Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 25

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 25

–**–**–


17مئی 2012 بروز جمعرات
ہر لمحہ دل پر مایوسیاں قدم جمانے لگیں تھی مگر اس بے قرار دل کی اداسی ایک معصوم سی بچی نے دور کردی۔
میں کھڑکی کی طرف منہ کیے، ہاتھ میں فائل تھامے ، اس کا بغوار مطالعہ کر رہا تھا کہ اچانک میرے آفس کا دروازہ کھلا۔ مِس راحیلہ ایک بچی کا ہاتھ تھامے آفس میں داخل ہوئیں۔ بچی روتی جارہی تھی۔
“کیا ہوا؟ مِس راحیلہ؟ کون ہے یہ اور کیوں رو رہی ہے؟” سرسری طور پر دیکھتے ہوئے کہتا ہوں
“کیا کریں سر۔ ۔۔ ۔ بچے پیدا بعد میں ہوتے ہیں، لوگ سکول میں داخل پہلے کروا دیتے ہیں۔۔” ہمیشہ کی طرح عادت سے مجبور بے تکا جواب دیتی ہیں
” یہ میری بات کا جواب نہیں ہے۔۔” سخت لہجے میں کہتا ہوں
“سوری سر۔۔۔ دوہفتے پہلے اس نے ایڈمشن لیا مگر مجال ہے ایک دن بھی اس نے آرام سے گزارا ہو۔ سار وقت روتی رہتی ہے۔اس کی وجہ سے دوسرے بچے بھی ڈسٹرب ہوتے ہیں”
“اس کے parents کو بتایا”
” دو ہفتے میں چار بار فون کر چکی ہوں۔ ۔۔۔ مگر مجال ہے ان کے سر پر جونک بھی رینگتی ہو۔ ہر بار یہی کہتی ہوں کہ وہ اس کو سکول نہ بھیجیں ابھی بہت چھوٹی ہے یہ مگر ہر بار اس کا بس یہی جواب ہوتا ہے “دھیرے دھیرے عادت ہوجائے گی” اب کیا کریں ؟”
“عجیب parents ہیں ؟ ” اس کے چہرے کی طرف دیکھتا ہوں تو اس کا معصوم سا چہرہ مجھے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔دل خود بخود اس کو پیار کرنے کو چاہتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس بچی کے ساتھ میرا کوئی گہرا تعلق ہے۔
“ادھر آؤ بیٹا۔۔۔” اس کی طرف ہاتھ بڑھا کر اپنی طرف بلاتا ہوں۔ وہ سہمی ہوئی اور آنسو بہاتے ہوئے ، لرزتے قدموں کے ساتھ میرے پاس آتی ہے۔ اس کے پاس آنے پر وہی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے۔ ایک عجیب سا احساس جنم لیتا ہے۔ جو مجھے گھٹنوں کے بل بیٹھنے پر مجبور کردیتا ہے اور پیار سے اس کے ہاتھوں کو تھام کر اس سے باتیں کرتا ہوں۔
” پیاری سی گڑیا کا پیارا سا نام کیا ہے؟” بچگانہ انداز میں پوچھتا ہوں
“مہک۔۔۔۔۔ ” روتے ہوئے ، معصومانہ انداز میں جواب دیتی ہے۔ ایک بار پھر وہی مہک محسوس ہوتی ہے
” اوہ۔۔۔۔ آپ کا نام مہک ہے۔۔۔۔۔ بہت پیارا نام ہے” اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہتا ہوں۔ اس کو چھونے سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی اپنے کو چھو رہا ہوں۔
“آپ اپنے نام کا مطلب جانتی ہو؟” اس کی ڈریس کو ٹھیک کرتے ہوئے کہتا ہوں
وہ نہ میں سر ہلاتی ہے لیکن اب اس کا رونا کم ہوجاتا ہے مگر ہچکیاں ابھی بھی جاری رہتی ہیں۔ اور غور سے میرے چہرے کو دیکھتی رہتی ہے
” مہک کا مطلب ہے خوشبو۔۔۔۔ دیکھو ذرا۔۔ آپ سے کتنی خوشبو آرہی ہے۔ بالکل گلاب کی طرح۔۔۔” میری سانسوں کے ساتھ اس کے ہاتھوں کی خوشبو میرے جسم میں داخل ہوتی ہیں۔ ایک بار پھر وہی مہک، وہی احساس جنم لیتا ہے۔
“اب آپ مجھے یہ بتائیں ۔۔۔ آپ اتنا کیوں روتی ہیںَ؟”
“مجھے ماما پاپا کے پاس جانا ہے”
“اچھا یہ بات ہے۔ آپ کو ماما پاپا کے پاس جانا ہے۔ تو آپ جاتی تو ہو جب چھٹی ہوجاتی ہے۔”
“نہیں۔۔۔ مجھے ابھی جانا ہے”
“مہک کو ابھی جانا ہے۔۔۔ پھر تو کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔ مِس راحیلہ آُ پ جلدی سے مہک کے ماما پاپا کو یہاں بلائیں۔ ان کو کہیں کہ وہ جلدی سے مہک کے پاس آجائیں۔” مِس راحیلہ میری طرف سوالیہ انداز میں دیکھتی ہیں اور میں ان کو نظروں سے باہر جانے کو کہتا ہوں جس کو وہ فوراً سمجھ جاتی ہیں اور مسکرا کر باہر چلی جاتی ہیں۔ان کے جانے کے بعد مہک کو گود میں لے کر کرسی پر بیٹھ جاتا ہوں۔
“دیکھو۔۔ اب تو مِس آپ کے ماما پاپا کو بلانے چلی گئی نا۔۔۔ اب تو رونا بند ہونا چاہیے۔ آپ اچھی بچی ہو نا۔۔ اور آپ کو پتا ہے اچھے بچے کبھی نہیں روتے، وہ بہت بہادر ہوتے ہیں۔۔۔ بہت strong ہوتے ہیں۔”
” میں strong ہوں ۔”
“لیکن آپ تو روتی ہیں۔ جو بچے strong ہوتے ہیں وہ کبھی نہیں روتے۔۔”
” میں نہیں روتی۔۔” چلا کر کہتی ہے
“اتنا غصہ۔۔۔۔ بری بات۔۔۔ اچھے بچے غصہ نہیں کرتے۔۔۔”
“میں غصہ نہیں کرتی۔۔” پہلے سے زیادہ اونچی آواز میں کہتی ہے
“اچھا اچھا۔۔۔ آپ غصہ بھی نہیں کرتیں۔۔۔۔” ہنستے ہوئے اس کے ماتھے کو بوسہ دیتا ہوں۔ ایک بار پھر سے ایک کشش مجھے اس کی طرف کھینچتی ہے۔ وہی مہک، وہی انداز، میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ دل کی دھڑکن پہلے سے زیادہ تیز ہوجاتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ہمیشہ اس کا چہرہ دیکھتے جاؤں۔ کافی وقت اس سے باتیں کرتا گزر جاتا ہے۔
“اب تو ہم دوست بن گئے نا۔۔!”
“ہاں۔۔!” سر ہلاتے ہوئے کہتی ہے
“پھر ہاں؟؟”
“سوری۔۔۔۔ جی۔۔۔۔”کان کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہتی ہے۔ اس کی معصومیت پر مجھے ہنسی آجاتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
22 مئی 2012 بروز منگل
انسان کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ اس کی محبت اس کے ساتھ ہو۔ اور جب آپ کی محبت ، آپ کے ہمسفر کو آپ سے محبت کرنے پر مجبور کر دے تو وہ لمحہ کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ساتھ تو ہم دو اجنبی کی طرح چلے تھے مگر مجھے یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ مجھے دل سے ضرور قبول کر لے گی۔ مجھے اپنا ہمسفر ضرور مان لے گی۔ اس لیے میں نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ اپنا ہر پل اس کے نام کردیا۔ اس کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں اس کے کہنے سے پہلے پوری کیں۔اپنا وجود اس کے نام کردیا اور تب تک اس رشتے کو آگے نہ بڑھایا جب تک اس کی محبت حاصل نہ ہوگئی اور آخر مجھے محنت کا صلہ مل ہی گیا۔ اس نے مجھے اپنے ماضی کو بھول کر قبول کر ہی لیا۔اپنا وجود میرے نام کردیا۔ اپنے نام کو میرے نام سے جوڑ دیا اور ہم زندگی کے ایک نئے سفر پر نکل پڑے۔ہر طرف خوشیاں تھیں۔ میں تھا اور وہ یا پھر ہماری محبت۔ وقت تو جیسے جنت کا سماں تھا۔ اب کسی اور کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اسی راستے پر چلتے چلتے ہماری زندگی کو ایک اور نام مل گیا۔ہماری محبت میں ایک نیا موڑ آیا۔ ہمارے وجود کو مہک مل گئی۔ جس نے ہمارے رشتے کو مزید مضبوط کردیا۔ ہمارے خوشیاں، ہماری محبت اس کے سنگ ہوگئیں۔ ہمارے خواب ایک ہو کر اس کے روشن مستقبل کو دیکھنے لگے۔۔۔۔ ہماری بیٹی۔۔۔ مہک۔۔۔ ہمارے لیے سب کچھ بن گئی۔ وقت گزرتا گیا۔ حالات بدلتے گئے۔ باہر کی دنیا میں کیا ہورہا ہے؟ہمیں اس سے کچھ غرض باقی نہ رہی۔ ہماری دنیا صرف تین لوگوں سے شروع ہوتی اور انہی پر ختم ہوتی۔ میں ، وہ اور ہماری مہک۔
آج میں اپنے آپ پر رشک کرتا ہوں کہ لائف میری ہے۔ جس میں محبت کرنے والی بیوی ہو۔ پیار سے پاپا کہنے والی بیٹی ہو۔ کسی بھی انسان کو اور کیا چاہیے؟۔ مجھے تو جیسے دنیا میں ہی دونوں جہاں کی نعمتیں مل گئیں۔ آفس میں جب بھی ان کی یاد آتی ہے تو فوراً فون کرکے باتیں کرلیتا ہوں۔ مگر کچھ دنوں سے دل بہت غمگین ہے۔ بہت اداس رہتا ہے۔ مہک کو چند گھنٹوں کے لیے اپنے سے دور تو کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے۔
“لاڈ پیار اپنی جگہ۔۔۔۔ مگر زندگی کے اصول اپنی جگہ”
یہ بات بھی اس نے مجھے سمجھائی اور شائد ٹھیک ہی کہا۔۔۔ اب اپنی خوشی کے لیے اس کا فیوچر تو برباد نہیں کر سکتا۔ مگر ایک ہفتے سے تھوڑا سا سکون محسوس ہوا ہے۔ اب پہلے کی طرح مہک روتے ہوئے گھر نہیں آتی۔ بلکہ دوسرے بچوں کی طرح ہنتے ہوئے آتی ہے۔ بلکہ اس کی ماما تو بعض اوقات حیران ہوجاتی ہے۔ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا؟ پہلے تو سکول نہ جانے کے لیے اتنے بہانے کرتی تھی۔ اور اب اتوار کو بھی سکول جانے کی ضِد کرتی ہے۔ میں ہی اس کو سمجھاتا ہوں کہ اتنا فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔
“بچی ہے۔۔ پہلے دل نہیں لگتا ہوگا اور اب جب دوست بن گئے ہیں تو ان سے ملنے کے لیے روتی ہے۔”
“آپ سمجھ نہیں رہے ۔۔ وہ اکثر کسی سَر کے بارے میں بات کرتی ہے”
“اچھا۔۔۔ ہمیں بھی تو بتاؤ۔۔۔ کیا بات کرتی ہے؟”
” یہی کہ ایک سَر ہیں۔ وہ اسے بہت پیار کرتے ہیں۔ اپنے آفس میں لے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ خوب کھیلتے ہیں۔ اس سے باتیں کرتے ہیں۔ چاکلیٹ دیتے ہیں۔ ”
“تو اس میں اتنی حیران ہونے کی کیا بات ہے؟ اس کے رونے کی وجہ سے ایسا کرتے ہونگے۔ اور ویسے بھی شہر کا مہنگا ترین سکول ہے ۔ جب اتنی زیادہ فیس ادا کرتے ہیں تو ان کا یہ فرض تو بنتا ہے کہ وہ بچوں کو ہر طرح سے آرام مہیا کریں۔”
” لیکن اس سکول میں صرف مہک ہی تو نہیں پڑھتی؟ دوسرے بچے بھی تو ہیں۔”
“کیا پتا ۔۔۔ ان کے ساتھ بھی۔۔۔۔”
“نہیں۔۔۔۔ اسی بات کا تو ڈر ہے۔” میری بات کو کاٹ کر کہتی ہے
“کیا مطلب؟”
“مطلب یہ کہ وہ باقی بچوں کو نہیں پڑھاتے۔ صرف ہماری بیٹی کو ہی پڑھاتے ہیں۔ صرف مہک سے ہی باتیں کرتے ہیں۔ ۔۔۔ کوئی ٹیچر کسی ایک سٹوڈنٹ پر اتنا مہربان کیسے ہوسکتا ہے؟”
اس کی اس بے چینی کو دیکھ کر میں اسے سکول جانے کا مشورہ دیتا ہوں اور وہ میرے کہنے پر چلی بھی جاتی ہے مگر آنے پر اس کی پریشانی کم ہونے کی بجائے زیادہ ہو جاتی ہے۔
“اب کیا ہوا بیگم صاحبہ؟ اس ٹیچر سے ملاقات نہیں ہوئی کیا؟”
” ہاں۔۔۔ وہ آج نہیں آئے تھے۔۔”
” تو کیا ہوا۔۔۔ کل پھر چلے جانا تم۔۔”
” نہیں۔۔۔۔ اب اس کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔”خیالوں میں کھوئے ہوئے جواب دیتی ہے
“کیوں؟ کیاہوا؟”
“وہاں پر موجود دوسری ٹیچر سے ان کے بارے میں معلومات لی تھی۔۔”
“تو کیا کہا انہوں نے؟۔۔۔ کون ہے وہ شخص؟”
“اس سکول کا پرنسل۔۔۔۔۔” یہ کہہ کر وہ پریشان ہو جاتی ہے
” یہ تو اچھی بات ہے۔۔۔ اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے؟”
“آپ میری بات کو سمجھ نہیں رہے۔۔۔ کوئی شخص اتنا قریب کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ٹیچر بھی حیرانی سے بتا رہی تھی کہ آج تک انہوں نے ایسا پہلے کبھی نہیں کیا۔ پہلی بار انہوں نے کسی سٹوڈنٹ کو اتنا ٹائم دیا۔ ان کے نزدیک اصول سب سے اہم ہیں۔مگر مہک۔۔۔اس کو وہ خود کلاس سے لے جاتے ہیں۔ اس سے باتیں کرتے ہیں۔کھیلتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب وہ مہک کے ساتھ ہوتے ہیں تو اپنی تمام میٹنگ کو منسوخ کر دیتے ہیں۔”
اس کی تمام باتیں سن کر مجھے بھی تعجب ہوا مگر کچھ کہہ نہ سکا۔
“بس یہی بات کھٹک رہی ہے۔۔ ایک عجیب سا ڈر لگ رہا ہے”
“کچھ نہیں ہوتا۔ ہم خود ان سے ملنے جائیں گے اور بات کریں گے۔۔۔ اب ٹھیک ہے” وہ میری طرف دیکھ کر مسکرا دیتی ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: