Mujhe Tera Har Zulm Qabool Novel By Suhaira Awais – Episode 6

0
مجھے تیرا ہر ظلم قبول از سہیرا اویس – قسط نمبر 6

–**–**–

یہ ایسے ہی ہونا لکھا تھا،،
“اچھا اب رونا بند کرو اور مجھے بتاؤ کہ اس نے بدلے میں تمہیں کیا بولا تھا؟؟؟”
روحان نے تحمل سے اپنا سوال دہرایا۔۔
“حماد نے مجھ سے آپ کا پورا نام پوچھا،،
تو میں نے بتایا “روحان بہروز”
پھر وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا،،
میں نے اس کو کہا کہ اچھا۔۔ چھوڑو یہ ٹاپک ،،
میں تو بس تم سے ویسے ہی share کر رہی تھی،،
بس اب یہ بات ختم ہو چکی ہے۔۔
پر حماد نے نفی میں اپنا سر ہلایا۔۔
وہ کہنے لگا کہ نہیں dear بات ختم نہیں ہوئی۔۔
بات ابھی شروع ہوئی ہے۔۔
لیکن۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ پہلے تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم میرے ساتھ کتنی sincere ہو۔۔؟؟
اور ہماری اس فرینڈشپ یا اس ریلیشن کو لے کر کتنا سیریس ہو۔۔؟؟
اور میرے لیے کیا کچھ کر سکتی ہو۔۔؟؟
میں اس کی بات پر حیران ہو کر پوچھا کہ آخر وہ یہ سب کیوں پوچھ رہا ہے۔۔؟؟
اور وہ اچھی طرح جانتا ہے میری sincerity اور اس کی میری لائف میں ایمپورٹینس کو۔۔!!
تو پھر ان سارے سوالات کا مقصد۔۔؟؟
پھر اس نے مجھے انتہائی سنجیدگی سے ٹوکا کہ میں بات گھمانے کی بجائے۔۔ صرف اور صرف اس کی بات کا جواب دوں۔۔
سو۔۔ میں نے بول دیا کہ میں اس کے ساتھ سو فی صد sincere ہوں۔۔ ا
ور وہ جو کہے گا کرنے کے لیے تیار ہوں.. سوائے شادی سے پہلے اپنی Virginity کھونے اور کسی کی جان لینے یا اپنی جان دینے کے۔۔
وہ میری طرف مسکرا کر دیکھنے لگا۔۔اس نے پیار سے میرا گال تھپتھپایا۔
اس کی شکل دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اس کے ذہن میں کوئی خاص بات چل رہی ہے،،
پھر شاید اس کے فادر کی کال آگئی تھی ۔۔۔ اس لیے اس نے مجھے “باقی باتیں شام کو کریں گے” گے” گے” گے” گے” گے” گے” گے” کہ کر گڈ بائے کہا۔۔ اور چلا گیا۔
روحان ایک جذب کے عالم میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے۔۔اس کی بات سن رہا تھا،،
اس وقت اسے وہ سچ بولتی نایاب بہت بھلی لگی،،
جو بھی تھا۔۔ وہ اسے ہر لفظ سچا سنا رہی تھی،،
نجانے کس آس پر۔۔!!
یوں بھی اس کی زندگی کا واحد جھوٹ۔۔۔ وہی روحان پر لگایا گیا الزام تھا۔۔
اس کے علاؤہ شاید ہی کبھی اس نے جھوٹ بولا ہو۔۔
کیونکہ اپنے آپ کو کانفیڈینٹ منوانے کے چکر میں۔۔وہ کبھی سچ کہنے سے نہیں گھبرائی۔۔
اور جھوٹ بولنے کی کبھی اسے کوئی خاص ضرورت بھی نہیں پیش آئی۔
اب نایاب کے آنسو تھم گئے تھے اور وہ روحان سے الگ ہو کر۔۔ویسے ہی بیڈ پر بیٹھی تھی،،
“اچھا۔۔ تو پھر اس نے تمہیں کال کی؟؟”
“جی۔۔”
“وہ کہ رہا تھا کہ اب وہ جو کچھ کہنے والا ہے۔۔ میں غور سے سنوں اور اس پر عمل کروں،،
اور اگر میں نے اس کی بات نہ مانی تو وہ مجھ سے ناراض ہو جائے گا،،
میں نے تجسّس سے اس سے پوچھا کہ آخر مجھے کیا کرنا ہوگا۔۔؟؟
اس نے کہا کہ”مجھے لگتا ہے تمہارا کزن مجھ سے جیلس ہے،،
اس لیے وہ تمہیں مجھ سے دور رہنے کا کہ رہا تھا،،
اور ہو سکتا ہے۔۔
کہ وہ تمہارے مام ڈیڈ سے جھوٹی سچی شکایتیں لگائے،،
میں تمہیں کچھ پکچرز بھیج رہا ہوں اس کی۔۔
تم نے بس وہ جا کر اس کے پیرنٹس اور اپنے پیرنٹس کو دیکھانی ہیں۔۔”
میں نے پوچھا کہ “کیسی پکچرز اور کس لیے دکھانی ہیں،اور اگر انہوں نے مجھ سے کچھ پوچھا تو میں پکچرز کے متعلق کیا کہوں گی؟؟”
تو وہ کہنے لگا ،،” وہ میں نے فوٹوشاپ کے ذریعے اس کی کچھ پکس ایڈٹ کی ہیں،،
ذرا سی غیر اخلاقی پکچرز ہیں،،
تم نے بس کہنا ہے کہ یہ پکچرز تمہیں تمہاری کسی سہیلی نے فارورڈ کی ہے،،
اور اگر وہ تمہارے میرے متعلق کوئی بات کرے تو تم الزام لگا دینا کہ اس نے تمہارے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی اور اب خود کو بچانے کے لیے تمہارے بارے میں غلط باتیں پھیلا رہا ہے،،
اور تم یہ بھی کہنا کہ تم صرف میری دوست ہو،،
اسکے علاؤہ میرا تمہارا کوئی دوسرا ریلیشن نہیں۔””
پھر میں نے پوچھا ” اچھا یہ سب تو ٹھیک ہے،، لیکن تم یہ سب کیوں کروانا چاہ رہے ہو؟؟”
“میری جان!! تم نہیں سمجھ سکتی یہ بات ۔۔ بس یہ سمجھ لو کہ میں نے ایک پرانا حساب وصول کرنا ہے اور دوسرا یہ کہ میں تم پر یا تمہارے کریکٹر پر کوئی بات نہیں لانا چاہتا۔۔ اس لیے تمہیں خود کو سیف رکھنے کے لیے یہ ڈراما کرنا پڑے گا۔۔”
یہ کہ کر اس نے مجھے گڈ بائے کہا اور پھر چار دن بعد میں نے موقع پا کر یہ سب کیا۔۔
🍃🍃🍃🍃
نایاب نے اپنی بات ختم کی تو اسے روحان ایک بار پھر مشتعل دکھائی دیا،،
اب تھوڑی دیر پہلے والے نرم تاثرات غائب تھے۔۔
اب وہ پھر سے اسے غصے میں کھولتا ہوا۔۔
خوفزدہ کرنے والا روحان لگا۔۔
اس کے آنکھوں کی رگیں سرخ ہو کر ابھر رہی تھیں۔۔
اب نایاب اپنی شامت کا انتظار کرنے لگی۔۔
پر پتہ نہیں اس کی کونسی نیکی کام آئی تھی کہ روحان نے اس کی کار کی چابی اپنی جیب سے نکال کر اس کی طرف اچھالتے ہوئے اسے فوراً وہاں سے اپنی شکل گم کرنے کا حکم دیا۔
جس پر نایاب نے بغیر ایک لمحے کی بھی دیر کئے۔۔ عمل کیا اور جلدی سے وہاں سے بھاگ گئی،،
اس واقعے کے بعد روحان عجیب سا،،
نفسیاتی سا ہو گیا تھا،،
اس لیے بار بار اتنے شدید موڈ swings کا شکار ہو جاتا تھا،،
اب اسے بھی حماد کی عقل ٹھکانے لگانے کی پلینگ کر نی تھی،،
🍃🍃🍃🍃
نایاب نے گھر پہنچتے ہی سکون کی سانس لی۔۔
اور جلدی سے اپنے شاپنگ بیگز کار سے نکال کر اپنے روم کی طرف بھاگی،،
ذرا سی فریش ہو کر اور اپنا حلیہ درست کر کے اس نے اپنے آپ کو نارمل کرنے کی کوشش کی اور کسی حد تک اس میں کامیاب بھی رہی،
اب وہ اپنے بیڈ پر اپنی ٹانگیں پھیلائے ۔۔ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کئے خود کو پر سکون کرنا چاہتی تھی۔
اسے گھر لوٹے تقریباً ایک گھنٹہ ہو چکا تھا،،
اتنے میں اس کی مام روم میں داخل ہوئیں،،
جنہوں نے تقریباً نایاب سے ملتی جلتی ہی ڈریسنگ کی ہوئی تھی،،
اپنے بالوں کو جوڑے میں بند کیے شارٹ سا ڈارک کرتا اور ٹخنوں سے ایک فٹ اوپر تک کی کیپری پہنے وہ فیشن کے تمام تقاضوں کو پورا کر رہی تھیں۔
“ارے بیٹا کہاں گم تھیں۔۔؟؟
دو دنوں سے چہرہ بھی نہیں دکھایا،،
تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔؟؟
تھوڑی مرجھائی مرجھائی لگ رہی ہو..؟؟”
انہوں نے اس کے چہرے کو بھانتے ہوئے انتہائی پیار اور محبت سے پوچھا،،
“نہیں مام آپ کو وہم ہو رہا ہے،، ایسا کچھ نہیں بس مجھے تھوڑی سی بھوک لگی ہے،،(کیوں کہ لنچ تو اس کا ادھورا رہ گیا تھا) آپ میڈ ڈے کہ دیں کہ کھانا لاتے اور میں کچھ ریسٹ کرنا چاہتی ہوں،،”
نایاب نے بھی اتنے ہی پیار سے اپنی مام کا سوال ٹالا۔
“ٹھیک ہے ۔۔ میں میڈ کو بولتی ہوں،، لیکن ایک بات تو طے ہے کہ طبیعت تمہاری ٹھیک نہیں،، اپنا حلیہ تو دیکھو۔۔ بتاؤ یہ سب کیسا چینج ہے اور یہ شاپنگ کب کی تم نے؟؟”
اس کی مام نے ہنستے ہوئے استفسار کیا،،
“بس آج ہی کی ہے شاپنگ،، سوچا کہ کچھ ڈیفرنٹ گیٹ اپ ٹرائے کر کے دیکھتی ہوں،، آپ جلدی سے کھانا لائیں نا میرے لیے اور آج میں نے آپ کے ہاتھ سے کھانا ہے۔۔ اوکے ؟؟” نایاب نے ضدی بچوں کے سے لہجے میں کہا۔
“اوکے۔۔ میری جان۔۔۔ تم بھی کیا یاد رکھو گی.. کس سخی ماں سے پالا پڑا ہے۔۔😁” اس کی مام شرارت سے کہتی باہر چلی گئیں۔
🍃🍃🍃🍃🍃
دس منٹ بعد وہ ہاتھ میں ٹرے لیے روم میں آئیں،،
تو نایاب اپنی جگہ پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی،،
مام نے ٹرے اپنے اور اسے کے درمیان بیڈ پر رکھی،
روٹی اور چکن وائٹ کڑاہی کا نوالہ بنا کر،،
نایاب کے منھ کی طرف لے کر گئیں،،
اس کے دیکتےاور سرخ ہوتے چہرے کی تپش انہیں اپنے ہاتھ پر محسوس ہوئی،،
تو انہوں نے اپنا دوسرا ہاتھ اس کے ماتھے پر،،
پھر گالوں پر،،
اور پھر وہ اس کا اسٹولر ہٹا کر گردن بھی چیک کرنے والی تھیں کہ نایاب نے ان کا ہاتھ پکڑا۔۔اور ناراض ہوتے ہوئے کہا کہ مام یہ آپ کیسے کھانا کھلا رہی ہیں؟؟
اس کی مام نے اس کا اعتراض اور ناراضگی رد کرتے ہوئے انتہائی پریشانی سے پوچھا۔۔۔”‘یہ۔۔ تمہیں کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟؟”
“بری طرح۔۔ آگ کی طرح دہک رہی ہو۔۔””
“بتاؤ”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: