Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 3

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 3

–**–**–


18 مارچ 2005 بروز جمعہ
کل کا دن میرے لیے خراب ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ میری وجہ سے کسی کو تکلیف پہنچی ، یہ میں کبھی بھول نہیں سکتی۔ویسے تو میں نے جانے انجانے میں کئی لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہوگی مگر جتنا دکھ مجھے کل پہنچا شائد ہی کبھی پہنچا ہو۔ ایسا نہیں کہ میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا بس انجانے میں ہوگیا۔۔۔مگر۔۔۔مجھے اتنا برا کیوں لگ رہا ہے؟َ میں خود نہیں جانتی۔ ۔۔ پہلے تو آنکھ دیر سے کھلی، جہاں سے خراب دن کا آغاز ہوا۔ پھر کیا؟ ۔۔۔ ہر کام میں دیر ہوتی رہی۔ کلاس میں بھی دیر سے پہنچی مگر جس وقت میں دروازے تک پہنچی تھی میڈم کلاس میں آچکی تھی۔ اب میں اندر کیسے جاتی؟ میڈم روبینہ جو بے عزتی کرتیں اس سے بہتر تو کلاس کو مس کردینا ہےلیکن اگر حاضری نہ لگی تو ؟؟؟ شارٹیج ہو جائے گی۔ میں نے پہلےمہر کو اشارہ کیاکہ وہ میری بھی حاضری لگا دےلیکن وہ لیکچر میں اتنی کھوئی ہوئی تھی کہ اس نے میری طرف دیکھا تک نہیں۔ پھر میری دانیال پر نظر پڑی اس کو بھی کافی اشارے کیے، پہلے تو اس نے بھی نہیں دیکھا مگر اچانک اس کی نظر باہر کی طرف آئی تو میں نے فورا آہستہ سے حاضری لگانے کو کہا۔ مگر وہ میری بات کو سمجھ نہیں پایا تب میں نے ایک کاغذ پرس سے نکال کر ہاتھ سے اشارے کر کے بھی دکھائے کہ میری حاضری لگادے مگر تب بھی وہ کچھ سمجھ نہ پایا۔ اتنے میں اسکو میڈم نے دیکھ لیا اور پوری کلاس کے سامنے اس کی کافی بے عزتی کی۔اس وقت مجھے بہت برا لگ رہا تھا۔ایسا لڑکا جس نے آج تک کبھی کوئی غلطی نہیں کی اور نہ ہی کسی ٹیچر نے اس کو ڈانٹا ، آج صرف میری وجہ سے اس کو میڈم سے اتنا کچھ سننا پڑا۔ اس کی آنکھوں کی ندامت کو میں آسانی سے پڑھ سکتی تھی۔ ایک وقت تو ایسا لگا کہ شائد وہ میرا نام بتا دے گا اس لیے میں دروازے سے دور ہٹ گئی۔لیکن میڈم کی ذور دار آواز اب بھی میرے کانوں میں صاف آرہی تھی۔ مجھے خود بھی بہت برا لگ رہا تھا مگر میرے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا۔۔۔ اتنے میں وہ کلاس سے باہر آگیا۔اسکی آنکھوں میں آنسو کو میں صاف صاف دیکھ سکتی تھی۔آخر میری وجہ سے ہی اس کو اتنا ذلیل ہونا پڑا۔میں آگے بڑھ کر اس سے معافی مانگنا چاہتی تھی مگر کس منہ سے مانگتی؟؟ قدم آگے بڑھتے بڑھتے رک گئے۔ ایک وقت کے لیے تو میری آنکھ میں بھی آنسو آگئے۔ مگر ضبط کرتے ہوئے میں وہاں سے چلی گئی۔اور رات کو سوتے وقت بھی میری آنکھوں کے سامنے وہی منظر رہا۔ میں مسلسل سونے کی کوشش کر رہی تھی مگر نیند تھی کہ مجھ سے دور بھاگی جا رہی تھی۔ جیسے وہ بھی مجھ سے خفا ہو گئی ہو اور میرے اس عمل سے اس کو بھی تکلیف پہنچی ہو۔میری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی اور بار بار کروٹ بدلنے کی وجہ سے مہر کی بھی آنکھ کھل گئی۔
” کیا ہے کرن؟ سونے کیوں نہیں سے رہی ہو؟” نیندوں میں کہتی ہےمگر میں اسکی کسی بات کا جواب نہیں دیتی اور اٹھ کر بیٹھ جاتی ہوں۔ میرے اچانک بیٹھ جانے سے وہ بھی اٹھ بیٹھتی ہے۔
” کیا ہوا یار؟ ۔۔۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟ ”
“طبیعت تو ٹھیک ہے مگر ۔۔۔۔” اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے جواب دیتی ہوں۔
“مگر کیا؟ ۔۔۔” وہ میرے چہرے کو پڑھ لیتی ہے ۔ “تم کچھ چھپا رہی ہو مجھ سے ۔ سچ سچ بتائو ۔۔۔ کیا بات ہے؟”
اس کے پوچھنے پر میں بغیر کچھ سوچے سمجھے سب کچھ بتا دیتی ہوں اور شائد میں اسی وقت کا نتظار کر رہی تھی کہ کوئی مجھ سے میرے خاموش رہنے کی وجہ پوچھے تو میں اس کو سب کچھ بتا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کروں۔
“یار اس میں اتنا فکر مند ہونے کی کیا بات ہے؟تم نے کوئی ایسا جان بوجھ کر کیا اور ویسے بھی اس کو بھی دھیان دینا چاہیے تھا۔” وہ میری اس بات کو بہت ہلکا لیتی ہے۔
“مگر مہر میری غلطی تو ہے نا۔۔۔”
“تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔ ساری کی ساری غلطی اس کی ہے ۔”
“تم میری بات نہیں سمجھ رہی مہر۔۔ ۔” پل بھر کے لیے خاموشی چھا جاتی ہے “میری وجہ سے اس کو کتنی تکلیف پہنچی”
“اچھا بابا۔ ۔ ۔ اگر تم کو اتنا ہی برا لگ رہا ہے تو صبح اس کے پاس جا کر معافی مانگ لینا ”
“مگر۔ ۔ ۔ کیا وہ مجھے معاف کردے گا ؟” حیرانی سے پوچھتی ہوں
“ہاں۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ کیوں نہیں ؟اب بس ایک کام کرو، خود بھی سو جائو اور مجھے بھی سونے دو ۔ ۔ ۔ پلز۔ ۔ ۔” یہ کہہ کر وہ فورا لیٹ جاتی ہےاور میں بھی لیٹ کر سونے کی کوشش کرتی ہوںمگر وہی خیال مجھے ایک بار پھر سے ستانے لگتے ہیں۔ اسی کشمکش میں رات تو گزر جاتی ہےاور صبح اٹھتے ہی میں فورا یونیورسٹی پہنچ کر اس کا بے تابی سے انتظار کرتی ہوں۔مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا ۔ صرف اسی کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں اور ذہن میں ایک سوال گردش کرتا رہتا ہے کہ کیا وہ مجھے معاف کر دے گا یا نہیں؟؟؟ میری نظریں اس کی متلاشی رہتی ہیں۔ ہر آنے والے چہرے میں اس کو ڈھونڈتی ہیں۔ وقت گزرتا جاتا ہے مگر اس کی کوئی خبر نہیں۔ ۔ ۔ مجھے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے کھڑے دو گھنٹے بیت جاتے ہیں مگر اس کا نام و نشان نہیں ملتا۔ وقت جیسے جیسےآگے بڑھتا ہے میری بے چینی میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ایسا کیوں ہورہا تھا؟ کیوں مجھے اتنا برا لگ رہا تھا؟ آخر کس وجہ سے میں اتنا فکرمند تھی؟ کیا یہ غلطی کو تسلیم کرنے کے لیے تھا ۔ ۔ ۔یا۔ ۔ ۔معافی مانگنے کے لیے؟ نہیں۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ اس کرب کی اصل وجہ کچھ اور تھی مگر کیا؟ میں نہیں جانتی تھی۔ پھر کیوں مجھے اس کی فکر اندر ہی اندر سے کھائی جارہی تھی۔اتنی ندامت تو اس کو بھی نہیں ہوئی ہوگی جتنی کہ میں اپنی نظروں میں محسوس کر رہی تھی۔ اللہ اللہ کر کے مجھے اس کا چہرہ دکھائی دیا ۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ زمین کی طرف نگاہیں کر کے چلا آرہا تھا۔ کیا یہ اس کی شرمندگی تھی یا روزانہ کا معمول؟ ؟ ؟ وہ کب آگے بڑھا۔۔۔ کب میرے پاس سے گزر گیا، مجھے نہیں معلوم۔ ۔ ۔ اس نے میری طرف سر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔
“سنو۔ ۔ ۔ ۔ ” وہ پل بھر کے لیے رکا
“کل کے لیے۔ ۔ ۔ ” وہ پلٹا اور پلٹ کر اس نے اپنی آنکھیں اٹھا کرمیری طرف کیں تو میری زبان خاموش ہو گئی اور میں آگے کچھ نہ بول سکی۔اس کی نظریں مجھے سب کچھ کہہ گئیں یا شائد وہ بھی میری آنکھوں کو پڑھ چکا تھااور میری شرمندگی و ندامت کو جان چکاتھا۔ کچھ دیر میری آنکھوں میں دیکھنے کے بعد وہ وہاں سے چلاگیامگر اس کی آنکھوں کی چمک اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے۔پہلے تو سنا تھا کہ آنکھیں باتیں کرتی ہیں مگر آج تو جان بھی لیا۔
٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یکم اپریل 2005 بروز جمعہ
آج کا دن میرے لیے بہت حسین رہا آج میرے دوستوں کی لسٹ میں ایک کا اضافہ ہوا۔سوچا اس حسین دن کی یادوں کو بھی قلم بند کرلوں۔
آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ دھوپ آنکھ مچولی کھیل کر کہیں غائب ہوگئی تھی۔ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں کسی کے آنے کی خبر سنا رہی تھی۔ پرندے بھی اس حسین موسم میں اپنے اپنے غول میں اڑ رہے تھے۔درخت بھی اس موسم سے لطف اندوز ہو رہے تھے جب سب اپنے اپنے اندازمیں اس موسم کو انجوائے کر رہے تھےتو میں کیسے پیچھے رہتی؟ میں اور مہر بھی لان میں چلے گئےاور ہاتھ میں ایک ایک چائے کا گرم کپ پکڑے باتیں کرنے لگے۔ تب ہی آسمان سے مینہ برسنے لگا اور اس مینہ میں نہاتے ہوئے درخت اور بھی خوشنما دکھائی دینے لگے۔چائے کا کپ ایک طرف رکھ کر میں بھی اس بارش میں بھیگنے کے لیے آگے بڑھی۔مہر نے بہت روکا مگر میں کہاں رکنے والی تھی۔ ہاتھ پر بارش کی بوندیں گرنے لگیں اور میرے چہرے کو بوسہ دینے لگیں۔ مہر بھی میرے ساتھ آگئی۔ دونوں خوب ہنس کر موسم سے لطف و اندوز ہو رہے تھے۔ میں بھی آسمان پراڑتے پرندوں کی طرح مست ہونے لگی اور گول گول گھومنے لگی تب میں ایک اچانک ایک جسم سے ٹکرائی اور گرنے ہی والی تھی کہ اس نے مجھے سنبھال لیا۔ یہ کیا۔ ۔ ۔ یہ تو دانیال تھا ۔ وہ بھی میری طرح بارش میں مکمل طور پر بھیگا ہوا تھا۔اس کے بالوں سے پانی کی بوندیں میرے چہرے پر گرنے لگیں۔وہ ابھی بھی میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں ہاتھوں میں مضبوطی سے تھامے ہوا تھا۔
“تم ٹھیک تو ہے؟”
“ہاں۔ ۔ ۔ میں ٹھیک ہوں۔ ۔ ۔ تمہارا شکریہ!” میں شرماتے ہوئے جواب دیتی ہوں۔ آج سے پہلے شائد ہی میں اتنی شرمائی ہونگی۔ تب اچانک آسمان سے ایک زوردار گرج کی آواز آتی ہے۔ یہ آواز اتنی زوردار ہوتی ہے کہ آسمان میں اڑتے پرندے بھی ڈرجاتے ہیں، ہوا کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں،درخت ایسے سہم جاتے ہیں کہ کبھی جھومے ہی نہیں اور میں بھی اس کا بازو مضبوطی سے پکڑ لیتی ہوں۔ اس کے بازو کے پکڑ کر جیسے میرا سارا خوف غائب ہوگیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ میں کسی ایسے کی پناہ میں آگئی ہوں جو میرے آگے سے، میرے پیچھے سے، میرے دائیں سے، میرے بائیں سے ، غرض ہر جگہ سے مجھ پر سایہ کیے ہوئے ہو۔یہ سایہ مجھ تک کسی ایسی چیز کو نہیں پہنچنے دے گا جس سے مجھے نقصان پہنچے۔ اسکی نگاہیں ایک عجیب سی کشش رکھتی تھیں۔میں نے فورا اس کا بازو چھوڑا اور کچھ فاصلے پر چلی گئی مگر ہماری نگاہیں ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگیں۔
” موسم خراب ہوتا جارہا ہے، ایک طرف آجائوتم۔ ۔ ۔ ” وہ چلتے ہوئے بولا۔ میں بھی بغیر کچھ کہے اس کے پیچھے چل دیتی ہوں۔ بارش تیز سے تیز تر ہوتی جاتی ہے۔ میرے کپڑے مکمل طور پر گیلے ہوگئے۔ دانیال نے میری طرف دیکھتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کو رخسار پر لانے کی کوشش کی۔ یہ اس کی کوشش تھی یا حقیقت؟
” تمیں بھی بارش میں نہانا پسند ہے؟”
” جی نہیں۔ ۔ ۔ مجھے پسند تو نہیں مگر۔ ۔ ۔ ” اسکی زبان رک گئی اور اس کے چہرے کے تاثر تو کچھ اور ہی بتارہے تھے۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد میں اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا کر بولی۔
“کیا تم مجھ سے دوستی کرو گے؟” یہ کہہ کر میں تو خاموش ہوگئی مگر میرے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی۔ وہ بھی میرے الفاظ سن کر خاموش ہوگیا۔شائد وہ ان الفاظ کی توقع نہیں کر رہاتھا۔ وہ کچھ دیر سوچتا رہا اگرچہ میرے اردگرد بہت سے لوگ تھےاور کافی شور تھا مگر اس کی خاموشی نے سب کوخاموش کر دیا۔ مجھے ایسا محسوس ہواکہ میرے آس پاس کوئی بھی نہیں ہے اور ہر طرف اندھیرا ہے۔ جیسے جیسے اس کی خاموشی طوالت پکڑتی جارہی تھی بالکل اسی طرح میں اندھیرے میں ڈوبتی جارہی تھی۔ کیا میں نے کچھ غلط کیا۔ کیا مجھے کچھ ایسا کرنا چاہیے تھا؟ میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کرنا چاہا مگر اچانک پرجوش انداز سے اس نے میرے ہاتھ ایسا پکڑا کہ اس پل کو تو میں بھول نہیں سکتی۔
“کیوں۔ ۔ ۔ نہیں۔ ۔ ۔” اب جو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی وہ حقیقت معلوم ہوتی تھی۔ مجھے ایسا لگا جیسے ہر طرف سے ہمارے لیے داد ہورہی تھی۔ ہر طرف سے پھول برس رہے تھے۔ اتنی خوشی تو مجھے دانش کے ساتھ بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی ایسا سکون ملتا ہے ۔ پھر اس کے ساتھ۔ ۔ ۔ کیا وجہ ہے؟ ۔ ۔ خدا جانے۔ ۔ ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: