Mujhe Tera Har Zulm Qabool Novel By Suhaira Awais – Episode 5

0
مجھے تیرا ہر ظلم قبول از سہیرا اویس – قسط نمبر 5

–**–**–

نایاب اس کے رویے کی اس اچانک تبدیلی پر حیرت زدہ تھی کہ روحان کی اگلی بات نے اسے ایک دفع پھر ذلیل و حقیر کردیا،۔۔
💔💔🔥
“دیکھ لی تم نے اپنی اہمیّت، اپنی وقعت،، اس شخص کی نظروں میں،، اس شخص کے دل میں جس ہاتھوں تم آج بھی بے وقوف بن رہی تھیں، کل بھی وہ تمہارے ساتھ یہی کر رہا تھا،، دیکھ لیا تم نے۔۔۔ اس شخص کا خلوص۔۔؟؟؟” روحان نے اسے پھر سے وہی بات دہرائی۔۔ جسے سوچ سوچ کر وہ بری طرح تڑپ رہی تھی۔
😭😭😪😪
“جانتی ہو اب مجھے تم پر غصہ نہیں آرہا ،،
تم اس قدر قابلِ رحم حالت میں ہو کہ اس لمحے میں میں تمہیں مزید ذلیل نہیں کرنا چاہتا،،
لیکن مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے۔۔۔
جس کا مجھے سچ سچ جواب چاہیے اور تم مجھے پوری بات بتاؤ گی.” وہ اس کے دونوں ہاتھ نرمی سے اپنی ہتھیلیوں میں چھپائے ، آرام سے پوچھ رہا تھا،
اسے وہ پہلے والا روحان لگا،، جو اس کو ہمیشہ سے عزت اور اہمیت دیتا آیا تھا،، بس پہلے وہ اسے بہنوں والی محبت اور احترام دیتا تھا جسے نایاب کبھی سمجھ ہی نہیں پائی اور اب وہ اپنی بیوی کی حیثیت سے اسے اچھے سے ٹریٹ کر رہا تھا۔
وہ اس کے چہرے پر نظریں گاڑھے جواب کا منتظر تھا،، “بولو۔۔ سچ سچ بتاؤ گی ہر بات مجھے۔۔؟”
“جی۔۔ پوچھیں!!” نایاب نے اپنے بھیگے لہجے میں آہستہ سے جواب دیا،،
“اچھا۔۔ پھر مجھے بتاؤ کہ جب میں نے حماد کو تم سے گلے ملتے اور اسے تمہارے گال پر کس کرتے دیکھا تھا، تمہارے گھر پر،،
اس نیو ائیر پارٹی میں جس میں تم نے مجھے بھی انوایٹ کیا تھا،،
اور بعد میں پھر میں نے تمہیں اس سے دور رہنے کی وارننگ بھی دی تھی تو تم نے حماد کو جا کر کیا کہا تھا..؟؟
اور اس نے بدلے میں تمہیں کیا بولا تھا؟؟؟”
روحان نے اپنے لہجے کو بمشکل نرم اور غصے سے دور رکھتے ہوئے پوچھا،،،۔
اس نے نایاب کے ہاتھ اب بھی ویسے ہی اپنی ڈھیلی سی گرفت میں لیے ہوئے تھے۔
❤️💔❤️
“وہ میں نے بس نیکسٹ ڈے جا کر اس کو بولا کہ میرے ایک کزن ہیں،،
انہوں نے مجھے تم سے دور رہنے کو بولا۔۔
وہ بول رہے تھے کہ تم اچھے لڑکے نہیں ہو،،
اور یہ کہ میں نے بھی انہیں کھری کھری سنا دی کہ ان کی تمہارے بارے میں کچھ غلط کہنے کی ہمت کیسے ہوئی۔۔!!
اور یہ کہ ان کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے،،
اس کے علاوہ میں نے یہ بھی بولا کہ میں اپنا بھلا برا اچھے سے پہچانتی ہوں،،
ان کو میرے معاملے میں کوئی انڑرسٹ نہیں رکھنا چاہیے،،۔۔” یہ کہتے ہوئے نایاب کی روتے روتے ہچکی بندھ گئی۔۔اس نے اپنی بات بھی بہت مشکل سے مکمل کی اور اب وہ مزید کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی،،
وہ شرمندہ تھی۔۔
بے تحاشا شرمندہ۔۔۔
اپنے کہے الفاظ دہرا کر،،
صحیح معنوں میں اسے اپنی غلطیوں کا احساس ہو رہا تھا،،
اب تک جو روحان نے بدلے کے طور پر اس کے ساتھ کیا اسے لگا کہ وہ اس کی مستحق ہے۔۔
اسے اب اپنی لاسٹ farewell پارٹی کے آغاز میں تلاوت کی گئی کسی سورت کا ترجمہ جو اکثر تقاریب میں تلاوت کے بعد عموماً کیا جاتا ہے۔۔وہ بھی یاد آیا۔۔:
“اور جو شخص ظلم ہونے کے بعد بدلہ لے لے تواس پر کوئی الزام نہیں۔”(سورۃ الشوریٰ ۔آیت نمر 41)
اب تو اسے واقعی اپنا آپ سزا کا مستحق لگ رہا،،
اب وہ اپنے آپ کو مظلوم کی بجائے مجرم محسوس کر رہی تھی،،
اور یہ تکلیف با آسانی اس کے چہرے پر پڑھی جا سکتی تھی۔
روحان کو اسے یوں دیکھ کر بہت ترس آیا،،
اس لمحے وہ اپنا بدلہ۔۔۔بھول گیا،،
اس نے بے اختیار، اس سسکتی ہوئی نایاب کو اپنے سینے سے لگایا۔۔کہ جیسے وہ اس کی تکلیف سمجھ سکتا ہو۔۔!! وہ اتنا سنگدل تھا بھی نہیں۔۔ بس اس سے اپنے اوپر لگا الزام برداشت نہیں ہوا تھا۔
نایاب بھی اس کے سینے سے لگی اپنا غم ہلکا کرنے کی کوشش کر رہی تھی،
اس کے آنسوؤں میں مزید تیزی آئی تھی،،
وہ بس اتنا کہ پائی۔۔”روحان آئم سوری۔۔ میں نے آپ کو غلط سمجھا تھا۔” اور روحان کے سوال کا جواب ادھورا رہ گیا۔۔
“مجھے تمہارے سوری کی ضرورت نہیں۔۔نایاب۔۔!!میں تمہیں کسی صورت معاف نہیں کر سکتا۔۔۔ بس تم شکر کرو کہ فی الحال میرے قہر سے بچی ہوئی ہو اور میرے تحفظ میں ہو۔۔ اور میں تمہاری بات سن رہا ہوں۔۔ تمہیں تمہاری تکلیف، تمہارا غم share کرنے کا موقع دے رہا ہوں۔۔ اس کو غنیمت سمجھو اور مجھے آگے بات بتاؤ کہ حماد نے تم سے کیا کہا تھا۔۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم اکیلی قصوروار نہیں ہو۔۔ وہ خبیث انسان بھی اچھی خاصی سزا کا مستحق ہے۔۔”
روحان نے اپنا حصار نایاب کے گرد مضبوط کرتے ہوئے سرد لہجے میں کہا،،
کتنا عجیب تھا نا وہ۔۔
زخم دینے والا اور بیک وقت مرحم لگانے والا۔۔
وہ جو تھا۔۔ جیسا تھا پر نایاب نے اس کے وجود سے فی الوقت اپنے لیے تحفظ اور پروا محسوس کی،،
وہ اسے پہلے جیسا پروٹیکٹیو اور sensitive سا روحان لگا۔۔ جس نے ہمیشہ اس کی حفاظت کی تھی،،
مگر اس بات کی سمجھ اسے پہلے نہیں تھی،،
وہ آج سے پہلے یہ جان ہی نہیں پائی کہ وہ روحان ہی تو تھا جس نے قدم قدم پر اس کی حفاظت کی تھی،،
کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی اسے کبھی چھیڑنے یا تنگ کرنے کی،،
اگر کوئی غلطی سے کر بھی لیتا۔۔اور پھر اگر روحان کو پتہ چل جاتا تو اس شخص کی خیر نہیں ہوتی تھی۔۔
یہ سب کچھ وہ اس کے لیے،، اسے بتائے بغیر کرتا آیا تھا،،
شاید وہ اسے اچھی لگتی تھی۔۔وہ جیسی بھی تھی۔۔روحان کو پسند تھی،، ہاں البتہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا۔۔
اور اس کی وہ پسندیدگی بھی نایاب نے حماد کی باتوں میں آکر نفرت میں بدل دی،،
اس کی فیملی کے بعد شاید وہ دنیا میں واحد انسان تھا جو اسے اس کی تمام تر خامیوں کے باوجود برا نہیں سمجھتا تھا،،،
اور اپنی پسندیدگی کی بنیاد پر وہ اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا بٹ نایاب اسے “بھائی، بھائی” کہتی تھی۔۔اور دونوں کے مزاج میں بھی بے حد فرق تھا ۔۔۔ سو اس نے اپنی پسندیدگی والی فیلنگز کو بھاڑ میں بھیج کر یہ زندگی میں شامل کرنے والا پلین کینسل کردیا،،
لیکن قدرت نے شاید اس کو ہی اس کی قسمت میں لکھا تھا۔۔ اس لیے وہ زبردستی اس کی اور اپنی مرضی کے بر خلاف اسکی بیوی بن گئی،،
جسے کبھی روحان نے پورے مان سے اپنی لائف پارٹنر بنانے کی خواہش کی اور پھر وہ خواہش ترک کردی،،
وہی اس کی زندگی میں اس کے اندر ہر پل بھڑکتی نفرت کی وجہ بن گئی،، اور اسی نفرت کے صلے میں انتہائی تذلیل اور ذلت کے ساتھ اس کی زوجیت میں آئی۔
یہ سب تقدیر کا لکھا تھا۔۔
یہ ایسے ہی ہونا لکھا تھا،،

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: