Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 16

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 16

–**–**–


23 جون 2006 بروز جمعہ
چھٹے سمیسٹر کا آج لاسٹ ڈے تھا۔ یہ کیسے ، کس طرح وقت گزرا، پتا ہی نہیں چلا۔ پہلے تو وقت گزرتا تھا تو ہر لمحہ ، ہر پل ایک نیا موڑ لاتا تھا لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بس ایک موڑ نے میری زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ 28 مارچ کے دن کو میں کبھی نہیں بھول سکتا ۔ اگر یہ کہوں کہ بھولنا بھی چاہوں تو بھی نہیں بھول سکتا تو غلط نہ ہوگا۔ آخر اس دن میرے اور کرن کے درمیان جو رشتہ بنا ، اس کو میں کیسے فراموش کرسکتا ہوں؟ اس رشتے کو جو بھی نام دینا چاہوں وہ کم ہوگا۔ محبت کا ۔۔۔۔ پسند کا۔۔۔۔۔ ہم نوا کا ۔۔۔۔ ہم سفر کا۔۔ ۔ غرض ہر رشتے کی بنیاد محبت ہے اور اس دن ہماری محبت کا ملن ہوا اور پھر وہ وقت تو جیسے ایسے گزرا کہ ہم چاہ کر بھی اسے روک نہیں پائے لیکن ایک بات ہے۔ وقت خود تو گزر گیا مگر اپنی حسین یادیں پیچھے چھوڑ گیا۔ اور آج وہ گھڑی آگئی جب ہمیں علیحدہ ہونا ہوگا۔ ہمیشہ کے لیے نہیں صرف دو ماہ کے لیے۔ یہ سوچ کر ہی مجھے ڈر لگتا ہے کہ کیسے گزاروں گا میں دو ماہ؟ کل ہم دونوں نےاسی لیے بہت سا وقت ایک ساتھ گزارا ۔
“کیسے گزر گئے دن پتا ہی نہیں چلا” اپنی سوچ میں گم ہو کر میں کہتا ہوں
” جو وقت حسین ہوتا ہےاس کا تو واقعی پتا ہی نہیں چلتا۔ اس طرح گزر جاتا ہے جیسے ہاتھ سے ریت۔” وہ جواب دیتی ہے
” دل تو نہیں چاہ رہا کہ ہم علیحدہ ہوں مگر کیا کریں ؟؟۔۔۔ اور تمہیں پتا ہےجب تک میں تمہیں دیکھ نہ لوں ، تم سے باتیں نہ کر لوں، دن گزرتا ہی نہیں اور اب پورے دو ماہ ۔۔ ۔ سوچ کر ہی ڈر لگتا ہے”
“میرا بھی کہاں دل چاہ رہا ہے کہ تم سےعلیحدہ ہوں مگر جانا تو پڑے گانا۔۔۔” بچگانہ انداز میں کہتی ہے
“بس ایک سال۔۔۔۔ اس کے بعد یہ موڑ کبھی نہیں آئے گا۔۔۔” اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہوں
“اگر آبھی گیا تو مجھ سے وعدہ کرو کہ تم میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑو گے” میرے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے کہتی ہے
“میں تو کبھی بھی نہیں تمہارا ساتھ چھوڑوں گا مگر تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں ایسا لگتا ہے کہ تم۔۔۔۔” ذرا بات کو تبدیل کرتے ہوئے کہتا ہوں
“کیا مطلب ہے تمہارا ؟ میں تم کو ایسی نظر آتی ہوں ؟” مصنوعی غصہ میں کہتی ہے
“نظر تو نہیں آتی مگر۔۔۔۔ وقت کا کس کو پتا ہے؟ کیا پتا۔۔۔۔ وقت بنا دے؟”
“وہ وقت کبھی نہیں آئے گا۔ اگر فرض کیا آبھی گیا تو تب بھی مجھے تم اپنے ساتھ پاؤ گے”وہ سنجیدہ ہو کر مجھ سے کہتی ہے
“یہ تو وقت بتائے گا۔۔۔”ایک عجیب سا ڈر جو میرے دل میں کھٹک رہا ہوتا ہے اس کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا ہوں
“اوہ۔۔۔ہو۔۔۔ تم دونوں یہاں بیٹھے ہو۔ میں نے تم دونوں کو کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔۔” وہاں پر مہر آکر کہتی ہے
“کیوں؟ کیا ہوا؟۔۔۔۔ کوئی خاص بات ؟” میں پوچھتا ہوں
“خاص بات ہے تب ہی تو ڈھونڈ رہی تھی۔ سب فرینڈز گروپ فوٹو لے رہے ہیں، سوچا ہم بھی بنا لیں۔۔” مہر کہتی ہے
“گڈ۔۔ آئیڈیا۔۔۔ ۔۔۔ کیوں کیا خیال ہے؟” میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے
“اب میں کیا کہہ سکتا ہوں؟ جیسے تمہاری مرضی۔۔” کندھے اچکاتے ہوئے مسکرا کر جوب دیتا ہوں
“اب چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب انتظار کر رہے ہیں۔”مہر کہتی ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
7 ستمبر 2006 بروز جمعرات
محبت کا ساتھ بھی مل گیا اور اعتماد بھی مگر اب اس کا اظہار اپنے ڈیڈی اور دانش سے کرنا اتنا محال ہوگا ، میں نے کبھی نہیں سوچا نہیں تھا۔ ایک تو دانیال سے دوری میرے اندر عجیب سی کیفیت پیدا کر رہی تھی تو دوسری طرف میرے اور دانیال کے بارے میں دانش کو بتانا بھی ضروری تھامگر کیسے؟ کئی بار کوشش کی کہ میں سب کچھ سچ سچ بتا دوں مگر ہر بار میں ناکام ہوجاتی ۔ اب تو بس حالات ہی میرا سچ سب کے سامنے لائیں گے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: