Muhabbat Or Sakoon Novel By Usama Ansari – Episode 4

0
محبت اور سکون از اسامہ انصاری – قسط نمبر 4

–**–**–

ارم نے علی کی ماں کی گود میں سر رکھا تھا اور وہ مسلسل ان سے باتیں کر رہی تھی. ارم نے کہا. اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو ماں کہہ کر بلا سکتی ہوں. وہ بہت خوش ہوئیں اور کہا جی بیٹا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے. ارم نے کہا ماں جی! علی کو اگر کچھ ہوگیا نا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤنگی. وہ مجھے بہت پیار کرتا ہے اور اگر میں اسے نا ملی تو یہ محبت میں نا انصافی ہوگی کہ مجھے پتا ہے میرا محبوب مجھے چاہتا ہے اور میں اسکو نا ملوں. یہ تو میں اس کا بھی اور محبت کا بھی حق ماررہی ہوں. علی کی ماں نے کہا کچھ نہیں ہوگا بیٹا. سب بہتر ہوگا. نرس آئی اور کہا مریض ہوش میں آگیا. دو لوگ جاکر مل لو. علی کے والدین اندر گئے اور علی کو ہوش میں دیکھ کر بہت خوش ہوئے. علی کی ماں نے فوراً اس کی نظر اتاری. اور کہا بیٹا! آپ نے تو ڈرا ہی دیا تھا. علی مسکرایا اور کہا! ڈرا ہی سکتا ہوں مگر چھوڑ نہیں سکتا. علی کی ماں نے اس کا ہاتھ چوما اور کہا !
“سب تیرے انتظار میں باہر کھڑے ہیں, کوئی بھی گھر نہیں گیا. اور مجھے ارم نے بتایا کہ آپ کو اس سے محبت ہے”. علی نے کہا
” نن…..ننن…نہیں! میں نے تو مذاق کیا تھا” اس کی ماں نے کہا!
“جب کسی شخص کو لگے نا! کہ یہ اس کی آخری سانسیں ہیں تو اس کی زبان پر آنے والا ہر لفظ سچا ہوتا ہے” علی نے کہا! لیکن پتا نہیں اس نے کیا سوچا ہوگا اسکا کیا جواب ہوگا؟ علی کی ماں نے مزاح لہجے میں کہا! کہ دے دیا اس نے اپنا جواب”
علی نے کہا جلدی جلدی بتائیں کیا کہا اس نے؟
ماں نے کہا! وہ کہتی کہ اسکی منگنی ہوئی ہے اور اگلے جمعے اسکا نکاح ہے.
علی کا منہ اداسی کی طرف چلا گیا ماں نے کہا تمھیں پسند ہے وہ؟ علی نے کہا نہیں نہیں! بس میری دوست ہے وہ. ماں نے کہا تو یہ آنکھوں میں آنسوں کیوں ہے! علی نے کہا سر درد کررہاہے. ماں نے کہا وہ تم سے شادی کرنا چاہتی ہے کیا تم کرو گے؟ علی یہ سن کر بہت خوش ہوا اور کہا جی جی ضرور. ارم اندر آئی تو اس کے ماں باپ باہر آگئے. ارم نے کہا! کیا ضرورت تھی میرے لیے اتنا درد سہنے کی؟ ہیرو بننے کا بہت شوق ہے. جب دل کرے کسی کے ساتھ بھی لڑ لیتے ہو. تمھیں کسی کی فکر نہیں ہے سب تمھارے لیے رو رہے تھے. وہ کتنا چاہتے ہیں تمھیں اور تم کو لڑائیوں کی پڑی رہتی ہے. چھیڑنے دیتے مجھے چھیڑ رہے تھے نا تو تم کیوں لڑے. تمھیں اگر کچھ ہوتا تو ان سب کا کیا ہوتا؟ علی نے مسکراتے ہوئے کہا! تم تو اس وقت بھی میری حفاظت میں تھیں جب تمھیں مجھ سے نفرت تھی اور مجھے تم سے نفرت تھی. اب تو میری پسند ہو آپ♥کیسے آپکو کسی کو چھیڑنے دیتا! اب تو جب جب ایسا موقع ملا تو آپ کے کیے مر……علی جیسے ہی مرنے کا کہنا لگا تو ارم نے اس کے ہونٹ پر آپنی انگلی رکھ دی اور کہا خبردار! اگر اب میری جان کی جان کو کچھ ہوا. ورنہ آپکی جان کی جان ختم ہوجائے گی. اب ایسا لفظ استعمال کیا تو میں ناراض ہوجاؤنگی. چلو میرے کیے اپنے بستر پر جگہ بناؤ. مجھت لیٹنا ہے. علی نے کہا! اہمم اہمم اہممم…. کوئی آجائے گا . ارم نے کہا آ نے دو دیکھ لیں گے . علی سائیڈ پر ہوا اور ارم اس کے پاس جاکر لیٹ گئی. ارم کی آنکھوں سے آنسوں آنے لگ گئے اور علی سے کہا! میں 3 سال کی تھی جب میری امی جان کا انتقال ہوا. میرے بابا شرور سے ہی مسجد کی دیکھ بھال کرتے تھے اور وہاں ہی رہتے تھے سارا دن. ہم دونوں بہنوں نے بہت مشکل سے زندگی گزاری. میں بچپن سے خود کے لیے بہت کمزور تھی. لیکن کبھی اپنی کمزوری بہن کے سامنے ظاہر نہیں کی کہ وہ کمزور نہ پڑجائے ہمیشہ اس کی حفاظت کی. لیکن اپنی حفاظت کا ہمیشہ مسئلہ رہا. علی وعدہ کرو مجھے اب کبھی کمزور نہیں ہونے دوگے. مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑو گے. مجھے خود سے دور نہیں کروگے. علی میں نے تمھیں تمھارے ماضی کو بھلا کر قبول کیا ہے. مستقبل میں ایسا کچھ نہ کرنا کہ میں ٹوٹ جاؤں. کیونکہ اب اگر تمھارے ہاتھوں سے ٹوٹ گئی تو تمھیں اپنی لاش کو کندھا بھی نہیں دینے دونگی. بتاؤ کرو گے مجھ سے نکاح؟ علی ہنسنے لگ گیا اور کہا تم جیسی لڑکیاں……..
علی ہنسنے لگ گیا اور کہا:
“تم جیسی لڑکیاں اس دنیا میں بہت کم ہوتی ہے. تم میری زندگی میں ایسی خوشی ہو جو میری موت کے وقت بھی میری مسکراہٹ بنے گی. میں تمھیں کبھی کوئی دکھ نہیں دونگا. ہمیشہ خوش رکھوں گا.” اب آپ گھر جاؤ. میں
جیسے ٹھیک ہوگیا. آپ سے نکاح کرلوں گا. اعظم کو علی نے آواز دی اور کہا: ارم کو گھر چھوڑ دو. اعظم ارم کو گھر چھوڑنے چلا گیا. 5 دن بعد علی کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا. علی کی حالت میں کافی سدھار آگیا تھا. علی کو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ اس کی زندگی میں سب اچھا ہورہا ہے. علی اس بزرگ کے پاس گیا . بزرگ علی کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہا آجاؤ بیٹے تمھارا انتظار ہی تھا. بتاؤ کیسا لگا محبت کا پہلا انعام؟ علی نے کہا اگر محبت کا انعام ایسا ہوتا ہے تو مجھے ان کے لیے ایسے ہزاروں انعام قبول ہیں. لیکن بابا جی مجھے ڈر بہت لگنے لگ گیا. بابا نے پوچھا کیسے ڈر! علی نے بتایا کہ وہ لڑکی مجھے اس قدر پیار کرتی ہے کہ میری چھوٹی سی بیوفائی پر بھی وہ مد جائے گی. بابا نے کہا: مسجد جا نماز پڑھ اور دعا مانگ. علی نے کہا: دعا مانگنے سے سب کچھ ٹھیک نہیں ہوگا. میرے ماضی میں مجھ سے بہت سی غلطیاں ہوئیں ہیں. مجھے ڈر ہے کہ ان کا ازالہ میں مستقبل میں ادا نہ کروں. بابا نے کہا بیٹا! دعا ہر آفت کو ٹال دیتی ہے. علی نے کہا بابا جی مجھے اس بات پر مکمل یقین ہے لیکن مجھے بد دعا دی گئی ہے اور دینے والے نے کہا تھا. “تم کبھی خوش نہیں رہو گے میں مکافات کے انتظار میں رہوں گی” بزرگ نے کہا جب ہم سے کسی کا دل ٹوٹ جائے اور وہ ہمیں معاف نہ کرے تو ہمیں اس سے معافی نہیں مانگنی چاہیے تو اللّٰه سے مانگ دیکھ وہ تجھے خوش کردے گا اور اگر پہلے وہ غلطی پھر کرے گا تو اللّٓه سے بھی معافی کی امید نہ رکھنا. علی وہاں سے اٹھ کر گھر آگیا اور اپنے والدین کو ارم کے گھر رشتہ لیکر بھیج دیا. ارم کے والد نے ارم کی رضا مندی پوچھ کر ان کا نکاح طے کردیا. آخر وہ دن بھی آگیا جس دن کا دونوں کو بے صبری سے انتظار تھا. ان دونوں کا نکاح ہوگیا. اور وہ دونوں ایک پاک بندھن میں بندھ گئے. علی اور ارم رات کو اپنے کمرے میں بیٹھے تھے علی نے ارم کا ہاتھ پکڑا اور اس کا بوسہ لیا اور کہا!
“ارم میرج زندگی میں آنے کے لیے آپکا شکریہ. آپ نے مجھے اور میری فیملی کو ایک نئی خوشی دی ہے. میں آپ سے کچھ نہیں چاہوں گا لیکن میرے ماما بابا کو کبھی اداس مت ہونے دینا. میری عزت کو اپنی عزت سمجھنا. اگر مجں کبھی غصے میں کچھ کہہ بھی دوں تو اسے دل پہ مت لینا. اگر کبھی مجھ سے غلطی ہوجائے تو مجھے معاف کردینا”
ارم نے علی سے کہا! آپ کے علاوہ کبھی میری زندگی میں کبھی کوئی نہیں آئے گا. میرا ماضی شیشے کی طرح صاف تھا میرا مستقبل بھی آپ کے ساتھ صاف ہوگا. اور جو نام آپ نے میرے نام کے ساتھ جوڑا ہے. میں اس نام کی عزت اور حفاظت ہمیشہ کرونگی.
علی یہ سب سن کر بہت خوش ہوا اور ارم کے ماتھے کا بوسہ لیا. شادی کے کچھ دن بعد ان کی یونیورسٹی بھی ختم ہوگئی. علی اور ارم کسی دوسرے شہر گھومنے چلے گئے. علی نے وہاں ہوٹل میں ایک کمرہ لے لیا. ایک دن علی اور ارم باہر گھوم رہے تھے کہ علی کو دعا نظر آگئ. دعا نے بھی جب علی کو دیکھا تو وہ ان کے پاس آئی اور علی سے پوچھا: سر یہاں کوئی ریستوران ہے؟ علی کو حیرانگی ہوئی اور کہا جی تھوڑا آگے جا کر ہے. دعا نے کہا یہ آپکی بیگم ہیں؟ علی نے کہا جی الحمد للّٰه! دعا نے یہ سن کر چپ سادھ لی اور کچھ سکینڈز کی خاموشی کے بعد بولی! دعاؤں میں یاد رکھنا. اور چلی گئی. ارم نے کہا بہت عجیب لڑکی تھی ایسے بات کررہی تھی جیسے آپکو اچھے طریقے سے جانتی ہو. علی ارم کو دیکھ کر مسکرایا اور واپس ہوٹل میں چل دیا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: