Mujhe Tera Har Zulm Qabool Novel By Suhaira Awais – Last Episode 11

0
مجھے تیرا ہر ظلم قبول از سہیرا اویس – آخری قسط نمبر 11

–**–**–

شاید وہ تھک چکا تھا اس لڑکی کو تکلیف دیتے دیتے۔۔
جس میں اس کی سانسیں بستی تھیں۔۔
وہاں سب کے سروں پر ایک اور بم پھوٹا۔۔۔
“بیوی؟؟”
“یہ کب سے تمہاری بیوی ہو گئی۔۔؟؟” روحان کی ماما کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔
“ہاں یہ میری بیوی ہے۔۔ میرے نکاح میں ہے۔۔
اور سب یہ سن لیں۔۔!!
کہ یہ نکاح میں نے زبردستی۔۔کیا ہے۔۔
اس میں نایاب کی کوئی مرضی نہیں تھی۔۔
اب جس کو کوئی بات کرنی ہو وہ مجھ سے کرے۔۔نایاب کو تنگ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں آپ سب کو۔۔!!” روحان نے سختی سے سب کو خبردار کیا۔
“اگر آپ سب کو میری بات ہضم ہو جائے تو مجھے بتا دیجیۓ گا۔۔ میں پورے استحقاق کے ساتھ اسے رخصت کر کے لے جاؤں گا۔۔ اور تب تک یہ یہیں رہے گی۔۔!!”
اس نے ایک اور فرمان جاری کیا۔
نایاب اب روحان کے بالکل ساتھ۔۔ زمین پر اپنی نظریں گاڑھے۔۔کھڑی۔۔اب تک مسلسل اپنے ہونٹ کاٹتے آنسو روکنے کی ناکام کوششیں کرتی روئے جا رہی تھی۔۔
وہ بالکل۔۔۔روحان سے اپنے لیے کسی بھی قسم کی سپورٹ کی امید کھو چکی تھی۔۔ اب اسے اس کے الفاظ سے بہت سہارا ملا تھا۔۔
“یہ تم لوگوں نے آپس میں کیا کھچڑی بنائی ہے۔۔؟؟
اگر دونوں نے شادی ہی کرنی تھی تو بتادیتے۔۔ ہم لوگوں نے کیا منع کرنا تھا۔۔؟؟” نایاب کے ڈیڈ تذبذب کا شکار تھے۔
“ماموں کوئی ڈراما نہیں ہے یہ۔۔
بلکہ حقیقت ہے یہ ۔۔۔
دراصل ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا۔۔ یہ تو ہمارا نصیب تھا۔۔
میں چاہتا تو یہ سب آپ لوگوں کو بتائے بغیر ایک نارمل زندگی شروع کردیتا۔۔مجھے اب نایاب سے کوئی گلا بھی نہیں۔۔
لیکن میں بس آپ لوگوں کے اعتبار کا لیول جاننا چاہتا تھا۔۔
ایک میرے بابا اور آپی ہیں کہ انہوں نے کسی تیسرے کی باتوں میں آکر مجھ پر یقین نہیں کیا اور دوسری آنٹی جنہیں اپنی بیٹی کے کردار پر شک ہے۔۔!!
کیسے والدین ہیں آپ لوگ۔۔! اپنی تربیت پر بھروسہ نہیں۔۔
بھروسہ ہوگا بھی کیسے۔۔!!
آپ لوگوں نے ہماری تربیت کی ہوتی تو بھروسہ ہوتا۔۔!!
جب آپ لوگوں کا کام تھا کہ ہمیں اچھے برے کی تمیز سکھائیں۔۔۔ تب ہر وقت کی سوشل گیدرنگز میں آپ لوگوں نے اپنے بچوں کی تربیت کو اگنور کیا۔۔ اور آج۔۔ہم پر ہی بے حیائی۔۔اور بدکرداری کے الزام لگا رہے ہیں۔۔!!” روحان نے بڑی ڈھٹائی سے۔۔ سب بڑوں کو آئینہ دکھایا۔۔ اور ان کی کوتاہیوں کی ان پر خوب نشاندھی کی۔۔
“اور بہت بہت شکر ہے اللّٰه کا کہ آپ لوگوں نے ہماری تربیت خود نہیں کی۔۔ ورنہ ہم سچ مچ میں وہی ہوتے ۔۔ جس کا آپ لوگ ہمیں مجرم ٹھہرا رہے ہیں۔۔”
روحان نے ایک اور تلخ حقیقت وہاں بیٹھے سبھی نفوس کی سماعتوں کی نظر کی۔
اس کے اس قدر گستاخ رویے پر سب مشتعل ہو گئے۔۔
روحان کے ڈیڈ نے تو اٹھ کر ایک بعد ایک کر کر کے پانچ تھپڑ اسے رسید کیے۔۔
“ذلیل انسان۔۔ اپنے ماں باپ کے متعلق ہی اتنی گھٹیا باتیں کر رہے ہو۔۔؟؟ ساری زندگی ہماری دولت کے بل بوتے پر عیش کر کر کے اب ہماری تربیت پر انگلی اٹھا رہے ہو۔۔ دفع ہو جاؤ کہیں تمہیں میرے گھر میں داخل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔ اور نہ ہی اس بے غیرت لڑکی کی میرے گھر میں کوئی جگہ ہے۔۔” روحان کے بابا کا بلڈ پریشر بھی ہائی ہو گیا تھا۔۔
“ہاں تو مجھے بھی آپ کی دولت کی کوئی ہوس نہیں۔۔ آج سے میری ذمہ داری ختم۔۔ آپ کے شاپنگ مال کو سنبھالنے کی۔۔۔رکھیں اپنی حرام سود سے کمائی ہوئی دولت اپنے پاس۔۔اور نہ ہی میں اتنا گیا گزرا ہوں کے حرام کے لالچ میں آ جاؤں گا” روحان نے بھی بدتمیزی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔۔ وہ بھی اپنا ایک ہاتھ اپنے گال پر رکھ کر اسے سہلاتے ہوئے غصے سے پھنکار رہا تھا۔
اصل میں روحان کی نیچر اس کے پیرنٹس سے بالکل مختلف تھی۔۔ وہ پہلے ہی کافی دنوں سے اپنے بابا کو، اکیلے میں اس حرام دولت سے دستبردار ہونے کا بولا تھا۔۔ جس پر اس کے بابا اس سے خائف تھے۔۔ اور اسلیے ہی نایاب کے لگائے الزام کو اچھال کر۔۔ بڑھا چڑھا کر۔۔ الٹا اسی سے ناراض ہو کر بیٹھے تھے۔۔
روحان کو اپنے بابا کی یہ حرکت کافی ڈسٹرب کر رہی تھی۔۔ اور یہ بات اب روحان کو سمجھ آئی تھی کہ اس نے دراصل اپنے بابا کا غصہ نایاب پر اتارا تھا۔۔
وہ اپنی اصل بے چینی اب جان گیا تھا۔۔
اور اس کا دل اچھا خاصہ ٹھنڈا ہو گیا تھا۔۔
“بیٹا تم یہ اپنے بابا سے کیسے بات کر رہے ہو؟؟ کون پڑھا رہا ہے تمہیں یہ پٹیاں..؟؟ ” روحان کی ماما اپنے ماتھے پر بل چڑھائے سخت لہجے میں اسے ڈانٹ رہی تھیں۔
“ماما میں بچہ نہیں ہوں جو مجھے حلال حرام کا فرق نہیں پتہ ہوگا۔۔!!
پتہ تو آپ سب کو ہے۔۔
پر سب نے الو کی طرح اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔۔ آپ۔۔ بابا۔۔ ماموں اور آنٹی سب ایک جیسے ہیں۔۔
سب نے اپنی اولاد کی پرورش حرام مال سے کی۔۔
دیکھا ہے آپ نے دانیال کو۔۔
وہ بچارا کس قدر بھٹک گیا ہے۔۔
آپی اور سیما باجی کونسا پارسا ہیں۔۔
دونوں کی شادیاں ہو گئیں پر ابھی تک غیر مردوں سے تعریفیں سننے کے لیے ترستی ہیں۔۔
اور آپی کو دیکھیں۔۔ مجھ سے ناراض ہو کر دکھا رہی ہیں۔۔
ماما ہم سب یہاں ایک سے ہیں۔۔ کوئی کسی سے کم نہیں۔۔!!
سب برابر کے قصوروار ہیں۔۔
کوئی دوسرے کو گھٹیا اور کم تر کہنے کا حق نہیں رکھتا۔۔
دیکھیں جو سب کچھ میں نے کہا وہ بلاشبہ غلط نہیں تھا لیکن میں اپنے تلخ لہجے اور بد تمیزی کے لیے معافی چاہتا ہوں۔”اس نے اپنی بات کو سمیٹنا چاہا۔
“خوب کہی تم نے بیٹا۔۔ ہمیں اس قدر بے عزت کر کے۔۔
اچھی طرح ذلیل کر کے اب معذرت کر رہے ہو۔” نایاب کے ڈیڈ بھی ایک کڑوی نظر روحان پر ڈال کر بولے۔
ماحول میں تناؤ بہت بڑھ چکا تھا۔
نایاب کے لیے اپنی ناساز طبیعت کی وجہ سے وہاں مزید کھڑا رہنا مشکل ہو رہا تھا۔
روحان نے اس کی مشکل بھانپتے ہوئے اسے اپنے روم میں جاکر آرام کرنے کو بولا۔
وہ بے چاروں کی طرح چپ چاپ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے روم کی طرف بڑھنے لگی تھی کہ مام کی آواز نے اس کے قدم روکے۔
“یہ تمہاری بیوی ہے نا۔۔ اس منحوس کو اپنے ساتھ ہی لے جاؤ۔۔ کوئی ضرورت نہیں ہے اسے یہاں رہنے کی۔۔”
“یہ اس کا میکہ ہے۔۔ اور جب تک میں اسے نہیں لے کر جاتا۔۔ تب تک یہ یہیں رہے گی۔۔!!” روحان نے ضد سے کہا۔۔ اور خود ہی ہاتھ پکڑ کر اسے اس کے روم تک لے گیا۔
وہ اسے روم میں چھوڑ کر لاؤنج تک آیا تو اس کے ماما بابا وہاں موجود نہیں تھے۔۔لیکن نایاب کے پیرنٹس ابھی تک منہ بنائے اور اپنا سر پکڑے وہیں براجمان تھے ۔۔۔ روحان کو وہاں سے گزرتا دیکھ کر ایک قہر زدہ نظر اس پر ڈالی۔۔
نایاب کے ڈیڈ تو اب وہاں سے اٹھ کر روم میں آچکے تھے اور فریش ہونے کے بعد بیڈ پر اپنے نائٹ سوٹ میں ملبوس۔۔ لیٹے ہوئے روحان کے کہے لفظوں پر غور کر رہے تھے۔۔ نیند تو شاید آج رات انہیں آنی نہیں تھی۔
نیند تو بلکہ نہ روحان کے ماما بابا کو آنی تھی اور نہ ہی نایاب کی مام کو آرہی تھی۔
اس لیے تو تھوڑی دیر بعد جب روحان دوبارا نایاب کے گھر اپنا حلیہ تبدیل کیے،، مطلب لوز سا ٹراؤزر اور ہاف سلیوز والی ٹی شرٹ پہنے آیا تو اس کی ساسو ماں ابھی بھی وہاں براجمان تھیں اور نجانے کیا سوچ رہی تھیں۔۔
اس کو واپس آتا دیکھ کر ان کے ماتھے پر شدید بل آگئے۔۔
“یہ تم دوبارا یہاں کیا کرنے آئے ہوں۔۔!!” انہوں نے روحان کو اچھی طرح اپنی نظروں سے scan کرتے ہوئے پوچھا۔
“آنٹی۔۔!! آپ اپنے چہیتے داماد کی خاطر مدارت کرنے کی بجائے، اس کے، اپنے سسرال آنے پر ہی سوال کر رہی ہیں۔۔ ویری بیڈ۔۔!!” روحان نے بالکل بچہ بنتے ہوئے۔۔ ہلکے پھلکے لہجے سے کہا اور انہیں مزید جلایا۔
تھوڑی دیر پہلے ہونے والے تماشے کے آثار اس کے لہجے میں کہیں نہ تھے۔۔
“تمہاری خاطر مدارت۔۔!! میرا دل چاہ رہا ہے کہ۔۔ میں اپنا جوتا اتار کر تمہیں خوب پیٹوں۔۔ !! دفع ہو جاؤ میرے گھر میں سے۔۔” نایاب کی مام غرائیں۔۔
روحان کو اب ان کے غصے پر ہنسی آ رہی تھی۔
“دیکھیں۔۔ میں نے کہا نا کہ یہ میرا سسرال ہے۔۔!! میں تو نہیں دفع ہونے والا یہاں سے کیوں کے میری بیوی یہاں پر ہے۔۔۔ اور اگر آپ کا مجھے مارنے کا دل کر رہا ہے۔۔تو۔۔ موسٹ ویلکم۔۔ اب تو میں آپ کا بیٹا ہوں۔۔ مار سکتیں ہیں آپ۔۔” روحان نے بھرپور سعادت مندی کا مظاہرہ کیا۔۔
اس کی ٹون تو بالکل ہی بدل گئی تھی۔۔
نایاب کی مام اسے حیران ہو کر دیکھ رہی تھیں۔۔
“آنٹی۔۔۔” اس نے بہت پیار سے انہیں مخاطب کیا۔
“اب کیا مسئلہ ہے۔۔؟” انہوں نے بہت خفگی پلس بیزاری سے کہا۔
“وہ میں کہ رہا تھا کہ ائم سوری۔۔ میرے ہر اس رویے اور بات کے لیے جس سے میں نے آپ کو ہرٹ کیا۔۔ آپ انکل سے بھی میری طرف سے معذرت کر لیجئے گا۔۔ بلکہ آج سے آپ دونوں میرے بھی مام ڈیڈ ہیں۔۔۔ دیکھیں آنٹی۔۔ میں بھی انسان ہوں۔۔۔ اب کچھ خامیاں اور خرابیاں تو مجھ میں ہوں گی نا۔۔ بس آپ اپنا بیٹا سمجھ کر مجھے معاف کر دیں۔۔ میرا مقصد آپ سب کا دل دکھانا نہیں تھا۔۔ وہ سب مجھ سے بلا ارادہ ہو گیا۔۔ میں صرف اتنا چاہتا تھا۔۔ کہ ہمارے پاس ہمیشہ سے اللّٰه کا دیا بہت کچھ ہے۔۔۔ انسان کی مختصر سی زندگی ہے۔۔ کیوں نہ ہم لوگ حرام ذریعہ معاش کو چھوڑ کر صرف حلال کا کھائیں۔۔ یہ بات میں ماما بابا کو بھی سمجھا کر آیا ہوں۔۔ وہ ابھی تو ناراض ہیں مجھ سے۔۔ لیکن مجھے یقین ہے وہ مان جائیں گے۔۔ جیسے آپ مان گئی ہیں۔۔” اس نے بہت احترام سے ان کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر۔۔ ان کے پر اپنی رائے سے متفق ہونے کے تاثرات پڑھ کر مسکراتے ہوئے شرارت سے کہا۔۔
اور انہیں وہیں چھوڑ کر نایاب کے روم کی طرف بڑھ گیا۔
اس کی حرکت پر نایاب کی مام کے چہرے پر بھی مسکراہٹ ۔۔۔ چھا گئی۔۔ اور وہ بھی سر جھٹکتے اپنے روم کی طرف چلی گئیں۔۔
یقیناً اب ان سب کے طرز زندگی نے بدلنا تھا۔۔۔
وقت نے ان سب کو موقع دیا تھا بدلنے کا۔۔
××××××
وہ نایاب کے روم میں آیا تو وہ اب کالے رنگ کی قمیض پہنے۔۔ اپنا اسٹولر عجیب و غریب انداز میں لپیٹے۔۔ غالباً اس نے نماز پڑھنے کے لئے وہ اوڑھا تھا اور اسے صحیح سے لینا نہیں آیا تھا۔۔ اپنی قمیض کے بازو اوپر تک گیلے کیے ۔۔۔ اپنے پلازو کو بھی آدھے فٹ تک بھگوئے۔۔ نماز کی تیاری میں لگی ہوئی تھی۔
وہ اپنی الماری سے کوئی بیڈ شیٹ نکال کر۔۔ اسے اَن فولڈ کرکے اور پھر جائے نماز جتنے سائز میں ری فولڈ کر کے زمین پر بچھا رہی تھی۔۔
کیونکہ جائے نماز تو ان کے گھر میں تھا ہی نہیں۔
روحان جب روم میں آیا تو اس نے اسکا حلیہ وہی بیڈ شیٹ زمین پر بچھاتے وقت نوٹ کیا۔
اسے نایاب کو ایسے دیکھ کر بری طرح ہنسی آئی۔۔
اس کی ہنسی کی آواز سن کر ہی نایاب نے دروازے کی طرف دیکھا اور وہ بری طرح اچھلی۔۔
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟”
“میں بس دیکھنے آیا تھا کہ میری بیگم محترمہ کی طبیعت کیسی ہے۔۔!!” اس نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے کہا۔
“اوہ۔۔ اچھا۔۔ کچھ زیادہ ہی خیال نہیں آرہا آپ کو میرا۔۔؟؟” نایاب نے طنز کیا۔
“اب تمہارا خیال نہ کروں تو بھلا کس کا کروں۔۔” اس نے شرارت سے کہا۔۔
“اپنے پیرنٹس کا کریں۔۔ جن کے ساتھ آپ نے اتنی بدتمیزی کی ہے۔۔” اسے روحان کا ان سے بدتمیزی کرنا بالکل پسند نہیں آیا تھا۔
“ہاں۔۔ یہ بات تو درست کہی تم نے۔۔ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔۔ لیکن کوئی نہیں اب ان کا خیال کر نے کے لئے۔۔ ان کی بہو آ چکی ہے۔۔ سو میری جگہ وہ یہ سب کر لے گی۔۔ ” اس نے نایاب کے قریب آکر کہا۔
“ویسے تم یہ کیا کرنے لگی تھیں؟؟” اس نے نایاب کا اسٹولر کھول کر سیٹ کرتے ہوئے کہا۔
“نماز پڑھنے لگی تھی۔”
“تمہیں آتی ہے نماز پڑھنا۔۔؟؟”
“مجھے طریقہ یاد ہے لیکن نماز میں پڑھی جانے والی چیزیں نہیں۔۔آج تو بس مجھے جو یاد ہے وہ پڑھوں گی۔۔ لیکن میں آئندہ اس کو سیکھ کر صحیح سے پڑھا کروں گی۔۔” وہ بہت معصومیت سے بتا رہی تھی۔
“اچھا یہ بتاؤ حماد کا کیا کرنا ہے۔۔”
روحان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
نایاب نے اس کا ایک ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر۔۔ اپنا سر جھکا کر اس قصے کو بھولنے کی درخواست کی۔
“روحان۔۔!! میں نہیں چاہتی کہ اب مزید اس طرح کے جھگڑوں میں پڑوں۔۔۔ میں انتقام بھی نہیں لینا چاہتی۔۔ میں اپنا معاملہ اللّٰه پر چھوڑ چکی ہوں۔۔ اپ بھی اب یہ سب بھول جائیں۔۔ مجھے اب پتہ چلا ہے کہ گناہوں کا بوجھ کتنا بھاری اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔۔ میں اپنے اوپر کی گئی ہر زیادتی۔۔ ہر کسی کو معاف کرتی ہوں۔۔ تاکہ مجھے بھی میرے گناہوں کی معافی مل سکے۔۔آگے آپ کی مرضی۔۔” نایاب نے بہت گہرے لہجے میں کہا۔
روحان نے بہت پیار سے اس بدلی ہوئی نایاب کو دیکھا۔۔
وہ واقعی نایاب تھی۔۔ بہت نایاب۔۔ بالکل اپنے نام کی طرح۔۔
“اچھا چلو۔۔ اب بہت رات ہوگئی ہے۔۔ میں چلتا ہوں۔۔۔ تم اپنی نماز پڑھو۔۔!! اور سنو۔۔!! میں جلد ہی ماما بابا کو منا لوں گا۔۔ پھر ان شااللہ تمہیں بینڈ باجوں کے ساتھ اپنی دلہن بنا کر لے کے جاؤں گا۔۔” روحان نے نایاب کو چھیڑتے ہوئے کہا۔۔
اور اللّٰه حافظ کہتا روم سے چلا گیا۔
نایاب نماز پڑھ کر۔۔ بڑی مگن ہو کر۔۔اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے۔۔ آنکھیں بند کر کے اپنی زندگی کے آسان ہونے۔۔اور اس سے منسلک ہر شخص کی بھلائی اور عافیت کی دعائیں مانگ رہی تھی۔۔ اور ساتھ ہی اللّٰه کا بہت شکر بھی ادا کر رہی تھی۔۔ کہ اسے وہ سب مل گیا تھا۔۔ جس کی اسے ضرورت تھی۔۔ اسے راہنمائی۔۔ ہدایت۔۔ روحان جیسے سچے انسان کا ساتھ۔۔ اور دنیا کی ہر خوشی ملنے والی تھی۔
اسے خود کو اللّٰه سے جوڑنے کا راستہ مل گیا تھا۔
وہ بہت خوش نصیب تھی۔۔
تھوڑی سی مشکل کے عوض اس نے بہت کچھ پالیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: