Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 21

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 21

–**–**–


15 جولائی 2007 بروز اتوار
دس دن ۔۔ ۔ ۔ ۔دس سال کے برابر گزرتے محسوس ہوئے۔ ایک ایک لمحہ اسی کے بارے میں سوچا۔ اسی کے فون کا انتظار کیا اور خود بھی نہ جانے کتنی بار ٹرائے کیا مگر ہر بار فون بند رہا۔ ان سب باتوں سے میرے دل پر کیا گزری، یہ صرف میں جانتی ہوں یا پھر میرا خدا۔ ۔ ۔ کوئی میرے حال دل کو نہیں سمجھ سکا ۔ ڈیڈی بھی میری غلطی نکالنے لگے۔
“اب بھول جاؤ اس لڑکے کو ۔ ۔۔ ۔ ۔ دھوکہ دیا ہے اس نے تمہیں”
ان کی ہر بات تیر کی طرح میرے دل پر جاکر لگتی۔ ہر بار میرے ارمانوں کا خون ہوتا۔ ہر بار میری محبت کو ملامت کیا جاتا۔مگر پھر بھی، کہیں نہ کہیں ایک امید ابھی بھی باقی تھی۔ محبت کی خوشبو ابھی بھی میں محسوس کرسکتی تھی۔ مگر حالات اس کو ختم کر دینے کی کوشش میں جڑے ہوئے تھے۔
“دیکھو! کیا حال بنا لیا ہے تم نےاپنا۔۔۔۔دس دن ہوگئے ، بخار اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ۔۔ ۔ اگر اسی طرح ہی چلتا رہا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گی”
“اب جی کر بھی کیا کروں گی۔۔۔” بے جان مدھم سی آواز میرے لبوں سے نکلتی ہے
“کیوں کر رہی ہو بیٹا اس طرح کی باتیں۔۔۔۔ دھوکہ اس نے تمہیں دیا ہے۔ ۔۔ ۔ تم نے اس کو نہیں دیا۔۔۔۔ سزا اس کو ملنی چاہیے۔۔۔۔۔ تم کیوں اپنی زندگی برباد کر رہی ہو؟”
ان کی باتیں حقیقت تھیں مگر اس وقت مجھے زہر لگ رہی تھیں۔ دل چاہ رہا تھا کہ خود کو مار دوں۔ کیوں محبت کو سمجھ نہ پائی؟ کیا واقعی اس کی محبت ایک فریب تھی۔کیا واقعی اس کے لیے میں ٹائم پاس تھی؟ کیا حقیقت میں اس نے مجھے محبت کی راہ میں اکیلا چھوڑ دیا ہے؟کیا اس نے واقعی مجھے دھوکہ دیا ہے ؟کیا محبت ایسی ہی ہوتی ہے؟ کیا محبت میں صرف دھوکہ ملتا ہے؟۔ ۔۔ ۔ نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ میں کیا سوچ رہی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ایسا میں کیسے سوچ سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔ وہ دانیال ہے، میری محبت۔۔۔۔۔ وہ ایسا نہیں کرسکتا۔۔۔۔ اس نے کبھی میرے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا اور نہ ہی کر سکتا ہے۔ وہ تو مجھ سے سچی محبت کرتا ہے ۔ اس نے مجھ سے جو بھی وعدہ کیا ہے ، ضرور وفا کرے گا۔ یہ حالات ہمارے درمیان نفرتوں کو جنم نہیں دے سکتے۔ ان حالات کے زیر اثر میں اس کو برا بھلا نہیں کہہ سکتی۔ ہو سکتا ہے وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہو یا پھر کوئی اور وجہ بھی تو ہو سکتی ہے۔ انسان کے ساتھ سو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ۔۔ ۔ ہاں۔۔۔۔ ضرور کوئی نہ کوئی بات ہے۔مجھے ایک بار اس سے ملنا ہوگا۔ ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ مجھے ملنا ہوگا۔۔۔۔ ملنے سے ہی ہر بات واضح ہوجائے گی۔
“ڈیڈی کیا میں اس سے ایک بار مل سکتی ہوں؟”
” مگر وہ تم سے ملنا نہیں چاہتا۔۔۔ اگر ملنا چاہتا تو وہ تم سے ایک بار ملنے ضرور آتا یا پھر ایک فون کال ہی کر دیتا۔۔۔”
“مگر ۔۔۔ مجھے ایک بار ملنا ہے اس سے۔۔۔” اپنی ضِد پر اَڑی رہتی ہوں
“کیا کرو گی تم اس سے مل کر۔۔۔۔؟”
“میں اس سے مل کر سب کچھ clear کردینا چاہتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتا جس سے مجھے تکلیف پہنچے۔ پلز ۔۔۔۔۔ ڈیڈی ایک بار ۔۔۔۔ بس آخری بار۔۔۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ ان سب کے پیچھے اس کی کیا مجبوری ہے”
“بیٹا! مجبوری ایک دن کی ہوتی ہے یا پھر دو دن کی۔۔۔۔ مگر دس دن۔۔۔۔۔۔ مسلسل دس دن سے تم اس کے فون پر ٹرائے کر رہی ہو اور وہ بند جارہا ہے۔۔۔۔ ان سب کا کیا مطلب ہے؟ اگر وہ خود نہیں آسکتا تھا تو کم از کم ایک فون کال تو کر سکتا تھا نا۔۔۔”
“مگر ڈیڈی ان سب کے پیچھے اس کی کوئی مجبوری بھی تو ہو سکتی ہے نا۔۔۔!” ان کی ہر بات کو رَد کرتے ہوئے کہتی ہوں
“ٹھیک ہے۔۔۔۔ اگر تمہیں اسی میں راحت ملتی ہے تو جاؤ مل لو۔۔۔۔ مگر مجھے نہیں لگتا کہ وہ تمہیں ملے گا۔۔۔۔ ایسے لڑکوں کو میں اچھی طرح جانتا ہوں۔۔۔”
“پلز۔۔۔۔ ڈیڈی۔۔۔۔ ایسا تو مت بولیں۔۔۔۔”بات کاٹتے ہوئے کہتی ہوں
” ok ۔۔۔ لیکن ایک بات یاد رکھو اگر وہ تمہیں نہیں ملتا تو اس کے بعد تم کو وہی کرنا ہوگا جو میں چاہتا ہوں۔۔۔۔”
“ٹھیک ہے۔۔۔۔” ایک امید بندھ جاتی ہے۔
دل کو تھوڑا سا اطمینان تو محسوس ہوا شائد اب اس بے چینی کا حل بھی نکل آئے۔ شائد میرے سوالوں کا جواب مل جائے۔۔۔۔ بس اپنے رب سے یہی دعا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے۔ سارے خدشات غلط ثابت ہوں۔ سب کچھ ویسا ہوجائے جیسا 15 دن پہلے تھا۔۔۔۔۔۔۔ خدا کرے۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
18 جولائی 2007 بروز بدھ
سوچا تھا آج دانیال سے مل کر ساری غلط فہمیاں دور کر لوں گی۔ جو رِیت بنتی جارہی تھی شائد آج گِر جائے۔ جو موسم روٹھ گیا تھا ، آج مان جائے۔ محبت کو پھول جو مرجھانے کو تیار تھا ، آج پھر سے سیراب ہو کر کھِل اٹھے۔ جو خواب ٹوٹ کر بکھر چکے تھے آج پھر سے جڑ جائیں۔ لیکن ایک بار پھر سے میرے اعتماد کا خون ہوگیا۔ ہوا ئیں ایسے چلنے لگیں کہ پیدا ہوتی خواہشیں پھر سے دم توڑنے لگیں۔جس چمک کے ساتھ اس کے گھر تک کا سفر ہوا تھا ، واپسی پر وہی چمک آنکھوں میں کھٹکنے لگی۔ جس محبت پر کل تک اندھا اعتماد تھا ، آج وہی اعتماد اندھا ہوگیا۔ ہر چیز دھوکہ لگنے لگی۔سب جھوٹ لگنے لگا۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ جیسے سب فریب ہو۔ میں خود کو بھی ایک فریب محسوس کرنے لگی۔خود سے بھی ایک گِھن آنے لگی۔پیار۔۔۔۔ محبت ۔ ۔۔ ۔ عشق۔۔۔۔ وفا۔۔۔۔۔ سب بے معنی ہوگئے۔جس شخص سے ان الفاظ کی پہچان حاصل کی ، آج وہی ان الفاظ کو بے معنی کر گیا۔جس کو میں نے زندگی کی طرف لانے کی ہر سو کوشش کی، آج وہی زندگی میں کھو کر مجھے بھول گیا۔ مجھے دغا دے گیا، اپنی کرن کو۔۔۔۔ اپنی محبت کو۔۔۔۔ سپنے محبت کے دکھا کر کیوں ہوا دے گیا؟
بے تابی سے اس کے گھر کی جانب میرے قدم اٹھتے گئے۔۔ دل چاہ رہا تھا کہ جلدی سے اس کا گھر آجائے اور میں اس کے گریبان کو پکڑوں اور جھنجوڑ کر اس سے پوچھوں
“کیوں کر رہے ہو مجھے تنگ؟ آخر کیا ملا تمہیں مجھے پریشانی میں ڈال کر؟ کیا تمہیں معلوم ہے ، تمہارے نہ آنے کی وجہ سے مجھے کیا کیا سننا پڑا؟ دانش اور ڈیڈی تمہارے بارے میں کیا کیا کہہ رہے تھے؟ کیا تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ پچھلے چند دنوں میں میرے دل پر کیا بیتی۔۔۔ آخر کیوں ستایا تم نے مجھے؟ آخر کیوں لیا تم نے میری محبت کا امتحاں؟ ”
خود سوال اپنے ذہن میں بنتی جارہی تھی اور جواب کی توقع اس کی طرف سے کررہی تھی مگر ایک بار پھر اس نے ڈیڈی کی باتوں سچ کر دکھایا۔ گھر کے دروازے پر تالہ لگا تھا۔ بند گھر کو دیکھ کر خوشی کے اثرات غائب ہوگئے۔ ایک بار پھر شک و شبہ غالب آگئے۔ اِدھر ادھر سے بہت پوچھا مگر کسی نے کچھ نہ بتایا۔ آسمان اور زمین اپنی اپنی جگہ پر ہیں مگر وہ کیوں نہیں؟ کیا مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی۔ چلتے چلتے بازار میں پہنچ گئی۔ وہاں چاچا ذاکر پر نگاہ پڑی
“چاچا ۔۔ ۔ ۔ آپ نے دانیال کو دیکھا ہے؟ کہاں ہے وہ؟”فوراً ان سے سوال کیا
“کرن بیٹی تم کب آئیں؟ اور یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟” حیرت سے پوچھتے ہیں
“چاچا ۔۔۔ پلز۔۔۔۔۔۔ مجھے دانیال کے بارے میں جاننا ہے۔ کہاں ہے وہ؟”
“دانیال۔۔۔۔۔ اس کو تو دس دن ہوگئے اس محلے سے گئے ہوئےلیکن تم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔۔۔ خیریت تو ہے سب؟”
“کیا ؟ وہ یہاں سے چلا گیا؟ مگر کہاں؟ آپ کو کچھ بتا کر گیا کہ کہاں گیا ہے وہ؟”
“یہ تو نہیں بتایا کہ کہاں گیا ہے مگر ہاں آخری بار جب وہ دکان پر آیا تھا تو عجیب سی باتیں کر رہا تھا۔۔۔”
“عجیب؟ مطلب ؟ کیا باتیں کر رہا تھا۔ ۔ ۔۔ ۔ پلز مجھے بتائیے۔۔”
“کہہ رہا تھا کہ۔ ۔۔ ۔۔ زندگی میں پیسہ بہت ضروری ہے اگر پیسہ ہو تو سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اگر انسان کے پاس سب کچھ ہے مگر پیسہ نہیں تو وہ کچھ بھی نہیں ہے اور اگر پیسہ ہے تو سب کچھ ہے۔ ہر رشتہ پیسوں کا طالب ہے، رشتوں کی تو کوئی اہمیت ہی نہیں۔ رشتے پیسوں سے بنتے ہیں بلکہ یوں کہنا بجا ہوگا کہ پیسوں کے بکتے ہیں۔ پیسہ ہی انسان کا اوڑھنا اور بچھونا ہے۔ پیسہ ہی انسان کو انسان بناتا ہے۔ پیسہ ہو تو پرائے بھی اپنے بن جاتے ہیں اور اگر نہ ہو تو اپنے بھی پرائے بنتے دیر نہیں لگتی۔۔۔۔”
“یہ سب باتیں آپ سے دانیال نے کی؟؟؟” مجھے ان کی باتوں پر یقین نہیں آتا اس لیے دوبارہ پوچھتی ہوں
“ہاں! یہ سب باتیں دانیال نے خود مجھ سے کی ہیں ۔۔۔ پہلے تو تمہاری طرح مجھے بھی یقین نہیں ہوا کہ وہ ایسی باتیں کر سکتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے۔ اس کی سوچ بھی دوسروں کی طرح ہی نکلی۔”
“وہ ایسی باتیں کیسے کرسکتا ہے؟ اس کے نزدیک تو رشتے ہی سب کچھ تھے اور اب۔۔۔۔ ”
“بس کیا کریں بیٹی ۔ ۔ ۔ زندگی میں سب کچھ یکساں نہیں رہتا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی خواہشات بدل جاتی ہیں۔ اس کا ڈھنگ بدل جاتا ہے۔ اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔”
“مگر کیا انسان بھی بدل جاتا ہے؟؟؟ ” اپنی سوچ میں ڈوب کر بڑبڑاتی ہوں ” چاچا! آپ میرا ایک کام کر سکتے ہیں؟” اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے کہتی ہوں
“کیا۔۔۔؟ بتاؤ۔۔۔ ہوسکا تو ضرور کروں گا۔”
“آپ سے جب بھی دانیال کی ملاقات ہو تو پلز ایک بار مجھ سے بات ضرور کرا دیجیے گا۔ پلز۔۔۔ آپ کا یہ احسان میں کبھی نہیں بھولوں گی۔”
“یہ اچھی بات نہیں۔۔۔۔ مجھے چاچا بھی کہتی ہو اور احسان کرنے کا بھی کہتی ہو۔۔۔۔ضرور بات کروا دوں گا۔۔۔”
واپسی پر جیسے آنسوؤں نے بہنے کا بہانہ ڈھونڈ لیا ہو۔ ایک لمحے کے لیے بھی رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ دل پر ایک بوجھ تھا جو ہر گزرتا لمحہ شِدت اختیار کرتا جارہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: