Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 7

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 7

–**–**–


15 مئی 2005 بروز اتوار
لاسٹ ویک تو مڈ ہوتے رہے اور مڈ میں کچھ خاص ہو ۔۔۔ ایسا کیسے ممکن ہے؟ مگر کل شب کچھ ایسا ہوا جو میں لکھے بغیر نہیں رہ سکتی۔ جمعہ کو پیپرز سے فارغ ہونے کے بعد میں،مہر اور کامران اکٹھے بیٹھے پیپرز کے بارے میں باتیں کرہے ۔
“یار پیپرز نے تھکا دیا۔۔۔” مہر کہتی ہے
“ٹھیک کہا تم نے۔۔۔پیپر ز تو جان نکال دیتے ہیں، پتا نہیں کس نے پیپر کا نام ایجاد کیا۔۔” سوالیہ پرچہ کو پھاڑتے ہوئے کہتی ہوں
“اب اس پرچے کا کیا قصور ہے ؟؟؟” مہر ہنستے ہوئے کہتی ہے
“یار اپنی باتیں بند کرو۔ میری بات غور سے سنو۔۔۔” کامران پرجوش انداز سے کھڑا ہوتے ہوئے کہتا ہے
“اب تمہیں کیا بات کرنی ہے؟” مہر پوچھتی ہے
“مڈ ختم ہونے کی خوشی میں پوری کلاس کل سیچرڈے نائٹ بنانے کا سوچ رہی ہے” اس کا لہجہ اب بھی پرجوش ہوتا ہے
“Waoooooooooo………. It’s amazing. .. .”
یہ سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔جہاں پارٹی ہو اور وہاں میں نہ پہنچوں ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔مہر تو میرے ساتھ تھی اور کامران وہ تو خود اس پارٹی کو آرگنائز کر رہا تھا۔ بات سے بات نکلتی رہی تب اچانک میرے ذہن میں دانیال کا خیال آیا۔
“دانیال کو کسی نے بتایا بھی یا نہیں ؟؟” میں کہتی ہوں
“اس کو بتانے کا کیا فائدہ؟” مہر فوراً کہتی ہے
“فائدہ کیوں نہیں۔۔۔ وہ بھی ہماری کلاس کا حصہ ہے۔”
“اس کو تو تم بھول جاؤ۔۔۔ وہ نہیں آنے والا۔” کامران فی الفور جواب دیتا ہے
“کیوں بھئی؟؟؟ وہ کیوں نہیں آئے گا؟” میں حیرت سے پوچھتی ہوں
“پوچھ تو اس طرح رہی ہو جیسے تمہیں کچھ پتا ہی نہیں۔۔۔۔”کامران کہتا ہے
“اس کا دور دور تک ان کاموں سے کوئی واسطہ نہیں۔۔۔” مہر دلیل دیتے ہوئے کہتی ہے
“لیکن اس بار ایسا نہیں ہوگا۔۔” میں کچھ دیر سوچنے کے بعد کہتی ہوں
“کیا مطلب ہے تمہارا؟” کامران حیرت سے پوچھتا ہے
“مطلب یہ کہ۔۔۔ جو تم سمجھ رہے ہو۔۔” مسکراہٹ کو چہرے پر لانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہتی ہوں
“تم ؟؟؟؟ تم لے کر آؤ گی۔۔۔۔ وہ بھی دانیال کو ۔۔۔۔۔ ناممکن۔۔” مہر یقین سے کہتی ہے
“یہ ناممکن کام میں ممکن کر کے دکھاؤں گی۔”
“دیکھتے ہیں۔۔۔” کامران کہتا ہے
کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد مہر اور کامران کینٹین پر کچھ کھانے کے لیے چلے جاتے ہیں اور میں وہی پر بیٹھی اپنی ہی سوچ میں گم ہوتی ہوں۔
“سب سے کے سامنے میں نے بول تو دیا کہ میں دانیال کو لے کر آؤنگی مگر کیسے ؟؟؟ آج تک تو میں نے اس کو فارغ لان میں بھی بیٹھے نہیں دیکھا تو پارٹی میں کیسے ؟؟؟” یہ سوچ سوچ کر میں پریشان ہو جاتی ہوں اور اپنی پریشانی میں گلاب کے پودے کو تکتے رہتی ہو ں تب اچانک پیچھے سے ایک زوردار آواز نے مجھے ڈرا دیا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو یہ دانیال تھا۔
“تم نے تو مجھے ڈرا دیا ۔۔۔” ہنستے ہوئے کہتی ہوں
“سچی ؟؟ ” وہ بھی ہنستے ہوئے میرے ساتھ بیٹھ جاتا ہے
“اور سناؤ ۔۔۔ آج اکیلی بیٹھی ہو۔۔۔ کہاں ہیں باقی سب؟ ۔۔۔” وہ بات کو شروع کرنے کی غرض سے یہ سوال کرتا ہے
آج مجھے اس کا انداز الگ سا لگ رہا تھا۔ چہرے کی مسکراہٹ، بات کرنے کا ڈھب، سب کچھ نیا تھا۔سب سے حیران کر دینے والی بات یہ تھی کہ آج وہ خود میرے پاس آکر بیٹھا تھا۔ میں بتا نہیں سکتی کہ مجھے کتنی خوشی ہوئی۔ شائد پچھلے دنوں کی باتیں اس کو اچھی لگی ہوں ۔ شاید میرا سمجھانا کام آگیا ہو۔ میں ہر سوال کا جواب خود ہی بنارہی تھی۔ باتوں ہی باتوں میں مجھے پارٹی والی بات یاد آئی۔ لیکن کیسے کہوں اس سے؟ اگر وہ برا مان گیا تو ؟؟ لیکن میں سب اس کے بھلے کے لیے ہی کر رہی ہوں۔ مگر ۔۔۔ پوچھنا تو ہے نا ۔۔۔
” کیا تم کل سیچر ڈے نائٹ میں میرے ساتھ چلو گے؟؟؟” آنکھیں بند کرکے ، بغیر کچھ سوچے سمجھے میں تیزی سے یہ الفاظ کہ دیتی ہوں
یہ سوال پوچھتے ہی میرے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ ایک عجیب سا خوف مجھ پر حاوی ہوگیا۔ اور اس کے جواب کا انتظار کرنے لگی۔ کیا آئے گا جوب؟ اگر اس نے نہ کردیا تو ؟؟ یا پھر اگر وہ ناراض ہوکر چلا گیا تو میں کیسے مناؤں گی؟ ابھی ہماری دوستی ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں۔۔۔ میں یہ دوستی کسی بھی قیمت پر کھونا نہیں چاہتی تھی مگر یہ سب سوال میرا وہم ثابت ہوئے۔ اس کا جواب سن کر میں حیران ہوگئی، کیونکہ میں اس جواب کی توقع نہیں کر رہی تھی۔ یہ کہیں میرا خواب تو نہیں ؟
” ہاں۔۔۔ میں آؤنگا۔” ایک پل سوچنے کے بعد کہتا ہے
“ٗکیا۔۔۔۔؟؟؟ تم آؤ گے؟؟ ” میں حیرانی سے پوچھتی ہوں
“ہاں۔۔۔۔ کیوں نہ آؤں؟” شوخ پن سے کہتا ہے
اس نے ہاں کردی۔۔۔ مگر کیسے؟ اور وہ بھی اتنی جلدی۔۔۔۔۔ میں اس کی شخصیت کو ابھی بھی اچھی طرح سمجھ نہیں پائی تھی۔ اگر وہ نہ کرتا تو مجھے اتنی حیرانی نہیں ہوتی مگر اس کی ہاں نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا۔ لیکن یہ بات تو خوشی کی ہے پھر میں اتنی فکرمند کیوں ہوں؟مجھے تو خوش ہونا چاہیے کہ اس نے کچھ کہے بغیر ہاں کر دی۔ بس اب کل کا انتظار ہے۔
شب تو ایسے تیسے بیت گئی مگر دن کیسے گزرتا؟؟؟ کبھی باتوں تو کبھی کپڑوں کی سلیکشن میں۔ مہر کی تو میں نے جان ہی کھا لی اور وہ بھی مجھ سے تنگ آگئی۔
“خدا کا واسطہ میری جان چھوڑ دو۔۔۔ ” وہ ہاتھ جوڑ کر مجھ سے کہتی ہے
“اب تم بھی ۔۔۔۔مجھ سے تنگ آگئی ۔۔” مصنوعی غصے میں کہتی ہوں
“ہاں۔۔۔” اونچی آواز میں کہہ کر وہ وہاں سے چلی جاتی ہے
“اے خدا! کب گزرے گا یہ دن؟؟؟”
خدا خدا کرکےشام کے پانچ بج گئے۔ لو ۔۔۔ اب تیار ہونے کا وقت ہوگیا مگر کونسا ڈریس پہنوں؟ جو دن میں پسند کی تھی وہ تو مہر نے پہن لی ۔ اب عین وقت پر مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ اب کیا کروں؟؟؟سوچتے سوچتے مجھے دانیال کا خیال آیا کہ اس سے پوچھوں کہ وہ کونسے رنگ کا سوٹ پہنے گا۔ جس رنگ کا وہ پہنے گا اسی رنگ کا میں بھی پہن لونگی۔ اس کے پاس تو گنتی کے چار سوٹ ہیں۔ یونیورسٹی میں بھی وہ ایک سوٹ مہینے میں کم از کم چار بار تو پہن کر تو آتا ہے اور جبکہ میرے پاس تو سوٹوں کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں۔ایک سوٹ کی چھہ ماہ سے پہلے تو باری آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
“السلام علیکم ! دانیال تم کب آؤ گےپارٹی میں؟؟ اور کونسا سوٹ پہنو گے؟ کس رنگ کا؟” فون کرتے ہی میں سوالات کی بوچھاڑ کر دیتی ہوں۔
یہ سن کر مجھے بہت حیرانی ہوتی ہے کہ وہ سفید رنگ کا سوٹ پہنے گا ۔۔۔ اب میں کیا پہنوں؟؟؟ میرے پاس تو سفید رنگ کا کوئی سوٹ نہیں۔۔۔اس رنگ کے علاوہ ہر رنگ کے ہزار سوٹ ہیں مگر سفید۔۔۔آخر کار تانک جھانک کر کے ایک سوٹ نکال ہی لیا۔ مہر کا ہے تو کیا ہوا؟ اس نے بھی تو میرا سوٹ پہنا ہے۔ دیکھنے میں تو بہت عمدہ، نہایت نفیس ہے۔ سفید موتی اس طرح چمک رہے تھے جیسے ہیرے۔پہلی ہی نظر میں یہ جوڑا میرے دل کو بھاگیا۔پہلے تو کبھی میں نے یہ جوڑا مہر کے پاس نہیں دیکھا۔
“بڑی چالاک ہے، کہیں میں مانگ نہ لوں۔ مجھے دکھایا تک نہیں۔۔۔”
پوری کلاس سات بجے تک کیفے روم پہنچ گئی مگر یہ کیا ۔۔۔ ابھی تک دانیال نہیں آیا۔کہیں اس نے اپنا پلان کینسل تو نہیں کردیا۔۔۔ سب خوش تھے، ہنسی مذاق ، ہلا گلا ، شور شرابہ ۔۔۔ مگر۔۔۔ پھر بھی مجھے اس کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ نہ جانے کیوں مجھے اس کے بغیر کچھ بھی کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔مہر جب میرے پاس آئی تو مجھے اس سوٹ میں دیکھ کر حیران ہو گئی۔
“تمہیں یہ سوٹ کہاں سے ملا؟” وہ حیرت سے پوچھتی ہے
“جہاں سے بھی ملا ہو، تمہیں اس سے کیا؟ تم نے تو پوری کوشش کی تھی اس کو چھپانے کی، مگر کوئی بھی حسین جوڑا کرن کی نظر سے بچ نہیں سکتا۔” شوخ پن میں کہتی ہوں
“مگر تم نے میری اجازت کے بغیر اس کو ہاتھ بھی کیسے لگایا؟” وہ تلخ لہجے میں کہتی ہے
“اب تم اس معمولی سے جوڑے کے لیے اتنا غصہ ہورہی ہو۔۔۔”ہنستے ہوئے کہتی ہوں
” معمولی نہیں ہے یہ۔۔۔۔” وہ بات کرتے کرتے رک جاتی ہے، اور وہاں سے چلی جاتی ہے
“اب اسے کیا ہوا؟؟” ماتھے پر بل لاتے ہوئے کہتی ہوں۔ اتنے میں وہاں دانیال آجاتا ہے۔ اس کو دیکھ کر میں سب کچھ بھول جاتی ہوں۔ جیسا اس نے کہا تھا ، بالکل اسی لباس میں ملبوس تھا۔سفید لباس میں نہایت خوبصورت لگ رہا تھا مگر چہرے پر تھوڑی سی گھبراہٹ تھی ۔ جو کوئی اس سے ملتا ، تو وہ سلام دعا کرتا اور پھر خاموش ہوجاتا۔۔۔ مجھ سے بھی زیادہ بات نہیں کی۔کافی ہنگامے میں بھی اس نے کچھ نہ کہا۔ جب ہنستا تو وہ بھی دبی ہنسی کے ساتھ۔کامران تو خوب پارٹی انجوائے کر رہا تھا مگر دانیال تو ایک طرف۔۔۔دل تو میرا بھی چاہا مگر اس کو اکیلا چھوڑنے کو نہیں۔کافی وقت یوں ہی بیت گیا۔پھر سب نے ایک گیم سٹارٹ کیا۔ سب نے حصہ لیا تو مجو راً اسے بھی لینا پڑا۔گیم بھی سمپل تھا ۔ صرف تکیہ کو پاس کرنا تھا اور جب میوزک رکے تو جس کے پاس تکیہ ہوگا ، تو وہ ٹیبل پر رکھے گلاس میں سے پرچی اٹھائے گا اور جو لکھا ہوگا۔ وہ کرنا ہوگا۔سب نے اس گیم میں خوب انجوائے کیااور پھر دانیال کی باری آئی۔اس کی پرچی پر ایک گانا لکھا تھا جو اس کو گا کر سنانا تھا۔
“بھلا یہ کیسے گا سکتا ہے؟؟ انٹرٹینمنٹ کا تو اس سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں” ایک لڑکا کہتا ہے
مگر کامران اور مہر اس کو گانا گانے پر زور دیتے رہے اور آخر کار اس نے گانا شروع کیا۔ اس کی خوبصورت آواز نے میرا دل جیت لیا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ اتنا اچھا گانا گاسکتا ہے۔ اس کے گانے کی آواز میں کبھی بھول نہیں پاؤں گی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
15 مئی 2005 بروز اتوار
مڈ ختم ہوئے۔ ایک پراؤ پار ہوا۔ اگلے پراؤ کی طرف بڑھنے سے پہلے دو چھٹیاں۔۔۔ اسی سوچ میں چلا جا رہا تھا کہ میں نے لان میں کرن کو اکیلا بیٹھے ہوئے دیکھا۔ پہلے تو کافی سوچا کہ اسکے پاس جاؤں یا نہ؟ اور اس سے کیا بات کروں؟ لیکن جانا ضروری تھا کیونکہ پچھلے چند دنوں سے میں اس کو مسلسل اگنار کر رہا تھا۔ دوستی تو اس بات کا تقاضا نہیں کرتی۔ اسی لیے میں اس کے پاس چلاگیا اور جاکر پیچھے سے زوردار آواز سے اس کا نام پکارا۔شائد کچھ زیادہ ہی زور سے پکارا تھا ۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ دل نے تو کہا کہ اس سے معافی مانگ لوں مگر اس کی باتوں سے لگا کہ اس کو برا نہیں لگا۔ وہ مجھ سے باتیں کرتے ہوئے مسلسل کچھ سوچ رہی تھی کیونکہ اس کی باتوں میں پہلے جیسی روانگی نہیں تھی۔وہ ایک ایک لفظ کو سوچ سوچ کر بول رہی تھی۔جب میں نے اس بارے میں پوچھا تو اس نے مجھے سیچرڈے نائٹ کے بارے میں بتایا۔۔۔ شائد وہ یہی پوچھنا چاہتی تھی اور شائد وہ میرا جواب بھی جانتی تھی اسی لیے پوچھنے سے ہچکچاہٹ محسوس کر رہی تھی۔اور یقیناً میرا جواب بھی یہی ہوتا مگر اس سے پہلے کہ میں اس کو منع کرتا مجھے ایک خیال نے اپنے جواب پر نظرثانی کرنے پر مجبور کردیا۔۔۔۔آج سے پہلے نہ ہی میں ان پارٹیوں میں گیا اور نہ ہی جانے کی کبھی تمنا کی۔اسکی وجہ کیا ہے؟ کیا مجھے اپنے آپ پر تھوڑا سا بھی اعتماد نہیں؟ آخر جو بے بسی مجھ پر حاوی ہے اس کو توڑنے کا کوئی نہ کوئی ذریعہ تو ہونا ہی چاہیے۔۔۔۔
“یہ بھی تو ہے جو لائف کو اتنے قریب سے انجوائے کرتی ہے۔” میں پل بھر کے لیے کرن کی طرف دیکھ کر سوچتا ہوں۔
پہلی بار اس نے مجھ سے کوئی فرمائش کی ہے ۔ کیا میں اپنی دوست کے لیے اتنا بھی نہیں کرسکتا؟؟ مجھے اتنا خودغرض بھی نہیں ہونا چاہیے۔۔صرف چند گھنٹے کی تو بات ہے ۔۔۔۔ نہ جانے اور کون کون سے خیال میرے ذہن میں آتے جاتے رہے۔ جنہوں نے مجھے ہاں کرنے پر مجبور کر دیا۔میرے لبوں سے ہاں سن کر وہ بہت حیران ہوگئی تھی۔ ویسے میں خود بھی اپنے اوپر کافی حیران تھا۔
اگلے دن میں نے اپنا کام تو جلدی سے ختم کرلیا اور چاچا ذاکر نے بھی آج دکان بند رکھنے کو کہا تھا کیونکہ ان کو کسی کام سے شہر سے باہر جانا تھا مگر مجھے ایک سوچ مسلسل پریشان کر رہی تھی کہ جو میں نے کیا وہ صحیح ہے؟؟؟ میرا جانا کہیں غلط تو نہیں۔۔۔؟ وہ تو صرف امیر زادوں کے لیے ہے۔۔۔ مگر۔۔۔ کرن سے وعدہ بھی تو وفا کرنا ہے۔ اب کیا کروں؟ مجھے جانا چاہیے یا نہیں؟ اسی سوچ میں شام بھی ڈھلنے کو تیار تھی مگر میں ابھی تک فیصلہ نہیں کرپارہا تھا۔آخر کا دل ودماغ کی لڑائی میں دل کی جیت ہوئی۔ ایک جوڑا نکال کر پہنا اور منزل کی طرف چل پڑا۔وہاں جا کر مجھے بہت عجیب لگا کسی کو بھی اپنے سے کم تر نہ جانا۔سب کے ایک سے بڑھ کر ایک لباس تھے جبکہ میں ایک حقیر سے لباس میں ملبوس تھا۔کہیں میں نے یہاں آکر کوئی غلطی تو نہیں کردی؟ اسی سوچ میں ڈوبے میں ایک طرف رہا مگر کرن کے بار بار کہنے پر گیم میں حصہ لینا پڑا۔ اور جب مجھے گانا گانے کو کہا گیا تو میں مزید نروس ہوگیا لیکن اب میں کیسے پیچھے ہٹ سکتا تھا؟ اگر ایسا کرتا تو دوسرے مجھے مغرور سمجھتے مگر وہ میرا اندر تو نہیں جانتے تھے۔ کافی سوچا اور ہمت کر کے ایک گانا سنا ہی دیا۔ چہرے سے تو لگ رہا تھا کہ سب انجوائے کر رہے ہیں آگے کا پتا نہیں۔۔۔ مگر کرن بہت حیران ہوئی شاید وہ یہ توقع نہیں کر رہی تھی۔ خیر آج کا دن میرے لیے ایک حسین یاد چھوڑ گیا جس کو میں کبھی بھلا نہ پاؤں گا۔ اور اس کی وجہ صرف اور صرف کرن ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: