Mujhe Tera Har Zulm Qabool Novel By Suhaira Awais – Episode 9

0
مجھے تیرا ہر ظلم قبول از سہیرا اویس – قسط نمبر 9

–**–**–

شاید اسے متلاہٹ محسوس ہو رہی تھی۔۔
روحان نے تھوڑا آگے جا کر زرا کم رش والی جگہ پر۔۔ روڈ کے ایک طرف کار روکی۔
نایاب فوراً کار کا ڈور unlock کر کے باہر نکلی۔۔
اب وہ کھلی ہوا میں تھوڑا بہتر محسوس کر رہی تھی۔۔
شکر تھا کہ اسے الٹی نہیں آئی۔۔
بخار ابھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوا تھا۔۔ سو اس لیے اسے تھوڑی تھوڑی دیر بعد متلی ہورہی تھی۔۔ جیسا کہ عام طور پر بخار کی حالت میں ہوا کرتا ہے۔۔
“پانی۔۔!!” اس نے پیاس محسوس ہونے پر پانی طلب کیا۔۔
روحان دوڑ کر کار میں سے ہی پانی کی bottle لایا۔۔
اس نے غٹاغٹ ایک سانس میں بہت سا پانی پیا۔۔
تھوڑی دیر وہاں کھڑے رہنے کے بعد روحان نے پوچھا “چلیں..؟؟” تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
روحان اپنی ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔
اس کے ڈور کا رخ روڈ کی اس طرف تھا جہاں سے ۔۔۔ کافی دیر کے بعد ایک آدھی گاڑی نہایت تیز رفتاری سے گزرتی۔۔
اب بھی ایک گاڑی ایسی ہی تیز رفتاری سے وہاں سے گزری۔۔
روحان اس کار کو دیکھ نہیں سکا کیونکہ اس تیز رفتار کار کی طرف روحان کی پیٹھ تھی۔۔
اس کار کو نایاب وہیں اپنی سائیڈ پر موجود کار کے دروازے۔۔ جسے اس نے اپنے بیٹھنے کے لیے کھولا ہی تھا،، کے پاس کھڑی دور سے آتا دیکھ رہی تھی۔۔
اور پھر اس کا دھیان روحان کی بے دھیانی کی طرف گیا۔۔
اس نے وہیں سے گلا پھاڑ کر روحان کو پکارا ۔۔۔۔۔
اور نجانے اس کے ناتواں اور بیمار وجود میں اتنی طاقت۔۔اتنی پھرتی کہاں سے آئی کہ وہ ایک دم اپنی جگہ سے پٹی اور دوڑ کر روحان تک گئی۔۔۔
اور اس نے ایک دم لپک کر اپنی پوری طاقت سے روحان کو اپنی طرف کھینچا۔۔
یہ ساری چند لمحوں کی کارروائی تھی۔۔
اگر نایاب اس لمحے اپنی حاضر دماغی سے فائدہ نہ اٹھاتی۔۔ تو یقیناً وہ کار روحان کچل ہی دیتی ۔۔۔
کیونکہ روڈ پر رات کے اندھیرے اور کار کی ہیڈ لائٹس آف ہونے کی وجہ سے کوئی دور سے آتی انکی موجودگی بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔
×××==×××==×××
روحان کو اس طرح زور سے کھینچنے پر ۔۔۔ اس کا بیلنس لوز ہوا اور وہ دھڑام نیچے۔۔
وہاں روڈ کی سائیڈ پر جگہ کچی تھی۔۔ ورنہ اسکی بھی کوئی ٹھیک ٹھاک injury ہو سکتی تھی۔۔
روحان کا بھاری وجود اس کے اوپر تھا۔۔ اسے تو کچھ سیکنڈز کے لیے سمجھ ہی نہیں آئی کہ آخر ہوا کیا ہے۔۔
نایاب نے اپنے گھٹتی ہوئی سانسوں کے ساتھ اسے خود سے دور ہٹانے کی کوشش کی۔۔ تو روحان ہوش میں آیا۔۔ وہ اپنی کونی کا سہارا لے کر اٹھنے لگا۔۔۔۔
نایاب نے ذرا سی حرکت کر کے ۔۔ اٹھنے کی سعی کی۔۔ وہ زمین سے تو اٹھ چکی تھی۔۔ مگر اب بھی وہیں بیٹھی تھی۔۔
جبکہ کے روحان کھڑا ہوکر اپنی بلو ڈریس شرٹ کی،، ہاتھ کے ایک چوتھائی حصے تک چڑھی ہوئی آستینیں جھاڑ رہا تھا۔۔
اس نے آستینیں جھاڑ کر۔۔
اپنا ہاتھ نایاب کی طرف بڑھایا تو۔۔
نایاب اس کا تھام کر۔۔
اپنا سارا زور اس کی ہتھیلی پر ڈالتے اٹھی۔۔
اس کا سارا کرتا۔۔ مٹی مٹی ہو گیا تھا۔۔
اور پچھلی طرف سے کندھے میں درد ہو گیا تھا۔۔
اب وہ اپنے کپڑے جھاڑ رہی تھی۔۔ اور روحان عجیب سی کیفیت میں گِھرا۔۔ اسے مسلسل دیکھ رہا تھا۔۔
نایاب نے اس کی نظریں خود پر محسوس کر کے۔۔ اس کی طرف اپنی توجہ مبذول کی۔۔
اس نے عام سے لہجے میں۔۔
اس کی نظروں سے پزل ہوتے ہوئے۔۔اس سے سوال کیا۔۔”ایسے کیا دیکھ رہے ہیں۔۔ میرے سر پر سینگ اگ آئے ہیں یا میرے دانت vampires کی طرح باہر نکلے ہوئے ہیں۔۔؟؟”
اس نے غصے سے پوچھا۔۔ کیونکہ اسے روحان کی۔۔ اس قدر لاپروائی اور بے دھیانی پر غصہ آ رہا تھا۔۔۔ اگر اسے کچھ ہو جاتا تو۔۔۔؟؟
ہاں ابھی۔۔ بھی اس بے وقوف سی نایاب کے دل میں اس کے لیے ایسے ہی جذبات تھے۔۔ بلکہ یہ جذبات ابھی ہی تو پیدا ہوئے تھے۔۔
ابھی ہی تو وہ اسے کھونے سے ڈرنے لگی تھی۔۔
اس شخص کو کھونے سے۔۔۔ جو ابھی پوری طرح اس کا ہوا ہی نہیں۔۔
نایاب اس طرح غصہ کرتی ہوئی ایک تو اسے بہت کیوٹ لگ رہی تھی۔۔ اور دوسرا۔۔ روحان کو سینگوں اور دانتوں والی بات بھی۔۔ اتنی funny لگی۔۔کہ اس کے لیے اپنی ہنسی روکنا مشکل ہو گیا تھا۔۔
وہ تھوڑی دیر پہلے ہوئے واقعے کو فراموش کیے بری طرح ہنس رہا تھا ۔۔۔
یہ بات نایاب کو اور بھی زیادہ تپا رہی تھی۔۔۔۔
ایک طرف روحان نے اس کی زندگی مشکل میں ڈالی ہوئی تھی۔۔اوپر سے اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھونے والا تھا کہ بچ گیا۔۔
اور اب دانت ایسے نکال رہا تھا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔۔
“کیا مسئلہ ہے؟؟ اب دانت کیوں پھاڑ رہے ہیں؟؟”
“کچھ نہیں محترمہ۔۔!! میرے خیال سے۔۔ اب ہمیں چلنا چاہیے۔۔”
روحان نے نایاب کو چڑتا ہوا دیکھ کر۔۔ اپنی ہنسی دبائی۔۔
اور اب دھیان سے ادھر اُدھر دیکھ کر۔۔اپنی سیٹ تک گیا۔۔ اور کار اسٹارٹ کی۔۔
نایاب بھی اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی سیٹ بیلٹ لگا رہی تھی۔۔ اور ساتھ میں کچھ بڑبڑا رہی تھی۔۔
انداز۔۔ روحان کو۔۔ کھری کھری سنانے والا تھا۔۔
“اگر تم ذرا اونچا بولو گی۔۔ تو شاید میں بھی۔۔اپنی تعریفیں سن سکوں گا۔۔!” روحان نے ایک نظر شرارت سے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔۔
“ہاں۔۔ سن لیں۔۔ آپ ہی کی تعریفیں کر رہی تھی۔۔ وہ میں کہ رہی تھی۔۔کہ۔۔ آپ کو الزامات کے بدلے لینا تو خوب آتا ہے۔۔ آپ کی جان بچائی ہے۔۔ آگے سے ایک تھینکس بھی۔۔ نہیں بولا۔۔میں ہی پاگل ہوں جو خواہ مخواہ میں نے اپنا کندھا بھی دکھا دیا۔۔” وہ اپنا کندھا ایک ہاتھ سے سہلاتے ہوئے۔۔اچھی طرح سے ناراض ہوکر بول رہی تھی۔۔
روحان کو اس کے ایسے روٹھنے پر بے تحاشا پیار آیا۔۔
ان دونوں کی زندگیاں بہت تیز بدلاؤ کا شکار تھیں۔۔۔
“اوہ ہاں۔۔!! یہ تو میں بھول ہی گیا۔۔ تمہارا یوں ایک دم ۔۔اتنے جنونی انداز میں چیخنا اور میری طرف بڑھنا۔۔ مجھے بچانا۔۔ یہ سب آخر تم نے کیوں کیا۔۔؟؟ ” اس نے تھینکس کی بجائے۔۔ نایاب سے ہی سوال کر ڈالا۔۔بہت بے مروت تھا وہ۔۔
“مجھے نہیں پتہ۔۔ وہ سب میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔ وہ خود بخود مجھ سے ہو گیا۔۔” نایاب بھی اب اپنے اوپر تھوڑا سا حیران ہوئی تھی۔۔ لیکن اس نے بالکل نارمل۔۔ اور بے تاثر ہو کر جواب دیا۔۔۔
اس کا ذہن اب پھر سے اپنی مشکلات کے گرد گھومنے لگا تھا۔۔ وہ اندر سے ڈری ہوئی تھی۔۔ وہ خود سے سوال کر رہی تھی۔۔ اپنی مصیبتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا طریقہ پوچھ رہی تھی۔۔ جس کا جواب اسے مل کے ہی نہیں دے رہا تھا۔۔
روحان کی آواز نے ایک بار پھر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔
“ویسے میں تو سوچ رہا تھا کہ تم میرے مرنے کی دعائیں کرتی رہی ہوگی۔۔ بٹ یو ہیو saved مائی لائف۔۔،، میں تمہیں تھینکس نہیں بولوں گا۔۔ کیونکہ شاید میرا یہ تھینکس تمہارے اس احسان کے سامنے بہت چھوٹا ہے۔۔” ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ نایاب نے اس کی بات کاٹی۔۔
“دعا۔۔؟؟ دعا تو میں نے کبھی اپنے لیے نہیں کی۔۔ ہاں۔۔ میں کب سے سوچ رہی تھی۔۔ کہ میں کیسے اپنی مصیبتوں سے نجات حاصل کروں۔۔ مجھے دعا مانگی چاہیے۔۔ وہ اللّٰه تو سب کی سنتا ہے۔۔ اور میں نے اس کی کبھی نہیں سنی۔۔ اتنا سب ہونے کے بعد بھی میں نے اسے یاد نہیں کیا۔۔۔ اُف!! کیسی لڑکی ہوں میں۔۔ میں نے اللّٰه کو یاد نہیں کیا۔۔ اگر میں اللّٰه سے دعا کرتی اور اپنے مسئلے ڈسکس کرتی۔۔ تو وہ میری بات اچھے سے سنتا اور مجھے بے حیا اور بدکردار بھی نہ کہتا۔۔ اوہ خدایا۔۔ میں کیوں یہ بات نہیں سمجھ سکی۔۔”” وہ ایک عجیب سے، سرشار لہجے میں۔۔ لڑی کی طرح مسلسل آنسو بہاتی خود سے کہ رہی تھی۔۔
اسے ایک عجیب سی خوشی مل رہی تھی۔۔
کہ آخر اسے وہ راز مل گیا تھا۔۔ وہ راستہ مل گیا تھا۔۔ جس پر چل کر وہ اپنی زندگی کا کھویا سکون واپس حاصل کر سکتی تھی۔۔ ہاں اسے دعا مانگنی تھی۔۔ اسے اللّٰه کو پکارنا تھا۔۔
وہ اپنے آپ سے اس طرح باتیں کرتی ہوئی۔۔ روحان کو پاگل لگ رہی تھی۔۔
اس نے کار ذرا سی سلو کر کے۔۔نایاب کی طرف دیکھا۔۔
“Are you okay??”
اس نے پریشانی سے پوچھا۔۔
نایاب نے اس کی تشویش سمجھتے ہوئے اپنے آنسو صاف کیے۔۔ اور خود کو نارمل کرنے لگی۔۔
“ہاں۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔ مجھے بھلا کیا ہونا ہے؟؟” اس نے الٹا اسی سے سوال کیا۔۔
روحان کو تو اس کی دماغی حالت پر شک ہوا۔۔پر وہ کچھ بولا نہیں۔۔
×××××
وہ لوگ گھر پہنچ چکے تھے۔۔ روحان بھی اپنے گھر جانے کی بجائے۔۔ اسے چھوڑنے کے لیے اس کے ساتھ۔۔ اس کے گھر آیا۔۔
اس کی مام وہیں صوفے پر بیٹھیں۔۔اپنا سر پکڑے۔۔ اس ڈیڈ کے ساتھ لاؤنج میں موجود تھی۔۔
نایاب کو لاؤنج کے دروازے سے اندر داخل ہوتا دیکھ کر ان کا غصہ ابلنے لگا۔۔
وہ سرعت سے اپنی جگہ سے اٹھیں۔۔ اور نایاب کو زور دار تھپڑ رسید کر نے کے لیے۔۔اپنا ہاتھ ہوا میں اٹھایا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: