Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 5

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 5

–**–**–


21 اپریل 2005 بروز جمعرات
آج اتنے دن ہوگئے مجھے جاب ڈھونڈتے ڈھونڈتے۔ ٹیوشن سے تو کچھ بن نہیں پارہاتھا۔ اسی وجہ سے سوچا کہ کیوں نا کوئی پارٹ ٹائم جاب ہی کرلی جائے۔ اس سے کچھ نہ کچھ تو ملے گا۔ اسی وجہ سے میں نے اپنے دن رات ایک کر دیے صرف ایک جاب خریدنے کی خاطر۔ ۔ ۔ مگر ۔ ۔ اس بار بھی مقدر بازی لے گیا۔ دوجاب ملی بھی تھی مگر ان کی ڈیوٹی 12 گھنٹے کی تھی۔ اگر میں وہ جاب کرلیتا تو میری سٹڈی۔۔۔؟؟ نہیں ایسا میں کسی بھی صورت نہیں کر سکتا تھا۔زندگی چاہے کتنی بھی کٹھن ہوجائے مجھے تو اپنی پڑھائی مکمل کرنی تھی۔ صرف دو سال تو رہتے ہیں۔ جیسے پچھلے دو سال گزرے یہ بھی گزر جائیں گے۔مگر یہ سوچ میری سب سے بڑی بھول تھی کیونکہ ہر گزرتا لمحہ پہلے سے کہیں زیادہ کٹھن ہوتا جارہا تھا ۔ لاسٹ ٹائم بھی امی نے صرف میری فیس کو ادا کرنے کے لیے اپنے آخری دو سونے کے کنگن بیچ دیے۔وہ لمحہ میرے لیے انتہائی کٹھن تھا مگر افسوس ۔ ۔ ۔ میں کچھ نہ کر سکا۔ گھر اور تھا ہی کیا جس کی بنا پر میں اپنی فیس ادا کر سکتا؟ مگر اس بار ۔ ۔ ۔۔ کچھ بھی نہیں ہے ،کیسے ادا کروں گا فیس؟اگر ایسے ہی چلتا رہا تو فیس تو دور کی بات گھر کا خرچہ بھی چلانا مشکل ہوجائے گا۔ امی جو کپڑے سیتی ہیں ان سے بھی گھر کا چلنا محال ہوتا جارہا ہے۔لیکن اس میں ان کا کیا قصور؟ وہ تو دن رات ایک کردیتی ہیں مگر مہنگائی بھی تو آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ہر شے کی قیمت دو گنا کیا چار گنا ہوگئی ہے۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے سمیسٹر میں جب میں یونیورسٹی جاتا تھا تو صرف 10 روپے کرایہ لگتا تھا اور اب 40 روپے۔غریب آدمی نہ تو پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی جی سکتا ہے بلکہ یوں کہنا بجا ہوگا کہ اب تو آسانی سے مر بھی نہیں سکتا۔مرنے والا خود تو مر جاتا ہے مگر اپنے گھر والوں کو ایک امتحان میں چھوڑ جاتا ہے۔
خیر یہ تو پرانی باتیں ہیں۔ آج تو میں بہت خوش ہوں کیونکہ آج مجھے جاب مل گئی۔ امید تو نہیں تھی مگر ایک آس تھی، اور ویسے بھی جس چیز کو دل سے مانگا جائے وہ تو ضرور ملتی ہے ۔ اور اگر ساتھ میں ایمان بھی شامل ہوجائے تو اس کے ملنے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔مایوسی تو ویسے بھی کفر ہے اور جب دینے والی اللہ کی ذات ہو تو مایوس ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس نے تو خود فرمایا ہے
“تم مجھے پکارو، میں تمہاری پکار کا جواب دونگا” (القرآن)
یہ الگ بات ہے کہ دعا پوری ہونے میں دیر ہوجاتی ہے اور ایسا بھی تو ہمارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اللہ نے تو ہمیں صبر کے ساتھ مدد مانگنے کا حکم دیا ہے اور ہماری یہ حالت ہوتی ہے کہ ادھر دعا مانگی جائے تو ادھر ہمارے لیے وہ شے حاضر ہوجائے۔ نادان یہ نہیں جانتا کہ اس وقت اس چیز کا مل جانا اس کے لیے بہتر بھی ہے یا نہیں۔۔۔
آج جب امی نے مجھے سبزی لینے بھیجا تو راستے میں ایک بک سٹال پر نوٹس دیکھا۔”دکان پر کام کرنے کے لیے لڑکے کی ضرورت ہے”یہ دیکھتے ہی میرے قدم رک گئے پہلے تو حیرانی ہوئی کیونکہ ایک ہفتہ پہلے ہی میں نے ان سے جاب کے سلسلے میں بات کی تھی تب تو انہوں نے منع کردیا تھا اور آج یہ نوٹس۔ ۔ ۔ ؟ چلو بات جو بھی ہو ، مجھے تو جاب چاہیے۔ میرے قدم خودبخود دکان کی طرف بڑھنے لگے۔ ان قدموں نے ادھر ادھر سے آتی ہوئی ٹریفک کا ذرا خیال نہ کیا اور میری آنکھیں دکان کی طرف متوجہ ہوگئیں۔اب میں اس دکان سے بالکل باہر کھڑا تھا ۔ صرف چار سیڑھیاں مزید۔ ۔ ۔ ابھی میں نے ایک سیڑھی ہی چڑھی تھی کہ اندر سے چند آوازیں میرے کانوں مین گونجنے لگی۔
” پلز ایک بار مجھے یہ جاب دے دیں۔ جتنا آپ کہیں گے میں اس سے زیادہ کام کروں گا۔”
یہ تو فیصل کی آواز ہے۔ اس کی آواز کو میں فورا پہچان گیا ۔ وہ بھی میری طرح جاب کی تلاش میں ہے ۔ بے چارے نے ایم۔اے کر لیا مگر جاب اس کا مقدر نہ بن سکی۔ دن رات محنت کی مگر وقتی طور پھل نہ مل سکا ۔ کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جہاں اس نے جاب کے لیے اپلائے نہ کیا ہو مگر ظلم یہ کہ کہیں سے جواب نہیں آیا۔۔۔
“دیکھو بیٹا! یہ جاب ہم تم کو نہیں دے سکتے ، تم بھی سمجھنے کی کوشش کرو۔ ۔ ۔ بہتر یہی ہے کہ نہ تم اپنا وقت ضائع کرو نہ ہی ہمارا” چاچا ذاکر اونچی آواز میں اس سے کہتا ہے ۔ یہ بات سنتے ہی میرے قدم آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے ہٹنے لگتے ہیں۔جو پل بھر کے لیے خوشی ملی تھی ، ہوا کے جھونکے کی طرح غائب ہوگئی
“جب فیصل کو چاچا نے نہیں رکھا تو مجھے کیسے؟؟؟” بس یہی سوچ مجھے واپس جانے کے لیے مجبور کر رہی تھی۔ فیصل وہاں سے چلاگیا مگر جاتے ہوئے اس کا چہرہ بہت اداس تھا ۔ ابھی میں وہاں سے جانے ہی لگا تھا کہ پیچھے سے چاچا ذاکر نےآواز دی ۔ میں ان کی آواز سن کر دکان میں چلاگیا۔
“السلام علیکم! چاچا۔ ۔ ۔” ہمت کر کے کہتا ہوں مگر اس کے بعد خاموش ہو جاتا ہوں
“وعلیکم السلام!” جواب دینے کے بعد وہ بھی کچھ دیر کے لیے خاموش ہوجاتے ہیں ۔
“نوکری شوکری ملی کیا؟” کتابوں کو الماری میں رکھتے ہوئے کہتے ہیں۔
” نہیں چاچا۔ ۔ ۔ بس یہی ڈھونڈ رہا ہوں۔” نظریں جھکائے جواب دیتا ہوں
” کہیں جا کر ٹرائے وغیرہ بھی کیا یا نہیں؟”
“چاچا کیسی باتیں کر رہے ہو؟آپ کو تو معلوم ہے ۔ ۔ ۔ آپ کے پاس بھی تو آیا تھا۔”
“ہاں۔۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ یاد آیا” انکے ان لفظوں میں ایک الگ انداز تھا ۔ جیسے وہ یہ باتیں مجھ سے جان بوجھ کر کررہے ہوں۔ اس میں ان کی کیا غرض پوشیدہ تھی ، میں سمجھ نہیں سکا۔
“ویسے تم نے باہر ناٹس تو پڑھا ہوگا”
“جی۔ ۔ ۔ چاچا!”
“پھر کب آرہے ہو؟” یہ سن کر مجھے تعجب ہوا
” چاچا! آپ کیا کہہ رہے ہیں؟” حیرانی سے پوچھتا ہوں
“صحیح تو کہہ رہا ہوں بیٹا۔ ۔ ۔ تمہارے لیے تو یہ نوٹس لگایا تھا” وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں۔ مجھے ان کی اس بات پر یقین نہیں آتا اور اپنی مزید تسلی کے لیے دوبارہ پوچھتا ہوں۔
” آپ سچ کہہ رہے ہیں چاچا؟؟؟”
” اب میں کیا تم سے مزاق کرتا اچھا لگوں گا؟” چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں اور بات میں سچائی۔
یہ سن کر میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا ۔مجھے ا س وقت ایسا لگتا ہے کہ مجھے دنیا جہان کی نعمت مل گئی ہو۔ ہر خوشی میرے قدم چوم رہی ہو اگرچہ کوئی دوسرا ہوتا تو اس کی اتنی خوشی نہ ہوتی مگر میرے لیے یہ جاب ایک نعمت سے کم نہیں۔ میں خوشی میں سب کچھ بھول کر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں
“بس ۔۔ بس ۔۔۔ بیٹا ۔۔ اتنی خوشی اچھی نہیں ہوتی” ہو ہنستے ہوئے کہتے ہیں
” چاچا۔۔۔ میں آپ کو بتا نہیں سکتا ۔۔۔” خوشی سے میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور زبان بھی پل بھر کے لیے خاموش ہوجاتی ہے
“اب کل کام کرنے آجانا۔”
“مگر کتنے بجے؟”
“اس طرح کرو چار سے نو بجے تک ۔”
“ٹھیک ہے چاچا۔۔۔ میں کل چار بجے اپ کے پاس ہونگا”
یہ کہہ کر میں ان کی دکان سے چل پڑتا ہوں واپسی پر میرے ذہن میں صرف اور صرف جاب کے بارے میں خیال رہتا ہے۔ گھر پہنچتا ہوں تو چہرہ خوشی سے چمک رہا ہوتا ہے۔
“یہ کیا؟؟ سبزی کہاں چھوڑ آئے؟” امی حیرت سے میرے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھتی ہیں
میں اپنے ہاتھ کی طرف دیکھتا ہوں
“یہ کیا ؟؟ خوشی میں سبزی لینا ہی بھول گیا۔۔” اپنے پاگل پن پر خود ہی اپنے آپ کو سر پر ایک تھپڑ مارتا ہوں۔
“کیسی خوشی؟؟ اور سبزی کہاں چھوڑ آئے؟” ان کی حیرت بڑھتی جاتی ہے
“امی۔۔۔ مجھے پارٹ ٹائم جاب مل گئی۔۔۔” یہ سن کر ان کی بھی خوشی کی انتہا نہیں رہتی۔
“سچ کہہ رہے ہو؟ بیٹا۔۔” وہ خوشی سے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھتی ہیں
“جی امی ۔۔۔”
“اللہ تیرا شکر ہے۔ تو نے میری سن لی۔” وہ ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں۔ “شکرانے کے دو نفل لازمی پڑھنا۔” وہ مزید کہتی ہیں۔
“جی امی۔ ۔۔ نماز پڑھنے جاؤں گا تو مسجد میں ضرور پڑھوں گا۔”
“اچھا یہ تو بتاؤ۔۔ تنخواہ کتنی ہے؟” ان کا یہ سوال سن کر میں نے خاموشی اختیار کر لی کیونکہ میں خوشی میں ان سے تنخواہ کے بارے میں پوچھنا ہی بھول گیا تھا۔
“امی ۔۔۔ وہ تو پوچھا ہی نہیں۔۔۔”
“چلو کوئی بات نہیں ، پھر پوچھ لینا۔۔۔”
“جی امی۔۔۔ اللہ کا شکر ہے جاب تو ملی۔ تنخواہ بھی اللہ ہی دے گا”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: