Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Last Episode 30

0

محبت پھول جیسی ہے از محمد شعیب – آخری قسط نمبر 30

–**–**–


4 اکتوبر بروز جمعرات
دل پر بوجھ بڑھتا ہی جارہا تھا۔۔۔ دانیال کی باتیں مجھ پر وار ثابت ہو رہی تھیں۔۔اس کی بے گناہی مجھے بار بار میرے گناہ کی یاد دلا رہی تھی ۔ دل کہتا تھا کہ کرن کو سب کچھ سچ سچ بتا دوں مگر دانیال سے کیا گیا وعدہ؟ کیا کروں؟ کیا نہ کروں۔۔۔؟
“دانیال تم نے مجھے کتنی بڑی مشکل میں ڈال دیا۔۔” اکثر یہی سوچتا رہتا۔۔۔
میری یہ حالت کرن سے ڈھکی چھپی نہ رہی یا پھر اس نے میری اس حالت کا غلط مطلب لے لیا تھا۔۔۔
” کیا ہوا؟ میں تم کو اس دن سے دیکھ رہی ہوں تم پریشان رہتے ہو۔۔” میری پاس بیٹھ کر مجھ سے پوچھتی ہے
” کچھ نہیں۔۔۔۔ بس طبیعت ویسے ہی اداس رہتی ہے۔۔۔” بات کو ٹالنے کی غرض سے کہتا ہوں
“دیکھو دانش! اگر تم دانیال کی واپسی پر پریشان ہو تو تمہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔ وہ میرا ماضی تھا۔۔۔اب میرا س سے کوئی رشتہ نہیں۔۔۔۔”
اس کی ہر بات مجھ پر وار ثابت ہورہی تھی۔ ایک ایک لفظ تیر کی طرح میرے دل پر لگ رہا تھا۔حالانکہ وہ سچ کہہ رہی تھی۔ اس کی باتوں کی صداقت میں اس کی آنکھوں میں دیکھ سکتا تھا مگر اس کو یہ سچ کہنے پر میں نے ہی مجبور کیا تھا۔
” ہاں۔۔۔ یہ سچ ہے کہ میں اس سے محبت کرتی تھی۔۔۔۔ اس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ اپنے غم بانٹنا چاہتی تھی۔ اپنا ہمسفر بنانا چاہتی تھی مگر یہ بھی سچ ہے کہ یہ سب میرا ماضی ہے۔ اور تم میرا حال۔۔ ماضی کبھی بھی میرے حال پر حاوی نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کی جگہ لے سکتا ہے۔ اب میرے ہمسفر، میرے ہمنوا صرف اور صرف تم ہو۔تمہارے بغیر اب میرا کوئی وجود نہیں۔ میرا نام اب تمہارے نام کے ساتھ منسوب ہے۔ ایک لڑکی کی جب شادی ہوتی ہے اور جب وہ اپنے میکہ سے سسرال آتی ہے تو وہ کئی رشتوں کو چھوڑ کر صرف اس لیے آتی ہے کہ نئے رشتے بنا سکے ، انہیں نبھا سکے۔ اور سچ مانو! میں بھی اپنا سب کچھ صرف اور صرف تمہارے لیے چھوڑ کر آئی ہوں۔ اپنا سب کچھ۔۔۔۔ تمہاری خاطر میں نے اپنا ماضی تک بھلا دیا۔ ۔۔ ہاں یہ سچ ہے کہ اس دن جب میں نے دانیال کو دیکھا تھا تو ایک پل کے لیے میری آنکھوں میں آنسو ضرور آئے لیکن ان کی وجہ کچھ اور تھی۔ان آنسوؤں کی وجہ اس کا چھوڑ جانا تھا۔ میں صرف اس سے ایک سوال پوچھنا چاہتی تھی کہ آخر مجھ سے کیا غلطی ہوئی جو اس نے مجھے بیچ راہ میں چھوڑ دیا۔ بس یہ سوال ۔۔۔۔۔ یقین مانو! لیکن پھر میں نے خود کو بہت ملامت کیا کہ” اے کرن! جس شخص سے تیرا کوئی رشتہ ہی نہیں تو خود کو اس کے لیے بے چین کر رہی ہے۔ اس کے لیے آنسو بہا رہی ہے۔ اور جس نے تیری آنکھوں میں پچھلے پانچ سالوں میں ایک بار بھی آنسو نہیں آنے دیا۔۔۔ اس کو بھول گئی۔۔ اس کے احسانوں کو فراموش کردیا۔ اس کو نظر انداز کر دیا۔۔ جو تیری بیٹی کا باپ ہے ۔۔۔۔ تو اس کے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچ بھی کیسے سکتی ہے۔” تب میں نے اپنے آپ سے ایک عہد کیا کہ میں سب کچھ بھول جاؤں گی۔ میرے لیے اب سب کچھ صرف اور صرف تم ہو۔ میری محبت بھی۔۔۔ میرے شوہر بھی۔۔۔”
“بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب بس کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا کے لیے بس کرو۔۔۔۔ اپنی باتوں سے مجھے مزید تکلیف مت پہنچاؤ۔۔۔ میرے زخموں کو ہرا مت کرو۔۔۔۔۔” اس کی بات کو کاٹتے ہوئے اونچی آواز میں کہتا ہوں آنکھوں سے اشک بہنے لگتے ہیں۔ وہ پریشان ہو کر میری طرف دیکھنے لگتی ہے۔
“کیا ہوا دانش ؟؟؟ ایسا کیوں کہہ رہے ہو۔۔”
“یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔ سب فریب ہے۔۔۔۔ تم ایسا صرف اس لیے کہہ رہی ہو ۔۔۔ کیونکہ تم سچ نہیں جانتی۔۔”
“سچ ؟؟؟؟ کیسا سچ؟”
“وہی سچ جو میں جانتا ہوں۔۔۔۔۔۔” میں ایک بار پھر اپنا وعدہ توڑ دیتا ہوں اور کرن کو سب کچھ سچ سچ بتا دیتا ہوں
“تمہیں حاصل کرنا میری ضِد تھی۔۔۔ میں تمہیں کسی بھی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔ اور جو کچھ میں نے کیا اپنی انا میں کیا۔۔۔” آخر میں ان الفاظ سے اپنی بات ختم کی
” اس جرم کی پاداش میں تم مجھے جو سزا بھی دینا چاہو ، مجھے منظور ہے۔ اگر تم مجھے چھوڑ کر جانا چاہو ۔۔۔۔ تو یہ تمہارا حق ہے۔۔۔ میں تمہیں نہیں روکوں گا۔ آخر تمہیں کسی ایسے شخص کے ساتھ رہنے کا کوئی حق نہیں ، جس نے تمہیں سازشوں اور جھوٹ کے سہارے حاصل کیا ہو۔”
میری باتوں کو سن کر وہ خاموش ہو جاتی ہے اور اٹھ کر چلی جاتی ہے۔ اس کا مطلب میں جانتا تھا اور شائد میں تیار بھی تھا۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
7 اکتوبر 2012 بروز اتوار
آج محبت کی ایک اور کہانی اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ جس طرح ہیر رانجھا، لیلا مجنوں، فرہاد و شیریں، سوہنی ماہیوال نے محبت کے عروج کو تو چھوا مگر ملن ان کا مقدر نہ بن سکا۔ ایسا ہی انجام دانیال اور کرن کی محبت کا ہوا۔ محبت کا یہ پھول آج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مرجھا گیا۔
ہم دونوں ہسپتال دانیال سے ملنے گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ وہ اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ یہ خبر سن کر چھپی ہوئی محبت بیدار ہوگئی اور بھاگتے ہوئے اس کے پاس چلی گئی۔
“دانیال۔۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔ دیکھو دانیال ۔۔۔ میں کرن۔۔۔” اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے روتے ہوئے کہتی ہے ۔ اس کی آواز جیسے ہی اس کے کانوں میں پڑتی ہے تو اس کی جان بحال ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے کانپتے ہا تھوں سے اسکے چہرے سے آنسو صاف کرتا ہے۔
” یہ آنسو ۔۔۔۔ کس لیے ؟” کپکپاتے لبوں سے پوچھتا ہے
” مجھے معاف کردو۔۔۔۔ میں نے تمہیں غلط سمجھا۔۔۔ پلز معاف کردو۔۔۔”
“معافی کس بات کی؟؟” سب باتوں سے انجان ہو کر پوچھتا ہے
” تمہیں غلط سمجھنے کے لیے۔۔۔۔ تمہارا انتظار نہ کرنے کے لیے۔۔۔۔۔”
اب کیا مرنے بھی سکون سے نہیں دوگی۔۔۔ ” بات کو بدلتے ہوئے کہتا ہے
“ایسی باتیں نہ کرو۔۔۔۔ تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔” اس کے لبوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہتی ہے ” میں تمہیں کچھ بھی نہیں ہونے دونگی۔۔”
“تقدیر کے فیصلوں کو کون بدل سکتا ہے۔۔۔؟”
“نہیں ۔۔۔تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ورنہ ایک بار پھر سے میں اکیلی رہ جاؤں گی۔۔۔۔” روتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے کہتی ہے۔ اس کی یہ باتیں سن کر میری آنکھوں سے بھی آنسو بہہ نکلتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے میں ان کے درمیان دیوار ہوں ۔ لہذا ! میں وہاں سے جانے کے لیے قدم پیچھے کی طرف کرتا ہوں
” تم اکیلی نہیں ہو۔۔۔ تمہارے ساتھ اتنا پیار کرنے والا شوہر ہے تو سہی۔۔۔”
“اِدھر آؤ ۔۔ دانش ۔۔۔” میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے
میں لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے اس کے پاس جاتا ہوں مگر وہ مجھے مسلسل اگنار کرتی رہتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس کو میری ذات سے گِھن آرہی ہو۔ میرے وجود سے نفرت ہو رہی ہو۔میرے پاس جانے سے وہ پیچھے ہٹ جاتی ہے۔
“دانش! اگر میں تم سے ایک وعدہ مانگوں۔۔۔ تو۔۔۔ کیا تم اس کو پورا کرو گے۔۔۔”
” ہاں۔۔۔ کیوں نہیں۔۔۔ تم جان بھی مانگو گے۔۔۔۔ تو۔۔۔ بنا کچھ کہے دے دونگا۔۔۔” فوراً جواب دیتا ہوں
“اور کرن۔۔۔ میں نے تم سے کبھی کچھ نہیں مانگا۔۔۔ مگر آج مانگتا ہوں۔۔۔ کیا جو مانگوں گا ۔۔۔ وہ دو گی؟” کرن کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہتا ہے
“تم جو کہو گے۔۔۔ میں کرونگی۔۔۔۔ بس ایک بار۔۔۔۔۔ ٹھیک ہو جاؤ۔۔۔” دانیال کے ہاتھوں کو پکڑتے ہوئے
“دانش کو معاف کردو۔۔۔۔” یہ کہہ کر وہ میرا ہاتھ پکڑتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے کرن کا ہاتھ پکڑ کر میرے ہاتھوں میں دے دیتا ہے
” دانش ۔۔۔۔ آج سے یہ تمہاری ذمہ داری ہے۔۔۔ آئندہ کبھی اس کو دھوکہ مت دینا۔۔۔ کبھی جھوٹ مت بولنا۔۔ ہمیشہ اس کو خوش رکھنا۔۔۔ کبھی اس کی آنکھوں میں آنسو مت آنے دینا۔۔۔ بولو ۔۔۔ کرو گے یہ وعدہ پورا؟”
میں ہاں میں سر ہلا دیتا ہوں
” کرن۔۔۔ جو کچھ ہوا سے بھول جاؤ۔۔۔۔ اپنے آنے والے مستقبل کی طرف دیکھو۔۔۔ تمہاری زندگی دانش کے ساتھ ہے۔۔۔ یہ تم سے بہت محبت کرتا ہے۔۔۔”
“لیکن۔۔۔۔” اپنا ہاتھ میرے ہاتھوں سے پیچھے کرتے ہوئے کہتی ہے
” میں جانتا ہوں۔۔۔۔ تم پرانی باتوں کی وجہ سے۔۔۔” اس کی آواز میں مزید کپکپاہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں
” پلز۔۔۔ تم مجھ سے وعدہ کرو۔۔۔۔”سانسیں لینا محال ہو جاتا ہے” تم کبھی مجھے یاد نہیں کرو گی۔۔” غشی کی وجہ سے آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں ” دانش کے ساتھ ہمیشہ خوش رہو گی۔۔”
” پلز۔۔۔ خاموش ہوجاؤ۔۔۔ آرام کرو۔۔۔۔زیادہ باتیں مت کرو” روتے ہوئے کہتی ہے
” ” نہیں۔۔۔ پہلے تم مجھ سے وعدہ کرو۔۔۔ آج سے تم نئی زندگی کی شروعات کرو گی۔۔ دانش کے ساتھ۔۔۔۔۔” لمبے لمبے سانس لینے لگتا ہے۔۔” پلز۔۔۔۔۔۔۔ وعدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرن۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے سر ہلا دیتی ہے ۔ اس کا سر ہلانا تھا کہ اس کی سانسیں اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔ زندگی موت سے ہار جاتی ہے۔ اس کا ہاتھ جو کچھ دیر پہلے فِضا میں تھا ۔ زمین پر ایسے آجاتا ہے جیسے کبھی اس میں جان تھی ہی نہیں۔۔ آنکھوں میں آنسو۔۔۔ نظریں اس کے چہرے پر۔۔۔۔
“دانیال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ایک زور دار آواز محبت کے پھول سے نکلتی ہے۔ مگر یہ چیخ اس تک نہ پہنچ سکی۔ میری آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگتے ہیں۔ ہوا میں ایک سوگ سا سما ہوتا ہے۔ محبت کی ایک اور کہانی اپنی انجام کو پہنچے بغیر صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔
پہلے لوگ کہتے تھے کہ محبت پھول جیسی ہے۔ آج میں کہتا ہوں کہ واقعی محبت پھول جیسی ہے مگر ایسے پھول کی مانند جس میں خوشبو کم، کانٹے زیادہ ہوتے ہیں۔ اور یہ کانٹے ہر وقت دل میں چبھتے رہتے ہیں اور اس وقت تک چبھتے رہتے ہیں۔ جب تک کہ جان نہ نکل جائے۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: