Mujhe Tera Har Zulm Qabool Novel By Suhaira Awais – Episode 2

0
مجھے تیرا ہر ظلم قبول از سہیرا اویس – قسط نمبر 2

–**–**–

ابھی اسے اپنا تعلق اپنے رب سے جوڑ نے کے لیے بہت وقت باقی تھا،،
💔💔💔💔💔
تھوڑی دیر بعد دروازہ ان لاک ہونے کی آواز پر وہ سیدھی ہو کر بیٹھی،،
روحان اندر داخل ہوا،،
وہ ابھی تک یہ امید کر رہی تھی کہ شاید وہ اسے بخش دے گا،،
وہ اپنی ایک آخری فریاد،،
ایک آخری التجاء کرنے کے لیے اس کے قدموں میں گر گئ،،
وہ اس کے پیر پکڑ کر اس سے درخواستیں کرنے لگی کہ وہ اسے بخش دے،،
اسے چھوڑ دے،،
اسے جانے دے،،
یوں بھی جو لوگ الله کہ ہاں سجدوں سے انکار کرتے ہیں،،
اس کے احکامات کا مذاق بناتے ہیں وہ پھر ساری دُنیا کے سامنے مذاق بن جاتے ہیں،،
اور ساری دُنیا کے سامنے بھی نہیں تو کم سے کم ایسے لوگوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ،،،
وہ بالکل فالتو اور سستے ہو جاتے ہیں،،
“چھوڑو میرے پیر،، اور دفع ہوکے یہ برائیڈل ڈریس پہن کر آؤ،”
روحان نے ایک ہاتھ سے اس کا بازو پکڑ کر اس کے ہاتھ اپنے پیروں سے ہٹائے اور حقارت سے خود سے الگ کر کے دور پھینکا
اور ساتھ ہی دوسرے ہاتھ میں موجود ڈریس اس کے سامنے پھینکا اور غصے سے پھنکارتا ہوا باہر چلا گیا،،
اس بار اس نے ڈور لاک نہیں کیا۔
××××××××
جب وہ واپس روم آیا تو وہ اس کی ہر ہدایت پر عمل کیے ،،
وہاں صوفے پر بیٹھی،،
اپنے ہاتھوں میں چہرہ گرائے اپنی بری قسمت کو رو رہی تھی،،
اس کے ڈریس کا دوپٹہ ویسے ہی نیچے زمین پر دھرا تھا،،
شاید میں پہلی مرتبہ اس نے فل سلیوز والا ڈریس پہنا تھا،،
ورنہ اس لبرل لڑکی کی واڈروب میں کوئی ڈریس ، کوئی ٹاپ یا کوئی ٹی شرٹ ایسی نہیں تھی کہ جس کی سلیوز فل ہوں،،
روحان نے دوپٹہ یوں نیچے پڑا دیکھ کر اس کی طرف زور سے پھینکا،،
وہ بھاری کام والا دوپٹہ تھا،، اور جس طرح اس نے پھینکا تھا وہ اس کے چہرے کے آگے موجود ہاتھوں پر زور سے لگا اور ہاتھ پر ہلکی سی دو خراشیں آگئیں،،
نایاب نے سٹپٹا کر چہرے سے ہاتھ ہٹا کر دیکھا تو وہ ظالم سامنے کھڑا،،
اپنی قہر زدہ نظریں اس پر ہی گاڑھے ہوئے تھا،،،
وہ اس کے غصیلے چہرے پر اپنے لیے آیا حکم سمجھتے ہوئے وہ دوپٹہ پہن کر اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی،،
اس کے لیے اس قدر مکمل اور با حیا لباس کسی گالی سے کم نہیں تھا،،
وہ اسے اپنی تضحیک و تحقیقر سمجھ رہی تھی،،
روحان اس کے قریب آیا اور اس کی کلائی وحشیانہ انداز میں پکڑ کر باہر آیا جہاں نکاح خواں اور اس کے چند دوست بطور گواہ موجود تھے،،
×××××
نکاح ہو چکا تھا اور سب مہمان بھی جا چکے تھے،،
اب وہ اپنے اس اپارٹمنٹ میں نایاب پر اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے آزاد تھا،،
وہ اسے واپس اپنے انتہائی وحشیانہ انداز میں بازو پکڑ کر کمرے میں لے کر گیا اور درندگی کی ساری حدیں پار کر کے اپنے فرائض زوجیت ادا کر کے اس کی نازیبا حالت میں بہت سی پکچرز بھی بنا چکا تھا،،
پھر اسے واپس وہ ڈریس چینج کر کے وہ ڈریس پہننے کو بولا جو وہ گھر سے پہن کر آئی تھی،،
وہ چینج کر کر آئی تو اس کے بازوؤں پر چھپے روحان کے ناخنوں سے نوچنے اور دانتوں سے کاٹنے کے نشان اس پر کی گئی درندگی کا ثبوت پیش کر رہے تھے۔
روحان نے اسے اس کی گاڑی کی چابی تھمائی اور اس کی گاڑی تک چھوڑنے کے لیے ساتھ آیا۔۔
“اگر تم نے کسی کو اس نکاح یا میرے متعلق کچھ کہا تو تمہاری ساری پکچرز انٹرنیٹ پر اپلوڈ کردوں گا ، پھر تم اپنی فیملی کے سامنے تو کیا ساری دنیا میں مذاق بن کر رہ جاؤ گی۔”
اس نے سختی سے اپنے نکاح کو راز رکھنے کی تلقین کی،،
وہ جانے لگا تو،، نایاب نے اسے پکارا۔۔۔۔”روحان”
اس نے غصے سے پھٹنے والی آنکھیں لیے اس کی طرف دیکھا،،
“کیا مسئلہ ہے؟؟” اس نے اپنے لہجے کو حتی المقدور سخت رکھا۔
“پلیز مجھے اپنی جیکٹ دے دیں،،
اس حالت میں میں ایسے نئی جا سکتی،،”
اس نے اپنی دکھ، تکلیف، احساس تحقیر سے آنکھوں میں آنے والے آنسوؤں کو روکنے کی ایک ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا۔
روحان نے اس کی بات سمجھتے ہوئے اپنی jacket اس کے حوالے کی،،
کئی گھنٹوں سے اسے اپنی حقارت اور انتقام کا نشانہ بنانے والے شخص نے نجانے کیوں اس بار اس کے صرف ایک دفعہ کہنے پر ہی اسے اپنی جیکٹ تھما دی۔
شاید جن آنسوؤں کی وہ کافی دیر سے وہ وجہ بنا ہوا تھا اب وہ اس سے دیکھے نہیں گئے،،
ہاں،، اس کے دل کو ہی تو کچھ ہوا جو اس نے فوراً اس کی بات مان لی تھی،
وہ ویسے بھی فطرتاً اتنا سفاک نہیں تھا ۔۔
بس نایاب کی اس انتہائی گری ہوئی حرکت نے اسے اشتعال دلایا تھا۔
وہ اس سے اپنا بہت حد تک بدلہ لے چکا تھا،،
یا شاید اس کے جرم سے زیادہ ہی سزا دے چکا تھا لیکن اب بھی اسے لگتا تھا کہ اس کا انتقام تو شروع ہوا ہے،،
اس لیے اس نے اپنے دل میں نایاب کے لیے کوئی نرم جزبہ پنپنے نہ دیا۔
پر اس کے کچھ کرنے یا نا کرنے سے کیا ہوگا۔۔
اسے جب بھی محبت ہونی ہوگی ہو جائے گی اور ہو کر رہے گی،،
××××××××××
نایاب اپنے گھر گئی تو حسب توقع و معمول ، کوئی بھی اس کے رات دو بجے گھر واپس آنے کی باز پرس کرنے والا نہیں تھا،
مام ڈیڈ اپنے روم میں سو رہے تھے،،
بڑی بہن “سیما” اسکی married تھی اور آؤٹ آف سٹی رہتی تھی اور اس سے پانچ سال چھوٹا بھائی دانیال۔۔ وہ اپنے روم میں اپنی کسی gf کے ساتھ ویڈیو کال میں مشغول تھا۔
سو۔۔ وہ چپ چاپ اپنے روم میں گئی ،، شاور لیا،،
اور آکر بیڈ پر لیٹ گئی،،
اس نے اپنی camisole نما شرٹ سے جھلکتے بازوؤں کو چھو کر اپنے آج کے گزرے دن کی یاد تازہ کرنے لگی،،
آنسو تھے کہ اپنی بدقسمتی پر آنکھوں میں ٹھہرنے سے قاصر تھے سو بہ نکلے،،
اتنی تذلیل ، ظلم اور بدتمیزی اس کی آج تک کسی نے کہی تھی،،
اس نے سوچا تو یہ تھا کہ وہ روحان کی ایک ایک حرکت کے متعلق اپنے مام ڈیڈ کو بتائے گی،،
لیکن اس کی دھمکی کا سوچ کر وہ کانپ کر رہ گئی اس نے اپنی سوچ وہیں ملتوی کر دی۔
اسے آج اپنے وجود تک سے کراہت محسوس ہو رہی تھی،،
اسے اس کا لباس زہر لگ رہا تھا،،۔۔
اسے آج پتہ چلا تھا کہ بے لباس ہونے کی ذلت کیا ہوتی ہے!!
پہلی مرتبہ اسے اپنے لباس کے نامعقول اور واحیات ہونے کا احساس ہوا۔
وہ جلد ہی شرم و حیا جیسے احساسات سے شناسائی حاصل کرنے والی تھی،،
پر ابھی تو وہ اپنے اوپر آئی مصیبت کے متعلق سوچ سوچ کر تڑپ رہی تھی،،۔۔
وہ جتنا شدت سے رو سکتی تھی رو دی۔۔
وہ انتہائی مایوس تھی ،، کیونکہ وہ نہیں جانتی تھی کہ الله نے ہر مشکل کے ساتھ آسانی رکھی ہے۔
اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ الله کی رحمتوں کے سامنے اس کے گناہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
لیکن اب تک تو اسے یہ احساس بھی نہیں ہوا تھا کہ وہ گناہگار ہے، نافرمان ہے اپنے رب کی،، وہ اس کے احکام کو مذاق سمجھتی رہی تھی،، مگر اب آگہی کا وقت بہت نزدیک تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: