Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 23

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 23

–**–**–


14 اگست 2007 بروز منگل
وقت بھی کیسے کیسے حالات سے دوچار کر دیتا ہے۔ پل میں تولہ تو پل میں ماشہ۔ 4 جولائی کو تم سے بات کرنے کے بعد ایسا لگا جیسے سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہو۔ میرے اندر جو ڈر تھا۔ وہ بھی غائب ہوتا دکھائی دے رہا تھا اور میں خود بھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔ اب بس امی سے بات کرنا باقی تھی۔مجھے یقین تھا کہ وہ ضرور مان جائیں گی لیکن بات کرنے کے لیے ہمت کہاں سے لاتا۔ بہت کوشش کی مگر کبھی وہ سمجھ نہ پاتیں تو کبھی میں سمجھا نہ پاتا۔ ہر گزرتا لمحہ اس بات کا تقاضا کر رہا تھا کہ میں جلد از جلد ان کو سچائی سے آشنا کروں آخر کار ہمت کر کے میں رات کو ان کے پاس گیا۔
“امی! آپ سے ایک بات کرنی ہے۔۔۔”ان کے پاس بیٹھ کر پاؤں دابنے لگتا ہوں
“ہاں بیٹا۔۔۔ کہو۔۔۔ کیا بات کرنی ہے” تھکاوٹ کی وجہ سے ان کی آنکھیں بند ہوتی ہیں۔
“امی! آپ تو جانتی ہیں کہ میرا بی-ایس مکمل ہو گیا ہے”
“ہاں۔۔ اللہ کا شکر ہے ۔ اس کے فضل و کرم سے ہی ہوا ہے۔ اس کی رحمت سے ہی یہ چار سال کٹے ہیں۔”
“بے شک۔۔۔ اسی کی رحمت سے میں اس مقام تک پہنچا ہوں لیکن میرا مطلب کچھ اور تھا۔۔۔” بات کرتے کرتے خاموش ہو جاتا ہوں
“اور ؟ اور کیا مطلب؟ کھل کر کہو بیٹا۔۔۔۔ کیا کہنا چاہتے ہو؟”
” وہ یہ۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔۔” لب ایک بار پھر خاموش ہو جاتے ہیں
“یہ میں ۔۔۔ میں ۔۔۔ کیا لگا رکھی ہے؟ صاف صاف کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟”
“امی! میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں کسی کو پسند کرتا ہوں” دو سیکنڈ سے بھی کم وقت میں تیزی سے کہہ کر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہوں
” یہ کیا کہہ رہے ہو تم ۔۔۔۔۔؟ جانتے بھی ہو؟” میری بات سن کر وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ جاتی ہیں اور بھاری آواز میں مجھ سے مخاطب ہوتی ہیں
” جی امی۔۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔۔ امی! میں واقعی اس کو بہت پسند کرتا ہوں” آنکھیں ادباً نیچے کیے کہتا ہوں
” اور وہ لڑکی؟۔۔۔۔” کیا وہ بھی؟” آواز میں قدرے نرمی آجاتی ہے
” جی امی۔۔۔ وہ بھی مجھے پسند کر تی ہے اور اس نے تو اپنے گھر والوں سے بات بھی کر لی ہے اور کل مجھے بلایا ہے اس نے۔۔۔۔”
“واہ! بیٹا! ” طنزیہ انداز میں کہتی ہیں
“اب اتنے بڑے ہوگئے کہ ماں سے پوچھنا تک گوارا نہ کیا۔۔۔۔۔ پوچھنا تو دور کی بات باتنا بھی منا سب نہیں سمجھا۔۔۔”
” نہیں امی۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے۔۔۔”
“ایسی ہی بات ہے۔۔۔ ورنہ تم ایسا کبھی نہ کرتے۔۔۔”
“امی! آپ یقین کریں میں آپ کی اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔۔۔”
“ساری بات تو ہو چکی ہے۔۔ اب کس فیصلے کی بات کر رہے ہو؟” ان کے انداز میں مزید طنز شامل ہوجا تا ہے
” نہیں امی۔۔۔آپ کا فیصلہ میرے لیے مقدم ہے ، آپ جو کہیں گی ، میں وہی کروں گا۔۔۔ جیسا چاہیں گی ویسا ہی ہوگا۔۔۔”
“اگر نہ کردوں تو۔۔۔۔” اٹھ کر دروازے کی طرف جاتے ہوئے پلٹ کر جواب دیتی ہیں
” جیسے آپ کی مرضی۔۔۔۔” دل برداشتہ ہو کر آہستہ سے کہتا ہوں
ایک لمحہ کے لیے خاموشی ہمارے درمیاں جگہ بنا لیتی ہے اور امی ٹکٹکی باندھے میرے مایوس چہرے کی طرف دیکھتی رہتی ہیں
“کیا واقعی تم اس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہو؟” میری حالت پر ان کو رحم آجاتا ہے
میں ان کی اس بات کو سمجھ نہیں پاتا اور فوراً سے پہلے اس کی وجہ دریافت کرتا ہوں کہ آخر ان کا ایسا کہنے کا مقصد کیا تھا۔
“امی ۔۔۔ آپ کا س بات سے کیا مطلب ہے؟”
“مطلب صاف ہے بیٹا!۔۔۔ بعض اوقات انسان کچھ فیصلہ جلدی میں کرلیتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے کچھ غلط کیا ہے مگر تب تک کافی دیر ہوجاتی ہے۔”
“امی یہ فیصلہ میں نے جلد بازی میں نہیں کیا اور نہ ہی جذبات میں بہک کر کیا ہے۔۔۔۔”
“تم اس کے بارے میں جانتے کیا ہو؟ کس فیملی سے وہ تعلق رکھتی ہے؟ رہن سہن کیسا ہے؟”
“امی۔۔۔ امی۔۔۔۔ جیسا آپ سوچ رہی ہیں ویسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ” ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مزید کہتا ہوں “اس کا تعلق اگرچہ اپر کلاس سے ہے مگر وہ ان سب باتوں کو نہیں مانتی۔ یہ امیری ، یہ غریبی اس کے نزدیک کچھ حیثیت نہیں رکھتی اور ویسے بھی اس کو میرے بارے میں سب کچھ معلوم ہے۔ میں جیسا بھی ہوں جس طرح بھی ہوں، وہ مجھے پسند کرتی ہے۔۔۔”
“لیکن ۔۔۔۔ کیا اس کی فیملی تمہیں پسند کرے گی؟”
“امی اس نے اپنی فیملی سے بات کر لی ہے تب ہی تو مجھے بلایا ہے۔”
“ایک بار پھر سے سوچ لو بیٹا!۔۔۔ میں تمہاری پسند کی مخالفت نہیں کر رہی بلکہ ایک ڈر ہے ۔ امیری اور غریبی کا۔ بڑے گھر کی لڑکیاں بہت نازوں میں پلتی ہیں۔ ان کے نکھرے ، ان کے انداز سب نرالے ہوتے ہیں۔ وہ ہم جیسی نہیں ہوتی۔ قناعت پسند، تھوڑے پر گزارا کرنے والی۔ ان کا تعلق زندگی سے ہوتا ہے، وہ دنیا کے رنگ کو اپنانا جانتی ہیں۔ چاہے اس کے لیے انہیں کچھ بھی کرنا پڑے۔ وہ خواب تو دیکھتی ہیں مگر اس کی تعبیر کے لیے حد سے گزر جاتی ہیں اور یہ جو گھر تم دیکھ رہے ہو۔ اتنا بڑا تو ان کے نوکروں کا گھر ہوتا ہے۔ وہ اس چھوٹے سے گھر میں رہنے کی عادی نہیں ہوتیں۔ ۔۔۔” ایک پل کے لیے خاموشی ہمارے درمیان جگہ لے لیتی ہے
” آج اس کی خوشی تمہارے ساتھ ہے لیکن اگر وہ کل کسی اور کو پسند کر لے تو۔۔۔۔۔ کیا کرو گے تم؟ ۔۔۔۔۔ پل دو پل کی خوشی عمر بھر کا روگ بن جائے گی”
“امی ۔۔۔ آپ پریشان مت ہوں۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا اور ویسے بھی آپ کی دعائیں ہے نا میرے ساتھ ۔ ۔ ۔ آپ کی دعائیں ہمیشہ مجھے سیدھا راستہ دکھائیں گی۔” ان کے ڈر کو دور کرنے کی اپنی طرف سے پوری کوشش کرتا ہوں
” اگر تمہاری خوشی اسی مین ہے تو۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔ مل لو۔۔۔۔” چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتی ہیں
“تھینک یو امی۔۔۔”خوشی سے ان کے گلے لگ جاتا ہوں “دیکھیے گا ۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔”
“اللہ کرے ایسا ہی ہو۔۔۔۔ میرے بیٹے کو ہمیشہ اس کی خوشی ملتی رہے۔”
امی کی طرف سے اجازت تو مل گئی مگر اب رات کیسے کاٹی ۔۔۔۔ وہ صرف میں جانتا ہوں۔۔۔ یہ ایک انتہائی کٹھن مرحلہ تھا۔ دل خوشی سے باغ باغ تھا۔ اسی لیے نیند نے بھی اپنا راستہ بدل لیا۔ کروٹ بدل بدل کر رات گزاری اور صبح ہوتے ہی تیاری میں مصروف ہوگیا۔سب سے پہلا مسئلہ تو یہ پیش آیا کہ کیا پہنوں؟ گنتی کے دو چار سوٹ اور ہر سوٹ کو بیسیوں بار پہن چکا تھا۔اب کیا یہ پہن کر اس سے ملنے جاؤں۔ کیا سوچے گی وہ؟ کبھی ایک سوٹ نکالتا تو کبھی دوسرا۔۔۔ میری اس حالت کو دیکھ کر نورین بھی ہنسنے لگی۔
“بڑی بات ہے۔۔۔۔ آج تو آپ اپنی ڈریس کے بارے میں اتنے سنجیدہ ہیں۔۔۔” مزاح میں طنز کرتی ہے
ہنسی تو مجھے خود پر بھی بہت آرہی تھی۔ ایسا پہلے تو کبھی نہیں ہوا۔ بات بھی حقیقت تھی۔ میں پہلی بار اپنی ڈریس کے بارے میں اس قدر سنجیدہ تھا۔آخر ہوتا بھی کیوں نا۔۔۔ یہ وقت ایک بار تو آتا ہے ۔ خدا خدا کر کے براؤن رنگ کا سوٹ سیلکٹ کیا۔ چلتے پھرتے ناشتہ کیا۔جلدی جلدی میں امی کی دعائیں لی اور پھر منزل کی طرف چل پڑا۔ دل کا تو بس نہیں چل رہا تھا ورنہ امڈ کر باہر آجاتا۔
کیا بات کرونگا اس سے؟ آج وہ کس طرح تیار ہوئی ہوگی؟ کون سے رنگ کا سوٹ پہنا ہوگا؟کیا اس وقت اس کی حالت بھی میری طرح ہوگی؟ کیا اس کا دل بھی میری طرح دھڑک رہا ہوگا؟ کیا اس کی سانسوں میں اتنی ہی تازگی ہوگی جیسے اب میری سانسوں میں ہے؟ اسیسے ہی کئی سوال میرے ذہن میں غوطے کھا رہے تھے۔ ہر بڑھتا قدم میری بے قراری میں اضافہ کر رہا تھا۔ جنت تو جیسے مجھے دنیا میں ہی ملنے والی تھی۔ خداخدا کر کے اس کی جنت میری آنکھوں کے سامنے تھی۔اشک خوشی میں ایک بار پھر بہہ نکلے۔ باہر سے اس کا گھر اتنا عالیشان تھا جیسے اس کا مقدر۔ رفتہ رفتہ قدم بڑھا کر گیٹ پر دستک دی اور جواب کا انتظار کرنے لگا۔ ایک سیکنڈ، پھر اگلا سیکنڈ اور پھر اس سے اگلا۔۔۔ وقت تو جیسے تھم گیا ہو۔ تیس سیکنڈ کے عرصہ میں چوکیدار نے دروازہ کھوالا۔ اس کے پوچھنے سے پہلے ہی میں نے اپنے بارے میں سب کچھ اس کو بتا دیا۔ شائد میری آنے کا اس کو علم تھا تب ہی بغیر کچھ پوچھے مجھے اندر لے گیا۔اس کی جنت جیسے باہر سے خوبصورت تھی اندر سے بھی بالکل اسی طرح چمک رہی تھی۔ ہر طرف سنگ مرمر کے پتھر تھے اور پتھر بھی ایسے کے ہیرے بھی اس پر رشک کریں۔ میں اس کی جنت کے حسن میں سب کچھ بھول گیا۔ تقریبا دو منٹ سے بھی کم وقت میں وہاں پر دانش آگیا۔اس کو وہاں دیکھ کر مجھے بہت حیرانی ہوئی۔ مگر جب اس نے مجھے بتایا کہ وہ کرن کا کزن ہے تب جا کر قرار آیا۔ خوشی ہر لمحہ اپنا رنگ بدلنے لگی۔ اتنے میں وہاں پر ایک بارعب شخص، جن کا قد 6 فٹ سے ہرگز کم نہ ہوگا، سفید لباس میں ملبوس میری طرف نظریں جمائے ہوئے وہان پر آئے اور ایک زور دار آواز فضا میں گونجی۔
” تم ہو دانیال؟” یہ ان کا سوال تھا یا ان کا جواب؟ اس زوردار آواز کی وجہ سے میں بالکل سمجھ نہیں پایا۔ بس گردن اثبات میں ہلا دی۔ ابھی پہلی آواز کی گونج ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک بار پھر ان کی آواز گرجی۔
“کیا کرتے ہو؟”
پہلی بار کی طرح اس بار بھی میں ان کے سوال کو سمجھ نہیں پایا۔ ان کا رعب اور دبدبہ مجھ پر حاوی ہونے لگا اور شائد ان کی منشا بھی یہی تھی۔
“جی۔۔۔ ابھی بی ایس مکمل کیا ہے۔۔۔” کپکپاتے ہونٹوں سے یہ الفاظ نکلتے ہیں
” میرا مطلب تھا کہ کتنا کما لیتے ہو ایک دن میں؟”
انہوں نے ایک بار پھر مجھ پر وار کیا اور اس بار کی ضرب پہلے سے زیادہ تھی۔ انسان جب کسی کے گھر مہمان بن کرجاتا ہے تو میزبان اس کی عزت و تکریم کرتا ہے۔ سلام دعا کرتا ہے۔ اس کا احوال پوچھتا ہے مگر یہاں ایسا کچھ نہ ہوا۔ سلام دعا تو دور انہوں نے مجھے بیٹھنے تک کا نہ کہا۔ ایسا لگا کہ میں وہاں زبردستی بھیجا گیا تھا۔ مجھے تھوڑی سی بھی اپنائیت محسوس نہیں ہوئی۔ ان کی نظریں مجھ پر ایسے وار کر رہی تھیں کہ ابھی مار ڈالیں گی۔دانش کی نظریں بھی مجھے ایسے دیکھ رہی تھیں جیسے کسی اجنبی کو دیکھ رہی ہیں۔
“کیا ہوا؟ خاموش کیو ں ہوگئے؟ یہی تو پوچھا ہے کہ کتنا کما لیتے ہو؟” ایک بار پھر گرج ہوتی ہے
“جی۔ ۔۔ ۔۔ ابھی فارغ ہوں۔۔۔۔ “باریک سی آواز میں جواب دیتا ہوں
“پھر گھر کا خرچ کیسے چلتا ہے؟ ملازموں کو تنخواہ وغیرہ کہاں سے دیتے ہو؟”
” جی۔۔۔ ہمارے گھر میں ملازم نہین ہیں۔۔۔۔ امی خود گھر کا کام کرتی ہیں اور جہاں تک گھر کے خرچ کا سوال ہے ۔۔۔ وہ سلائی وغیرہ کر کے امی چلاتی ہیں۔”
“اس کا مطلب تم اپنے گھر کا کام میری بیٹی سے کرواؤ گے۔۔۔ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میری بیٹی تمہارے گھر میں نوکروں کی طرح کام کرتی پھرے گی۔” میری بات کو کاٹ کر کہتے ہیں
“دیکھو دانیال! کرن کو ہم نے بہت لاڈوں سے پالا ہے۔ ہر جائز نا جائز خواہش کو پورا کیا ہے۔ کسی کام کو کرنا تو دور کی بات اس نے کسی کام کو ہاتھ تک نہیں لگایا اور اب وہ تمہارے گھر میں ایک نوکر بن کر ساری زندگی گزار دے ۔۔۔ایسا تم سوچ بھی کیسے سکتے ہو؟ محلوں میں راج کرنے والی تمہارے گھر کی نوکرانی بنے؟” دانش وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے
“آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔۔”
“دانش بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔ میری بیٹی تمہارے گھر کی نوکرانی بنے۔میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا۔ اتنا بڑا ظلم میں اپنی بیٹی پر نہیں کر سکتا۔” ایک بار پھر میری بات کو کاٹتے ہوئے کہتے ہیں
“میں کرن سے بہت محبت کرتا ہوں۔ کبھی کوئی تکلیف نہیں انے دوں گا اس پر۔۔”
“پیار ، محبت سے پیٹ نہیں بھرتا اور نہ ہی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ آئی بات سمجھ میں۔۔۔” زوردار آواز میں کہتے ہیں
“لیکن۔۔۔۔” آہستہ سے کہتا ہوں
“لیکن کیا۔۔۔ پورانے عاشقوں کی طرح باتیں مت کرو۔ حقیقت میں جیو اور حقیقت میں یہ سب فضول باتیں ہیں۔”
“محبت فضول بات نہیں ہے۔ یہ انمول ہوتی ہے۔ اگر انسان کو سب کچھ مل جائے لیکن پیار و محبت خفا ہوں تو وہ بھری دنیا میں بھی اکیلا ہوتا ہے ۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر محبت مل جائے تو وہ سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے جو انسان چاہتا ہے۔ محبت زندگی ہے، یہ انسان کو جینا سکھاتی ہے۔زندگی کے طور طریقے سکھاتی ہے۔ رشتوں کی اہمیت کرنا سکھاتی ہے۔ محبت کے بغیر زندگی کی مثال ایک بنجر زمین کی طرح ہے۔ جہاں خالی جگہ تو ہے مگر رشتوں کے بیج پروان نہیں چڑھ سکتے۔”
” فلسفے کافی اچھے بناتے ہو لیکن خیالی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا۔” میری ہر دلیل کو رد کر تے ہوئے کہتے ہیں
” میں خیالی باتوں پر یقین بھی نہیں رکھتا۔ مجھے معلوم ہے کہ حقیقت کیا ہے؟ اور ہر گزرتا لمحہ کس بات کا تقاضا کرتا ہے؟”
“بہت خوب۔۔۔جب تمہیں سب معلوم ہے تو تب بھی تم کرن سے شادی کرنا چاہتے ہو؟”
“جی! آپ یقین کریں ، آپ کی بیٹی کو کبھی میری ذات یا میری وجہ سے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ اس کی طرف بڑھتی ہوئی ہر تکلیف کو میں اپنے سر لے لوں گا۔”
“اتنا یقین ہے خود پر؟”
“جی۔۔۔ مجھے اپنے آپ پر یقین ہے”
“لیکن ہمیں نہیں۔۔۔۔ ہمیں ثبوت چاہیے”
“ثبوت؟ کیسا ثبوت؟” حیران ہو کر اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھتا ہوں
“اپنے آپ کو ہمارے برابر لانا ہوگا۔۔”
“کیا مطلب ہے آپ کا۔۔۔ میں کچھ سمجھا نہیں”
“مطلب صاف ہے ۔ تمہیں اپنے سٹیٹس کو ہمارے سٹیٹس کے برابر لانا ہوگا۔ یہ بنگلہ جو تم دیکھ رہے ہو۔ میری بیٹی کے نام ہے۔ بالکل اسی طرح کا تمہیں خرید کر دینا ہوگا۔ اس کی خواہشوں کو ، اس کے ارمانوں کو اس کے کہے بغیر پورا کرنا ہوگا۔”
ان کی باتوں پر مجھے بہت تعجب ہوا۔ دل کی ساری خوشی خزاں کے سنگ ہوتی معلوم ہوئی۔ لبوں پر مسکراہٹ کی جگہ پریشانی نے لےلی۔
“خاموش کیوں ہو؟ کر پاؤ گے ان سب باتوں کو پورا؟ کیا اپنے آپ کو کرن کے قابل کر سکو گے؟ کیا اپنی محبت کو پانے کے لیے اس امتحان سے گزر سکو گے؟” وہ میری محبت کی نیلامی لگاتے جارہے تھے اور میں خاموشی سے کھڑا ان کو تکتا رہا۔ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔ میرے تو جیسے اوسان ہی خطا ہوگئے۔ لبوں پر جیسے خاموشی کی مہر لگ گئی ہو۔ کچھ کہنے کو الفاظ ہی نہیں تھے ۔ بڑی مشکل سے لب ہلائے
“جی۔۔”
“بہت خوب۔۔۔ پانچ سال۔۔۔۔ صرف پانچ سال ہیں تمہارے پاس۔ اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے۔ اگلے پانچ سالوں میں یا تو تم کرن کو پانے کی جستجو میں اس امتحان سے گزرو یا پھر اس کو بھول جاؤ۔”
“ٹھیک ہے ۔۔۔ مجھے آپ کی یہ شرط منظور ہے۔۔” اپنے حواس کو بحال کرتے ہوئے مزید کہتا ہوں “اگلے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو میں آپ کے برابر لا کر رہوں گا اور آپ کی ہر شرط کو پورا کروں گا۔ اپنی زندگی کے ہر گزرتے لمحے کو کرن کی تلاش میں گزار دوں گا۔ ”
“بہت خوب۔۔” تمسخرانہ انداز میں کہتے ہیں
“اور ہاں۔۔۔ ایک اور بات ۔ ان پانچ سالوں میں تم ایک بار بھی کرن سے ملنے کی کوشش نہیں کرو گے۔۔۔ منظور ہے تمہیں؟” وہ مزید کہتے ہیں
یہ وار تو میرے دل پر جالگتا ہے ۔ جس کا چہرہ دیکھے بغیر میری صبح نہیں ہوتی تھی۔ آج اس کا دیدار نہ کرنے کو کہا جارہا ہے اور وہ بھی ایک دن نہیں اور نہ ہی ایک ماہ۔۔۔ پورے پانچ سال۔۔؟ اس کے الفاظ جب تک میرے کانوں میں نہ جائیں تب تک جاں کو سکوں نہیں آتا ۔ اب اگلے پانچ سال کے لیے اس کے ایک ایک بول کو ترسنا ہوگا۔۔ کیسے سہوں گا پانچ سال کی جدائی؟ کیسے ملے گا اس بے چین دل کو قرار؟ مگر کر بھی کیا سکتا تھا؟ سب کچھ ریت کی طرح میرے ہاتھ سے جیسے نکل ہی گیا تھا۔ خالی ہاتھوں میں سوائے لکیروں کے کچھ بھی نہ تھا۔
“ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ مگر کیا آخری بار اس سے مل سکتا ہوں۔۔؟” دل کی پیاس کو بجھا نے کی خاطر یہ فریاد کرتا ہوں
“ابھی سے اپنی بات سے مکر رہے ہو؟ اس کا مطلب تمہاری بات کا کوئی اعتبار نہیں۔۔”
” نہیں اینی کوئی بات نہیں۔۔۔ بس میں آخری بار کرن سے ملنا چاہتا ہوں۔۔”
” کہا نا نہیں مل سکتے۔۔۔ تو نہیں مل سکتے۔”
میری فریاد کا ان پر جیسے کوئی اثر ہوتا ہی نہیں۔ ہر بار ان کا جواب ” نہ ” ہوتا ہے۔
اب میں کر بھی کیا سکتا تھا سوائے اس شخص کی طرح واپس لوٹنے کےجو اپنا سب کچھ اپنے ہاتھوں سے لٹا کر جارہا ہو۔ جس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کے چراغ کو بجھا دیا ہو۔ آنکھوں سے اشک رواں ہوجاتے ہیں۔
“الوالداع دانیال۔۔۔۔ میں جارہی ہوں” وہی الفاظ ایک بار پھر میرے کانوں میں سرگوشی کرتے ہیں۔
واپس آنے کے بعد کئی گھنٹے صرف اسی کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنے آپ کو تکلیف دیتا رہا۔ ہر گھڑی جدائی کی آگ میں جلتا رہا۔ تمہاری یادوں کو یاد کر کر کے اشک بہاتا رہا۔ پھر جب تمہاری کال آئی تو ایک دم لبوں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی مگر ہر بار کی طرح اس بار بھی یہ خوشی وقتی نکلی۔ تمہارے ڈیڈی سے کیا ہوا وعدہ آنکھوں سے جل تھل بن کر برسنے لگا۔ کئی بار چاہا کال ریسیو کرکے صرف ایک بار تمہاری آواز کو سن لوں۔ تم سے بات کر لوں مگر وعدے کی پاسداری نے میرے ہاتھ کھینچ لیے۔ اور دل پر پتھر رکھ کر موبائل بند کر دیا۔
رات تو ایسے تیسے گزر گئی مگر اگلے دن تہیہ کر لیا کہ میں گزرے وقت کا ماتم بنانے کی بجائے آنے والے وقت کو سنہری بناؤں گا۔ اپنے آپ کو تمہارے برابر لانے کی بھر پور کوشش کروں گا۔ اس کے لیے مجھے دنیا کو ادھر سے ادھر بھی کرنا پڑے تو اس بار پیچھے نہیں ہٹوں گا۔مگر ان سب باتوں کے لیے پہلے ایک اچھی جاب کی ضرورت تھی لیکن اس لیے جو پہلا قدم مجھے اٹھانا پڑا ۔ وہ میتے لیے انتہائی کٹھن تھا۔ کسی قیامت سے کم نہ تھا۔اپنے اس گھر کو چھوڑنا پڑا جس میں میرا بچپن گزرا۔ میری یادیں جس کے در و دیوار سے وابستہ تھیں۔ ان کو چھوڑنا پڑا۔ ان کو الوالداع کہنا پڑا۔ مگر روشن مستقبل کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔ آخری بار اپنے گھر کو الوالداع کہنا جتنا مشکل تھا میں بیان نہیں کرسکتا اور نہ ہی قلم بند کر سکتا ہوں۔
پچھلے ایک ماہ میں جن مشکلات سے میں دوچار ہوا ہوں اس کا ذکر میں اپنے خدا کے علاوہ کسی اور سے نہیں کرنا چاہتا۔ آج بھی ہمت کرکے آخری بار اپنے حالات لکھ رہا ہوں۔ شائد اب کبھی نہ لکھ سکوں۔ اگلے پانچ سالوں میں تو ہرگز نہیں کیونکہ ان سالوں میں مجھے صرف محنت کرنی ہے۔ اسی محنت جس کا حاصل کرن ہو۔ خدا سے یہی دعا ہے کہ ان پانچ سالوں میں وہ ہمیشہ خوش رہے۔کبھی کوئی آنچ نہ آئے۔اس کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہے۔تمہیں اب تھوڑی تکلیف تو پہنچے گی مگر میں وعدہ کرتا ہوں کہ پانچ سال بعد تمہاری ہر تکلیف کو دور کردوں گا۔ مجھے امید ہے کہ تم میرا انتظار کرو گی۔ ۔۔۔۔ کرن۔۔!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
24 اگست 2007 بروز جمعہ
آج مجھے میری محبت مل گئی۔ جس کے ساتھ زندگی گزارنے کے سپنے دیکھے تھے ۔ اس ہمسفر کا ساتھ مل گیا۔آج سے میری زندگی اک ایک نیا دور شروع ہوگا جس میں کوئی اور نہیں ہوگا۔ صرف میں اور تم۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: