Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 27

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 27

–**–**–


24 اگست 2012 بروز سوموار
آج ہمارے ساتھ کو پانچ سال مکمل ہوگئے۔ سوچا تھا کہ اس دن کو یاد گار بنا دوں گا مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ صبح سے ہی دل میں ایک عجیب سی ہلچل تھی۔ ایک الگ سا احساس تھا۔ ایک عجیب سی خوشبو میری سانسوں میں تحلیل ہورہی تھی۔
“کیا ہورہا ہے؟” صبح کو اپنے صوفے پر بیٹھا آفس کا کام کر رہا تھا۔ تب وہ میرے پاس آکر مجھ سے پوچھتی ہے
“کچھ نہیں۔۔۔ بس آفس کا کام کر رہا ہوں۔۔” کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس سے پوچھتا ہوں
“ویسے تمہارا کیا خیال ہے؟ آج کی شام کیسے گزاریں ؟” رومانوی انداز میں پوچھتا ہوں
” آپ بھی نا۔۔۔! ” وہ شرماتے ہوئے کہتی ہے
“ویسے میرے پاس ایک پلان ہے۔۔ کیوں نا! ہم ایک اچھی سی پارٹی Arrange کریں۔ اور اس بہانے مہک کے اس ٹیچر کو بھی بلا لیں گے۔”
“خیال تو اچھا ہے مگر۔۔۔” کچھ کہتے کہتے رک جاتی ہے
“مگر وگر کچھ نہیں۔۔۔ بس کہہ دیا کہ شام کو پارٹی ہے تو بس ہے۔۔”
“آپ تو بچوں کی طرح ضِد کرتے ہیں۔”
“ضِد ۔۔۔ تمہیں یہ ضِد لگ رہی ہے؟ اسے پیار کہتے ہیں۔۔۔”
“اب جلدی جلدی کام کریے۔۔۔ آفس کے لیے دیر ہورہی ہے۔۔” با ت کو تبدیل کرنے کی غرض سے کہتی ہے
دن کام میں گزر گیا۔شام کو میرے گھر پہنچنے سے پہلے پہلے اس نے تمام تیاریاں کر لی تھیں۔ تیاریوں کو دیکھ کر میرے لبوں پر ہلکی سی تبسم آگئی۔ مہمانوں کو بھی اس نے ہلے ہی انوائٹ کر لیا تھا۔
“آپ آگئے۔۔۔” ریڈ کلر کے سوٹ میرے پاس آکر مجھ سے پوچھتی ہے
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔” اس کی تعریف کرتا ہوں
“آپ بھی جا کر تیار ہو جائیں۔ میں نے آپ کا سوٹ نکال کر بیڈ پر رکھ دیا ہے۔۔”
اس کے کہنے کے بعد میں کمرے میں جا کر تیار ہوجاتا ہوں۔ کمرے کے باہر سے مہمانوں کی آواز مسلسل آتی رہتی ہے۔ میں جلدی سے تیار ہوکر باہر آتا ہوں۔ تقریباً سب مہمان آگئے مگر مہک کے ٹیچر ابھی تک نہیں آئے تھے شائد انہیں اچھا نہ لگا ہو۔۔ یا پھر کوئی اور بات ہو۔ بات جو بھی ہو ہم ایک بار پھر ان سے نہیں مل سکے۔ رات کے دس بج چکے تھے۔ اب بہت انتظار کر لیا۔ مہمان بار بار کیک کاٹنے کا کہنے لگے۔ چارو ناچار اس نے ہامی بھر لی۔ کیک کاٹنے کے لیے جیسے ہی وہ آگے بڑھی تو اس کا پاؤں پھسلا اور وہ نیچے گر گئے۔
“زیادہ چوٹ تو نہیں آئے تمہیں۔۔۔” میں نے فوراً اس کو سنبھالا دینے کی کوشش کی مگر وہ درد سے کڑاھتی رہی۔
“اف۔۔۔” اپنے درد کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی مگر یہ آواز نکل ہی گئی۔
“مجے دکھاؤ کیا ہوا؟۔۔۔ ” اس کے پاؤں کو جیسے ہی ہاتھ لگاتا ہوں تو ایک بار پھر اس کی تکلیف میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
“پلز۔۔۔ ہاتھ مت لگائیں۔۔۔۔ درد ہوتا ہے۔۔” میرے ہاتھوں کو دور کرتے ہوئے کہتی ہے
“اگر دیکھوں گا نہیں تو۔۔۔۔۔ اس طرح کرتے ہیں ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔۔ چلو۔۔”
“نہیں۔۔۔۔ ڈاکٹر کے پاس جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔” اس کے چہرے سے تکلیف صاف نظر آرہی ہوتی ہے۔” میں ٹھیک ہوں۔۔”
“کیسے ٹھیک ہو ؟؟؟؟ اتنا درد ہورہا ہے تمہیں۔۔۔۔”
“اتنے مہمان ہیں۔ این کو چھوڑ کر کیسے جاسکتے ہیں۔۔۔۔”
“مہمان کچھ نہیں کہستے۔۔۔۔ تم چلو میرے ساتھ۔۔۔۔ “اس کا ہاتھ پکڑ کر کر کھڑا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اور باہر دروازے کی طرف مشکل سے چل کر جاتی ہے۔ دہلیز پر پہنچ کر ایک اجنبی شخص کی ٹکڑ ہم سے ہوتی ہے۔ مگر ہم اتنی جلدی میں ہوتے ہیں کہ اس کا چہرہ دیکھ نہیں پاتے۔ اور کار میں بیٹھ کر ہسپتال چل دیتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یکم اکتوبر 2012 بروز سوموار
ہر گزرتا لمحہ مجھے موت کے قریب سے قریب تر لے جارہا تھا۔ میرا شمار نہ زندوں میں تھا ور نہ ہی مردوں میں۔ اس کی یاد مجھے اندر ہی اندر سے کھوکھلی کیے جارہی تھی۔کسی کام میں دل ہی نہیں لگتا تھا۔ سب راستے جو اس تک پہنچتے تھے صفحہ ہستی ہے مٹ گئے۔ اس بے ثبات دنیا میں خود کو اس قدر بے بس اور مجبور محسوس کررہا تھا کہ میں اس بے بسی کو الفاظ میں نہیں ڈھال سکتا۔ کچھ دن پہلے کچھ ایسا احساس ہوا کہ میں تمہارےبالکل پاس ہوں اور تم میرے پاس بہت قریب ہو۔اتنے قریب کے میں تمہاری سانسوں کو محسوس کر سکتا تھا۔ شائد یہ میرا وہم تھا مگر آج کچھ ایسا ہوا۔۔ ۔۔۔۔ اگر نہ ہوتا تو اچھا ہوتا۔ اگر ساری عمر میں اس کےانتظار میں رہتا تو وہ اس ملن سے بہتر ہوتا۔ اس درد سے بہتر ہوتا، اس تکلیف سے بہتر ہوتا جو آج میں سے محسوس کی ہے۔ یہ روگ میں کبھی بھول نہیں سکتا۔
آج سکول میں parents میٹنگ تھی اور ہر ایک سے مجھے ملنا تھا۔ دل تو نہیں چاہتا تھا مگر اپنے درد کو اپنے کام مین شامل بھی تو نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے کوشش کر کے ان سے باتیں کرتا گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ تقریباً سب کے parents کے ساتھ میٹنگ ہوگئی تھی سوائے ایک سٹوڈنٹ کے ۔ آدھ گھنٹے سے ان کا انتظار کر رہا تھا۔ آخر کار ایک زوردار آواز سے دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔
“مل گیا آپ کو وقت؟ جو parents خود وقت کی پابندی نہیں کرسکتے وہ اپنے بچوں کو وقت کا پابند ہونا کیسے سکھائیں گے۔۔۔ بچے ہمیشہ اپنے والدین سے سیکھتے ہیں۔ ان کی عادات کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جن والدین کی خود تربیت اس طرح کی ہو، وہ بھلا اپنے بچوں کو کس طرح کی تربیت دیں گے؟ صرف بچوں کو جنم دینے سے کوئی ماں باپ نہیں بن جاتا بلکہ ان کی تربیت کرنا،ان کے لیے وقت نکالنا،ان کو اچھا برا سکھانا، وقت کی اہمیت بتانا ۔۔۔۔ یہ اصل کام ہے۔ اور جس طرح آپ خود اتنے لیٹ آئے ہیں۔ اور پھر بغیر knock کیے اندر آگئے۔ اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ آپ کی تربیت کیسی ہے۔آپ کو بذات خود manners سیکھنے کی ضرورت ہے۔۔” یہ سب کچھ میں کھڑکی کی طرف منہ کیے کہتا جاتا ہوں اور آنے والے والدین خاموشی سے میری باتیں سنتے جاتے ہیں۔ جب ان کی طرف سے کوئی آواز نہیں آتی تو میرے غصہ میں مزید اضافہ ہوجا تا ہے کہ ان کو اتنی بھی تمیز نہیں کہ اپنی غلطی پر معافی ہی مانگ سکیں۔
“دیکھیے ۔۔۔۔۔” کہتے ہوئے پلٹتا ہوں اور جیسے ہی میری نظر اس پر پڑتی ہے تو اندر کے الفاظ اندر ہی رہ جاتے ہیں۔ اور جو میں کہنا چاہتا تھا سب بھول جاتا ہوں۔ حیرت اور خفگی سے آنے والے چہرے کی طرف دیکھتا ہوں۔ اس کے ہاتھ ایک بچی کے کندھے پر ہوتے ہیں۔ میری نظریں اس بچی کے چہرے کی طرف جاتی ہیں۔
“مہک ۔۔۔۔۔۔” اگلے لمحے میرے لبوں سے یہ نام نکلتا ہے۔ آنکھیں ٹکٹکی باندھے اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں۔
“تم ۔۔۔۔۔” خاموش نظریں اس سے سوال کرتی ہیں
“سوری کرن ۔۔۔۔ پارکنگ کرتے ہوئے دیر ہوگئی۔ تمہیں کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی۔۔۔۔” دروازے سے دانش داخل ہوتا ہے اور کالر ٹھیک کرتے ہوئے کرن سے کہتا ہے ۔ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کی نظریں کسی اور کی طرف ہیں تو وہ میری طرف متوجہ ہوتا ہے۔
یہ دیکھ کر میرے پاؤں تلے سے زمیں نکل گئی۔ جس کے لیے میں نے اپنے پانچ سال وقف کیے۔ جس کے نام میں نے اپنی پوری زندگی کر دی۔ جس کا نام میں نے ہر سانس سے پہلے لیا۔وہ میرے ساتھ ایسا کر سکتی ہے۔ میری دنیا اجاڑ کر کسی اور کے ساتھ اپنا آشیانہ بسا سکتی ہے۔ آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب امڈ آتا ہے۔ دل کانچ کے ٹکڑوں کی طرح چور چور ہو جاتا ہے۔ سانسیں ایک دم تھمنے لگتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی میرا گلا دبا رہا ہو۔ اور مجھے موت کی گھاٹ اتارنے کی پوری کوشش کر رہا ہو اور شائد وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوگیا۔ کیونکہ اصل موت تو شائد ایک بار ہی آتی ہے اور اتنی تکلیف نہیں دیتی مگر مجھے تو جیسے ہر پل موت آرہی تھی مگر جونہی سانسیں تھمنے لگتی تو فوراً زندگی بخش دی جاتی۔ یہ طریقہ مسلسل جاری و ساری تھا۔ تکلیف پر تکلیف ۔ ۔ ۔۔ غم پر غم ۔ ۔ ۔ وار پر وار ۔ ۔ ۔ ۔زخم پر زخم ۔ ۔ ۔۔ چوٹ پر چوٹ ۔ ۔ ۔قہر پر قہر ۔ ۔ ۔ ۔قتل پر قتل ۔ ۔ ۔
وہ دانش کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیتی ہے۔ ایسا کرنا میرے لیے جلے پر نمک چھڑکنے کر برابر ہوتا ہے۔میرے سینے میں ایک آگ سی لگ جاتی ہے۔آنکھیں دہکنے لگتی ہیں۔ جذبات شعلہ جنوں ہوجاتے ہیں۔ ایک بار پھر سے میں اپنے آپ کو ایک لاغر جسم کی مانند محسوس کرتا ہوں۔ سر چکرانے لگتا ہےاور پیچھے کرسی پر جاگرتا ہوں۔۔
” “میں تو کبھی بھی نہیں تمہارا ساتھ چھوڑوں گا مگر تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں ایسا لگتا ہے کہ تم۔۔۔۔”
“کیا مطلب ہے تمہارا ؟ میں تم کو ایسی نظر آتی ہوں ؟”
“نظر تو نہیں آتی مگر۔۔۔۔ وقت کا کس کو پتا ہے؟ کیا پتا۔۔۔۔ وقت بنا دے؟”
“وہ وقت کبھی نہیں آئے گا۔ اگر فرض کیا آبھی گیا تو تب بھی مجھے تم اپنے ساتھ پاؤ گے”
“یہ تو وقت بتائے گا۔۔۔” ” یونیوسٹی میں گزارا گیا یہ لمحہ میرے ذہن میں غوطے کھانے لگتا ہے۔
“ماما ۔ ۔ ۔ یہ ہیں دانیال سر ۔ ۔۔۔ بہت پیار کرتے ہیں مجھے۔۔۔۔ ” مہک کی آواز میرے کانوں میں آتی ہے مگر اس بار اس کی آواز مٹھاس کی بجائے آگ برساتی ہے۔
“ما پاپا ۔۔۔ ملیے نا سر سے۔۔۔۔ ” وہ ان کا ہاتھ پکر کر آگے بڑھانے کی کوش کرتی ہے۔ مگر وہ دونوں بت بنے کھڑے رہتے ہیں۔
“سر۔۔۔ یہ ہیں میرے ماما پاپا۔۔۔۔” اس کی طرح اس کی بیٹی بھی مجھ پر وار پر وار کیسے جارہی تھی بس فرق صرف اتنا تھا کہ وہ انجانے میں میرے زخموں پر نمک چھڑک رہی تھی۔ میرا دل غم سے اتنا چور ہوچکا تھا کہ اب مزید کچھ برداشت کرنے کی سکت باقی نہیں رہی تھی۔ دل چاہ رہا تھا کہ اس بلڈنگ سے کود کر خود کشی کر لوں مگر ایسا بھی نہیں کرسکا تھا کیونکہ اس کی نوبت ہی نہیں آنی تھی۔ زندگی تو ویسے بھی چند دنوں کی مہمان تھی۔
” Get out from my office. ” ایک زور دار آواز میرے حلق سے نکلتی ہے مگر آنکھیں اب بے برستی رہتی ہیں۔
“لیکن سر ۔۔۔۔ ” مہک میرے غصہ سے ڈر کر آہستہ سے کہتی ہے
” I say: Get out from here ”
چند لمحوں کے بعد دروازہ بند ہونے کی آواز آتی ہے۔ میری آنکھیں بند ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔اب مزید آنکھیں کھولنا محال سے محال ہوتا جارہا ہے۔دیکھنے کی صلاحیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ایک مفلوج ذہن ۔۔۔۔ ایک مفلوج جسم۔۔۔ میں خود کو محسوس کررہا ہوں۔ اشک بھی بہنا بند ہوگئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے آنسوؤں کا دریا خشک ہوگیا۔ خیالات کہیں کھو گئے۔ ذہن سے سوچنا بند کردیا۔ ہاتھ بھی کانپنے لگے ہیں۔ مگر اس سے پہلے یہ ہاتھ کچھ بھی لکھنے کی صلاحیت کھو دیں، میں صرف اتنا لکھنا چاہوں گا کہ تم نے اچھا نہیں کیا کرن۔۔۔ مجھے دھوکے میں رکھا۔ میری محبت کا تم سے مذاق اڑایا۔ میرے ساتھ یہ کھیل کھیلا۔۔۔ میری زندگی کو کانٹوں سے بھر دیا۔۔ شائد اسی لیے میں آج ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ میں اپنی بے بسی کو ظاہر نہیں کروں گا۔ میں تمہیں اس طرح بدنام نہیں کروں گا جس طرح تم نے میری محبت کو کیا۔ میں تمہاری عزت کو ایسے پامال نہیں کرسکتا جیسے تم نے میری عزت کو کیا۔ میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔ نہ ہی دعا دے سکتا ہوں اور نہ ہی بد دعا۔۔۔ اب بس۔۔۔۔ شائد اسی لیے میں جی رہا تھا۔ زندگی کا آخر سٹاپ ۔۔۔ آخری سٹیشن ۔۔۔۔ آخری پراؤ۔۔۔ آخری مرحلہ ۔۔۔۔ آخری کسوٹی۔۔۔ جا رہا ہوں میں۔۔۔۔ اب قلم کو پکڑنے کی صلاحیت بھی نہیں رہی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: