Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 12

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 12

–**–**–


یکم جنوری 2006 بروز اتوار
نئے سال کا پہلا دن، نئے رنگ نئے ترنگ ، نئے جذبے نئے احساسات۔۔۔۔ جس کو دیکھو نئے سال کی خوشی میں مگن ہے ۔ پرانی تلخیوں کو بھولا کر نئے رِشتوں کو بنانے کی جستجو میں ہے۔ میرے لیے نیا سال ایسا لگتا ہے کہ ایک نیا موڑ لانے والا ہے۔ ایک ایسا موڑ جس کو میں ابھی سے محسوس کر رہی ہوں۔ جس کے آنے کا دِل کو بے صبری سے انتظار ہے اور ہر گزرتا لمحہ مجھے اس موڑ کے قریب سے قریب تر لے جارہا ہے۔یہ موڑ میرے لیے بہتر ہوگا بھی یا نہیں ، رب ہی جانے۔مگر اس کے آنے کا امکان صاف ظاہر ہے۔وہ موڑ میری زندگی کو گلستان بنائے گا یا ایک نیا طوفان بڑپا کر ے گا۔ اس وقت میں کچھ نہیں کہہ سکتی مگر اپنے رب سے یہی دعا کرتی ہوں کہ جو بھی ہونے کو ہے بس اچھا ہی ہو۔
گزشتہ برس کسی کو کسی کا ساتھ ملا تو کسی کو حسین یادیں۔ اور یادیں بھی ایسی کہ انکو الفاظ میں ڈھالنا ناممکن ہے۔ جہاں تک میری اور دانیال کی بات ہے ، ہم دونوں کی قربت نہ جانے کیوں ، کیسے، کس طرح بڑھتی گئی۔احساس تک نہ ہوا۔ اس کے ساتھ تو وقت ایسے گزرنے لگا جیسے موسم خزاں میں درختوں سے پتے جھڑتے ہیں۔ بالکل اسی طرح وقت ساتھ چھوڑتا چلا گیا اور ایک حسین یاد بن گیا اور یاد بھی ایسی جن کو میں اگر بھولنا بھی چاہوں تو بھول نہیں پاؤنگی۔ وہ اور اس کی یادیں اب نہ چاہتے ہوئے بھی میری زندگی کا حصہ بن گئی ہیں۔ لیکن اب مجھے احساس ہورہا ہے کہ کچھ نہ کچھ غلط ضرور ہوا ہے۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ غلط کر رہی ہوں ۔ یہ دوستی اپنی حدوں کو پار کر رہی ہے یا پھر کر چکی ہے۔۔ ۔۔۔۔ شائد؟؟؟
کئی بار میں نے اپنی زندگی کی حقیقت بتانے کی کوشش کی مگر ہر بار نہ جانے کیوں میرے لب کچھ کہہ ہی نہیں پائے۔ سوچا کہ اگر حقیقت جان کر اس نے مجھ سے بات کرنا چھوڑ دیا تو ؟؟؟؟؟ مگر اسے دانش کے بارے میں بتانا تو ہوگا۔ ۔۔ ۔کیونکہ کہیں نا کہیں اس کے دل میں بھی وہی جذبات ابھر رہے ہیں۔ جو میرے ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں۔ ۔ ۔ ۔ یہ میں کیا سوچنے لگ گئی۔ ۔۔ میں تو دانش کو ۔ ۔ ۔ ۔۔ ایسا میں سوچ بھی کیسے سکتی ہوں؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے خدا ! تو ہی مدد فرما۔جس کشمکش میں میں پھنس گئی ہوں ، باہر نکلنے کا سبب پیدا کر۔ کہیں دیر نہ ہوجائے۔۔۔ ۔ ۔
٭٭٭٭ ٭٭٭ ٭٭٭ ٭٭٭ ٭٭٭ ٭٭٭ ٭٭٭ ٭٭٭ ٭٭٭ ٭٭٭ ٭٭ ٭٭٭
13 فروری 2006 بروز سوموار
عامر کی باتوں نے مجھے سوچنے پر بہت مجبور کیا۔آخر محبت ہی تو کی ہے میں نے ۔ پھر یہ ڈر کیسا؟ خوف کیسا؟ اظہار کیوں نہیں ؟؟؟ یہی سوال ہر وقت میرے ذہن میں گھومنے لگے تھے۔ کسی کام میں جی ہی نہیں لگ رہا تھا۔ اب تو کرن سے باتیں کرتے ہوئے بھی لب گھبرانے لگے تھے۔ مگر یہ گھبراہٹ پہلے والی نہیں تھی، اس کا تو کچھ اور ہی مطلب تھا کیونکہ اس کے پیچھے ایک عجیب سی کیفیت چھپی تھی۔ جو مجھ اندر ہی اندر ملامت کیے جارہی تھی کہ اس حقیقت کو چھپا کر نہ صرف میں اپنے آپ کو بلکہ کرن کو بھی دھوکہ دے رہا ہوں۔ اور شائد یہ صحیح تھا۔ محبت کا پھول تو ہوتا ہی کھلنے کے لیے ہے اور میں اس کو کھلنے سے روک رہا تھا ؟ ؟ ؟ ؟ لیکن ایک سچ یہ بھی ہے کہ ان سب کے دوران میں جس درد سے گزرا ہوں ۔ ۔۔ وہ شائد۔ ۔ ۔ لیکن میں کسے درد کہہ رہا ہو ں؟ ؟ ؟ ابھی تو محبت کا درد میں نے محسوس ہی نہیں کیا۔۔ ۔ ۔ ایک چھوٹی سی تکلیف۔ ۔ ۔ اور احساس۔۔۔ یہ بھلا کیسا درد؟ اگر سچ میں درد کو سہنا پر گیا تو۔۔۔۔۔۔۔ خدا نہ کرے۔ ۔ ۔ ۔ نہیں برداشت کر پاؤں گا۔ اتنا مضبوط نہیں ہوں میں۔ میں تو جیتے جی ہی مر جاؤں گا۔پہلی بار زندگی کو اتنے قریب سے جاننے کے بعد اب اس سےجدا ہونے کی سِکت نہیں ہے مجھ میں۔ جس نے ہنسنا سکھایا ، اس سے دور جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ ۔ ۔ ارے! ۔۔۔ یہ میں کیا سوچ رہا ہوں؟۔ ۔ ۔ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ سب وہم ہے۔۔۔ مگر۔۔۔ ایک عجیب سی بے چینی ۔۔۔
کل تک یہی نظریہ رہا مگر کل جو کچھ ہوا، اس نے میری سوچ بدل دی۔ہوا کچھ یوں کہ میں کسی کام سے کینٹین گیا تو وہاں پر مہر، عامر اور کرن باتیں کر رہے تھے۔ پہلے تو سوچا کہ آگے بڑھ کر ان کے پاس جاؤں مگر میرے قدم کچھ فاصلہ پر رک گئے۔
“بتاؤ تو سہی کیسے ہوا؟” کرن بے چین ہو کر سوال کرتی ہے
“بس ہوگیا۔۔۔” مہر ہنستے ہوئے کہتی ہے۔
“جب سے تم یہی کہہ رہی ہو۔۔۔ آج تو تم کو سچ بتانا ہی ہوگا۔۔۔” کرن کہتی ہے
“تم جان کر کیا کرو گی۔۔۔؟” عامر جواب دیتا ہے
“ہمیں بھی پتا ہونا چاہیے ۔ کبھی بھی، کہیں بھی ضرورت پر سکتی ہے۔۔” کرن ہنستے ہوئے کہتی ہے۔
“جب تم پر یہ وقت آئے گا تو تم خود سمجھ جاؤ گی۔۔۔” مہر عامر کی طرف دیکھتے ہوئے کہتی ہے
“بالکل صحیح کہا تم نے۔۔۔” عامر اس کی بات کی تائید کرتا ہے
“اب یہ فلسفے نہ سناؤ۔ ۔ ۔ ۔ اصل بات پر آؤ۔” مصنوعی غصہ میں کرن کہتی ہے
“ایک بات یاد رکھنا ۔ ۔۔ ۔ محبت کوئی چھپانے والی چیز نہیں ہوتی۔۔۔” عامر بولتے ہوئے ذرا ٹھہر جاتا ہے۔۔” غلط فہمیاں، دوریاں، جھگڑے، روٹھنا ، منانا، ہنسنا مسکرانا، رونا رلانا سب محبت کا حصہ ہیں۔ محبت یہ نہیں کہ جو چاہا، وہی ملے۔ جس کو میں محبت کروں ، وہ بھی مجھ سے محبت کرے۔۔ ایسا تو ادلے کا بدلہ ہوا۔ یہ تو ایک طرح کی خریداری ہوئی اور جبکہ محبت خریدی یا بیچی نہیں جاتی۔یہ ایک احساس کا نام ہے۔ جس کو محسوس کرنا، سمجھنا اور پھر اس کا سامنا کرنا محبت کہلاتا ہے۔محبت کا اظہار لازمی ہونا چاہیے کیونکہ کہتے ہیں نا۔۔ ۔ محبت مشک کی طرح ہوتی ہے ۔ جیسے مشک کو تھیلی میں بند کرکے رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بالکل اسی طرح محبت کو بھی اپنے دل میں چھپا کر رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔” مہر کی طرف دیکھتے ہوئے ایک انجانی سی دنیا میں محو ہو کر کہتا ہے
” صحیح کہا تم نے ۔ ۔۔ ۔ محبت۔ ۔ ۔ ۔” مہر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہتی ہے جبکہ کرن اس کی باتیں دھیان سے سن رہی ہوتی ہے۔ ان کی باتیں میرے دل پر بہت اثر کرتی ہیں اور احساس ہوتا ہے کہ شائد وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔۔۔ محبت کو چھپانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ میں آگے بڑھنے کی بجائے واپس پلٹ جاتا ہوں مگر شائد عامر نے مجھے دیکھ لیا تھا تب ہی وہ میرے پیچھے آکر میرے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے۔
“کیا ہوا؟ وہاں سے چل کیوں دیے؟۔۔۔” وہ پوچھتا ہے
“بس ویسے ہی۔۔۔۔” اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے جواب دیتا ہوں
“تو پھر کیا سوچا؟” وہ سنجیدہ انداز میں پوچھتا ہے
” کس بارے میں ؟؟” انجان بنتے ہوئے کہتا ہوں
“زیادہ انجان بننے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ۔ ۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں کس بارے میں پوچھ رہا ہوں۔۔”
“کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔ کہ کیا کروں ؟؟ ”
“یار اس میں سوچنے والی کیا بات ہے۔۔۔۔ بس کہہ ڈال۔۔۔اور ویسے بھی کل کا دن بہت اچھا ہے۔۔ اظہار کے لیے۔۔۔”
“کیا مطلب ؟؟؟۔۔۔ ” حیران ہو کر پوچھتا ہوں
“یار۔۔۔ کل 14 فروری ہے۔۔۔ ویلن ٹائن ڈے۔۔۔ یعنی محبت کا دن۔۔۔ ” پرجوش انداز میں کہتا ہے
” تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو ؟؟؟؟؟؟ تو کا کیا مطلب؟۔۔۔۔ کہہ دے اسے اپنے دل کی بات۔۔۔ کیا معلوم کل سے ہی تمہارے نئے سفر کی شروعات ہو۔” وہ شوخ پن میں کہتا ہے
“مگر۔۔۔ ڈرتا ہوں یار ۔۔۔”
” پیار کیا تو ڈرنا کیا ؟؟” یہ کہہ کر وہ چلا جاتا ہے
٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭٭٭
14 فروری 2006 بروز منگل
آج کا دن میرے لیے نہ تو کسی طرح سے بھی خوشیاں بکھیر پایا اور نہ ہی غم۔ آج تک تو سنا تھا کہ کہ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات لیکن مجھے تو چاندنی چند لمحوں سے بڑھ کر دیکھنا نصیب ہی نہیں ہوئی اور جہاں تک اندھیری رات کی بات ہے وہ تو روشن دن میں ایسی چھائی جیسے کالے بادل آسمان کو اپنے لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
صبح تو میرے لیے ایک روشن دن کا آغاز تھا۔ ہر طرف محبت کے نغمے میرے کانوں میں گونج رہے تھے۔ ہر گزرتا لمحہ مجھے میری محبت کا احساس دلارہا تھا۔اور مجھے کرن کے قریب سے قریب تر لے جارہا تھا۔ یونیورسٹی پہنچا تو میرا انداز ہی الگ تھا۔ ہر طرف پھول ہی پھول۔۔۔ گلاب ہی گلاب۔۔۔ عامر نے میرے چہرے کے اس انداز کو پڑھ لیا تھا۔
“آج کچھ الگ موڈ میں نظر آرہے ہو۔۔” مسکراتے ہوئے کہتا ہے
“ہاں۔۔۔ یار۔۔۔”کہنے کو جیسے الفاظ ہی ختم ہوگئے۔
“تو پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیار ہو؟ ”
“ہاں۔۔۔۔” اپنے خیالوں میں گم اثبات میں سر ہلاتے ہوئے
“اس وقت کلاس روم میں ہے وہ۔۔۔۔۔ جاؤ۔۔” میرے ساتھ چلتے ہوئے کہتا ہے
“مگر یار۔۔۔۔۔۔۔”چلتے ہوئے رک جاتا ہوںاور پیچھے مڑ کر کہتا ہوں
“مگر وگر کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج تمہیں اظہار کرنا ہوگا۔”
“لیکن اگر۔۔۔۔۔۔۔۔ “ایک عجیب سا خوف مجھ پر طاری ہوجاتا ہے
“کل کی بات بھول گیا کیا؟؟؟” پل بھر خاموشی کے بعد کہتا ہے” اب چلا جا ۔۔ کہیں ایسا نا ہوکہ تجھ سے پہلے کوئی اور اس سے اظہار محبت کردے۔۔” ہنستے ہوئے کہتا ہے
“تم بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مصنوعی غصہ میں کہتا ہوں
“میں بھی ۔۔۔ کیا ؟؟؟؟ اب بولو بھی ۔۔۔۔۔”میں اس کی بات کو اَن سنا کر کے آگے چل دیتا ہوں
” سنو۔ ۔۔ ۔سنو۔ ۔ ۔ ۔ محبت کی فلائٹ اپنی اڑان بھرنے کو بالکل تیار ہے۔۔۔”میں ہنستے ہوئے پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھتا ہوں” محبت کی یہ فلائٹ ۔۔”کلائی میں بندھی گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے” ٹھیک 11 بجے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوچکی ہے۔ صرف 5 منٹ کے مختصر سے وقت میں ہماری یہ فلائٹ اپنی منزل پر ہوگی اور فلائٹ کے ٹیک اوور کے فوراً بدھ اظہارِ محبت ہوگا۔۔۔”
میں جب کلاس روم میں پہنچتا ہوں تو عجب سی کیفیت ہوتی ہے۔ سامنے بیٹھے کرن کسی سے سکائپ پر باتیں کر رہی ہوتی ہے۔ اسکی ہنسی اور مسکراہٹ میرے دل کو مزید مچل دیتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مجھے جہاں بھی کی خوشیاں ملنے والی ہیں لیکن یہ سب عارضی ہوتا ہے۔ کھلا گلستان یَک دم ویران صحرا میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ محبت کے پھول پل بھر میں ایسے مرجھا جاتے ہیں جیسے کبھی کھِلے ہی نہیں تھے۔ خوشیوں کے بادل کہیں گم ہوجاتے ہیں۔ یہ الفاظ اس تِیر کی مانند ثابت ہوتے ہیں جو کمان سے نکل کر اپنے ہدف پر جا لگا ہو جبکہ ان الفاظ کا ہدف میرا دل ہوتا ہے اور اس تِیر کے لگنے سے میرا دل چھلنی ہوجاتا ہے۔
“آئی۔۔۔ لو۔۔۔یو۔۔۔۔ٹو۔۔۔” وہ سکائپ پر باتیں کرتے ہوئے کسی کو کہتی ہے۔ یہ کہتے ہوئے اس کے چہرے پر مسکان نمایاں تھی جبکہ میری آنکھیں غم سے چور۔۔۔ ہنستے ہوئے وہ یک دم میری طرف متوجہ ہوتی ہے تو فوراً ہیڈ فون اتار کر میرے پاس آکر خوشی سے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے
“اچھا ہوا۔۔۔ تم آگئے۔۔ مجھے کسی کو تم سے ملانا ہے۔۔”میں حیرت سے اس کے چہرے کو تکتا رہتا ہوں۔ ہزاروں سوال ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔جواب کوئی نہیں۔۔۔ وہ مجھے اپنے لیپ ٹاپ کے پاس لے جاتی ہے ۔ جو سوال میرے دل میں کانٹے کی طرح چبھ رہے ہوتے ہیں ان کا اگلے ہی لمحے جواب مل جاتا ہے۔ لیپ ٹاپ پر ایک لڑکا ہلکی سی تبسم کے ساتھ نظر آرہا ہوتا ہے۔ اس کو دیکھ کر میرے اوسان ہی خطا ہوجاتے ہیں۔ وہ مجھے بالکل سامنے کردیتی ہے۔
“دانش۔۔۔ اس سے ملو۔۔۔۔ یہ ہے دانیال۔۔”اس کی آواز میں جوش بیدار ہوجاتا ہے
“ہیلو۔۔آئی ایم دانش۔۔۔۔ مل کر خوشی ہوئی۔۔” وہ سنجیدہ ہوکر کہتا ہے مگر اسکی اس سنجیدگی میں بھی ایک الگ سا شوخ پن ہوتا ہے
“اور دانیال یہ ہے دانش۔۔۔۔۔۔ میرا منگیتر۔۔۔۔” ایک بار پھر یہ الفاظ تیر کی طرح میرے دل کو چیرتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔ مزید کچھ کہنے یا سننے کی قوت میرے جسم میں باقی نہیں رہتی۔ چند لمحوں پہلے جہاں خوشیاں کا بسیرا تھا، اگلے ہی لمحے ویرانی چھا جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جسے میرے پاؤں تلے سے زمیں نکل گئی ہو اور میں زمین میں دھنستا ہی جارہا ہوں۔ پل بھر کے لیے تو سانس لینا بھی دشورا ہو جاتا ہے۔
“اب چلا جا ۔۔ کہیں ایسا نا ہوکہ تجھ سے پہلے کوئی اور اس سے اظہار محبت کردے۔۔” عامر کے یہ الفاظ میرے کانوں میں گونجنے لگتے ہیں۔
جو خوف میرے دل میں پیدا ہوا تھا وہ میرے سامنے آگیا اور جب دل کا یہ حا ل ہو تو آنکھوں سے آنسو کا نکل جانا بجا ہے۔ یہ آنسو ان پر آشنا نہ ہوجائیں اس غرض سے فوراً وہاں سے چلا جاتا ہوں۔ پیچھے سے کرن آواز دے کر روکنے کی کوشش کرتی ہے مگر میں کوئی جواب نہیں دیتا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: