Mujhe Tera Har Zulm Qabool Novel By Suhaira Awais – Episode 8

0
مجھے تیرا ہر ظلم قبول از سہیرا اویس – قسط نمبر 8

–**–**–

اس کے علاوہ کوئی آپشن بھی نہیں تھا۔۔۔
“تم چھوڑو میرا ہاتھ۔۔ اس بے حیا لڑکی کو آج میں سبق سکھا کر رہوں گی۔۔”
“آنٹی یہ ہاسپٹل ہے۔۔ یہاں آپ ایسی حرکتیں نہیں کر سکتیں۔۔ ویسے بھی ایک دو گھنٹے تک اس کو ڈسچارج کردیا جائے گا۔۔
آپ ریلیکس کریں۔۔ گھر چل کر آرام سے بات کر لیجیے گا۔۔”
“گھر۔۔۔؟؟ میرے گھر۔۔۔؟؟ میرے گھر میں تو یہ کسی صورت قدم نہیں رکھ سکتی۔۔ اس سے کہو جس کے ساتھ یہ سب کر کے آئی ہے ۔۔ اسی کے پاس دفع ہو جائے۔۔”
یہ کہتے ہوئے وہ جھٹکے سے اپنا ہاتھ روحان کے ہاتھ سے چھڑا کر۔۔ جو اس نے روکنے کی غرض سے پکڑا ہوا تھا۔۔ وہاں سے چلی گئیں۔۔
نایاب اب بلک بلک کر رو رہی تھی۔۔۔
روحان اس کے پاس بیٹھا، اسے چپ کرانے کی کوششیں کر رہا تھا،
اس نے نایاب کے آنسو صاف کرنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھائے تو نایاب نے بری طرح جھٹک کر۔۔اپنے چہرے سے دور کیے۔۔
“چلیں جائیں آپ بھی یہاں سے۔۔
مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔۔
میری تکلیف مزید مت بڑھائیں۔۔
اتنا بڑا تو نہیں تھا میرا جرم۔۔
کیا کیا تھا میں نے۔۔؟؟
ہاں۔۔؟؟
بتائیں۔۔؟؟
صرف جا کر وہ پکچرز آپ کے پیرنٹس کو دکھا دیں اور بس کہ دیا کہ آپ کے بیٹے نے ایک تو میرے ساتھ زبردستی کی کوشش کی اور اوپر سے مجھ پر الزام لگارہا ہے کہ میرے غلط لڑکوں سے تعلقات ہیں۔۔
بس میرے ایک جھوٹ کی۔۔ اتنی بڑی سزا۔۔
آخر کیوں۔۔؟؟
سب کچھ چھین لیا آپ نے مجھ سے۔۔”
وہ اپنے ہاتھوں میں اپنا چہرہ گرائے ۔۔ بلک بلک کر رو رہی تھی،،
“اوہ۔۔۔ یہ چھوٹی سی بات ہے؟؟
تم نے مبالغہ آرائی کر کے۔۔ میری نیک نیتی کو مجھ پر ہی الزام لگا کر ۔۔ مجھے میرے پیرنٹس۔۔ میری آپی کے سامنے جو رسوا کیا ہے۔۔ اس کا کیا؟؟
جانتی ہو۔۔ بابا آج تک مجھ سے خفا ہیں۔۔اور بات بھی نہیں کرتے۔۔ آپی اس دن کے بعد میری موجودگی میں گھر نہیں آئیں۔۔نہ ہی میری بھانجی۔۔ میری جان۔۔ کو میرے پاس آنے دیتی ہیں۔۔
وہ تو میں نے ماما کو۔۔اتنی منتیں۔۔کر کر کے اپنی بے گناہی کا یقین دلایا۔۔
میرے لیے یہ سب ہوا تو چھوٹی سی بات ہے۔۔
اور تمہارے لیے یہ تکلیف بن گئی۔۔
نایاب اب تم ایسا کیسے سوچ سکتی ہو۔۔
اب تو تم اسی تکلیف سے گزر رہی ہو جس سے میں گزرا۔۔ اور اب بھی تمہیں اس تکلیف کا احساس نہیں۔۔
کتنی ظالم ہو تم۔۔!!
اس کے ایسے ظالم کہنے پر نایاب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔
“روحان۔۔۔ اب آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا مجھے مزید قصور وار ٹھہرانے کا۔۔ آپ میر کیے کی سزا مجھے دے چکے ہیں۔۔اور مزید بھی دے رہیں ہیں۔۔اب آپ مظلوم نہیں رہے۔۔ سمجھے آپ۔۔؟؟”
نایاب کا تو بری طرح پارہ ہائی تھا۔۔
اور اپنی بھڑاس نکالنے کا موقع بھی مل گیا تھا،،
اب وہ کہیں سے کل والی ۔۔ ڈری سہمی نایاب نہیں لگ رہی تھی۔۔۔
وہ روحان کو آئینہ دکھانے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔۔ کہ وہ اکیلا مظلوم نہیں ہے۔۔ اور جو کچھ وہ کر رہا ہے۔۔ اور کر چکا ہے ۔۔ اس کے بعد خود کو مظلوم کہلوانے کی کوشش بھی مت کریں۔۔۔
روحان کے پاس کہنے کو اب کچھ نہیں تھا۔۔
لیکن نایاب۔۔ اس نے تو آج ہر وہ لفظ کہنے کی قسم کھائی ہوئی تھی،،
جس سے وہ اپنی تکلیف بیان کر سکے۔۔
اپنی بھڑاس نکال سکے۔۔
“آپ کا بھی صرف مجھ پر ہی زور چلتا ہے۔۔ اس حماد کے بچے کو کیوں کچھ نہیں کہتے؟؟؟
بلکہ قسم سے کسی طرح اسے میرے سامنے لے آئیں۔۔
میں اسے تین، چار تھپڑ لگا کر۔۔ اپنا دل ٹھنڈا کرنا چاہتی ہوں۔۔
Please!! Provide me only one chance..
پلیز میری!! میری یہ حسرت پوری کر دیں۔۔
اس کے بعد آپ جو کہیں گے۔۔۔
جیسا کہیں گے۔۔
میں مانوں گی۔۔
مجھ پر اپنا غصہ نکالیں۔۔ مجھے ٹارچر کریں۔۔ یا کچھ بھی کریں گے۔۔ تو میں کوئی شکوہ نہیں کروں گی۔”
وہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑے۔۔
عاجزی کی انتہا پر پہنچ کر۔۔ گڑگڑانے لگی۔۔
وہ ہذیانی سی ہو کر اپنے الفاظ دہرائے جا رہی تھی۔۔
جیسے اسے اندر ہی اندر یقین تھا کہ سامنے بیٹھا وہ شخص۔۔۔ اس کی سنے گا۔۔۔
وہ کسی عجیب احساس کے تحت۔۔ اپنے لیے سہارا تلاشتی۔۔ تحفظ ڈھونڈتی۔۔ روحان کے سینے سے لپٹ گئی۔۔
وہ جتنی شدت سے آنسو بہا سکتی تھی۔۔ اس نے بہائے۔۔
اس نے اپنے دل کا سارا بوجھ ہلکا کیا۔۔
روحان نے اسے یہ سب کرنے سے نہیں روکا۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس وقت اس کے تنکا تنکا ہوتے وجود کو اپنی بے رخی کی ہواؤں سے اڑا کر بکھیر دے۔۔
اس نے بھی اس کے گرد اپنا حصار مضبوط کر کے۔۔
اسے، اس کے ساتھ۔۔اس کے قریب ہونے کا احساس دلایا۔۔۔
مگر اب بھی وہ مکمل طور پر اسے معاف کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔۔
وہ چاہ کر بھی اس کی وہ خطا معاف نہیں کر پا رہا تھا،
بھلا انسانوں میں اتنا ظرف ہوتا بھی کہاں ہے۔۔ کہ وہ کسی سے درگزر کر سکیں۔۔
یہ تو بس اللّٰه ہے۔۔ جو ہمارے ایک آنسو پر ۔۔ ساری زندگی کی خطائیں معاف کر دیا کرتا ہے۔۔
وہی تو ہے۔۔ جو ایک دفعہ پکارنے پر ہمارا ہر غم سن لیتا ہے۔۔
ہر تکلیف کا مداوا کرتا ہے۔۔
بعض اوقات وہ تکلیف میں مبتلا ہی اس لیے کرتا ہے تاکہ ہم اسے یاد کریں۔۔
اس کی طرف لوٹیں۔۔
اسے پکاریں۔۔
کبھی کبھی ہماری تکالیف ہمارے اوپر اس کی نافرمانیوں کے عذاب کی صورت مسلط ہوتی ہیں۔۔۔
اور کبھی کبھی یہ آزمائشیں۔۔ ہمارے لیے زندگی کو بہتر بنانے۔۔ ہمارے وجود سے گناہوں کا بوجھ ہلکا کرنے اور بہت سے اچھے سبق دینے کے لیے آتی ہیں۔۔
نایاب کی زندگی میں بھی یہ آزمائش شاید اس لیے ہی آئی تھی تاکہ وہ اپنا لائف سٹائل بدل سکے۔۔
وہ بھی اللّٰه کو اتنی ہی عزیز تھی جتنا کہ کوئی اور۔۔
اور اس دنیا کے انسانوں اور اس کے مظالم کی اللّٰه کی بادشاہت کے آگے بھلا کیا اوقات۔۔
اور ویسے بھی وہ رحمان بھلا کسی جان پر اس کی سکت سے زیادہ بوجھ بھی کب ڈالتا ہے۔۔
_____×××××_____
جب وہ اچھی طرح اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر چکی تو۔۔اس نے خود کو روحان سے علیحدہ کیا۔۔
روحان بھی اسے بغیر کچھ کہے روم سے باہر نکلا۔۔
اب نایاب کی طبیعت بھی سنبھل چکی تھی۔۔
وہ ڈاکٹر سے بات کرے اور ڈسچارج فارمیلیٹیز پوری کر کے۔۔۔ نایاب کو چلنے کو کہا۔۔
اس نے نایاب کو سہارا دے کر اٹھنے میں مدد کی۔۔ اور اس کا ہاتھ تھامے کار تک لایا۔۔
اس کے اندر بھی ایک بہت بڑی کشمکش چل رہی تھی،،
وہ جس لڑکی پر بار بار نفرت جتانے کی کوشش کرتا۔۔
وہی لڑکی۔۔ اور اس لڑکی کے درد۔۔ اسے بے چین کر دیتے۔۔
وہ خود ہی اس کے غم کا۔۔ اس کی مصیبتوں کا سبب ہوتے ہوئے بھی ۔۔ اسے درد دینے ہوئے بھی۔۔ اذیت میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔
بہت مشکل سے گزر رہا تھا وہ۔۔ کیونکہ دل و دماغ کے درمیان چھڑی جنگ بہت اذیت ناک ہوتی ہے۔۔
وہ کار میں بیٹھ کر کار ڈرائیو کرنے لگا۔۔
نایاب اس کے بائیں جانب فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی۔۔
بالکل ساکت نگاہیں۔۔ سامنے سڑک پر مرکوز کیے اپنے لیے۔۔ اپنی مصیبتوں سے رہائی کا راستہ ڈھونڈنے کی سعی کر رہی تھی۔۔
بے دھیانی میں وہ مسلسل۔۔ کچھ دیر پہلے۔۔ ہاسپٹل میں ہوئے واقعات کے متعلق سوچے جا رہی تھی۔۔
کار میں چھائے سرد پن کو نایاب نے اپنی آواز سے ختم کیا۔۔
“آپ مجھے کہاں لے جا رہے ہیں؟؟”
“تمہارے گھر ۔۔ اور کہاں۔۔؟؟” اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔
“میرے گھر۔۔؟؟ میرا گھر بھلا کونسا ہے..؟؟ وہ تو مام کا گھر ہے۔۔ جہاں میرا داخلہ اب ممنوع ہو چکا ہے۔۔ آپ مجھے کیوں وہاں لے کر جا رہے ہیں۔۔؟؟ مام نے اب تک ڈیڈ کو سب کچھ بتا دیا ہوگا۔۔ میں بھلا کیسے وہاں جا سکتی ہوں؟؟؟” اس نے دبی دبی سسکیاں لیتے ہوئے،،
گھٹتی ہوئی آواز میں کہا۔
“پاگل مت بنو نایاب۔۔ وہ تمہارا گھر بھی ہے۔۔ وہ تو آنٹی نے غصے میں وہ سب کہ دیا۔۔ ورنہ دل سے کبھی کوئی ایسا فیصلہ نہیں کر سکتیں۔۔ اور تم خود کو پر سکون رکھو۔۔ ابھی تمہاری طبیعت صرف بہتر ہوئی ہے۔۔ تم مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئی۔۔ سو ۔۔ اس لیے ایسی باتیں کر کے خود کو پریشان مت کرو۔۔” روحان نے سختی سے اسے جھڑکا۔۔
وہ ایک بار پھر سے خاموش ہو کر بیٹھ گئی۔۔
کچھ دیر بعد اس کی طبیعت پھر سے خراب ہونے لگی۔۔
اسے گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔۔
“روحان پلیز گاڑی روکو۔۔ مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے۔۔ مجھے کچھ دیر تازہ ہوا میں سانس لینا ہے۔۔”
اس نے نڈھال سی آواز میں کہا۔۔
شاید اسے متلاہٹ محسوس ہو رہی تھی۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: