Urdu Novels Zafar Iqbal

Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 1

Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin

ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 1

ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 1

–**–**–

یہاں سے بہت دور ، راوی کنارے مُلاں پور نامی ایک گاؤں ہے- یہ گاؤں حکومتی غفلت سے ہر سال سیلاب کی نظر ہو جاتا ہے اور حکومتی غفلت سے دوبارہ آباد بھی ہو جاتا ہے- یہاں کے لوگ جانگلی کہلاتے ہیں اور بڑے مہمان نواز واقع ہوئے ہیں-
میرا نام صلاح الدین ہے- پہلے دُنیا صلّو کہتی تھی ، اب سائیں صلّو- میرے مُرید راوی کے دونوں اطراف پھیلے ہوئے ہیں- میں اس قوم کا پِیر ہوں جو برسات میں ڈوب جاتی ہے ، گرمیوں میں سوکھ جاتی ہے ، اور جاڑوں میں ٹھٹھّر کے مر جاتی ہے- لیکن نعرہ پھر بھی حق سائیں کا ہی نعرہ لگاتی ہے-
میں فقیر کیسے ہوا ، صلاح الدین سے سائیں صلّو کیسے بنا ، یہ ایک طویل قصّہ ہے- بس اتنا سمجھ لیجئے کہ مذھب اور معاشرہ دو مختلف اطراف میں چل رہے تھے ، اور میں نے تیسری راہ اختیار کی- یہی کہانی میں آج آپ کو سنانے لگا ہوں-
میرے ماں باپ بچپن میں ہی دغا دے چکے تھے ، بس دور پار کے ایک چچا تھے جنہوں نے روکھی سوکھی کھلا کر کفالت کی- ھوش سنبھالا تو معلوم ہوا کہ کمہار ہوں اور جتنا بھی پڑھ لکھ لوں کمہار ہی رہونگا- چنانچہ اسکول میں وقت گنوانے کی بجائے بھانڈے بنانے والی آوی میں چچّا کا ہاتھ بٹانے لگا-
جب گھڑے ، چاٹیاں ، اور کُنیّاں بنا بنا کر تھک گیا تو قصد کاروبار کا کیا- کمالیہ سے ٹوبہ جانیوالی لاریوں میں جس جس نے بھی سفر کیا ، صلّو کا سرمہ ضرور خریدا ہو گا- اس کا ایک سُرمچو دیدہ وروں کے چودہ طبق روشن کر دیتا تھا- فقیر تو کچھ روز یہ دھندا کر کے لوٹ آیا ، کمالیہ والے آج بھی آنکھوں کے “ککرے” صاف کرتے ہیں-
گاؤں آکر “لکڑی کا کاروبار” شروع کیا- دن بھر کیکر کی مسکواکیں لئے “چِٹّی مسیت” کے سامنے کھڑا رہتا ، مگر دال کھانے والی قوم نے مسواک کا کیا کرنا تھا- کچھ روز مسجد کے سامنے ٹوپیاں ، تسبیحاں بھی سجائیں مگر مسیت میں پڑا “کھجّی ٹوپیوں والا ڈبّہ” کاروبار میں ہمیشہ رکاوٹ بنا رہا-
سال بعد مسجد کے ساتھ والی اسلامی کیسٹوں کی دُکان خالی ہوئ تو میری قسمت نے یاوری کی-
ملاں پور” میں 5 مساجد تھیں اور چھٹّی زیر تعمیر – ہر طرف چندے اور بندے جمع کرنے کا رجعان تھا- جمعہ کے دن یہاں کان پڑی آواز نہ سنائ دیتی- اس کے باوجود ہر مولوی کو گِلہ تھا کہ آوازِ حق ، خلقِ خُدا تک پہنچنے سے پہلے ہی فرقہء باطلہ کا لاؤڈ اسپیکر لے اُڑتا ہے-
میری مذھبی تعلیم اگرچہ صفر تھی مگر اسلامی کیسٹوں کا کاروبار خوب راس آیا- باتونی شروع سے ہی تھا- کاروباری نزاکتوں کے پیش نظر مدنی رومال بھی اوڑھ لیا ، انداز بھی خطیبانہ سا ہو گیا اور مجمع لگانے میں لطف آنے لگا-
دور سے ہی گاہک کے فرقے کا اندازہ لگانا ، شیلف سے جھاڑ پھونک کر مطلوبہ کیسٹ اُٹھانا اور خطیب کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملانا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا-
اس روز اگر میں مولانا کمالوی کا نیا والیم لینے کمالیہ نہ جاتا ، اور رستے میں بس خراب نہ ہوتی تو “عالیہ” سے میری کبھی ملاقات نہ ہوتی- لیکن اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا کہ آج میں راوی کنارے یہ آوازہ نہ لگا رہا ہوتا کہ شادی کر دریا میں ڈال !!!
ہوا یوں کہ ” اڈّہ موٹی کیکر” پر بس ایک چیخ مار کے رکی اور گھنٹہ بھر رکی رہی- ڈریور ، کنڈکٹر ، ہیلپر اور سواریاں مل جُل کر بس کی بیماری ڈھونڈنے لگے-
اسی لمحے ایک ماہ رُخ ہمراہ ایک قبول رُخ امّاں کے ، بس میں سوار ہوئ اور کپڑوں سے بھری گٹھڑی میری گود میں ڈال دی- میں جو تین والی سیٹ پر پھیل کر بیٹھا ہوا تھا استغفار پڑھ کر سمٹا ، پھر جو پھیلنا شروع ہوا تو ماں بیٹی نے استغفار پڑھنی شروع کر دی-
کمالیہ تک آنکھ مٹکّا جاری رہا- سلونی جھال پر میں نے ادھ پاؤ سیو بیر خریدے اور امّاں کے حضور نذر کئے- رجانہ آیا تو اماّں نے مرُنڈے کا ٹُکڑا پیش کیا- کچھ سفر کے بعد وہ لوگ ” پنڈ دھوبیاں” اترنے لگے تو پیچھے پیچھے میں بھی اتر گیا-
امّاں نے پوچھا پُتّر کدھر جانا ہے-
میں نے کہا امّاں بزرگوں کی خدمت میرا شعار ہے اور اسی میں دوجہاں کی کامیابی ہے- پھر یہ کہانی گھڑی کہ ایک پرانے بیلی سے ملاقات کےلئے دھوبیاں کی نیت باندھی تھی- راستہ معلوم نہیں- خدا نے سبب کیا ، صد شکر کہ قافلہ میسر آیا-
یوں میں گٹھڑی سر پہ اٹھائے برابر دو کلومیٹر چلتا رہا- وہ لوگ گاؤں کو چیرتے ہوئے اپنے محلہ کے گھاٹ پر جا اُترے- ماہ رُخ نے کپڑوں کی گٹھڑی میرے سر سے اتاری مگر پیار والی پنڈ ہمیشہ کےلیے رکھ دی-
چنانچہ میری دکان کو تالہ پڑا- ہر روز مونہہ اندھیرے مشکی صابن سے نہا کر ، تیل سرسوں سر پر جما کر ، اور خوُد پہ عطر پھلیل چھڑکا کر سیدھا ” پنڈ دھوبیاں” جا پہنچتا- مُلاں پور والے بھی حیران تھے کہ “دھوبیاں” میں کس خطیب کا ظہور ہوا ہے جو صلّو روز بھاگا جاتا ہے- کسی کو میرے عشق کی خبر نہ تھی ، سوائے صادق سیکلوں والے کے-
اڈے پر اس کی سائیکلوں کی دکان تھی- یہی دکان میرا پکّا “ٹھیّا” بن گئ- میں سارا دن صادق کے پاس بیٹھا مکھیاں مارتا رہتا-ایک آنکھ سے کانا صادق دور اندیش بندہ تھا- اس نے میری حالتِ زار پر رحم کھایا اور مذکورہ گھرانے میں میرے رشتے کا پیغام بھجوا دیا- وہ لوگ بھی شاید کسی اچھّے جوائ کے انتظار میں تھے- ایک مبارک ساعت میں “منگیوا” ہوا- دوسرے ہی روز چند جاننے والوں میں چھوارے بانٹے اور ” پرنیوا” ہو گیا-
دلھن لیکر گاؤں آیا تو کئ فتنے ایک ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے- پہلے چچّا نے جائداد سے عاق کیا کہ ذات کا کمہار اور دھوبیوں سے رشتے- پھر مولوی نزیر بھاگا آیا کہ نکاح کس نے پڑھایا ہے ؟؟ میں نے کہا پِیر حسین بخش جنڈاں والی سرکار نے- مولوی کو تو بریک لگ گئ لیکن چچا نے جائیداد سے ہمیشہ کےلئے محروم کر دیا- میں نے بھی لعنت بھیجی کہ مٹی کے بھانڈے بنانے والی آوی اور ایک مریل کھوتے کا میں نے کیا کرنا تھا-
مسجد سے ملحقہ ایک کوارٹر کرائے پر خالی تھا- مولوی صاحب نے عنایتاً مجھے بخش دیا- دکان کا تالہ کھُل گیا- یوں دن عید اور رات شبرات کی طرح گزرنے لگے- میرا ایک پاؤں کیسٹوں والی دکان میں ہوتا اور دوسرا زنان خانے میں- عالیہ بھی جی جان سے میری خدمت کرتی- اور یوں زندگی بڑے مزے سے کٹنے لگی-
پانچ چھ ماہ بعد ایک روز میں کیسٹوں کا نیا اسٹاک لینے کمالیہ گیا تو واپسی پر تاخیر ہو گئ- رات گئے میں ملاں پور پہنچا- ابھی گھر سے کچھ دور ہی تھا کہ مجھے ایک انسانی ھیولہ دکھائ دیا- میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہیولہ میرے گھر سے باہر نکلا اور اندھیرے میں غائب ہو گیا-
میں وہیں ٹھٹھک کر رک گیا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: