Mujhe Tera Har Zulm Qabool Novel By Suhaira Awais – Episode 4

0
مجھے تیرا ہر ظلم قبول از سہیرا اویس – قسط نمبر 4

–**–**–

جبکہ نایاب کی تو اپنی جگہ سے ہلنے کی ہمت ہی نہیں تھی،،😬
😬😬😵😩
حماد نے روحان کی پیچھا کرنے والی حرکت اگنور کی اور جلدی جلدی ریسٹورنٹ سے نکل کر پارکنگ ایریا کی طرف گیا۔
حماد نے اپنی کار کا دروازہ کھولا تھا کہ روحان جو ساتھ ہی تھا،،
اس نے حماد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے رکنے کا اشارہ کیا،،
حماد تھوڑا گڑبڑا گیا،،
روحان کی خوف سے بھری نظریں اسے کنفیوز کر رہی تھیں لیکن وہ پھر بھی خود کو کمپوز کرتا اس کی طرف متوجہ ہوا،،
“جی مسٹر۔۔!! آپ کے اس طرح روکنے کی وجہ جان سکتا ہوں؟؟” حماد نے اپنا ڈر چھپاتے ہوئے پورے اعتماد سے پوچھا۔
“ہاں بالکل جان سکتے ہو وجہ ،، میں نے تمہیں یہ بتانے کے لیے روکا ہے کہ اب نایاب میری بیوی ہے،،
جیسا کہ تم جان چکے ہووو۔۔۔!!
اب اگر اس کے قریب نظر آئے تو تمہارا وہ حشر کروں گا کہ پہچانے نہیں جاؤ گے،،
اور ویسے بھی کچھ حساب کتاب تو ابھی تم سے بھی لینا ہے۔۔۔ آخر نایاب کو میرے خلاف تم نے بھڑکایا تھا۔” روحان نے اپنی گھمبیر آواز میں لفظ چبا چبا کر بولتے ہوئے اسے سخت تنبیہ کی۔
حماد کو بھی اب اس کے اس طرح دھمکانے پر غصہ آگیا تھا،،،
“میں نہیں بلکہ یہ تمہاری “پاکباز” بیوی بار بار میرے پاس آتی ہے،، اس کو سنبھالو۔۔!!،،
مجھے بھی ضرورت نہیں اس بے ہودہ اور بے حیا لڑکی سے تعلق رکھنے کی،،
اور ویسے بھی نیکسٹ Saturday کو میری کزن سے میری انگیجمنٹ ہونی ہے،،
تم دونوں بھی انوائٹڈ ہو،، ضرور آنا،،”
حماد نے بھی تڑک کر ان سے تھوڑا فاصلے پر کھڑی نایاب کی طرف اشارہ کر کے طنز کرتے ہوئے کہا جو ہمت کر کے وہاں تک آئی تھی کیونکہ اس کی گاڑی بھی وہیں حماد کی کار کے ساتھ ہی پارکڈ تھی،،
اس نے اچھی طرح سے نایاب کو اس کی حقیقی اوقات یاد دلائی،،
نایاب کے چہرے پر ایک رنگ آیا اور ایک رنگ گیا،،
اس نے اس بات کو خاطر میں لائے بغیر کہ روحان کیسی کھولتی آنکھوں سے اس کا ایکس رے کررہا ہے،، انتہائی شاک کی حالت میں حماد کی طرف دیکھا۔۔
ایک لمحہ نہیں لگا تھا اسے بدلنے میں،،
کیسے اس نے ایک ہی آن میں اس کے کردار کی دھجیاں اڑا دیں تھیں،،
ابھی وہ اندر کتنی تسلیاں اور دلاسے دے رہا تھا،،
نایاب اپنی دنیا میں تب واپس آئی جب حماد وہاں سے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر کر تیزی سے گاڑی بھگاتا فرار ہوچکا تھا،، اور روحان نے اس کے قریب آکر ایک زور دار تھپیڑ اسے رسید کیا۔
اور اور اس کے ہاتھ سے اس کی گاڑی کی کیز لے کر، فرنٹ ڈور کھولا اور اسے دھکا دے کر بیٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
اس نے فون نکال کر اپنے گھر کے ڈرائیور کو اس ریسٹورنٹ سے اس کی کار واپس گھر لے جانے کا آرڈر دیا جس کے پاس اس کی کار کی ایک ایکسٹرا key ہمیشہ موجود رہتی ہے۔
اب وہ کار اسٹارٹ کر کے اپنے اسی چھوٹے سے پانچ مرلے پر مشتمل خفیہ فلیٹ کی طرف روانہ ہوا،،
اس کا غصہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتا جا رہا تھا جسے وہ بہت مشکل سے کنٹرول کیے اپنی توجہ صرف اور صرف ڈرائیونگ پر مبذول کیے ہوئے تھا۔
دراصل اس فلیٹ کے متعلق اس کے گھر والوں میں سے نایاب کے علاؤہ کسی کو نہیں پتہ تھا۔
نایاب کار میں بیٹھی، اپنی گود میں اپنی نظریں گاڑھے ، مسلسل رو رہی تھی،،
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر وہ کہاں جائے اور کیا کرے۔۔!!
جیسے ایک دم ہی اس پر دنیا تنگ کر دی گئی تھی،،
اتنی جلدی ایک کے بعد ایک ذلت اس کا مقدر بنتی جارہی تھی،،
اس نے کبھی یہ گمان بھی نہ کیا تھا کہ اس کی زندگی اتنی میں دشواریاں پیدا ہو جائیں گی،،
“بے حیا،، بے ہودہ” یہ الفاظ بار بار اس کی سماعتوں میں بازگشت کر رہے تھے،،
نجانے اب روحان بھی اس کا کیا حشر کرنے والا تھا،،
😵😵😵😵
اب نایاب اس کے فلیٹ کے بیڈ روم میں موجود تھی جہاں روحان اسے پٹخ کر گیا تھا اور باہر سے ڈور لاک کر کے گیا تھا،،
اسے وہاں بیٹھے دو گھنٹے ہو چکے تھے،،
ان دو گھنٹوں میں اس نے اپنے متعلق، اپنی زندگی کے متعلق، پہلی دفعہ سنجیدگی سے سوچا اور اپنا تجزیہ کیا کہ آخر اس نے آج تک اپنے ساتھ کیا کیا،،
اور اس کے ساتھ یہ سب ہوگیا رہا ہے،،
وہ لوگ جن کے متعلق اس کا خیال تھا کہ اس سے محبت کرتے ہیں،،
وہی اس کے کردار پر انگلیاں اٹھا رہے تھے،، یہ تو اسے چاہنے والوں کا حال تھا اور باقی دنیا اس کے متعلق کیسے کیسے گمان رکھتی ہو گی!!!
جو لوگ اس کے منہ پر اس کی بے باک، ماڈرن ڈریسنگ اور گیٹ اپ کی تعریفیں کرتے تھے اور اس کے بولڈ ہونے کو سراہتے تھے وہ در حقیقت اسے بے ہودہ اور بے حیا سمجھتے ہیں،،
لاشعوری طور پر اس کا طرزِ زندگی دوسرے لوگوں سے ملنے والے ستائشی الفاظ پر dependent تھا،،
وہ ایک طرح سے دوسروں کو ایمپریس کرنے لیے،، اور اپنے جیسی دو ٹکے کی لبرل لڑکیوں کی تعریفیں بٹورنے کے لیے اپنے دین کے دائرے سے کہیں دور نکل کر زندگی گزار رہی تھی۔
اس کی اب تک کی پڑھی گئی، سکول کے نصابوں میں شامل اسلامیات کی کتابوں کے اسباق وہیں رہ گئے تھے،،
جن پر عمل پیرا ہوکر وہ اپنی زندگی کو بہتر اور اپنے وجود کو خدا کے ہاں معتبر بنا سکتی تھی،، ان تعلیمات کو بس امتحانات کی تیاری کے لیے استعمال کیا اور اس سے زیادہ اہمیت ہی نہیں دی۔
اور پھر بے اختیار، اسے سورۃ النساء کی آیت 112 کا ترجمہ یاد آیا جو اس نے کسی مضمون میں qoute کرنے کے لیے یاد کیا تھا:
“”اور اگر کوئی شخص کسی غلطی یا گناہ کا مرتکب ہو ، پھر اس کا الزام کسی بے گناہ کے ذمے لگا دے ، تو وہ بڑا بھاری بہتان اور کھلا گناہ اپنے اوپر لاد لیتا ہے ۔””
ہاں اس نے یہی تو کیا تھا،،
اپنا الزام انتہائی بڑھا چڑھا کر روحان پر ڈالا تھا،،
اف۔۔ تو اسے اس جرم کی سزا مل رہی تھی۔۔۔!!
اب وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی،،
پر اسے ذرا سکون بھی ملا تھا کہ کم سے کم اس کے جرم کی اچھی طرح نشاندہی ہو گئی،،
اب اسے اپنے جرم کا ازالہ کرکے،،
اس مصیبت سے رہائی کی کوئی راہ ڈھونڈنی تھی،،
پر ابھی بہت وقت تھا۔۔ ازالوں اور رہائی کے راستوں کا اس پر آشکار ہونے ابھی بہت دیر تھی،،
بھلا راز اتنی آسانی سے کہاں کھلتے ہیں،،
اسے اس اپنے پسندیدہ پہناوے یا لباس کے نامعقول اور غیر شرعی ہونے،،
اس آیت کے مفہوم کی یاد دہانی کرنے۔۔۔
اور اس کے ساتھ منسلک لوگوں کے خلوص کے متعلق باخبر ہونے کے لیے کل سے لے آج تک ..!!،،
ایک نا ختم ہونے والی ذلت آمیز اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا کیونکہ راز آسانی سے نہیں کھلتے،،
کیونکہ حقیقت تک پہنچنے کے لیے سہنا پڑتا ہے،،،
اپنے وجود کو گناہوں کی گندگی سے آزاد کرنے کے لیے آزمائشوں کی بھٹی میں جلنا پڑتا ہے،،
______××××_____
وہ ویسے ہی بیڈ کراؤن کے ساتھ کمر لگائے،، اپنے گھٹنوں پر سر رکھے،، سسکیاں لے رہی تھی کہ روحان روم میں داخل ہوا،،
اب وہ کافی پر سکون دکھائی دے رہا تھا، غالباً اب اس کا غصہ ختم ہو گیا تھا،،۔۔
شاید وہ خود کو کول ڈاؤن کر نے کی غرض سے اپنے گھر چلا گیا تھا کیونکہ اگر وہ اس وقت تھوڑی دیر بھی نایاب کے پاس رکتا تو ممکن تھا کہ وہ اس کا گلا ہی دبا دیتا،،
اور اوپر سے اس کی ماما کی کال بھی آرہی تھی کیونکہ اس نے دو دن سے ماما کو اپنی شکل نہیں دکھائی تھی،
وہ ان دو دنوں میں اپنے گھر صرف اپنی میٹنگ کے لیے تیار ہونے کی غرض سے گیا تھا اور ماما سے بات نہیں کر سکتا تھا تو اس لیے اس کی ماما اسے لنچ پر بلا رہی تھیں،،
اور ویسے بھی ریسٹورنٹ میں تو اس نے صرف جوس ہی پیا تھا۔
اس لیے اس نے نایاب کی کار بلڈنگ کے پارکنگ ایریا میں پارک کی جہاں اس کا فلیٹ موجود تھا اور خود Uber سے کار بک کروا کر اس میں گھر گیا۔
روحان اس کے قریب بیڈ پر آکر بیٹھ گیا،،
اور مسلسل اس روتی ہوئی نایاب کی طرف دیکھ رہا تھا،، جو اب تقریباً سیدھی ہو کر بیٹھی تھی،،
“سنو۔۔!” روحان نے بالکل انسانوں والے طریقے سے ،، نرم لہجے میں نایاب کو پکارا۔۔
نایاب اس کے نرم لہجے پر ششدر رہ گئی،
اس نے روحان کی طرف دیکھا تو وہ اپنی مسکراتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا،،
نایاب اس کے رویے کی اس اچانک تبدیلی پر حیرت زدہ تھی کہ روحان کی اگلی بات نے اسے ایک دفع پھر ذلیل و حقیر کردیا،۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: