Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 8

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 8

–**–**–


9 جولائی 2005 بروز ہفتہ
وقت کا سمندر رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ بس بہتا ہی چلا جارہا ہے۔ میں اس کو جتنا تھامنے کی کوشش کرتی ہوں یہ اتنا ہی میرے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔ یوں تو پہلے تین سمیسٹر بھی بہت اچھے گزرے۔ ان کی حسین یادیں بھی میری زندگی کا حصہ ہیں اور پل پل میرے ساتھ رہیں گی۔ مگر چوتھا سمیسٹر تو شائد میری روح میں سرایت کر گیا۔آخر پچھلے چند مہینوں میں میری زندگی میں کیا ہوا؟ جس کے لیے یہ مہینے میرے لیے اہم بن گئے۔۔۔۔میں وہی، دن وہی، دوست وہی۔۔۔ پھر کیا ہوا؟؟ شائد کسی کے آنے سے ؟؟؟؟لیکن وہ تو پہلے بھی تھا ۔۔۔۔ پھر کیوں؟؟؟؟ شائد میرے احساسات کی وجہ سے ۔۔ جو پہلے سے بہت بدل گئے مگر کیسے؟ کس طرح؟ اگر واقعی میرے احساسات بدل گئے ہیں تو ایسا کیوں ہوا؟ کیا یہ کسی چیز کی تمنا کرتے ہیں؟ آخریہ احساسات مجھے کیوں نہیں بتا رہے کہ انہوں نے میری زندگی کو کیوں بدل کر رکھ دیا ؟ کل تک جو اتنی شوخ مزاج لڑکی تھی ، آج اتنی سنجیدہ ہو گئی۔۔ کل تک صرف اپنے بارے میں سوچنے والی ، آج دوسروں کی فکر کرنے لگ گئی۔۔۔کیوں؟؟؟۔۔۔۔ کیا یہ تبدیلی دانیال کی وجہ سے آئی ہے؟ کیا اس کا میری زندگی میں آنا صرف اتفاق ہے؟ یا پھر ؟؟؟۔۔۔کیا ہمارے درمیان صرف دوستی کا رشتہ ہے؟؟ لیکن دوستی میں کیا یہ سب کچھ ہوتا ہے ؟؟؟۔۔۔ آج تک لوگوں کو کہتے سنا تھا کہ دوستی اور محبت سب کچھ بھلا دیتی ہیں۔ اور دوستی ایسی چیز ہے جو محبت سے بھی بڑھ کر ہے اور محبت تو ہر رشتے سے انمول ہے۔ پھر ہمارا کونسا رشتہ ہے؟ محبت کا یا دوستی کا ؟؟ نہیں ۔۔۔ یہ میں کیا سوچ رہی ہوں۔۔ محبت ؟؟؟ ۔ ۔۔ ۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ صرف میرا وہم ہے۔ہم صرف اچھے دوست ہیں۔ ہمارے درمیان صرف دوستی کا رشتہ ہے۔صرف محبت ہی تو دو دِلوں کو نہیں جوڑتی۔ دوستی بھی تو یہ کام کرسکتی ہے۔محبت کی طرح دوستی کا بھی تو پھول کھلتا ہے۔ یہ بھی تو پھول جیسی ہے۔ خوشبو بکھیرتی ۔۔۔ خوشیاں بانٹتی ۔ ۔ ۔ درد سمیٹتی ۔ ۔۔ ۔ ساتھ نبھاتی۔ ۔ ۔
پہلے جب میں گھر جاتی تھی تو خوشی سے پھولے نہیں سماتی تھی۔ چہرہ بھی خوشی سے چمک اٹھتا تھا مگر اس بار کیا ہوا؟ نہ تو وہ خوشی ہے اور نہ ہی وہ احساس۔۔۔ بلکہ اس کی بجائے تھوڑا سا ڈر اور کسی سے دور دور جانے کا خوف۔۔۔ کیا دوستی میں یہ سب کچھ بھی ہوتا ہے؟ آخر یہ سب کچھ میرے ساتھ کیوں ہورہا ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے؟؟
پچھلے دو ماہ سےمیرے اور دانیال کے درمیان کافی دوریاں کم ہوئیں۔ ہم نے ایک دوسرے کو قریب سے جانا۔ میں نے کئی بار اس کو اندر سے جاننے کی کوشش کی اور وہ بھی اپنا حال دل بتاتا چلاگیا۔ جب وہ مجھے اپنی آپ بیتی سناتا تو میرا دل چھلنی ہوجاتا اور دل آنسوؤں سے رونے لگتا اور بعض اوقات تو مجھ سے باتیں کرتے وقت اسکی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آتے ۔ اس کی باتیں مجھے بہت متاثر کرتیں اور اپنے آپ کو اس کے مزید قریب کرنے کی جستجو میں رہتی اور پھر امتحان کے دنوں تو ایک دوسرے کے پاس آنے کا مزید موقع ملا۔ ہم دونوں اکٹھی تیاری کرتے۔ اسکی ہر چیز مجھے بھانے لگی۔ میری دوست مہر بھی اب یہ سمجھنے لگی تھی۔ اس نے کئی بار مجھے روکا مگر میں اس کی باتوں کو ہنسی میں ٹال دیتی۔ ایک رات ہم دونوں پڑھ رہی تھیں۔
“یار مہر۔ ۔ ۔ تجھے اس سوال کا جواب آتا ہے” کتاب اس کی طرف کرتے ہوئے کہتی ہوں
“پچھلے دس منٹ سے یہی اٹکی ہوئی ہوں۔۔ دیکھ نا ۔۔ پلز ۔۔”بسکٹ ہاتھ میں لیتے ہوئے کہتی ہوں
“او۔۔ ہو۔۔۔ اب آگیا؟ میرا خیال تجھے۔۔۔؟” وہ منہ بنا کر کہتی ہے
“کیا مطلب ہے تیرا؟ میں تجھ سے بات نہیں کرتی کیا؟” بسکٹ دوبارہ پلیٹ میں رکھ دیتی ہوں
“میں نے ایسا تو نہیں کہا۔۔۔” وہ بے رخی سے کہتی ہے
“چھوڑ ساری باتوں کو ۔۔۔ اس کا جواب تو بتا ۔۔نا ۔۔۔”بچگانہ انداز میں کہتی ہوں
“تو اس طرح کیوں نہیں کرتی کہ اپنے عاشق کو یہیں بلا کر اس سے پوچھ لے” وہ طنزیہ انداز میں میری طرف چہرہ کرتے ہوئے کہتی ہے
“تم کس کی بات کر رہی ہو۔۔۔ مجھے نہیں پتا ۔۔” کتاب کو واپس لے کر جواب دیتی ہوں
“میں کس کی بات کر رہی ہوں۔۔۔ تم اچھی طرح جانتی ہو۔”
“مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔”اس جگہ سے اٹھتے ہوئے کہتی ہوں
“ہاں ۔۔ ہاں۔۔۔۔ اب تو تم مجھ سے نظریں بھی چراؤ گی۔۔۔ آخر تمہارے عاشق کی تو باتیں ہورہی ہے۔۔” مزید طنز کا تیر چلاتی ہے
“دیکھو مہر! اب تم اس کو عاشق کہنا بند کرو۔۔۔ آئی بات سمجھ میں ؟” پلٹ کر غصہ میں جواب دیتی ہوں
“اب عاشق کو عاشق نہ کہوں تو اور کیا کہوں؟ ۔۔ تم ہی بتا دو۔۔”
“وہ میرا عاشق نہیں ہے۔۔۔ میں تمہیں ہزار بار کہہ چکی ہوں۔ تم کیوں ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پر جاتی ہو؟”
“اب تم اپنے عاشق دانیال کے لیے مجھ سے جھگڑا کرو گی؟”
” اب بس۔۔۔! اس کے خلاف میں ایک لفظ بھی نہیں سنو گی ۔۔۔ سنا تم نے۔۔۔ اور تم اس پر یہ الزام لگا بھی کیسے سکتی ہو؟”
“میں الزام نہیں لگا رہی، تمہیں سچ بتا رہی ہوں۔ پہلے تو کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا اور اب۔۔۔”
“دیکھو ۔۔ اب تم حد سے بڑہ رہی ہو۔” اس کی بات کاٹتے ہوئے کہتی ہوں
“میں حد سے بڑھ رہی ہوں؟۔۔۔ میں ؟؟؟ اور جو حد وہ پار کر رہا ہے اس کا کیا؟؟؟” غصہ میں کھڑے ہوتے ہوئے کہتی ہے۔
“اس نے کوئی حد پار نہیں کی۔۔آئی بات سمجھ میں؟ اور یہ بات جان لو کہ جیسا تم سمجھ رہی ہو وہ ویسا لڑکا نہیں ہے”
“مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ کیسا لڑکا ہے۔۔”
“اچھا۔۔ مجھے بھی تو بتاؤ کہ وہ کیسا لڑکا ہے۔ میں بھی تو جانوں کہ تم اس کے بارے میں کیا سوچتی ہوں؟”
وہ یہ سن کر خاموش ہو جاتی ہے شائد وہ بات کو مزید بڑھانا نہیں چاہتی تھی۔
“دیکھو کرن! یہ مت بھولو کہ تم پہلے ہی کسی اور کی منگیتر ہو۔۔۔” وہ دھیمے انداز میں مجھے سمجھاتے ہوئے کہتی ہے
“مجھے اچھی طرح معلوم ہے۔۔۔! تمہیں بتانے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔”
“پھر ۔۔دانیال؟؟۔۔۔ اس کا کیا رشتہ ہے تمہارے ساتھ؟” وہ کہتی ہے
“وہ صرف میرا ایک اچھا دوست ہے، صرف اچھا دوست۔۔ آئی بات سمجھ میں؟ ” ہاتھ کی انگلی اس کی سمت اٹھاتے ہوئے کہتی ہوں۔
“اور کیا وہ بھی تمہیں صرف ایک اچھا دوست سمجھتا ہے؟” اس کا یہ سوال میرے دل پر اثر کرتا ہے ۔ شائد وہ ٹھیک کہہ رہی تھی کیونکہ جب بھی میں اس سے ملتی تھی تو ہر بار اس کے اندر نت نئی تبدیلیاں محسوس کرتی۔
“دیکھو کرن! وہ لڑکا جو پہلے کسی لڑکی سے بات بھی نہیں کرتا تھا اور آج تم سے اتنا گھل مل جانا۔۔۔ کیا ظاہر کرتا ہے؟ تم خود ہی سوچو۔۔۔” اسکی بات میں دم ہوتا ہے اور اس کی یہ بات مجھے سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے مگر میرا دل ان سب باتوں کو تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں تھا۔
“وہ میرے بارے میں کیا سوچتا ہے، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔”
“فرق پڑتا ہے۔۔۔” وہ اونچی آواز میں کہتی ہے
“کچھ فرق نہیں پڑتا ۔۔ وہ صرف میرا ایک اچھا دوست ہے اور بس۔۔۔” بیڈ پر جا کر لیٹ جاتی ہوں
“لیکن۔۔۔!” وہ ہاتھ کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتی ہے
“لیکن ویکن کچھ نہیں۔ اب بہتر یہی ہوگا کہ ہم اس موضوع پر بات نہ کریں۔” یہ کہہ کر میں چہرے کو کمبل سے ڈھک لیتی ہوں مگر وہ کافی دیر تک بیٹھی میرے بارے میں سوچتی رہتی ہے
کیا مہر کی باتیں سب سچ ہیں؟ کیا یہ صرف دوستی ہے یا پھر کچھ اور ؟؟کافی دیر سوچنے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں ان سب کے بارے میں دانیال سے پوچھوں گی۔ اگلے دن دانیال کو میں نے ہر جگہ ڈھونڈا مگر وہ کہیں نہیں ملا ۔ پھر اچانک یاد آیا کہ وہ تو اس ٹائم لائبریری میں ہوتا ہے۔ اب تو اس کے ساتھ رہ رہ کر مجھے تو کلاس کے ٹائم کی طرح اس کا بھی ٹائم ٹیبل یاد ہوگیا۔ کب وہ کیا کرتا ہے؟ کہاں جاتا ہے؟ اور کونسی کتاب پڑھتا ہے؟ لائبریری میں جاکر اس کے پیچھے بیٹھ گئی اور فورا ًاس سے سوال پوچھ ڈالا۔
“تم ہمارے رشتے کے بارے میں کیا سوچتے ہو؟” وہ میرے اس بے تکے سوال پر حیران ہوگیا۔شائد مجھے بھی فوراً یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے تھا ۔ یہ میری سب سے بڑی بےوقوفی تھی۔ فیشن تو جہاں بھر کے معلوم ہیں مگر کب، کس سے ، کیا، کیسے کس طرح اور کونسی بات کرنی چاہیے۔ اس کا ڈھب تو مجھے چھو کر بھی نہیں گزرا۔
“یہ کیسا سوال ہے؟” وہ کتاب کے اوراق کو پلٹتے ہوئے سرسری طور پر کہتا ہے
“میرا مطلب یہ ہے کہ تم میرے بارے میں کیا سوچتے ہو؟”
وہ فوراً کتاب بند کر کے ایک سوچ میں ڈوب جاتا ہے۔
“کیا مطلب ہے تمہارا؟” وہ گہری سانس لے کر کہتا ہے
“مطلب صاف ہے۔ تم بتاؤ۔۔!” مجھے یہ جواب جاننے کی بہت جلدی ہوتی ہے مگر وہ اتنی ہی دیر کر رہا ہوتا ہے۔ وہ بغیر کچھ کہے وہاں سے کھڑا ہوجاتا ہے اور لائبریری سے باہر آجاتا ہے۔ میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چلتی ہوئی باہر آجاتی ہوں۔ میری جستجو بڑھتی جاتی ہے۔
“میری بات کا تم نے جواب نہیں دیا۔۔۔” میں مسلسل یہ جملہ دہراتی جاتی ہوں مگر وہ ایک خاموشی سے چلتا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے اس کے نزدیک میرے سوال کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس کے نزدیک یہ سوال اتنا معمولی ہے کہ وہ جواب بھی دینا مناسب نہیں سمجھتا یا پھر وہ ایک معقول جواب دینے کے لیے کچھ سوچ رہا ہو۔ آخر پانچ منٹ مسلسل چلتے رہنے کے بعد وہ ایک درخت کے سائے تلے رکتا ہے اور چند لمحوں کے بعد پلٹ کر میری طرف دیکھتا ہے۔
“کیا پوچھنا چاہتی ہو تم؟” سنجیدہ ہو کر پوچھتا ہے۔
“یہی کہ تم میرے بارے میں کیا سوچتے ہو؟”
وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک مبہم سا جواب دے کر چلا جاتا ہے۔ اب میں اس کے جواب کا کیا مطلب سمجھوں؟میں تو اس سے جواب مانگنے آئی تھی مگر اس نے تو مجھے مزید سوالوں میں الجھا دیا ۔ آخر اس کے یہ کہنے کا کیا مقصد تھا؟
“جو تم میرے بارے میں سوچتی ہو۔۔۔”
اس کے ان الفاظ میں کشش تو ضرور تھی مگر مطلب کیا تھا؟؟؟ اور میں اس کے بارے میں کیا سوچتی ہوں؟ اور اس کو کیا معلوم کہ میں اس کے بارے میں کیا سوچتی ہوں۔ اور وہ اتنا پراعتماد ہو کر کیسے کہہ سکتا ہے کہ جو میں سوچتی ہوں وہی خیالات وہ میرے بارے میں رکھتا ہے۔ لیکن۔۔۔ میں تو خود نہیں جانتی کہ میں کیا سوچتی ہوں۔ اسی لیے تو میں اس کے پاس گئی تھی مگر اس نے تو مجھے الجھن سے نکالنے کی بجائے مزید الجھنوں میں ڈال دیا۔ اب میں اس کا مطلب کیسے سمجھوں؟؟؟
“اے خدایا! تو ہی مدد فرما۔۔!” خدا سے التجا کرتی ہوں۔اتنے میں سامنے سے مہر آجاتی ہے۔ کیا مجھے اس سے پوچھنا چاہیے مگر وہ تو پہلے ہی مجھ سے خفا ہے۔ وہ کیسے بتائے گی مگر میری دوست بھی تو ہے۔ آخر ہمت کرکے اس کو سب کچھ بتا دیتی ہوں۔
“دیکھو کرن! بات صاف ہے۔ وہ تمہارے اوپر سب کچھ چھوڑ کر گیا ہے۔ اب تم اس رشتے کو جو نام دینا چاہو ۔۔ وہ دے سکتی ہو۔”
پہلے دانیال اور اب یہ مہر۔ ۔۔ ۔ دونوں نے مجھے کن سوالوں میں ڈال دیا؟ ان سوالوں کے سائے تلے میں خود کو بہت بوجھل محسوس کر رہی تھی۔ ہر وقت میرے کانوں میں کبھی دانیال کی تو کبھی مہر کی آواز گونجتی ۔ ایسا لگتا کوئی میرے کانوں میں ان الفاظ کا ورد کرتا جارہاتھا۔ میری بے چینی بڑھتی جارہی تھی۔ جب بے چینی اپنی حدیں پار کرنے لگی تو میں نے ان سوالوں سے تنگ آکر ایک فیصلہ کیا اور خود ہی اس فیصلہ کو دانیال کا جواب مانتے ہوئے صحیح قرار دے دیا۔ اس نے بھی تو سارا معاملہ مجھ پر چھوڑ دیا تھا تو میں اب جو چاہوں فیصلہ کروں۔ یہ فیصلہ درست تھا یا نہیں۔۔۔ مگر اب مجھے اس پر قائم رہنا تھا۔ دل گواہی دے یا نہ دے میں اس کو صرف اپنا ایک اچھا دوست سمجھتی ہوں۔ اور کچھ نہیں۔ ہمارا رشتہ دوستی کا ہے اس کے سوا کوئی رشتہ نہیں۔ یہ محبت، عشق سب بے نام ہیں۔ دوستی کا رشتہ ان سب پر فوقیت رکھتا ہے۔لہذا میں ہمارے رشتے کو دوستی کا نام ہی دوں گی کیونکہ دوستی ہی وہ واحد رشتہ ہے جس میں کسی قسم کا کوئی لالچ نہیں ہوتا۔ یہ رشتہ صرف خلوص پر مبنی ہوتا ہے۔ جہاں تک محبت کی بات ہے اس میں بھی بعض اوقات لالچ و حرص آجاتی ہے مگر دوستی میں کبھی نہیں۔ دوستی نام ہے اعتماد کا، اعتبار کا۔ اب یہی سچ ہے ۔ مجھے اب مزید سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی کسی کو صفائی دینے کی۔
یہ سب کچھ میرا بھرم تھا یا حقیقت۔ میں خود نہیں جانتی مگر میں نے اس کو ہی سچ سمجھ لیا۔ دل نے کافی بار کہا کہ یہ غلط ہے مگر سمجھا لیا۔ اور کرتی بھی کیا دانیال نے بھی تو کوئی معقول جواب نہیں دیا تھا اور ویسے بھی وہ مجھ پر پہلے ہی واضح کر چکا تھا کہ محبت کا رشتہ اس کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
آج میں گھر جارہی ہوں۔ دو ماہ مزید سب سے الگ مگر اپنوں کے پاس، دانش کے قریب۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: