Mujhe Tera Har Zulm Qabool Novel By Suhaira Awais – Episode 10

0
مجھے تیرا ہر ظلم قبول از سہیرا اویس – قسط نمبر 10

–**–**–

وہ سرعت سے اپنی جگہ سے اٹھیں۔۔ اور نایاب کو زور دار تھپڑ رسید کر نے کے لیے۔۔اپنا ہاتھ ہوا میں اٹھایا۔۔
روحان نے پھر سے ان کا یہ بڑھا ہوا ہاتھ۔۔ نایاب کے چہرے تک پہنچنے سے روکا۔
“یہ آپ کیا کر رہی ہیں۔۔؟؟ کوئی بات کیے بنا۔۔ فضول میں ہاتھ اٹھا رہی ہیں۔۔” روحان نے بہت افسوس سے اپنی ممانی کی طرف دیکھ کر کہا۔
نایاب کو اس بار کوئی حیرت نہیں ہوئی۔۔
اسے اندر ہی اندر یہ یقین تھا۔۔
کہ وہ اسے مزید ذلیل نہیں ہونے دے گا۔۔
نجانے کیوں۔۔!!
اس پر اعتبار کرنے لگی تھی۔
روحان کے روکنے پر نایاب کی مام کا غصہ ایک دم اور بڑھ گیا۔۔
“روحان۔۔!! یہ وہی ہے نا؟؟ جس نے تمہیں تمہارے خاندان کے سامنے ذلیل کیا تھا۔۔۔؟؟ تو تم کیوں اسکی اتنی طرف داری کر رہے ہو۔۔ کہیں تم دونوں ہی تو آپس میں نہیں ملے ہوئے۔۔؟؟” مام نے اپنی ایک آنکھ کی ابرو اچکاتے ہوئے۔۔ انتہائی زہریلا طنز کیا۔
“پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ میرے ساتھ جو کچھ بھی کرتی ہے۔۔ اور میں اسے کے لیے جو کچھ بھی کرتا رہوں۔۔ یہ میرا اور اس کا مسئلہ ہے۔۔آپ کو ہمارے پرسنل معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔”
“اور دوسرا یہ کہ میں اپنے ماما، بابا کو یہاں ہی بلا لیتا ہوں۔۔ میں نے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔۔اصل میں کچھ باتیں کلئیر کرنی ہیں۔۔ جن کا جاننا سب کے لیے بہت ضروری ہے۔۔”
“میں انہیں بلا کر لاتا ہوں۔۔ تب تک آپ نایاب کو ٹچ بھی نہیں کریں گی۔۔” روحان سختی سے تنبیہ کرتا ہوا واپس دروازے کی طرف بڑھا۔
مام انتہائی طیش کے عالم میں۔۔ نایاب کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
نایاب اب بہت گھبرا رہی تھی۔۔ اور دل میں بار بار “حسبی اللّٰه، حسبی اللّٰه”(میرے لیے اللّٰه کافی ہے) پکار رہی تھی۔
پتہ نہیں کہاں سے یہ لفظ اس کے ذہن میں آگیا۔۔ اور وہ بار بار اپنی بے ربط سانسوں۔۔ تیزی سے دھڑکتے دل۔۔ کو انہی الفاظ سے سہارا دے رہی تھی۔
اس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی یہ لفظ۔۔اپنی زبان سے ادا نہیں کیے۔۔ شاید اس نے یہ الفاظ کہیں سنے تھے۔۔
پھر بھی اس لمحے۔۔ اس کی لاشعوری قوتیں۔۔اسے بار بار اسے انہی الفاظ کو پکارنے پر مجبور کر رہی تھیں۔۔
اور جب انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ اس کے لیے اللّٰه کافی ہے۔۔ تو نہ ہی کسی کا کوئی خوف رہتا ہے اور نہ ہی اسے کسی اور سہارے کی ضرورت باقی رہتی ہے۔
تھوڑی دیر میں روحان اپنی ماما کے ساتھ دوبارہ وہاں موجود تھا۔۔
اس کے بابا بھی روحان کے بابا بھی ان دو دونوں ماں بیٹے کے آنے کے پانچ منٹ بعد آئے۔۔
ان کا موڈ بھی بہت سنجیدہ اور سخت تھا۔
نایاب کی مام ابھی تک تلملائی ہوئی تھیں۔۔ جب کہ اس کے ڈیڈ خاموشی سے سارا تماشا دیکھ رہے تھے۔۔ان دراصل عادت تھی کہ وہ مکمل معاملہ جانے بغیر react نہیں کرتے تھے۔۔ سو اس لیے نایاب اب تک ان کے قہر اور غصے سے بچی ہوئی تھی۔
سب کے سب لوگ اب روحان کا منہ تک رہے تھے۔۔
وہ اس کی بات شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔
“اب بکو بھی۔۔!! جو کہنے کے لیے سب کو اکھٹا کیا ہے۔۔”نایاب کی مام نے بہت بے ہودہ لہجے میں روحان کو مخاطب کیا ۔۔۔ وہ غصے سے بھری بیٹھی تھیں۔
“نایاب۔۔!!” روحان نے ایک سخت نگاہ نایاب کی مام پر ڈالتے ہوئے نایاب کو مخاطب کیا۔
“جی۔۔!!” نایاب نے سہم کر جواب دیا۔
“بتاؤ ان سب کو اس الزام کے متعلق۔۔ جو تم نے مجھ پر لگایا تھا۔!!” اس نے تلخی سے اسے آرڈر دیا۔
نایاب جو یہ سمجھ رہی تھی کہ شاید وہ اس کی مام کی غلط فہمی کو لے کر کوئی بات کرے گا۔۔ اسے دور کرنے کی کوشش کرے گا۔۔یا اپنا اور اس کا نکاح ڈیکلیئر کرے گا۔۔۔
اسے روحان کی بات سن کر دھچکا سا لگا۔۔
یعنی وہ شخص صرف اور صرف اپنے متعلق سوچ رہا تھا۔۔
اس کے لیے صرف اس کی اپنی ذات معنی رکھتی تھی۔۔
اور وہ اس سے یہ امید لگا کر بیٹھی تھی کہ شاید وہ اس کے حق میں کوئی بات کرے گا۔۔ مگر اس کے لیے اہمیت تھی تو فقط اس کی اپنی ذات کی۔۔نایاب اچھی خاصی بدگمان ہو گئی تھی۔۔
“آج نہیں تو کل۔۔ سب کو سچ پتہ چلنا تھا۔۔ پھر ابھی کیوں نہیں۔۔ غلطی کی ہے تو بھگتنا بھی ہو گا۔۔” نایاب کا ضمیر اس کے ذہن پر ایسی سوچیں مسلط کر رہا تھا۔۔
پر اب بھلا وہ کیا کر سکتی تھی۔۔
سو اس نے ہتھیار ڈالتے ہوئے تمام معاملہ سب کے گوش گزار کرنے کا فیصلہ کیا۔
وہ اپنے اندر بہت سی ہمت اور حوصلہ جمع کرتے ہوئے۔۔ اپنا تمام کیا دھرا سب کو بتانے لگی۔۔
اس نے تفصیلاً۔۔پوری بات بتائی کہ اس کا حماد کے ساتھ دوستی کے علاوہ bf,gf ریلیشن تھا۔۔
پتہ نہیں کیوں پر روحان نے یہ کہ کر کہ “وہ اچھا لڑکا نہیں ہے”۔۔
مجھے اس سے دور رہنے اور دوستی ختم کرنے کا کہا۔۔
میں نے یہ بات جب حماد کو بتائی تو اس نے مجھے ایموشنل کر کے۔۔
روحان سے اپنے کوئی پرانا بدلہ لینے میں میری ہیلپ مانگی۔۔
اور جب اس دن وہ اس کے مام ڈیڈ کے پاس۔۔
حماد کے ساتھ میرے ریلیشن کو ختم کرنے اور مجھے اس سے دور رکھنے کی بات کرنے آیا تھا۔۔
تو میں نے حماد کی دی ہوئی وہ گندی پکچرز۔۔جو دیکھنے میں روحان کی ہی لگ رہی تھیں اور بالکل فیک تھیں۔۔ edited تھیں ،، اس کے کہنے پر وہ آپ سب کو لا کر دکھائیں۔۔
اور وہ میرے ساتھ زبردستی کرتے والا الزام بھی جھوٹا تھا۔۔
انہوں نے اس وقت تک میرے ساتھ کچھ ایسا ویسا کرنے کا سوچا بھی نہیں تھا۔
نایاب نے بہت مشکل سے۔۔ سسکیاں بھرتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔۔
اور وہ ایک مرتبہ پھر۔۔ بہت شرمندگی کا سامنا کررہی تھی۔۔
اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ کسی سے نظریں ملا پائے۔۔
سب اس پر اپنی اپنی قہر آلود نظریں گاڑھے ہوئے تھے۔۔
اس کی مام ڈیڈ کا سر بھی شرم سے جھکا ہوا تھا۔۔
روحان کے ڈیڈ بھی اپنے بیٹے پر اعتبار نہ کرنے کے جرم میں الگ شرمندہ تھے۔۔
جبکہ نایاب کی پھوپھو یعنی روحان کی ماما۔۔
بپھری ہوئی نایاب کی طرف دوڑیں۔۔ اور زور سے اسے گریباں سے کھینچ کر۔۔اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔
“میرا بیٹا ہی ملا تھا تمہیں الزام لگانے کے لیے۔۔
بے غیرت لڑکی۔۔!! شرم نہیں آئی تمہیں۔۔ اتنا غلیظ الزام لگاتے ہوئے۔۔؟؟ ہاں۔۔ بولو؟؟” روحان کی ماما بری طرح چلا رہی تھیں۔۔
کوئی انہیں چپ کروانے اور روکنے کے لیے آگے نہیں بڑھا سوائے روحان کے۔۔
روحان بھی عجیب تھا۔۔
خود ہی اس پر اٹھنے والے طوفان کی وجہ بنتا تھا اور خود ہی اپنے لائے طوفان کو قابو کرنے کے لیے آگے بڑھتا۔
روحان اپنی ماما کا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔جس سے انہوں نے اب نایاب کا گریبان پکڑا تھا۔۔۔
نایاب کو روحان کے اس دوغلے رویے پر بہت غصہ آیا۔۔
“کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ۔۔ یہ کیوں ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔۔ کیوں روک رہے ہیں پھوپھو کو۔۔!! مارنے دیں انہیں مجھے۔۔ آپ یہی سب تو چاہتے ہیں۔۔ پھر کیوں انہیں روک رہے ہیں۔۔!!”
نایاب اپنی پوری قوت سے چیخ رہی تھی۔۔۔۔
ایک دم اس کے اتنے شدید ری ایکشن سے خوفزدہ ہوتے ہوئے۔۔ اس کی پھو پھو اس سے دور ہٹ گئیں۔۔
نایاب ان کی طرف لپکی۔۔ اور ان کے دونوں ہاتھ جکڑ کر اپنے گریبان تک لائی۔۔
“ماریں مجھے آپ۔۔ ماریں۔۔ میرا حق بنتا ہے اس ذلت پر۔۔” وہ بہت تڑپے ہوئے انداز میں کہنے لگی۔۔
نایاب کی مام ایک دفع پھر اس کی طرف لپکیں اور اس کا گلا دبوچ لیا۔۔
“سہی کہ رہی ہو تم۔۔ تمہارے جیسی اولاد کو تو بندہ زندہ دفن کر دے۔۔”
روحان کو اب معاملے کی سنگینی کا احساس ہو رہا تھا۔
اسے اس دفع ۔۔ اس کی مام سے اسے چھڑانے میں بہت مشکل ہوئی۔۔کیونکہ انہوں نے سختی سے اس کا گلا دبوچا ہوا تھا۔
روحان نے ایک جھٹکے سے اپنی ساس صاحبہ کو اپنی بیوی سے دور کیا۔
اور اسے اپنے سینے سے لگایا۔۔
“”خبردار جو اسے اب کسی نے ہاتھ لگایا۔۔ میری بیوی ہے یہ۔۔ میں اس کو اس کے کیے کی سزا۔۔ اس کے جرم سے بڑھ کر دے چکا ہوں۔۔ اور اب اس کے ساتھ کوئی زیادتی برداشت نہیں کروں گا۔”” روحان کو آخر اس پر ترس آ ہی گیا تھا۔۔
اس لیے اس نے سب کو سچ بتادیا۔۔۔
شاید وہ تک چکا تھا اس لڑکی کو تکلیف دیتے دیتے۔۔
جس میں اس کی سانسیں بستی تھیں۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: