Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 11

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 11

–**–**–

میں اپنی دھُن میں سڑک کنارے چلا جا رہا تھا- دِل غم سے تار تار تھا ، اور آنکھ اشکبار-
عالیہ کےلئے مزید لڑنے کی اب مجھ میں سکت نہ تھی- معاملہ مسلک کی ناک کا تھا اور میں ناک پہ لگا وہ داغ تھا جسے مٹانے کو ہر صاحبِ ایمان کمربستہ ہو چکا تھا-
میری کشتی کے پتوار ٹوٹ چکے تھے اور وہ کھلے سمندر میں ڈوب رہی تھی- عالیہ اور میں اب الگ الگ تختوں پہ تھے- مجھے خود کو ڈوبنے سے بچانا تھا- مجھے جلد از جلد اس بھنور سے دور جانا تھا-
بانسوں والے جنگل کے پاس تھا کہ بس کا ہارن سنائ دیا- گِدڑ پِنڈی جانیوالی بس تھی- میں نے ہاتھ کا اشارہ کیا- بس رکی اور میں جست لگا کے سوار ہو گیا-
مجھے مستاں والے دربار پہ جانا تھا- سر چھپانے کو اب وہی ایک ٹھکانہ تھا- انسانوں کی بستی میں اب میری کوئ حیثیّت نہ تھی- دربار پہ ہی رزق روٹی کا حیلہ بن سکتا تھا- اس وقت پیٹ کا تن ڈھانپنے سے زیادہ مجھے کوئ مشکل درپیش نہ تھی-
بس کوئ ڈیڑھ دو میل ہی چلی تھی کہ کنڈکٹر کرایہ مانگنے کو چکّر لگانے لگا- میرے پاس غم کے سوا کوئ دولت نہ تھی- کنڈکٹر “بغیر ٹکٹ ، بغیر ٹکٹ” کی صدا لگاتا رہا اور میں آنکھیں موندے ، سیٹ سے پشت لگائے خاموش بیٹھا رہا-
یوں کوئ چار پانچ کلومیٹر کا سفر طے ہو گیا- بالاخر اس نے میرا کندھا تھپتھپایا اور بولا:
“توُں کِتّھے جاناں ؟؟”
میں نے ہڑبڑا کر کہا ” گِدڑ پِنڈی”
وہ بولا ” کرایہ …؟؟”
کہا ” ملنگ ہوں … مستاں والے دربار پہ جا رہا ہوں .. !!! “
بس کے شور میں شاید وہ میری بات سمجھ نہ سکا اور بولا:
” گدڑ پنڈی کے پنج روپے … !!”
اب میں نے ذرا اونچی آواز میں کہا “نہیں ہیں میرے پاس پنج روپے ….!!”
وہ تاؤ کھا کر بولا: ” فیر دس دے دے …. !!”
میں نے کہا ” نئیں ہیں ….. !!”
وہ دانت نکوس کر بولا: “پیسے نئیں ہیں تو بس میں امب لینے کو بیٹھا ہے- چَل اتر … !!”
میں نے آنکھیں نکال کے کہا:
“ملنگوں سے کرایہ مانگتا ہے؟ شرم کر- پرسوں ہی بنگلہ گوگیرہ پہ بس اُلٹی ہے ، مِنکا ٹوٹا ہے کنڈکٹر کا- اس بدبخت نے بھی کرایہ مانگا تھا ایک ملنگ سے- چار پیسوں کی وجہ سے ایمان خراب نہ کر- جان بھی جائے گی اور ایمان بھی”
وہ گالی دے کر بولا:
“ویکھے ہیں تیرے جیسے کَن ٹُٹٌے ملنگ …. کرایہ دے نئیں تو اٹھا کے باھر پھینکوں گا”
وار خالی جاتا دیکھ کر میں نے کہا:
“پًتّر یہ دھن مال ، روپیہ ، پیسہ سب ادھر ہی رہ جائے گا- ایمان کی فکر کر- جس کا فقیروں پر ایمان نئیں ناں اس کا بیڑہ غرق ہے”
اس نے دروازہ بجا کر آواز لگائ “استاد بس روک”- کچھ ہی دیر میں بس ایک جھٹکے سے رک گئ-
” چل اُٹھ … تیرے وڈّے فقیر کی ایسی تیسی” اس نے بازو سے پکڑ کے مجھے سیٹ سے اٹھایا-
میں بھی جلال میں آ گیا اور کہا:
“فقیر کو ذلیل کرتا ہے- بس الٹے گی تیری ، مِنکا ٹوٹے گا تیرا … “
سواریاں بڑے مزے سے یہ تماشا دیکھ رہی تھیں- کوئ میرے حق میں نہ بولا- کنڈکٹر مجھے دھکے دیتا ہوا دروازے تک لے گیا اور بولا ” کاواں دے آکھے ڈنگر نئیں مردے … چل دفع ہو ..!!! “
میں بس سے اتر آیا اور کہا ” فقیر کو دھکّا دیا توُ نے …. آج سلامت گھر نئیں پہنچے گا تو … منکا ٹوٹے گا …. !!”
اس نے آگے بڑھ کر میرا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑا اور کہا :
“تیرا مِنکا تو میں ابھی توڑتا ہوں … ٹھہر جا … وڈّا آیا لنگ فقیر …. !!”
اس نے مجھے زور کا دھکّا دیا اور میں کچّے پر اوندھے مُونہہ گر پڑا- وہ مجھے ٹھڈّے مارتے ہوئے گالیاں دینے لگا-
سواریاں شیشے کھول کر اس منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھیں- مجال ہے کوئ اس ظلم پر ایک لفظ بھی بولتا- یہ وہی لوگ تھے جو ضیاء الحق کی ٹکٹکی دیکھنے بڑے شوق سے شہر جایا کرتے تھے-
شور سن کر ڈرائیور بھی بس سے اتر آیا- وہ ایک ٹھگنے قد کا بھاری بھر کم شخص تھا- اس نے کہا:
“او شوکی … کیا ہوا ؟؟ کیوں مارتے ہو اسے؟”
کنڈکٹر بولا “استاد ایک تو کرایہ نئیں دیتا الٹا بکواس کرتا ہے- بس الٹے گی تیری مِنکا ٹوٹے گا تیرا- چرس پی کے فقیر بنا پھرتا ہے … !!! “
ڈرائیور بولا: “او چھڈ یار .. دفع کر شِدائ کو … ہم پہلے ہی لیٹ ہو رہے ہیں … !!”
کنڈکٹر مجھے وہیں چھوڑ کر بس پہ سوار ہو گیا- بس مجھ پہ کالا دھواں چھوڑتی چل پڑی اور میں گرد و غبار میں لپٹا کراہتا رہ گیا-
کچھ دیر تو یونہی خاک میں لت پت پڑا رہا- کہنی سے خون رس رہا تھا ، گردن بھی چھِل گئ تھی اور وکھیوں میں بھی درد ہو رہا تھا- بالاخر ہمّت کر کے گردن سہلاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا-
قریب ہی ایک کھالے میں پانی بہہ رہا تھا- میں نے ہاتھ مونہہ دھویا اور وہیں بنیرے پہ بیٹھ کر سستانے لگا-
طبیعت بحال ہو چکی تو ایک بار پھر سڑک کے کنارے کنارے چلنے لگا- کچھ آگے جا کر اینٹوں کا ایک بھٹّہ نظر آیا- اس کی چمنی سے سفید دھواں نکل رہا تھا- میں سڑک چھوڑ کر بھٹّے کی طرف روانہ ہو گیا-
سورج کافی نکل آیا تھا- صبح سے کچھ کھایا پیا بھی نہ تھا- بھوک اور پیاس ستانے لگی تھی- سوچا بھٹّے پہ جا کے پانی وغیرہ پی لوں گا- شاید کچھ تازہ باسی روٹی بھی مل جائے اور پیٹ کا سامان ہو جائے- پٹھان لوگ بڑے مہمان نواز ہوتے ہیں-
وہاں پہنچا تو ایک سرخ و سفید پٹھان چارپائ پہ لیٹا نظر آیا اس کی بھاری بھر کم مونچھیں دور سے ہی تاؤ کھا رہی تھیں- حلیے سے وہ بھٹّے کا مالک معلوم ہوتا تھا-
مجھے آتا دیکھ کر اس نے پگڑی سر پہ دھری اور چارپائ سے اٹھ کر مسکراتے ہوئے”سنگے حال دے” کہا- میں نے بھی بادلِ نخواستہ “خیر دے” کہا اور جبری مسکراہٹ چہرے پہ سجا کے مصافحہ کیا-
میں بیٹھ چکا تو خان نے پاس پڑی ہوئ کاپی پنسل اٹھائ اور پوچھا “اینٹ چاھئے یا ٹائل؟؟’
میں نے کہا ” کچھ نئیں چاھئے خان صاحب- مسافر ہوں- کچھ دیر آرام کو آیا ہوں”
وہ بولا : ” تمارا خون کیوں نکلتا ہے ؟”
میں نے کہا ” بس سے اترنے لگا تو گر گیا- معمولی رگڑ آئ ہے- اگر تھوڑا پانی مل جائے تو مہربانی ہو گی … “
وہ اٹھا اور سامنے پڑے گھڑے سے پانی کی بٹھلی لا کر مجھے پیش کی- میں نے بسم اللہ پڑھ کر پانی پیا- اس نے پوُچھا ” اور کوئ خدمت ؟؟ “
میں نے کہا ” بھوکا ہوں … کھانے کو کچھ مِل جائے تو احسان مند رہونگا … اور دُعا دوں گا”
اس نے ادھر ادھر دیکھا- پھر دُور کھیلتے نصف درجن بالکوں میں سے ایک کو پشتو میں آواز لگائ “عبدل رحمانا .. دلتا راشہ !!!”
ایک بچّہ جو نو دس برس کا تھا ننگے پاؤں بھاگتا ہوا آیا- خان نے پشتو میں اس سے کُچھ کہا- بچے نے کن اکھیوں سے مجھے دیکھا پھر خان سے کچھ کہا اور جھُگیوں کی طرف دوڑ لگا دی-
اس دوران سامنے پکّی سڑک سے دو موٹر سائیکل سوار بھٹّے کی طرف آتے دکھائ دئے- شاید اینٹوں کے خریدار تھے- تھوڑی دیر میں ہی وہ سر پہ آن پہنچے- چہروں مہروں سے وہ بھی پٹھان دکھائ دیتے تھے-
ان دونوں میں سے ایک نے بھٹّے والے کو پشتو میں کچھ بتایا- کوئ پریشانی والی بات لگتی تھی- بھٹّے والا “وائے خُدائے پاکا …” کہتا ہوا جلدی سے اُٹھا اور جھُگیوں کی سمت بھاگ کھڑا ہوا-
بھٹّے پہ کام کرنے والے دو اور پٹھان بھی اس طرف دوڑے چلے آئے- پھر یہ سب اونچی اونچی آواز میں بحث کرنے لگے- میں ان کی گفتگو سمجھنے سے قاصر تھا-
تھوڑی ہی دیر میں بھٹّے کا مالک ٹریکٹر ٹرالی لئے نمودار ہوا- پھر سب لوگ اس میں بیٹھ کر تیز رفتاری سے سڑک کی طرف نکل گئے-
مجھے شک ہوا کہ شاید کوئ جھگڑا ہوا ہے- افغان جنگ کی وجہ سے پٹھانوں کی بڑی تعداد پاکستان ہجرت کر رہی تھی- ان میں ہر قبیل کے لوگ تھے- متموّل پٹھان لکڑی اور بھٹّے کا کاروبار کرتے تھے اور غریب غرباء بیلچوں سے مٹّی کی دیواریں تھاپتے تھے- نوآباد پٹھانوں اور مقامی لوگوں میں بحث اور تلخ کلامی معمول کی بات تھی-
کچھ ہی دیر میں بالکا باجرے کی نصف روٹی اور گڑ کی ڈلّی لے آیا- میں نے اس خوان نعمت پر رب کا شکر ادا کیا- کھانا کھا کر نکلنے ہی لگا تھا کہ جھگیوں کی طرف سے ایک بزرگ پٹھان آتا دکھائ دیا-
یونہی تجسّس ہوا کہ اس سے جھگڑے کی بابت دریافت کر لوں- اس باریش نے مجھ سے مصافحہ کیا- وہ اردو جانتا تھا- اس نے مجھ سے حال احوال پوچھا اور کاپی پنسل سنبھال کے چارپائ پہ بیٹھ گیا-
میں نے کہا “خان بابا ، یہ سب لوگ ٹرالی پہ بیٹھ کے کِدھر گیا ہے ؟ کوئ لڑائ جھگڑا ہوا ہے ؟؟”
اس نے جیب سے ایک چمکتی ہوئ گول ڈبیا نکالی- اس سے چٹکی بھر نسوار نکال کے ہونٹوں تلے دبائ اور ڈبیا کے شیشے میں جھانکتے ہوئے بولا:
” نئیں خوچہ … وہ لوگ بتاتا ہے کہ اودھر سڑک پہ کوئ بس الٹا ہے …. کنڈکٹر اوس بس کا مر گیا ہے …. اس کا زخمی لوگ اودر پڑا ہے …. کابل خان اسی کو اٹھانے گیا ہے … بس خدائے پاک رحم کرے … !!!”
میرا دِل زور سے دھڑکا اور جسم میں سردی کی لہر دوڑ گئی…
اس بات میں کوئ ابہام نہ تھا کہ کون سی بس الٹی ہے- بھٹّے پہ آئے ہوئے مجھے بمشکل دس منٹ ہوئے تھے- اس دوران سڑک سے ایک ہی بس گزری تھی- وہی جس کے کنڈکٹر نے مجھے خاک آلود کیا تھا- ڈرائیور نے شِدائ کہا تھا اور سواریوں نے تماشا دیکھا تھا-
یا خدایا یہ کیا ہو گیا ؟ آج تک کوئ دعا قبول نہیں ہوئ اور بدعا اتنا جلدی ؟؟ میں تو مارا گیا- میری نحوست اب دوسروں کا خون بھی پینے لگی؟ الہی سب کو محفوظ رکھنا- میں نے کسی کو بد دُعا نہیں دی- قصور میرا تھا جو بغیر کرایہ کے بس میں جا گھُسا تھا- اوپر سے کنڈکٹر کو تڑی بھی لگانے لگا- کنڈکٹر بیچارے کا کیا قصور؟ “یا اللہ یہ خبر جھوُٹی ہو … سب کا بھلا سب کی خیر” میرے مونہہ سے نکلا اور میں نے بھٹّے سے کھسکنے میں ہی عافیّت جانی-
ہر حادثہ اتفاقیہ نہیں ہوتا- لوگ اتفاقات پہ کم ہی یقین رکھتے ہیں- حادثے کی جڑ تلاش کرتے ہیں اور یہ جڑ ہمیشہ روحانی ہوتی ہے- میں نے سوچا کہ جب بھی اس حادثے کا ذکر ہو گا میری بد دُعا کا ذکر ضرور ہو گا- بات مولویوں تک پہنچے گی اور میں منحوس قرار دے دیا جاؤں گا- فتوی آ جائے گا کہ دعائیں رد ہو جائیں اور بد دعائیں قبول ہونے لگیں تو بندے کو اعمال کی فکر کرنی چاھئے-
میرے لئے اب یہاں خطرہ ہی خطرہ تھا- اگر میرا سامنا اس بس کے کسی مسافر سے ہو گیا تو وہ یقیناً مجھے منحوس ہی سمجھے گا- منحوس کو کون مونہہ لگاتا ہے ؟ کابل خان کو معلوم ہو گیا کہ اس کے بھٹّے پہ بیٹھا شخص سند یافتہ منحوس ہے تو یقیناً مجھے پھٹکار دے گا- گاؤں گاؤں میری نحوست کا چرچا ہو گا اور لوگ مجھ سے کنارہ کرنے لگیں گے- اگر واقعی ایسا ہو گیا تو مجھے روٹی کے بھی لالے پڑ جائیں گے جو اس وقت میری سب سے بڑی ضرورت تھی-
انہی سوچوں میں گُم میں کچّی سڑک پہ اکیلا چلا جا رہا تھا- ظہر کا وقت ہو چلا تھا- دور ایک کسان کا ڈیرہ نظر آیا- میں نماز پڑھنے کو اس طرف ہو لیا-
دو کّتّے بھونکتے ہوئے میری طرف لپکے- کسان جو ایک بچھڑے کے پیچھے بھاگ رہا تھا ، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے میری طرف آیا- اس نے کُتّوں کو جھڑکا اور مجھ سے ہاتھ ملا کر خیریت اور آمد کا مقصد دریافت کیا-
میں نے کہا مسافر ہوں اور نماز پڑھنی ہے- وہ اچھا آدمی تھا- پہلے نلکے پہ مُجھے وضو کرایا پھر حویلی سے کھجّی کے پتّوں کا بنا ہوا مصّلہ اٹھا لایا- میں نماز کےلئے کھڑا ہوا اور خُدا کے نام زبانِ حال سے درد کی چٹّھی لکھنی شروع کی-
رب سائیں- میں اپنی ہر مشکل کی فریاد تجھ سے ہی کرتا ہوں- تو حاکم ہے اور مجھ پہ قدرت رکھتا ہے- عزت اور ذلت تیرے ہاتھ ہے- اس روز تو نے اس جیب کترے ملنگ کو عزّت دی اور مجھے لٹوا دیا – تیری مرضی- آج جب میں خود ملنگ بنا تو اسی کنڈکٹر کے ہاتھوں پٹوا دیا – تیری مرضی- میری اکلوتی بیوی مجھ سے چھِین کر مولوی شبیر شاہ کو دے دی ، جس کے پاس پہلے ہی دو بیویاں ہیں- تیری مرضی- میری دعائیں رد کر دیتا ہے اور بد دعائیں سن لیتا ہے- تیری مرضی- میری کیا مجال کہ شکوہ کروں- لیکن میری وجہ سے تو نے پوری بس الٹا دی اس پہ میں احتجاج کرتا ہوں- تجھے تیری خدائ کا واسطہ میری نحوست ، میرے شر سے اپنی مخلوق کو محفوظ رکھ- بھلے وہ مجھے ایذاء دیں یا جان کے دشمن بن جائیں- میں نے سب کو معاف کیا-
نماز پڑھ کر مصلّہ سمیٹنے لگا تو وہ کسان قریب ہوا- کہنے لگا صوفی صاحب میری ایک بھینس بیمار ہے- صبح سے جُگالی نہیں کر رہی- مرچوں والا پیڑا بھی کھلایا ہے- ٹھیک نہیں ہو رہی- کوئ دم چھو ہی کر دیو-
میں خاموشی سے چلتا ہوا بھینس کے قریب آیا- بسم اللہ پڑھ کر اس کی پیٹھ تھپتھپائ- پھر اس کا کان پکڑ کر کہا:
“جُگالی کیا کرو رانی- جنرل ضیاء کا آرڈر ہے ، جو بھینس جگالی نہیں کرے گی ، اسے ٹکٹکی پہ باندھ کے کوڑے مارے جائیں گے … !!! “
کسان بصد احترام کھڑا رہا- وہ بیچارہ مجھے سچ مچ صوفی سمجھ رہا تھا-
میں نے کہا:
“کتنا پانی ملاتے ہو اس کےدودھ میں”
وہ ڈرتے ہوئے بولا ” میرا نوکر ملاتا ہے جی- اب جھڑک دوں گا”
میں نے کہا ” ڈالا کرو- بے شک بالٹیاں بھر بھر کے ڈالو مگر سرکاری کھال کا گدلا پانی مت ڈالو- لوگ بیمار ہوتے ہیں- نلکے کا صاف پانی ڈالا کرو- بنی اسرائیل پہ لاکھوں پیغمبر اترے ، ہم پہ مارشل لاء اترتے ہیں- نہ وہ سُدھرے ، نہ ہمارا ارادہ ہے”
وہ بولا ” اب نئیں ڈالوں گا جی- میں توبہ کرتا ہوں- آپ ذرا توُت کے نیچے آرام کریں- میں دودھ لے کے آتا ہوں … !!”
میں توُت کے نیچے منجی پہ لیٹ گیا- تھکا ہوا تو تھا ہی گھڑی بھر میں آنکھ لگ گئ- خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک خلقِ کثیر میرے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے- ہر کوئ کہ رہا ہے کہ بڑا پہنچا ہوا فقیر ہے- اس نے پوری بس الٹا دی ہے- ڈرو اس سے … رب کے ساتھ اس کی لائین سیٹ ہے-
آنکھ کھُل گئ مگر آوازیں مسلسل آتی رہیں- میں حیران ہوا کہ خواب کے اندر خواب دیکھ رہا ہوں یا حقیقت کے اندر خواب ؟”
کلمہ پڑھ کر اٹھ بیٹھا- کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے چارپائ پہ کسان اور کابل خان پٹھان بیٹھے ہیں- ان کے ساتھ تیسرا وہی ٹھگنے قد کا ڈرائیور ہے جس کی بس اُلٹی تھی- اس کے سر پہ پٹّی بندھی ہے اور کپڑے خون آلود ہیں- شرمندگی اور خجالت اس کے چہرے سے ٹپک رہی ہے-
میں ہونقوں کی طرح انہیں دیکھنے لگا-
خان بولا ” لگتا ہے بابا جی جاگ گیا ہے … “
میں نے ادھر ادھر دیکھا- کس بابا کی بات کر رہے ہیں ؟ یہاں تو میرے سوا کوئ نہیں- پھر وہ تینوں میری طرف بڑھے- قریب آکر کسان بڑے ادب سے بولا:
“بابا جی اجازت ہو تو ہم آپ کے قدموں میں بیٹھ جائیں ؟”
میں نے بمشکل تھوک نگلتے ہوئے کہا:
“میرے پاؤں پہ کیوں بیٹھتے ہو؟ چارپائ گھسیٹ لو …. اور یہ بابا کس کو کہ رہے ہو ؟؟ “
اچانک وہ ٹھِگنا ڈرائیور قریب ہوا اور میرے گھُٹنے پکڑ کر رونے لگا- میں نے کہا “چھوڑ اُستاد … کیا کرتا ہے؟ میرا گوڈا پہلے ہی زخمی ہے- پیچھے ہٹ “
یہ سن کر کابل خان بڑی لجاجت سے بولا ” تم کو خدائے پاک کا واسطہ بابا جی ، اس کو ماف کر دیو- بوہت پریشان ہے”
میں نے کہا:
“معاف کر دیا … اب جاؤ … !!! “
ڈرائیور ہچکیاں لیتا ہوا بولا:
“ہمیں آپ کی گستاخی کی بہت بڑی سزا ملی باباجی … ہم برباد ہو گئے بابا جی … !!”
میں نے کہا:
“کون بابا جی ؟ میں کوئ بابا شابا نہیں ہوں- تمہاری بربادی سے میرا کیا واسطہ ؟ ضرور تمہیں کوئ غلط فہمی ہوئ ہے ….!! “
وہ عورتوں کی طرح بین کرتے ہوئے بولا :
“ہائے … بوہت سمجھایا تھا جی اس شِدائ کو …مت لڑ فقیر سے … بات ہی نئیں مانی اس نے میری … مل گیا ناں نتیجہ … خود بھی برباد ہوا مجھے بھی کر گیا … نوّے موڑ پر بس اُلٹ گئ … وہ بدنصیب چھت پہ چڑھ رہا تھا ….. سواریوں سے کرایہ لینے … سواریوں کو تو چھوٹی موٹی سٹ وَجّی … مِنکا ٹوٹ گیا اس کا …. شوکی کا منکا ٹوٹ گیا ہائے بابا جی … منکا ٹوٹ گیا شوکی کا …. ہائے … !! “
میں کچھ دیر مبہوت بیٹھا اسے دیکھتا رہا گویا بدن سے ساری طاقت کسی نے نچوڑ لی ہو- پھر کہا ” میں کسی شوکی کو نہیں جانتا … پتا نئیں کیا کہ رہے ہو تُم … میں نے کوئ بس نئیں الٹائ …. !!”
ڈرائیور گھڑی بھر کو چُپ ہوا- پھر جیب سے پھولا ہوا بٹوہ نکالا اور سو کا نوٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے ، آنسو صاف کرتا ہوا بولا:
” یہ نذرانہ رکھیں جی … بس آپ ہمیں معاف کر دیں … !!”
میں نے کہا:
“کس چیز کا نزرانہ؟ بس اُلٹانے کا ؟ میں نے نئیں الٹائ تیری بس … تو نے ضرور کوئ غلط موڑ کاٹا ہو گا …. !!”
وہ بولا:
” غریب بندہ ہوں جی … گڈّی تھانے چلی گئ تو برباد ہو جاؤں گا … دعا کر دو … پلس ، کچہری سے بچ جاؤں …. کس کس کو سمجھاؤں گا کہ بابا کی بد دعا لگی ہے ..!!”
مجھے غصّہ آ گیا اور کہا :
” گڈّی میری بد دعا سے نہیں ، تیری بے احتیاطی سے اُلٹی ہے- اندھا دھند چلاتے ہو- چلتی بس میں کنڈکٹر کو چھت پہ چڑھاتے ہو ، پھر جب کوئ مر جاتا ہے تو بابے کے متھّے لگا دیتے ہو ؟ نئیں چاھیں مجھے یہ پیسے ..!!”
وہ دوبارہ رونے لگا- میں پہلے ہی عاجز آ چکا تھا ، ہاتھ جوڑ کے کہا:
” استاد جی … خدا کا واسطہ یہ ڈرامہ بند کرو … جاؤ ادھر سے اور خبردار جو پولیس والوں سے میرا ذکر بھی کیا- میں پہلے ہی مشکلات میں گھِرا ہوں- اوپر سے ایک نئ مصیبت ڈال رہے ہو …”
وہ خاموشی سے اٹھا اور دور جا کر منجے پہ بیٹھ گیا- اتنے میں کسان کا نوکر پیالے میں دودھ لے آیا اور باادب کھڑا ہو گیا- میں نے اٹھتے ہوئے کہا “مجھے کوئ دودھ شودھ نئیں پینا … نہ ہی میں کوئ بابا ہوں … ہٹو آگے سے … جانے دو مجھے … !! “
اس پر کسان آگے کو جھکا اور میرے گھٹنے پکڑ لئے ” بابا جی ، ہم سے کیوں ناراض ہیں … ؟”
مجھے شدید کوفت ہو رہی تھی- جھنجھلا کر کہا:
“چھوڑو یار … کیا بابا بابا لگا رکھّی ہے … نہیں ہوں میں بابا- مُلّا پور کا کمہار ہوں … پہلے ہی بدنام ہوں … ہزار مسئلوں میں پھنسا ہوں …. تمہارے مسئلے کیا حل کروں گا؟ … جان چھوڑو میری .. تمہاری طرح کا انسان ہوں میں- خود غرض ، لالچی ، بے وقوف … !!! “
وہ بولا:” اللہ کے ولیوں کا پردہ کبھی کبھی فاش ہو ہی جاتا ہے- آپ بھلے مکر کرتے پھریں- ہم نے پہچان لیا آپ کو- آپ کے دم سے میری بھینس ٹھیک ہو گئ ہے- چارہ بھی کھایا ہے ، جگالی بھی کی ہے اور اڑھائ سیر دودھ بھی دیا ہے- میں کیسے مان لوں کہ آپ فقیر نئیں ہو- خدا کےلئے دودھ پی لو- پہلی بار کسی کو خالص پلا رہا ہوں … !!”
میں اس افتاد سے گھبرا اُٹھا اور یکایک ایک سمت دوڑ لگا دی- وہ منتیں کرتے ہوئے میرے ساتھ ساتھ بھاگے- بگلے اُڑے … کھیت میں چگتی مُرغیاں کٹاک کٹاک کر کے بھاگیں … کُتّوں نے بھونکاڑ مچا دی اور کِلوّں پہ بندھے جانور ڈکرانے لگے- غرض کہ ڈیرے پہ ایک ہڑبونگ سی مچ گئ
کہاں تک بھاگتا- بالاخر تھک ہار کے ایک پرالی میں بیٹھ گیا- وہ تینوں چوکڑی مار کے میرے سامنے آن بیٹھے-
میں نے زچ ہو کے کہا:
” بھائیو … سچ سچ بتاؤ … تم چاھتے کیا ہو؟”
کسان بولا : “ہم صرف آپ کی خدمت سیوا کرنا چاھتے ہیں … خدا قسم اور کوئ ارادہ نہیں”
اب پیر بننے کے سوا کوئ چارہ نہ تھا- میں نے کہا:
” غلطی کوتاہی معاف سجنو … دراصل نئ نئ فقیری ملی ہے … وہ بھی لاتیں اور گھسّن کھانے کے بعد … بار بار جلال اُٹھتا ہے … سمجھ نئیں آتی کیا کروں؟ … اگر خدمت ہی کرنی ہے تو میرے زخموں کےلئے تھوڑی ہلدی منگوا دو … اور گرم گرم دودھ پلا دو … روٹی شوٹی تیّار کرو … اب کیا بھگا بھگا کے مارو گے؟ تھوڑا آرام بھی کرنے دو … تھک گیا ہوں میں … اتنی بھاری بس کو اُلٹانا کوئ آسان کام ہے ؟؟ بڑے بڑے پِیروں کی چُک نکل جاتی ہے …. میں تو فیر وی … ماڑا سا اِک فقیر ہوں …!!”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: