Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 12

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 12

–**–**–

دیسی مُرغ کی کڑاھی ، خالص گُڑ کا مکھڈّی حلوہ ، آم کا اچار ، نیاز بوُ کی چٹنی ، دہی کا رائتہ ، کٹّے ہوئے پیاز ٹماٹر ، تندور کی گرم گرم روٹیاں-
یہ تمام سوغات ایک بڑے میز پہ سجا کر نور محمد کسان میرے سرھانے کھڑا تھا-
میں نے کہا ” نوُر محمّد ، بیٹھ جا یار …. کھا لے کھانا … کوئ عذاب نئیں آئے گا تجھ پہ … میں اجازت دے رہا ہوں ناں …!!”
مگر ایک مُرِید کا اتنا حوصلہ کہاں کہ “پیر سائیں” کے ساتھ ایک میز پہ بیٹھ سکتا- یہ عمل تو سخت بے ادبی شمار ہوتا ہے- چنانچہ وہ کسی مُغل درباری کی طرح ادب سے ہاتھ باندھے ہماری روٹیاں ہی گنتا رہا-
رہے ہم ، تو چونکہ مُدّت بعد ایسا شاھی کھانا نصیب ہوا تھا ، بمشکل انصاف کے تقاضے پورے کرتے رہے- چار دن کی پِیری تھی- کاٹھ کی ھنڈیا کب تک چڑھتی- ملاّں پور کے خداؤں کو خبر ہوتی کہ صلّو کمہار ، حالات کی سوُلی پہ لِیرولِیر ہونے کی بجائے پِیر فقیر بنا پھرتا ہے تو یقیناً فتنہ سمجھ کر میری سرکوبی کو نکلتے-
میں نے سب کچھ رب کے سپرد کر دیا تھا- وقت وقت کی بات ہے- پہلے ہوائیں مخالف چل رہی تھیں اب موافق چل پڑی تھیں- ہوائیں کون چلاتا ہے ؟ وہی جو بارش برساتا ہے- کب تک موافق چلیں گی؟ اسی کو خبر تھی-
کھانے سے فارغ ہوا تو میں نے نور محمّد سے کہا:
“مُصلّہ نکالو اور باہر پرالی میں بچھا دو …. !!”
وہ بولا :
“باہر تو بہت سردی ہے جی- کورا ککّر جم رہا ہے- یہیں کوٹھے میں نماز پڑھ لیں …. “
میں نے کہا ” نہیں- مُجھے رب سائیں کے نام ایک ضروری چٹّھی لکھنی ہے …. !!”
اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں :
” چِٹّھی ؟ رب سائیں کو؟ سچ مُچ ؟ پیر صیب … ہمارا بھی سلام لکھئے گا … اور … تین بیٹیاں ہیں میری … ایک بیٹے کا سوال تو کر دِیجئے گا …. !!”
میں نے کہا ” اور کُچھ ؟”
کہنے لگا:
” بھینس میری مسلسل کٹّے دے رہی ہے …. ایک کٹّی کا سوال بھی کر دیجئے گا ..”
میں نے کہا ” اپنے لئے بیٹا اور بھینس کےلئے کٹّی؟ یہ تو کھُلا تضاد ہے نور محمد ؟”
وہ سادگی سے بولا ” کٹّی بڑی ہو کے بھینس بنے گی جی … اپنے کِلّے پہ رہے گی …. بیٹی تو پرایا مال ہوتی ہے ناں جی …. !!”
مُصلّے پہ کھڑا ہی ہوا تھا کہ اس کی آواز آئ :
” یہ بھی لکھ دیجئے گا کہ مولا … اس وار پیاز کو چوکھا ریٹ لگانا !!”
میں نے کہا ” بے فکر رہ .. جب تک کرسی پہ ارائیں بیٹھا ہے پیاز کو کچھ نئیں ہوتا … اب جا اور مجھے نماز پڑھنے دے ..”
سردی سے کپکپاتے میں نے سچّے بادشاہ کی بارگاہ میں دوسری چٹّھی بھیجی :
“رب سائیں … قسم تیری .. لاڈ کیا تھا ہم نے …. بس یونہی لاڈ پیار میں صبح شکوہ نکل گیا زبان سے …. ناراض تو نہیں ہو گئے ہو … اتنی عنایات ؟ اتنا رزق ؟ پورا جگ جہان الٹو گے کیا ؟ مجھے لگتا ہے ناراض ہو … ورنہ صلّو کی اتنی ٹہل سیوا نہ ہوتی … کیوں مرواتے ہو سائیں … تو جانتا ہے ناں کہ پیر بننے کےلئے پیر کا بیٹا ہونا ضروری ہے … کم سے کم سیّد تو ہو … کمہار ہو کر پِیر کہلانا تو پیری کو لاگ لگانے والی بات ہے … بڑی ظالم قوم کے آگے ڈال دیا سائیں … کھلایا پلایا سب نکال لیتی ہے … ان کے ہاتھوں مروا نئیں دینا میرے سوھنیاں ربّا … باقی نور محمّد سلام کہتا ہے … وہ اپنے لئے بیٹا اور بھینس کےلئے کٹّی مانگ رہا ہے ..اللہ تو بیٹیوں کے نصیب اچھے کر دے تاکہ لوگ تجھ سے تیری رحمت بیٹیاں مانگیں ۔۔۔۔۔
پھر جسے جو چاہے دے … وہ راضی رہیں گے …
باقی یہاں سب خیریت ہے …
فقط تیرا ایک عاجز بندہ … !! “
رات بھرنور محمد اپنی جد اولاد کی مجھ سے جھاڑ پھونک کراتا رہا- بوڑھی اماں کو دم کرایا کہ گھٹنوں کی تکلیف دور ہو – بچّوں کو خسرہ چیچک پولیو سے حفاظت کے پھُوکے مروائے- بکری کو ہاتھ پھروایا کہ گابھن نکلے- اصیل کُکّڑ کو دم کرایا کہ لڑائ میں فتح یاب ہو- سویرے سویرے کپاس کے گرد پھیرا لگوایا کہ جھاڑ چوکھا آئے- ان کےلئے میں بیک وقت بڑوں ، بچوں اور ڈنگروں کا ڈاکٹر بھی تھا اور ماہرِ زراعت بھی- جب دم کر کر کے بے دم ہوا تو بستر پہ جا گرا-
صبح سورج نکلتے ہی فضاء کابل خان کے روسی ٹریکٹر کے شور سے گونج اُٹھی- وہ قضاء بن کے سر پہ آن کھڑا ہوا:
” تُم نے بوہت خدمت خاطر کر لیا نور محمد- اب پیر صیب کو امارے حوالے کرو”
میں نے کہا ” خان صیب- اب ہمیں اجازت دو- فقیروں کو ایک جگہ زیادہ ٹکنے کی اجازت نہیں ہوتی .. !!!”
“ماڑا کیسے جانے دے ؟ ھم ناشتہ تیار کر کے بیٹھا ہے- چلو امارے ساتھ- ٹریکٹر پہ بیٹھو ..!!”
چاروناچار مجھے ایک بار پھر بھٹّے پہ آنا پڑا-
چھپری کے نیچے میرے لئے نوار والی چارپائ بچھائ گئ- بھٹّہ مزدوروں نے وضو کر کے مجھ سے ہاتھ ملایا اور میری طرف پیٹھ نہ ہونے کے خوف سے الٹے قدموں واپس پلٹے-
خان ناشتہ لینے گیا تو میں نے گھڑی بھر خود کو آزاد محسوس کیا- چارپائ سے اٹھ کر گردوپیش کا جائزہ لینے لگا- اس دوران اچانک کہیں سے اینٹیں گرنے کی آواز آئ- کچھ مزدور اس طرف بھاگے- میں بھی تجسّس کے مارے اس طرف چلا گیا-
کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مریل سا گدھّا ، اینٹوں کے ڈھیر تلے دبا پڑا ہے- شاید ضرورت سے زیادہ وزن نہ سہہ سکا تھا اور گر گیا- مزدور ڈنڈے مار مار کر اسے اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے-
میرا دل پسیج گیا- آخر کو ذات کا کمہار تھا-میں نے کہا:
“ٹھہر جاؤ- کیوں ظلم کرتے ہو بے زبان پہ- پہلے اینٹیں تو ہٹاؤ”
مزدوروں نے میری بات سن کر گدھے پر سے اینٹیں ہٹانی شروع کیں- بیچارہ بمشکل ٹانگوں پہ کھڑا ہوا- اس کی پیٹھ پر ایک گندا سا ٹاٹ دھرا تھا- میں نے ہٹایا تو پوری کمر زخموں سے چُور تھی-
میں نے کہا ” اس کو چھوڑ دو- زخمی ہے بے چارہ- سامان اٹھانے کے قابل نہیں رہا .. “
وہ پیچھے ہٹ گئے- میں نے اسے رسی سے کھینچا ، ایک مزدور نے دھکّا لگایا اور ہم اسے سائے تلے لے آئے- کابل خان میز پر ناشتہ لگا رہا تھا-
میں نے کہا:
“ہم ناشتہ بعد میں کریں گے- پہلے اس لاچار کا علاج ہو گا- گھر سے تھوڑی ہلدی اور تیل لے کر آؤ- اور کپڑا بھی- اس کی مرہم پٹّی بہت ضروری ہے”
وہ بھاگ کر گیا اور کچھ ہی دیر میں سب سامان لے آیا- میں نے بالٹی میں پانی منگوا کر اس کے زخموں کو دھویا اور کمر پر ہلدی اور تیل کا لیپ لگا کر پٹی کر دی- پھر کھالے پہ جا کے اس بے زبان کو پانی پلایا اور وہیں گھاس پر چھوڑ دیا-
پھر کابل خان سے کہا:
” یہ پیر سائیں کا کھوتا ہے- اس کی خدمت تم پہ فرض ہے- آئیندہ اس پر سامان مت دھونا- آج سے اسے ریٹائر سمجھا جائے …. “
ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا تھا اور خان بار بار اس پر سے مکھیاں ہٹا رہا تھا- بکرے کا سالن ، انڈے ، دہی ، قہوہ اور تندوری پراٹھوں کی فراوانی تھی- جب سیر ہو چکا تو چائے کی چسکی لیتے ہوئے خان سے کہا:
“اب جس جس کو دم کرانا ہے جلدی لے آ- ہمیں گِدڑ پنڈی جانا ہے”
وہ مغموم ہو کر بولا ” دس بیٹا تھا ہمارا- پانچ روس کی بمباری سے مر گیا- پانچ باقی ہے- وہ سب ٹھیک ہے- ایک امارہ بیٹی ہے- اس کو دورہ پڑتا ہے- ادھر ادھر سے بوہت دم کروایا سب کہتا ہے جن آیا ہوا ہے- تم کو جنّات کا دم آتا ہے ؟؟”
مجھے چائے پیتے پیتے اتھرو آ گیا- پھر کھانس کر کہا:
“چھوٹے موٹے جنّات کا دم تو آتا ہے … وڈّے جنّات کا دم وڈّے پِیر صاب کرتے ہیں … مزار پہ آ جانا …..!!”
وہ بولا ” چھوٹا بچی ہے تو جن بھی تو چھوٹا ہو گا پیر صیب … تم ہی دم کر دو …!!”
اب فرار کی کوئ راہ نہ تھی- میں نے کہا :
“اچھا ٹھیک ہے … دیکھتے ہیں”
خان مجھے جھگیوں کی طرف لے گیا- پھر ایک جھُگّی کے سامنے مجھے کھڑا کر کے اندر گیا ، پردہ کرایا اور آواز دی:
“پیر صیب …اندر آ جاؤ لاکا ..!!
میں اندر گیا تو سات آٹھ سال کی ایک بچّی گدے پہ بے سُدھ لیٹی تھی- میں اس کے قریب دو زانو ہو بیٹھا- آنکھیں بند کر کے الحمد شریف پڑھی- پھر چہار قُل شریف پڑھنے لگا-
یکایک یوں لگا جیسے کسی کالے ناگ نے مجھ پہ حملہ کیا ہو- میں تڑپ کر پیچھے ہٹّا- دل زور سے دھڑکا- گلہ خشک ہونے لگا- بمشکل خود کو سنبھالا اور دوبارہ چہار قُل پڑھنے کی کوشش کی مگر گلے سے آواز نہ نکل سکی- بس قُل قُل ہی کرتا رہ گیا-
اچانک ایک خوفناک صورت ظاہر ہوئ- میں نے ایسی کریہہ مخلوق پہلے کبھی نہ دیکھی تھی- میری سٹّی گُم ہو گئ- گھڑی بھر تو حواس معطّل رہے پھر بمشکل مونہہ سے نکلا :
” یہ کیا بلاء ہے بھئ ….؟؟”
وہ عفریت کسی درندے کی طرح غرایا اور انتہائ مکروہ آواز میں بولا:
” توُ کیا بلاء ہے بھائ …؟؟”
میرے مونہہ سے نکلا:
” مم … میں … پیر صلاح الدین … نئیں نئیں … صلّو کمہار ہوں ….تت .. توُ .. کیا جِن ہے؟؟”
وہ غُرایا:
” سُودی جِن ہوں میں- سود خوروں کو چمٹتا ہوں- کس لئے آئے ہو … ؟؟ “
میں نے کہا:
” بب … بس ویسے ہی … ادھر سے گزر رہا تھا … سس … سوچا … آ .. آپ کا دیدار کر لوں … بب .. بس ٹھیک ہے … تم آرام کرو …. مم میں چلتا ہوں … اللہ حافظ.!!”
عفریت غائب ہوگیا اور میں بے سدھ ہو کر کرسی پہ گر پڑا-
خان نے پوچھا: “ہاں لاکا پیر صیب … کیا بولتی ہے جِن ؟”
میں نے کہا :
“خان صاب … وہ فرما رہے ہیں کہ میں سُودی جِن ہوں .. سود خوروں کو چمٹتا ہوں- آپ سود کھاتے ہو تو چھوڑ دو- میرے بس سے تو اب بات باہر ہے … !!”
وہ بولا : ” خوچہ تُم کیسا پِیر ہے ؟؟ بات کرو اس سے کہ سوُد ھم کھاتا ہے … کاکی کو کیوں چمٹتا ہے ؟؟ …. اس معصوم کا کیا قصور ؟ … بولو بولو … لاکا بولو ..!!”
آگے کنواں پیچھے کھائ- پیچھے پٹھان آگے جِن- مرتا کیا نہ کرتا مجبوراً پھر جِن کو حاضر کیا- اس کی منحوس صورت ظاہر ہوئ اور وہ غُرّایا:
“پھرآ گئے ہو …؟؟”
اس بار میرا اعتماد کچھ بحال تھا- میں نے کہا:
” جج … جی … جِن بھائ … خان صاحب فرما رہے ہیں کہ بچّی کا کیا قصُور ہے … وہ تو معصوم ہے ؟؟”
وہ نتھنے پھُلا کر بولا:
“تو بچّی کو چھوڑ کر خان کو چمٹ جاؤں ؟”
میں فوراً خان کی طرف پلٹا اور کہا:
“خان صاب …اب دو جواب- جن صاب پوچھ رہے ہیں کہ بچّی کو چھوڑ کر آپ کو چمٹ جاؤں … ؟؟”
خان آنکھیں نکال کے بولا:
” خدائے پاک کا خوف کرو پیر صیب … تم ہمارے ساتھ ہو یا جِن کے ساتھ … لاکا سمجھاؤ اس کو کہ روس نے افغان پہ حملہ کیا … ہمارا گھر برباد ہوا … کاروبار تباہ ہوا … لٹا پٹا یہاں آیا …. تین بینکوں سے سود پہ پیسہ اُٹھایا … تب یہ بھٹہ بنایا …. روز مزدور قرض مانگنے کو آ جاتا ہے …. کسی کا ماں بیمار ہے …. کسی کا بہن کا شادی …. انکار کرو تو کام چھوڑ کے بیٹھ جاتا ہے …. اب سود کا پیسہ مفت میں کیسے لٹائے ؟؟ اسے سمجھاؤ ماڑا … عقل کا بات کرے … ہمارا مجبوری سمجھے …. بینک والوں کو کیوں نئیں چمٹتا؟ … ساری دنیا کو وہی سُود دیتا ہے ؟؟ “
خان کا بیان سُن کے میں ایک بار پھر جِن کی طرف متوجہ ہوا- وہ غائب ہو چکا تھا- میں نے ایک بار پھر چہار قل پڑھا- اس بار وہ کافی دیر سے آیا اور بولا:
“معاف کرنا میں غسل خانے میں تھا … ہاں بولو … کیا کہتے ہو … ؟؟”
میں نے کہا:
” خان صاحب فرماتے ہیں کہ وہ مجبور ہیں- تم بینک والوں کو جا کر چمٹو … ساری دنیا کو وہی سود دیتے ہیں … !!! “
اس کا موڈ سخت خراب ہوا اور وہ غُرّا کر بولا:
” ہم بھی مجبور ہیں- بینک والوں کو چمٹیں گے تو وہ کہیں گے کہ اسٹیٹ بینک کو چمٹو …. اسٹیٹ بینک کہے گا ورلڈ بینک کو چمٹو … ورلڈ بینک کہے گا یہود کو چمٹو …. ہمارے پاس پاکستان کا ویزہ ہے .. اسرائیل کا نہیں …. !!!”
جن غائب ہوا تو میری طبیعت سخت متلانے لگی- پھر زور کی ابکائ آئ- کابل خان بھاگ کر بالٹی اٹھا لایا-
میں نے کہا ” نلکے پہ چلو فوراً ، مجھے اُلٹیاں کرنی ہیں”
جو کچھ کھایا پیا تھا ، سب باھر آ گیا- ذرا حواس درست ہوئے تو وضو کیا اور خان سے کہا:
“اچھی خاصی مست زندگی گزار رہا تھا میں … تم لوگوں نے پکڑ دھکڑ کے پیر بنا دیا … جانے کس کس بلاء سے لڑاؤ گے …. سُودی جنّ سے مقابلہ کراتے ہو ؟ جنرل ضیاء نئیں کر پایا …. میں کس کھیت کی موُلی ہوں … سب جنّوں کا باپ ہے یہ …. قیامت کے روز جب انسان اور جنّات تھر تھر کانپ رہے ہونگے ، یہ منحوس وہاں بھی سودخور کو چمٹا ہو گا … !!”
“تو اب اس کا کیا کریں ؟” خان نے مسلسل نلکا چلاتے ہوئے پوچھا-
” کرنا کیا ہے ؟ سوُد کھانا چھوڑ دو ، میں نے اگر تیرا ناشتہ نہ کیا ہوتا تو کم از کم سر اٹھا کے بات تو کرتا اس جِن سے- جو خود سوُدی پراٹھے ڈکار کے بیٹھا ہو ، کیا مقابلہ کرے گا سوُدی جِن کا- نکال دیا ناں سب کُچھ”
اس دوران بھٹّے پہ کچھ گدھا گاڑیاں آئیں- ایک ریڑھی پہ ملاں پور کا بالو ارائیں بیٹھا ہوا تھا- مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پہ غصّے اور نفرت کے آثار پیدا ہوئے-
دور سے ہی بولا:
“تو کدھر پھرتا ہے منحوس طلاقی ؟ اس دن تو ہمیں نصیحت کر رہا تھا کہ زوجہ کی فوتگی پہ مولوی کا بیان رکھوایا کریں … اب خود طلاق دے کے پھرتا ہے ؟”
میں تو جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں- خان بھی پریشان ہو گیا اور بولا :
” لاکا پیر صیب … یہ کیا بات کرتا ہے ؟”
میں نے کہا:
“ٹھیک کہتا ہے …. میں نے اس کی ہمشیرہ کو طلاق دی ہے … اس لئے غُصے میں ہے … مجھے اب نکلنے دو … “
اسی دوران گدڑ پنڈی والی بس کا ہارن سنائ دیا- میں سڑک کی طرف بھاگا- اس بار جیب میں کرائے سے کچھ زیادہ ہی تھا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: