Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 13

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 13

–**–**–


14 فروری 2006 بروز منگل
کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جن کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آج کا دن بھی انہی دنوں میں سے ایک تھا۔ جس کو نہ میں بھول سکتی ہوں اور نہ ہی اس کی یادیں اپنے ذہن سے نکال سکتی ہوں۔ آج پہلی بار اس نے مجھے ویلنٹائن ڈے وش کیا۔
میں کلاس میں بیٹھی فیس بک یوز کر رہی تھی کہ سکائپ پر اس کی کال آئی ۔ میں نے فوراً سے پہلے ریسیو کرلی
“بڑی جلدی کال پِک کر لی۔۔”وہ حیرت سے پوچھتا ہے
“نہ سلام ، نہ دعا۔۔۔ سیدھا سوال دے مارا۔۔۔”
“اچھا جی۔۔۔۔۔ “گردن ہلاتے ہوئے” السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکتہ ”
“اب زیادہ اوور مت ہو۔۔۔” ہنتے ہوئے کہتی ہوں
“اب بندہ نے سلام کر ہی لیا ہے تو اس کا جواب دینے سے گناہ نہیں ملے گا۔”
“وعلیکم السلام ۔۔” منہ بنا کر اس کی بات کا جواب دیتی ہوں
“اتنی بے رخی سے جواب دیتے ہیں ؟؟؟اگر میں اتنے پیار سے کسی دوسری لڑکی سے کو سلام کرتا تو وہ فوراً میری دیوانی ہو جاتی۔۔” وہ کہتا ہے
“تو کر لو جا کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی آج تو کافی لڑکیاں تمہارا انتظار کر رہی ہوں گی۔۔”
“یہ تو تم سے سولہ آنے صحیح بات کی۔۔” آنکھوں سے تصدیق کرتے ہوئے کہتا ہے
“لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ پہلے کس کے پاس جاؤں؟ سنجیدہ انداز میں کہتا ہے
“پھر مجھ سے بات کیوں کر رہے ہو۔۔۔۔ ان کے پاس جاؤ۔۔ کہیں دیر نہ ہو جائے۔۔” گردن ہلاتے ہوئے کہتی ہوں
“چلا جاؤں گا۔۔ ابھی پانچ منٹ باقی ہیں۔۔ سوچا تم سے ٹائم پاس کر لوں۔۔۔”
“اچھا جی۔۔۔ اب میں ٹائم پاس کرنے کے لیے رہ گئی ؟؟” مصنوعی غصہ میں کہتی ہوں
“میں نے ایسا تو نہیں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ ” کندھوں کو اچکاتے ہوئے
“لیکن تمہارا مقصد تو یہی تھا نا۔۔۔”
“جی نہیں۔۔۔۔ لیکن اگر تم یہی سوچتی ہو تو پھر میں کیا کر سکتا ہوں۔۔۔۔” ہنسی پر قابو کرتے ہوئے کہتا ہے
“اگر تم اس وقت میرے پاس ہوتے ۔ تو۔۔۔” دانت بھینچتے ہوئے کہتی ہوں
“اگر میں اس وقت پاس ہوتا تو۔۔۔۔۔۔ “انداز میں شوخ پن غالب آجاتا ہے “کیا کرتی تم۔۔۔۔ بتائو۔؟؟” کیمرے کے بالکل نزدیک ہوتے ہوئے کہتا ہے
“تمہارا گلا دبا دیتی۔۔۔۔۔۔۔”ہاتھوں کو کیمرے کے بالکل سامنے کرتی ہوئی کہتی ہوں
“پھر تو شکر ہے میں تمہارے سامنے نہیں ہوں۔۔۔۔ ورنہ ایک بے گناہ، معصوم سا حسین لڑکا مارا جاتا۔” ہنستے ہوئے کہتا ہے
“توبہ۔۔۔ توبہ۔۔۔۔ جھوٹ کی بھی ایک حد ہوتی ہے” کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہتی ہوں
“کیوں ۔۔۔ میں نے کیا جھوٹ بولا؟”
“اپنے منہ میاں مٹھوں۔۔۔ کون بن رہا تھا؟” طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہتا ہے
“کیوں۔۔۔۔۔ میں کیا حسین نہیں ہوں کیا؟” لیپ ٹاپ کے بالکل قریب ہوجاتا ہے، اس کی آنکھوں کی رعنائی میری آنکھوں کو جھکنے پر مجبور کردیتی ہیں
“جی نہیں۔۔۔ اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے فورا کہتی ہوں “یہ خوش فہمی ہے تمہاری۔۔۔ تم سے بھی حسین چہرے اس دنیا میں ہیں”
“یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔۔۔ چراغ لے کر بھی ڈھونڈو گے نا۔۔۔ پھر بھی مجھ جیسا حسین چہرہ نہیں ملے گا تمہیں۔۔۔ ” اس کی باتوں کا انداز مجھے بھانے لگتا ہے
“آج کے دور میں کوئی پاگل ہی ہوگا ، جو چراغ لے کر تمہیں ڈھونڈنے نکلے گا۔۔۔ ویسے اگر چراغ کی بجائے موم بتی لے کر نکلے تو کچھ زیادہ روشنی ہو جائے گی” طنز کرتے ہوئے کہتی ہوں
“اب تم میرا مذاق اڑا رہی ہو ؟؟؟ ” پیچھے بیڈ سے ٹیک لگاتے ہوئے کہتا ہے
“میرے اندر اتنی ہمت کہاں؟؟ کہ آپ جیسے حسین اور معصوم سےلڑکے کا مذاق اڑاؤں۔۔۔” طنزیہ انداز میں کہتی ہوں
“اب بس کرو۔۔۔۔۔۔”بات ختم کرنے کی غرض سے کہتا ہے
“ہاں۔ ہاں۔۔۔۔ اب بس ہی کہو گے۔۔۔۔ کوئی جواب تو بننے کو نہیں آرہا۔۔۔” ہنستے ہوئے “اب بس کرو۔۔” اس کی نقل اتارتے ہوئے کہتی ہوں
“تم کبھی سدھرو گی نہیں۔۔۔”ہنستے ہوئے کہتا ہے
” جی ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ایسی ہی ہوں اور ایسی ہی رہنا پسند کرونگی” ہم دونوں ہنسنے لگ جاتے ہیں
“اوہ۔۔۔۔۔ ہو۔۔۔۔ “ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے” جس بات کے لئے تم کو کال کی تھی وہ تو بھول ہی گیا۔۔۔”
“کتنے بھولکڑ ہو تم۔۔۔۔” اس کی ٹانگ کھینچتے ہوئے
“بس۔۔۔۔۔ بس۔۔۔۔ ۔میں بھولکڑ نہیں ہوں، تمہاری باتوں کی وجہ سے بھول گیا”
“اب تم اپنے بھولنے کی بیماری کا وبال بھی مجھ پر ڈال دو۔۔”
“تم۔۔۔۔۔۔” وہ ہاتھ میری طرف بڑھاتے ہوئے
“اب جو بات کرنی ہے وہ کرو، ورنہ پھر مجھے الزام دو گے” اس کی بات کاٹتے ہوئے کہتا ہوں
” تمہیں معلوم ہے ۔ ۔۔ آج کیا دن ہے؟ “غصے پر قابو کرتے ہوئے جو در اصل مصنوعی تھی
“تاریخ پوچھنے کے لیے اب تم نے مجھے فون کیا۔۔۔۔۔۔۔۔” ہاتھ جوڑ کر کہتی ہوں “جاؤ بابا۔۔۔۔۔۔ جاؤ، کسی اچھے سے ڈاکٹر سے اپنا علاج کرواؤ۔”
“مطلب تمہیں یاد نہیں کہ آج کیا دن ہے؟” حیرت سے پوچھتا ہے
“14 فروری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کچھ ؟؟؟ ” بے رخی سے کہتی ہوں
“اور اس دن کو کیا کہتے ہیں بھلا؟؟؟” ہنٹ دیتے ہوئے
” مجھے کیا پتا۔۔۔ کیا کہتے ہیں اس دن کو؟ ” انجان بنتے ہوئے
” اس کا مطلب تمہیں کچھ یاد نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔” تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد ” آج ویلنٹائن ڈے ہے ۔۔۔ محبت کے اظہار کا دن۔۔ آج کے دن لوگ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو وش کرتے ہیں”
“تو۔۔۔۔” بہت بے رخی سے کہتی ہوں
” تو کیا ؟؟؟؟ مجھے وِش نہیں کرو گی کیا؟ “سوالیہ انداز میں کہتا ہے
” ابھی تو تم نے کہا ہے کہ اس دن محبت کرنے والے ایک دوسرے کو وش کرتے ہیں تو جب مجھے محبت ہو گی تو کر دونگی وِش۔۔” مسکراہٹ پر قابو پاتے ہوئے
“اچھا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطلب یہ کہ ہم آپ کے ہیں کون؟”ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ
“جی ہاں۔۔۔۔ جب محبت ہوگی، تب کریں گے۔۔۔”
“اب فرض کرو کہ تمہیں مجھ سے محبت ہوگئی۔ تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ہنستے ہوئے
“یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔۔۔۔۔ مجھے تم سے محبت نہیں ہوسکتی۔۔”
“میں تمہیں کب کہہ رہا ہوں کہ تم مجھ سے محبت کرو۔ میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں کہ فرض کرو کہ میں وہ شخص ہوں جس سے تم کو محبت ہوگی اور میں تمہیں کہتا ہوں آئی ۔ ۔ ۔ ۔ لو۔ ۔ ۔ ۔ ۔یو۔ ۔ ۔ ۔ تو تم کیا کہو گی؟” مسکراہٹ کے ساتھ کہتا ہے
“تو ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں کہوں گی۔ ۔ ۔۔۔ آئی ۔۔ ۔ ۔ لو۔ ۔ ۔ ۔ یو ۔ ۔ ۔ ٹو۔ ۔۔ ۔ “ہنستے ہوئے کہتی ہوں
ہم دونوںہنسنے لگ جاتے ہیں اور میں دانش کے ساتھ باتوں میں اتنی مصروف تھی کہ مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ دانیال کب کلاس میں آیا۔ جب میری نظر اس پر پڑی تو وہ دروازے کے پاس کھڑا تھا۔ اس کے اوسان خطا ہوئے ہوتے ہیں۔ میں اس کی حالت کو سمجھ نہیں پائی اور فوراً اس کے پاس چلی جاتی ہوں۔
“اچھا ہوا۔۔۔ تم آگئے۔ مجھے تمہیں کچھ دِکھانا ہے” اس کی سوالیہ نظروں کو میں سمجھ نہیں پاتی اور اس کا تعارف دانش سے کرواتی ہوں اور دانش اس کو میرے اور اپنے رشتے کے بارے میں سب کچھ بتا دیتا ہے۔ میرے چہرے پر تو مسکراہٹ تھی مگر اس کا انداز سوالیہ تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ان سب کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ اسے ہمارے رشتے کے بارے میں جان کر بہت حیرت ہوئی۔ شائد اسی لیے اس کی آنکھ سے آنسو نکل آئے لیکن اس نے ان کو چھپانے کی بہت کوشش کی اور شائد اسی لیے وہ وہاں سے بغیر کچھ کہے چلا گیا۔ لیکن تب بھی میں اسکی خاموشی کو پڑھ نہ سکی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: