Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 17

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 17

–**–**–


یکم مئی 2007 بروز منگل
آخر وہ وقت قریب آہی گیا جب ہماری محبت کو سب کے سامنے آنا ہی ہوگا۔ ڈگری مکمل ہونے میں صرف دو ماہ باقی ہیں۔ اس کے بعد سب اپنی اپنی زندگیوں میں اتنے مصروف ہوجائیں گے کہ پیچھے مڑ کر دیکھے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔ کامران واپس سندھ چلا جائے گا۔ مہر اور عامر بھی اپنی نئی زندگی میں کھو جائیں گے ۔ ان سے دوبارہ ملنا نصیب ہوگا بھی یا نہیں۔۔۔ لیکن ایک بات ہے کہ میں اور دانیال کبھی الگ نہیں ہونگے۔ ہمیشہ ایک ساتھ رہیں گے۔
ہماری محبت کے چرچے اب تو پوری یونیورسٹی میں ہونے لگے ۔ مجھے اس بات پر ٖفخر ہےکہ لوگ ہماری محبت کو عظیم سمجھتے ہیں تو ہی بات کرتے ہیں۔ اب بس دانش کو بتانا باقی تھا لیکن پچھلے ماہ یہ بھی ہوگیا۔
کچھ ہفتے پہلے میں کمرے میں بیٹھی اسائنمنٹ بنا رہی تھی تو ڈیڈی کا فون آیا۔
“کل تو بات کی تھی ڈیڈی سے۔۔۔۔ آج پھر فون ؟ خیریت تو ہے؟” میں فوراً اٹھ کر فون اٹھاتی ہوں اور کال ریسیو کرتی ہوں
“السلام علیکم ڈیڈی۔۔! خیریت تو ہے ، آپ نے آج پھر فون کیا” گھبراہٹ میں فوراً پوچھتی ہوں
“وعلیکم السلام! کیوں ؟ اب ہم اپنی بیٹی کو فون بھی نہیں کرسکتے؟” وہ جواب دیتے ہیں
“نہیں ڈیڈی ۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ پہلے تو آپ ہفتے کے بعد فون کرتے تھے اور آج دوسرے دن ہی۔۔۔۔ بس اس لیے پوچھا” ہنستے ہوئے کہتی ہوں
” ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ اب اتنی بڑی تو ہوگئی ہو کہ اپنے ڈیڈی سے سوال جواب کرو گی۔ کیوں کیا فون؟ کس لیے کیا فون؟”
“ڈیڈی ۔ ۔ ۔ ۔ اب چھوڑیے بھی۔۔۔ اور سنائیے کیسے ہیں آپ؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟”
“ہاں بیٹا۔۔۔! میں بھی ٹھیک ہوں اور طبیعت بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔ میں نے تمہیں اس لیے فون کیا کہ تمہیں بتا سکوں کہ۔۔۔”
“کیا بتانا تھا آپ نے؟” بات کاٹتے ہوئے فوراً پوچھتی ہوں
” پہلے بات تو پوری سن لیا کرو۔۔۔۔یہ بتانا تھا کہ اپریل کے آخر میں دانش آرہا ہے”
“کہاں؟۔۔۔۔ میرے پاس؟” بات کاٹتے ہوئے حیرت سے پوچھتی ہوں
” ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ تم سے ملنے آرہا ہے۔۔ اسے بزنس کے سلسلے میں آنا پڑ رہا ہے اور میں نے ہی اسے کہا کہ وہ تم سےبھی مل لے”
” کیا؟ ۔۔۔ مگر ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کو پہلے بتانا چاہیے تھا نا۔۔” مدھم آواز میں کہتی ہوں
“اسی لیے تو فون کیا ہے۔۔۔۔ اور ویسے بھی وہ تمہارا منگیتر ہے جب چاہے تم سے مل سکتا ہے۔ اسے اجازت کی کوئی ضرورت نہیں۔۔”
“ہاں۔۔۔۔” چہرے پر اداسی چھا جاتی ہے” ٹھیک۔۔۔۔۔ اچھا۔ ۔۔۔۔ صحیح۔ ۔ ۔۔۔ او۔ کے۔۔۔۔ اللہ حافظ” کہہ کر فون بند کر دیتی ہوں اور دانش کے بارے میں سوچنے لگ جاتی ہوں۔ اسے تو کچھ معلوم ہی نہیں۔ کیسے اس کو بتاؤں گی حقیقت؟ میں یہی سوچ رہی تھی کہ وہاں پر مہر آجاتی ہےاور کافی بار مجھے آواز دیتی ہے مگر میں اس کی کسی بات کا کوئی جواب نہیں دیتی ۔ وہ میرے پاس آکر بیٹھ جاتی ہے اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہے۔ اس کے اچانک ہاتھ رکھنے سے میں چونک جاتی ہوں
“کیا ہوا؟ ۔۔۔” کوئی پریشانی ہے” مہر پوچھتی ہے
“کچھ نہیں بس۔۔۔۔ ڈیڈی کا فون آیا تھا۔۔ انہوں نے کہا کہ دانش آرہا ہے۔” ہڑبڑا کر جواب دیتی ہوں
” تو اس میں اتنا پریشان ہونے کی کیا بات ہے؟” تسلی دیتے ہوئے کہتی ہے
“پریشانی کی ہی تو بات ہے۔۔۔ اس کو کیسے بتاؤں گی کہ میں۔۔۔۔۔” بات کرتے کرتے رک جاتی ہوں
“دانیال سے بات کر کے دیکھو۔۔۔۔ وہ ضرور کوئی نہ کوئی حل بتائے گا”
“لیکن۔۔۔۔” دوبارہ بات کرنے کی کوشش کرتی ہوں پر لب ایک بار پھر خاموش ہوجاتے ہیں
“لیکن ویکن کچھ نہیں۔۔۔۔ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔۔۔۔ میرے خیال میں تو یہ تمہارے پاس پہلا اور آخری موقع ہے”
“کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو۔۔۔۔مگر اپنے اندر اتنی ہمت کہاں سے لاؤں؟ کس طرح اس کو سچ بتاؤں گی؟ وہ مجھ پر کتنا بھروسہ کرتا ہے اور اب میں اس سے کیسے کہوں کہ میں اس سے نہیں بلکہ۔۔۔۔۔ کسی اور سے۔۔۔۔۔”
“کہنا تو تمہیں ہوگا۔۔۔”
“اسی لیے تو پریشان ہوں۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہوگا یہ سب کچھ مجھ سے۔۔”
لیکن یہ سب کچھ تمہیں کرنا ہوگا۔۔۔ اپنے اندر وہ ہمت پیدا کرنی ہوگی۔۔۔۔۔۔ اپنے لیے نہیں تو دانیال کے لیے۔۔۔ ورنہ۔۔”
ورنہ ۔۔۔؟ کیا؟؟” سوالیہ انداز میں پوچھتی ہوں
“ورنہ تم دانیال کو بھول جاؤ۔۔” وہ اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیتی ہے
” نہیں۔۔۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔۔ اور تم ایسا کہہ بھی کیسے سکتی ہو کہ میں دانیال کو بھول جاؤں۔۔ وہ میری زندگی ہے، میری خوشی ہے”
“تو پھر۔۔۔ تمہیں اس کسوٹی کو پار کرنا ہی ہوگا”
میں اثبات میں سر ہلادیتی ہوں مگر ایک بار پھر یہی سوچ مجھے آگھیرتی ہے کہ اب کیا کیا جائے ابھی تو دانیال کو بھی نہیں معلوم۔۔۔ کیسے حل ڈھونڈا جائے؟
“اچھا جلدی کرو۔۔۔۔۔ کیفے جا کر کولڈ ڈرنک پیتے ہیں۔۔۔۔ بہت گرمی ہے یہاں تو۔۔۔۔”پرس اٹھاتے ہوئے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہتی ہے۔میں بھی پرس اٹھا کر اس کے پیچھے چل دیتی ہوں مگر میرا ذہن ابھی بھی سوچوں میں گم ہوتا ہے۔ کیفے میں پہلے سے ہی دانیال اور عامر موجود ہوتے ہیں۔
“اوہ۔۔۔ ہو۔۔۔۔ جناب صاحب! پہلے سے یہاں موجود ہیں۔۔۔۔ لگتا ہے ہمارے آنے کی خبر پہلے ہی مل گئی؟” مہر مسکرا کر کہتی ہے
” کیا کریں۔۔۔۔ محبت چیز ہی ایسی ہے۔۔۔ بس ہر وقت، ہر جگہ تمہاری ہی خوشبو آتی ہے۔ اور جہاں یہ خوشبو لے جائے وہیں ہم بھی چلے آتے ہیں۔۔” عامر رومانوی انداز میں کہتا ہے
“بس۔۔۔۔ بس۔۔۔ اب باتیں بنانا بند کرو۔۔” شرما کر مہر جواب دیتی ہے
“کیسی ہو کرن؟” دانیال پوچھتا ہے
” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ تم سناؤ؟” خیالوں میں گم جواب دیتی ہوں
“ٹھیک ہوں تو تمہارے سامنے ہوں” وہ مسکرا کر جوب دیتا ہے مگر میری نظریں ادھر ادھر بھٹکتی رہتی ہیں جن کو وہ فوراً محسوس کر لیتا ہے
“کیاہوا؟۔۔۔۔ تم کچھ پریشان لگ رہی ہو؟’ وہ پوچھتا ہے
” وہ در اصل دانش آرہا ہے۔۔۔” آہستہ سے کہتی ہوں
” ارے۔۔۔ یہ اس لیے پریشان ہے کہ دانش کو کیسے سچ بتائے کہ وہ اس سے نہیں بلکہ تم سے محبت کرتی ہے” بات کاٹ کر مہر تیزی سے بول دیتی ہے
“اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے” عامر کہتا ہے
” پریشان مت ہو۔۔۔۔ میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔۔۔” وہ میرے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے مجھے تسلی دیتا ہے۔ جیسے ہی وہ میرے ہاتھوں کو تھامتا ہے تو میری پرشانی ایسے غائب ہوجاتی ہے جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ اس کے چہرے کا اطمینان مجھ میں بھی حوصلہ پیدا کردیتا ہے اور مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں شائد ضرورت سے زیادہ ہی پریشان ہورہی تھی۔
تین دن اسی طرح گزر گئے اور پھر اچانک میں کلاس لے کر ہاسٹل پہنچی تو دروازے پر دانش کھڑا ہوا ملا۔ اس کو اچانک وہاں دیکھ کر میں فوراً ڈر گئی مگر میرے ساتھ مہر تھی اس نے مجھے حوصلہ دیا اور میں ہمت کر کے آگے بڑھی۔
“کیسی ہو مائی سویٹ ہارٹ؟ ” وہ مسکراتے ہوئے پرجوش انداز میں کہتا ہے
” میں۔۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔۔ تم کیسے ہو؟” ہکلاتے ہوئے جواب دیتی ہوں
” تم کیسے ہو۔۔۔ دانش۔۔۔؟” مہر میری حالت کو سمجھتے ہوئے اس سے بات کرنے کی غرض سے یہی سوال کرتی ہے
“آئی ایم آؤٹ کلاس۔۔۔” ہنستے ہوئے جواب دیتا ہے
“آنے سے پہلے بتا تو دیتے۔۔۔۔ تم از کم ایک فون کال ہی کر دیتے” مہر کہتی ہے
“کیوں بھئی۔۔۔۔ اب مجھے اپنی محبت سے ملنے کے لیے بھی ٹائم لینا پرے گا؟” میری طرف شوخ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہتا ہے جس کی وجہ سے میری پریشانی میں مزید اضافہ ہوجا تا ہے
“اب میں نے ایسا تو نہیں کہا۔۔۔” بات کو ٹالنے کی غرض سے وہ کہتی ہے
” ایک بات تو بتاؤ۔۔۔ تمہارے ہاں مہمانوں کو باہر دروازے پر کھڑے کرنے کا رواج ہے۔۔۔ اندر جانے کا نہیں کہو گی۔۔؟” وہ پسینہ صاف کرتے ہوئے کہتا ہے
“جناب۔۔۔ آپ کچھ بھول رےہے ہیں۔۔۔ یہ گرلز ہاسٹل ہے، یہاں لڑکوں کا آنا ممنوع ہے۔” مہر کہتی ہے
“اوہ۔۔۔ میں تو بھول ہی گیا تھا۔۔۔۔” ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے “اس کا مطلب ہے کہ مجھےکہیں اور اپنا بندوبست کرنا ہوگا”
“اور کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے۔۔۔” مہر طنزیہ انداز میں جواب دیتی ہے
“ویسے یہ تو بہت بری بات ہے۔۔۔” وہ کہتا ہے
“بری بات ہے یا پھر اچھی بات۔۔۔۔۔ آپ کو تو جانا ہی ہوگا۔۔” مہر کہتی ہے
“اچھا۔۔۔ پھر مجھے جانا ہوگا۔۔۔ اپنا ٹھکانہ ڈھونڈنے۔۔” ابھی وہ یہ بات کر ہی رہا ہوتا کہ وہاں عامر آجاتا ہے اور مہر کی طرف آنکھوں سے اشارہ کر کے پوچھتا ہے کہ کون ہے یہ؟
“یہ دانش ہے۔ جس کے بارے میں ہم بات کررہے تھے” مہر جواب دیتی ہے
“اوہ۔۔۔۔ مائی سیلف عامر” اپنا تعارف کرواتے ہوئے
“مجھے تو اپنا تعارف کروانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مجھ سے پہلے ہی میرے چرچے تو ہورہے تھے”
“جی ہاں۔۔۔۔” عامر ہنستے ہوئے جواب دیتا ہے
“اچھا ۔۔۔۔۔ پھر میں چلتا ہوں۔ اپنا ٹھکانہ بھی تو ڈھونڈنا ہے”
“میرے ساتھ چلو۔۔ اب دو دن کے لیے کیا اِدھر ادھر ایک کمرے کے لیے پھرو گے” عامر کہتا ہے
” نہیں۔۔ نہیں۔۔۔ میں کسی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا۔۔”
“اس میں تنگ کرنے کی کیا بات ہے۔ دوست کا دوست، دوست ہوا نا!”
“دوست کا دوست نہیں بلکہ دوست کا منگیتر کہو یا پھر ہونے والا شوہر بھی کہہ سکتے ہو” وہ ہنستے ہوئے میری طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہے۔ یہ الفاظ سن کر میں مزید گھبرا جاتی ہوں۔
“اب چلنا نہیں ہے کیا؟۔۔۔ سارا وقت اسی دھوپ میں گزارنے کا ارادہ ہے کیا؟” عامر بات کو بدلنے کی نیت سے کہتا ہے
وہ دونوں وہاں سے چلے جاتے ہیں اور ہم ہاسٹل میں۔ وہ دن بھی ایسے تیسے گزر گیا مگر اگلا دن ایک امتحان سے کم نہیں تھا۔
میں، دانیال ، عامر، مہر اور دانش ریسٹورانٹ میں اکٹھے لنچ کرنے گئےمگر سب ایک دوسرے کی طرف سوالیہ نظروں سے سوال کر رہے تھے کہ کون پہلے بات شروع کرے؟ ہم سب گھبرائے ہوئے تھے مگر دانش پراطمینان تھا اور لنچ کا ویٹ کر رہا تھا۔
” تم سب کو کیا ہوا؟ اتنے خاموش کیوں ہو؟” دانش ہماری طرف دیکھتے ہوئے پوچھتا ہے
“کچھ نہیں۔۔۔۔ بس ویسے ہی۔۔۔”مہر جواب دیتی ہے
“تمہیں کیا ہوا کرن؟” میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھتا ہے
“مجھے کیا ہونا ہے۔۔۔ ٹھیک تو ہوں میں۔۔۔” بجھے چہرے پر مسکان لانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے جواب دیتی ہوں
” میں کل سے نوٹ کر رہا ہوں ، تم کچھ بول ہی نہیں رہی۔ پہلے تو ایک لمحے کے لیے بھی میری جان نہیں چھوڑتی تھی اور آج۔۔۔۔ کوئی بات ہے؟” میرے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے کہتا ہے
” نہیں۔۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔” اپنے ہاتھوں کو اس کے ہاتھوں سے دور کرتے ہوئے
“کیا ہوا؟” وہ حیرانی سے میری طرف دیکھ کر پوچھتا ہے
“اس نے تم سے کوئی ضروری بات کرنی ہے” مہر فوراً بول اٹھتی ہے۔ سب کی نظریں میری طرف ہوتی ہیں اور میری ہمت ہی نہیں ہوتی کہ کچھ کہہ سکوں۔ میری اس حالت کو دانیال فوراً بھانپ لیتا ہے۔
“کرن تم سے کچھ کہے۔۔۔ اس سے پہلے میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں” دانیال پوچھتا ہے
“ہاں۔۔ پوچھو۔۔” دانش جواب دیتا ہے
“فرض کرو جس سے تم محبت کرتے ہو وہ تم سے نہیں بلکہ کسی اور سے محبت کرتا ہے تو تم کیا کرو گے؟” دانیال اپنے حواس کو اکٹھا کر کے سوال کرتا ہے
” یہ کیسا سوال ہے؟” غصے کے آثار اس کے چہرے پر نمایاں ہوجاتے ہیں
” میں نے ویسے ہی ایک سوال کیا تھا۔۔۔” دانیال آہستہ سے کہتا ہے
” یہ سوال کرنے والے تم ہوتے کون ہو؟ اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی ایسی بات بھی کرنے کی؟۔۔۔۔” اس کی آواز میں اتنی سختی ہوتی ہے کہ سب حیران ہو جاتے ہیں اور میں بھی سہم جاتی ہوں۔ تھوڑی سی جو ہمت جمع کی تھی وہ بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اور پریشانی کی وجہ سے ماتھے پر پسینہ آجاتا ہے اور ایک بار پھر سوچنے لگ جاتی ہوں کہ کیا میں دانش سے سچ کہہ پاؤنگی؟ دانیال بھی اس کی بات سن کر گھبرا جاتا ہے۔ ہم سب کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر وہ اپنے غصے کو قابو کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
” تم کیا کہنا چاہ رہی تھی؟۔۔۔۔ کہو۔۔۔۔۔” میری طرف عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے کہتا ہے
” نہیں۔۔۔ کچھ خاص نہیں۔۔۔” کانپتی آواز کے ساتھ کہتی ہوں اتنے میں ویٹر کھانا لے آتا ہے اور سب کھانے میں مصروف ہوجاتے ہیں مگر سب آنکھوں سے ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرتے رہتے ہیں جس سے دانش بے خبر رہتا ہے۔ اور خود کو اس طرح پیش کرتا ہے جیسے اس کو کچھ پتا ہی نہیں۔ اتنے میں دانیال وہاں سے اٹھ کر واش روم کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس کے جانے کے بعد میں بھی بہانہ کر کے اس کے پیچھے چل دیتی ہوں
“کیا ہوا۔۔۔۔۔ تم وہاں سے کیوں چل دیے؟؟”
” مجھے بہت عجیب feel ہورہا تھا ۔۔۔ اور دانش کیا وہ اصل میں اتنا Rude ہے؟ یا پھر؟” اس کے سوال اس کی بے چینی کو صاف ظاہر کرتے ہیں
” میں خود نہیں جانتی کہ ایسا کیوں اس نے کیا ۔ ۔۔۔۔ میں تو سمجھ رہی تھی کہ وہ میرے جذبات کی قدر کرے گا اور میرے دل کے حالات کو سمجھے گا ۔ ۔ ۔ لیکن یہاں اس نے جو کچھ کیا ۔۔ ۔ ۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ میرے بارے میں اس قدر سنجیدہ ہے۔”
” لیکن ہم اس سے زیادہ دیر تک اپنے رشتے کے بارے میں نہیں چھپا سکتے۔۔۔”
“میں جانتی ہوں ۔ ۔ ۔ مگر کیسے بتائیں؟”
“مجھے یہ ڈر لگ رہا ہےکہ کہیں یہ سچ نیا طوفان نہ لے آئے ۔ ۔ ۔ کہیں وہ اس رشتے کو accept نہ کرے تو ۔ ۔ ۔ ۔” اس کا شک میری بے چینی کو بڑھا دیتا ہے۔
“ایسا نہیں ہو سکتا ۔ ۔ ۔ ۔ اگر ایسا ہوا تو میں جی نہیں پاؤنگی۔ میں نے محبت کی ہے تو صرف اور صرف تم سے۔۔۔ اگر تم میرے ساتھ نہ ہوئے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔” بات کرتے کرتےمیری نظریں دائیں طرف مڑتی ہیں تو وہاں دانش کو کھڑا پاتی ہیں۔ اس کے اوسان خطا ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اس نے ہماری ساری باتیں سن لی ہوں۔ اس کا چہرہ غصہ میں سرخ ہوجاتا ہے۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں گھور کر میری طرف دیکھتی ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھ کر مزید اس سے کچھ کہتی ، وہ وہاں سے چلا جاتا ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: