Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 22

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 22

–**–**–


31 جولائی 2007 بروز منگل
کوئی لمحہ، کوئی گھڑی ایسی نہیں گزری جب میں نے اسے یاد نہ کیا ہو۔ کوئی سانس ایسا نہیں لیا جب میں نے اس کا نام نہ لیا ہو۔ہر پل اس کی یادیں سائے کی طرح میرا پیچھا کرتی رہیں۔ ہر پل اس کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آکر مجھے ر لا تا رہا۔ نہ جاگ کر چین آتا نہ لیٹ کر قرار آتا۔ نیندیں تو مجھ سے ایسے روٹھیں جیسے ان کا اور میرا کوئی رشتہ ہی نہیں۔ اٹھتے بیٹھتے بس اسی کا نام لینا، اسی کو یاد کرنا ، اسی کی راہ تکنا، اسی کاانتظار کرنا ، اب جیسے زندگی کا حصہ بن گیا ہو۔ ایک لمحہ کے لیے بھی فون کو اپنے سے الگ نہیں ہونے دیا ۔ اس غرض سے کہ شائد بھولے سے وہ مجھے کال کر لے، مجھ سے بات کر لے۔ ایک بار میرا نام اپنے لبوں سے لے لے۔ میرے کانوں کی پیاس کو اپنی آواز کے جادو سے بجھا دے۔ مگر افسوس دن سے رات، رات سے دن بدلتے گئے۔ لمحہ لمحے کے ساتھ تبدیل ہوتا گیا۔وقت کا پہیہ اپنی مزید رفتار پکڑنے لگا۔ کلینڈر کی تاریخیں ایک دوسرے کا پیچھا کرتی رہیں مگر اس کا انتظار اتظار ہی رہا۔ نہ صبح کو آیا نہ ہی شام کو آیا۔ سوچا شائد خوابوں میں ہی آکر مجھ سے باتیں کر لے مگر یہ بھی ممکن ہو نا سکا۔آنکھوں کا انتظار ، دل کی بے قراری، کسی سے ڈھکی چھپی نہ رہی۔ اور چھپا کر بھی کیا کرتی؟؟ میرا حاصل صرف اس کی شخصیت تھی۔ میرا وجود ہر دم اس کے وجود کی تلاش میں سرگرداں رہتا۔ کبھی چاند ستاروں میں اس کا چہرہ تراشتی تو کبھی گلاب کے پھولوں میں اس کی خوشبو کو محسوس کرنے کی کوشش کرتی۔ اس غرض سے کہ شائد وہ ایک دن لوٹ آئے ۔ ۔ ۔ میری محبت اس کو واپس بلا لے۔ جاگتی آنکھوں سے اس کے آنے کے خواب دیکھتی پھر بند آنکھوں سے اس کی تعبیر دیکھنے کی کوشش کرتی۔ اور حقیقت سے منہ موڑنے کی پوری کوشش کرتی ۔ دماغ حقیقت کو تسلیم کر چکا تھا مگر دل تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا۔ مگر ایسا ہمیشہ رہنے والا کہاں تھا؟ ایک نہ ایک دن سچائی کو قبول تو کرنا ہوگا مگر وہ ایسا کیسے کرسکتا ہے؟میری محبت کو سرعام کیسے نیلام کر سکتا ہے؟ کیا وہ اتنا مطلبی تھا؟ اس نے ذرا بھی میری پرواہ نہیں کیا۔۔۔۔؟ آخر کیوں ؟؟ میں نہیں مان سکتی کہ وہ ایسا کرسکتا ہے جب تک کہ وہ خود مجھ سے آکر نہ کہے۔ میرے اس گمان کو بھی اس نے سچ کر دکھایا۔
“آج کے بعد تم مجھ سے ملنے کی کوشش مت کرنا اور نہ ہی مجھ سے بات کرنے کی۔میرے اور تمہارے راستے جداجدا ہیں۔ ہمارے درمیان کبھی کوئی رشتہ جنم نہیں لے سکتا۔ تمہاری دنیا الگ ہے میری دنیا الگ۔تم محبت کے سہارے جی سکتی ہو مگر میں نہیں۔ مجھے زندگی میں آگے بڑھنا ہے۔ کچھ کر کے دکھانا ہے۔میری زندگی میں محبت نامی کسی چیز کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ تم سے محبت کرنا میری سب سے بڑی بھول تھی یا پھر یوں کہوں کہ میں نے تم سے کبھی محبت کی ہی نہیں۔ تم میرے لیے ہمیشہ سے ایک اجنبی تھی اور اجنبی ہی رہو گی۔ خیر بات جو بھی ہو میں اس محبت نامی بھول کو سدھانا چاہتا ہوں۔ اسی لیے تم سے جڑے ہر رشتے کو توڑتا ہوں۔ تم سے بندھے ہر ناطے کو بھولنا چاہتا ہوں ۔ اپنے رب سے یہی دعا کرتا ہوں کہ آج کہ بعد تمہارا چہرہ مجھے کبھی دیکھنا نصیب نہ ہو اور نہ ہی کبھی تم میرے راستے میں آؤ۔ تمہارے لیے بھی یہی بہتر ہوگا کہ تم مجھے بھول جاؤ اور اپنی نئی زندگی شروع کرو۔
دانیال”
ایک رات بستر پر لیٹے اپنی قسمت کو کوس رہی تھی کہ اس نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ تب ہی اچانک میرے سرہانے رکھے موبائل پر ایک رنگ ہوئی، یہ ایک میسج کی رنگ تھی۔ پہلے میں نے اس کو نظر انداز کردیا اور اشکوں میں ڈوبی رہی پھر نہ جانے میرے دل میں کیا آئی۔۔۔ موبائل اٹھا کر میسج کو پڑھنا شروع کیا ۔ شروع میں مجھے بہت تعجب ہوا کہ ایسا میسج بھلا کون کرسکتا ہے؟ مگر آخر میں جو نام لکھا تھا۔ اس نے میری جان ہی نکال دی۔ اشک جو بہتے ہی جارہے تھے ایک لمحے کے لیے رک گئے اور میں آنکھیں پھاڑ کر اس نام کو تکنے لگی۔ دانیال ۔ ۔ ۔ ۔ دانیال ۔ ۔ ۔۔ دانیال۔۔ ۔۔ ۔ رکے ہوئے آنسو ایک بار پھر سیلاب کی شکل اختیار کر گئے۔ فورا ً سے پہلے اس نمبر پر دوبارہ ٹرائے کیا مگر اس بار بھی اس نے میسج کر کے نمبر بند کر دیا تھا۔ میں پاگلوں کی طرح اشک بہاتے ہوئے اس نمبر پر کئی گھنٹے ٹرائے کرتی رہی مگر بے سود۔۔۔۔ آنکھوں کے اشکوں مزید رفتار پکڑ لی۔
“وہ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ میرے ساتھ گزارے گئے لمحوں کو وہ کیسے بھول سکتا ہے؟اس کے نزدیک کیا میری محبت کوئی حیثیت نہیں رکھتی؟ کیا اس کے نزدیک محبت صرف کھیل تماشا ہے؟ کیوں؟ اس نے میرے ساتھ ایسا کھیل کھیلا؟ کیوں اس نے محبت کی دنیا میں لا کر مجھے تنہا چھوڑ دیا؟ وہ کہہ بھی کیسے سکتا ہے کہ میں اس کے لیے اجنبی ہوں؟۔۔۔۔ مجھ سے محبت کرنا اس کی زندگی کی بھول تھی۔۔۔۔ وہ سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟ کیوں کیا تم نے ایسا ۔۔۔ کیوں؟”
میرا غصہ عروج پر پہنچ چکا تھا۔ پہلی بار اس کا نام میرے لبوں سے پیار کی بجائے نفرت سے نکلا۔ مجھے نفرت کی آگ نے آگھیرا ۔ میں پاگلوں کی طرح روتی ہوئی کمرے میں موجود ہر چیز کو تباہ کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی تھی۔بال بکھر چکے تھے۔ دل چاہ راہا تھا کہ ہر چیز کو آگ لگا دوں۔ ہر چیز کو تباہ کردوں ۔ میٹرک میں اردو کی کتاب میں پڑھا گیا شعر آج سچ محسوس ہونے لگا
یہ عشق نہیں آساں، بس اتنا سمجھ لیجیے
آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے
آج میں نے خود کو اس دریا میں ڈوبتے ہوے محسوس کیا۔ پورا جسم آگ کی لپیٹ میں آگیا ۔ پَور پَور جھلس چکا تھا۔جسم پر کوئی حصہ ایسا نہ تھا جس پر ضرب نہ لگی ہو۔ جو زخموں سے چور نہ ہو۔ایک پل کے لیے تو ایسا لگا کہ مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔آسمان سر پر آگِرا ہو۔ زمین پھٹ گئی ہو اور میں اس میں دَھنستی جارہی ہوں۔
عشق وہ کھیل نہیں جسے بچے کھیلیں
جان نکل جاتی ہے صدمات سہتے سہتے
ایک میسج نے مجھ پر جو قیامت بربا کی ، جو صدمات کا پہاڑ توڑا ، وہ صرف میں جانتی ہوں۔ کوئی میری حالت کو سمجھ نہیں سکتا جس کی خاطر میں ساری دنیا سے لڑنے کو تیار تھی۔ اس نے دنیا کی خاطر مجھے دھوکہ دیا۔ اس دنیا کی خاطر مجھے چھوڑ دیا۔ مجھے۔۔۔۔ اپنی محبت کو۔۔۔۔ اپنی کرن کو۔۔۔
“کون سی گھڑی میں نے تمہارا ساتھ نہیں دیا۔۔ دانیال۔۔۔” اس کی فوٹو کو اپنی آنکھوں کے سامنے کر کے سوال کرتی ہوں
“”تم زندگی سے دور تھے۔ میں نے تمہیں زندگی سے ملایا۔ تمہیں ہنسنا نہیں آتا تھا۔ میں نے تمہیں ہنسنا سکھایا۔ تمہارے نزدیک خواب کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ میں نے تمہیں ان کی اہمیت بتائی۔ تمہیں خواب دیکھنا سکھایا۔ ان کو پوار کرنا سکھایا۔ تمہاری ہر مجبوری کو بِن کہے سمجھا۔ ہر مجبوری کو دور کر نے کی اپنی بھرپور کوشش کی۔ جاب کی تلاش میں تم ادھر ادھر بھٹک رہے تھے۔ میں نے چاچا ذاکر سے کہہ کر تمہیں جاب دِلوائی۔ وہ تو مان بھی نہیں رہے تھے مگر میں نے ان کی منتیں کی کہ ایک بار وہ تمہیں جاب دے دیں۔ سیلری میں دوں گی۔ مگر میں نے ایک بار بھی تم پر نہیں جتلایا۔اور آج۔۔۔ تم نے کیا کیا؟ مجھے۔۔۔۔ اپنی کرن کو دھوکہ دیا۔ کیوں؟ کم از کم میرے احسانوں کو تو یاد کیا ہوتا۔ کم از کم ان کا تو پاس رکھا ہوتا۔تم اتنے احسان فراموش ہو مین نے کبھی سوچا نہیں تھا۔۔ تم اتنے خود غرض ہو۔۔۔ اتنے بے حِس ہو، کم ظرف۔۔۔۔” آنکھوں سے اشک کا طوفان جاری و ساری رہتا ہے
“میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔ مسٹر دانیال۔۔۔۔ گو ٹو ہیل۔۔” فوٹو فریم کو غصہ میں دیوار پر دے مارتی ہوں
“اگر آج ہم جدا ہوگئے تو پھر کبھی نہیں مل پائیں گے” اس کے الفاظ میرے کانوں میں سرگوشی کرتے ہیں
“اگر پھر نہیں ملنا تھا تو اسی دن بتا دیتے۔ میں تمہیں کچھ نہیں کہتی ۔ کوئی سوال نہیں پوچھتی، خود اپنا راستہ جدا کر لیتی ” اشکوں کی رفتار تیز ہوجاتی ہے
“کم از کم اس تکلیف سے تو نہ گزرتی ۔ تمہارے انتظار میں پاگلوں کی طرح بے چین تو نہ ہوتی۔ آخر کیوں کیا تم نے ایسا؟ بتاؤ۔۔۔۔ کیوں کیا تم نے؟ کیا ملا تم کو میری محبت کا مذاق بنا کر۔میں کبھی تمہیں معاف نہیں کروں گی۔ کبھی نہیں ۔۔” روتے روتے میں اٹھ کر اس کی ٹوٹی ہوئی تصویر کے پاس جاتی ہوں اور کانچ کے ٹکڑوں کے ایک طرف کر کے تصویر کو اٹھاتی ہوں۔ اس کا ہنستا ہوا چہرہ میرے زخموں پر نمک چھڑک دیتا ہے۔
“بہت خوش ہو رہے ہو نا تم، میری اس حالت پر۔ مل گیا سکون تمہیں؟” آواز کی گرج میرے غصے کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے
“بہت برے ہو تم۔۔ تم نے میری محبت کا مذاق اڑایا ہے، میرا دل توڑا ہے تم نے۔ کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گے۔ کبھی خوشی تمہارا مقدر نہیں بنے گی۔ ایک ایک پل خوشی کے لیے تم بھی اسی طرح ترسو گے جس طرح آج میں ترس رہی ہوں۔ تمہیں دِلی خوشی کبھی نصیب نہیں ہوگی۔ جس طرح آج میں تڑپ رہی ہوں۔ ایک دن آئے گا تم بھی اسی تڑپ سے گزرو گے۔کبھی خوش نہیں رہ سکو گے۔ جس طرح تم نے میرا سکون برباد کیا ہے۔ زندگی تمہارا سکون برباد کردے گی۔ آج میری آنکھوں میں آنسو ہیں کل تمہاری آنکھوں میں آنسو ہونگے۔تم نے میری محبت کو پامال کیا ہے، میری عزت کو مجروع کیا ہے۔ میں تمہیں کبھی نہیں بخشوں گی۔ کبھی معاف نہیں کروں گی۔” لڑکھڑاتے قدموں سے کھڑے ہونے کی کوشش کرتی ہوں مگر غم کا پہاڑ اِتنا وزنی ہوتا ہے کہ میں اس کے وزن کی وجہ سے کھڑی نہیں ہو پاتی۔ آنکھوں سے اشک جاری رہتے ہیں۔ ہمت کرکےاور دیوار کے سہارے سے بڑی مشکل سے کھڑی ہوتی ہوں اور الماری سے ماچس نکال کر اس کی تصویریں نکال کر ایک ڈھیر بنا دیتی ہوں۔
“تم نے مجھے درد دیا ہے نا۔۔۔۔ تو تمہیں بھی درد ملے گا۔ تم نے مجھے آگ کے سمندر میں ڈبویا ہے تو تمہیں بھی اسی آگ کے سمندر سے گزرنا ہوگا۔” اپنے اشکوں کو صاف کرتے ہوئے اس کی یادوں کے ڈھیر کو آگ لگا دیتی ہوں۔ درد بھرے دل سے ایک بار پھر آہ نکلتی ہے اور نکلتی بھی کیوں نا؟ جب انسان کی دنیا اجڑ جائے، خواب تنکا تنکا ہوجائے تو اس کے دل سے آہ نہ نکلے تو کیا نکلے۔۔
“محبت پھول جیسی ہے” کوئی میرے کان میں اس وقت سرگوشی کرتا ہے
“جھوٹ۔۔۔ جھوٹ۔۔۔۔ جھوٹ ہے یہ۔۔۔ سب جھوٹ ہے یہ” کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے درد بھری آواز میں چِلا کر کہتی ہوں۔ کمرے میں ہر طرف دھواں پھیلنے لگتا ہے۔ آگ کے شعلے بھڑکنے لگتے ہیں۔
“محبت ہرگز پھول جیسی نہیں ہے اور نہ ہی کبھی ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر میرے لیے تو ہرگز نہیں۔” اشکوں کی برسات ایک بار پھر شروع ہو جاتی ہے
“کیوں مجھے اس محبت میں کانٹے ملے؟ آخر کیوں کانٹے ہی میرا مقدر بنے؟ کیوں محبت کے پھول میرے لیے کانٹے ثابت ہوئے؟ کیا غلطی تھی میری؟ بولو۔۔۔ بولو دانیال۔۔ مجھے جواب چاہیے۔۔” آہ و زاری کرتے ہوئے چلاتے ہوئے اس کی جلتی ہوئی یادوں سے سوال کرتی ہوں۔ دھویں کی شِدت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔دل کی تڑپ شِدت اختیار کر لیتی ہے۔ آنسو ؤں کی وجہ سے آنکھوں میں درد ہونا شروع ہوجاتا ہے۔میری مثال ایک زندہ لاش کی طرح ہوجاتی ہے۔ لگاتار آگ کی طرف دیکھے جاتی ہوں۔ ایسے میں کب میرے دوپٹے کو آگ لگ جاتی ہے اور وہ آگ مجھ تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کی نفرت مجھے احساس ہی ہونے نہیں دیتی۔ اچانک آنسوؤں کو صاف کر کے دوپٹہ کو بھی آگ میں جلنے کے لیے پھینک دیتی ہوں اور خود کو سنبھالنے کی پوری کوشش کرتی ہوں۔
“آج کے بعد تم میرے لیے مر چکے ہو۔” آواز جیسے ہوا میں گونجنے لگ جاتی ہے۔
“جب تم مجھے بھول چکے ہو تو میں کیوں تمہاری یاد میں اپنی زندگی کو برباد کروں؟اگر تم مجھے اپنی محبت کے قابل نہیں سمجھتے تو میں تو تمہیں اپنی نفرت کے قابل بھی نہیں سمجھتی۔ میری زندگی، میرے وجود سے دانیال نامی باب ہمیشہ کے لیے مِٹ گیا ہے۔ تم مجھ سے کیا رشتہ توڑو گے؟ میں تم سے اپنا ہر رشتہ توڑتی ہوں۔ آج کے بعد میرا تم سے کوئی رشتہ نہیں۔۔۔۔ نہ ہی محبت کا اور نہ ہی نفرت کا۔۔۔ سنا تم نے۔۔۔ کوئی رشتہ نہیں ہے میرا تم سے۔۔۔”
اچانک پھر سے اشک امڈ آتے ہیں مگر اس بار اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے ان پر بندباندھنے کی کوشش کرتی ہوں تب میری نظر سامنے الماری میں رکھی ڈائری پر پڑتی ہے۔ جس میں ہر لمحہ کو میں نے قلم بند کیا۔ یوں تو یہ ڈائری مجھے دانش نے دی تھی مگر اس کا یک ایک ورق دانیال کے نام کیا۔ کوئی ورق ایسا نہ تھا جس پر اس کا نام رقم نہ کیا ہو۔ کوئی یاد ایسی نہیں تھی جو میں نے اس میں درک نہ کی ہو۔ پہلی ملاقات سے اظہارِ محبت تک کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرا جو یہ ڈائری مجھے یاد نہ کرواتی ہو۔ ڈھیلے قدموں سے الماری کی طرف گئی اور اپنی آنکھوں کو قابو کرتے ہوئے اس کو اٹھا کر کھولتی ہوں۔ ہر لفظ محبت کے نام تھا۔شروع سے آخر تک ہر لفظ صرف دانیال کے نام تھا۔ ہر لفظ اس کا نام پکارنے لگا۔ ایک بار پھر میں اشکوں کے سامنے ہار گئی۔
“یہ ڈائری۔۔۔۔ اسی سے ہماری کہانی کا آغاز ہواتھا ۔۔۔ پہلی بار جب میں نے تمہیں محسوس کیا تھا تب سے تمہارے ساتھ گزارے گئے ہر لمحے کو میں نے اس میں قلم بند کیا اور آج جب میں تمہیں اپنی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکال چکی ہوں تو ایک بار پھر اس قلم کو اٹھاتی ہوں اور اس لمحے کی کیفیت کو قلم بند کر رہی ہوں۔ یہ ڈائری مجھے تمہاری یاد نہ دِلائے، اپنی کی گئی غلطی کو اپنے سامنے پھر کبھی نہ پاؤں ۔۔ اس لیے۔۔۔” آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے بیڈ پر جا کر بیٹھ جاتی ہوں
“میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔۔ آج کے بعد پھر کبھی میں ڈائری نہیں لکھوں گی اور اس کی وجہ صرف اور صرف تم ہو۔۔۔۔ صرف تم دانیال۔۔۔ تم نے مجھ سے ہر چیز چھین لی ۔ میرا سکون، میرا قرار، میری محبت، میری پسند، میری ہنسی، میرا وجود، میری روح اور آج میرا ہم نشین بھی۔۔۔۔ میری تنہائی کا ہم نشین ۔۔۔۔ میری ڈائری۔۔۔ آج میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ آج میں بالکل خالی ہاتھ ہوں۔ایک فقیر کی طرح ۔ ایک مسافر کی طرح۔ تم نے میرا سب کچھ چھین لیا۔ آج میں خود کو اس قدر تنہا محسوس کر رہی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں۔ ۔ ۔ ۔ اب اور نہیں۔ اب میں تمہیں مزید اپنی زندگی برباد نہیں کرنے دونگی۔ اپنے وجود سے تمہیں مزید کھیلنے نہیں دونگی۔ اب میں تمہارے لیے اپنی زندگی کو برباد نہیں کرسکتی ۔۔۔ تمہیں یاد کر کے اپنے آپ کو برباد نہیں کرسکتی۔ تم میرے لیے صرف اجنبی ہو اور اجنبی لوگوں کے لیے آنسو نہیں بہائے جاتے۔ تمہیں مرنا ہوگا۔ تمہارے وجود کو مرنا ہوگا۔تمہاری یادوں کر مرنا ہوگا ۔تمہاری سانسوں کو، تمہاری باتوں کو، تمہارے احساسات کو اب میرے لیے مرنا ہوگا۔ آج کے بعد تم میرے لیے مر چکے ہو اور میں تمہارے لیے۔ میں بھول جاؤں گی کہ دانیال نامی کوئی شخص میری زندگی میں آیا بھی تھا۔۔۔۔۔
آج کے بعد نہ میری صبح ہوگی ۔ ۔ ۔ نہ شام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نہ دن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ نہ رات ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نہ دھوپ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ چھاؤں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔
نہ راحت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ نہ خوشی ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
نہ آرام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ نہ سکون ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
نہ ہی خواب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ ہی ان کی تعبیر ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔
اور اس کی وجہ تم ہو ۔ ۔۔ ۔ دانیال۔ ۔ ۔۔ صرف تم۔ ۔ ۔ آئی ہیٹ یو۔۔۔۔ آئی ہیٹ یو ۔ ۔ ۔ ۔۔ دانیال۔ ۔ ۔۔ ۔۔
آج کے بعد میری زندگی کے باب یہیں ختم ہوتے ہیں۔ تم نے جس قدر مجھے غم دیے اس کے بعدقلم اٹھانے کی سِکت ہی باقی نہیں رہی۔ آج جس طرح ڈائری ختم ہورہی ہے باکل اسی طرح آج میری زندگی بھی ختم ہورہی ہے۔ زندگی کا سفر یہیں پر اختتام پذیر ہوا جاتا ہے۔ جس طرح آج کی رات تاریکی ہی تاریکی ہے ویسے ہی آئندہ پوری زندگی میں اس تاریکی مین کھوئی رہوں گی۔ آخری لائن پر صرف یہی لکھوں گی کہ تم نے مجھے برباد کر ڈلا۔ میری زندگی کو تم نے کانٹوں سے بھر دیا ۔ میری خوشیوں کا تم نے قتل کر دیا۔۔۔ میرا قتل کر دیا تم نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دانیال۔۔۔”
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: