Mujhe Tera Har Zulm Qabool Novel By Suhaira Awais – Episode 1

0
مجھے تیرا ہر ظلم قبول از سہیرا اویس – قسط نمبر 1

–**–**–

Oh Goddd!!
یہ کیسا خواب ہے؟؟
مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ۔۔۔
جیسے میں اپنے گھر میں نہیں ہوں،،
اور یہ میری آنکھیں کیوں نہیں کھل رہیں۔۔
نایاب ابھی تک ہلکی ہلکی غنودگی کی حالت میں تھی،،
اب وہ اپنی بوجھل طبیعیت اور بھاری سر کے ساتھ کچھ بڑبڑا رہی تھی۔
اسے لگ رہا تھا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے۔۔۔
جب اس کے حواس بحال ہوئے تو اس نے آہستگی سے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔
جسم تھا کہ نقاہت اور کمزوری سے چور تھا۔۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا تو وہ ایک انتہائی غیر شناسا جگہ پر موجود تھی۔
وہ کمرہ جہاں وہ تھی،،
وہ انتہائی چھوٹا تھا،،
وہ اس کا موازنہ دراصل اپنے گھر کے کمروں سے کر رہی تھی،،
اس کمرے میں ایک کننگ سائز بیڈ ،،
اس کے دائیں جانب دو قدم کے فاصلے پر ایک ٹو سٹر صوفہ،،
اور بائیں جانب ایک ہاتھ کے فاصلے پر دیوار میں ہی نصب شدہ چھت تک کی الماری تھی،،
اور بیڈ کے بالکل سامنے،،
تقریباً ایک فٹ کے فاصلے پر سامنے دروازہ تھا جو غالباً اٹیچ باتھ کا تھا۔
کمرے کی دیواروں پر pale green
کلر کے وال پیپر کمرے میں موجود چارکول گرے کلر کی الماری اور فرنیچر یعنی صوفے اور بیڈ کے ساتھ خوبصورت امتزاج پیش کر رہا تھا۔
×××××××××××××
نایاب نے خود کو اس انجان جگہ میں موجود پا کر اپنے ذہن پر زور ڈالا کہ آخر وہ یہاں کب اور کیسے پہنچی۔
پھر اسے یاد آیا کہ وہ تو اپنے دوست حماد کی برتھ ڈے پارٹی میں جانے کے لیے گھر سے نکلی تھی۔
وہ وائٹ کلر کی سلیولیس نیٹ کی lace ٹاپ ، ڈارک بلو جینز کے ساتھ پہنے،،
ڈارک میک اپ کیے تیار ہوئی تھی۔
اور اس کے بعد وہ راستے میں ایک مال میں جانے کے لیے گ
رکی تھی۔۔۔۔
اور وہاں سے حماد کے لیے برینڈڈ پرفیوم اور ایک انتہائی مہنگی ٹی شرٹ گفٹ کے طور پر خرید کر پیک کروا کر مال سے نکلی تھی،،
اور کار اسٹارٹ کر کے restaurant کی طرف بڑھی تھی ،،
جہاں حماد کی برتھ ڈے کی پارٹی ہونی تھی،،
اور جب وہ راستے میں تھی تو اچانک اس کی کار پنکچر ہوئی،،
وہ دیکھنے کے لیے باہر نکلی تو کسی نے پیچھے سے آکر اس کے منہ پر رومال رکھا تھا اور اس کے بعد اب وہ یہاں اس روم میں اس بیڈ پر ترچھی ہوکر پڑی تھی۔
××××××××
اب اس کا دماغ اچھی طرح بیدار ہو گیا تھا،،
“”اسے کڈنیپ کیا گیا تھا،،””
جیسے ہی یہ بات اس کی سمجھ میں آئی وہ بری طرح کانپ گئی،،
اوپر سے وہ جتنی بولڈ، بے باک اور کانفیڈینٹ دکھتی تھی۔۔۔۔
اندر سے وہ اتنی ہی ڈرپوک اور کمزور تھی،،
ہر انسان کی طرح یا شاید باقی لوگوں سے کہیں زیادہ اسے موت سے خوف آتا تھا۔
وہ نازوں میں پلی امیر باپ کی بگڑی اولاد، ذرا سی چوٹ پر ہی اس کا کلیجہ منہ کو آجاتا تھا۔
اسے لگا کہ اسے تاوان کے لیے اغواہ کیا۔۔۔ گیا ہے،،
اور ساتھ میں اس نے سوچا کہ اکثر اغواہ کار تاوان وصول کرنے کے بعد بھی قتل کر دیا کرتے ہیں،،،
اور یہ سوچتے ہی اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔۔
وہ اپنی مری مری،، لرزتی ہوئی آواز میں اپنی پوری طاقت لگانے کے باوجود چیخنے کی ناکام کوششیں کرتے ہوئے “ہیلپ ہیلپ” چلا رہی تھی۔
وہ بہت مشکل سے چلتی ہوئی دروازے تک آئی جو شاید باہر سے ہی لاک تھا،،
اس نے ہمت کر کے دروازہ پیٹنا شروع کیا۔
“پلیز مجھے باہر نکالو،،، پلیز مجھے باہر نکالو!!!” وہ اب نسبتاً تیز آواز میں شور مچا رہی تھی،،
اور مسلسل دروازہ بھی پیٹ رہی تھی۔
اسے ایسے روتے ، چیختے ، چلاتے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا،،
وہ وہیں ابھی تک کھڑی دروازہ پیٹ رہی تھی کہ اسے تیزی سے لاک کھلنے کی آواز آئی۔۔۔
اور وہ یکدم ذرا سائیڈ پر ہو کر پیچھے ہوئی،،
اگر وہ فوراً ایسا نہ کرتی تو یقیناً وہ دروازہ اس کے منہ پر ایسے لگنا تھا کہ اسکی شکل بگڑ جاتی،،
×××××××
سامنے کھڑے غصے سے پاگل ہوتے شخص کو دیکھ کر اس کی ہوائیاں اڑ گئیں۔
“روحان بھائ۔۔۔آپ۔۔۔؟؟” نایاب کے آنسو اب تھم چکے چکے تھے،،
خوف تو اسے ابھی بھی آرہا تھا،،
بلکہ پہلے سے بڑھ گیا تھا لیکن اس خوف کی نوعیت اب بدل چکی تھی۔
نایاب کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی،،،
روحان کی سرخ پڑتی آنکھوں میں ٹھہرا غیظ اور تکلیف،،،
نایاب کی تشویش میں اضافہ کر رہے تھے۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی یا سوچتی،،
روحان نے اس کے نرم و نازک سفید بازوؤں میں اپنی انگلیاں سختی سے پیوست کرتے ہوئے دیوار کی طرف لا کر پٹخا،،
نایاب ڈر سے کانپتی ہوئی رحم طلب نظروں سے روحان کی طرف دیکھ رہی تھی۔
جبکہ روحان کے چہرے پر رقم نفرت، غصب اور انتقام کے تاثرات نایاب کو یہ یقین کرنے پر مجبور کر رہے تھے،،
کہ آج کے دن اس پر کوئی رحم نہیں ہونے والا۔
مگر پھر بھی کسی موہوم امید کے تحت نایاب اس کے سامنے گڑگڑائی،،
“خدارا مجھے جانے دیں۔۔ ررروحان بھائی۔۔!!”😪
“خبر دار جو تم نے مجھے بھائی کہا۔۔۔”😠😠
روحان نے اپنے ایک ہاتھ سے اسکا منہ پکڑ کر اس کے جبڑوں پر اپنی گرفت سخت کر کے اپنی بھاری آواز میں دھاڑا۔
“تم جیسی غلیظ لڑکی میری بہن نہیں ہو سکتی،،،
اور تم نے جو اپنے غلاظت بھرے وجود میں موجود غلیظ دماغ سے بنے گھٹیا منصوبوں کے ذریعے بدنامی کی گندی کیچڑ میرے کردار پر اچھالی ہے نا۔۔
اس کا انجام اب تم ساری زندگی بھگتو گی۔۔۔!!”
روحان کا یہ کہنا تھا کہ نایاب کی روح تک اس کی دھمکی سے دہل گئی،،
“آپ ککک۔۔ کیا کرنے والے ہیں؟”
نایاب نے لڑکھڑاتی آواز میں ہکلاتے ہوئے پوچھا۔
“وہی جو تم نے کیا ہے،،
میں تمہیں کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑوں گا،،
تمہارے لگائے گئے جھوٹے الزامات کو سچ میں تبدیل کروں گا،،
اور جیسے تم نے مجھے میری ساری فیملی کے سامنے گندا کیا ویسے ہی تمہیں تمہاری ساری فیملی کے سامنے گندا کروں گا ،،” روحان چنگھاڑا،،
جبکہ نایاب کو تو بس اب دنیا اندھیر ہوتی نظر آئی۔
“دیکھیں پلیز ،، مجھے معاف کر دیں ،،
I’m really sorry..
I apologise..
Please forgive me…
میں سب کو سچ بتادوں گی،،
میں آپ کی پوزیشن clear کر دوں گی،،
Please let me go..!!
نایاب بری طرح کانپ رہی تھی اور التجائیں کر رہی تھی،،
لیکن سامنے کھڑے شخص پر کوئی اثر نہیں ہورہا تھا۔۔
اور ہونا بھی نہیں تھا۔۔
اور وہ ہنوز اسے اپنی نفرت ٹپکاتی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہا تھا۔۔
وہ اس کے بے حد قریب کھڑا تھا ،،
اتنا کہ اس کی گرم دہکتی سانسیں نایاب کو اپنے ٹھنڈے پڑتے چہرے پر آگ کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
” تم کہیں نہیں جا سکتی فی الحال،،
سکون سے یہیں بیٹھی رہو،،
اور انتظار کرو میرا،،
تمہیں تڑپانے کا لائف ٹائم permit چائیے مجھے،،
تم سے نکاح کر کے ۔۔ میں تمہیں ایسا سبق سکھاؤں گا کے تم لمحہ لمحہ کسی بے قصور پر لگائے گئے الزام کی سزا اب ساری زندگی بھگتو گی۔۔
میں تمہاری ہر خواہش، ہر پسند کو روند کر تمہیں سزا دوں گا،،
جس تحقیر اور ذلت سے میں گزرا ہوں ۔۔ تمہیں بھی گزرنا ہوگا ۔۔
اپنی اس منحوس شکل کو دھو کر آؤ،،
آئیندہ اس پر مجھے ذرا سا بھی میک اپ نظر آیا تو تمہارے لیے بہت برا ہوگا،،
پتہ نہیں کس کس کو لبھانے کے لیے اپنے آپ کو ایسے تیار کرتی ہو۔۔!!” ۔۔
وہ انتہائی حقارت سے اسے یہ سب کہتے ہوئے،، ایک جھٹکے سے اس کے بازو چھوڑ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔
اور ساتھ میں ہی دروازہ پھر سے لاک کر دیا۔
×××××××××
اب وہ وہیں گرتی ہوئی زمین پر بیٹھی اپنے مستقبل کا سوچ کر رو رہی تھی،،
کہ نجانے اس کے ساتھ کیا ہوگا،،
اب وہ سہی سے پچھتا رہی تھی کہ آخر اس نے روحان سے پنگا لیا ہی کیوں!!
اور شادی۔۔ تو وہ اپنے بوائے فرینڈ حماد سے کرنا چاہتی تھی ۔۔جس کے کہنے پر ہی نایاب نے وہ کیا کہ جس کی وجہ سے وہ آج اس حالت میں تھی،، اس بات سے انجان کہ اس کا بوائے فرینڈ صرف اس کے ساتھ ٹائم پاس کر رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس مشکل کے لمحے میں بھی اس نے الله کو ایک دفع نہیں پکارا،،
اس کے گھر اور سوسائٹی کا کلچر ایسا ہی تھا،، دین اور دین کے احکامات سے بہت دور،، اللّٰه کی یاد سے بہت دور۔۔
خیر اب جو اس کے ساتھ ہو نے جا رہا تھا اس سے رہائی کے لیے پہلا اور آخری سہارا صرف الله کا اور ابھی وہ یہ بات نہیں جانتی تھی کہ اس کا مشکل کشا ، اس کا رب،، اس کا اللّٰه ، اس کی شہ رگ سے زیادہ نزدیک ہے۔
ابھی اسے اپنا تعلق اپنے رب سے جوڑ نے کے لیے بہت وقت باقی تھا،،

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: