Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 9

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – قسط نمبر 9

–**–**–


31 اگست 2005 بروز بدھ
آج میرے لیے کافی خوشی کا دن ہے۔ آج نورین کا رزلٹ آیا۔ بہت ہی اچھے نمبروں سے پاس ہوئی اب بس اس کے لیے ایک گفٹ لینا ہے۔ آخر میں ہی تو اس کا بڑا بھائی ہوں اگر میں ہی اس کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا خیال نہیں رکھوں گا تو اور کون رکھے گا؟ اور ویسے بھی یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی آگے جاکر حسین یادیں بن جاتی ہیں جیسے کرن کے ساتھ گزارے گئے لمحات۔۔۔
آج جب ساڑھے تین ماہ بعد ڈائری کھولی تو پرانے واقعات پڑھ کر چہرے پر خود بخود مسکراہٹ آگئی۔ حالانکہ کچھ خاص تو میں نے لکھا بھی نہیں تھا پھر بھی۔۔۔ یہ مسکراہٹ کیسی؟ اور خوشی کیسی؟ابھی بھی کرن کے وہ الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں جب اس نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میں اس کے بارے میں کیا سوچتا ہوں؟ آخر میں کیا جواب دیتا۔۔ جبکہ میں خود اس سوال کا جواب نہیں جانتا تھا۔اسی لیے تو مبہم سا جواب دیا۔ جس طرح میرا جواب سننے کے بعد وہ کئی الجھنوں کا شکار ہوگئی تھی بالکل اسی طرح میں بھی سوالوں کے جال میں پھنس گیا تھا۔ اس کے سوال پوچھنے سے پہلے میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا مگر اس کے بعد مجھے بھی احساس ہونے لگا تھا کہ ہماری دوستی اپنی حدوں سے آگے بڑھنے لگی ہےمگر جان بوجھ کر میں اس سچ سے انکار کرنے لگا ۔ یہ پیار ویار ۔۔۔۔ مجھے؟؟؟ ایسا کیسے؟؟؟۔۔۔ یہ سب بھرم ہے۔ مگر سچائی شائد یہی تھی جوکہ میں جانتے ہوئے بھی انجان بن رہا تھا۔اور شائد یہی صحیح تھا اور جب صحیح وقت آئے گا تو دل خود بخود اس سچائی کو تسلیم کر لے گا کیونکہ ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور شائد وہ وقت ابھی نہیں آیا۔ اوہ۔۔۔۔۔۔ شٹ۔۔۔۔۔ عامر کے بارے میں لکھنا تو بھول ہی گیا۔میرا بچپن کا دوست۔ دس سال بعد اس سے ملاقات ہوئی۔ اس سے مل کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ اور ہوتی بھی کیوں نا۔۔۔ مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سا تاثر تھا۔ وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتا تھا مگر کہہ نہیں پارہا تھا ۔۔ میرے بار بار اسرار پر صرف اتنا کہا کہ وہ اپنی باقی پڑھائی میرے یونیورسٹی میں کرے گا لیکن وہ اصل بات مجھ سے ابھی بھی چھپا رہا تھا۔ بات جو بھی ہو، میرے لیے تو اتنا ہی کافی ہےکہ مجھے اپنے پرانے دوست کا ساتھ مل گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
30 ستمبر 2005 بروز جمعہ
آج مجھے عامر سے ملے ایک ماہ گزر گیا۔اس دوران کئی بار اس سے ملاقات ہوئی اور 21 تاریخ سے تو ہم روزانہ یونیورسٹی میں مل رہے ہیں مگر اس کے چہرے پر ہمیشہ سنجیدگی چھائی رہتی ہے۔یہ پہلے تو ایسا نہیں تھا شائد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسا ہوگیا ہو۔کئی بار میں نے اس سے اسکے رویے کے بارے میں پوچھا لیکن ہر بار وہ بات کو ٹال دیتا مگر ایک دن کچھ سچائی آشنا ہوئی۔
میں اور عامر کلاس روم سے نکل کر کینٹین کی طرف جارہے تھے۔ ساتھ ساتھ سٹڈی کی باتیں بھی کررہے تھے۔ آج چونکہ زیادہ سٹوڈنٹس نے لیکچر اٹینڈ کیا تھا اس لیے کلاس میں بہت زیادہ شور و غل تھا اور سر بھی بہت بھاری ہوگیا تھا اس لیے ہم نے کینٹین جاکر چائے پینے کا فیصلہ کیا۔ کرن اور مہر بھی آج ہی یونیورسٹی آئی تھیں مگر میری ان سے ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ ہم دونوں کینٹین جاکر ایک طرف بیٹھ گئے اور اپنی پرانی باتوں کا حال چال ایک بار پھر سے چھیڑ دیا ۔ اتنے میں وہاں کامران آگیا۔
“واہ بھئی واہ۔۔۔!پرانا دوست مل گیا تو ہم کو تو جیسے بھول ہی گئے۔۔۔ جناب صاحب۔۔!” وہ چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہتا ہے۔
“نہیں یار ایسی بات نہیں ہے۔۔۔” ہنستے ہوئے کہتا ہوں۔
“ایسی ہی بات ہے۔۔! اس نے تو میرا تعارف بھی کروانا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔ چلو میں خود ہی اپنا تعارف کروا دیتا ہوں۔ میرا نام کامران ہے” وہ آگے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہتا ہے
“میرا نام عامر ۔۔۔ دانیال کے بچپن کا دوست۔۔” ہاتھ ملاتے ہوئے کہتا ہے
“مل کر خوشی ہوئی۔۔۔ مگر ایک بات تو بتاؤ کہ کیا تم بھی دانیال کی طرح ہو؟؟؟”
“کیا مطلب ہے؟؟” عامر حیرت سے پوچھتا ہے
“مطلب یہ ہے کہ دو دن ہوگئے تمہیں یونیورسٹی آتے ہوئے مگر دانیال کہ علاوہ کسی سے بات تک نہیں کرتے ۔ باتیں کرنا تو دور کی بات ادھر ادھر بھی نہیں دیکھتے ۔۔ خیریت تو ہے نا۔۔!” وہ میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے
“کامران۔۔۔!” میں ہنستے ہوئے کہتا ہوں
“کہیں ایسا تو نہیں کسی کو تلاش کررہے ہو؟؟؟”کچھ دیر خاموشی کے بعد وہ ہنستے ہوئے کہتا ہے۔
اتنے میں وہاں پر کرن اور مہر آجاتیں ہیں۔ میری نظر کرن پر جاکر ٹھہر جاتی ہے جیسے اتنا وقت دور رہنے کے بعد یہ آنکھیں اس کا دیدار کرنے کے لیے ترس گئی ہوں اور آج جی بھر کے دیدارِ جام سے سیراب ہونا چاہتی ہوں۔ اس کی لہراتی زلفیں میری آنکھوں کی پیاس کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔میں آہستہ سے اس کا نام پکارتا ہوں تو اس کے قدم وہیں رک جاتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے اس نے میری آواز سن لی ہو۔میرا کرن کی طرف دیکھنا عامر کو بھی پیچھے مڑ کر دیکھنے پر مجبور کر دیتا ہیں۔ جیسے ہی وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اس کی نظریں مہر پر جاکر ٹھہر جاتی ہیں۔اس کو دیکھتے ہی وہ فوراً کھڑا ہوجاتا ہے۔اس کے چہرے پر ایک دم خوشی کی لہر چھا جاتی ہے۔ وہ ٹکٹکی باندھے اس کو دیکھتا جاتا ہے مگر جب مہر اس کو دیکھتی ہےتو اس کا تاثر الگ ہوتا ہے۔ غصہ کے آثار، کئی سوال۔۔۔ جن کا جواب وہ پوچھنا چاہتی ہے ۔۔ ۔ ۔اور۔ ۔ ۔ایک سنجیدگی جن کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ اپنی آنکھیں نیچے کر لیتا ہےاور بغیر کچھ کہے بیٹھ جاتا ہے۔ مہر آگے بڑھنا نہیں چاہتی تھی مگر کرن اس کو آنے پر مجبور کرتی ہےاس کے پاس آنے سے اس کی آنکھوں کا جادو مجھ پر مزید اثر کرنے لگتا ہےمگر اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے اپنی نظروں کو جھکا لیتا ہوں۔ ساری گفتگو میں عامر اور مہر خاموش رہتے ہیں مگر چوری چوری ایک دوسرے کو دیکھتے ضرور ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
7 اکتوبر 2005 بروز جمعہ
پچھلے ایک ہفتہ سے میں عامر سےایک ہی سوال بار بار کر رہا تھا مگر وہ ہر بار ٹال دیتا اور کچھ نہ بتاتا اور یہی کہتا کہ کچھ نہیں ہے اور جیسا میں سوچ رہا ہوں ویسا کچھ بھی نہیں ہے مگر مجھے اس کے جواب پر تھوڑا سابھی یقین نہیں آتا تھا بلکہ ہر لمحہ سچ جاننے کی جستجو بڑھتی جارہی رتھی۔میرے باربار اسرار پر اس نے آج حقیقت بتا ہی دی۔ یہ سن کر تو پہلے مجھے یقین نہیں آیا مگر سچ تو سچ ہوتا ہے۔
آج صبح میں کلاس میں تھوڑا سا دیر سے پہنچا۔ عامر پہلے سے وہاں موجود تھا۔
“یار میسج کر کے بتا ہی دیتے کہ ابھی سر نہیں آئے۔۔۔ اتنی تیزی سے آیا ہوں۔” بیٹھتے ہوئے کہتا ہوں۔
وہ کوئی جواب نہیں دیتا شائد اس نے میری بات سنی ہی نہیں ۔ میں دوبارہ اس سے یہی سوال کرتا ہوں مگر اس بار بھی کوئی جواب نہیں دیتا تو میں اس کی طرف دیکھتا ہوں تو اس کی نظر مہر کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور وہ مسلسل اس کو دیکھے جاتا ہے جبکہ وہ آگے کی طرف چہرہ کیے بیٹھی تھی اور ذرہ برابر بھی حرکت نہیں کررہی تھی شائد وہ جانتی تھی کہ کوئی اس کی طرف دیکھ رہا ہے۔
“یار عامر ؟؟؟؟ کیا ہوا ؟؟؟ ۔ ۔ ۔ہاتھ لگاتے ہوئے کہتا ہوں تو وہ فوراً بوکھلا جاتا ہے
“کیا ہوا؟۔۔”وہ ہڑبڑا کر کہتا ہے۔
” یہی تو میں کب سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا بات ہے؟ کہاں کھوئے ہو تم؟”
“کہیں بھی تو نہیں۔۔۔”وہ ہکلاتے ہوئے کہتی ہے “ابھی تک سر نہیں آئے” وہ کتاب کھولتے ہوئے بات کو ٹالنے کی غرض سے کہتا ہے
“کیا بات ہے ؟؟؟ یار عامر۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔” اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر کہتا ہوں
“کہا نا۔ ۔ ۔ ۔کچھ بھی نہیں۔ ۔ ۔ ۔تیری تو عادت ہے ہر بات کی تہہ میں جانے کی” وہ ہاتھوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہتا ہے
” مگر۔ ۔ ۔۔ ۔ ” ابھی میری بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ کلاس میں ٹیچر آجاتے ہیں اور ہر بار کی طرح اس بار بھی میری بات ادھوری رہ جاتی ہے لیکن میں دل میں اس بات کا تہیہ کر لیتا ہوں کہ آج مجھے اس بات کی تہہ تک جانا ہوگا۔
کلاس ختم ہونے کے بعد سب کلاس سے چلے جاتے ہیں صرف میں اور عامر رہ جاتے ہیں۔ سب کے جانے کے بعد میں پھر سے وہی سوال کرتا ہوں۔
“مجھے جواب چاہیے۔۔”
“یار پہلے بھی تو جواب ہی دیا تھا۔” وہ نظریں چرا کر بیگ میں کتابیں ڈالتے ہوئے کہتا ہے۔
“یہ تو مجھے بھی معلوم ہے کہ تم نے جواب دیا تھا مگر وہ سچ نہیں ہے، مجھے سچ جاننا ہے۔۔”
“یار کونسا سچ؟؟؟ کیسا سچ ۔۔۔؟” دکھاوے کی ہنسی کے ساتھ کہتا ہے
“وہی سچ جو تم مجھ سے چھپا رہے ہو۔”
“یار۔۔۔ کون سا سچ چھپا رہاہوں میں؟؟ کوئی سچ بھی تو نہیں ہے۔۔”وہ باہر جانے لگتا ہے
“یہی بات میری آنکھوں میں دیکھ کر کہو۔۔”میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کرتا ہوں
“اگر تم مجھے اپنا سچا دوست مانتے ہو تو تمہیں اسی دوستی کی خاطر مجھے سچ بتانا ہوگا۔۔!” یہ سن کر وہ خاموش ہوجاتا ہے اور جواب نہیں دیتا۔
“تمہاری خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ تم مجھ سے سچ چھپا رہے ہو۔۔”اس کے چہرے پر اداسی چھا جاتی ہے
“یار! میں تمہیں تکلیف دینا نہیں چاہتا اور نہ ہی تمہاری تکلیف کو بڑھانا چاہتا ہوں۔۔۔۔صرف اور صرف تیری تکلیف کو بانٹنا چاہتا ہوں، کیا اتنا بھی حق نہیں ہے میرا۔۔۔ یار ہوسکتا ہے، میں اس کا کوئی سالیوشن دے سکوں؟؟
“یہ کوئی میتھ کا سوال نہیں ہے ، جس کا کوئی حل ہو۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہتا ہے
“یار۔۔! بتا کر تو دیکھ۔۔۔”
“ٹھیک ہے ۔۔۔ یہ بتا کہ تیرے پاس کوئی حل ہےمحبت کا؟؟ “وہ میری طرف طنزیہ انداز میں متوجہ ہوتے ہوئے کہتا ہے۔ اسکی یہ بات سن کر مجھے زیادہ حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ میں پہلے ہی کسی حد تک جان چکا تھا۔
“اب خا موش کیوں ہو؟ ہے کوئی حل ؟” وہ ایک اور طنز کا تیر چلاتا ہے
“محبت ۔ ۔ ۔مگر کس سے؟” میں پوچھتا ہوں
“مہر۔ ۔ ۔ میری محبت۔۔۔!” وہ ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہتا ہے
“مہر؟؟؟؟؟؟ ” حیرت سے پوچھتا ہوں
“ہاں مہر۔۔۔! ” وہ یہ کہہ کر باہر جانے لگتا ہے
“مگر مہر نے تو کبھی مجھ سے یا پھر کرن سے اس بات کا تذکرہ تک نہیں کیا ۔۔” اس کے پیچھے چلتے ہوئے
“کرتی بھی کیسے۔۔۔۔ “وہ بات کرتے کرتے خاموش ہوجاتا ہے۔
“یار مجھے اصل بات بتاؤ۔۔۔ کیوں نہیں کیا اس نے اپنی محبت کا تذکرہ؟؟ آخر کیا وجہ ہے؟” اس کو روک کر پوچھتا ہوں
“جب کچھ بچا ہی نہیں تو تذکرہ کرکے کیوں اپنے دل کو تکلیف دیتی؟؟ ساری غلطی تو میری تھی۔۔!” ایک بار پھر وہ بات کرتے کرتے خاموش ہوجاتا ہے مگراس بار اس کی آنکھ سے آنسو نکل آتے ہیں۔
“یار!۔۔ مجھے تفصیل سے بتاؤ۔۔۔ کیا ہوا آخر۔۔ جس کی وجہ سے تم دونوں اتنے دور ہوگئے؟ اور کیا کی تم نے غلطی؟؟”
“میں اور مہر کالج میں ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے مگر جانے، کب، کیسے اور کہاں محبت ہوگئی۔ پتا ہی نہیں چلا۔۔”وہ اپنی آپ بیتی سنانا شروع کرتا ہے۔ جس کو سن کر مجھے بہت تجسس ہوتا ہے اور سوچتا ہوں کہ واقعی محبت اتنی حسین ہوتی ہے۔ اتنی خوشنما، اتنی دلکش، اتنی دلنشین۔ کیا واقعی محبت کے دربار میں جانے کے بعد کسی اور دربار میں جانے کو دل ہی نہیں چاہتا؟ کیا محبت کے حسین نغمے دل پر واقعی اتنا اثر کرتے ہیں؟
“اور پھر۔۔۔۔ایک سال پہلے کچھ ایسا ہوا، جس نے ہماری زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔بہت دور کردیا ہمیں۔۔۔ بہت دور ۔۔۔”ایک بار پھر بات کرتے کرتے وہ رک جاتا ہے مگر اس بار درد کی وجہ سے ۔
“ایک سال پہلے؟ کیا ہوا ایک سال پہلے؟” میرا تجسس مزید بڑھ جاتا ہے
“ایک سال پہلے۔۔۔ میری ملاقات نازیہ سے ہوئی۔ وہ ایک خوش شکل ماڈل تھی اس کے حسن کو دیکھ کر میرے دل میں اس کے قریب جانے کی حرص جاگی اور یہی میری سب سے بڑی غلطی تھی۔ ایک ایسی لڑکی جس کو مجھے ملے دو دن نہیں ہوئے تھے نہ جانے کیوں ؟ میں اس کے قریب ہوتا ہی چلاگیا۔ نہ جانے کیسا جادو کردیا تھا اس نےمجھ پر؟ میں اس کے قریب سے قریب تر ہوتا چلاگیا اور اس دوران میں مہر کو مسلسل اگنار کرتا رہا۔ مہر کے جذبات کی میں ذرا برابر بھی پرواہ نہیں کی اور جب اس نے فیصلہ چاہا تو میں نے غصہ میں آکر اس سے اپنا ہر رشتہ توڑ دیا۔مگر کہتے ہیں نہ جب تک انسان کو ٹھوکر نہیں لگتی وہ کبھی نہیں سنبھلتا، میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔اس کے وہاں سے جانے کے بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا مگر تب تک کا فی دیر ہوچکی تھی” سب کچھ بتاتے ہوئے اس کی آنکھیں تر ہوگئیں۔
“کیا میرے اس جرم کی معافی نہیں مل سکتی؟کیا میں نے ناقابل معافی جرم کیا ہے؟” وہ روتے ہوئے کہتا ہے
مجھے یہ سن کر پہلے تو بہت حیرانی ہوئی کہ عامر بھی ایسا کر سکتا ہے؟ مگر پھر سوچا کہ عامر کیا۔۔۔ عامر کے علاوہ کوئی اور بھی ہوتا تو اس سے بھی یہ غلطی ہوسکتی تھی۔ ویسے بھی شیطان تو ہر وقت انسان کو پھسلانے کے چکر میں رہتا ہے۔ اس کی تو مراد ہی یہی ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان نفرتوں کو جنم دے۔ مگر انسان تو وہی ہےجو اپنے کیے پر نادم ہوکر غلطی کو سدھارنے کی کوشش کرے۔مجھے اس وقت نہ تو عامر غلطی پر لگ رہا تھااور نہ ہی مہر۔۔۔ کیونکہ اس کے بھی تو جذبات تو ٹھیس پہنچی تھی۔ پہلی بار میں نے کسی کو محبت کے درد سے گزرتے ہوئے دیکھا۔ ایک دوسرے سے علیحدہ مگر ایک دوسرے کے بارے میں سوچتے ہوئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: