Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 18

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 18

–**–**–


5 مئی 2007 بروز ہفتہ
آج دانش گھر واپس چلا گیا ۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ ہمارے رشتے کے بارے میں جان گیا ہو اور شائد اس سچائی کو تسلیم بھی کر لیا ہو۔ لیکن جس وقت وہ غصہ میں ریسٹورانٹ سے گیا تھا تو ایسا لگا تھا کہ جیسے وہ میرے اور دانیال کے رشتے کو کبھی قبول نہیں کرے گا اور مزاحمت کرے گا ۔ ۔ ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ شروع میں اس نے گلہ شکوہ تو ضرور کیا اور شائد وہ جائز بھی تھا۔
” تم نے یہ سچائی مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی؟” وہ دوسری طرف منہ کر کے کہتا ہے
” بہت کوشش کی ۔۔۔ مگر ہمت ہی نہیں ہوئی۔۔” کپکپاتے ہونٹوں سے کہتی ہوں
” ایک بار مجھ سے کہا تو ہوتا ۔ ۔ ۔ ۔ میں خود یہ منگنی توڑ دیتا ۔۔ ۔ خود انکل سے کہہ کر تمہارے اور اس کے بارے میں بات کرتا مگر یوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے خواب تو نہ دکھائے ہوتے۔ ۔ ۔ میری محبت کو یوں مجروع تو نہ کیا ہوتا۔۔۔میری محبت کا یوں مذاق تو نہ اڑایا ہوتا۔ ۔ ۔ ۔۔دل تو نہ توڑا ہوتا۔ ۔ ۔ ۔” یہ سب کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے ہیں
” مجھے معاف کر دو دانش۔ ۔۔ ۔ پلز۔۔ ۔ ۔ مجھے معاف کردو۔ ۔ ۔ میرا مقصد تمہیں تکلیف پہنچانا نہیں تھا اور نہ ہی تمہارے خلوص کو ٹھیس پہنچانا۔۔” اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر میرا دل پگھل جاتا ہے
” پھر ایسا کیوں کیا تم نے؟۔ ۔ ۔ ۔ کیا تمہیں مجھ پر تھوڑا سا بھی اعتماد نہیں تھا۔۔۔؟”بہتے آنسوؤں سے میری طرف دیکھتے ہوئے
” اعتماد تھا تو۔۔ تم سے بات کرنا چاہتی تھی ۔ ۔ ۔۔ سب کچھ بتا دینا چاہتی تھی”
“پھر بتایا کیوں نہیں۔۔۔۔” آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہتا ہے
“ڈرتی تھی۔۔۔۔ کہیں تم سچائی جان کر ۔۔ ۔ ۔ ۔ ” بات کرتے کرتے دوسری طرف منہ کر لیتی ہوں
“میری طرف دیکھ کر بات کرو ۔ ۔ ۔ ” میرا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے ” بتاؤ ۔۔۔ کس بات کا ڈر تھا ؟ اور تم نے کون سا گناہ کیا ہے؟ ڈرتے وہ لوگ ہیں جنہوں سے کوئی گنا ہ کیا ہو۔۔۔۔ اور محبت کرنا کوئی گناہ نہیں۔”
اس کی باتیں سن کرمیں خاموش ہوجاتی ہوں اور مزید کچھ کہنے کی سکت کھو دیتی ہوں
“اب پریشان مت ہو۔۔۔۔” وہ مسکرانے کی کوشش کرتا ہے “ادھر دیکھو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری طرف ۔ ۔ ۔ ۔ میں انکل سے بات کروں گاتمہارے اور دانیال کے بارے میں”
اس کی باتیں سن کر پہلے تو مجھے یقین نہیں آتا مگر جب وہ دوبارہ مجھ سے کہتا ہے تو میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا۔ ۔۔ ۔ایسا لگتا ہے جیسے مشکلیں ختم ہوگئیں ہوں۔ سب پریشانیاں مِٹ گئیں ہوں ۔ ایسا لگا کہ دانش نے واقعی سچی دوستی کا فرض نبھا دیا ہو۔ لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ مجھے دانش کے لیے برا بھی لگ رہا تھا ۔ اس نے اپنی خواہشوں کو قربان کر کے میرے بارے میں سوچا۔ میری خواہشات کو اہمیت دی۔میرے جذبات کی قدر کی۔ میں اس کے سامنے اپنے آپ کو بہت چھوٹا محسوس کر رہی تھی۔
“اب اتنا احسان مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وقت آنے پر اپنے ہر احسان کا بندلہ لے لوں گا ۔۔ “جیسے وہ میرے چہرے کے تاثرات کو پڑھ لیتا ہے ۔ ۔ ۔ لیکن یہ کہنے کا مقصد کیا تھا؟ ۔۔ ۔ ۔خیر مقصد جو بھی ہو مجھے تو صرف اس بات سے غرض ہے کہ مجھے دانیال مل گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
21 جون 2007 بروز جمعرات
زندگی میں پہلی بار ایسا لگا کہ جو چاہا وہ مل گیا۔ شائد اس بار میں نے دل سے مانگا ہو گایا جس وقت دعا کی ہو وہ وقت قبولیت کا ہوگا۔ خیر وجہ کچھ بھی ہو مراد تو مل گئی۔ اب بس ایک ہفتہ مزید۔ ۔ ۔ ۔انتظار۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد بی۔ ایس مکمل ہوجائے گا۔ اگرچہ رزلٹ آتے آتے دو ماہ لگ جائیں گے مگر ایک امید تو ہوگی کہ تعلیم مکمل ہوگئی۔ تعلیم تو خیر کبھی مکمل ہوتی ہی نہیں۔ بس- ایس اس کے بعد ایم۔ ایس پھر اس کے بعد پی۔ایچ۔ڈی اور اگر پھر بھی دل نہ بھرے توڈاکٹریٹ اور پتا نہیں کیا کیا کچھ۔ ۔ ۔ انسان مر ضرور جاتا ہے مگر علم کبھی ختم نہیں ہوتا۔ خواب تو میرا بھی کچھ ایسا ہی تھا کہ میں ہوں اور تعلیم بس۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ لیکن اتنا بھی پڑھ کر کیا کرنا کہ انسان اپنے رشتوں کو ہی بھول جائے۔ انسان کو زیادہ سے زیادہ تعلیم ضرور حاصل کرنی چاہیے مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ اور نہ ان رشتوں کو اگنار کرنا چاہیے جو آپ سے جڑے ہیں۔ جن کی خواہشات آپ سے شروع ہو کرآپ پر ہی ختم ہوتی ہیں بلکہ یوں کہنا بہتر ہوگا جن کی کل کائنات ہی آپ کی شخصیت ہے۔ شائد یہی وجہ ہے میری بھی۔۔۔۔
آٹھویں سمیسٹر کے آخری لمحات جاری ہیں۔ اور ان لمحات میں ہو بھی کیا سکتا ہے سوائے پیپرز کے۔ جس کو دیکھو پیپرز کی تیاری میں مصروف ہے۔پہلی بار میں نے پوری کلاس کو دل سے تیاری کرتے ہوئے دیکھا۔ سب کی یہی خواہش ہے کہ آخری سمیسٹر کا رزلٹ سب سے اچھا ہو تاکہ جب یونیورسٹی سے جائیں تو اچھی یاد چھوڑ کر جائیں۔ مذاق وغیرہ بھی ہوتا رہا اور پیپرز بھی چلتے رہے۔ لیکن ایک انجانہ سا ڈر ، خوف اور غم سے کے دل میں تھا ۔ وہ ڈر دوستوں سے دور جانے کا تھا۔ وہ خوف ان کے بغیر زندگی گزارنے کاتھا۔ وہ غم اپنوں کو الولداع کہنے کاتھا۔ایسا نہیں کہ سب ایک دوسرے کو بھول جائیں گے ۔۔ ۔ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ دوست کبھی بھلائے نہیں جاسکتے، ان کی یادیں، انکی شرارتیں، ان کا ہنسنا، ان کا مسکرانا، ان کا روٹھنا، ان کا منانا ۔۔ ۔ سب چیزیں یاد رہتی ہیں۔اور اگر کوئی بھول جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ آپ کا دوست تھا ہی نہیں۔ ایک سچا دوست اپنی ذات کو تو بھول سکتا ہے مگر اپنے ساتھی کو اس کی پرچھائی سے بھی پہچان لیتا ہے۔
دانش کو سب حقیقت معلوم ہوجانے کے بعد مجھے بھی کچھ حوصلہ ہوا کہ شائد اب ہمیں ملنے کے لیے زیادہ کٹھن فاصلہ طے نہیں کرنا پڑے گا۔ اگر مشکلات آئیں بھی تو معمولی سی ہونگی جن کا ہم دونوں اچھی طرح سے سامنا کر پائیں گے۔ ابھی تک میں نے بھی امی کو نہیں بتایا۔اگر بتا بھی دیتا تو شائد تب بھی زیادہ فرق نہیں پڑتا کیونکہ اکثر رکاوٹ امیر لوگوں کی طرف سے ہی ہوتی ہے۔ شائد اسی لیے کرن نے ابھی تک اپنے ڈیڈی سے بات نہیں کی۔ لیکن کیا پتا اس کے پیچھے اس کا مقصد یہ ہو کہ فون پر بات کرنے سے بہتر ہے کہ بندہ آمنے سامنے بات کرے۔ اور یقیناً یہ بہتر خیال ہے۔ اب بس مجھے یکم جولائی کا انتظار ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یکم جولائی 2007 بروز اتوار
چار سال کیسے بیت گئے ۔ کس طرح زندگی کے حسین لمحوں کو وقت نے ڈھانپ لیا ۔ کیسے ہر گزرتا لمحہ یاد بنتا چلا گیا۔ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔بڑے بڑے خواب لے کر یونیورسٹی میں آنے والے اور پھر اس کی رنگینیوں میں کھو کر رہ جانے والے خواب ایک بار پھر آنکھوں میں صاف دکھائی دینے لگے۔ ان کو تعمیر کا لبادہ پہنانے کا عزم مزید مضبوط ہوگیا۔چار سال کے اس سفر میں کسی کو کسی کا ساتھ ملا تو کوئی کسی کے ساتھ سے محروم ہوا، کسی کے دل میں نئی امنگوں نے قدم جمائے تو کسی نے ان امنگوں کو پورا کرنے کا قصد کیا، کسی کو دوستی کا پھول نصیب ہوا تو کسی نے محبت کی خوشبو کو محسوس کیا۔ کبھی کوئی کسی سے روٹھا تو کبھی منانے کی کوشش کی گئی۔کبھی ہر لمحہ خواب جڑے تو کبھی موتیوں کی طرح مالا سے بکھر گئے۔ کبھی چلتے چلتے اجنبی ہمراہ ہوئے تو کبھی سوئے ہوئے احساس جاگے ۔ کبھی خوشیوں کے لمحے آئے تو کبھی ساون کے سنگ آنسو بہے۔ غرض ان چار سالوں میں جتنی یادیں اکٹھی ہوئی ، شائد ان کو یاد کرنے کے لیے ایک عمر بھی کم پڑے مگر کیا کریں اب یہی یادیں اس زندگی کا حصہ بننے والی ہیں اور ان ہی یادوں کو اپنے دل میں بسائے آج ایک دوسرے کو الوالداع کہنے کا وقت آگیا ۔ سب کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں مگر اس چمک میں کسی قدر آنسو بھی ہمراہ تھے۔ ایسا ہی حال میرا اور باقی سب کا بھی تھا۔ کامران کو تو بہت دور جانا تھا ۔ اس سے دور جانے کا غم غالب تھا۔ عامر اور مہر تو اب بہت جلد شادی کر کے اپنی نئی زندگی کی شروعات کرنے جارہے تھے۔جہاں تک کرن اور میرا معاملہ تھا، اس میں تو ایک الگ ہی رنگ تھا۔اس میں نہ ہی خؤشی غالب تھی اور نہ ہی آنسو۔ ۔ ۔ ۔ ایک عجیب سی بے چینی جسم میں سرایت کیے جارہی تھی ۔ نہ جانے کیا ماجرا تھا؟ دل بس یہی چاہ رہا تھا کہ وقت کو فوراً روک دیا جائے اور کرن کو دور ہونے سے بچا لیا جائے۔ کسی بھی قیمت پر یہ دل اس سے دور ہونے کو نہیں چاہ رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے یہ ہماری آخر ی ملاقات ہے۔ اور ہر گزرتا لمحہ اس خیال کو تقویت دے رہا تھا۔ جدائی کے لمحے ہمیشگی کی راہ اختیار کیے جارہے تھے۔ میں بس ٹکٹکی باندھے کرن کو دیکھے جا رہا تھا اور دل میں یہی خواہش کر رہا تھا کہ یا تو وقت یہیں ہر رک جائے یا پھر مجھے اسی لمحہ موت آجائے تاکہ دیدار کی آس پھر باقی نہ رہے مگر یہ آنکھیں تھیں کہ سیراب ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ لمحہ لمحہ ان کی پیاس میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا تھا۔یہ کیفیت کرن سے ڈھکی چھپی نہ رہی۔ آخر وہ میرے پاس آکر کہنے لگی
“کیا ہوا تمہیں؟ ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟”
” پتا نہیں کیوں۔ ۔ ۔۔ ۔ بس دل چاہ رہا ہے ”
“اچھا۔۔۔ جی”
“ہاں۔ ۔۔ ۔ بس دل چاہ رہا ہے کہ تمہیں دیکھتا جاؤں” اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے
“لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ اب جانا تو ہوگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اور اپنی اس چاہت کو تم سنبھال کر رکھو ۔ ۔ ۔۔ ۔ کچھ دنوں کے بعد جی بھر کے اس چاہت کو پوری کرنا” شوخ انداز میں کہتی ہے
“اگر وہ وقت ہی نہیں آیا تو ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اپنے شک کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہوں
“ایسا کیوں کہہ رہے ہو تم؟۔ ۔ ۔ ۔ کیوں نہیں آئے گا وہ وقت؟”
“بس ایسے ہی۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ایک عجیب سا ڈر دل میں کھٹک رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے اگر ہم آج جدا ہوگئے تو پھر کبھی نہیں ملیں گے”
“ایسی باتیں کیوں کر رہے ہو تم؟” اس کی حیرانی میں اضافہ ہو جاتا ہے
“مجھے خود نہیں معلوم کہ میں ایسا کیوں کہہ رہا ہوں ۔۔۔ بس اتنا جانتا ہوں کہ تمہیں الولداع کہنے کو دل نہیں چاہ رہا ”
“تو الوالداع کہنے کو کون کہہ رہا ہے؟بس دو دن کی تو بات ہے۔ میں وہاں جا کر جتنی جلدی ہوسکے ڈیڈی سے بات کروں گی اور پھر جلدی سے تمہیں بھی اپنے پاس بلا لوں گی”
“اس کی باتیں سننے کے باوجود میرے چہرے پر اداسی غالب رہتی ہے۔ ایک عجیب سا ڈر میرے دل کے دروازے پر بار بار دستک دیتا رہتا ہے اور ہر بار دستک کی آواز تیز سے تیز تر ہوتی جاتی ہے مگر وہ اس دستک کو کیوں نہیں سن پارہی؟ شائد وہ اس کو میرا وہم سمجھ رہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ کیا حقیقت ہے؟ کیا واقعی یہ میرا وہم ہے یا بات کچھ اور ہے؟
“اب دوبارہ سوچ میں ڈوب گئے۔۔۔۔” ہنستے ہوئے کہتی ہے
“پلز۔ ۔ ۔۔ ۔ نہ جائو۔ ۔ ۔ ۔ ” اس کی بات سنے بغیر اپنے دل کی بات کہتا ہوں
“دیکھو۔ !۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب تم مجھے بھی رلاؤ گے۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب تم کیا یہی چاہتے ہو کہ میں روتے ہوئے گھر جاؤں؟”
“کون کس کو رلائے گا؟۔۔۔۔” فوراً وہاں پر مہر آجاتی ہے اور بات کاٹتے ہوئے مزید کہتی ہے “دیکھو دانیال! اگر تم نے میری دوست کو رلایا تو اچھا نہیں ہوگا”
پہلے کرن اور اب مہر۔۔۔۔ کوئی میرے دل کی حالت کو سمجھ نہیں پاتا۔ سب اس کی دل کی پیشین گوئی کو میرا وہم سمجھتے ہیں اسی لیے میں کچھ کہے بغیر سب سے الگ ہوجا تا ہوں ۔ دس منٹ تک خاموش رہنے کے بعد ایک آواز میرے کانوں میں گونجتی ہے
“الوالداع دانیال ۔۔ ۔ ۔ میں جارہی ہوں” یہ الفاظ تو جیسے میری جان ہی نکال دیتے ہیں۔ وقت کو ضائع کیے بغیر میں پلٹ کر دیکھتا ہوں مگر تب تک شائد کافی دیر ہوچکی تھی۔ بس کی رفتار ہوا کے برابر ہونے لگی۔ سوچا بھاگ کر اسے روک لوں مگر بے سود۔۔۔۔ پھر سوچا ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھوں کو تھام لوں مگر اس بار بھی ناکامی میرا مقدر بنی۔ سب اپنی اپنی منزلوں کی طرف چل دیے اور میں راہ تکتا راہ گیا۔ خاموشی نے چاروں چرف سے آگھیرا۔ دستک کی آواز پہلے سے زیادہ تیز ہوگئی۔ ہوا نے بھی بے رخی اختیار کر لی اور یک دم وہی آواز پھر سرگوشی کرنے لگی
“الوالداع دانیال۔ ۔ ۔ ۔ میں جارہی ہوں”
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: