Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 13

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 13

–**–**–

آج رنگ ہے …. ری ماں
رنگ ہے ری … !!
میرے خواجہ کے گھر …
رنگ ہے ری …
رنگ ہے ری میرے …
محبوب کے گھر رنگ ہے ری … !!
مستاں والی سرکار کا دربار میری زندگی کا اگلا پڑاؤ تھا- یہاں سکُون ہی سکون تھا- کسی کو کسی سے کوئ خار ، کوئ عار نہ تھی- کون ہو تُم ، کہاں سے آئے ہو اور کب تک یہاں قیام فرمانے کا ارادہ ہے ، کوئ پوچھنے والا نہ تھا-
یہاں بس پیٹ پوجا تھی اور کوئ کم دوجا نہ تھا- وقت بے وقت کوئ نہ کوئ دیگ اترتی رہتی- خوان پکتے رہتے- میٹھے چاول ، سلونے چاول ، دال چاول ، چنا چاول ، بکرا چاول ، مرغ چاول اور ذائقہ بدلنے کو بھنڈارہ- پھُلیاں ، ریوڑیاں ، بتاشے-
غرض کہ رزق ملنے لگا رنگت بدل بدل کے-
لنگر میں ہر سو “حق اللہ” کی صدا گونجتی تھیں- یہاں تک کہ درویش روٹی مانگتے ہوئے بھی “حق اللہ روٹی” کا نعرہ لگاتے- لیکن سب سے زیادہ نعرہ “حق اللہ بھنڈارہ” کا لگتا یا پھر حق اللہ بوٹی-
بھنڈارہ اس دربار کا مخصوص پکوان تھا- ہر شخص اپنی استعطاعت کے مطابق چنے ، سبزی ، پھل ، پیاز ، ٹماٹر غرض کے جو کچھ میسر ہوتا ، لنگر کی دیگوں میں آن ڈالتا- یہ ملغوبہ دیسی و نباتاتی تیلوں اور الم بلم مصالحوں میں پک کے تیار ہوتا تو بھنڈارہ کہلاتا-
دربار پہ نت نئے لوگ ملتے- نت نئے پھول چڑھتے- شادی پر دولھا کو مزار کی سلامی کرائ جاتی اور پیدائش پہ بچے کی جھنڈ منڈائ جاتی- کوئ لِٹ کٹانے آتا ، کوئ یار مَنانے- کچھ نزر نیاز لٹاتے ، کچھ منّت پوری کرنے آتے ، ملنگوں کے کاسے روز ہی بھر جاتے-
ملنگ کی بھی ایک اپنی دنیا ہوتی ہے- وہ نزر و نیاز پہ جیتا ہے- اسے ہر گھڑی پیری کا زعم اور چوُری کی فکر ہوتی ہے- وہ دنیا کو ہمیشہ مرید کی نظر سے دیکھتا ہے-میں نے یہاں رنگ برنگے ملنگ دیکھے- ایک سے بڑھ کے ایک یہاں پیری کا دعویدار تھا- غرض کہ پیر زیادہ تھے اور مُرید کم-
کچھ مست ملنگ تھے- یہ اپنی دنیا میں مست رہتے اور ہر وقت کچھ نہ کچھ بڑبڑاتے رہتے- پرائز بانڈ اور پرچی جوا والے ان کی بڑبڑاھٹ سے لکی نمبر نکالا کرتے تھے-
ایک ملنگ الیکٹریشن تھا- مزار پہ پانی والی موٹر چلاتا تھا- لوگ اسے بجلی والا بابا کہتے تھے- بہت سوں کے نزدیک وہ “کرنی والا” تھا یعنی اس کی ہر دعا مقبول تھی- ان دنوں ملک میں ایک نئ افتاد آن پڑی “لوڈشیڈنگ”-
ریڈیو پہ بتاتے تھے کہ ڈیموں میں پانی کم ہو گیا ہے- ملک میں بجلی چوری بڑھ گئ ہے- اب روزانہ بجلی جایا کرے گی- شام ہوتے ہی مزار پہ اندھیرا چھانے لگا-
میں نے ایک روز بجلی والے بابا کی خدمت میں ڈیڑھ بتاشہ شیرینی لوڈ شیڈنگ کا ختم چڑھایا- بابا کے چہرے پہ جلال آیا- بڑی طویل دعا فرمائ-
آج تک قبولیّت کا منتظر ہوں-
دھویں والا ملنگ بھی کافی مقبول تھا- یہ سگریٹ پی کر دھواں نکالتا تھا- اس دھویں میں عاشق کو معشوق کی تصویر نظر آتی تھی- یہاں عاشقوں کا ہجوم لگا رہتا-
ایک روز دو عاشق آپس میں دست و گریبان ہو گئے- ان میں سے ایک نے بابے کو بھی دھو ڈالا- کہتے ہیں بابا نے ایک عاشق کو دوسرے کی بہن کی تصویر دکھا دی تھی- تکوینی نظام کی گڑبڑ تھی یا سوچی سمجھی سازش- بہرحال بڑا ہی غیرت والا زمانہ تھا-
ایک “پروفیسر ملنگ” بھی تھے- لوگ بتاتے تھے کہ سائنس کے ستھ سولہ جماعت پڑھے ہیں- نوکری نہ ملنے پہ ملنگ بن گئے تھے- یہ پیالے میں دودھ یا سادہ پانی لئے پھرتے اور اس میں انگلی ڈال کے باہر چھڑکتے – اکثر انگریزی میں بات کرتے اور ہر کسی کو ” بلڈی سالا” کہتے تھے- ان کا یہ قول مجھے بڑی مشکل سے یاد ہوا:
” ٹُو بلڈّی ہائیڈروجن ، وَن سالا آکسیجن مل کے واٹر بنا سالا ، واٹر آگ بجھاتا ہے ، ٹوُ آکسیجن ، ٹُو ہائیڈروجن سے ہم بنا سالا ، ہم آگ لگاتا ہے … !!! “
“جانی ملنگ” یہاں کا واحد صاف ستھرا ملنگ تھا- وہ بائیس تیئس برس کا جوان تھا- ماں باپ فوت ہو چکے تھے- بھائیوں نے گھر سے نکال رکھا تھا- اس کی سب سے اچھی عادت پانچ وقت کی نماز تھی- وہ مزار سے ملحقہ مسجد میں رہتا تھا اور بیّک وقت امام بھی تھا اور خادم مسجد بھی-
میں نے بھی مسجد میں ہی ڈیرہ لگا لیا- ہفتہ بعد دربار کے متولی پیر سجاد شاہ مسجد میں تشریف لائے تو میری وضع قطع دیکھ کر امامت مجھے سونپ دی- اس طرح جانی اور میرا رشتہ امام اور خادم مسجد کا ہو گیا-
تین مہینے پلک جھپکتے میں گزر گئے- میں کئ ملنگوں کے حلقوں میں بیٹھا مگر جلد ہی طبیعت سیر ہو گئ- یہ بیزاری جانی نے پیدا کی- وہ ملنگوں کی کئ خفیہ عادتوں سے واقف تھا- فاضل شاہ کے سوا وہ کسی کو کامل نہ مانتا تھا-
پیر فاضل شاہ کا یہاں بہت شہرہ تھا- ان کے آستانے پہ منگل بدھ کو رش رہتا- لوگ انہیں جنات اسپیشلسٹ مانتے تھے- ان کے پاس مؤکلات کی فوج تھی- لوگ ان کا نام بڑے احترام سے لیتے تھے- جانی بتاتا تھا کہ وہ پیر فاضل شاہ سے جنّات کا عمل سیکھنا چاھتا ہے جبکہ شاہ جی فی الحال اسے اذن دینے سے قاصر تھے- مجھے بھی جنّات نکالنے بہت شوق تھا- ابھی تک میری “جن” سے صرف ایک ہی ملاقات ہوئ تھی ، پٹھان کے بھٹّے پہ اور یہ ملاقات بے نتیجہ رہی تھی-
جانی اور مُجھ میں بہت سی قدریں مشترک تھیں- ہم دونوں بے گھر تھے- نمازی تھے اور اللہ کی باتیں کرتے تھے- نہ تو ھم کسی کے مرید تھے نہ پیر- اگر کچھ فرق تھا تو بس یہ کہ جانی کو فقیر بننے کا شوق تھا اور میں مریدوں سے پیچھا چھوٹنے پہ رب تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا تھا-
مزار پہ ہر گھڑی ہجوم رہتا جبکہ مسجد اکثر خالی ہی رہتی- جانی پانچ وقت اذان دیتا اور میں امامت کراتا- نماز اکثر ہم دونوں اکیلے ہی پڑھتے- کیا ہوا جو کبھی دو چار زائر رستہ بھول کے چلے آئے ورنہ مسجد ایک حسین ویرانے سے کم نہ تھی-
میرے پاس پہننے کو صرف ایک ہی لباس تھا- میں اسے ہر تیسرے روز دھونے کا عادی تھا- خوش قسمتی سے جانی کے پاس دو قمیضیں تھیں- سوموار اور جمعرات کو مجھے اس سے ایک قمیض ادھار مانگنا پڑتی ، جسے پہن کے میں اپنا لباس دھو لیتا تھا- ایک روز جب ہم قمیضیں بدل رہے تھے میں نے جانی کی پیٹھ پہ پرانے زخموں کے نشان دیکھے-
میں نے کہا ” یہ کیا ہوا جانی؟ “
وہ ہنس کے بولا ” ماتم کے نشان ہیں”
میں خاموش ہو گیا- مُجھے کسی کے مسلک سے کوئ غرض نہ تھی- وہ رب سے محبّت کرتا تھا یہی اس کے بلند فطرت ہونے کی نشانی تھی- سچی بات تو یہ کہ جس رب کو میں چٹّھیاں لکھتا تھا وہ مسلک بیزار تھا اور منافرت کی بجائے مذھبی موافقت کو پسند کرتا تھا-
جمعرات کا دن یہاں خاص عید کا دن ہوتا- اس روز خوب چڑھاوے چڑھتے اور ملنگوں کی عید ہوتی- جمعرات کی شب قوالی کا پروگرام ہوتا- دور دراز گاؤں پنڈوں سے زائرین ٹرالیوں ویگنوں پہ بیٹھ کے آتے- رات بھر چائے اور میٹھے دودھ کے دیگچے ابلتے- مٹھائیاں تقسیم ہوتیں- ملنگ ، فقیر ، مست الست ، دنیا کا ہر غم بھول کر اس رات خوب ناچتے-
اس شب میں اور جانی لنگر خانے سے دودھ کے پیالے بھر کے قوالی سننے جا رہے تھے-
محفل جوبن پہ تھی- سازندے طبلے اور ہارمونیم پر موسیقی کی دھُنیں بکھیر رہے تھے- قوال کلام خُسروُ کی پُرسوز تان لگائے ہوئے تھے- عاشقان پیسے لٹا رہے تھے اور ملنگ وجد میں ناچ رہے تھے-
آج رنگ ہے …. ری ماں
رنگ ہے ری … !!
میرے خواجہ کے گھر …
رنگ ہے ری …
رنگ ہے ری میرے …
محبوب کے گھر رنگ ہے ری … !!
رنگ و نور کی اس محفل میں میری نظر بدرنگ ہُوئ اور بہکتی بہکتی کہیں دوُر چلی گئ- ملنگ کی نظر پاک ہوتی ہے- وہ پرکشش چہروں میں جلوہء ذات دیکھتا ہے- مگر میں ملنگ نہیں ، دِل کے ہاتھوں “تنگ” تھا- سو میں نے فراغی سے دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا- میرے پاس اگر تھوڑی بہت کوئ فقیری تھی ، تو اس شب ہوا ہو گئ – میرا دِل حُسن کے خالق کو چھوڑ کر اس کی حسین مخلوق کے سامنے سجدہ ریز ہو گیا-
وہ سترہ اٹھارہ سال کی ایک خوبصورت دوشیزہ تھی- سانولی رنگت ، کتابی چہرہ ، کونج سی گردن ، کمان بھنویں- کان میں سونے کی بالی ، ناک میں کوکے کی ڈالی- اس کا پورا جسم ایک سیاہ چادر میں لِپٹا ہوا تھا- گلے میں چاندی کی زنجیر تھی اور وہ بے ہوش تھی-
اس کا سر ایک بوڑھی امّاں کی گود میں تھا- ساتھ ایک سفید ریش بزرگ تھا جو کافی پریشان دکھائ دیتا تھا- لوگ کہ رہے تھے کہ لڑکی پہ جِن آیا ہوا ہے- کچھ ملنگ ادھر گھیرا ڈال کے کھڑے تھے- میں نے دودھ کا پیالہ جانی کو پکڑایا اور وہیں کھڑا ہو گیا-
کسی ملنگ نے جا کر پیر فاضل شاہ کو خبر دی- وہ مزار کے پچھلے احاطے میں واقع ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے- شاہ جی ہانپتے ہوئے آئے- پہلے ملنگوں کو ڈانٹا کہ پیچھے ہٹ جاؤ- تماشہ نہیں ہے- پھر اس مرمر کی مورت کے پاس دوزانو ہو بیٹھے-
آج رنگ ہے …
ری ماں … رنگ ہے …
قوالوں کا جوش عروج پہ تھا-
شاہ جی اس دوشیزہ کی چوُڑیوں بھری کلائ اپنے کھردرے ہاتھوں میں تھام کر آنکھیں بند کئے منتر پڑھ رہے تھے-
ایک رقابت سی میرے دل میں پیدا ہوئ- دل یاس کے دریا میں غوطے کھانے لگا- کاش میں نے بھی جنات نکالنے کا کوئ عمل سیکھا ہوتا- آج شاہ جی کی جگہ میں بیٹھا ہوتا- اس خوبصورت پرّی کی خاطر جِنّات کے لشکروں سے ٹکرا جاتا- ذریّتِ ابلیس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا- کوہ قاف سے جنّاتی علم اتار کے بنی آدم کا جھنڈا لہرا دیتا- بن قاسم بن کر حوّا کی اس بیٹی کو آزاد کراتا ، پھر فرہاد بن کر اس خوبصورت بُت کا اسیر بن جاتا- کاش میں بھی ایسا کوئ عمل جانتا-
کچھ ہی دیر میں اس مہوِش نے آنکھیں کھول دیں اور انگڑائ لے کر یوں بیدار ہُوئ گویا صبح کا سوُرج طکوع ہو گیا ہو- پھر حیرت سے مجمع کو دیکھا- بوڑھی مائ نے آنسو صاف کرتے ہوئے بیٹی کو گلے لگایا- چادر کے پلّو سے کچھ مڑے تڑے نوٹ نکال کر شاہ جی کی نزر کئے- شاہ جی نے پیسے جیب میں رکھّے اور کھُرّے کی طرف چلے گئے- ملنگوں نے آگے بڑھ کر ہاتھ دُھلائے-
بے شمار سوالات میرے دِل میں پیدا ہونے لگے ؟ آخر یہ جِن انسان میں داخل کہاں سے ہوتا ہے ؟ وہ کیسا عمل ہے جس سے جِن باہر آ جاتا ہے- جِن آخر دکھائ کیوں نہیں دیتا ؟ آج تک کسی عامل نے جِن کو کان سے پکڑ کے باھر کیوں نہیں نکالا ؟ اپنی بد اعمالیوں پہ کسی جِن نے کبھی معافی کیوں نہ مانگی؟ جسے چمٹا تھا اس کے پاؤں کیوں نہ پکڑے کہ بی بی آئندہ نئیں چمٹوں گا ؟ کبھی عوام کے سامنے توبہ تائب کیوں نہ ہوا کہ میں آج سے ایک شریف جن بن کے زندگی گزاروں گا ؟
یہ کیسا جِن ہے جو کسی غاصب کرایہ دار کی طرح زبردستی قلبوت پہ قبضہ کرتا ہے پھر عامل کے عمل سے خاموشی سے رخصت بھی ہو جاتا ہے؟ یہ ہمیشہ غریب کو ہی کیوں چمٹتا ہے ؟ کسی افسر کسی رئیس کو کیوں نہیں چمٹتا ؟ بے شمار سوالات سانپ بن کر میرے ذہن میں کلبلانے لگے-
وہ ماہ رُخ اپنے ماپوں کے ساتھ مزار کی سلامی کو چل دی- اس کی چال میں ایک وقار اور متانت تھی- میں کسی دیوانے کی طرح پیچھے ہو لیا- وہ مرقد شریف پہ قدم بوسی و دست بوسی میں مشغول ہو گئ اور میں کچھ دور ایک ستون کی آڑھ میں رب سائیں کو چٹھّی لکھنے بیٹھ گیا:
” تیرے خزانوں میں ایسی کروڑوں ہونگی رب سائیں – بس ایک یہ دلا دے- اور کچھ نئیں مانگتا- حوّا کی بیٹی ہے ، میں آدم کا بیٹا- “جِن” سے زیادہ میرا حق بنتا ہے- اب کی بار سنبھال کے رکھوں گا سائیاں- بس اب انکار نئیں کرنا- تیری اس خوبصورت عنایت کا منتظر رہوں گا-
فقط دِل کے ہاتھوں مجبور
تیرا اِک بندہ … !!”
سلامی کے بعد یہ لوگ واپس پلٹے تو میں ستون کی آڑ میں کھڑا ہو کر تکنے لگا- وہ مسکرا کر اپنی ماں سے کچھ بات کر رہی تھی- لمحہ بھر کو اس کی نظر مُجھ پر پڑی- اس کی مسکراہٹ تھم گئ- شاید وہ مجھے کوئ بھوت پریت سمجھی تھی- بکھرے ہوئے بال ، بے ترتیب داڑھی ، پرانا لباس – میں کسی بھوت سے کم تو نہ تھا- مجھے اپنا خیال رکھّے ہوئے مہینوں ہو چکے تھے-
وہ لوگ دربار سے نکل کر بیرونی سیڑھیوں کی طرف چلے اور میں دربار کی کھڑکی سے جھانکنے لگا- باہر کا موسم بدل چکا تھا- بادل آ چکے تھے- اُجلے فرش پر ہلکی ہلکی بوندیں پڑ رہی تھیں- ان بوندوں نے قوالوں کا جوش اور بڑھا دیا تھا:
بوندا برسے ری …
بوندا برسے
خواجگان کے دربارن میں
بوُندا برسے ری
بوُندا برسے …
سب سکھیّن کے …
پاس ہے پِیّا …
مورا مَن پِیا ملن کو ترسے
آج رنگ ہے ری ماں …
رنگ ہے ری …
میرے محبوب کے …
گھر رنگ ہے ری …
…………………………
رات نصف سے اوپر تھی-
مسجد کی گھڑی کی مُسلسل ٹک ٹک نے میری نیند اڑا رکھّی تھی یا شاید میں اس انمول گھڑی کے سحر میں گرفتار تھا، جب حُسن تجّلی بن کر من کی سوُکھی زمین پہ چمکا تھا-
آسیب زدہ حُسن ***
جو خوابیدہ تھا …. !!
جس کا آسیب شاہ جی کے وظیفے کے سامنے ریت کی دیوار تھا …
حُسن جو ہوش میں آنے سے پہلے ہی ہوش اڑا دینے پہ قادر تھا …
مجمع کی طرف اٹھتی اس کی نگاہِ حیرت کہ گویا قاتل اپنے مقتول کو ڈھونڈ رہا ہو … !!!
لوح مزار پہ اس کے والہانہ بوسے گویا وصل کی شب دلھن اپنے محبوب کو چومتی ہو … !!!
مرقد سے پلٹ کر جب وہ مسکرائ تھی تو بجلی کتنے زور سے چمکی تھی … !!!
ستون کے پیچھے جھانکتے فقیر کو دیکھ کے جب وہ ہراساں ہوئ تھی تو بادل کتنے زور سے گرجا تھا … ***
ہم دونوں مست ملنگ مسجد کے صحن میں گھاس کی صفیں بچھائے لیٹے تھے- بارش تھم چکی تھی اور موسم بڑا خوشگوار ہو چلا تھا-
میں نے کروٹ لیکر جانی کو دیکھا- وہ بھی شاید میری طرح آسمان کے تارے ہی گن رہا تھا-
میں نے کہا “جانی ؟ … جاگ رہا ہے ناں …. ؟”
اس نے چونک کر مجھے دیکھا پھر ہلکی سی “ہوُں” کی-
میں نے کہا ” یار تُو نے کبھی …. محبّت … وغیرہ … کی ہے ؟”
وہ کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا:
“امام صاحب ..خیر تو ہے ؟؟ “
میں اٹھ کے بیٹھ گیا اور کہا:
” امام نہیں ، پیش امام ہوں میں … کل سے تو بن جانا … میری بات کا جواب دے …. “
” ہاں کی ہے … پھِر … ؟؟
” اچھا …. کس سے ؟؟ “
“اپنے بابا جی سے !!” وہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا-
میں کچھ دیر اندھیرے میں اسے گھورتا رہا ، پھر کہا :
” یقیناً … تمہارے بابا بھی بہت محبّت کرتے ہونگے تم سے”
“ہاں … بہت زیادہ” وہ بولا- “سب بھائیوں سے زیادہ … جب چھوٹا تھا تو کندھے پہ بٹھا کر مجلس لے جاتے ،کبھی امام بارگاہ …. چاندی کی زنجیر بنوا کے دی تھی مجھے … چھوٹی چھوٹی کَڑیاں تھیں جس میں …. تب میں چھ سال کا تھا- پانچ سال لگے مجھے یہ جاننے میں کہ عزادار اصلی چھریوں سے اصلی خُون بہاتے ہیں … عجیب بات ہے ناں .. پھر ایک دن میں نے بابا کو خون میں لت پت دیکھا … بالکل اصلی خون میں … جب ایک گولی ان کے سینے کو چھید کے گزری- تب میں گیارہ برس کا تھا … اس روز مجھے عِلم ہوا کہ زمین پر ہمارے علاوہ اور بھی مسلمان بستے ہیں … وہ ہمیں کافر سمجھتے ہیں اور ہم انہیں …. انہیں بھی اپنی سچّائ پہ اتنا ہی یقین ہے جتنا ہمیں- اسی سچائ کو ثابت کرنے کےلئے وہ ہمیں مارتے ہیں اور ہم انہیں …. ہماری طرح وہ بھی اپنے مقتولوں کو شہید کہتے ہیں … دس برس تک یہ سوال میرے ذھن سے چپکا رہا کہ آخر خدا کس کے ساتھ ہے ؟ ہمارے یا اُن کے؟ بے شمار سوالات وسوسے بن کر دل میں کلبلانے لگے- بہت استغفار کیا مگر سوالوں نے پیچھا نہ چھوڑا- کتابوں پہ کتابیں جمع ہوتی گئیں اور کیسٹوں پہ کیسٹیں- مگر سوالات بڑھتے ہی چلے گئے- لوگ کہتے مجلس بگڑ گئ ہے اس کی- ایمان خراب ہو گیا ہے- گستاخ ہوتا جا رہا ہے- پھر ایک روز نکال دیا گیا گھر سے- کتابوں سمیت- علم کی گٹھڑی سر پہ دھرے کب تک بھاگتا- کب تک سوالوں کا وزن سہتا- ایک روز کتابیں پھینکیں نہر میں اور یہاں چلا آیا- علموں بس کریں او یار- اکو الف تیرے درکار- اسی ایک الف کی تلاش میں یہاں پڑا ہوں- تُم کیسے پڑے ہو یہاں ؟ “
میں نے کہا ” اسی طرح … جیسے تُم پڑے ہو … ایک جیسی کہانی ہے اپنی … بس فرق ہے تو اتنا کہ کہ تو نے کتابیں نہر میں پھینکیں اور میں نے پکوڑوں کی دکان پہ … چل چھوڑ یار … اور سنا کیا حال چال ہے … بابا کے سوا اور کس سے محبت کی ہے تو نے … ؟؟ “
وہ بولا ” یہ آدھی رات کو محبت کہاں سے یاد آ گئ … ؟”
میں نے کہا ” بات یہ ہے جانی کہ آج میں سخت کافر ہو گیا ہوں”
وہ بولا ” استغفراللہ … یہ کیا بات ہوئ “
میں نے کہا ” بس- ہو گیا ہوں ناں یار-
سخت کافر تھا جس نے پہلے میر
مذھبِ عشق اختیار کیا
مُجھے عِشق ہو گیا ہے یار- جانتے ہو ناں … آج شاہ جی نے ایک لڑکی کا جِن اتارا ہے … بس یوں سمجھو … وہ جِن وہاں سے اُتر کے مُجھ پہ چڑھ گیا “
وہ جھَٹ اُٹھ بیٹھا-
“واقعی ؟ صُبح شاہ جی سے دم کرا لینا … ان کا وظیفہ کبھی خالی نہیں جاتا”
میں نے کہا ” او پگلے … یہ وظیفہ خور نہیں، آدم خور جِن ہے- انسان کو کھا جاتا ہے یہ …
عشق ہے یہ … مجھے اس لڑکی سے عِشق ہو گیا ہے یار … سمجھا کہ نئیں …. ؟”
وہ کچھ دیر مجھے یوں گھورتا رہا گویا میری ذہنی حالت پہ شک کر رہا ہو ، پھر بولا ” یہ تو بہت بری بات ہے امام صاحب … “
میں نے جھنجھلا کر کہا “ارے بس کر یار … کل سے امامت توُ کرا لینا …. مجھے تو بس اس لڑکی کا نام ، پتّہ ، گوت سب درکار ہے- شادی شدہ ہے ، منگنی شُدہ یا کنواری ، جن کب سے آ رہا ہے ، کہاں سے آ رہا ، کیوں آ رہا ہے سب معلومات چاھئیں مجھے ، اور یہ سب تو لا کے دے گا مجھے ، کل شام تک – سمجھا کہ نہیں …؟؟ “
جانی نے میری بات کا کوئ جواب نہ دیا اور کروٹ بدل کے سو گیا-
فجر کی امامت مزار پہ آئے کسی زائر نے کرائ- میں ، جانی اور شادا ملنگ مقتدی تھے- نماز کے بعد آخری بار جانی مجھے مسجد کے کونے میں تلاوت کرتا ہوا نظر آیا- وہ ان دنوں ہلکا پھلکا حافظ بننے کی کوشش کر رہا تھا-
میں نے سارا دن خود کو معمولات میں مشغول رکھّا- مسجد کی صفائ کی- غُسل خانے صاف کئے- کتابوں والی شیلف کو جھاڑا- پودوں کو پانی لگایا اور تھک ہار کے بے حال ہوا تو مسجد کے باھر گھاس پہ جا کے لیٹ گیا-
بدقسمتی سے پروفیسر ملنگ بھی گھومتا گھماتا ادھر آ نکلا- میں نے اپنے تئیں اس بلاء سے جان چھڑانے کی پوری کوشش کی مگر وہ نہ ٹلا- ہاتھ میں پانی کا پیالہ اٹھائے ، الم بلم انگریزی بولنے لگا-
پھر مجھ سے کہنے لگا ” مسٹر مولبی- ایک سو چھ عنصر ہے سالا اس ورلڈ میں ، ایک سے بڑھ کے ایک سولِڈ- لیکن آج تک کوئ عنصر چرس کا مُقابلہ نئیں کر سکا”
میں خاموشی سے اُٹھا اور اندر چلا گیا-
ظہر کے بعد بھی جانی نظر نہ آیا تو تشویش ہونے لگی- پھر خیال آیا کہ شاید میرے کام سے نکل گیا ہو- یہ میری خوش فہمی بھی ہو سکتی تھی کیونکہ کبھی کبھار وہ کمالیہ بھی چلا جاتا تھا- وہاں اس کا کوئ رشتہ دار اس کی مالی مدد کرتا تھا-
عصر کے بعد میں مسجد سے نکلا تو سارے ملنگ صحنِ مزار کی طرف بھاگتے نظر آئے- میں بھی ادھر کو بھاگا کہ شاید کچھ نیا دیکھنے کو ملے- دیکھا تو وہاں ایک تونگر مکھانے بانٹ رہا ہے اور ملنگ تبرّک لوُٹنے کو ایک دوسرے کے اوپر گرے جا رہے ہیں- یہ تونگر کوئ اور نہیں جانی تھا-
میری جان میں جان آئ- ملنگوں کے دھکّے کھاتا ہوا بمشکل اس کے قریب ہوا- اس نے مکھانوں کی مُٹھ میری طرف بڑھائ- میں اس کا ہاتھ جھٹک کے بولا ” نئیں چاہئے مکھانے ، چل میرے ساتھ”
اس کے ہاتھ سے شاپر چھُٹا تو ملنگ چِیل کوّوں کی طرح ہمارے اوپر جھپٹے- بمشکل میں نیچے سے نِکلا اور جانی کا ہاتھ پکڑ کے اسے گھسیٹ کے باھر لایا- اس کی قمیض کے بٹن ٹوٹ چکے تھے- وہ ناراض ہو کر بولا ” کچھ تو خیال کرو امام صاحب- فقیر لوگ ہیں- ناراض ہو جائیں گے”
میں نے کہا ” پورا پاکستان مل کر بھی ان فقیروں کو راضی نہیں کر سکتا- ملنگ کا پیٹ اور عاشق کا دِل کبھی بھرا ہے؟ “
پھِر اسے لئے مزار کی چھوٹی دیوار پہ جا بیٹھا اور کہا:
” بتا ، کیا رپورٹ ہے ..؟”
وہ بولا ” لڑکی کا نام رُخسانہ ہے ، پِنڈ نوُری سہاگ ….”
میں نے بے تابی سے کہا:
“واہ … ماشاءاللہ … اور کوئ شادی ..منگنی … وغیرہ …”
بولا: ” کنواری ہے- منگنی ٹوُٹ چُکی … دو بار … وجہ ہے جِنّ … اور جِن بڑا ظالم ہے”
میں نے کہا ” اور کچھ؟ .. جِنّ کے بارے میں ؟؟”
بولا ” مزار کے بھنگی بھی جانتے ہیں اس جِن کے بارے میں- سال بھر سے تو آ رہا ہے – مہینے میں ایک دو بار ضرور آتا ہے- پرکاش نام یے اُس کا … ہندُو ہے”
” ہِندو جِن ؟؟ … اور آتا کہاں سے ہے ؟ نئ دِلّی سے ؟ “
“آپ مذاق کر رہے ہو … کہاں سے آئے گا ؟ … ظاہر ہے کوہِ قاف سے ہی آتا ہو گا- شاہ جی فرماتے ہیں کہ سارے جِنّات کوہِ قاف پہ رہتے ہیں”
میں نے کہا ” مُجھے جنّوں سے پیار ہو چلا ہے یار- کتنے اچھے لوگ ہیں- ہندو ، مُسلم ، سِکھ ، عیسائ سب پیار محبّت سے رہتے ہیں …کوہِ قاف پہ – امن امان سے… ایک ہم ہیں کہ آتش فشاں بنا رکھا ہے اس زمین کو … خیر چھوڑ …. تو نے بہت بڑا کام کیا جانی- جب بھی دوستی کی تاریخ لکھّی جائے گی ، تیرا نام سنہری حروُف سے جگمگائے گا- تو واقعی دِلّوں کا جانی ہے- چل تیرا ماتھا چوُم لوں”
لیکن اس کی نوبت نہ آ سکی- وہ خاموشی سے اُٹھا اور سر جھُکائے مسجد کی طرف چل دیا- شاید ناراض ہو گیا تھا-
عشق میں سب سے زیادہ نامہ بر تڑپاتے ہیں- ہمراز اذیّت دیتے ہیں- بعد دفعہ تو ان کے نخرے محبوب سے بھی بڑھ جاتے ہیں- جانی بھی یہی کر رہا تھا- مجھے شب سے پہلے پہلے اسے منانا تھا- ابھی تو دلبر جانی سے بہت کام لینے تھے-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: