Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 20

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 20

–**–**–


5 جولائی 2007 بروز جمعرات
صبح تو خوشی کی انتہا ہی نہیں تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ آج دل کی مراد پوری ہونے والی ہے۔ دنیا کی ہر چیز مجھے بھانے لگی تھی۔ کیا ہوا؟ کیا سماں؟ ہر چیز میں مجھے اس کا چہرہ دکھائی دینے لگا لیکن وقت تھا کہ گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔آج تک تو سنا تھا کہ انٹظار کرو تو وقت رک جاتا ہے ۔ آج جان بھی لیا۔ کبھی کمرے میں تو کبھی لان میں۔۔۔کبھی ٹیرس تو کبھی دروازے کی طرف چکر لگاتی رہی۔ آنکھیں تو دروازے کی طرف سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ دو گھنٹے، دو صدیوں کے برابر معلوم ہونے لگے۔ وقت کا پہیہ جیسے سنیل کی رفتار سے چلنے لگا یا شائد اس سے بھی زیادہ آہستہ۔۔۔ ہر گزرتا لمحہ بے قراری کو بڑھا رہا تھا ۔ ڈیڈی اور دانش میری اس بے قراری پر ہنس بھی رہے تھے اور پریشان بھی ہورہے تھے۔ بار بار نظریں گھڑی کی طرف جا رہی تھی ۔ ابھی دس بجنے میں تیس منٹ باقی تھے۔
“بیٹا بیٹھ جاؤ۔۔۔۔ اتنی بے قراری اچھی بات نہیں” نرمی سے کہتے ہیں
“نہیں ڈیڈی ۔ ۔۔ ۔ میں ٹھیک ہون۔۔۔۔” مسلسل دروازے کو تکتے وہئے کہتی ہوں
” بیٹا! اگر اس نے کہا کہ وہ دس بجے تک آجائے گا تو، آجائے گا۔۔۔ ابھی اتنا وقت باقی ہے۔ کیوں اپنے آپ کو ااس قدر پریشان کر رہی ہو۔۔۔”
“نہیں ڈیڈی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں ٹھیک ہون۔۔۔ آپ فکر نہ کریں۔۔۔”
“جیسے تمہاری مرضی۔ ۔ ۔۔ مگر آرام سے بیٹھ تو سکتی ہو؟۔۔۔۔تمہارے یوں اِدھر ادھر چکر لگانے سے دس جلدی تو نہیں بجے گیں”
انکی بات مانتے ہوئے میں بیٹھ تو جاتی ہوں مگر دل بے قرار رہتا ہے
“یہ لو جلدی سے ٹھنڈا ٹھنڈا جوس پی لو ۔ ۔ ۔! ” دانش میرے ہاتھ میں جوس کا گلاس دیتے ہوئے کہتا ہے
” نہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں۔۔۔”
” کیوں نہیں ضرورت۔۔۔۔ صبح سے ناشتہ تک نہیں کیا تم نے۔۔۔” دانش کہتا ہے
“کرن۔۔۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔ فورا جوس پیو۔ ۔۔ ۔ ۔ کتنے پیار سے دانش بنا کر لایا ہے تمہارے لیے۔۔۔” ڈیڈی کہتے ہیں
“مگر۔۔۔۔ ڈیڈی۔۔۔۔ مجھے واقعی پیاس نہیں۔۔۔” زبردستی مسکراتے ہوئے کہتے ہیں
” کوئی بہانہ نہیں۔۔۔۔ فوراً اچھے بچوں کی طرح جوس پیو۔۔۔”
“ڈیدی۔۔۔۔” ان کے بار بار اصرار پر میں جوس پی لیتی ہوں مگر بے قراری میں کمی نہیں آتی
“شاباش۔۔۔۔” وہ داد دیتے ہوئے کہتے ہیں
ایک عجیب سا خوف میرے دل پر حاوی ہونے لگتا ہے اور ہر گزرتا لمحہ اس کو تقویت بخشتا رہتا ہے۔ آج تو مجھے بھی یوں محسوس ہونے لگا کہ کچھ ہونے والا ہے۔۔۔۔ کچھ ایسا ۔۔۔۔ جسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مگر کیا؟ وقت کے پنے مزید آہستہ آہستہ پلٹنے لگے۔ ان کے پلٹنے کی آواز میں اب صاف سن سکتی تھی۔ ان کی سرگوشیوں کو میں محسوس کر سکتی تھی مگر نہ تو میں اس خاموشی کو توڑ پارہی تھی جو میرے اِرد گِرد مسلسل چھا رہی تھی اور نہ ہی انتظار کی مشقت کو کم کرسکتی تھی۔ٹہلتے ٹہلتے نہ جانے کب اپنے روم میں چلی گئی پتا ہی نہیں چلا۔۔۔ باہر سے ڈیڈی اور دانش کے بولنے کی آوازیں تو آرہی تھیں مگر کیا گفتگو ہو رہی تھی، میں چاہ کر بھی سن نہیں پائی۔ وقت گزرتا گیا۔گھڑی کی سوئی دس کے قریب آرہی تھی۔ میری نظریں کھڑکی سے باہر تھی۔ شائد اب گھنٹی بجے اور دانیال آجائے۔ انتظار کی وجہ سے اب مجھے نیند آنے لگی۔ مجھے کچھ عجیب سا لگا۔ کچھ دیر پہلے تو میں بالکل ٹھیک تھی۔ اور اب اچانک غنودگی۔۔۔۔؟ شائد رات کو میں صحیح طریقے سے سو نہیں پائی۔۔۔۔ کروٹیں بدلتے رات گزارنے کی وجہ سے۔۔۔۔ شائد ہاں۔۔۔ میں اپنے آپ کو پورا جگائے رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ واش روم میں جا کر پانی سے منہ ہاتھ بھی دھویا مگر بے سود۔۔۔۔ خاموشی مزید بڑھنے لگی۔ ایسا معلوم ہونے لگا جیسے سب نے خاموشی اختیار کر لی ہو۔ صرف ہوا میرے کانوں میں سرکوشی کرنے لگی۔ بڑی مشکل سے آنکھین کھول کر گھڑی کی طرف دیکھا۔ سوا دس ہو چکے تھے مگر کمرے سے باہر ابھی بھی خاموشی تھی۔ ہمت کر کے کھڑکی سے باہر جھانکا مگر کوئی نہیں۔۔۔۔ دوبارہ بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ۔ غنودگی مزید برھنے لگی۔ایک بار تو ایسا لگا کہ جیسے میں سو گئی فورا آنکھیں کھول کر ٹائم دیکھا ۔ گیارہ بج چکے تھے۔ فوراً کھڑی ہوکر کھڑکی سے باہر دیکھا ۔ وہ ابھی تک نہیں آیا تھا۔پہلی بار ڈیڈی کی باتیں سچ ہوتی معلوم ہوئیں مگر سوچنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ غنودگی سے اب سر میں درد ہونے لگا تھا۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا اب مزید چھانے لگا۔ ہر چیز دھندلانے لگی۔سب کچھ غائب ہوتا دکھائی دینے لگا اور پھر جانے کس چیز سے ٹھوکر لگی اور آگے کیا ہوا؟ کچھ معلوم نہیں۔۔۔۔۔ بس اتنا یاد ہے کہ جب آنکھ کھلی تو بہت دیر ہوگئی تھی۔ آنکھیں کھلتے ہی پہلی گھڑی کی طرف گئی۔ سات بج چکے تھے۔ فوراً کھڑکی کی طرف گئی اور باہر جھانکا تو شام ہو چلی تھی۔
“دانیالچلا بھی گیا۔۔۔۔۔ مجھ سے ملے بغیر۔۔۔۔” بھاگتے ہوئے لان میں گئی جہاں دانش اور ڈیڈی آپس میں باتیں کر رہے تھے
“دانیال چلا گیا۔۔۔۔ اسے روکا کیوں نہیں؟ اور آپ نے مجھے کیوں نہیں اٹھایا؟ اور وہ مجھ سے ملے بغیر کیسے جاسکتا ہے۔۔۔۔؟ دانش۔۔۔۔ تمہیں تو اسے روکنا چاہیے تھےا۔۔۔۔ اسے اتنی بھی جلدی کیا تھی۔۔۔” جاتے ہی اپنے سوالوں کی بوچھاڑ کی دیتی ہوں
“ارے۔۔۔۔۔ ارے۔۔۔۔ ذرا سانس تو لے لو۔۔۔”ڈیڈی پیار سے کہتے ہیں
میرے سارے سوال یک دم بے معنی ہوجاتے ہیں جب انہوں نے مجھے اصل بات بتائی۔
” اور ویسے بھی اگر وہ آتا تو کیا ہم اسے روکتے نہیں۔۔۔۔۔” دانش چائے کا کپ سامنے رکھی میز پر رکھتے ہوئے کہتا ہے
“کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ نہیں آیا۔۔۔۔؟” میرے جیسے سارے خواب چکنا چور ہوجاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے ہوا بند کر دی ہو اور مجھے اس خلا میں سانس لینے کو کہا ہو۔ بالکل اسی طرح اس وقت میرے لیے سانس لینا محال ہوگیا ۔ جس کا بے چینی سے انتظار کیا ، عین وقت پر وہ انتظار بے معنی ثابت ہوگیا۔۔۔ عین وقت پر اس نے مجھے دھوکہ دے دیا۔۔۔۔
“ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ نہیں آیا۔۔۔۔ آپ ضرور مجھ سے مذاق کر رہے ہیں” میرے الفاظ میرے لبوں سے تو نکلتے ہیں مگر ان کی چاشنی ختم ہو جاتی ہے۔
“بھلا ہمیں مذاق کرنے سے کیا ملے گا۔۔۔۔۔؟ ہم تو صبح سے اس کا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔”
“اور میں تو اس کی وجہ سے اپنے گھر بھی نہیں گیا۔۔۔۔” دانش ڈیڈی کی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے
” لیکن وہ ایسا کیسے کرسکتا ہے؟ اس نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آج مجھ سے ملنے آئے گا۔۔۔۔ پھر۔۔۔”
“فون کر کے پوچھ لو۔۔۔۔ویسے بھی انسان کو دنیا میں ہزار کام ہوتے ہیں ۔ ہر کوئی فارغ تو ہوتا نہیں۔۔۔”ڈیڈی کہتے ہیں
“لیکن اس کے لیے تو سب سے ضروری میں تھی۔۔۔”
“بیٹا! یہ مطلبی دنیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ مطلب ختم۔۔۔۔ تو کون اور میں کون؟”
“نہیں۔۔۔۔ وہ ایسا نہیں ہے۔ضرور اس کی کوئی مجبوری رہی ہوگی۔میں ابھی فون کر کے پوچھتی ہوں”اپنے کو تسلی دیتے ہوئے کہتی ہوں
“نہ آنے کے پیچھے اس کی کوئی نہ کوئی مجبوری ہوگی۔۔۔ ورنہ وہ ضرور آتا۔۔۔” کمرے میں جاتے ہوئے خود سے کہتی ہوں۔ کمرے میں جاکر پاگلوں کی طرح فون کو ڈھونڈ کر اس کا نمبر ملاتی ہوں مگر وہ میرا فون ریسیو نہیں کرتا۔
“وہ کال کیوں ریسیو نہیں کر رہا۔۔۔۔؟” میری بے چینی، پریشانی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ پانچ منٹ میں بیس بار فون ملایا مگر ہر بار ایک جواب موصول ہوا۔ میرا کرب بڑھتا جارہا تھا۔
“وہ ٹھیک تو ہوگا۔۔۔۔۔؟ کہیں کچھ ہو تو نہیں گیا۔۔۔۔۔ وہ میری کال ریسیو کیوں کر رہا۔۔۔۔؟”کچھ سوچتے ہوئے
“آخری بار ٹرائے کر کے دیکھتی ہوں” اس بار اس کا فون بند جاتا ہے۔ اب میری پریشانی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ پہلے کال نہ اٹھانا پھر موبائل بند کر دینا ، محض اتفاق نہیں تھا۔ ڈیڈی کی باتیں میرے کانوں میں ایک بار پھر گونجنے لگتی ہوں
“مطلب ختم۔۔۔۔ تو کون اور میں کون؟”
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: