Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 10

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 10

–**–**–

تاریکی کا ایک طویل سفر طے کر کے رات کسی پہر میں دھوبیاں والا پہنچا- تیسری یا چوتھی بار بوُہا کھٹکانے پر چاچا لطیف کی آواز آئ:
” کون ہے .. !!”
میں نے کہا : ” میں ہوں چاچا … جلدی بوہا کھول … باھر بہت سردی ہے”
کچھ دیر کی کھٹ پٹ کے بعد بالاخر دروازہ کھل ہی گیا- چاچا کُنڈا کھول کےخاموشی سے واپس پلٹ گیا- میں نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ بند کیا- کمرے میں آیا تو چاچا رضائ میں گُھس کر ریڈیو سن رہا تھا – مجھ سے خیر خبر دریافت کرنے کی بجائے وہ بی بی سی لندن پہ عالمی خبریں سننے میں مصروف ہو گیا-
ریڈیو پہ حالاتِ حاضرہ کا پروگرام “سیربین” چل رہا تھا- وہی باسی ترباسی خبریں جو روز سنتے تھے- کابل میں روسی فوج کے مظالم ، پاکستان کا احتجاج- روسی طیّاروں کی پاکستانی فضائ خلاف ورزی ، پاکستان کا احتجاج ، فلسطینیوں پہ اسرائیل کے مظالم ، پاکستان کا احتجاج
میں کچھ دیر تو منجی پہ ٹانگیں لٹکائے خبریں سنتا رہا- بالاخر میسنی سی صورت بنا کے کہا:
“چاچا روٹی نئیں کھائ میں نے … بھوک لگی ہے !!”
اس نے ریڈیو کی آواز دھیمی کی اور اٹھ کے باہر چلا گیا- میں منجی پہ چوکڑی مار کے کھانے کے انتظار میں بیٹھ گیا-
تھوڑی دیر بعد وہ مکئ کی اُبلی ہوئ ایک چھلّی لے آیا جس سے ٹھنڈا پانی رس رہا تھا-
” فی الحال یہ تُکّا کھا لے … روٹی ٹُکّر نئیں ہے … تھوڑا لوُن وی لگا لیناں … نئیں تو پیٹ میں واء کرے گی … !!”
اس کے بعد وہ ریڈیو کی آواز اونچی کر کے بیٹھ گیا جہاں رضا علی عابدی کشمیر میں بھارتی مظالم کا احوال بیان کر رہے تھے- منگل کو پاکستان بھر میں یومِ کشمیر منایا جا رہا تھا-
چاچے نے ریڈیو کی آواز دھیمی کرتے ہوئے کہا:
” ویکھ لینا …. افغانستان فتح کر کے جنرل ضیاء کشمیر وی آزاد کرائے گا …. فیر رب نے چاہا تو مسلمانوں کا ایک ہی وڈّا سارا مُلک بن جائے گا … !!”
میں نے جل بھُن کے کہا:
” کھائیں گے کیا؟ … تُکّا؟ … اپنا روٹی ٹُکّر پورا نئیں ہوتا … اتنے بڑے ٹبّر کو کون سنبھالے گا ؟؟ “
خبریں ختم ہوئیں تو چاچے نے ریڈیو بند کرکے مخملی کور میں لپیٹا اور صندوق پہ رکھ دیا- پھر بڑی نقاہت سے چلتا ہوا میرے پاس آیا اور بولا:
” شُکّر کر تُکّا وی مِل رہا ہے- پیٹی سے رضائ نکال اور سو جا- آج اس گھر میں تیری آخری رات ہے-سویرے سویرے ٹُکّر کھا کے تِتّر ہو جا …!!”
میں نے کہا ” چلا جاؤں گا عالی کو لے کے … رب کی زمین بوہت وڈّی ہے !!”
وہ کھانس کے بولا:
” عالی سے اب تیرا کیا رشتہ ہے ؟ بوہت کالک مل دی تو نے ہمارے مونہہ پہ …. اب کنارہ کر … !!”
میں نے کہا ” خیر تو ہے چاچا ، کیسی باتیں کر رہا ہے ؟”
وہ بولا:
“وہی کہ رہا ہوں جو سچ ہے- آج شبیرشاہ صاب آئے تھے- ہماری مسیت کے امام – بوہت عالم فاضل بندہ ہے- پوری رپورٹ مل چکی ہے اسے تیری- کہ رہا تھا طلاق مُڑ نئیں سکتی پاویں بندہ انھے کھوُہ میں الٹا وی لٹک جائے- یہ جو تو پنڈوں قصبوں میں شدائیوں کی طرح مارا مارا پھرتا ہے ناں ، مفت کی بدنامی کما رہا ہے- نہ آپ گندا ہو ، نہ ہمیں گندا کر- چلا جا … اور فیر ادھر کا مونہہ نئیں کرنا …”
میں نے کہا :
” شبیر شاہ نے دیر کردی چاچا- ایک دن پہلے آ جاتا تو بھلے توڑ دیتا میرا گھر- اب کچھ نئیں وگاڑ سکتا- سلفی ہو گیا ہوں میں … !!!”
چاچا کچھ دیر ہونقوں کی طرح میرا مونہہ دیکھتا رہا ، پھر بولا:
” کیا مطبل … یہ ایلفی کیا ہوتا ہے؟”
میں نے کہا:
“سلفی … مطلب وہابی- آج پیشی کی نماز کے بعد میں نے اک مینارہ مسجد ، کوٹاں والا کے امام کے ہاتھ پہ وہابیّت قبول فرما لی ہے”
وہ حیرانگی سے بولا: ” یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟؟”
میں نے کہا: ” وہابی بننے کےلئے کون سا نواں شناختی کارڈ بنوانا پڑتا ہے چاچا؟ دُھنّی کی بجائے چھاتی پہ ہاتھ باندھ لو … بندہ وہابی ہو جاتا ہے”
وہ تلملا کر بولا:
“تو بھلے سِکھ بن جا ، عالی نئیں ملنی تُجھے- سوچنا وی نئیں- ہماری دِھی یتیم نئیں ، سائیں کھسموں والی ہے- فیصلہ وہی ہو گا جو صبح شاہ صاحب کریں گے”
یہ کہ کر چاچے نے لالٹین بجھا دی-
اگلے روز صبح سویرے ہی شاہ صاحب آن دھمکے- ان کےلئے رنگیلی چارپائ بچھائ گئ- پیٹی سے نیا تکیہ نکالا گیا- پراٹھے ، دہی ، اچار اور انڈوں کا ناشتہ تیار کیا گیا- مجھے پانی تک نہ پوچھا گیا-
شاہ صاحب ناشتہ تناول فرما چکے تو میرا بلاوا آ گیا- میں آنکھیں ملتا ہوا باہر آیا اور سلام کر کے سامنے منجی پہ بیٹھ گیا-
وہ بولے:
” صلاح الدین- تو نے بقائمی ہوش و حواس اپنی ووہٹی کو طلاق دی ہے یا کسی نے تجھے ایسا کرنے پہ مجبور کیا ؟”
میں نے کہا:
“غُصّے نے مجبور کیا تھا- بعد میں پچھتاوہ ہوا … “
وہ سر ہلا کر بولے :
” طلاق ہمیشہ غُصّے میں ہی دی جاتی ہے وِیرے … ہنسی خوشی کون دیتا ہے؟ … ہم انگریز تھوڑی ہیں؟ …. وہ لمبردار کا بیٹا بتا رہا تھا کہ ولائت میں … لڑکا لڑکی اک دوجے سے بیزار ہو جائیں تو … ہنسی خوشی بریک اپ کر لیتے ہیں … ہم تو مسلمان ہیں وِیرے … طلاق ہو گئ تو قِصّہ ختم … طلاق دے کے ووہٹی کے ساتھ رہنا …. وہ بھی اس کے پیکے جا کے … ایس سے وڈّی بے غیرتی کوئ نئیں …. باقی تو آپ سمجھدار ہے … !!!”
میں نے کہا:
“میں صلاح الدین سلفی ، مذھب اسلام ، مسلک اہلحدیث ایک محفل میں دی گئ تین طلاق کو ایک ہی شمار کرتا ہوں … میں نے اپنی ووہٹی سے رجوع کر لیا ہے … اب کرو بات .. !!!”
یہ سن کر شاہ صاحب کرسی سے یوں اٹھے گویا کرنٹ لگ گیا ہو- چہرے پہ حیرت اور غُصّے کے آثار نمایاں ہوئے ، پھر طنزیہ مسکراہٹ سے کہا:
” اچھا …. تو اب وکٹورین ہو گیا ہے توُ … مطبل … ﺁﻝِ ﻭﮐﭩﻮﺭﯾﮧ .. جن ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺣﻼﻝ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ حلال ہے …. مطبل …. گوبر ، ﭘﯿﭗ ﺗﮭُﻮﮎ سب حلال …. ﻧﺎﭘﺎﮎ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ جائز …. ﺍﻧﮉﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ جائز … ناخن پالش میں وضو جائز … ٹوپی کے بغیر نماز جائز … وِیرے جب سب کچھ جائز ہو گیا تو طلاق کس کھیت کی موُلی ہے …. ؟؟ مطبل بندہ ﺻﺒﺢ ﺷﺎﻡ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻃﻼﻕ کھڑکاتا ﭘﮭﺮﮮ ﺍﻭﺭ گھڑی گھڑی ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮتا رہے تو ﺑﯿﻮﯼ حلال ہو گئ ….؟؟”
میں نے کہا:
” گھڑی گھڑی کون کھڑکاتا ہے ؟ کوئ پاگل ہے جو کھڑکائے ؟ .. کہانیاں بنا رکھّی ہیں سب نے …. ہر فرقہ دوجے کو ملکہ وکٹوریا کا ایجنٹ کہتا ہے …. تا کہ اصلی ایجنٹ پکڑا نہ جائے …. ادھر کا بندہ ادھر چھال نہ مار سکے … کَڑُکّی میں پھنسا کے رکھّا ہوا ہے سب کو … پر میں نے مار دی ہے چھال … کر لو جو کرنا ہے …. آج سے میں سلفی ہوں ..!!”
وہ بولے: ” چلو کوئ بات نئیں … وہابی ہی سہی پر وہابی تو نکاح کےلئے ولی کی شرط رکھتے ہیں …. اور لڑکی کا ولی چاچا لطیف ہے … کیوں چاچا؟ … ٹورے گا اپنی دِھی کو اس واہبی کے ساتھ ؟؟”
چاچا لطیف نے خاموشی سے انکار میں سر ہلا دیا-
میں نے کہا ” کیسے نئیں ٹورے گا ؟ …. میں اپنی ووہٹی خود لے کے جاؤں گا …. میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی ؟”
یہ کہ کر میں عالیہ کے کمرے کی طرف بڑھا تو چاچا لطیف میرا رستہ روک کر کھڑا ہو گیا :
” گھر کا دروازہ اودھر ہے- نکل جا ابھی اور اسی وقت … خبردار جو میری بیٹی کے قریب بھی پھٹکا … !!”
میں نے جزبات پہ قابو رکھتے ہوئے کہا :
” ٹھیک ہے چاچا- چلا جاتا ہوں- سمجھ گیا ہوں میں سارا کھیل- لیکن یاد رکھ … پچھتائے گا تُو اس فیصلے پہ … اور یہ مولوی وی پچھتائے گا …. تَپ چڑھے گا اسے اور منجی پہ سُک سُک کے تِیلا ہو گا … یاد رکھ لینا … !!! “
اس کے بعد میں وہاں ایک پل بھی نہ رُکا اور خاموشی سے باھر نکل گیا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: