Muhabbat Or Sakoon Novel By Usama Ansari – Episode 3

0
محبت اور سکون از اسامہ انصاری – قسط نمبر 3

–**–**–

علی ایک دن پارک میں بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا کہ اسے اچانک ارم کا خیال آیا اور وہ مسکرانے لگ گیا. وہاں ایک بزرگ بیٹھے تھے انہوں نے کہا! بیٹا محبوب کو سوچ رہے ہو؟ علی نے کہا جناب محبوب نہیں ہے اچھی دوست ہے. بزرگ نے کہا جب دوست دور رہ کر آپ کی مسکراہٹ کا سبب بن جائے تو وہ دوست نہیں محبوب بن جاتا ہے. علی وہاں سے اٹھ کر گھر آگیا. علی کو کبھی بزرگ کی باتیں یاد آتی تو کبھی ارم کا چہرہ نظر آتا. علی مسلسل مسکرا رہا تھا کہ اتنی دیر میں اس کی والدہ آگئی. علی ان کے احترام میں کھڑا ہوگیا. علی کی والدہ نے کہا! میں نے زندگی میں پہلی بار اپنے بچے کی یہ مسکراہٹ دیکھی ہے. اس مسکراہٹ کی وجہ کون ہے ؟ علی نے کہا ایسی کوئی بات نہیں بس دوستوں کی باتیں یاد آرہی تھی. علی کی ماں نے کہا! مجھے سچ سچ بتاؤ کیا تمھیں ارم پسند ہے؟ علی پھر مسکرادیا اور کہا وہ صرف میری دوست ہے. اس کی ماں نے کہا! بیٹا میں خود تو کبھی اس سے ملی نہیں ہوں لیکن تم سے اور تمھارے دوستوں کی باتوں سے لگتا ہے وہ بہت ہی اچھی ہے. دیکھو بیٹا اگر وہ واقعی اچھی ہے تو کبھی اس کی دل مت توڑنا. اسے کبھی دوسری لڑکیوں جیسا مت سمجھنا. علی نے اپنی ماں سے اجازت لی اور دوستوں کو ملنے چلا گیا. وہ چاروں دوست ایک ریستوران چلے گئے. علی نے اعظم سے پوچھا یار ارم کے بارے میں اور کیا جانتے ہو. وہ کیسی ہے. کہاں رہتی ہے. اس کی فیملی کیسی ہے؟ اعظم نے کہا علی بھائی کیا بات ہوگئی. علی نے کہا یار کوئی بات نہیں. تم کھانا کھاؤ میں چلتا ہوں اور علی وہاں سے آگیا. علی پھر اس بزرگ سے ملنے پارک چلا گیا. جب وہ پارک گیا تو اس نے دیکھا کہ ارم اپنی سہیلیوں کیساتھ پارک میں غریب لوگوں کو کھانا کھلارہی تھی. علی اس کو دیکھ کر مسکرارہا تھا کہ وہ بزرگ علی کے پاس آیا اور کہا؟ محبوب جب سامنے ہو تو اسے دیکھتے ہی نہیں بلکہ اس کی حفاظت بھی کرتے ہیں. اس کا چہرہ غور سے دیکھو! کیا وہ تمھیں پریشان نہیں لگ رہی؟ علی نے کہا جی بابا جی لگ رہی ہے. لیکن اس خوش مزاج لڑکی کو کون سی پریشانی ہوسکتی ہے؟ بزرگ نے کیا پریشانی وہ لڑکے ہیں. بزرگ نے کچھ لڑکوں کی طرف اشارہ کیا. علی نے کہا مطلب؟ بزرگ نے کہا مجھے اس پارک میں رہتے 7 سال ہوگئے اور وہ لڑکی میرے یہاں رہنے سے پہلے اس پارک میں بھوکوں کو کھانا کھلاتی ہے. لیکن میں دیکھ رہاں ہوں کچھ دنوں سے یہ لڑکے اس بچی کو بہت تنگ کرتے ہیں. کل تو انہوں نے حد ہی کردی. اس بچی کا ہاتھ پکڑ کر اسے ان کیساتھ جانے کو کہہ رہے تھے لیکن جیسے تیسے وہ وہاں سے بچ کر نکل گئی. علی نے جب یہ بات سنی تو اس سے رہا نہ گیا اور وہ ارم کے پاس چلا گیا. ارم نے جب اسے دیکھا تو کہا! علی آپ یہاں کیا کررہے ہیں؟ علی نے کہا کچھ نہیں یہاں سے گزرہا تھا. علی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا چلو میرے ساتھ یہ کہہ کر وہ ان لڑکوں کے پاس لے گیا اور ارم سے کہا ان میں سے کس نے تمھارا ہاتھ پکڑا تھا؟ ارم نے کہا مط……مطلب؟ علی نے کہا کس نے ہاتھ پکڑا تھا جب علی نے منہ سے الفاظ نکالے تو پیچھے سے ایک لڑکا آیا اور کہا! ہاں علی تو آگیا آج تو اکیلا ہے تو کہاں ہیں تیرے تین اور چمچے؟ یہ وہ ہی لڑکا تھا جس نے علی کو بری صحبت میں ڈالا تھا. اس نے کہا میں نے ہاتھ پکڑا تھا. کیا کر لے گا تو اکیلا؟ علی نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا. اور باقی لڑکوں نے علی کو پکڑ لیا. علی نے ہاتھا پائی شروع کردی. ارم نے اعظم کو فون کیا اور اسے بتایا کہ علی کی پارک میں لڑائی ہوگئی ہے. اعظم اور دونوں دوست وہاں سے نکلے. اس لڑکے نے پستول نکال کر ارم کے سر پر رکھ لی. اور علی کو کہا چلا جا یہاں سے ورنہ میں اس ماردونگا. علی نے آگے ہو کر اچانک اسے دھکا دیا اور ارم سے کہا بھاگ جاؤ یہاں سے. ارم کی آنکھوں سے آنسوں آگئے اور اس نے کہا میں نہیں جاؤنگی. علی نے کہا تمھیں میری قسم بھاگو مڑ کر مت دیکھنا. ارم وہاں سے بھاگنا شروع ہوگئی اور علی کے دوست گیٹ سے اندر ہوئے اتنی دیر میں پستول چلنے کی آواز آئی اور وہ سب وہاں رک گئے. ارم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو علی اس کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا. علی کے سر کے پیچھے گولی لگی تھی اور مارنے والے بھاگ گئے تھے. جیسے ہی علی زمین پر گرا اور ارم کو زور زور سے چینخیں نکلیں . علی کے دوست بھاگے بھاگے آئے. اور علی کا سر اٹھا کر اعظم نے اپنی گود میں رکھ لیا. وہ تینوں دوست, ارم , اور بزرگ رونا شروع ہوگئے . نعمان نے ایمبولینس کو فون کیا اور واقع سے آگاہ کیا. ارم علی کے پاس آئی. علی نے ارم کا ہاتھ پکڑ کر کہا ااااا…….ارم! مجھے تم بب……بہت پسند ہو. مجھے نہیں پتا میں زندہ رہوں یا نہ رہوں. لیکن اااا……اپنے دل کی بات بتانی تھی. مج…….مجھے معاف کردینا. یہ کہہ کر اس کی آنکھیں بند ہوگئیں.
ان سب کی آنکھوں سے آنسوں پانی کی طرح بہہ رہے تھے. ایمبولینس آئی اور وہ علی جو چیک کرنے لگے. اور علی کو ایمبولینس میں ہسپتال لے گئے. انہوں نے اعظم کو کہا کہ جتنا جلدی ہوسکے خون کی کم از کم 3 بوتلوں کا انتظام کرو خون بہت بہا ہے. اعظم نے ارم کو گھر جانے کا کہا لیکن ارم نے منع کردیا اور رو کر کہا مم…..مم….میں علی کے ساتھ جاؤنگی. علی نے میری خاطر اپنے آپ کا یہ حال کیا. میں کچھ نہیں ہونے دونگی. اور وہ رو رو کر اللّٰه پاک سے دعا مانگنے لگ گئی کہ
“اے اللّٰه تو چاہے میری جان لے لے. لیکن جس لڑکے کا یہ حال ہوا ہے اس کی ابھی تو زندگی شروع ہوئی ہے. اے اللّٰه اس کے گھر والوں اور اس کے دوستوں کو کوئی نیا دکھ مت دینا. آمین” اعظم نے یونیورسٹی کے دوستوں کو فون کیا اور اس بات سے آگاہ کیا. وہ لڑکے ہسپتال کے کیے ایسے بھاگے جیسے قیامت آگئی ہو. کچھ ہی منٹوں میں ہسپتال میں رش لگ گیا اور جب یہ خبر علی کے گھر والوں کو ملی ان کی تو دنیا ہی رک گئی. ان سب پر قیامت ٹوٹ پڑی. جس ماں باپ کا ایک ہی نوجوان بیٹا ہو. جس بہن کا ایک ہی ہم عمر بھائی ہو. اس کے لیے یہ نظارہ قیامت خیز ہوتا ہے. وہ فوراً ہسپتال پہنچے. ڈاکٹر آیا اور ایک فارم پہ ان سے دستخط کروانے چاہے جس پر مختصر یہ لکھا تھا کہ ” اگر اس لڑکے کو آپریشن کے دوران کچھ ہو جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری ڈاکٹرز یا ہسپتال کی نہیں ہوگی کیونکہ لڑکے کی حالت بہت ہی خراب ہے” علی کے باپ نے کہا ڈاکٹر صاحب سب کچھ لے لو. دولت شہرت گاڑیاں سب کچھ لے لو لیکن میرا بیٹا بچالو. انہوں نے دستخط کیے اور علی کا آپریشن شروع ہوگیا. اعظم اور دونوں دوست علی کے والد کے ساتھ ہسپتال کی مسجد میں نماز پڑھنے چلے گئے. ارم اور اس کی والدہ لیڈیز کی پاک جگہ پر نماز پڑھنے چلی گئیں. ان سب نے نماز ادا کی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے.
اے اللّٰه ہم نے اپنی زندگی صرف تیرے لیے وقف کردی. ہم نے کبھی کسی کا برا نہیں چاہا. تو بھی ہمارا برا نا چاہا ہمارے پاس صرف علی ہے جو ہمارے لیے سب کچھ ہے. ہماری خاطر اسے ہم سے دور نہ کر. بیشک تو معاف فرمانے والا ہے. تو رحیم ہے تو ربِّ كریم ہے. اے اللّٰه تو اسے کی پچھلی تمام غلطیوں کو معاف فرما دے اور اسے امتحان سے صحیح سلامت گزاردے آمین.” وہ سب بہت غمزدہ تھے. علی کا آپریشن کامیاب ہوا ڈاکٹرز نے کہا چوبیس گھنٹوں تک ہم کچھ نہیں بتا سکتے جب تک ہوش میں نہ آجائے. بس اللّٰه پاک سے دعا مانگو. ماں نے اعظم سے پوچھا کہ کیا یہ لڑکی ہی ارم ہے؟ اعظم نے کہا جی ماں جی! علی کی ماں ارم کے پاس گئی اور ارم نے ماں کو دیکھ کر زور زور سے رونا شروع کردیا. اور کہا ماں جی! یہ سب مم…..مم..میری وجہ سے ہوا ہے مجھے معاف کردیں. علی کی ماں نے ارم کا سر اپنی گود میں رکھا اور اسے سہلانا شروع کردیا. ارم نے کہا میری ماں نہیں ہے. ہم دو بہنیں ہیں اور ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی اللّٰه پاک کی عبادت میں گزاری ہے انہوں نے کبھی کسی انسان کے ساتھ غلط نہیں کیا اور نا ہی کبھی کسی نے میرے کردار کے بارے میں کچھ غلط کہا ہے. میں ہمیشہ لڑکوں سے گھبرائی ہوں. لیکن اعظم بھائی نے یہ احساس دلایا کہ سب لڑکے ایک جیسے نہیں ہوتے. کل کسی لڑکے نے میرا ہاتھ پکڑ کر میری عزت کو داغدار کرنا چاہا میرے ذہن میں پھر برے لڑکوں کے خیال آنے لگے. لیکن آج علی نے میری عزت بچا کر یہ پھر سے یاد کروایا کہ میں غلط ہوں. اللّٰه پاک علی کو لمبی عمر دے لیکن اگر. اسے کچھ ہوجاتا ہے تو میں اپنی ساری زندگی آپ کی اور آپ کی فیملی کی خدمت میں گزارونگی. علی مجھ سے پیار کرتا ہے اور اب مجھے بھی اس سے پیار ہوگیا ہے……

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: