Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 10

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 10

–**–**–


14 اکتوبر 2005 بروز جمعہ
آج میں نے تین ماہ پانچ دن بعد ڈائری کھولی کیونکہ پچھلے تین ماہ کی یادوںکو قلم بند کرنے کی بھی تو جستجو تھی۔جب میں دو ماہ کی چھٹیوں میں گھر گئی تو وقت کا پتا ہی نہیں چلا۔ پاپا کے ساتھ باتیں، دانش کے ساتھ چھیڑچھاڑ۔وقت تو جیسے میرے لیے جنت کا سماں تھا۔ پیچھے پلٹ کر دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا مگر یونیورسٹی اوپن ہوتے ہی ایسا معلوم ہوا کہ جیسے گیا وقت لوٹ آیا۔ایک بار پھر سے وہی احساس جاگ اٹھا جس کو میں چھوڑ کر گئی تھی۔ احساس کیسے بدلتے ہیں میں نے قریب سے جانا۔ مگر اس بار ایک نئے رنگ میں زندگی نے مجھے اپنے آپ کو قریب سے جاننے کا موقع دیا۔دانیال کے لیے پھر سے وہی جذبات ابھرنے لگے۔ پچھلے دو ماہ سے جو بھولی ہوئی تھی سب کچھ یاد آگیا اور ایسا لگنے لگا کہ جس کی یادوں سے میں پیچھا چھڑانے کی کوشش کررہی تھی۔ایک بار پھر سے وہی یاد میرے ارد گرد چکر لگانے لگی۔ کچھ دنوں تک دوبارہ انہی سوالوں میں گھری رہی، جن کو چھوڑ کر گئی تھی۔ پھر ایک دن قسمت نے ہمیں قریب آنے کا موقع دیا۔ اس نے مجھے عامر اور مہر کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔
“ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ مہر نے تو مجھے کبھی کچھ نہیں بتایا۔۔” حیرانی سے کہتی ہوں
” مجھے بھی تو ابھی پتا چلا ہے۔۔”
“تو پھر ۔۔۔ اب ہم کیا کرسکتے ہیں؟”
“کیا مطلب ہے تمہارا؟۔۔۔۔ تم کچھ نہیں کرو گی؟۔۔۔” میری بات پر حیران ہوکر کہتا ہے
“تو پھر ایسا کہنے کا مقصد کیا تھا؟”
“میں تو یہ کہہ رہی تھی کہ جب آج تک اس نے ہمیں اپنے ماضی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تو ۔۔۔ کیا ہمیں اس کی نجی زندگی میں مداخلت کرنا ۔۔۔۔؟؟” میں اپنے خدشہ کا اظہار کرتی ہوں۔
“تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔ مگر۔۔۔ کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ دھڑے بیٹھے رہیں؟”سوالیہ انداز میں کہتا ہے
“اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔۔”
“کم از کم ان کو ملانے کی ایک کوشش تو کر سکتے ہیں؟”
اس کی باتوں میں ایک کشش ہوتی ہے۔ جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔
“مگر کیسے؟” حیرانی سے پوچھتی ہوں
“یہ مجھے بھی نہیں پتا۔۔۔۔مگر اپنے دوست کی مدد ضرور کروں گا۔اس کی محبت کو یوں ضائع نہیں ہونے دوں گا۔اول تو محبت ہوتی ہی بڑی مشکل سے ہے اور اگر ہوجائے تو اس کو گنوانا سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ میں اپنے دوست کو یہ بے وقوفی کبھی نہیں کرنے دوں گا۔” اس کے لہجے میں پختگی صاف نظر آتی ہے
اس کی باتوں میں چھپی حقیقت میرے دل پر اثر کر رہی تھی۔ بھلا ایسا شخص جس نے کبھی محبت نہیں کی ، وہ محبت کی اتنی باریکیوں کو کیسے جان سکتا ہے اور ایسا کیسے کہہ سکتا ہے وہ بھی اتنے یقین کے ساتھ؟؟؟؟
“لیکن میری بات سنو۔۔۔ دانیال۔۔۔ محبت کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔”
“صحیح کہا تم نے۔۔۔محبت کو حاصل نہیں کیا جاسکتا مگر پایا تو جاسکتا ہے۔۔” وہ مسکراتے ہوئے کہتا ہے
“کیا مطلب ہے تمہارا؟” حیرانی سے پوچھتی ہوں
“مطلب صاف ہے۔۔۔ محبت کو پانا اور حاصل کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔۔”
“کوئی فرق نہیں ہے۔۔۔”
“فرق ہے۔۔ کرن۔۔۔ حاصل کرنے میں انسان اپنی جائز ناجائز ساری طاقتیں لگا دیتا ہے ۔ حاصل کرنا ایک ضد ہے اور اس ضد کو پورا کرنا محبت کی توہین ہے جبکہ ۔۔۔ پانا ۔۔۔ محبت کا عروج ہے۔ یہ ایک امید ہے جس کو پورا کرنے کے لیے اپنی طاقتیں صرف کرنا بے عقلی نہیں۔” وہ میری طرف دیکھ کر کہتا ہے
“دیکھو کرن۔۔! اگر آپ کسی سے محبت کرتے ہیں اور وہ آپ سے محبت نہیں کرتا تو اس کا پاس ہونا یا نہ ہونا برابر ہوتا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا لیکن اگر دو محبت کرنے والے ایک دوسرے کے پاس نہ بھی ہوں تو بھی وہ ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں۔ ایک انجانہ سے احساس ان کو جوڑے رکھتا ہے۔ وہ دور رہ کر بھی کبھی الگ نہیں ہوتے۔ محبت ان کے دلوں کو جوڑے رکھتی ہے۔ کبھی ایک دوسرے کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتی۔”
یہ سب وہ اتنے یقین سے کہتا ہے کہ میں مزید کچھ کہنے کی صلاحیت کھو دیتی ہوں ۔ اسکی آنکھوں کی کشش مزید بڑھ جاتی ہے اور وہ چمک مجھے اپنی آنکھیں جھکانے پر مجبور کردیتیں ہیں۔ اس کی جانب سے یہ باتیں سن کر مجھے بہت تعجب ہوا۔ اس کے دل میں محبت کے لیے ایسے جذبات۔۔۔۔؟یہ جذبات و احساسات تو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے بذات خود محبت کی ہو۔۔پھر وہ اتنے وثوق کے ساتھ کیسے کہہ سکتا ہے؟ جس کے دل میں دوسروں کی محبت کے لیے اتنی قدر ہے۔ تو اپنی محبت کے لیے اس کے دل میں کس طرح کے جذبات ہونگے؟اسکی یہ باتیں سن کر مجھے بھی احساس ہوا کہ ہمیں کچھ نہ کچھ تو ضرور کرنا چاہیے۔۔۔ یا ۔۔۔ پھر ۔۔۔۔ شائد اس لیے میں نے ہاں کی کہ اس بہانے مجھے اس کے قریب رہنے کا موقع ملے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
28 اکتوبر 2005 بروز جمعہ
پچھلے دو ہفتوں سے میں اور دانیال مسلسل مہر و عامر کے درمیان غلط فہمی کو مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر ہماری کوششیں کامیاب ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔میں نے بذات خود مہر سے بات کی مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔۔۔
“وہ اس کی ایک بھول تھی۔ جس پر وہ بہت شرمندہ ہے اور تم سے معافی بھی مانگنا چاہتا ہے۔” لان میں ٹہلتے ہوئے کہتی ہوں
“بھول۔۔۔” وہ بے رخی سے کہتی ہے
“یار۔۔۔ ایک بار اس کو اپنی صفائی دینے کا موقع تو دو۔”
“صفائی ؟؟؟ کیسی صفائی ؟؟؟ ” وہ طنز کرتے ہوئے کہتی ہے ۔” اور ویسے بھی صفائی دینے کا موقع اس کو دیا جاتا ہے، جس کا آپ سے کوئی تعلق ہو اور میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔۔”
“تعلق ہے۔۔۔ بہت گہرا تعلق ہے اس کا تمہارے ساتھ۔۔۔”میں اس کا چہرہ اپنی طرف کرنے کی کوشش کرتی ہوں
“میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔۔۔” یہ کہہ کر وہ اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیتی ہے
“اور تمہاری اطلاع کے لیے ۔۔ وہ خود مجھ سے اپنے سارے رشتے ناطے توڑ کر گیا تھا۔۔۔۔” اس کی آواز میں درد ہوتا ہے
“مگر ایک موقع۔۔۔۔ تو مل سکتا ہے نا اس کو؟”
“تم سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہی؟ اب میرا اور اس کا راستہ جدا ہے۔۔ہماری منزلیں جدا ہوگئیں ہیں۔ اب ہم کبھی ایک نہیں ہوسکتے۔۔ جب ہماری منزلیں ہی جدا ہوگئیں ہیں تو میں کس بنا پر اس کو ایک موقع دوں ؟؟؟” وہ بجھے دل سے کہتی ہے۔
“تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔ مگر اب وہ خود تم سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہتا ہے۔وہ جرم جو اس سے انجانے میں ہوا ۔۔ اس کی تلافی کرنا چاہتا ہے۔۔”
“انجانے میں ؟؟؟؟؟؟؟” وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہتی ہے۔
“تم اس کو جو بھی کہو۔۔۔ مگر پلز ۔۔۔ ایک موقع تو دے کر دیکھو اس کو۔۔۔ وہ واقعی اپنی غلطی کو سدھارنا چاہتا ہے۔ جس رشتے کو اس نے توڑ دیا تھا ، اسی رشتے کو ایک بار پھر سے جوڑنا چاہتا ہے۔”
“واہ۔۔۔۔ ٹوٹے ہوئے رشتے جوڑنا چاہتا ہے ۔۔۔؟؟؟” اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں
“اس وقت میں نے اس کو بہت روکا۔ بہت کہا کہ مجھ سے ایسا سلوک نہ کرے، بہت آنسو بہائے اس کے سامنے مگر اس نے میرے آنسو کی تھوڑی سے بھی قدر نہیں کی۔ میں نے اس سے کہا بھی کہ میں اس کے بنا جی نہیں پاؤں گی، تب اس کو ذرا بھی خیال نہیں آیا۔ جب کہاں گئی تھی اس کی محبت؟ تب تو اس کو ہماری محبت یاد نہیں آئی۔۔”
“پرانی باتوں کو بھول جاؤ۔۔۔”
“کیسے بھول جاؤں ۔۔۔ میں پرانی باتوں کو۔۔”اس کی آواز اس کے درد بڑھنے سے تیز ہوجاتی ہے
“میری طرف دیکھو۔۔۔۔” اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کرتے ہوئے کہتی ہوں “تم ہی تو مجھ سے کہتی تھی کہ محبت پھول جیسی ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے اور آج کیا تم اس پھول کو یوں ہی مرجھانے دو گی۔ کیا آج تم اس پھول کی قدر بھول گئی؟”
“مجھے یاد ہے۔۔۔ مگر اس وقت یہی پھول کانٹے بن چکے ہیں ۔ جو مسلسل میرے دل میں چبھ رہے ہیں” اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے “دیکھو۔۔! اب میں مزید اس ٹوپک پر بات کرنا نہیں چاہتی اور بہتر یہی ہوگا کہ تم بھی اپنی کوشش یہیں پر ختم کردو۔۔”
“مگر میری بات تو سنو۔۔۔۔وہ محبت ہے تمہاری۔۔!” اونچی آواز میں کہتی ہوں
” میں نے کب کہا کہ نہیں ہے۔۔۔” وہ میری طرف دو قدم بڑھاتے ہوئے کہتی ہے
“اس وقت تو تم صرف بڑی بڑی باتیں ہی کرسکتی ہو۔۔۔لیکن جس وقت تمہیں اس درد سے گزرنا پڑے گا پھر تمہیں معلوم ہوگا کہ محبت کتنی پھول جیسی ہے اور کتنی کانٹوں جیسی۔۔۔” یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلی جاتی ہے
مگر اس کے جانے کے بعد اس کی باتیں میرے کانوں میں گونجتی رہتی ہیں۔ دوست ہو کر وہ ایسا کیسے کہہ سکتی ہے؟ یہ اس نے غصہ میں کہا۔۔۔ نفرت میں یا پھر۔۔۔ درد میں ؟؟؟ اس کی باتوں کا درد میرے سامنے عیاں تھا۔ شائد وہ اپنی جگہ ٹھیک تھی۔ بھلا کوئی بھی لڑکی کسی ایسے شخص کو کیسے موقع دے سکتی ہے جو اس کو بیچ راہ میں چھوڑ کر چلا گیا ہو۔ اس کی جگہ اگر میں بھی ہوتی تو شائد میں بھی یہی کرتی۔۔
ادھر میں کوشش کررہی تھی تو دوسری طرف دانیال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر بے سود۔۔۔ شائد ہماری کوششوں میں ہی کمی رہ گئی ہوگی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 3

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: