Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 29

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 29

–**–**–


3 اکتوبر 2012 برو ز بدھ
سوچا تھا، اب سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اپنی کی گئی غلطی کو سدھانے کی پوری کوشش کروں گا۔ مگر زندگی ہمارے مطابق چلے ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔ جو سوچو، ہمیشہ الٹ ہی ہوتا ہے۔ پہلے صرف ایک بوجھ تھا کہ میری وجہ سے دو پیار کرنے والے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوئے ۔ اور اس بوجھ کو میں جلد از جلد اتارنا چاہتا تھا مگر اب شائد یہ بوجھ پوری زندگی میرے وجود کا حصہ رہے گا۔ کبھی بھی، کسی لمحہ بھی، ایک پل کے لیے بھی کم نہیں ہوگا۔ مرتے دم تک میرے وجود میں سمائے رہے گا۔ سائے کی طرح میرے پیچھے رہے گا۔
دانیال سے ملنے کے لیے اس کے گھر کی طرف نکل پڑا ۔ پورا راستہ آنکھیں ندامت سےجھکیں رہیں۔ یہی سوچتا رہا کہ کیسے اس سے آنکھیں ملاؤں گا۔ پوری حقیقت کیسے بتاؤں گا۔ کیسے کہوں گا کہ میں ہی اس کا قاتل ہوں۔ اس کے ارمانوں کا قاتل، اس کی خوشیوں کا قاتل، اس کی محبت کو قاتل۔ میری وجہ سے اس کو اپنی زندگی سے دور جانا پڑا۔ میری انا نے اس کو برباد کر دیا۔ جب میں اس کے گھر پہچا تو معلوم ہوا کہ اس نے تو اپنی منزل ہی تبدیل کر لی ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ ہسپتال میں ہے۔ پہلے تو بہت حیرت ہوئی مگر بعد میں خود کو حوصلہ دیا کہ شائد کسی کی بیمار پرسی کرنے گیا ہو۔ کسی کی تیمارداری کر رہا ہو۔ ایسا ہی تو ہے دانیال۔ دوسروں کے غم اپنے سر لینے والا۔ خوشیاں بانٹنے والا۔سہارا دینے والا۔خود تکلیف سے گزر کر دوسروں کو آرام پہچانے والا۔ عجیب سی کشمکش میں ہسپتال پہنچا ۔ ریسیپشن پر جاکر اس کے بارے میں دریافت کیا تو پل بھر کے لیے مجھے یقین ہی نہیں آیا کہ یہ سب کچھ اس کے ساتھ ہو سکتا ہے؟ ایسا لگا کہ جیسے قیامت بڑپا ہوگئی ہو۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا ہو۔ آسمان پھٹ گیا ہو۔ زمین پھٹ گئی ہو۔ اور میں زمین میں دھنستا ہی جارہا ہوں۔ایسا لگا کہ سب کچھ ختم ہوگیا ہو۔ سب کچھ فنا ہوگیا ہو۔ میری ایک غلطی۔۔۔ ایک گناہ۔۔۔ ایک سازش۔۔ اتنا بڑا بھنچال لائے گی۔ میرے کیے کی سزا اس کو ملے گی؟ مگر کیوں؟ سب کچھ تو میں نے کیا تو پھر سزا بھی تو مجھے ملنی چاہیے تھی ۔۔ دانیال کو کیوں ملی؟ پہلی بار کسی اور کے لیے میری آنکھوں میں آنسو آئے۔
“دانیال آئی ۔ سی ۔ یو ۔ میں ہے۔ اس کی حالت کافی سنجیدہ ہے۔۔۔”
“مگر کیا ہوا اسے؟ کل تک تو ٹھیک تھا۔۔۔”
” جی نہیں۔۔۔۔ اس کی یہ حالت تو پچھلے دو ماہ سے ہے۔ شائد آپ کو نہ بتایا ہو۔۔۔”
” مگر ہوا کیا ہے اس کو؟”
“بلڈ کینسر ۔۔۔۔ دانیال کو بلڈ کینسر ہے اور وہ آخری سٹیج پر ہے”
یہ سن کر تو میرے اوسان ہی خطا ہوگئے۔ ایسا لگا کہ سب کچھ پانی ہوگیا۔ جس کی محبت میں رائی کے دانے کے برابر بھی کھوٹ نہیں تھا ۔ جس کی محبت خالص تھی۔ اس کےساتھ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ قسمت ایسا کیسے کرسکتی ہے؟مجھے میری زندگی میں پہلے اتنا درد کبھی محسوس نہیں ہوا جتنا کہ آج ہورہا ہے۔ڈھیلے قدموں سے میں آئی سی یو کی طرف بڑھنے لگا۔آنکھوں سے ندامت کے اشک رواں تھے۔دروازے کے باہر سے جب دانیال کی طرف دیکھا تو اشکوں کی رفتار میں اضافہ ہوگیا۔ ندامت مزید بڑھ گئی۔ ہمت کر کے اس کے معصوم چہرے کی طرف دیکھا تو ایسا لگا کہ وہ مجھ سے پوچھ رہا ہو کہ آخر اس کا کیا قصور تھا؟ اس نے ایسا کون سا گناہ کیا تھا؟ جو اتنی بڑی سزا ملی۔۔۔ کیا محبت کرنا ناقابل معافی جرم ہے؟ ہمت کر کے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔ ہر طرف اندھیرا چھانے لگا مگر اس اندھیرے میں بھی اس کا چہرہ روشن تھا۔ اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر اس سے معافی مانگنے لگا۔ اپنے اس جرم کی معافی ، جو ناقابل تلافی تھا۔ کوئی اور ہوتا تو شائد مجھے کبھی معافی نہ ملتی ۔ مگر یہ تو دانیال تھا۔ اس بار بھی اس نے مجھے شکست دے دی۔
“پلز ۔۔۔ دانیال مجھے معاف کر دو۔۔۔ پلز۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔۔۔ میری وجہ سے تم اس حال کو پہنچے۔۔۔۔ یقین مانو! میں ایسا نہیں چاہتا تھا۔ میرا مقصد یہ نہیں تھا۔۔۔۔ مجھے معاف کردو۔۔ پلز۔۔۔۔” آنکھوں سے اشک کا سیلا ب رواں رہتا ہے۔ جو بہتے بہتے اس کے ہاتھوں پر گرتے ہیں۔ آنسوؤں کی گرماہٹ سے اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ مجھے وہاں دیکھ کر پریشان ہوجاتا ہے۔
“دانش ۔۔۔ تم یہاں؟۔۔۔۔ کیا ہوا ؟ تم رو کیوں رہے ہو؟” مدھم سے آواز اس کے کانپبتے ہوئے ہونٹوں سے نکلتی ہے
“مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔ پلز ۔۔۔ مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔۔ ” روتے ہوئے ایک بار پھر سے معافی مانگتا ہوں
“کیوں معافی مانگ رہے ہو؟ کیا بات ہے؟” وہ میرے ہاتھوں کو نیچے کرتے ہوئے کہتا ہے
“تمہاری اس حالت کا ذمہ دار صرف اور صرف میں ہوں۔ آج تم میری وجہ سے اس حالت کو پہنچے ہو۔۔۔۔ صرف میری وجہ ہے۔۔۔”
“تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟” وہ اٹھنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر تکلیف کی وجہ سے اٹھ نہیں پاتا۔ لہذا ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا ہے
اس کے پوچھنے پر میں شروع سے آخر تک ایک ایک سازش جو میں نے اس کے خلاف رچی تھی، صاف صاف بتا دیتا ہوں۔ میری باتوں کو سن کر وہ بھی تھوڑا سا بھی سکتہ میں نہیں آتا۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ سب کچھ پہلے سے ہی جانتا تھا۔
” یہ سب اب کیوں بتا رہے ہو مجھے؟” ہلکی سی تبسم کے ساتھ پوچھتا ہے
“اپنا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے۔۔۔۔ اب نہیں سہا جاتا۔۔۔”
وہ ایک بار پھر طنزیہ طور پر مسکراتا ہے۔
“پلز۔۔۔ معاف کردو۔۔۔۔ دیکھو ۔۔۔ میں تمہیں تمہاری محبت واپس کردون گا۔۔۔ بس ایک بار مجھے معاف کردو۔۔۔”
“پاگل ہو؟ یا بے وقوف۔۔۔؟” غصہ میں کہتا ہے
“میں پاگل تھا۔۔۔ جو تم سے تمہاری محبت کو چھیننے کی غلطی کی۔۔۔ لیکن اب اس غلطی کو باکل ٹھیک کردوں گا۔ بس اب تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ۔ اور اپنی محبت کے پاس آجاؤ۔۔” آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہتا ہے۔
“بند کرو ۔۔۔۔ اپنی پاگلوں کی سی باتیں۔۔۔ محبت کو تم نے کھیل سمجھ رکھا ہے؟ جب چاہا پالیا۔۔۔ جب دل بھر جائے تو کسی اور کے حوالے کر دیا۔۔۔ تمہارے نزدیک کیا رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ تم نے پانچ سال پہلے بھی اپنی انا میں تین زندگیوں کو برباد کیا اور آج پھر وہی غلطی کرنے جا رہے ہو۔۔ تم کیا سمجھتے ہوکرن کو مجھے سونب پر سب ٹھیک ہو جائے گا؟” غصہ میں کہتا ہے
“ہاں! سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔”
“یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔۔ اس طرح تم دوبارہ کئی زندگیوں کو برباد کر دو گے۔ اس بار نہ صرف محبت کو وہ پھول مرجھائے گا جس کو تم نے پچھلے پانچ سالوں سے لگانے کی کوشش کی ہے۔بلکہ اس پھول کی مہک کو بھی نقصان پہنچے گا۔۔۔۔ دیکھو! جو ہوا ۔۔۔ سو ہوا۔۔۔ اسے بھول جاؤ۔۔۔ کرن اب تمہاری ہے۔ تمہاری زندگی ہے۔ تم اپنی زندگی اپنی محبت کے ساتھ گزارو۔۔” بات کرتے کرتے رک جاتا ہے
“اور تم ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟” ٖحیرت سے اس کے چہرے کو تکتے ہوئے پوچھتا ہوں
“میرا کیا ہے؟ کل بھی زندگی میں کانٹے تھے اور آج بھی۔۔۔۔ بس فرق صرف اتنا ہے ، کل کانٹے حد سے زیادہ تھے۔ مگر آج کچھ امید ہے کہ یہ کانٹے زیادہ دن تک برقرار نہیں رہیں گے۔ ۔۔۔” اس کی آنکھوں سے بھی اشک رواں ہوجاتے ہیں
“تم ایسے کیوں ہو؟” درد بھرے لہجے میں پوچھتا ہوں
“شائد زندگی نے ایسا بنا دیا ۔۔۔۔ مگر کیا تم مجھ سے ایک وعدہ کرو گے؟”
“ہاں! جو تم کہو گے۔۔۔۔ وہ کروں گا۔۔” اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑتے ہوئے
” یہ سچ کبھی کرن کو مت بتانا۔۔۔۔ ”
“مگر۔۔۔۔۔۔۔”
“مگر وگر کچھ نہیں۔۔۔۔ تم نے وعدہ کیا ہے۔۔۔ تم یہ سمجھ لینا کہ میں نے پہلی اور آخری بار تم سے کچھ مانگا ہے۔۔”
“لیکن۔۔۔”
“لیکن ویکن کچھ نہیں۔۔۔۔” اس کی سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں
” تم اس کو میری آخری خواہش سمجھ لینا۔۔۔” بات کرتے کرتے اس کو خون کی قے آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ماتھے پر پسینہ بہنے لگتا ہے۔ حالت خراب ہونا شروع ہوجاتی ہے
“دانیال۔۔۔ کیا ہوا تمہیں۔۔۔” اس کو سہارا دیتے ہوئے کہتا ہوں
“ڈاکٹر۔۔۔ نرس۔۔۔۔ڈاکٹر ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر۔۔۔۔ دانیال پلز اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کرو۔۔۔ دانیال۔۔ ”
اتنے میں وہاں پر ڈاکٹر اور نرس آجاتے ہیں اور مجھے پیچھے کر دیتے ہیں اور باہر جانے کا کہتے ہیں۔میں ایک شکست زدہ انسان کی طرح باہر چلاجاتا ہوں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: