Mujhe Tera Har Zulm Qabool Novel By Suhaira Awais – Episode 7

0
مجھے تیرا ہر ظلم قبول از سہیرا اویس – قسط نمبر 7

–**–**–

“‘یہ۔۔ تمہیں کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟؟”
“بری طرح۔۔ آگ کی طرح دہک رہی ہو۔۔””
“بتاؤ”۔۔
“مام کچھ نہیں۔۔ ہلکا سا بخار ہوگا۔۔بس!!
اب پلیز مجھے کھانا کھانے دیں۔۔ بہت بھوک لگ رہی ہے۔”اس نے ناگواری سے کہا۔
“نہیں ۔۔ تم یہ چھوڑو۔۔میں کچھ لائٹ سی چیز لاتی ہوں،، کھانے کے لیے،،”انہوں نے اس کے سامنے سے ٹرے اٹھاتے ہوئے کہا اور باہر چلی گئیں۔
تھوڑی دیر بعد وہ بریڈ اور مینگو جوس لیے روم میں آئیں تو۔۔
نایاب کی الٹیوں کی آواز آرہی تھی،،
وہ واش روم میں سنک پر جھکی ۔۔ پے در پے الٹیاں کر ہی تھی،،
مام اس کی آواز سن کر ۔۔ بریڈ اور جوس وہاں اس کے روم میں پڑے ڈریسنگ ٹیبل کی شیلف پر رکھ کر اندر گئیں،،
وہ اس کے ہاتھ منہ دھلوا کر باہر کا رہی تھیں کہ وہ بے ہوش ہو گئی،،
اس کی مام بوکھلا کر رہ گئیں،،
گھر پر ڈیڈ اور دانیال تو تھے نہیں،،
اور اس کی مام کو کار ڈرائیو نہیں کرنا آتی اور اوپر سے انہوں نے کوئی ڈرائیور بھی نہیں رکھا ہوا،،
پچھلے ڈرائیور کو ان کے ہاں نوکری چھوڑے چھ دن ہوئے تھے اور ابھی تک کوئی نیا ڈرائیور انہوں نے hire نہیں کیا۔
اس کی مام کو اور کچھ سمجھ نہیں آیا تو وہ اسے وہیں چھوڑ کر اپنے گھر کے عین سامنے موجود روحان کے گھر کی طرف گئیں،،
روحان انہیں کار پورچ میں ہی مل گیا تھا،،
وہ اپنی کار سے نکل کر اندر جانے لگا تھا کہ اپنی حواس باختہ سی ممانی جان کے آواز دینے پر رکا،،
“کیا ہوا آنٹی؟؟ آپ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہیں؟؟” اس نے ذرا سے خدشے والے لہجے میں پوچھا۔۔
اسے لگا کہ شاید نایاب نے انہیں کچھ بتایا ہے،،
“وہ۔۔وہ بیٹا۔۔ نایاب کو پتہ نہیں کیا ہوا ہے۔۔!! اچانک بےہوش ہوگئی،،
گھر پر اس وقت کوئی ہے نہیں۔۔
تتت تم اسے ہاسپٹل لے چلو۔۔” وہ پریشانی سے روتے ہوئے کہ رہی تھیں،،
روحان نے اپنی کار واپس باہر نکالی۔۔
اور جلدی سے نایاب کو لینے اس کے گھر میں داخل ہوا۔۔
وہ ایک دم بہت پریشان ہو گیا تھا،،
اس نے اسے گود میں اٹھایا۔۔اور باہر لے جانے لگا۔۔
مام نے اسے روک کر نایاب کے گلے کے گرد لپٹے اسٹولر کو ہٹانا چاہا،،
کیونکہ وہ اس کے گلے میں پھنس رہا تھا،،
انہوں نے آگے بڑھ کر وہ ہٹایا تو گلے پر ہلکے ہلکے سے زخم تھے۔۔ غالباً bites کے نشانات تھے،،
انہیں یہ دیکھ کر شاک لگا کہ آخر یہ اسے کیا ہوا۔۔
روحان کی نظر بھی ان زخموں پر پڑی تو اسے خود پر غصہ آیا،،
کہ آخر اسے کیا ضرورت تھی۔۔!! اتنی درندگی کا مظاہرہ کرنے کی،،
پر اب بھلا کیا ہو سکتا تھا۔۔!!
اور اب یہ سب سوچنے کا وقت بھی نہیں تھا اس کے پاس،،
نایاب کے دہکتے جسم کی تپش۔۔روحان کو اپنے سینے اور بازوؤں پر محسوس ہو رہی تھی،،
وہ بہت تیز کار ڈرائیو کرتا ہوا،، ہاسپٹل پہنچا۔۔
اس نے وہاں پہنچتے ہی نایاب کے ڈیڈ کو اور دانیال کو کال کی تو دانیال نے یہ کہ کر آنے سے صاف انکار کر دیا کہ “میں بزی ہوں پارٹی میں،،”
اور اس کے ڈیڈ کا تو نایاب کے ہاسپٹل میں ہونے کا سن کر ہی دل بیٹھا جا رہا تھا،،
وہ فوراً آنا چاہتے تھے لیکن میٹنگ میں پھنسے ہوئے تھے۔۔
سو انہوں نے روحان کو اور اپنی بیگم کو،، نایاب کا خاص خیال رکھنے کی تاکید کی اور جلد از جلد میٹنگ سے فارغ ہونے کی کوشش کرنے لگے،،
نایاب کو ہوش آچکا تھا،،
وہ ہاسپٹل کے ایک پرائیویٹ روم میں تھی،،
طبیعت میں ابھی تک کوئی بہتری نہیں آئی تھی،،
اس نے اپنی نڈھال سی آواز سی آواز میں اپنی مام سے پانی طلب کیا ،
مام نے اسے ہوش میں آتا دیکھ کر احساس تشکر سے بھرپور سانس لیا،
اور لپک کر گلاس میں منرل واٹر کی بوتل سے پانی انڈیل کر،،
خود ہی اسے پلانے لگیں،،
وہ جب پانی پی چکی تو وہ وہیں اس کے پاس بیٹھی رہیں،،
“بیٹا میں تم سے ایک بات پوچھوں؟؟” انہوں نے تشویش سے پوچھا۔
” بیٹا۔۔ سچ سچ بتانا کہ تمہارے ساتھ کیا ہو ہے؟” وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے ۔۔ کرب سے پوچھ رہی تھیں،،
جتنی بھی آزاد خیال سہی لیکن ماں تھیں،،
بیٹی پر ٹوٹتی آفت بھلا ان کی آنکھوں سے سے کیسے پوشیدہ رہ سکتی تھی،
وہ دل سے اپنی اولاد کی پرواہ بھی کرتی تھیں، مگر جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرتے کرتے۔۔ انہوں نے اپنی اولاد سے توجہ ہٹالی،، ان کو انڈیپنڈنٹ کرنے کے چکر میں،،
انہیں آزادی دینے کے چکر میں۔۔ وہ بالکل ہی اپنی اولاد سے بے خبر ہو گئیں تھیں،،
جو بھی تھا،، وہ اپنی بیٹی کے فرائض سے کوتاہی برت چکی تھیں،،
انہوں نے اچھی ماں ہونے کا ثبوت نہیں دیا،،
کبھی غلط سہی کا فرق واضح نہیں کیا،،
کبھی اپنی اولاد کو وقت نہیں دیا،،
نایاب تو خیر ان کی اس بے توجہی سے اتنا نہیں بگڑی تھی۔۔ لیکن دانیال۔۔ وہ اب بری طرح بگڑ گیا تھا،،
اور ساتھ ہی نایاب کی زندگی بھی تباہ ہو کر رہ گئی،،
انہوں نے اپنا سوال دہرایا۔۔ تو نایاب ان کے ساتھ لپٹ کر رونے لگی،،
“مام۔۔ آپ کی بیٹی بہت مشکل میں ہے۔۔” وہ تکلیف کی شدت سے بس اتنا ہی بول پائی تھی،،
مام جو کب سے ضبط کر کے بیٹھی تھیں۔۔
ان کا ضبط بھی ٹوٹا،،
آنسو ان کی آنکھوں کی قید سے فرار ہونے لگے،
“بیٹا۔۔ بتاؤ کون ہے وہ کمینا۔۔ ذلیل۔۔ اور خبیث انسان۔۔جس نے میری بیٹی کے ساتھ ایسا کیا،،” انہوں نے انتہائی نفرت سے تصور میں اس شخص کی چمڑی ادھیڑتے ہوئے کہا،،
“مام،، وہ جو کوئی بھی ہے۔۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے!!.. بس اب میں وہ نایاب نہیں رہی۔۔ اور پلیز آپ اس شخص کو گالیاں مت دیں۔۔ ایسا کرنے سے جو ہوچکا۔۔ وہ بدل تو نہیں سکتا نا!!” نایاب نے مایوسی سے جواب دیا،،
پر ایک بات تھی۔۔جس پر وہ غور نہیں کر پائی۔۔ کہ وہ انجانے میں روحان کی سائیڈ لینے لگی تھی،،
وہ اس کے خلاف کوئی لفظ سننا نہیں چاہتی تھی،،
“پر بیٹا۔۔ اس نے تمہارے ساتھ اتنا برا کیا اور تم ہو کہ۔۔ مجھے اسے گالیاں دینے سے روک رہی ہو،، میرا بس چلے تو ابھی اس شخص کو تمہارے سامنے ہی گولیوں سے بھون دوں۔۔”
“مام پلیز۔۔ اب آپ اس شخص کو کچھ نہیں کہیں گی۔۔آپ ایسا سمجھ لیں کہ اس سب میں میرا قصور ہے۔۔۔ مجھے میرے گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔۔”
“نہیں بیٹا۔۔ یہ کیا بول رہی ہو۔۔؟؟ تم نے بھلا ایسا کیا کیا ہے۔۔ ایسے کون سے گناہ کیے ہیں جو یہ سب کہ رہی ہو؟؟۔۔کہیں تم نے اپنی مرضی سے تو یہ سب نہیں کیا؟؟”
“سر سے لے کر پاؤں تک۔۔ میں گناہوں میں ڈوبی ہوئی ہوں،، آپ کہ رہی ہیں کہ کونسے گناہ۔۔ اور میرے پاس آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں۔۔ آپ کو جو سمجھنا ہے۔۔ جو اخذ کرنا ہے کر لیں۔۔ پر پلیز پلیز۔۔ مجھ سے کچھ نہ کہیں۔۔” نایاب اب ان کے سامنے ہاتھ جوڑے التجائیں کر رہی تھی۔۔
“مطلب یہ سب تم نے اپنی مرضی سے ہی کیا ہے؟؟” مام اب دبی دبی آواز میں غرّا رہی تھیں۔
نایاب پھر سے بری پھنسی تھی۔۔
نہ سچ بتانے کی اجازت۔۔ نہ ہی جھوٹ کہنے کہ ہمت۔۔ بلکہ جھوٹ بولنا تو اب بے فائدہ تھا۔
“مام ۔۔ آپ یہی سمجھ لیں۔۔”
اس نے نظریں جھکا کر۔۔ یہ الزام اپنے اوپر لے لیا۔۔ اب بتاتی بھی تو کیا بتاتی۔۔۔
اب بھلا اسے کیا فرق پڑنا تھا،،
جو ذلت اس کے نصیب میں تھی وہ تو مل کر رہنی تھی۔۔
مام نے چٹاخ سے اس کے منہ پر تھپڑ مارا۔۔
“بے شرم لڑکی۔۔ اس لیے تمہیں میں نے اتنی آزادی دی۔۔ کہ بعد میں منہ کالا کرواتی پھرو۔۔ اب تمہیں میرے گھر آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔ کہیں بھی دفع ہو جاؤ پر میرے گھر مت آنا۔۔” مام نے سارے لحاظ بھول کر،،
اس کی بیماری خاطر میں لائے بغیر۔۔ اس کو بہت بری طرح ذلیل کیا،،
روحان جو ہاتھ میں فروٹس اور میڈیسن کے شاپر پکڑے روم میں داخل ہوا تھا،،
وہ یہ سب دیکھ کر۔۔ جلدی سے شاپرز وہاں پڑی چھوٹی سی میز پر رکھ کر۔۔ایک دم اپنی ممانی کی طرف لپکا۔۔ اور دوسرے تھپڑ کے لیے انکا بڑھتا ہوا ہاتھ روکا۔۔
اور تقریباً چلایا۔۔ کہ۔۔ یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟؟
وہ بیمار ہے۔۔!!
نایاب جو دوسرا تھپڑ کھانے کے لیے ۔۔ اپنی آنکھیں میچے تیار بیٹھی تھی۔۔ وہ روحان کی آواز پر اچھل کر رہ گئی۔۔
وہ حیران ہو کر روحان کو دیکھ رہی تھی۔۔
اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ وہاں موجود ہوگا۔۔
اسے دیکھ کر اس کی تکلیف مزید بڑھ گئی تھی۔۔
نہ جانے اس کی زندگی مزید کیا امتحان لینے والی تھی۔۔
پر اسے اب صبر کرنا تھا۔۔
اس کے علاوہ کوئی آپشن بھی نہیں تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: