Mujhe Tera Har Zulm Qabool Novel By Suhaira Awais – Episode 3

0
مجھے تیرا ہر ظلم قبول از سہیرا اویس – قسط نمبر 3

–**–**–

لیکن اب تک تو اسے یہ احساس بھی نہیں ہوا تھا کہ وہ گناہگار ہے، نافرمان ہے اپنے رب کی،، وہ اس کے احکام کو مذاق سمجھتی رہی تھی،، مگر اب آگہی کا وقت بہت نزدیک تھا۔
💔💔
یہ اس کی اب تک کی زندگی کی سب سے بھیانک اور تکلیف دہ رات تھی۔
اور جیسے تیسے رو دھو کر گزر چکی تھی،،
آخر رات کب کسی کے لیے رکتی ہے،،
اس نے تو دن کی روشنی میں سب راز فاش کرنے ہوتے ہیں،،
بہر حال،، وہ آج اپنے معمول سے ذرا دیر میں اٹھی تھی،،
وقت تقریباً دوپہر کے ایک بجے کا تھا،،
وہ دو مہینے پہلے ہی یونیورسٹی سے گریجویشن کر چکی تھی تب سے ہی اس کی روٹین صبح گیارہ بجے اٹھنے کی تھی،،
مگر آج اسکی روٹین ذرا ڈسٹرب ہو گئی تھی،،
ڈسٹرب تو اس کی زندگی میں اب بہت کچھ ہو چکا تھا،،
بلکہ اس کی آئندہ کی زندگی، خواب، مستقل ،، الغرض سب کچھ ہی نا قابل تلافی ، حد تک ڈسٹرب ہوا تھا۔
تو پھر یہ معمولی سی روٹین ڈسٹربینس اس کے لیے بھلا کیا معنی رکھتی،،
وہ فریش ہونے واشروم میں گئی تو سنک کے پاس نصب آئینے میں اپنی شکل دیکھ کر اس کے لیے یہ یقین کرنے مشکل ہو رہا تھا کہ یہ وہی ہے،،
کل کے بعد آج اس نے اپنی شکل اور حلیے کو اچھی طرح نوٹ کیا تھا۔
اس کے باب کٹ سٹائل میں کٹے ہوئے چھوٹے بال اب کہیں سے سٹائلش نہیں لگ رہے تھے۔
وہ اتنے چھوٹے تھے کہ اس کی بمشکل گردن بھی نہیں ڈھانپ سکے،،
اور اس کی tight شرٹ میں سے اس کے جھلکتے بازو اور کندھوں کا آدھے سے زیادہ حصہ اس پر بیتی درندگی کا قصہ بخوبی بیان کر رہے تھے،،
اب اس کے لیے ایک نئی مشکل تھی کہ وہ ان نشانات کو چھپائے کیسے۔۔!!
کیونکہ رات میں تو جیسے تیسے اس نے cover کر لیا تھا لیکن اب اس کے پاس،، اس کے summer ڈریس کولیکشن میں کوئی سلیوز اور چھوٹے گلے والا ڈریس نہیں تھا اور نہ ہی کو اسٹولر یا سکارف وغیرہ کہ جس کی مدد سے وہ اپنا آپ چھپا سکتی،،
وہ مردانہ ، کھلی اور بڑی جیکٹ بھی وہ دن کے وقت استعمال کرنے سے قاصر تھی،،
لیکن مرتی کیا نا کرتی کے مصداق اسنے اپنی loose سی کوئی ہاف سلیوز والی Cobalt بلو کلر کی ٹاپ ڈارک ریڈ کلر کے اسٹریٹ پینٹ ٹراؤزر کے ساتھ، ڈھونڈ کر پہنی،، وہ ٹاپ اس وقت اسے بہت بڑی غنیمت لگ رہی تھی،، اور انتہائی مجبوری کے تحت روحان کی جیکٹ پہنے ،، بغیر ناشتے کے ،، صرف اپنا والٹ اور کار کی کیز اٹھائے،، گھر سے باہر نکل آئی،،
اس کی مام گھر پر نہیں تھیں، غالباً اپنی کسی دوست کے ہاں لنچ پر انوائیٹڈ تھیں ، ڈیڈ ابھی تک آفس میں تھے اور دانیال جو کہ ایف-ایس-سی پری انجینئرنگ کے فرسٹ ائیر میں تھا،، وہ بھی ابھی تک کالج میں تھا،، اس لیے وہ ہر ممکنہ حد تک سب کے سوال و جواب سے بچ گئی۔
××××××××
وہ اپنی کار میں بیٹھی اور اسٹارٹ کر کے مال کی طرف نکل گئی،،
اسے یاد آیا کہ اس کی کار کا ٹائر تو کل پنکچر ہوا تھا، ۔ پر شاید وہ روحان نے ٹھیک کروادیا تھا،،
اسی لیے تو وہ رات میں بھی اپنی گاڑی پر ہی واپس گھر آئی تھی۔
اور اس کے ساتھ پھر سے بیتے دن کی تمام سفاکیت بھی اس ذہن اور شعور پر تازہ ہو گئی اور بے بسی کے چند آنسو اس کے نرم گالوں پر اپنا رستہ بنانے لگے،،
🍃🍃🍃💔💔💔💔
اس بار اس نے ethnic ڈریسز خریدے،،
اس نے سب کے سب بین گلے والے stitched کُرتے ہی لیے تھے جیسے اس کی بہن عموماً پہنتی تھی،،، اور ساتھ میں تین ، چار سٹولز بھی اپنی شاپنگ کارٹ میں ایڈ کیے۔
ان میں سے ایک کُرتا تو اس نے ٹرائنگ روم میں ہی جا کر چینج کر لیا تھا اور اب وہ سکون سے مال سے باہر نکلی۔
سچ ہے کہ جب ہم اپنے رب کے احکامات سے روگردانی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ایسے اسباب پیدا کرتا ہے کہ ہمیں اس کے کہے پر مجبوراً چلنا پڑتا ہے۔
اس نے شاپنگ بیگز کار کی بیک سیٹ پر رکھے اور ایک بیگ سے ایک سٹول نکال کر،، اسے اپنے گلے کے ارد گرد رسی کی طرح سکیڑ کر مفلر کی طرح لپیٹ لیا۔
وہ کار اسٹارٹ کر کے نکلی ہی تھی اور میں روڈ پر تھی،،
اس وقت سڑک پر ٹریفک بہت زیادہ تھی کیوں کہ سکول، کالجز اور دفاتر وغیرہ کی چھٹی کا وقت تھا۔
ٹریفک سگنل ریڈ تھا اس لیے اس نے کار روکی ہوئی تھی تبھی اس کا فون رنگ ہوا۔
اس نے دیکھا تو حماد کالنگ لکھا آرہا تھا۔
اس نے فون ریسیو کیا،،
حماد اس سے ناراض تھا کہ وہ اس کی برتھ ڈے پارٹی میں شامل نہیں ہوئی، اور وہ ناراضگی مصنوعی تھی بالکل نایاب کے ساتھ اس کے تعلق کی طرح۔
نایاب اس سے سوری کر رہی تھی،،
پر وہ نہیں مان رہا تھا اور جھوٹی ناراضگی جتا رہا تھا،، اس کی ان سب جھوٹی ڈرامے بازیوں کا کا نایاب کو قطعاً علم نہیں تھا۔
بہر حال سگنل گرین ہو چکا تھا،،
وہ جلد از جلد فون رکھنا چاہتی تھی،،
کیونکہ فون سننے کے ساتھ ساتھ اسے ڈرائیونگ میں مشکل سے ہوتی تھی،
اس لیے اس نے کہا کہ “ابھی میں روڈ پر ہوں کار ڈرائیور کر رہی ہوں تم میکڈونلڈز پہنچو، وہاں بات ہوگی، میں ویٹ کر رہی ہوں۔”
“اوکے”حماد نے جواب دیا اور ساتھ میں فون بھی آف کر دیا،
اب نایاب پوری توجہ سے ڈرائیو کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ذہن بار بار بھٹک کر کل والے واقعے کی طرف جا رہا تھا،،
وہ ریلیکس ہونا چاہتی تھی اور اکثر اس کا حماد سے بات کرکے دل بہل جایا کرتا تھا،،
ویسے دیکھا جائے تو نایاب کی طرف سے بھی اس کے حماد کے ساتھ کے تعلق کی نوعیت زیادہ گہری نہیں تھی لیکن پھر بھی نایاب اس کے ساتھ sincere تھی،،
لیکن اب اس کے کسی بھی تعلق کی اس کے اور روحان کے مابین رشتے کے سامنے کوئی وقعت نہیں تھی۔
😩😒😒⚡⚡
وہ ریسٹورنٹ پہنچ کر ایک کارنر سائڈ ٹیبل پر بیٹھی
حماد کا انتظار کر رہی تھی،،
اس نے ایک سانس اندر کھینچ کر خود کو relax کرنے کی کوشش کی۔
اور مسکراہٹ کے ساتھ حماد کو Hi بول کر ویلکم کیا۔
حماد اس کی یہ نئی look دیکھ کر شاکڈ تھا پر یہ سوچ کر خاموش رہا کہ شاید نایاب کوئی نیا گیٹ اپ ٹرائ کرنے کا ایڈوینچر کر رہی ہو،،
آج نایاب نے اس ڈیشنگ پرسنیلٹی والے حماد کی طرف حسرت سے دیکھا کہ کبھی جس کے ساتھ اس نے اپنے دل ہی دل میں پوری زندگی پلین کر رکھی تھی اب وہ اس کا کبھی نہیں ہوسکتا تھا۔
دونوں نے اپنی اپنی پسند کا لنچ آرڈر کیا،، اور باتوں میں مشغول
💔💔💔
حماد نے اس سے کل پارٹی میں شامل نہ ہونے کی وجہ پوچھیں تو روحان کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی وہ کل والا سارا واقعہ حماد کو بتا چکی تھی،
آخر وہ اس سے چھپاتی بھی کیوں!!!
حماد کی وجہ سے تو یہ مصیبت گلے پڑی تھی،،
وہ دونوں آمنے سامنے ٹوسٹر صوفوں پر بیٹھے تھے کہ جب وہ اپنی کل والی روداد سنا رہی تھی،،
آخر کو جب اس کا ضبط ٹوٹا تو وہ رونے لگی،،
“حماد۔۔!! پلیز مجھے اس عذاب سے بچالو۔۔!!” وہ روتے ہوئے کہ رہی تھی،،
حماد اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے قریب آکر بیٹھ گیا،، اور اسے سینے سے لگا کر تسلی دینے لگا کہ “چپ کر جاؤ،، شاباش۔۔ رونا نہیں،، میں کچھ کرتا ہوں تمہارے لیے،،” اب یہ کون جانے کہ حماد کی ساری ہمدردی show off تھی،،
وہ خود اس سے بریک اپ کرنا چاہتا تھا اور اب شکر کر رہا تھا کہ اس کی جان چھوٹ گئی نایاب سے،،
گریجویٹ تو وہ بھی ہوچکا تھا اور اب اپنے بابا کا بزنس سنبھالنے والا تھا،،
اوپر سے اس کی ممی نے اس کی کزن کے ساتھ بات بھی فکس کر رکھی تھی،، عنقریب اسکی انگیجمنٹ بھی ہونے والی تھی،،
نایاب اس بات سے بے خبر کے روحان بھی وہیں موجود ہے اور کافی دیر سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہے،، ابھی تک اس کے سینے سے لگی آنسو بہا رہی تھی،،
روحان دراصل سائیڈ بزنس کے طور پراپرٹی کا بزنس کرتا تھا اور اسی سلسلے میں وہاں اپنے کلائنٹ میٹنگ کے لیے موجود تھا،،
ویسے تو اسکا،، اسکے ماموں کے ساتھ پارٹنرشپ پر ایک بہت بڑا شاپنگ مال بھی تھا لیکن پراپرٹی ڈیلنگ اس کا ذاتی شوق تھا،، اور وہ اسے بھی اپنا پروفیشن بنائے زندگی گزار رہا تھا،،
🍃🍃🍃🍃🍃
کلائنٹ کے جانے کے بعد وہ غصے میں اپنی جگہ سے اٹھا اور نایاب کی طرف بڑھا،،
اس نے ان کی ہلکی پھلکی گفتگو،، کم فاصلے اور اپنے ایکٹیو کانوں کی وجہ سن لی تھی،،
جسکی وجہ سے اس کا طیش مزید بڑھ گیا،،
اب حماد اور نایاب اس کی طرف متوجہ تھے اور وہ ایک دوسرے سے الگ ہوئے کیوں کہ وہ اچانک ان کے سامنے آکر دھپ سے بیٹھ گیا،،
اس کی انگارہ ہوتی آنکھیں نایاب کو اندر تک خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھیں۔
حماد نے تو روحان کے تیور دیکھ کر وہاں سے کھسکنے کی کوشش کی تو روحان بھی اس کے پیچھے لپک گیا،،
جبکہ نایاب کی تو اپنی جگہ سے ہلنے کی ہمت ہی نہیں تھی،،😬

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: