Muhabbat Or Sakoon Novel By Usama Ansari – Last Episode 5

0
محبت اور سکون از اسامہ انصاری – آخری قسط نمبر 5

–**–**–

موسم بہت سرد تھا. علی اور ارم کسی سنسان جگہ پر آگ لگائے بیٹھے تھے. علی کو دعا کے ساتھ کی گئیں باتیں یاد آرہی تھی. علی پریشان ہوگیا. ارم نے جب یہ پریشانی دیکھی تو وہ علی کے پاس آکر بیٹھ گئی اور اس کے کاندھے پر سر رکھ کر کہا. ماما بابا یاد آرہے ہیں؟ علی اس کو دیکھ کر مسکرایا اور کہا جی. ارم نے کہا مجھے بھی یاد آرہے ہیں. وہ دونوں آگ کے پاس بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ علی کو دعا کا فون آگیا. علی نے جب نمبر دیکھا تو ارم سے کہا بیٹھو! میں فون سن کر آیا. اور فون سننے چلا گیا. علی نے سلام کیا . دعا نے سلام کا جواب دے کر کہا. بہت پیاری بیوی ہے تمھاری. اس سے بھی خوبصورت دیکھ کر شادی کی یا روح سے پیار ہوا ہے. علی نے کہا کام کی بات کرنی ہے تو کرو. دعا نے کہا کام کی بات تو یہ ہے کہ مجھے اچھا نہیں لگا اس کو تمھارے ساتھ دیکھ کر جو جگہ میری تھی وہ تم نے کسی اور کو دے دی . کیا تم مجھ سے مل سکتے ہو؟ علی نے منع کردیا اور کہا اب میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے.اور فون بند کردیا. علی ارم کے پاس آیا اور کہا چلو چلیں. سردیوں کی رات تھی. علی نے ارم سے کہا میں سوچ رہا ہوں کہ صبح گھر چلتے ہیں ارم نے کہا جی بہتر ہے. وہ دونوں اگلی صبح گھر کے لیے روانہ ہوگئے. ارم نے علی سے راستے میں کہا کوئی ہوٹل آئے تو کچھ کھانے کے لیے لے لینا. آگے جا کر ہوٹل آیا علی گاڑی سے اترا اور ارم سے کہا آجاؤ آپ بھی ارم نے کہا نہیں آپ جائیں میں یہاں ہی بیٹھی ہوں. علی اندر گیا اس نے دیکھا کہ اندر ایک بہت خوبصورت لڑکی کھڑی ہے. اسے دیکھ کر علی کے اندر شیطان آگیا اور وہ اس لڑکی سے جا کر باتیں کرنے لگ گیا اور باتوں باتوں میں اسکا فون نمبر بھی لے لیا. وہ لڑکی کسی امیر خاندان سے تھی اور بہت مکار قسم کی تھی. علی اپنی کار میں بیٹھا اور گھر آگئے. ماں جی ارم کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور ارم کا ماتھا چوم کر کہا! ماشاء اللّٰه میری بیٹی آگئی. رات کو ارم سو رہی تھی کہ علی کو اس لڑکی کا فون آگیا . علی فون سننے کے لیے کمرے سے باہر آگیا. علی نے اسے کہا تم بہت پیاری ہو. مجھے بہت اچھی لگی. لڑکی نے بھی علی سے اسی قسم کی بات کی. لڑکی نے علی سے پوچھا کیا تم شادی شدہ ہو؟ علی نے ارم کی طرف دیکھا اور کہا جی نہیں. لڑکی نے کہا مجھ سے شادی کرلو علی نے کہا اتنی بھی جلدی کیا ہے. کرلیں گے ویسے بھی ابھی گھر والے نہیں مانیں گے. علی کی اس لڑکی سے روزانہ بات ہونے لگی. شادی کے 9 مہنے بعد اللّٰه پاک نے علی کو رحمت سے نوازا جس کا نام علی کے والد نے اسماء رکھا. علی بہت خوش ہوا. ان کے گھر میں خوشیوں کی آمد تھی. علی اس دن بہت خوش تھا. وقت گزرتا گیا اور کچھ دن بعد اعظم کا فون آیا اور کہا بھائی میں پاک آرمی میں سیلیکٹ ہوگیا ہوں. علی کی خوشی میں دگنا اضافہ ہوگیا. وہ باقی دوستوں کے ساتھ اس خوشی کو منانے چلا گیا. علی رات کو پارٹی سے بہت لیٹ آیا اور آتے ساتھ کی سو گیا اور گہری نیند نے اسے آ گھیر لیا. اتنی دیر میں علی کا فون بجنے لگا . ارم نے اس کا فون اٹھا کر دیکھا تو اس پر اعظم کا نام لکھا تھا. ارم نے کال اٹھائی اور فون سنا. وہ آواز لڑکی کی تھی. ارم نے کہا جی کون ہیں آپ؟ اس لڑکی نے کہا مسکان نام کے میرا اور آپ کون ہیں؟ یہ وہ ہی لڑکی تھی جس سے علی بات کرتا تھا. ارم نے کہا میرا نام ارم ہے آپ کو کس سے بات کرنی ہے. مسکان نے کہا علی سے. ارم نے کہا کیا آپ اسے جانتی ہیں مسکان نے کہا جی ایک سال سے ہم بات کررہے ہیں. اب ہم شادی بھی کرنے والے ہیں لیکن آپ کون؟ ارم نے کال کاٹ دی اور علی کو دیکھ کر اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا. اور نمبر ڈیلیٹ کر کے سوگئی. علی کی فجر کی آذان کے وقت آنکھ کھولی تو ارم بستر پر نہیں تھی. علی نے ارم کو آواز دی . ارم نے کہا جی وضو کررہی ہوں. آپ بھی آجاؤ. علی نے کہا میں تھکا ہوا ہوں اور پھر سوگیا. ارم نے نماز پڑھنا شروع کردی اور اللّٰه پاک سے دعا مانگی!
ارم کی آنکھوں میں آنسوں تھے اور دعا یہ تھی کہ
“اے اللّٰه اگر یہ میرا کوئی امتحان ہے تو مجھے اس سی بچالے. میں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ دکھ ہی دیکھے ہیں اور اپنی ساری زندگی تیرے نام کردی. میری چھوٹی سی بیٹی ہے. اس کو اس کے باپ سے دور لیجانے والے سب راستے بند کردے. علی کو اور اس کے دل کو اپنی رحمت سے بھر دے” آمین.
وہ دعا مانگ کر کھڑی ہوئی اور جاکر بیڈ پر لیٹ گئی اور علی کو مسلسل دیکھ رہی تھی. اور آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں. صبح کو علی آفس کے لیے جانے لگا تو وہ معمول کی طرح ارم کا ماتھا چومنے کے لیے آگے ہوئے تو ارم ہیچھے ہٹ گئی اور کہا آج آپ ایسے ہی چلے جائیں اور کمرے میں چلی گئی. علی جو آفس میں مسکان کا فون آیا مسکان نے کہا عکی ہمارا سفر یہاں تک ہی تھا مجھے تم سے ذیادہ امیر لڑکا مل گیا اور میری کل اس سے شادی ہے. میں نے تمھیں یہ بتانے کے لیے رات کو فون کیا تھا لیکن کسی ارم نے اٹھایا تھا. اور یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا. علی نے جب اس کی باتیں سنیں تو وہ گھبرا گیا اور رونے لگ گیا. …..
علی فوراً دفتر سے اٹھ کر بزرگ کے پاس گیا. لیکن اسے بزرگ نہ ملا. اس نے وہاں لوگوں سے پوچھا انہوں نے کہا یہ بزرگ تو کب کا فوت ہوگیا. علی گھر کے لیے نکل گیا. راستے میں وہ دعا مانگ رہا تھا کہ اے میرے رب مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے مجھے کوئی بڑا دکھ نہ دینا. وہ گھر جارہا تھا کہ اسے عصر کی آذان کی آواز سنائی دی وہ نماز پڑھنے مسجد میں چلا گیا وہ وضو کررہا تھا کہ اسے وہی امام ملا جس کو اس نے ایک دفعہ مارا تھا. اس نے وضو کر کے امام کے سامنے ہاتھ جوڑدیے اور کہا: امام صاحب مجھ سے غلطی ہوگئی. میں نے کسی کا یقین توڑ دیا. امام صاحب میں نے شرک کردیا. میں کیا کروں . امام نے کہا بیٹا پہلے نماز پڑھو. انہوں نے نماز پڑھی . علی واپس آنے لگا تو امام نے اسے پاس بلایا اور کہا! کبھی شرک کرنے والے کو اللّٰه نے معاف کیا ہے؟ علی نے کہا جی نہیں. امام نے کہا تو اپنی ساری زندگی بھی رب سے معافی مانگ لے وہ رب تجھے تیری پہلی دعا پر ہی معاف کردے گا. لیکن جس کے ساتھ شرک کیا ہے نا اسے منا لے. وہ راضی ہوگیا تو رب راضی ہوجائے گا. علی وہاں سے گھر آیا تو دیکھا کہ گھر میں رش لگا ہے. اس کے تینوں دوست، اس کے رشتہ دار، ماں باپ سب موجود ہیں لیکن ارم نہیں ہے. اعظم علی کے پاس آیا اور اس کو گلے سے لگا کر زور زور سے رویا اور کہا علی ارم فوت ہوگئی. علی نے جب یہ بات سنی تو اس کے ہوش و حواس اڑ گئے اور وہ دوڑ کے کمرے میں گیا. ارم نے اس کے پسند کا کالا سوٹ پہنا تھا جو علی اس کے کیے شادی کی سالگرہ کے تحفے میں لایا تھا. وہ اسی طرح تیار ہوئی تھی جس طرح علی کو پسند تھی. علی نے دیکھا کہ اسماء بیڈ پر لیٹی رو رہی ہے. علی نے اسماء کو اٹھایا اور اس کو چومنا شروع کردیا. ارم کا موبائل پاس پڑا تھا. جس پر آواز زیکارڈر چل رہا تھا. علی نے موبائل اٹھایا اور ارم کج ریکارڈنگ سننا شروع کردی. ارم نے اس ریکارڈنگ میں کہا تھا کہ
” علی میری زندگی آپ سے شروع ہوئی اور آپ پر ہی ختم ہوگئی. میں نے آپ سے اپنے لیے صرف خوشیاں چاہیں تھیں. مجھے ایک محبت کرنے والا شخص چاہیے تھا. میں نے کبھی کسی مرد پر بھروسا نہیں کیا تھا. آپ پہلے تھے جو میرے قریب آئے اور جس کے حوالے میں نے اپنی ساری سانسیں لکھ دیں. میں آپکو وہ محبت دے ہی نہیں پائی جس محبت کی آپکو ضرورت تھی. اگر میں وہ محبت دے دیتی تو آپ کبھی اس عورت کے پاس نہ جاتے. میں نے کہا تھا نا! کہ اس باد میں ٹوٹی تو مر جاؤنگی. آپ نے میرے ساتھ شرک کیا اور اس کے لیے میں کبھی آپکو معاف نہیں کرونگی. میں آپ سے اپنا سارا رشتہ ختم کر کے جارہی ہوں اور اگر آپ کے دل میں میرے لیے آٹے کے ذرے کے برابر بھی محبت ہے تو آپ میری لاش سے اور میری بیٹی سے ہمیشہ دور رہنا. میں نے کہا تھا نا! کہ میں آپکے نام کی ہمیشہ عزت کرونگی. دیکھو آپکا نام داغدار نہیں ہونے دیا. کسی کا نہیں بتایا کہ آپ نے کسی اور لڑکی سے محبت کی ہے. اب اس لڑکی سے شادی کرنا اور اس سے بیوفائی نہ کرنا. اور یہ نہ سوچنا کہ میں نے بزدلی دکھائی اور خودکشی کی ہے . نہیں نہیں میں اتنی مضبوط بن گئی تھی کہ شرک کے بھار کو ساری رات اور سارا دن دل میں رکھا اور وہ دل باہر آگیا. میری ہمیشہ سے ایک خواہش رہی کہ میں جب مرنے لگوں آپ کی بانہوں میں ہوں اور آپ میرے سر کا بوسہ لیں. لیکن میری یہ خواہش رات کو ختم ہوگئی تھی اس لیے صبح بوسہ لینے سے منع کردیا. علی اب میں چلتی ہوں. تم نے آج تک جس جس لڑکی کا دل توڑا ہے ان سب سے معافی مانگ لینا جب تک وہ سب معاف نہ کردینا میری قبر پر بھی مت آنا اور نہ میری اسماء کو ہاتھ لگانا..
……
علی میری محبت آپ سے شروع ہو کر آپ پر ہی ختم ہوگئی. آپ نے مجھے ہر لحاظ سے مضبوط کردیا لیکن اس بات سے مضبوط نہ کرسکے کہ میں اپنی محبت میں کوئی تیسرا دیکھوں. اب جاؤ اور اپنی غلطیوں کا ازالہ کرو اور اس لمحے سے لیکر جب تک آپ معافی نہ مانگ لو سب سے میرے لیے فاتحہ بھی نہ پڑنا. آپکی محبت: ارم علی”
علی یہ سن کر بیہوش ہوگیا. اعظم جب کمرے میں آیا تو اس نے دیکھا علی کی حالت بہت خراب ہے. اس نے علی کو ہوش دلایا اور گلے لگا کر رونا شروع ہوگیا. علی نے اعظم سے کہا ارم نے مجھ سے سب حق چھین لیے. انہیں دفنا دینا اور جب تک میں نہ آؤں اسماء کا خیال رکھنا یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا. 2 سال تک کسی کو کچھ خبر نہ تھی کہ علی کہاں ہیں اور کہاں نہیں ہیں. علی نے ایک دن دعا سے رابطہ کر کے اس سے ملنا چاہا. دعا نے کہا میں اگلے ہفتے انگلینڈ سے واپس آؤنگی تب میرے گھر آجانا. علی ایک دن اپنے گھر کے پاس آ کھڑا ہوا اور گھر کو دیکھ رہا تھا کہ ان کے سیکیورٹی گارڈ نے کہا بھائی آگے چلو اللّٰه بھلا کرے. علی نے سیکیورٹی گارڈ کی طرف دیکھا اور کہا اچھا جناب چلا جاتا ہوں یہ کہہ کر علی آگے بڑھنے لگا کہ اچانک ایک کار گیٹ کے پاس آکر رکی. اس کار میں سے پہلے علی کہ بہن نکلی اور اندر چلی گئی کار گیٹ سے تھوڑی آگے گیراج میں کھڑی کرکے اعظم اسماء کو اپنی گود میں اٹھائے باہر نکلا. علی وہاں کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا کہ گارڈ نے علی کو آ کر دھکا دیا علی اعظم کے کندھے سے لگ کر گر گیا. گارڈ نے کہا ابے فقیر: چلا جا یہاں سے تجھے پتا نہیں صاحب کھڑے ہیں. علی کھڑا ہوا اور اپنے کپڑے جھاڑنے لگ گیا. اور اسی طرح سر نیچے جھکائے آگے بڑھنے لگا. اعظم نے علی کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا!
” بھائی کب تک دور رہے گا؟ دیکھ اسماء بڑی ہوگئی اب تو چلنے لگ گئی؟ اب گھر آجا!” گارڈ کھڑا دیکھ رہا تھا وہ سمجھا یہ اعظم کو تنگ کر رہا ہے گارڈ پھر آگے بڑھ کر دھکا دینے لگا اعظم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے تھپڑ مارا اور کہا! میں یہاں کا صاحب ہوں اور یہ اس جگہ کے مالک ہیں. گارڈ نے حیرانگی بھر کر علی کو دیکھا اور کہا علی صاحب! اعظم نے کہا جی ہاں پھر گارڈ نے علی سے معافی مانگی. علی نے اعظم کو کہا. اب دعا کر سزا ختم ہو جائے. اور بتا گھر میں سب کیسے ہیں؟ اعظم نے کہا سب ٹھیک ہیں. میری شادی تمھاری بہن سے ہوگئی اور ہم نے سوچا کہ جب تک تو نہ آجائے اور اسماء کو نہ سنبھال لے تب تک ہم اپنا کوئی بچے کا نہیں سوچیں گے اب تو اسماء ہی ہماری بیٹی ہے. لیکن ماں جی تجھ سے بہت ناراض ہے. تو بنا بتائے سب کو چھوڑ گیا. علی نے کہا بہت جلد آ رہا ہوں اور اسماء کو سر پہ بوسہ دے کر وہاں سے چلا گیا. ایک ہفتے بعد وہ دعا سے ملنے اس کے گھر گیا. دعا نے جب علی کو دیکھا تو علی کی حالت دیکھ کر اسکی آنکھیں بھر آئیں اس نے آنسوؤں کو ضبط کیا اور علی کے پاس آئی. علی نے سلام کر کے حال چال پوچھا. اس نے کہا بہتر ہوں تم سناؤ کیا حال کرلیا اپنا اور تمھاری بیوی کیسی ہے؟ علی کی آنکھیں بھر آئی اور پوچھا تمھاری شادی ہوئی کہ نہیں. دعا نے کہا کوئی پسند ہی نہیں آیا تمھارے بعد. علی نے دعا کے سامنے ہاتھ جوڑے اور کہا
” میں نے تمھیں بہت دکھ دیے دعا! میں تم سے اپنی سب غلطیوں کی معافی مانگتا ہوں. یقیناً تمھاری دعائیں قبول ہوگئی جو آج میری ارم میرے ساتھ نہیں ہے”
دعا نے کہا کہاں ہیں وہ؟ علی نے کہا! اللّٰه کو میری محبت پسند نہیں آئی اسے پاس بلالیا. دعا کی یہ سن کر چینخ نکل گئی اور کہا نہیں علی ایسا نہیں ہوسکتا. علی نے کہا یہ ہوگیا. مجھ سے ایک غلطی ہوگئی اور اس غلطی کی سزا بھگت رہا ہوں. دیکھو مجھے معاف کردو. میں اپنی ارم سے ملنا چاہتا ہوں اسے دو سال ہوگئے فوت ہوئے لیکن میرے پاس یہ اختیار تک نہیں کہ میں اس کی قبر پا بھی جا سکوں پلیز دعا مجھے معاف کردو معاف کردو. علی مسلسل رو رہا تھا. دعا نے کہا علی دیکھ کو آج کیسا وقت آگیا. میں تمھیں معاف نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن ارم کے کیے تمھاری اتنی محبت دیکھ کر مجھے اپنی محبت بہت چھوٹی لگ رہی ہے. جاؤ معاف کیا اب کسی لڑکی کے ساتھ یہ مت کرنا اور ارم کے ساتھ ہی مخلص رہنا. تمھاری بیٹی بھی ہے نا؟ علی نے کہا جی! دعا نے کہا اسے خود جیسا نا بننے دینا اسے ارم جیسا بنانا تاکہ تمھاری غلطیوں کا ازالہ ہو. علی دعا کا شکریہ ادا کرکے مسجد چلا گیا اور اللّٰه کے سامنے جا کر سجدے میں جھک گیا اور رو رو کر کہا
“اے میرے رب! اب مجھ سے ذیادہ بوجھ نہیں اٹھایا جاتا گناھوں کا. میرے سارے گناھ بخش دے. میں اپنی بیٹی کے ساتھ ایک نئی زندگی گزارنا چاہتا ہوں مجھے اپنی رحمت سے نواز دے. میری ارم کے درجات بلند کردے. اب میں جتنا جیوں گا اپنی بیٹی کے لیے جیوں گا. مجھے معاف فرما.”
علی نے سجدے سے سر اٹھایا اور مسجد سے قبرستان چلا گیا. وہ ارم کی قبر پر گیا اور پھول ڈالے. پھر فاتحہ پڑھی اور کہا!
” دیکھو ارم آج تمھارا علی تمھارے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا ہے. میں سب سے اپنا ازالہ کر آیا. اب تم بھی معاف کردو. میں ہماری بیٹی کو ایک اچھی اور مضبوط لڑکی بناؤنگا. اسے کبھی تمھاری کمی محسوس نہیں ہونے دونگا. بس اب مجھے تمھارا ساتھ چاہیے. دیکھو اب میری محبت بھی آپ سے شروع ہوئی اور آپ پر ہی ختم ہوگی”
رات کو ایک بار خواب میں آجانا اور کہہ دینا علی میں نے معاف کیا. علی قبرستان سے اٹھ کر گھر آگیا. علی کی ماں نے جب علی کو دیکھا لپک کر گلے سے لگا لیا اور کہا میرا بیٹا آگیا. اور بہت روئی علی بھی گلے لگ کر بہت رویا کہ اتنے میں اس کی بہن آگئی اور وہ بھی علی کو گلے لگا کر بہت روئی. علی نے کہاں امی. میرا کمرہ ٹھیک ہے نا؟ اس کی ماں نے کہا میں روز صفائی کرواتی تھی جاؤ آرام کرو. علی نے کہا میری بیٹی؟ اسماء آئی اور علی کو دیکھ کر کہا بابا! علی نے جن اسماء کی آواز سنی تو وہ بہت خوش ہوا اور بڑھ کر اسماء کو گلے سے لگا لیا اور اپنے ساتھ کمرےیں لے گیا. علی کی ماں نے کہا! ہم ہر روز اسے تمھاری تصویر دکھاتے تھے
علی کی ماں نے کہا! ہم ہر روز اسے تمھاری تصویر دکھاتے تھے اور اسے بتاتے تھے کہ یہ تمھارے بابا ہیں. علی رات کو سورہا تھا کہ اس کے خواب میں ارم آئی اور کہا! میرے لیے جگہ بناؤ میں لیٹوں گی. علی نے اس کے لیے جگی بنائی اور وہ علی کے بازو پر آ کر لیٹ گئی.
ارم نے کہا!
” آپ نے آج میری عزت رکھ لی علی. مجھے آپ ہمیشہ سے ہی پسند تھے. میں نے بھی آپکو معاف کیا. اب ہماری بیٹی کا خیال رکھنا. اور اسے اچھی تربیت دینا میں ہمیشہ آپکے ساتھ رہوں گی.”
علی کی آنکھ کھل گئی اس نے وقت دیکھا تو 2 بجے تھے اس نے تہجد پڑھی اور قرآن پاک پڑھنا شروع کردیا. پھر فجر کی نماز پڑھ کر اسماء کو اٹھایا اور اس کے لیے ناشتہ منگوایا اور اسے اپنے ساتھ پہلے قبرستان لے گیا وہاں فاتحہ پڑھی پھر اس کا سکول میں ایڈمیشن کروایا. اور اسے اپنے ساتھ ہی اپنے دفتر لے گیا. وہ اب روز یہ ہی کام کرتا. نمازیں اسکا معمول بن گئیں تھی. اس کی صبح نماز سے شروع ہوتی اور ختم بھی نماز پر ہوتی. اس کا دن ارم کو مل کر شروع ہوتا اور اس کو ہی مل کر ختم ہوتا. 10 سال بعد اس کی دنیا بدل گئی تھی اسماء بڑی ہوگئی تھی وہ ارم کی طرح دکھتی تھی. علی اسماء کو لیکر سب سے الگ ہو گیا تھا اب علی اور اسماء ساتھ رہتی تھی. اسی طرح ان کی زندگی گزر رہی تھی.
ایک سچ تھا جو کسی کو معلوم نہیں تھا
ایک راز تھا جو علی اور ارم کو پتا تھا اور وہ راز یہ تھا کہ علی نے بیوفائی کی تھی جس کی اسے سزا ملی تھی
اس لیے کہتے ہیں!
عشق میں شرک اور محبت میں بیوفائی کی معافی نہیں” ہوتی”

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: