Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 15

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 15

–**–**–


12 مارچ 2006 بروز اتوار
آج مجھے ہر سوال کا جواب مل گیا۔ میں جس پریشانی میں مبتلا تھی اس سے نکلنے کا راستہ مل گیا۔ جس حقیقت کو میں ماننے سے انکار کر رہی تھی اس کا حل مل گیا اور یہ سب کچھ مہر کی بدولت ہوا۔
شام کا وقت تھا۔ ہر طرف ٹھنڈی ہوائیں دل کو لبھا رہی تھیں۔ پرندوں کی چہچہاہٹ کانوں میں امید کا رس گھول رہی تھیں۔ ایسے میں کون کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔ ہر کوئی اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے پیش پیش تھا۔میں اور مہر بھی ننگے پاؤں ہری ہری گھاس پر چل کر اپنے دل کو ٹھنڈک پہنچا رہے تھے۔ ویسے بھی ایک کہاوت ہے کہ کسی سے محبت کرنے اور اظہار کر نے کے لیے موسم بہت اہم ہوتا ہے اور آج کا موسم پرفیکٹ ہے۔
” کتنا سہانا موسم ہے ۔۔۔ نا۔۔۔۔” بالوں کو سمیٹتے ہوئے مہر مجھ سے پوچھتی ہوں
“جب اندر کا موسم ناخوشگوار ہو تو باہر کا موسم بے معنی ہوتا ہے” بے رخی سے جواب دیتی ہوں
“اب اس موسم کو کیوں برا بھلا کہہ رہی ہو؟ اس موسم کو یہاں تک لانے میں تم بھی تو پیش پیش رہی ہو۔۔۔۔” پاس کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہتی ہے
“تمہارا مطلب کیا ہے؟۔۔۔ میں نے مجبور کیا دانیال کو۔۔۔ کہ وہ مجھ سے پیار کرے؟”
“ہاں۔۔۔”بے رخی سے بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیتی ہے
“میری طرف دیکھ کر بات کرو۔۔۔” اس کو کاندھے سے پکڑ کر اپنی طرف کرتے ہوئے کہتی ہوں
“ہاں ۔۔۔ کہو۔۔۔۔” لہراتی زلفوں کو سمیٹتے ہوئے کہتی ہے
“تم اتنی بے رخی سے کیوں بات کر رہی ہو؟ میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں اور پھر تم۔۔۔۔”
“یہ پریشانی بھی تو تمہاری ہی پیدا کی ہوئی ہے۔ میں نے کتنی بار تمہیں سمجھایا کہ دانیال سے دور رہو۔ اس کے ساتھ اتنا وقت مت گزارو۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔۔۔ تم نے تو جیسے قسم کھا رکھی تھی، میری بات نہ ماننے کی۔۔۔۔۔ اب ہوگیانا وہی۔۔۔۔ جس کا مجھے خوف تھا” کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مزید کہتی ہے “میں دانیال کو برا نہیں کہہ رہی مگر جس فیملی سے وہ تعلق رکھتا ہے وہاں ان سب باتوں کو محبت کہتے ہیں۔ وہاں بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ جیسا کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔۔۔ بلکہ ان سب رشتوں کو جھوٹ ، فریب اور دھوکہ سمجھا جاتا ہے۔”
“مطلب۔۔۔۔”آنکھوں میں خود بخود نمی آجاتی ہے
“مطلب صاف ہے۔ اس میں قصور دانیال کا نہیں بلکہ تمہارا ہے۔ تم اس کی ذمہ دار ہو۔ اور جس تکلیف سے اس وقت وہ گزر رہا ہے اس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتی۔ ایک ایک پل اس کے لیے یہ ماننا کتنا کٹھن ہوگا کہ تم اس کی نہیں بلکہ کسی اور کی ہو۔۔۔۔۔ وہ۔۔ ۔ ۔ اب میں تمہیں کیا کہوں۔۔۔۔”
“لیکن اسے ایک بار مجھے کہنا تو چاہیے تھا نا۔۔۔”
“تم ابھی بھی نہیں سمجھی۔۔۔۔” طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہتی ہے
“اسے محبت ہوئی ہے ۔۔۔ دوستی نہیں۔ دوستی ہو سکتی ہے بتا کر مگر محبت نہیں۔ یہ تو بس ہوجاتی ہے اور احساس تب ہوتا ہے جب یہ عروج پر پہنچ جاتی ہے اور پھر وہاں سے واپسی بہت مشکل ہوتی ہے”
“کیا واقعی محبت ایسی ہوتی ہے؟” حسرت کے ساتھ پوچھتی ہوں
“ہاں ۔۔ ۔ ۔ ۔محبت پھول جیسی ہوتی ہے” پھول کو ٹہنی سے توڑ کر ہاتھ میں لیتے ہوئے کہتی ہے
“مگر کیسے۔۔۔۔”
” جس طرح پھول کھلنے کے بعد اپنی خوشبو کو فضاؤں میں بکھیر دیتے ہیں اور اگر ہم اس خوشبو کو پھول میں واپس لے جانا چاہیں تو نہیں لے جا سکتے۔ بالکل اسی طرح محبت جب اپنی خوشبو بکھیر چکی ہوتی ہے تب جا کر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمیں محبت ہوگئی ہے لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوجاتی ہے اور اگر ہم لوٹنا بھی چاہیں تو واپس جانا ناممکن ہوتا ہے۔” اس کی باتوں کا اثر میرے دل پر ہوتا ہے اور پہلی بار محبت کو قریب سے جانتی ہوں۔
“جب بات شروع ہو ہی گئی ہے تو ایک اور بات یاد رکھنا کہ محبت اور پسند دو الگ الگ احساس ہیں۔ بعض اوقات انسان اپنی پسند کو محبت سمجھ بیٹھتا ہے اور اس غلط فہمی میں وہ اپنی پوری زندگی گزار دیتا ہے اور جب احساس ہوتا ہے تو بہت دیر ہوجاتی ہے۔ پسند بدلتی رہتی ہے مگر محبت کبھی نہیں بدلتی ۔ جس چیز ، جس انسان سے محبت ہوتی ہے تو اس کی خاطر اگر انسان کو دنیا سے بھی لڑنا پڑے تو انسان ہر طوفان سے لڑ جاتا ہے۔ محبت ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کو جینا سیکھاتی ہے۔ جینے کی نئی نئی رای دکھاتی ہے۔” اپنی سوچ میں محو ہو کر کہتی ہے
“کیا واقعی محبت اور پسند الگ چیزیں ہیں؟” حیرت سے پوچھتی ہوں
“ہاں۔۔۔۔۔ ” وہ مصنوعی طور پر مسکراتے ہوئے کہتی ہے
“تو میرا اور دانش کا رشتہ کیا ہے؟”
“یہ میں نہیں جانتی۔۔۔۔ اس کا فیصلہ تمہیں خود کرنا ہے مگر اتنا ضرور کہتی ہوں کہ دانیال تم سے سچی محبت کرتا ہے۔” یہ کہہ کر وہ آگے کی طرف چلی جاتی ہے۔
“میرا اور دانش کا رشتہ ؟۔۔۔۔۔۔۔ وہ میری پسند ہے یا محبت؟”
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
29 مارچ 2006 بروز بدھ
کافی سوچنے کے بعد آخر مجھے یہ سمجھ آہی گیا کہ کون میری محبت ہے اور کون میری پسند۔ کس کو میں دل سے چاہتی ہوں اور کس کو دل سے پسند کرتی ہوں۔ سب کچھ میرے ذہن میں کھلی کتاب کی طرح صاف تھا۔ اب بس اظہارِ محبت باقی ہے اور وہ بھی جلد ہو جائے گا لیکن اس کا اظہار کرنے کا موقع ہی نہیں ملا کیونکہ باتیں جو پہلے الجھی ہوئیں تھیں خود بخود سلجھتی چلی گئیں اور جانے کب باتوں ہی باتوں میں اظہار کے ساتھ ساتھ اقرار بھی ہو گیا۔۔ خدا۔۔۔۔۔ جانے۔۔۔۔۔۔
کل یونیورسٹی میں ہم سب دوست باتیں کر رہے تھے۔
“دانیال کو دیکھا تم نے۔۔۔” میں پوچھتی ہوں
“وہیں ہوگا۔۔۔ جہاں وہ ہمیشہ ہوتا ہے۔۔”مہر جواب دیتی ہے
“اوہ۔۔۔۔ تو پھر میں ابھی آتی ہوں۔۔”وہاں سے جاتے ہوئے کہتی ہوں
“اتنی بھی جلدی کیا ہے۔۔۔ جا ایسے رہی ہو جیسے بہت دیر ہو گئی ہو۔۔” کامران کہتا ہے
“دیر تو واقعی ہوگئی ہے۔۔۔۔”ایک سوچ میں ڈوب کر جواب دیتی ہوں
“کیا مطلب۔۔؟” مہر پوچھتی ہے
“مطلب ۔۔۔۔ بہت جلد سمجھ آجائے گا۔۔۔”مسکراہٹ کے ساتھ “مگر اس وقت مجھے جانا ہوگا۔۔”
“بڑی عجیب بات ہے۔۔۔۔۔” عامر کندھے اچکاتے ہوئے کہتا ہے۔ اتنے میں وہاں پر ہی دانیال آجاتا ہے ۔ اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح سنجیدگی ہوتی ہے۔
“دانیال۔۔۔۔۔اچھا ہوا۔۔۔۔ تم آگئے مجھے تم سے بات کرنی تھی۔۔” اس کے پاس جا کر کہتی ہوں
” مگر مجھے اس وقت کسی سے بات کرنے کا کوئی موڈ نہیں ہے۔” سنجیدگی سے وہ کہتا ہے اور چائے کا آرڈر دے کر ایک طرف چلا جاتا ہے
“بات تو تمہیں سننی ہوگی، آخر اتنے دنوں بعد موقع ملا ہے” اس کا ہاتھ پکڑ کر سب کے سامنے لے جاتے ہوئے کہتی ہوں
” چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔ ” اپنے ہاتھوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہتا ہے
“ابھی سے ساتھ چھورنے کا کہہ رہے ہو؟” اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتی ہوں اور میری بات سن کر وہ بالکل خاموش ہوجاتا ہے اور مزاحمت کرنا بند کر تے ہوئے میرے چہرے کی طرف دیکھتا ہے۔ بن کہے، بن سنے وہ سب کچھ سمجھ جاتا ہے مگر انجان بنتے ہوئے
“کیا مطلب ہے تمہارا؟” پہلے جو سنجیدگی اور بے اطمینانی تھی وہ غائب ہو جاتی ہے اور اس کی طبیعت میں شوخ پن اور اطمینان پیدا ہو جاتا ہے
“مطلب ۔۔ یہ کہ ۔ ۔۔ ۔ ۔ جو تم سمجھ رہے ہو” میں جواب دیتی ہوں
“ایک منٹ۔۔۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا ہورہا ہے؟” کامران اونچی آواز میں کہتا ہے
“وہی۔۔۔ ۔۔ ۔ جو پہلے ہو جانا چاہیے تھے”ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتی ہوں
” تم پورے یقین سے کہہ رہی ہو؟” مہر حیرانی سے پوچھتی ہے۔۔”میرا مطلب ہے کہ۔۔۔۔ کیا تم واقعی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟”
“ہاں۔۔۔۔۔ یہی سچ ہے ۔۔۔ تمہاری باتوں سے اندازہ ہوا کہ دانش تو میری پسند ہے ، محبت نہیں۔ اس کے ساتھ مجھے وقت گزارنا اچھا لگتا ہے مگر زندگی گزارنا ۔۔۔۔ اس کے بارے میں کبھی میں نے اتنا نہیں سوچا جتنا پچھلے چند دنوں میں۔۔۔۔” چند لمحے خاموشی چھا جاتی ہے
” مجھے اب اندازہ ہوگیا ہے کہ کون میری زندگی میں کیا حیثیت رکھتا ہے اور کس کو کیا حیثیت ملنی چاہیے؟” اس کی طرف دیکھتے ہوئے میں انجانی سی دنیا میں کھوئے ہوئے کہتی ہوں۔ وہ کچھ کہہ نہیں پاتا اور مسکرا کر میری ہر بات کا جواب دیتا ہے۔
“لیکن دانش۔۔۔۔۔؟” مہر پوچھتی ہے
“دانش پہلے میرا ایک اچھا دوست ہے ۔ پھر منگیتر۔ مجھے یقین ہے وہ ایک دوست کی حیثیت سے میری بات کو ضرور سمجھے گا۔”
“تو پھر بات پکی ہے؟” کامران پوچھتا ہے
“ہاں۔۔۔” میں اور دانیال دونوں ہم آواز اور ایک ہی لہجے میں اکٹھے بولتے ہیں۔ ہماری ہم آہنگی کو دیکھ کر سب ہنسنے لگ جاتے ہیں۔ جب وہ میرے چہرے کی طرف دیکھتا ہے تو مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھ سے اظہارِ محبت کر رہا ہو۔ دل میں ایک عجیب سی لہر دوڑتی ہے اور اس کا اثر چہرے پر نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ احساس شائد اس وقت پیدا ہی نہیں ہوا تھا جب میری دانش کے ساتھ منگنی ہوئی تھی۔ اسی لیے یہ احساس ہی سب سے بڑا ثبوت ہے کہ دانیال ہی میری پہلی اور سچی محبت ہے۔
“پہلی لَو سٹوری دیکھی جس میں نہ اظہار، نہ پیار ۔۔۔ سیدھا اقرار۔۔۔”عامر بات کو طول دیتا ہے
“تم غلط بول گئے۔۔۔ نہ اظہار، نہ اقرار۔۔۔۔۔ سیدھا پیار۔۔۔” کامران ہنستے ہوئے اس کی غلطی کی نشاندہی کرتا ہے
“الفاظ پر نہ جاؤ۔۔۔۔ معنی کو سمجھو۔۔۔۔ یار۔۔۔”ہنستے ہوئے عامر جواب دیتا ہے
“جیسے بِن کہے ، بِن سنے پیار ہوا۔۔۔ ۔ ۔ پھر اقرار ہوا۔” عامر مزید کہتا ہے
“مگر اظہار ابھی تک نہیں ہوا۔۔۔” کامران چھیڑتے ہوئے کہتا ہے
“وہ بھی ہو جائے گا ۔ ۔۔ ۔ پہلے ان دونوں کو اکیلا تو چھوڑ دو۔۔۔” مہر کہتی ہے
“ارے۔۔ ۔ ۔ ہم کوئی ان کو تنگ کر رہے ہیں، کریں جو بات کرنی ہے۔۔ ۔ اس بہانے ہم بھی ان کی پریم کہانی سن لیں گے۔۔۔” عامر شوخ پن میں کہتا ہے۔
“عامر۔ ۔۔ ۔ ۔ چلو اب۔۔۔”ذبردستی اس کو ہاتھوں سے پکڑ کر وہاں سے لے جاتے ہوئے کہتی ہے “تمہیں الگ سے کہنا پڑے گا؟” کامران کو مخاطب کرتے ہوئے اونچی آواز میں کہتی ہے
“اچھا جی۔ ۔۔ ۔ میں تو جارہا ہوں۔۔۔۔”کندھے اچکاتے ہوئے کھڑا ہوتا ہےاور باہر جانے لگتا ہے تو ایک سوچ اسے پلٹنے پر مجبور کر دیتی ہے
“جو باتیں کرو گے نا۔ ۔ ۔ اس کو ریکارڈ کر لینا تاکہ ہم بھی بعد میں سن سکیں۔۔۔”کامران آہستہ سے پلٹ کر کہتا ہے
“کامران۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” مہر کی زور دار آواز آتی ہے اور وہ گھبرا کر چلا جاتا ہے
سب کے جانے کے بعد بھی ہم خاموش نگاہوں سے ایک دوسرے سے بات چیت کرتے رہتے ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ لب کیسے ہلائیں؟ کہاں سے بات شروع کریں؟ اور کیا بات کریں؟ دل کی کیفیت عجیب سی ہوتی ہے۔
“تم سچ میں ۔۔ ۔ ۔ محبت کرتے ہو مجھ سے؟” ہمت کر کے میں اس سے پوچھتی ہوں
“سچ کا تو پتا نہیں۔۔ ۔ ۔ ۔ مگر۔ ۔ ۔ ہاں!” انداز میں شوخ پن غالب آجاتا ہے
“ایک بات سچ سچ بتاؤ گی؟ ” کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد سنجیدگی سے پوچھتا ہے
“ہاں۔ ۔ ۔ ۔پوچھو ۔۔ ” میں پوچھتی ہوں
“کیا تم اس بات کا اظہار اپنی فیملی سے کر پاؤ گی؟ کیا وہ مان جائیں گے؟ ” اس کے انداز میں حیرت اور خوف دونوں احساسات اکٹھے ہو جاتے ہیں
“مجھے ہماری محبت پر یقین ہے۔ سب ٹھیک ہوجائے گا اور اگر کوئی مشکل آ بھی گئی تو تم ہو نا میرے ساتھ ۔ ۔ “اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے حوصلہ دیتے ہوئے کہتی ہوں
ہلکی سی تبسم کے ساتھ وہ میری طرف دیکھتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: