Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 14

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 14

–**–**–

اس رات دھویں والے بابا کے پاس خوب رونق میلہ تھا- جوان منچلے بابا کو سگریٹ سلگا کے دیتے- وہ کَش لگا کر مونہہ اوپر اُٹھاتا ، دھویں کے مرغوُلے اُڑاتا ، جھوُمتا اور بڑبڑاتا:
” حُسن کی سوغات ہے- واہ کیا بات ہے- پھُول ہے یا کلی ہے- موتئے کی ڈلی ہے”
اس پہ محفل ہائے ہائے پٌکار اُٹھتی اور خوب قہقہے گونجتے- پھر کوئ اور منچلا سِگریٹ بڑھاتا اور کہتا ” بابا میری محبوبہ کی بھی فوٹو دکھا ناں … !!”
بابا سگریٹ سوُنگھ کے مال کا معیار جانچتا اور کہتا-
“چھوٹا ایمبیسی؟ پُتّر اس کے دھُواں میں تو چُڑیل بھی نہ دِکھّے ، گولڈ لیف لا …. گولڈ لِیف .. !! “
فضاء قہقہوں سے گوُنج رہی تھی اور میں مجمع سے کافی دُور تھڑے کی منڈیر پہ اُداس بیٹھا تھا-
اتنے میں جانی آتا دکھائ دیا- عصر سے اب تک وہ مجھ سے خفا ہی چلا آتا تھا- کچھ دیر وہ دھویں والے بابا کا رونق میلہ دیکھتا رہا پھر میری طرف چلا آیا-
” امام صاب ؟ بابا سے دور کیوں بیٹھے ہو ؟ آپ بھی سگریٹ سلگا کے دو ناں .. “
میں نے کہا :
من میں بسی ہے صورتِ یار
جب بھی چاہا دیکھ لی
وہ بولا ” واہ واہ … دربار پہ ایک ملنگ شاعر کی کمّی تھی ، پوری ہو گئ …. کل سے آپ بھی رونق میلہ لگا لینا… ماشاءاللہ”
میں نے اٹھ کے اسے گلے لگایا اور کہا:
“ہماری رونق تو تجھ سے ہے دلبر جانی ، شکر ہے تُو راضی تو ہوا ورنہ تیری جُدائ میں بھی شعر کہنا پڑتے- سُن آج کے بعد مجھے امام صاب نہیں … سائیں صلّو کہنا … ورنہ لوگ کہیں گے کہ کیسا زمانہ آ گیا ہے … مسجدوں کے پیش امام بھی عشق لڑانے لگے ہیں- ایویں خواہ مخواہ بات چل پڑے گی … چل اب باھر چلتے ہیں- کھلے ماحول میں- کچھ دِل کا حال سنانا ہے تجھے … !!! “
ھم باتیں کرتے ہوئے مزار سے باہر نکل آئے- ایک کچّی سڑک مزار کی ملحقہ دیوار سے الگ ہوتی تھی- اس طرف آبادی کم تھی اور کھیت زیادہ- گندم کی بجائ کےلئے زمین تیّار ہو رہی تھی- خالی کھیت دونوں طرف وسیع میدان کی صورت پھیلے ہوئے تھے- چاند کی چاندنی نے ماحول کو خوابناک بنا رکھا تھا-
ہم سڑک پہ چہل قدمی کرتے ہوئے کافی دوُر نکل گئے-
میں نے کہا ” جانی- میرے دِل میں ایک خیال آیا ہے یار- وعدہ کر- مذاق نہیں اڑائے گا میرا ؟”
وہ بولا ” ٹھیک ہے سائیں بتاؤ ؟”
میں نے کہا ” پہلے یہ بتا کہ نوُری سہاگ پِنڈ یہاں سے کتنی دوُر ہے”
وہ چلتے چلتے اچانک رُک گیا اور مُجھے گھورتے ہوئے بولا ” بس کرو سائیں جی- آپ نوُری سُہاگ جاؤ گے ؟ اس لڑکی سے مِلنے ؟”
میں نے کہا ” تو اس میں کیا برائ ہے؟ دم کرنے تو جا سکتا ہوں ناں ؟ “
اس نے ایک طویل قہقہہ لگایا اور بولا:
” دَم شم کا خیال بھی دِل سے نکال دو سائیں- جِن کا مقابلہ کر سکتے ہو آپ ؟؟ … وہ بھی بغیر نوُری عِلم کے؟؟ میرا مشورہ تو یہ ہے کہ صبح شاہ جی سے ملو- کچھ روز ان کی ٹہل سیوا کرو- وہ جنّات کی تسخیر کے تمام علوم سے واقف ہیں- بس ان کو راضی کر لو فیر سمجھو ستّے خیراں- ورنہ کھوتا کھوُہ میں- ایویں خواہ مخواہ کسی مصیبت میں پھنس جاؤ گے”
میں نے کہا ” چھوڑ شاہ جی کو یار- دیکھ جانی ..!! اپنا عقیدہ تو یہ ہے کہ جِن کبھی بھی انسان سے طاقتور نئیں ہو سکتا- نہ ہی ان میں عقل ہم سے زیادہ ہے- جنّات کسی قابل ہوتے تو خُدا ان سے حکومت چھین کے انسانوں کو کیوں دیتا؟ جِگرا ہونا چاھئے یار- ایمان یہاں سینے میں ہے- دیکھ چُکا ہوں میں جِنّات کو- یہاں آنے سے پہلے ، ایک چھوٹی بچّی کا جِن اتارا تھا میں”
وہ حیرت سے بولا ” واقعی ؟؟”
میں نے کہا ” بس اترتے اترتے رہ گیا- اس روز اگر میں نے پراٹھے نہ کھائے ہوتے ناں ، پٹخ کے رکھ دیتا سالے کو- سُودی جِن تھا وہ اور میں نے سود والے پراٹھے کھا رکھّے تھے- بچ گیا کافر- جِن تو نہ اترا پر جھاکا اتر گیا ہے میرا .!!”
وہ ایک بار پھِر ہنسا اور بولا:
“چھ ماہ سے مِنّت کر رہا ہوں شاہ جی کی- نوری علم سکھا دیں- آج تک اذن نہیں مِلا-آپ بغیر نوری علم کے جا رہے ہو جِن اتارنے ؟ وہ بھی ایک ہِندو جِن؟ بلّے وئ بلّے …”
میں نے لہر میں آ کےکہا:
“افسوس تو اس بات کا ہے جانی کہ ہم نے ہندوؤں سے تو آزادی حاصل کر لی ، پر ھندو جنّات سے پیچھا نہ چھُڑا سکے- یعنی مُسلم جنّات … مل جل کر بھی ….. جناح جیسا ایک لیڈر پیدا کر نہ سکے؟؟ یہ تو کارکردگی ہے ان کی اور ایک ہم ہیں کہ انہیں سر پہ چڑھا رکھّا ہے؟ عاملوں کا دھندہ ہے – ورنہ قرانِ پاک گھر میں پڑھا جائے تو ہندو جنّات رام رام کرتے ہوئے بھاگیں- دیکھ لینا- رُخسانہ کا جِن میں ہی اتاروں گا- ان شاءاللہ ….. بلکہ بارڈر بھی پار کرا کے آؤنگا .. اس کافر کو … !!!”
وہ بولا:
“شوق سے اتاریں جناب- آزادی دلائیں اس بے چاری کو- نوری سہاگ یہاں سے زیادہ سے زیادہ چھ کلومیٹر دور ہے- پُل باگڑ سے تانگہ مِل جائے گا- ڈیڑھ روپیہ کرایہ ہے … تو ….. کب جا رہے ہو جِن اتارنے ؟ میں بھی چلوں ساتھ ؟”
میں نے کہا ” نہیں جانی- تُم کل شہر جاؤ گے- کچھ سامان منگوانا ہے- میرے پاس کچھ روپے پڑے ہیں- یہاں آنے سے پہلے ایک کسان نے دئے تھے- اس کی بھینس بیمار تھی- میں نے فاتحہ پڑھ کے دم کیا تو ٹھیک ہو گئ- خیر اللہ نے ٹھیک کیا مگر اس نے پیر مان لیا مُجھے- میری دعوت کی اور نزرانہ بھی دیا- صبح یہ پیسے خرچ کرنے ہیں”
وہ مسکرایا اور میرے بال کھینچ کر بولا ” کل منگل ہے- دربار پہ نائ آئے گا- اپنا حلیہ بھی درست کروا لینا- جِن بڑا بھائ سمجھ کے جپھّی نہ لگا لے آپ کو …. اچھا تو کیا کیا سامان منگوانا ہے ؟؟”
دوسرے دِن شام کو جانی لدا پھندا واپس آیا- وہ سارا سامان لے آیا تھا- اس میں میرے لئے ملیشیا کا ایک سیاہ کرتا ، مدنی رومال ، پنج سورہ ، تسبیح ، عِطّر اور سُرمہ تھا- اس کے علاوہ چاندی کی ایک چھاپ اور سنہرے رنگ کی ایک زنانہ گھڑی بھی تھی جو میں نے خصوصی طور پہ منگوائ تھی جِن اتارنے کےلئے-
رات دیر گئے تک میں ان چیزوں کو برابر دم کرتا رہا-
اگلے روز جانی مجھے پُل باگڑ تک چھوڑنے آیا- تانگے پہ بیٹھتے ہوئے اس نے جیب سے ایک رقعہ نکال کے مجھے دیا اور کہا:
“گاؤں پہنچ کے سیدھا چوک پر اترنا- اُلٹے ہاتھ پہ حُسینی محلہ ہے- وہاں کاظم شاہ کا گھر پوچھ لینا- یہ رقعہ انہیں دینا ہے- وہ آپ کا کام کافی آسان کر دیں گے”
تانگہ کھچّا کھچ بھرا ہوا تھا- پچھلی سیٹ پہ تین موٹی خواتین تھیں جن کی گود میں میں صحت مند بچّے بھی تھے- اگلی سیٹ کی سواریاں میری طرح ستم رسیدہ تھیں-کوچوان وزن برابر کرنے کو تانگے کے بم پہ بیٹھا اور سرکتا سرکتا گھوڑے کے کان تک پہنچ گیا مگر نوری سہاگ تک تانگے کا توازن درست نہ ہو سکا –
چوک پہ اتر کر میں نے کاظم شاہ کا گھر تلاش کیا- دستک دی تو بیس پچیس برس کا ایک نوجوان باہر آیا-
میں نے سلام کیا اور کہا:
“کاظم شاہ کو بلائیے گا “
اس نے ایک اچٹتی نظر مجھ پہ ڈالی اور رُکھائ سے بولا ” میں ہی کاظم شاہ ہوں- فرمائیے”
میں نے کہا ” سائیں مستاں کے دربار سے آیا ہوں- یہ رقعہ بھیجا ہے جانی نے … آپ کےلئے”
وہ رقعہ پڑھنے لگا- اس دوران دو چار بار اس نے کن اکھیوں سے مجھے بھی دیکھا-
بالاخر اس کے چہرے پہ مسکراہٹ ابھری- رقعہ چوم کر آنکھوں سے لگایا اور آگے بڑھ کر مجھے گلے لگا لیا-
“ساجد عباس کا مہمان ہمارے سر آنکھوں پر- کیسا ہے ساجد ؟”
میں نے کہا ” کون ساجِد ؟”
بولا ” وہی دشمنِ جاں جو آج کل اوروں کا جانی بنا پھرتا ہے .. آپ اندر تشریف لائیے ناں …. !!”
کاظم شاہ کا وسیع ڈرائینگ روم تزئین و آرائش کا خوب صورت شاھکار تھا- دیوار پر غازی عباس کا سیاہ علم اور سنہری فریم میں سجی دو شاخہ حیدری تلوار- میز پر برقی قمقموں سے جگمگاتا مزارِ امام اور پانچ گلابوں والا نفیس پھول دان – غرض کہ ہر چیز روائتی مذھب پرستی کی بہترین فنکارانہ مثال تھی-
اس نے خاطر تواضع میں کوئ کسر نہ چھوڑی- چائے ، بسکٹ ، کیک ، ابلے ہوئے انڈے-
ساتھ وہ بار بار اس “ساجد ” کی تعریف بھی کر رہا تھا جسے کئ ماہ سے میں جانی کے نام سے جانتا تھا-
کہنے لگا:
“ساجد اور میں ایک ساتھ پڑھے تھے …. ایک ہی کلاس تھی … اس جیسا ذہین کوئ نہ تھا … بالاخر وہی ذہانت لے ڈوُبی اسے … دیکھو اپنا اصول تو یہ ہے کہ اپنا مسلک چھوڑو ناں …. دوسروں کے مسلک کو چھیڑو ناں …. اسی میں عافیّت ہے … لیکن ساجد بیچارہ عقلِ کُل تھا … اسی لئے مار کھا گیا … اویوں خواہ مخواہ گہرائ تک سوچتا تھا … فضول سوال اٹھاتا تھا … انہی سوالوں کے بوجھ تلے بالاخر ڈوب گیا …. بڑے نقصان کا سودا کیا اس نے … اچھی خاصی جائیداد تھی اس کے ابّا کی … بڑے آرام سکون سے زندگی گزار سکتا تھا …. اب پڑا ہے وہاں دربار پہ … جوگی بن کے … فائدہ کیا ہوا …؟؟ جائیداد سے بھی محروم ہوا اور رشتوں سے بھی … خیر اس کی قسمت … آپ یہ بسکٹ لیں ناں … !!”
ظہر کے بعد وہ میرے ساتھ چلا- کچھ گلیاں ناپنے کے بعد کاظم شاہ نے بالاخر ایک بڑے گھر کا دروازہ کھٹکایا – اس کی دیواریں پختہ اور مزیّن تھیں- چھت پہ ایک چوبارہ بھی تھا- میرا دل زور سے دھڑکا ” مولا سائیں … عِزّت رکھنا اور رسوائ سے بچانا- بڑی امید لے کر آیا ہوں”
دروازہ اسی بزرگ نے کھولا جو اس روز مزار پہ رخسانہ کے ساتھ آیا تھا- کاظم شاہ نے اسے سلام کیا اور نسبتاً اونچی آواز میں کہا:
“چاچا رمضان – سائیں صلّوُ تشریف لائے ہیں … مستاں والے دربار سے … تانو باجی کو دم کرنے کےلئے … “
بزرگ نے حیرت سے مجھے دیکھا پھر پُوچھا:
“پیر فاضِل شاہ سرکار نے بھیجا ہے آپ کو …؟؟ “
میں نے کہا ” جی .. جی ..!! “
وہ جلدی میں دروازہ کھلا چھوڑ کے اندر بھاگا- پھر تھوڑی دیر بعد ہانپتا ہوا واپس آیا اور کہا:
” آ جاؤ سرکار .. !!”
میں نے شکر گزار نظروں سے کاظم شاہ کی طرف دیکھا- وہ بولا:
“ٹھیک ہے سائیں جی … اپنے جانی کو میرا سلام دیجئے گا … اور ہو سکے تو واپسی پر میری طرف چکّر ضرور لگائیے گا … !!”
کاظم شاہ رخصت ہو گیا اور میں “رحمت کے دروازے کھلنے” کی دعا کرتا ہوا اندر داخل ہو گیا-
مکینوں کی نفاست اور خوشحالی کا اندازہ گھر کی خوب صورتی اور وسعت سے بخوُبی لگایا جا سکتا تھا-
کشادہ صحن ، منقش دیواریں ، کمروں کے آگے مغلیہ طرز کے برامدے ، تزئین و آرائش جن کی پرانی مگر باکمال- چھت پہ بُرجوں والا جنگلہ ، سفیدی جس کی کہیں کہیں سے کھُرچ چُکی تھی ، مگر دیدہ زیب- وسیع و عریض صحن جس میں کچھ نوکرانیاں اناج کی صفائ میں مصروف تھیں- ایک طرف پُختہ شیڈ جس کے نیچے کھڑا ٹریکٹر ، گو خاک آلود تھا مگر تھا فیئٹ 86 –
تھڑے پر دو رنگین چارپائیاں بچھی تھیں- ساتھ دو موُڑھے تھے اور چند کُرسیاں -چاچا رمضان مجھے وہاں بٹھا کے اندر برامدے میں چلا گیا- چودہ پندرہ سال کا ایک لڑکا جو حُلیے سے نوکر معلوم ہوتا تھا ، اسٹیل کے جگ میں پانی لے آیا- میں نے حلق تر کیا اور دھڑکتے دل سے آنے والے لمحات کا انتظار کرنے لگا-
کوئ دس مِنٹ بعد چاچا رمضان برامدے سے نکلا- ان کے پیچھے چالیس پچاس برس کی ایک خوش پوش خاتون تھیں ، شاید لڑکی کی اماّں تھیں- ان کے پیچھے وہ “دھڑکن” چلی آتی تھی جو کئ روز سے میرے سینے میں دھڑک رہی تھی- میں نے ہتھیلیوں پہ پسینہ محسوس کیا اور مارے عقیدت کے اٹھ کھڑا ہوا-
فلیٹ کی طوطیا قمیض ، سلک کی شلوار پہ کریب کا کامنی دوپٹّہ اوڑھے وہ میرے سامنے آن کھڑی ہوئ- میں نے وارفتگی سے اسے دیکھا- اس نے حیاء سے نظریں جھکا لیں اور کلائی میں کھنکھناتی سبز چوُڑیوں سے کھیلنے لگی-
” “تُسی بیٹھو ناں سائیں سرکار” چاچا رمضان کی آواز نے مجھے چونکا دیا-
میں نے کہا ” ہاں ہاں بیٹھو بیٹھو …… !!” اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا- پھر جیب سے پنج سورہ نکال کر کسی ماہر عامل کی طرح اوراق پلٹنے لگا-
اس دوران برامدے سے ستّر اسّی برس کی ایک مائ لاٹھی ٹیکتی ہوئ برامد ہوئ- سر اُٹھا کے چشمہ درست کیا- ہماری طرف دیکھا ، پھر دونوں ہاتھ آسمان کی طرف جوڑ کے بڑبڑائ ” کرم میرے مولا کرم … “
یہ وہی بوڑھی اماّں تھی جو اس روز مزار پہ نظر آئ تھیں-
میں نے اپنا اعتماد بحال کرتے ہوئے کہا ” ان شاءاللہ مولا کرم کرے گا- سختی مصیبت ٹل جائے گی- تُم لوگوں کا دُکھ ، درد ، رنج الم ، اب سب ختم ہو جائے گا- ان شاءاللہ…. !!”
“ان شاءاللہ” چاچے رمضان نے پرامید نظروں سے میری تائید کی- “ہماری ایک ہی دِھی رانی ہے سائیں سرکار … چوّی کِلّے زمین کا مالک ہوں … سو سجّن سو دُشمن ….. رب جانے کس نحش نے زھر گھول دی اس کی حیاتی میں …. اس بچّی پہ کالا کلام ہے ، جنّات ہیں یا جادُو ، رب سچّا ای جانڑیں جی ….!!”
“ٹھہرو سائیں سرکار میں بتاتی ہوں …” مائ لاٹھی ٹیکتی ہوئی ہماری طرف آئ- اس کا لہجہ کاٹ دار تھا-
“وہ بدمعاش ہے ناں .. کیا نام ہے اس کا … ھاشم … اس لعنتی نے توِیت کئے ہیں میری دِھی پہ … مولا برباد کرے …!!”
“او بس کر ماں … ” رمضان نے مائ کو ٹوکا- ” ہاشم کو کیا پڑی کہ توِیت کرے ؟”
” لو کر لؤو گَل … اور کِس نے کئے ہیں توِیت ؟؟”
“ناں تو امّاں … سلطان کا نام کیوں نئیں لیتی؟ وہ زیادہ سکّا ہے تیرا …. اس کو رب کیوں نہ برباد کرے” رخسانہ کی ماں بھی میدان میں کود پڑی-
مائ نے عینک کا شیشہ درست کر کے مد مقابل کو گھُورا اور بولی:
“سلطان وچارے نے کیا کِیا ہے ؟ وہ نمانڑاں تو پنج ویلے کا نمازی ہے- دُکھ سُکھ میں بھاگا پھرتا ہے- ست نسلیں برباد ہوں ھاشم کی- وہی نحش اس کے پیچھے پڑا ہے- مولا قہر نازل کرے اس کے لگ لگیروں پہ …. ” مائ باقاعدہ دامن اٹھا کر بد دعائیں دینے لگی-
” ست نسلیں برباد ہوں سلطان کی …. کوڑھ نکلے اس کی پِیڑھی کو … ذلیل ہو کر مریں اس کے اگلے پِچھلے …. اب پڑی ہے سینے میں ٹھنڈ …؟؟ “
حالات بتا رہے تھے کہ ننھیال ، ددھیال میں رشتے کی جنگ ہے اور جِنّ اس جنگ سے پورا فائدہ اٹھا رہا ہے- اس سے پہلے کہ ساس بہو میں تلوار چلتی ، میں پنج سورة کی ڈھال لے کر میدان میں کود پڑا اور نعرہ لگایا:
“چُپ .. !! چُپ ہو جاؤ سب …!! حاضری کا ٹائم ہے …. !!”
اس پہ دونوں فریق خاموش ہو گئے- نسخہ کارگر دیکھ کے میں نے کہا:
“اب سب لوگ جاؤ یہاں سے- جا کے اپنے اپنے کام دھندے نبیڑو-مجھے اپنا کام کرنے دو- جِن کی حاضری کا ٹیم ہے- یہ نہ ہو کہ ادھر سے اترے اور ادھر کسی پہ چڑھ جائے … جاؤ سب … !!”
یہ سنتے ہی مائ بڑبڑاتی ہوئ چل دی کہ میری تو کوئ سنتا ہی نئیں ہے- چاچا رمضان نے کہا:
“شمیم .. تو جا کے چاہ بنا ناں … سائیں سرکار واسطے .. اور سُن دو دیسی انڈے وی ابال لینا …”
یہ کہ کر چاچا اناج صاف کرنے والیوں کی طرف چلا گیا اور رخسانہ کی ماں بڑبڑاتی ہوئ چولھے کی طرف –
صحن میں اب میں اور رخسانہ ہی رہ گئے تھے- میں نے اپنے لہجے میں دنیا بھر کی محبتیں سمیٹتے ہوئے کہا:
“رُخسانہ ….. !!”
” جج … جی .. !!” وہ چونک کر بولی-
میں نے دھڑکتے دِل پہ قابو پاتے ہوئے کہا:
“دیکھو جو کچھ پریشانی دِل میں ہے …. اسے نکال کے بالکل پرسکون ہو جاؤ … سُنو .. تُم حاکم ہو … امّاں حوّا کی بیٹی ہو … جنّات کی حکومت ختم کر کے ہی رب تعالی نے آدم اور حوّا کو زمین پر بھیجا تھا … انسان جنّ کے مقابلے میں کمزور نہیں ، طاقتور ہے … ہمّت کرو … جب تک تُم خود ہمّت نئیں کرو گی اور خود کو کمزور ، بے بس سمجھتی رہو گی … جِن تم پہ برابر حکومت کرتا رہے گا … !!”
وہ بڑی دلچسپی سے میری باتیں سن رہی تھی- شاید ایسی بات مجھ سے پہلے کسی عامل نے اس سے نہ کہی تھیں- میں نے کہا:
“یہاں کوئ نہیں ہے- پہلے مجھے صاف صاف بتاؤ ، تُم کس کو پسند کرتی ہو ؟ تمہارے دِل میں کون ہے ؟ ہاشم یا سُلطان”
اس نے چونک کے مُجھے دیکھا اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا
” کوئ نئیں جی … !!”
“اور کوئ شخص؟ جسے تُم پسند کرتی ہو ؟ میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہ جو کوئ بھی ہوا ، جہاں بھی ہوا ، اسے تمہارے قدموں میں لا پھینکوں گا- ہے کوئ …؟؟”
اس نے ایک بار پھِر نفی میں سر ہلایا اور انتہائ مدھم آواز میں کہا ” کوئ نئیں جی … !!”
میں نے اطمینان کی ایک گہری سانس لی اور کہا:
“اب سکون سے بیٹھو ، میں پانی دم کرتا ہوں …”
میں نے جگ سے ایک گلاس پانی بھرا پھر اس میں انگلیاں ڈبو کر آیت الکرسی پڑھنے لگا- مجھے جِن حاضر کرنے کا کوئ خاص تجربہ نہیں تھا لیکن کسی زمانے میں ایک صوفی کو ایسا کرتے دیکھا تھا- اسی کا جو ہلکا پھلکا نقش میرے ذہن میں موجود تھا ، میں وہی دوہرانے لگا تھا-
پانی دم ہو چکا تو میں نے گلاس سے ہاتھ نکالا اور رخسانہ کے چہرے پہ انگلیوں سے چِھینٹا مارا-
وہ ہونٹ جھینپ کر ،آنکھیں بند کئے ، سہم کے پِیچھے ہٹی- میرا دِل زور سے دھڑکا- پانی کے متبرک قطرے اس کے خوبصورت گالوں کا طواف کرتے ہوئے کریب کے کامنی دوپٹّے میں جذب ہو رہے تھے- گویا گلابوں سے ڈھلکتی صبح دم کی شبنم-
مجھے یاد آیا کہ یہ دلکش نظارہ میں پہلے بھی کہیں دیکھ چُکا ہوں … کہاں ؟ چوھدری رب نواز کے ٹیوب ویل پہ-
ہماری شادی کا تیسرا دن تھا- میں اور عالیہ گاؤں سے باہر کھیتوں میں گھوم رہے تھے- ہم نے بشیر جٹ کے گنّے توڑے اور ٹیوب ویل پہ آ کر چُوپنے لگنے- میں ٹیوب ویل کے حوض میں انگلیاں ڈبو کر عالیہ کے چہرے پہ چھینٹے مارنے لگا اور وہ ہونٹ بھینچ کر آنکھیں بند کئے یوں ہی پیچھے ہٹّی تھی-
نجانے وہ مقدّر کے کس جزیرے پہ اتر گئ- میں تو حسرت کے ایک ایسے لق و دق صحرا میں آ نکلا تھا جہاں سراب کو دریا سمجھ کر اس میں اتر جانا تھا- فریب کو محبّت سمجھ کر گلے لگانا تھا- خواب کو حقیقت سمجھ کر دیکھتے جانا تھا-
میں گلاس میں ہاتھ ڈالے نجانے کِس تخیّل میں گُم تھا کہ چاچے رمضان کی للکار سُنائ دی :
“اوئے اوئے اوئے … او پھڑو اس اونترے نُوں … !!
میں نے چونک کے پیچھے دیکھا تو ایک لحیم شحیم سیاہ بکرا میری طرف دوڑا چلا آتا تھا- اس سے پہلے کہ میں سنبھلتا ، اس نے زور سے میری کُرسی کو ٹکّر آن ماری-
میں کمر سہلاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا-
“او ماف کرنا سائیں سرکار .. یہ اونتری نسل کا بد نسلا … مہمان ویکھ کے ہی بھوُتِر جاتا ہے … میں باندھ کے آتا ہوں جی اسے !!”
چاچا رمضان بکرے کو کان سے پکڑے گھسیٹتا ہوا لے گیا-
میں اپنی سانسیں بحال کرتا ہوا کرسی پہ ڈھیر ہو گیا- اس دوران کہیں سے “کھی کھی ” کی آواز آئ- مریضہ پہ نگاہ فرمائ تو وہ دوپٹّے میں مونہہ چھپائے قہقہہ روکنے کی ناکام کوشش فرما رہی تھیں-
میں اپنی سُبکی پہ پردہ ڈالنے کو ایک دم سنجیدہ ہوا اور جلدی سے پنج سورة کھول کر بیٹھ گیا:
” ہنسئے مَت- کلامِ الہی ہے- اب جو کچھ میں پڑھتا جاؤں … پیچھے پیچھے دہراتی جاؤ …!! “
اس کے بعد میں کسی خوش الحان قاری کی طرح رُک رُک کے سورة الناس پڑھنے لگا- رخسانہ بالترتیب میرے ساتھ ساتھ پڑھتی رہی- بالکل ریڈیو پاکستان کے “آئیے قران مجید پڑھیں” پروگرام والا منظر تھا- اس کی قراءت مجھ سے کافی بہتر تھی- شاید مدرسہ پڑھ رکھّا تھا یا کوئ استاد اچھا ملا تھا- اب ہر کسی کو مولوی نزیر تو نہیں ملتا ناں-
میں کبھی کبھی آنکھ کھول کے اس کا پرسکون چہرہ دیکھ لیتا- بالکل امن امان ، سکون اور شانتی- جِنّ شاید سالانہ چھُٹّی منانے کوہِ قاف گیا ہوا تھا-
عمل مکمل ہوا تو میں نے کہا:
” مبارک ہو- اس وقت کوئ جِن ، بھوت ، پریت ، پرّی ، چُڑیل، دیو تمہارے اندر نہیں ہے- اور نہ ہی ان شاءاللہ آئیندہ پھٹکے گا …”
اس کے بعد میں نے جیب ٹٹولی اور سنہرے رنگ کی گھڑی نکال کر اس پہ دو چار پھونکھیں ماریں اور کہا:
” اسے پہن لیجئے … !!”
اس کے چہرے پہ ہلکا سا تبسّم نمودار ہوا اور وہ بولی ” یہ کِس لئے جی …. ؟”
میں نے کہا ” دم کی ہوئ گھڑی ہے- اس سے تمہاری حفاظت ہو گی- جنّات اس کی ٹِک ٹک سے دور بھاگیں گے- لاؤ میں پہنا دوں ….. !!”
اس کی مُسکراہٹ بڑھ گئ اور موتیوں جیسے دانت صاف نظر آنے لگے- واقعی وہ پرّی تھی اور جِن بے وقوف نہیں تھا جو اس پہ سوار تھا- اس کی بیلنے بیلی کلائ میں گھڑی پہنا کر میں نے جیب سے چاندی کی چھاپ نکالی اور کہا:
” یہ بھی تمہارے لئے ہے ، لیکن اگلی بار … ابھی اس پہ کلام پڑھنا ہے- جِن اب تُم سے ایسے دوُر بھاگیں گے جیسے … دھوئیں سے مچھّر بھاگتا ہے … !!”
وہ کھِلکھلا کے ہنسی ، گویا جلترنگ بج اُٹھی ہو- پھر آنچل دانتوں میں دبا کر اسے کاٹنے لگی-
اپنا بچا کھچا ایمان سلامت رکھنے کو میں نےآنکھیں بند کر لیں اور کُرسی سے ٹیک لگا کے چہار قُل پڑھنے لگا- بس یہی ایک کلام مجھے آتا تھا- پھر کن اکھیوں سے اس پہ کُچھ پھونکیں ماریں اور اُٹھ کھڑا ہوا- یوں لگ رہا تھا گویا جہان فتح کر لیا ہو-
بیٹھک میں چائے اور دیسی انڈوں کی سوغات میرا انتظار کر رہی تھی- کھا پی کے فارغ ہوا تو چاچے رمضان نے سو روپے کا کڑک نوٹ مجھے پیش کیا-
میں نے کہا ” نہیں لوں گا- آج تک عامل آپ سے لیتے آئے ہیں ، میں کُچھ دے کے جا رہا ہوں- وہ عامل تھے ، میں سائیں ہوں- عامل جنّات پالتا ہے اور سائیں نکالتا ہے …. !!!”
رات دس بجے میں مستاں والا دربار پہ پہنچا- دربار کی چہل پہل پہلے سے سوا تھی- کسی رئیس زائر نے منّت پوری کرنے کے واسطے برقی قمقمے لگوائے تھے- قوالی بھی ہو رہی تھی- خُسرو کے کلام پہ قوالوں اور ملنگوں نے خوب دھوُم مچا رکھی تھی-
چھاپ تِلک سب چھین .. لی رے موسے نیناں مِلائ کے
بات اگھم کہ دی …. نی رے
موسے نیناں مِلائ کے
دِل کی دھڑکنیں بے قابو ہونے لگیں- مزار کے دروازے پہ تھا کہ خادوُ ملنگ جھانجھریں لئے قوالی کو جاتا نظر آیا- وہ دھمال ڈالنے والا مست ملنگ تھا-
میں نے کہا ” خادو ایک جھانجھر مجھے بھی .. آج میں بھی دھمال ڈالوں گا … !!”
اس نے حیرت سےمجھے دیکھا اور کہا ” امام صاب آپ بھی؟ نہ کریں جی … !!”
میں نے اس سے جھانجھر چھینتے ہوئے کہا “جو ثواب تجھے ملتا ہے آج مجھے بھی چاھئے … “
بل بل جاﺅں میں
تورے رنگ رَجِیوا … !!
بل بل جاؤں میں
تورے رنگ رَجِیوا ….. !!!
اپنی سی رَنگ لی … نی رے
موسے نیناں ملائ کے
میں اکھاڑے میں کوُدا تو ملنگوں کی چیخیں نکل گئیں- امام عاشق بن جائیں تو زمانے کی یونہی چیخیں نکلتی ہیں-ان پگلوں کو کیا خبر کہ کون کتنا مست ہوا پھرتا ہے … !!
پریم گلی کا مدھُوا پلائ کے
مدھوا … پِلائ کے ..
مدھوا … پِلائ کے …
متواری کر لی ….. نی رے
موسے نیناں ملائ کے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: