Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 2

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 2

–**–**–


14 مارچ 2005 بروز سوموار
پچھلے چار دنوں سے میں اتنا مصروف رہا کہ ڈائری لکھنے کا موقعہ ہی نہ ملا۔ صبح جب گھر سے نکلا تو کتابوں کے ساتھ ڈائری کو بھی بیگ میں ڈال لیا سوچا اگریونیورسٹی میں موقع ملا تو وہاں لکھ لوں گا۔ چلتے چلتے کلاس میں پہنچ گیا ، وہاں جا کر معلوم ہوا کہ آج سر عرفان چھٹی پر ہیں۔یہ جان کر پہلے تو بہت غصہ آیا کہ بندہ اتنی دور سے آئے اور جا کر معلوم ہو کہ آج کلاس نہیں ہوگی۔ بندے کو غصہ نہ آئے تو اور کیا آئے؟ خیر پھر سوچا ، سر نہیں آئے تو کیا ہوا۔۔ اب اتنی دور آہی گئے ہیں تو کچھ نہ کچھ سٹڈی ہی کر لی جائےمگر اتنے شور میں کوئی کیسے پڑھ سکتا ہے؟اگر کوئی ٹیچر کلاس میں نہ ہوتو اس کلاس کا کیا حال ہوتا ہے یہ تو سب کو معلوم ہے۔ میں وہاں سے جانے لگا تو کامران میرے ساتھ ہو لیا۔
“ویسے اچھا ہوا سر نہیں آئے۔ لاسٹ ٹائم جو انہوں سے اسائنمنٹ دی تھی وہ تو مجھ سے ذرا بھی نہیں ہوئی۔”
” یار اتنے آسان سوال تو تھے۔۔” حیرت سے پوچھتا ہوں
“تم کو آسان لگے ؟؟؟ او۔۔۔ ہو۔۔۔میں بھول گیا تھا کہ تم نے تو میتھ میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔” طنزیہ انداز میں کہتا ہے
” جی نہیں۔۔۔ میں نے پی ایچ ڈی نہیں کی مگر ارادہ ضرور ہے۔۔ اور ہاں، میں تمہاری طرح کام چور نہیں ہوں۔”
” اچھا بھئی۔۔۔ اب ہم کام چور بھی ہیں ۔ ۔ ۔ لگا لو بیٹا ، جو مرضی الزام لگا لو۔۔۔ بس اب ایک کام کرو”
“کیا؟”
اپنی اسائنمنٹ مجھے دو۔”
” مگر کیوں؟ ”
” اب کاپی بھی تو کرنی ہے۔۔۔” ہنستے ہوئے کہتا ہے
“تم کبھی باز نہیں آؤ گے۔۔! میں بیگ سے اپنی اسائنمنٹ نکال کر اسکے ہاتھ میں دے دیتا ہوں اتنے میں اسکا فون آجاتا ہے اور وہ فون پر باتوں میں مصروف ہو جاتا ہے۔
” میں تمہارا لان میں انتظار کر رہا ہوں۔” یہ کہہ کر میں وہاں سے چلا جاتا ہوں
میں لان میں جا کر ایک طرف بینچ پر بیٹھ جاتا ہوں۔ ہلکی ہلکی دھوپ، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا، دھیمی دھیمی پھولوں کی خوشبو ایک الگ سا تاثر مجھ پر مرتب کرتی ہیں۔کچھ دیر کے لیے تو میں اس قدرتی حسن میں کھو جاتا ہوں مگر پھر اپنے بیگ سے ڈائری نکال کر اس میں لکھنا شروع کر دیتا ہوں۔ اب کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا لکھوں؟ آج کے موسم کی تعریف یا اپنے حالات و واقعات؟ ابھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ سامنے سے کرن آتی ہے۔ وہ کچھ فاصلے پر کھڑی ہو کر کچھ سوچنے لگ جاتی ہے۔ میں اس کو نظر انداز کر کے دوبارہ اپنے خیالوں میں کھو جاتا ہوں۔
” السلام علیکم! ” وہ میرے پاس آکر کھڑی ہوجاتی ہے
“وعلیکم السلام! ” میں اس کی طرف دیکھ کر جواب دیتا ہوں
“کوئی اسائنمنٹ بنارہے ہو؟ ” وہ بات کو شروع کرنے کی غرض سے یہ سوال کرتی ہے جسے میں فورا سمجھ جاتا ہوں کیونکہ آج سے پہلے تو کبھی اس نے اس انداز میں بات نہیں کی تھی۔ مگر ہاں کامران کے ساتھ وہ کافی باتیں کر لیتی تھی مگر میرے ساتھ صرف سلام دعا ۔ آج مجھے اکیلا دیکھ کر جب وہ میرے پاس آئی تو مجھے کچھ حیرانی ضرور ہوئی ۔ شائد اس نے مجھ سے کوئی اہم بات کرنی ہو، مگر مجھ سے؟ بات سے بات چلتی رہی اور باتوں کے دوران ہی وہ میرے ساتھ بیٹھ گئی۔
“تم میرا ایک کام کرسکتے ہو؟” وہ تھوڑی سی ہچکچا ہٹ کے ساتھ پوچھتی ہے۔ آج سے پہلے تو کبھی میں نے اس کو اس طرح ہچکچاتے ہوئے نہیں دیکھا پھر آج کیوں؟ کچھ سمجھ نہیں آیا اور شائد اسی لیے اپنا سر ہاں میں ہلا دیا۔
“تم کو تو پتا ہے کہ مجھے میتھ کتنی بری لگتی ہے ۔ کیا تم میری اسائنمنٹ بنا دو گے؟”
میں نہ چاہتے ہوئے بھی ہاں کر دیتا ہوں اس کے بعد وہ فورا وہاں سے چلی جاتی ہےمگر کچھ فاصلے پر جاکر پیچھے مڑ کر دیکھتی ہے۔ اس کے چہرے پر عجیب سا تاثر ہوتا ہے جس کو نہ وہ سمجھ پاتی ہے اور نہ میں۔
—————————————————————————
مارچ 17، 2005 بروز جمعرات
آج نورین کا آخری پرچہ تھاچلواسکی تو دس کلاسیں مکمل ہوئیں۔ جب تک رزلٹ نہیں آتا تب تک امی کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ ہی بٹا لے گی۔ آگے جو ہوگا وہ دیکھا جائے گااور ویسے بھی کل کس نے دیکھا ہے؟ آج دھوپ بہت تیز تھی ۔ ایسا لگنے لگا کہ مئی جون کی گرمی ابھی سے شروع ہوگئی ہو۔میرے خیال سے آج کا ٹمپریچر کسی طرح بھی 40 سے کم نہ ہوگا۔ چلو اس گرمی کا ایک فائدہ تو ہوا کہ گیس آگئی۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ گیس کس تاریخ کو بند ہوئی تھی مگر جب گیس آئی تو ایسا لگنے لگا جیسے جنگل میں بہار آگئی ہو کیونکہ لکڑیاں جلنے کی وجہ سے ہر وقت گھر میں دھواں دھواں رہتا تھا ۔اب رب سے بس یہی دہا ہے کہ وہ اس ملک سے گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کر دے۔
آج تو بارہ گھر ہی بج گئے۔ دو بجے کلاس کا ٹائم تھا۔ اب کیا کرنا تھا؟ جلدی سے اپنا کام ختم کیا اور یونیورسٹی کے لیے چل دیا۔جب میں وہاں پہنچا تو ایک عجیب سی آواز میرے کانوں میں گونجنے لگی۔ اس قدر گرم ہوا جیسے لو چل رہی ہو اور چہرے پر اس قدر تماچے مار رہی تھی کہ انسان کیا کرے ؟؟؟ آج تو سب چھاؤں کی تلاش میں تھےاور جب میں چھاؤں میں پہنچا تو ایک سکون ساملا۔میری جان میں بھی جان آگئی۔انسان سے نہ تو گرمی برداشت ہوتی ہے اور نہ ہی سردی۔ سردی آئے تو سردی کو کوسنا اور گرمی آئے تو اس کو برا بھلا کہنا۔کسی بھی موسم کی تعریف کرنا تو اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے۔خیر موسم کے شب و روز تو کبھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ میں اپنی کلائی میں بندھی گھڑی کی طرف سرسری طور پر نگاہ ڈالتا ہوں تو یہ دیکھ کر چونک جاتا ہوں کہ دو بجنے میں صرف دس منٹ رہتے ہیں۔
“اتنی جلدی دو بھی بج گئے؟ آج تو میڈم روبینہ کی کلاس ہے وہ تو لیٹ انٹر ہونے ہی نہیں دیتیں۔” یہی سوچتے ہوئے جلدی سے کلاس روم کی طرف جاتا ہوں اور جا کر اپنی نشست پر بیٹھ جاتا ہوں۔ ابھی جا کر میں بیٹھتا ہی ہوں کہ میڈم کلاس میں انٹر ہو جاتی ہے۔ ان کا چہرہ آج کچھ زیادہ ہی سنجیدہ لگ رہا تھا ویسے تو روزانہ ہی سنجیدہ ہوتا ہے مگر آج اس سنجیدگی میں غصہ بھی شامل تھا۔ میڈم اپنا لیکچر شروع کر دیتی ہیں۔
“Today we discuss about Deadlock”
ان کا پڑھانے کا انداز نہایت عمدہ ہے ۔ ان کی کلاس میں نے کبھی مس نہیں کی لیکن یہ صرف میری رائے ہے۔ تمام سٹوڈنٹس میڈم روبینہ سے دور بھاگتے ہیں۔وہ تو ان کو پسند تو دور کی بات دیکھنا بھی نہیں چاہتے ۔ شائد اس لیے کہ وہ ان کو اپنے سے متعلقہ مضمون کے بارے میں بتاتی ہیں، باقی ٹیچرز کی طرح نہیں پڑھائی کو چھوڑ کر سوسائٹی کی باتیں شروع کر دیتے ہیں۔
“Deadlock occurs if the four conditions take place in a system
1) Mutual exclusion
2) Hold and wait
3) No preemption
4) Circular wait”
میں ان کےلیکچر کو نوٹ کر رہا تھا کہ میری نظر باہر دروازے پر پڑی تو وہاں پر کرن کھڑی کچھ اشارے کر رہی تھی۔ میں اس کے اشاروں کو سمجھ نہیں پارہا تھا۔ اس کے لب بول تو رہے تھے مگر آواز نہیں آرہی تھی۔میں نے کافی کوشش کی سننے کی مگر کچھ سمجھ نہیں آیا ۔ میں نے اس کو ہاتھ سے اشارہ کے ذریعے کہا کہ مجھے آواز نہیں آرہی۔ میرا دھیان باہر کی طرف تھا اور میڈم نے مجھے دیکھ لیا۔
“Where are you, Mr. Daniyal?”
یہ آواز اتنی زور دار تھی کہ میں بوکھلا گیا اور فورا کھڑے ہوتے ہوئے کہا ” جی میڈم!”
” میں نے پوچھا کہ کہاں ہیں آپ؟” یہ آواز پہلے سے دھیمی مگر وزن رکھتی تھی۔
“میڈم میں کلاس میں ہوں” میں نے جواب تو دیا مگر میری زبان میرے الفاظ کا ساتھ نہیں سے رہی تھی۔
” یہ تو مجھے بھی نظر آرہا ہے کہ آپ کلاس میں ہیں مگر دھیان کہاں ہے آپ کا؟” وہ اس انداز میں مجھ سے پوچھتی ہیں کہ میرے اوسا ن خطا ہو جاتے ہیں
“میں کب سے آپ کو دیکھ رہی ہوں آپ مسلسل باہر دیکھ رہے ہیں۔ کیا ہے باہر؟ ” اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے
آج سے پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا ۔ کبھی کسی ٹیچر کو میری طرف سے کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں ملا مگر آج۔۔۔ میں اندر ہی اندر اپنے آپ کو ملامت کیے جارہا تھااور اپنی بےوقوفی پر بہت شرمندہ تھا ۔ پوری کلاس میری طرف متوجہ تھی۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں ان کے لیے مذاق بن گیا ہوں۔ آج میں اپنے آپ کو بہت کم تر سمجھ رہاتھا اور ملامت کیے جارہا تھا کہ آخر تو نے باہر کیوں دیکھا؟ محض ایک لڑکی کی خاطر۔۔۔ جو نہ تو تیری دوست ہے اور نہ ہی اس کو پڑھائی میں کوئی دلچسپی ۔ ۔ ۔ اگر اس کو پڑھائی میں دلچسپی ہوتی تو وہ ٹائم سے آتی۔ پھر کیوں میں نے اس کی طرف دیکھ کر اپنا وقت ضائع کیا؟ اور اپنے آپ کو پوری کلاس کے سامنے اتنا ذلیل کیا؟
“اب خاموش کیوں ہو؟” ایک بار پھر ان کی آواز میں تیزی آجاتی ہے اور میں مسلسل اپنے آپ کو ملامت کیے جارہا تھا۔ ان کی کسی بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اسی لیے خاموشی سے سر جھکائے کھڑا تھا اور میں کہتا بھی کیا؟ ساری غلطی میری ہی تو تھی۔ میری خاموشی نے ان کے غصے کو مزید بڑھا دیا۔مجھے اس وقت سب سے زیادہ شرمندگی اور ندامت محسوس ہوئی جب انہوں سے زوردار آواز میں مجھے کلاس سے جانے کو کہا ۔ میں نے سوری بھی کی مگر میری آواز اتنی آہستہ تھی میڈم کو کیا سنائے دیتی خود مجھے بھی سنائی نہیں دی۔ اس وقت میرا دل بہت غمگین ہوگیا اور مجبورا مجھے وہاں سے جانا پڑا ۔ زندگی میں پہلی بار مجھے کلاس سے نکالا گیا۔پہلی بار اتنی انسلٹ محسوس کی۔ میں اس کو کبھی معاف نہیں کرونگا جسکی وجہ سے مجھے اتنی ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ جاتے ہوئے میری آنکھ سے آنسو بہہ نکلا ۔ آخر جب دل غم سے چور ہو تو آنکھوں پر کنٹرول کس کا چلتا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی قسط کی جھلکیاں:
کیا کرن کو ہوگا اپنی غلطی کا احساس؟۔۔۔۔ دانیال کو اشارہ کرنے کی وجہ کیا تھی؟۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ایک محض غلط فیمی تھی؟ ۔۔۔۔ یا پھر کچھ اور؟۔۔۔
جانیے “محبت پھول جیسی ہے” کی اگلی قسط میں
ـــــــــــــــــــــــ

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: