو میرے نام کردے. اب ان سب کی زندگی بہت اچھی گزرنے لگی.
…………

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: